واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


جمہوریت دینِ ابلیس

Like Tree1Likes

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-10, 01:42 AM  
جمہوریت دینِ ابلیس
محمد عاصم محمد عاصم آف لائن ہے 17-07-10, 01:42 AM

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمہوریت دینِ ابلیس


اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ
اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ
فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیُکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ
اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اَمَّا بَعْدُ : فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ
یٰٓاَ یُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا
زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ
بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ﴿﴾لا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ
وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ﴿﴾
اللہ کے ساتھ شرک کامظہر نظام ِجمہوریت
نظام ِ جمہوریت اللہ کے ساتھ شرک کا واضح مظہر ہے اور اس کے درج ذیل دلائل وشواہد ہیں۔
۱۔ جمہوریت
غیراللہ کا’’ بلادلیل ِشرعی ‘‘نظام ہونے کی بناپرنظام ِ شرک ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ!
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
۴۲: ا لشوریٰ۔آیت نمبر ۲
آیت ِبالاسے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین(اصول ،قانون و نظامِ زندگی؍کتاب وسنت) کی بجائے غیراللہ کاایسااصول قانون ونظامِ زندگی اختیار کرناکہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہ ملتی ہو اس غیراللہ کو اللہ کا شریک بنانا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ نظام ِجمہوریت :::غیراللہ::: کفار کا وضع کردہ نظامِ سیاست ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہیں ملتی ہے۔
۲۔ جمہوریت
کو اللہ کے دیئے نظامِ سیاست ’’خلافت‘‘ کی
کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجود اختیارکرناجہالت ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿﴾


جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
( آلِ عمران۔آیت نمبر ۸۵ .3)
آیت اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ’’ اسلام کے دیئے ہوئے قانون ونظام کے سوا کوئی اور قانون ونظام اختیار کرنا‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول نہیں ہے۔ ’’اسلام‘‘ایک مکمل نظام ِ حیات ہے جس میں اخلاقیات ،روحانیت ،معاشرت ، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر معاملے کے حوالے سے قانون و نظام ملتا ہے ۔ اسلام میں اللہ نے اہل ِ ایمان کو ایک مکمل نظام ِ سیاست ’’ خلافت ‘‘ دیا ہے ۔ اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست’’ خلافت‘‘ کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست ’’جمہوریت ‘‘ اختیار کرنا جہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول بھی نہیں ہے وہیں اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست اختیار کرنا واضح طور پرشرک بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْمبَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّک اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْن ﴿﴾
اور اگر تم نے اس ’’علم ‘‘(کتاب وسنت )کے بعد ، جو تمہارے پاس آ چکا ہے ، ان کی اھواء کی پیروی کی تو یقینا تمہارا شمار ظالموں ( مشرکوں)میں ہو گا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۴۵
نظام ِجمہوریت اپنے وضع کرنے والوں (امریکہ، برطانیہ ، فرانس وغیرہ)کے لیے مقدس دین کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اس دین کی ترویج و اشاعت میں و ہ صبح وشام لگے رہتے ہیں اور صرف اس سے راضی ہوتے ہیں جو ان کے اس دین کو اپنا لیتا ہے۔ پاکستان میں بحالی وترقی ِ جمہوریت کے لیے پاکستان کے عوام سے بھی بڑھ کر امریکہ، برطانیہ وغیرہ کا بے چین رہنااس کا زندہ ثبوت ہے اور ان کفار کے آئے روز اخبارات میں یہ بیان پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ہم نظام جمہوریت کو پوری دنیا میں قائم کریں گیں،
اللہ تعالیٰ بھی اہل ِ ایمان سے ارشاد فرماتا ہے کہ
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ


ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿﴾
یہودی اورنصرانی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگر اس ’’علم‘‘(کتاب وسنت) کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی اھواء کی اتباع کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہ ہوگا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۲۰
۳۔ جمہوریت کے بنیادی اُصول ’’شرکیہ ‘‘ہیں
نظام ِجمہوریت کے بنیادی اُصول اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا واضح اظہار ہیں مثلاً:
پہلا اُصول ِ جمہوریت
ملک کے مالک عوام


!
آمریت میں ’’فردِواحد ‘‘ملک کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو جمہوریت میں’’عوام ‘‘ملک کے مالک قرار دیے جاتے ہیں جب کہ ملک صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس نے اس ملکیت میں نہ کسی فرد واحد کو شریک کیا ہے اور نہ عوام کو ،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا


Ą۝
وہی (اللہ ) کہ جس کے لیے ملکیت (بادشاہی) ہے آسمانوں اور زمین کی اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا نہ ہی ملکیت ِملک میں اس کاکوئی شریک ہے ،جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر تقدیر مقرر کی۔
۲۵: الفر قان۔آیت نمبر۲
اللہ پر ایمان کے بعد فرد یا افراد کو ملک کا مالک قرار دینا ان کو اللہ کا شریک بنانا ہے۔ اس سے مراد یہ نہ لی جائے کہ ایک انسان کو گھر، زمین وغیرہ کا مالک پھر کیوں کہا جاتا ہے تو بھائیوں یہاں بات نظام، قانون کی ہو رہی ہے نہ کے کسی کی جائیداد کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔

__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

 
محمد عاصم's Avatar
محمد عاصم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 5315
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), skjatala (26-02-12), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), شعبان نظامی (25-02-12), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 22-08-10, 09:40 AM   #211
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خیال ہے اپنا اپنا۔ یہی اسلامی نظام حکومت آج یوروپی اور امریکی ملکوں‌میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ نظام کی خرابی نہیں ۔ یہ افراد کے اعمال کی خرابی ہے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-08-10), مرزا عامر (26-02-12)
پرانا 22-08-10, 06:17 PM   #212
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
خیال ہے اپنا اپنا۔ یہی اسلامی نظام حکومت آج یوروپی اور امریکی ملکوں‌میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ نظام کی خرابی نہیں ۔ یہ افراد کے اعمال کی خرابی ہے۔
قیصر و کسرٰی کے نظام کتنی کامیابی سے چل رہے تھے..........کیا وہ ٹھیک تھے؟؟

کامیابی سے تو پھر یہاں سب سے زیادہ ضیاء الحق اور ایوب خان چلے ہیں............

کیا کرایٹییریا ہے..................کامیابی سے تو سود بھی چل رہا ہے............

آپ ہی اپنی اداؤں پہ..............
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-02-12), راجہ اکرام (23-08-10)
پرانا 22-08-10, 08:44 PM   #213
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قیصر و کسریٰ فرد واحد کی حکومت تھے نا کہ جمہوری طرز حکومت۔ اسلام نے شورائی نظام پیش کیا۔ کہ ایک جماعت قانون بنانے والی اور ایک جماعت قانون نافذ کرنے والی۔ اور ایک جماعت عدل کرنے والی۔ آیات شئیر کرچکا ہوں۔ یوروپی اور امریکی ممالک کی مثال اس لئے دی کہ یہ لوگ اپنی تاریکیوں سے تنگ آچکے تھے ۔ جبکہ مسلم حکومت ایک کامیاب حکومت تھی۔ امریکی اور یوروپی حکومتوں اپنے وفد ترکی بھیجے ۔ ان وفود نے ترکی یعنی سلطنت عثمانیہ کے شورائی نظام کو سٹدی کیا اور اپنے ممالک میں‌ اس کو طرح طرح‌کے فلسفوں سے مدد لے کر پیش کیا۔ کسی نے اس کو ارسطو کی جاگیر قرآر دیا اور کسی نے اس کو کسی اور کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان فلسفیوں نے کوئی حکومت قائم نہیں‌کی۔ اگر کوئی شورئی حکومت قائم ہوئی تو وہ رسول اکرم کی قائم کردہ حکومت تھی اور اس کے بعد خلفاء راشدین کی۔ سلطنٹ عثمانیہ تک ۔ اس نظام حکومت میں‌ بنیادی عناصر تو باقی تھے لیکن اتنی تبدیلیاں آگئی تھیں کہ یہ نظام خود بخود ختم ہوگیا۔ کیوں‌کہ یہ دراصل شورائی نظام بالآخر ایک موروثی سلطنت میں تبدیل ہوگیا۔ ہندوستان ، ترکی اور بہت سے بڑے ممالک کی موروثی فرد واحد کی حکومتوں کا زوال اس امر کا گواہ ہے کہ ایسی فرد واحد کی موروثی حکومتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

آپ اس کو سود پر پھیلاؤ نہ دیں۔ وہ مالیاتی نظام ہے۔ نہ کہ حکومتی نظام۔ پھر سود کیا ہوتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے باوجود نہ جانتے ہوئے بھی سود کو حرام قرار دینے میں سب پیش پیش ہیں۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-08-10), مرزا عامر (26-02-12)
پرانا 23-08-10, 04:08 AM   #214
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
خیال ہے اپنا اپنا۔ یہی اسلامی نظام حکومت آج یوروپی اور امریکی ملکوں‌میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ نظام کی خرابی نہیں ۔ یہ افراد کے اعمال کی خرابی ہے۔
اسلامی نظام۔۔ یورپی ممالک اور امریکہ میں
شاید یہ وقیع معلومات ان ممالک کے علم میں بھی نہ ہو

حیران ہووں، روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-02-12), فاروق سرورخان (23-08-10), محمد عاصم (23-08-10), احمد نذیر (02-05-12), عبداللہ آدم (23-08-10)
پرانا 23-08-10, 04:58 AM   #215
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
اسلامی نظام۔۔ یورپی ممالک اور امریکہ میں
شاید یہ وقیع معلومات ان ممالک کے علم میں بھی نہ ہو

حیران ہووں، روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
راجہ بھائی آپ نے خان صاحب کی تحریروں سے ابھی تک شاید اندازہ نہیں لگایا کہ ان کا اسلام امریکہ سے امپورٹ شدہ ہے ان کی نظر میں جو اسلام آپ کو مسلم دنیا میں نظر آتا ہے وہ اسلام نہیں ہے بلکہ خان صاحب ان کو مسلمین میں شامل ہی نہیں کرتے اور جو پکے کافر ہیں خان صاحب ان کو مسلم سمجھتے ہیں اگر آپ کہیں گے تو میں ان کی وہ تحریریں یہاں پوسٹ کردونگا، جب سے مجھے ان کی وہ باتیں پڑھنے کو ملی ہیں اب ان سے اسلام کے کسی مسئلے پر بات کرنے کو ہی دل نہیں کرتا کیونکہ ان کی نظر میں امریکن پکے مسلم اور ہم کافر ہیں۔
آج کل عید کا دوکان پر رش ہوگیا ہے اس لیے دن کے وقت آن لائن نہیں ہو پاتا اس لیے مجھے پتا نہیں چلا کہ اس تھریڈ میں پھر جان پڑ گئی ہوئی ہے۔
اللہ ہی حق کی طرف ہم سب کی رہنمائی کرئے اور باطل سے بچائے آمین

Last edited by محمد عاصم; 23-08-10 at 05:01 AM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 23-08-10, 07:27 AM   #216
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
راجہ بھائی آپ نے خان صاحب کی تحریروں سے ابھی تک شاید اندازہ نہیں لگایا کہ ان کا اسلام امریکہ سے امپورٹ شدہ ہے ان کی نظر میں جو اسلام آپ کو مسلم دنیا میں نظر آتا ہے وہ اسلام نہیں ہے بلکہ خان صاحب ان کو مسلمین میں شامل ہی نہیں کرتے اور جو پکے کافر ہیں خان صاحب ان کو مسلم سمجھتے ہیں اگر آپ کہیں گے تو میں ان کی وہ تحریریں یہاں پوسٹ کردونگا، جب سے مجھے ان کی وہ باتیں پڑھنے کو ملی ہیں اب ان سے اسلام کے کسی مسئلے پر بات کرنے کو ہی دل نہیں کرتا کیونکہ ان کی نظر میں امریکن پکے مسلم اور ہم کافر ہیں۔
آج کل عید کا دوکان پر رش ہوگیا ہے اس لیے دن کے وقت آن لائن نہیں ہو پاتا اس لیے مجھے پتا نہیں چلا کہ اس تھریڈ میں پھر جان پڑ گئی ہوئی ہے۔
اللہ ہی حق کی طرف ہم سب کی رہنمائی کرئے اور باطل سے بچائے آمین
السلام علیکم
عاصم بھائی
یہ اندازہ میں آج قریبا ایک سال پہلے لگا لیا تھا
یہی وجہ ہے کہ آپ ان تمام بحثوں میں خاموش پاتے ہیں۔۔۔
ورنہ اپنے تمام تر علمی افلاس کے باوجود میں ہر جگہ ٹانگ ضرور اڑاتا تھا۔۔ لیکن جب اندازہ ہو گیا کہ یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے تو پھر اب دل نہیں چاہتا ۔ کیوں کہ فائدہ کوئی نہیں
اس سے بہتر ہے بندہ کہیں کمپوزنگ کا کام کر لے چلیں چار پیسے تو مل جاتے ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-02-12), فاروق سرورخان (23-08-10), محمد عاصم (23-08-10), عبداللہ آدم (23-08-10)
پرانا 23-08-10, 09:19 AM   #217
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جب سعودی عرب جیسا ملک مساوات کو ترک کرکے رسول اللہ صلعم کے آخری خطبے کا پاس نہ رکھے

تو کیا اسلامی اصول ، کوئی دوسری قوم اپنے ملک میں‌نہیں اپنا سکتی ؟ کیا اللہ تعالی کے اصولوں‌پر صرف کچھ مخصوص لوگوں‌ کا حق رہ گیا ہے۔ کیا مسلمان بھی اب یہودیوں‌کی طرح‌ ----- منتحب شدہ ---- ہوگئے ہیں۔

سعودیوں‌، کویتیوں ، امارتیوں ، ایرانیوں اور عراقیوں کا یہ حال ہے کہ اپنے ملک میں‌آ کر رہنے والے کسی غیر ملکی مسلمان یا اور غیر مسلم کیا۔ ان کو نہ نہ کاروبار کرنے دیتے ہیں، نہ جائیداد خریدنے دیتے ہیں۔ زمیں میں گاڑ کر رضم کرکے غیر قرآنی سزائیں‌ دیتے ہیں۔ ان یہود نما مسلموں کو یا مسلم نما یہودیوں کو کچھ لوگوں نے مشعل راہ بنایا ہوا ہے۔


کیا کریں‌گے آپ اگر امریکہ اسلامی قوانین رکھتا ہو اور ساتھ میں ان قوانین کا فراہم کنندہ محمد رسول اللہ صلعم کو تسلیم بھی کرتا ہو؟

آپ بتائیے کہ کیا کریں گے ؟ پھر جواب دیتا ہوں۔۔۔۔

Last edited by فاروق سرورخان; 23-08-10 at 09:31 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-08-10), مرزا عامر (26-02-12)
پرانا 23-08-10, 08:36 PM   #218
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کیا کریں‌گے آپ اگر امریکہ اسلامی قوانین رکھتا ہو اور ساتھ میں ان قوانین کا فراہم کنندہ محمد رسول اللہ صلعم کو تسلیم بھی کرتا ہو؟
قوانین کے اصل سر چشمے رب کائنات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تسلیم کرتا ہو، پھر نبی مہربان صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلیم کرتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا صرف آپ کے سوال کی حد تک ؟؟؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (23-08-10), مرزا عامر (23-08-10)
پرانا 24-08-10, 05:21 AM   #219
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امریکہ میں دین اور سیاست جدا ہیں۔ اس لئے کوئی قانون اس لئے نہیں‌بنتا کہ وہ کسی ایک فرقہ یا مذہب کے مطابق ہے ۔ لہذا آپ کا سوال بے معانی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک رب کائنات کو قوانین کا مآخذ‌قرار نہیں دیتا۔ قرآن حکیم کے فراہم کردہ اصولوں کے مطابق کسی بھی اسلامی ملک کے قوانیں‌نہیں۔ کہیں نہ کہیں‌ ڈنڈی ماری ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کے بہت سے قوانین ان اصولوں‌اور قوانیں پر مبنی ہیں جو کہ رسول اللہ نے قرآن حکیم کی شکل میں پیش کئے۔ اس کے واضح اعتراف کے طور پر سپریم کورٹ کی جنوبی دیوار پر حضرت محمد صلعم ، رسول اللہ کی ہاتھ مٰں قرآں حکیم لئے ایک شبیہہ بنائی گئی ہے ۔ جو کہ اس بات کا اعتراف ہے کہ جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس دنیا کے ایک بہت ہی بڑے قانون پیش کرنے والے ہیں۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ رب العظیم کے قوانین‌کا احترام کیا جاتا ہے ۔

فی الحال صرف اتنا دیکھئے۔ باقی کے لئے میں سعودی عرب ، کویت اور امارات میں مساوات قائم ہونے کا انٹظار نہیں‌کروں گا۔ عورت و مرد کا معاشرے میں مساوی مقام ، اسلامی ملکوں‌ میں‌قائم ہونے کا انتظار نہیں کروں گا۔ مسلم ممالک میں حدود اللہ کے مکمل نفاذ‌ کا انتظار نہیں‌کروں‌گا۔ اور تو اور پاکستان کے حدود آرڈینینس میں ملاؤں کے جان بوجھ کر -- طلاق یافتہ عورت کو اس کے گھر میں رکھنے والی حد - سورۃ الطلاق، آیت 1 --- کو ڈبو کر اپنی آخرت کو ڈبو دینے کی بات نہیں کروں گا۔

بس فی الحال اتنا دیکھئے ۔ اس کے بعد قرآن حکیم کے جو اصول ، امریکی آئین کے جو اصول ، قرآن کریم کے اصولوں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ ان کی لسٹ‌پیش کرتا ہوں۔
http://www.supremecourt.gov/about/north&southwalls.pdf

اور ہاں ۔ ذرا درج ذیل کا بھی ترجمہ فرما دیجئے ، اس ملک کو آپ عیسائی ملک ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ یہ ملک تو انکار کرتا ہے کہ اس کی بنیاد کسی بھی طور پر عیسائیت پر رکھی گئی ہے؟

یہ ہے امریکی قانون سے ایک چھوٹا سا انتخاب، جہاں تاریخ‌ بھی ہجری ہے۔ 3 جمادی الاول 1211 ہجری کو پیش کی گئی۔ جس کو امریکی سینیٹ نے جون 10 ، 1797 کو قانون کا درجہ دیا۔ جی یہ امریکہ کا قانون ہے۔ مسلم ملک سے دوستی اور عیسائیت سے انکار۔
Treaty of Peace and Friendship, signed at Tripoli November 4, 1796 (3 Jamada I, A. H. 1211), and at Algiers January 3, 1797 (4 Rajab, A. H. 1211). Original in Arabic. Submitted to the Senate May 29, 1797. (Message of May 26, 1797.) Resolution of advice and consent June 7, 1797. Ratified by the United States June 10, 1797. As to the ratification generally, see the notes. Proclaimed Jane 10, 1797

اس قانون کا آرٹیکل نمبر 11 کہتا ہے :
ARTICLE 11.
As the government of the United States of America is not in any sense founded on the Christian Religion,-as it has in itself no character of enmity against the laws, religion or tranquility of Musselmen,-and as the said States never have entered into any war or act of hostility against any Mehomitan nation, it is declared by the parties that no pretext arising from religious opinions shall ever produce an interruption of the harmony existing between the two countries

حوالہ:
Avalon Project - The Barbary Treaties 1786-1816 - Treaty of Peace and Friendship, Signed at Tripoli November 4, 1796

صرف اس لئے کہ آپ نے امریکی تاریخ نہیں پڑھی ، صرف اس لئے کہ آپ اس ملک میں‌نہیں رہتے ۔ اور صرف اس لئے کہ چار ملاؤں نے اپنی کمرشل انکم بڑھانے کے لئے ایک لیکچر امریکہ کے خلاف دے دیا تو آپ کو اس کا یقین آگیا۔ لیکن جب امریکہ مسلم ممالک کی مدد کرنے میں آگے آگے ہوتا ہے، جب حرمین الشریفین کی تعمیر کے لئے اپنے ملک سے انجینئر بھیجتا ہے۔ مصیبت میں مدد کرتاہے۔ امن مٰن تعمیر کرتا ہے۔ انڈونیشیا سے مراکو تک ، جب ظالمان کی بیخ‌ کنی کرتا ہے ۔ جب پاکستان کے ایٹمی تجربے پر صرف الفاظ سے شور مچا کر ، دوسری طرف دیکھنے لگتا ہے تو بھائیوں کو امریکہ نہیں یاد آتا۔ یاد آتا ہے تو جب جب ملاء‌چلا چلا کر ۔۔۔ امریکی توپوں میں‌کیڑے پڑیں کے کوسنے دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔

شکو بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ جتنا ابھی پیش کیا ہے ، اس سے بیسیوں گنا ابھی باقی ہے۔ آہستہ آہستہ۔۔۔۔

یہ بھی دیکھئے کہ کون کون سا امریکی صدر ، قرآن حکیم پڑھتا تھا۔
پہلے یہ پڑھئیے کہ تھامس جیفرسن اور اس کے قانونی استاد قرآن حکیم کے بارے میں کیا کہتے تھے۔ لہذا تھامس جیفرسن نے بھی قرآن حکیم کو پڑھا۔ اس سے قوانین بنائے اور اس کے اصولوں کو سراہا۔

http://www.cairchicago.org/doc/thoma...rson_quran.pdf

تھامس جیفرسن کے لائبریری آف کانگریس میں محفوظ قرآن کی تصاویر ، اس پر اوتھ لیتے ہوئے امریکی کانگریس کے ممبر کی تصاویر۔ اسلام کی عزت ، امریکہ میں کسی بھی اسلامی ملک سے کم نہیں ۔
Use of Thomas Jefferson's Koran for Congressional Swearing in Ceremony - The Library Today (Library of Congress)
http://www.asiantribune.com/files/im...on%20Quran.jpg
http://media3.washingtonpost.com/wp-...7010401189.jpg
Google Image Result for http://spiritualchange.blogsome.com/wp-admin/images/jefferson_quran.jpg
Google Image Result for http://thinkprogress.org/wp-content/uploads/2007/01/ellisonkoran.jpg


مزید دیکھئے: ایک اور امریکی صدر، جان آدم کا قرآن، بوسٹن پبلک لائبریری میں۔ تھامس جیفرسن اور جان آدم دونوں اپنے آپ کو عیسائی نہیں کہتے تھے۔
The Koran : commonly called the Alcoran of Mahomet

فی الحال یہیں تک۔ زیادہ پیش کیا تو بدہضمی کا اندیشہ ہے۔ کیا کوئی معقول وجہ ہے کہ سورۃ‌الطلاق کی آیت نمبر ایک ، پاکستان کے حدود آرڈینینس کا حصہ نہیں۔ جبکہ یہ آرڈی نینس سارے کا سارا ، پاکستان کے سب سے بڑے ملاء‌جنرل۔۔۔۔۔ ملاء ضیاء‌الحق ۔۔۔۔ کی نگرانی میں لکھا گیا تھا؟ کیا بدمعاشی ہے ؟ دین سے کمرشل فائیدے اٹھانے والے نگراں کو قانون سازی کا حق دینا ۔ بلی کو چھیچڑوں کی رکھوالی پر رکھنے کے مترادف ہے۔ جب ملاء کو قانون بنانے کا موقع ملا تو پوری کی پوری ایک آیت چھپا لی؟ کیا بات ہے۔ ایسے ملکوں‌کے ایسے ملاء جب دوسروں کی برائی‌کرتے ہیں تو بہت ہی ہنسی آتی ہے۔ اور مزید ہنسی اس وقت آتی ہے جب ان بدمعاشوں کا دفاع کرنے والے بڑی صفائی سے یہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ یہ اسلام تھوڑی ہے!‌ ---- اصل اسلام تو کچھ اور ہے۔ ۔۔۔ تو بھائی ۔۔۔ ایک ایسے اسلامی ملک کا پتہ بتادو جہاں مکمل اسلام نافذ‌ہو۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر ان ممالک کے پیچھے کیوں‌پڑتے ہو، جہاں قران کی بنیاد پر قوانیں کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔

تو اب آپ سے سوال :
کیا آپ ---- قوانین کے اصل سر چشمے رب کائنات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تسلیم کرتے ہو، پھر نبی مہربان صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلیم کرتےہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ۔۔ ہاں تو حدود آرڈی نینس پر ---- قرآن کو کیوں‌ایک طرف رکھتے ہو؟ ۔۔۔۔۔ امت کے اجماع کی آڑ لے کر؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ان سب باتوں‌کے باوجود۔۔۔ بہت ہی احترام سے ۔۔۔ والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 24-08-10 at 05:29 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (24-08-10)
پرانا 12-03-11, 11:53 PM   #220
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حکومت کی جانب سے سندھ بھر میں 11 مارچ 2011 کو کی جانے والی ہڑتال اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ کیا یہ غنڈے اور بد معاش وڈیرے جمہوریت کے قابل ہیں ۔ ان بے غیرتوں کو ذرا شرم نہیں آتی ۔ اللہ کی زمین پر خدا بن بیٹھے ہیں ۔
اس دھاگے میں کئی مقامات پر میں نے جمہوریت کی حمایت کی تھی لیکن ایسی جمہوریت جو انصاف پر مبنی ہو نہ کہ لوگوں کو یرغمال بنا کر ووٹ حاصل کر کے بنائی گئی جمہوریت
جس عمارت کی بنیاد کھوکھلی ہو گی وہ عمارت ہمیشہ مٹی کا ڈھیر ثابت ہو گی۔
بد معاش وڈیروں کا حکومت پر قبضہ کسی صورت جمہوریت کہلانے کے لائق نہیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-05-11, 03:02 PM   #221
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿﴾

یہودی اورنصرانی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگر اس ’’علم‘‘(کتاب وسنت) کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی اھواء کی اتباع کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہ ہوگا۔
جمہوریت کی مخالفت میں یہ آیت و ترجمہ پہلے مراسلے میں پیش کیا گیا تھا ۔ جبکہ میری نظر میں یہ ترجمہ کسی صورت بھی جمہوریت کے خلاف لاگو نہیں ہوتا۔
جمہوریت ، یہود و نصرانیوں کی طرف سے آئی ہی نہیں ہے ۔ بلکہ یہاں معاملہ الٹ ہے ۔ کہ ہماری حقیقی جمہوریت یعنی خلافت کے طرز حکومت کی یہودی اور نصرانیوں نے پیروی کی اور اپنے امور میں ہم سے کہیں آگے نکل گئے ۔

اور ہم خلافت کے لیئے کوئی فرد واحد یعنی بادشاہ تلاش کرتے رہے جو ہمارے مسائل کو حل کردے ۔ لیکن وہ بادشاہ یا واحد خلیفہ ہمیں آج تک چراغ لے کر ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملا ۔ اور شاید نہ ہی کبھی مل سکے ۔

یاد رہے کہ جب میں جمہوریت کی بات کرتا ہوں تو حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہوں ۔ پاکستانی جمہوریت کی نہیں
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-02-12, 02:39 PM   #222
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کہاں ہے بادشاہ ؟؟؟ ملا یا نہیں ملا ابھی تک ؟؟؟
اگر جمہوریت دین ابلیس ہوتا تو مولانا مودودی، ڈاکٹر طاہرالقادری اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسے لوگ اس کی حمایت کبھی نہ کرتے
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-02-12, 02:49 PM   #223
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جمہوریت کو اسلامانے کے بعد قبول کرنے اور اسے من و عن تسلیم کر لینے میں زمین و آسمان کا فرق ہے

اور مذکورہ بالا علماء کرام جس جمہوریت کو تسلیم کرتے ہیں وہ اگر جمہوریت کے علمبرداروں کے سامنے پیش کریں گے تو وہ اسے ہر گز برداشت نہیں کریں گے ۔۔ یہی بات اس کے جمہوریت نہ ہونے کے لیے کافی ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-02-12), مرزا عامر (26-02-12), سحر (26-02-12), شعبان نظامی (26-02-12), عبداللہ حیدر (26-02-12)
پرانا 26-02-12, 03:25 PM   #224
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال میں 60 یا 70 فی صد جمہوریت اسلامی طرز حکومت ہے۔ چند نقائص جو اس میں پائے جاتے ہیں وہ اگر دور کر دیئے جائیں تو جمہوریت اسلامی طرز حکومت ہی ہے۔
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-02-12), آبی ٹوکول (26-02-12)
پرانا 26-02-12, 03:36 PM   #225
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
میرے خیال میں 60 یا 70 فی صد جمہوریت اسلامی طرز حکومت ہے۔ چند نقائص جو اس میں پائے جاتے ہیں وہ اگر دور کر دیئے جائیں تو جمہوریت اسلامی طرز حکومت ہی ہے۔
شعبان بھائی
اصل مسئلہ اس 30 فیصد کا ہی ہے ۔
یہ وہی فرق ہے کہ چرچ میں بھی خدا ہے اور مندر میں بھی خدا ہے ۔
لیکن پہر بھی عیسائی اور ہندووں کو کوئی مسلمان ماننے کو تیار نہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-02-12), راجہ اکرام (27-02-12), شعبان نظامی (26-02-12)
جواب

Tags
color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ جاویداسد خبریں 1 26-07-10 09:01 PM
عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت جاویداسد خبریں 1 16-06-10 11:32 PM
ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر شازل عمومی بحث 8 20-05-09 08:12 PM
شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ابن جلال خبریں 1 23-09-08 03:26 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger