| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1245
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (29-09-10), مرزا عامر (15-04-11), مسلم بھائی (05-02-11), ابوسعد (02-02-11), سیفی خان (14-04-11), سحر (27-09-10), عبداللہ آدم (27-09-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
٭ نبیﷺکا ارشادہے کہ لَا یَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَ وْ مَامُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ خطبہ بیان نہ کرے گا مگر امیر یا مامور یا شیخی باز ۔ ( احمد: باقی مسند الانصار۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ) نبیﷺکے ارشادسے ’’خطبہ ِ جمعہ ‘‘ خلیفہ یا اُس کی طرف سے مامور کردہ فرد ہی کی طرف سے دیئے جانے کی پابندی سامنے آتی ہے، ان کے علاوہ خطبہ دینے والا شیخی بازقرارپاتا ہے ۔ جمعہ اگر بغیر اقتدارکی حالت میں بھی لازم قرار پاتا ہے تواس کی ادائیگی صرف خلیفہ یا اس کے مامور کی اقتداء میں لازم ہونے کی بناپر بغیر اقتدارکی حالت میں بھی خلیفہ کی موجودگی لازم قرار پاتی ہے تاکہ جمعہ صرف خلیفہ یا اس کے مامور ین کی اقتداء میں ادا ہوسکے اور شیخی بازوں کی امامت سے بچا جاسکے ۔ ٭ نبیﷺکے ارشادات ہیں کہ وَمَنْ مَّاتَ وَ لَیْسَ فِیْ عُنُقِہٖ بَیْعَۃٌ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً اور جو اس حال میں مر گیا کہ اس کی گردن میں بیعت کا قلادہ نہیں وہ جاہلیت کی موت مر گیا۔ (مسلم: کتاب الامارۃ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) وَاَنَا اٰمُرُکُمْ بِخَمْسٍ اللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ بِالْجَمَاعَۃِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَالْھِجْرَۃِ وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیلِ اللّٰہَ میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے : جماعت کے ساتھ ہونے کا، حکم سننے کا، اطاعت کرنے کا، ہجرت کا اور جہاد فی سبیل اللہ کا۔ (احمد: مسندالشامیین۔ حارث الاشعری رضی اللہ عنہ ) حدیث میں ہجرت اور جہاد سے پہلے سمع اطاعت کا حکم دیا جا رہا ہے جس کے لئے پہلے بیعت ضروری ہے ، یہ بات واضح ہے کہ نبیﷺ کے بعد سمع و اطاعت صرف خلیفہ کی ہے ، ہجرت سے پہلے کی حالت کمزوری اور مغلوبیت کی ہوتی ہے ، اس حالت میں بھی اگر سمع و اطاعت کا حکم ہے تووہ خلیفہ کے سوا اور کس کی ہے ؟ اس سے کمزوری اور مغلوبیت میں بھی خلیفہ کی موجودگی لازم قرار پاتی ہے تاکہ اس حالت میں اس کی سمع واطاعت میں ہجرت اور جہاد کے اعمال ِ صالح ادا کئے جا سکیں اور اللہ کی طرف سے اقتدار و امن کی امید رکھی جا سکے ۔ ٭ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَّاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ 13 يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ 14ۧ اور وہ دوسری چیز (بھی تمہیں دے گا) جسے تم چاہتے ہو، اللہ کی طرف سے نصرت اور جلد حاصل ہونے والی فتح، اور مومنین کو بشارت دے دو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی نصرت کرنے والے بنو جیسا کہ کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہ کون ہے اللہ کی طرف میری نصرت کرنے والا؟ کہا تھا حواریوں نے کہ ہم ہیں اللہ کی نصرت کرنے والے پھر ایمان لے آیا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور انکار کردیا(دوسرے) گروہ نے سو مدد کی ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں سو ہوکر رہے وہی غالب۔ (سورۃ الصف۔۱۳،۱۴) آیت بالا سے، اللہ کی طرف سے نصرت و فتح پانے کے لئے ’’اللہ کی نصرت کرنا‘‘ شرط کے طورپر سامنے آتا ہے اور اس کے طریقے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام اور آپ ؑ کے حواریوں کا واقعہ سنایا گیا ہے جس میں اللہ کی نصرت کرنے کا طریقہ یہ سامنے آتا ہے کہ وقت کے امام ِشرعی کی نصرت کی جائے ۔ جب عیسیٰ علیہ السلام امام ِ شرعی تھے تو اُس وقت کے مومنین ’’حواریوں‘‘نے آپ ؑ کی انتہائی مغلوبیت کی کیفیت میں آپ ؑکی نصرت کا اعلان کیاتھا اور آخرکار اللہ نے اُن کو غلبہ عطا فرمایا، جب نبی ﷺ شرعی امام تھے تو وقت کے مومنین نے آپ ﷺکی انتہائی مغلوبیت کی کیفیت سے آپ کی بھرپور نصرت شروع کی تھی اور غلبے سے سرفراز ہوئے ۔ آپ ﷺ کے بعدوقت کا شرعی امام’’خلیفہ ‘‘ ہوتا ہے چنانچہ اب مومنین پرخلیفہ کی نصرت لازم قرار پاتی ہے۔ یہ آیت قیامت تک کے مومنین کو اللہ کی طرف سے نصرت و فتح ملنے کایہ اُصول دیتی ہے کہ’’خلیفہ‘‘ کی نصرت کی جائے ، اگر نصرت وفتح مغلوبیت میں چاہیے تو پھرمغلوبیت میں بھی خلیفہ کی موجودگی لازم قرار پاتی ہے جس کی نصرت کر کے فتح حاصل کی جاسکے اور ذیل میں درج حدیث خلیفہ کے علاوہ ہرامام کی نصرت سے منع کرکے صرف خلیفہ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہونے کا اہتمام کرتی ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً وَ مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَاْیَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَِغْضَبُ لِعَصَبَۃٍ اَوْ یَدْعُوْا اِلٰی عَصَبَۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبَۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ جو شخص (خلیفہ کی )اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے اور مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔ جو شخص اندھا دھند ( اندھی تقلید میں) کسی کے جھنڈے تلے جنگ کرے یا کسی گروہ کے لئے غضب ناک ہو ، یاگروہ کی طرف دعوت دے یا گروہ کی نصرت کرے اور قتل ہو جائے تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔ (مسلم:کتاب الامار ہ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ) |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (29-09-10), shafresha (27-09-10), مسلم بھائی (05-02-11), ابوسعد (02-02-11), حیدر Rehan (14-04-11), عبداللہ آدم (27-09-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
٭قرآن و سنت میں خلیفہ اورخلافت کے ایک سے زیادہ مفاہیم سامنے آتے ہیں ان میں سے خلیفہ کاایک فہم’’ سلطان و مقتدر‘‘اور خلافت کاایک فہم ’’سلطنت واقتدار‘‘ بھی ہے لیکن اکثر لوگ یہ فیصلہ کئے بیٹھے ہیں کہ خلیفہ لازماً وہی ہوتا ہے جو سلطنت و اقتدار اور مضبوط افواج کا حامل ہو اور یہ کہ خلیفہ مقرر ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اہل ایمان کو سلطنت و اقتدار حاصل نہ ہو جائے چنانچہ وہ کسی سلطان ومقتدر خلیفہ اور سلطنت واقتدار اورمضبوط افواج والی خلافت کے انتظار میں ’’وحدتِ اُمت‘‘ کے فرض کو مؤخر کئے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل سوالات قابل ِ غور ہیں : (الف) قرآن وسنت سے خلیفہ’’ سلطان ومقتدر‘‘ کے علاوہ نائب، جانشین اور وارث کے طور پر بھی سامنے آتا ہے مگر خلیفہ سے لازماً سلطان ومقتدر ہی مراد لینے پر آخر کیوں زور دیا جارہا ہے ؟ (ب) کار ِ خلافت میں ’’اُمت کی سلطنت کی تدبیر ‘‘کے علاوہ ’’اُمت کی امارت اور ’’اُمت کی امامت ‘‘بھی آتی ہے ، پھر اُمت کے پاس سلطنت واقتدار نہ بھی ہو تب بھی اُمت تو موجود ہوتی ہے اور اُسے اپنی امارت وامامت کا مسئلہ درپیش رہتا ہے( کہ ایک امیر وامام ہو جس کی قیادت میں مجتمع ہو کر اقتدار کے لئے منظم جدوجہد کی جاسکے ) لیکن کار خلافت سے صرف تدبیر ِ سلطنت ہی مراد لینے کی آخر کیا وجہ ہے؟ (ج) اہل ِ ایمان یا اہل ِ حق جب تک مغلوبیت اور کمزوری کی حالت میں ہیں اور انہیں ایسا قائدنہیں مل جاتا جو سلطنت واقتدار کا حامل ہو تب تک: ۱۔ کیا اہل ِ ایمان ایک جماعت اور ایک امام کے بغیر رہیں گے؟ ۲۔ کیا اہل ِ ایمان ہزارہا غیر شرعی امیروں، اماموں اور سلطانوں کی قیادت میں بٹ کر مغلوب، منتشر اور باہم متحارب رہیں گے ؟ اور کیا ان کا رب ان کی مغلوبیت اور کمزوری کی حالت میں انہیں ان چیزوں میں مبتلا رہنے کی اجازت دیتا ہے ؟ کہ جن کی بنا پر وہ غلبے سے مغلوبیت اور کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی ہوا اُکھڑ جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَ اَطِیْعُواللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیۗحُکُمْ وَاصْبِرُوْاط اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تنازعہ مت کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی (سورۃ الانفال۔ ۴۶) ۳۔ کیا تفرقے میں نہ پڑنے اور مجتمع رہنے ، جماعت وامام کولازم کرنے، بیعت کے بغیرمرنے پر جاہلیت کی موت مرنے والی آیات و احادیث حالت ِ مغلوبیت میں منسوخ ہو جاتی ہیں ؟ ۴۔ اہل ِ ایما ن اگر حالت ِ مغلوبیت میں مجتمع ہونا چاہیں تو خلیفہ کے علاوہ کون سی قیادت ہے جس پر انہیں مجتمع ہونے کی اجازت ہے ؟ جبکہ نبی ﷺ کا ارشاد بہت واضح ہے کہ وَ اِنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَآءُ میرے بعد کوئی نبی(اُمت کی سیاست کاذمہ دار) نہیں ہو گا البتہ خلفاء ہوں گے۔ (بخاری: کتاب احادیث الانبیاء۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ) ۵۔ اگر خلیفہ وہی ہوتا ہے جو سلطنت واقتدار اور افواج رکھنے کی شرط پوری کرے اور کسی ایسے خلیفہ کے ہاتھ بیعت نہیں ہوسکتی جو یہ شرط پوری نہ کرتا ہو، تو اگر یہ اُصول ہے تو پھرتمام مومنین کے لئے اُصول ہے اور ایک بھی مومن ایسے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتا جو سلطنت واقتدار اور افواج نہ رکھتا ہو تو بتائیں کسی ایک بھی مومن کی بیعت سے پہلے جس خلیفہ سے سلطنت واقتدار اور افواج کا مطالبہ کے جارہا ہے اس حال میں وہ کس کی فوجیں لائے گا،فرشتوں کی؟ جنوں کی ؟ یا کسی اور مخلوق کی ؟ ٭٭ درج بالا تمام سوالات ایک ہی جواب کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نہ ہی مومنین کی وحدت کافرض مؤخر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مومنین کا شرعی امام’’ خلیفہ‘‘ شروع ہی سے سلطنت واقتدار اورمظبوط افواج کا حامل ہو جبکہ کتاب وسنت سے واضح ہوتا ہے کہ ایک شخص صرف شرائط ِ خلافت رکھنے اور جانے والے خلیفہ کے بعدسب سے پہلے اپنے ہاتھ پر ایک مومن کی بیعت ہونے کی بنا پر خلیفہ بنتا ہے اور پھردیگر مومنین کی طرف سے اس خلیفہ کواپنی بیعت ، اطاعت اور نصرت دیئے جانے اوراپنے زیرانتطام علاقے اس کے سپرد کر دینے سے افواج اور سلطنت اقتدار کا حامل ہو جاتا ہے ، تمام خلفائے راشدین اسی طرح سے پہلے خلیفہ بنے پھرمومنین کی بیعت، اطاعت اور نصرت وغیرہ ملنے پرافواج اور سلطنت واقتدار کے حامل ہوئے جیسااس سے پہلے خود نبی ﷺ بھی اللہ کی طرف سے مومنین کی بیعت ، اطاعت اور نصرت میسر آنے کی بنا پر افواج اورسلطنت واقتدار اورملک کے مالک ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فَاِ نَّ حَسْبِکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْ ٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِ ہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴿﴾ پس یقیناً کافی ہے تمہارے لئے اللہ ۔ وہی تو ہے جس نے قوت بہم پہنچا ئی تمہیں اپنی نصرت سے اور مومنین (کی نصرت) سے۔ (سورۃ الانفال۔ ۶۲) آج جو بھی مومن کتاب وسنت سے سامنے آنے والی شرائط ِ خلافت پوری کرتا ہے، اور اُس کے ہاتھ پر خلیفہ کے لئے بیعت ہوچکی ہے ، اور وہ گذشتہ خلافت ختم ہونے کے بعدہونے والی پہلی بیعت ہے تو وہ مومن تمام مومنین کے لئے خلیفہ ہے ، مومنین کی ذمہ داری ہے کہ اُس کی بیعت ، اطاعت اور نصرت کرتے ہوئے اُس کے جھنڈے تلے مجتمع ہو جائیں ، اُسی کی امامت میں اعمال ِ صالح ادا کریں پھر اللہ کی طرف سے زمین میں خلافت ملنے ، دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دینے اور حالت ِ خوف کو امن میں بدل دینے کا وعدہ جلد پورا ہوگا ان شاء اللہ۔ ٭٭٭ Last edited by محمد عاصم; 27-09-10 at 07:20 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (29-09-10), shafresha (27-09-10), مسلم بھائی (22-06-11), حیدر Rehan (14-04-11), عبداللہ آدم (27-09-10) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
جزاک اللہ عاصم بھائی کہ اس سلگتے سوال پر آپ نے لکھا.لیکن آخری سطور پر کچھ عرض کروں گا. حزب التحریر کا بھی غالبا یہی کہنا ہے...................لیکن سمجھ یہ نہیں آتی کہ جب سلطنت ہی نہیں ہے تو خلیفہ کیسا اور بیعت کس کیسی؟؟؟؟ بھائی پہلے خلافت قائم ہو گی جیسےافغانستان میں حکومت ملی تو ملا عمر امیر بنے............. ورنہ ہوائی خلفاء اس وقت بھی عالم اسلام میں 4،5 موجود ہیں. والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
|
|
#5 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی میرے میرا حزب التحریر سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور آج تک ان کے کسی ایک بھی ساتھی سے ملاقات نہیں ہوئی ہے اگر پھر بھی ان کا بھی ایسا ہی موقف ہے تو صحیح ہے کیونکہ کہ اقتدار و سلطنت کی شرط قرآن و سنت میں کہیں بھی نظر سے نہیں گزری ہے اگر ایسی کوئی نص ہے تو بھائی آپ مجھے بتائیں تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں۔ اور آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ اس کو لازمی سمجھتے ہیں تو آخری پوسٹ میں جو سوالات کیے گے ہیں ان کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں عنایت فرما کر اللہ سے جزا پائیں اور اپنے بھائی کی اصلاح فرمائیں۔ جزاک اللہ اقتباس:
Last edited by محمد عاصم; 28-09-10 at 01:40 PM. |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (29-09-10), مسلم بھائی (22-06-11), حیدر (14-04-11), سیفی خان (14-04-11), عبداللہ آدم (28-09-10) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
بھائی جان سادہ سی بات ہے کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سلطہ نہیں تھا اور طاقت و قوت نہیں تھی تو وہاں آپ کی طرف سے "حکومت" یا "خلافت" کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں بیعتکی گئی. پھر جب آپ نے مدینہ ہجرت کی تو علاقہ میسر آ گیا تو آپ نے یہود سے معاہدہ کر کے علاقے کو زیر نگین کیا اور پھر آپ ایک حکمران کی حیثیت سے بھی سامنے آئے. تو خلافت کے لیے "زمین" اور "سلطہ" شرط ٹھری،اس لیے کہ خلافت اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے،اور دوسرے جن بڑے بڑے امور پر مشتمل ہے وہ "غلبے" کے بغیر قائم ہونے ناممکن ہیں!!!جب یہ نہیں ہیں تو خلافت نہیں ہے اور خلیفہ بلا خلافت ایسےہی ہے جیسے جلاوطن حکمران کہ جس کی کوئی بھی عملی حیثیت نہیں ہوتی........... حزب التحریر کے بھائی پہلے خلافت کی بجائے پہلے خلیفہ کے اسی نظریے کے قائل ہیں اور باقاعدہ ایک خلیفہ سے بیعت بھی کرتے ہیں لیکن وہ خود بے چارہ برطانیہ میں ہے!!!اور برطانیہ نے اسی لیے کبھی اس پر اعتراضنہیں کیا کیونکہ وہ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے..................اب کہاں تو عمر کا نام سن کر قیصر و کسرٰی کانہنے لگیں اور کہاں ان ڈمی خلفاء کا کسی بات پر بھی قادر نہ ہونا جو خلافت کے لیے لازمی ہیں. اور صحیح طریقہ بہت سادہ سا ہے کہ:: 1:: باطل نظاموں کو گرانے کے لیے جدوجہد کی جائے جس میں:: - لوگوں کو ان نظاموں کے باطل ہونے سے اور توحید کے صریحا متصادم ہونے سے روشناس کروایا جائے. -ذیلی باتوں میں ان سسٹمز کی سنگینی کو کم ہونے کا موقع دیے بغیر انفرادی سطح پر اور اجتماعی سطح پر ان نظاموں سے اپنا عقیدے کا اختلاف واضح کیا جائے.مثلا حاکمیت،حلال وحرام،الولاء والبراء کفر بالطاغوت جیسے بنیادی موضوعات میں. -مناسب قوت اور جمیعت کے حصول کے بعد ان نظاموں سے عملا چھٹکارا حاصل کیا جائے. 2:: ان نظاموں کے ٹوٹنے کے بعد جو لوگ جدوجہد میں صف اول کے ہوں وہ اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے اہل حل و عقد خلیفہ کا تقررکر دیں. والسلام |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ آدم بھائی آپ نے لکھا کہ
اقتباس:
جی بھائی جو آپ اس سے مطلب لے رہے ہیں وہ میں نہیں لیتا بلکہ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بغیر سلطہ کے بھی شرعی امام کے ہاتھ پر ہی بیعت کی جائے گی نہ کہ غیر شرعی امیروں اور اماموں کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی اور نبی علیہ السلام سے پہلے بھی جتنے انبیاء علیہ السلام گزرے ہیں ان کی مثال بھی سامنے رکھیں ہر وقت کا نبی، وقت کا نبی، امام، خلیفہ و سلطان بھی ہوتا ہے اس نبی کے پیروں کار بے شک وہ مغلوبیت میں ہی کیوں نہ ہوں اطاعت و پیروی صرف اور صرف انہی کی کرتے ہیں وہ کسی طاغوت کی عدالتوں میں فیصلہ کے لیے نہیں جاتے اور نہ ہی طاغوت کی کسی ایسے معاملے میں اطاعت کرتے ہیں جو ان کے دین کے خلاف ہو تو وہ اصل میں اسی وقت ایک ایسے سسٹم سے وابستہ ہو جاتے ہیں جواللہ کے حکم و فرامین کے مطابق ہوتا ہےاور وہی وقت کی شرعی جماعت بھی ہوتی ہے ، اب انبیاء تو نہیں آئیں گے بلکہ احادیث کے مطابق خلفاء ہونگے کہ جن کی اطاعت کی جائے گی آپ کی بات یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ خلافت سلطہ کے بغیر نہیں ہوتی مگر یہ بات صحیح نہیں سمجھتا کہ امام ،خلیفہ کے لیے بھی سلطہ کی شرط ہے اگر ایسا ہے تو مجھے آپ بتائیں کہ پھر امت کو خلافت کیسے ملے گی جبکہ ان کے پاس امام ، خلیفہ ہی نہیں ہوگا؟ اور اس کے علاوہ اور بھی سوالات اٹھیں گے ان کا بھی جواب چاہیے ہوگا وہ سوالات میں دوبارہ پیش کر دیتا ہوں، قرآن و سنت میں خلیفہ اورخلافت کے ایک سے زیادہ مفاہیم سامنے آتے ہیں ان میں سے خلیفہ کاایک فہم’’ سلطان و مقتدر‘‘اور خلافت کاایک فہم ’’سلطنت واقتدار‘‘ بھی ہے لیکن اکثر لوگ یہ فیصلہ کئے بیٹھے ہیں کہ خلیفہ لازماً وہی ہوتا ہے جو سلطنت و اقتدار اور مضبوط افواج کا حامل ہو اور یہ کہ خلیفہ مقرر ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اہل ایمان کو سلطنت و اقتدار حاصل نہ ہو جائے چنانچہ وہ کسی سلطان ومقتدر خلیفہ اور سلطنت واقتدار اورمضبوط افواج والی خلافت کے انتظار میں ’’وحدتِ اُمت‘‘ کے فرض کو مؤخر کئے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل سوالات قابل ِ غور ہیں : (الف) قرآن وسنت سے خلیفہ’’ سلطان ومقتدر‘‘ کے علاوہ نائب، جانشین اور وارث کے طور پر بھی سامنے آتا ہے مگر خلیفہ سے لازماً سلطان ومقتدر ہی مراد لینے پر آخر کیوں زور دیا جارہا ہے ؟ ( ب) کار ِ خلافت میں ’’اُمت کی سلطنت کی تدبیر ‘‘کے علاوہ ’’اُمت کی امارت اور ’’اُمت کی امامت ‘‘بھی آتی ہے ، پھر اُمت کے پاس سلطنت واقتدار نہ بھی ہو تب بھی اُمت تو موجود ہوتی ہے اور اُسے اپنی امارت وامامت کا مسئلہ درپیش رہتا ہے( کہ ایک امیر وامام ہو جس کی قیادت میں مجتمع ہو کر اقتدار کے لئے منظم جدوجہد کی جاسکے ) لیکن کار خلافت سے صرف تدبیر ِ سلطنت ہی مراد لینے کی آخر کیا وجہ ہے؟ ( ج) اہل ِ ایمان یا اہل ِ حق جب تک مغلوبیت اور کمزوری کی حالت میں ہیں اور انہیں ایسا قائدنہیں مل جاتا جو سلطنت واقتدار کا حامل ہو تب تک: ۱۔ کیا اہل ِ ایمان ایک جماعت اور ایک امام کے بغیر رہیں گے؟ ۲۔ کیا اہل ِ ایمان ہزارہا غیر شرعی امیروں، اماموں اور سلطانوں کی قیادت میں بٹ کر مغلوب، منتشر اور باہم متحارب رہیں گے ؟ اور کیا ان کا رب ان کی مغلوبیت اور کمزوری کی حالت میں انہیں ان چیزوں میں مبتلا رہنے کی اجازت دیتا ہے ؟ کہ جن کی بنا پر وہ غلبے سے مغلوبیت اور کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی ہوا اُکھڑ جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَ اَطِیْعُواللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیۗحُکُمْ وَاصْبِرُوْا ط اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تنازعہ مت کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی ( سورۃ الانفال۔ ۴۶) ۳۔ کیا تفرقے میں نہ پڑنے اور مجتمع رہنے ، جماعت وامام کولازم کرنے، بیعت کے بغیرمرنے پر جاہلیت کی موت مرنے والی آیات و احادیث حالت ِ مغلوبیت میں منسوخ ہو جاتی ہیں ؟ ۴۔ اہل ِ ایما ن اگر حالت ِ مغلوبیت میں مجتمع ہونا چاہیں تو خلیفہ کے علاوہ کون سی قیادت ہے جس پر انہیں مجتمع ہونے کی اجازت ہے ؟ جبکہ نبی ﷺ کا ارشاد بہت واضح ہے کہ وَ اِنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَآءُ میرے بعد کوئی نبی(اُمت کی سیاست کاذمہ دار) نہیں ہو گا البتہ خلفاء ہوں گے۔ (بخاری: کتاب احادیث الانبیاء۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ) ۵۔ اگر خلیفہ وہی ہوتا ہے جو سلطنت واقتدار اور افواج رکھنے کی شرط پوری کرے اور کسی ایسے خلیفہ کے ہاتھ بیعت نہیں ہوسکتی جو یہ شرط پوری نہ کرتا ہو، تو اگر یہ اُصول ہے تو پھرتمام مومنین کے لئے اُصول ہے اور ایک بھی مومن ایسے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتا جو سلطنت واقتدار اور افواج نہ رکھتا ہو تو بتائیں کسی ایک بھی مومن کی بیعت سے پہلے جس خلیفہ سے سلطنت واقتدار اور افواج کا مطالبہ کے جارہا ہے اس حال میں وہ کس کی فوجیں لائے گا،فرشتوں کی؟ جنوں کی ؟ یا کسی اور مخلوق کی ؟ ٭٭ درج بالا تمام سوالات ایک ہی جواب کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نہ ہی مومنین کی وحدت کافرض مؤخر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مومنین کا شرعی امام’’ خلیفہ‘‘ شروع ہی سے سلطنت واقتدار اورمظبوط افواج کا حامل ہو جبکہ کتاب وسنت سے واضح ہوتا ہے کہ ایک شخص صرف شرائط ِ خلافت رکھنے اور جانے والے خلیفہ کے بعدسب سے پہلے اپنے ہاتھ پر ایک مومن کی بیعت ہونے کی بنا پر خلیفہ بنتا ہے اور پھردیگر مومنین کی طرف سے اس خلیفہ کواپنی بیعت ، اطاعت اور نصرت دیئے جانے اوراپنے زیرانتطام علاقے اس کے سپرد کر دینے سے افواج اور سلطنت اقتدار کا حامل ہو جاتا ہے ، تمام خلفائے راشدین اسی طرح سے پہلے خلیفہ بنے پھرمومنین کی بیعت، اطاعت اور نصرت وغیرہ ملنے پرافواج اور سلطنت واقتدار کے حامل ہوئے جیسااس سے پہلے خود نبی ﷺ بھی اللہ کی طرف سے مومنین کی بیعت ، اطاعت اور نصرت میسر آنے کی بنا پر افواج اورسلطنت واقتدار اورملک کے مالک ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فَاِ نَّ حَسْبِکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْ ٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِ ہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴿﴾ پس یقیناً کافی ہے تمہارے لئے اللہ ۔ وہی تو ہے جس نے قوت بہم پہنچا ئی تمہیں اپنی نصرت سے اور مومنین (کی نصرت) سے۔ (سورۃ الانفال۔ ۶۲) آج جو بھی مومن کتاب وسنت سے سامنے آنے والی شرائط ِ خلافت پوری کرتا ہے، اور اُس کے ہاتھ پر خلیفہ کے لئے بیعت ہوچکی ہے ، اور وہ گذشتہ خلافت ختم ہونے کے بعدہونے والی پہلی بیعت ہے تو وہ مومن تمام مومنین کے لئے خلیفہ ہے ، مومنین کی ذمہ داری ہے کہ اُس کی بیعت ، اطاعت اور نصرت کرتے ہوئے اُس کے جھنڈے تلے مجتمع ہو جائیں ، اُسی کی امامت میں اعمال ِ صالح ادا کریں پھر اللہ کی طرف سے زمین میں خلافت ملنے ، دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دینے اور حالت ِ خوف کو امن میں بدل دینے کا وعدہ جلد پورا ہوگا ان شاء اللہ۔ اس مسئلے پر میری فیس ٹو فیس کافی اہلِ علم حضرات سے بات چیت ہوچکی ہے الحمدللہ کچھ نے تو تعید کی اور کچھ نے مخالفت ، خیر یہ سب کا حق ہے چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے کسی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی، آپ جو بہتر سمجھتے ہیں وہ پیش کریں دلیل کے ساتھ اور میں جو بہتر سمجھتا ہوں وہ پیش کرونگا قرآن وصحیح حدیث کی دلیل سے ان شاءاللہ۔
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اب میں دو۲ احادیث پیش کرتا ہوں آپ ان پر غور کریں اور مجھے بتائیں کہ فتنوں کے دنوں میں جائے پناہ کس جماعت کو قرار دیا گیا ہے؟ امت میں بہت سی جماعتیں وجود میں آچکی ہیں ان میں حق پر کون سی جماعت ہے کہ جس کو ہم جماعتِ شرعی کہہ سکیں اور اس کے امام، امیر کی اطاعت کرسکیں ان احادیث کو بہت غور و تدبر کے ساتھ پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یحیی ولید ابن جابر بسر ابوادریس سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن یمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ (اکثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بابت دریافت کرتے رہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر اور فتنوں کی بابت پوچھا کرتا تھا اس خیال سے کہ کہیں میں کسی شر و فتنہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ ایک روز میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جاہلیت میں گرفتار اور شر میں مبتلا تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس بھلائی (یعنی اسلام) سے سرفراز کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی برائی پیش آنے والی ہے؟ فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا اس بدی و برائی کے بعد بھلائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! لیکن اس میں کدورتیں ہوں گی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیا ہو گی؟ فرمایا کدورت سے مراد وہ لوگ ہیں جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کر کے اور لوگوں کو میری راہ کے خلاف راہ بتائیں گے تو ان میں دین بھی دیکھے گا اور دین کے خلاف امور بھی ہیں۔ عرض کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی برائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مان لیں گے وہ ان کو دوزخ میں دھکیل دیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا حال مجھ سے بیان فرمائیے ،فرمایا وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔ میں نے عرض کیا اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا مسلمانوں کی جماعت :::خلافت:::کو لازم پکڑو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کی اطاعت کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو۔ (تو کیا کروں) فرمایا تو ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جا اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے یہاں تک کہ اسی حالت میں تجھ کو موت آ جائے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:باب: اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان اس حدیث میں جو کہا گیا ہے کہ :::مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازمی پکڑو::: اب تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تو ہزاروں کی تعداد میں جماعتیں موجود ہیں تو بھائی میرے اصل میں اس جماعت سے مراد وہی خلیفہ والی جماعت مراد ہے اب بےشک ان کے پاس اقتدار نہیں ہوگا مگر وہ شریعت کے اصولوں کے مطابق اپنا ایک شرعی امام رکھتی ہوگی اور ان کی بنیاد قرآن و سنت پر ہی ہوگی۔ مگر یہاں ایک بات مدنظر رکھے جائے کہ جس نے خلافت کا نظام یا خلیفہ ہونے کا دعوی کیا ہے اس کو دیکھا جائے گا کہ آیا وہ قرآن و سنت کے مطابق ایمان و عمل رکھتا بھی ہے کہ نہیں اگر صرف اس نے دعوی کیا ہوا ہے تو پھر اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی بلکہ دعوی کے ساتھ عمل شرط ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر وبھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے کہ وہ مجھے پہنچ جائے سوال کرتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لائے تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی میں نے عرض کیا کیسی کدورت ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری سنت کے علاوہ کو سنت سمجھیں گے اور میری ہدایت کے علاوہ کو ہدایت جان لیں گے تو ان کو پہچان لے گا اور نفرت کرے گا میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد کوئی برائی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر جہنم کی طرف بلایا جائے گا جس نے ان کی دعوت کو قبول کرلیا وہ اسے جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ان کی صفت بیان فرما دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گےمیں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر یہ مجھے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت :::خلافت:::کو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کو لازم کرلینا میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام، آپ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جانا اگرچہ تجھے موت کے آنے تک درخت کی جڑوں کو کاٹنا پڑے تو اسی حالت میں موت کے سپرد ہو جائے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:کتاب : امارت اورخلافت کا بیان :باب: فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں ان احادیث کو دیکھتے ہوئے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مغلوبیت کے دور میں بھی مسلمانوں کا صرف ایک ہی شرعی امام ہونا لازمی ہے، متفرق امام و امیر ہونے سے دین کا کام نہیں کیا جاسکتا بلکہ متحد ہوکر ہی دین کا کام کیا جاسکتا ہے، اور ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ایسے تمام فرقوں سے لاتعلق ہونے کا حکم دیا ہے اور مسلمانوں کی شرعی جماعت اور ان کے امام::خلیفہ:: سے وابستہ ہونا لازمی حکم قرار دیا ہے۔ آج کل ہر کوئی اسلام کا نام لے کر اپنی ایک علیحدہ جماعت بنارہا ہے اور اس سے امت کو مزید متفرق بنارہا ہے جو کہ اسلام کے اصولِ وحدت کے خلاف کام ہے اللہ نے ہم کو قرآن میں اور نبی علیہ السلام نے اپنے پیارے ارشادات میں متفرق ہونے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے اس کا علم ہر کسی کو ہے مگر پھر بھی ہم امت کی وحدت کی طرف نہیں آتے بلکہ امت میں مزید انتشار پیدا کرنے والے کام کر رہے ہیں۔ اگر پوری امتِ مسلمہ نبی علیہ السلام کے حکم کے مطابق اپنا ایک شرعی امام بنالیں اور اپنی سیاست و امارت اس کے سپرد کر دیں تو یہ ملکی تفرقہ تو ختم ہوگا ہی ساتھ ساتھ مذہبی تفرقہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا ان شاءاللہ۔ بعص بھائی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو امت میں مختلف جماعتیں دین کا کام کر رہی ہیں اس سے فرقہ واریت نہیں پھیلتی کیونکہ ان سب جماعتوں والے ایک اللہ ،محمد علیہ السلام کی رسالت اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر یہ افتراق و انتشار تو نہ ہوا ناں، تو اس بارے میں میرا ذاتی مشاہدہ کچھ اور ہی ہے وہ یہ کہ میں نے تقریبا سب بڑے بڑے فرقے قریب جاکر دیکھے ہیں مثلا میں پہلے بریلوی تھا ۱۷ سال تک میں بریلوی رہا اور اس لیے مجھے ان کے عقائد کا مکمل احاطہ ہے، پھر میرا رابطہ دیوبند سے ہوا ان میں بھی کافی عرصہ رہا اور دیوبند کی مختلف جماعتوں میں کام کیا، حیاتی اور مماتی اس میں دونوں کی جماعتیں شامل ہیں، اس کے بعد اہلِ حدیث والوں کے ساتھ رہا اور ان کے اندر بھی ۱۴ جماعتیں دیکھیں اور ان میں سے کچھ تو دوسری جماعت والے کو بھی بدعتی اور مشرک تک کہتے ہیں، اس کے علاوہ میرا واسطہ جزوی طور پر منکرینِ حدیث کے ساتھ بھی رہا اور شیعہ کے عقائد والوں سے بھی گفتگو چلتی رہی اسی سلسلے میں ایران بھی گیا مگر وہاں جاکر کام اُلٹ چلا وہ یہ کہ مجھ پر شیعت کی حقیقت واضح ہوگئی کیونکہ پاکستان میں شیعت عقائد والے واضح اور کھل کر بات کم ہی کرتے ہیں بےشک وہ اپنے عقیدے کی دعوت ہی کیوں نا دے رہے ہوں مگر ایران میں ایسا نہیں تھا وہاں ان کے بعض عقائد کھل کر میرے سامنے آگے۔ ۱۷ سال سے لے کر ۳۱ سال تک میں انہی جماعتوں کے چکر میں رہا کہ دین کا کام کرنا ہے تو کسی بھی جماعت کے ساتھ لگ کر کام کیا جاسکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ میں نےدینِ اسلام کو سیکھنے کا عمل جاری رکھا اس سلسلے میں مختلف لوگوں سے استفادہ حاصل کیا اور ساتھ میں نے تھوڑی تھوڑی کر کے سبھی احاديث کی کتب خرید لیں اور قرآن پاک میں بھی جو مختلف علماء کے تراجم تھے وہ بھی خریدے اس کے علاوہ اسلامی موضوعات پر کتب خریدی اور ان کا بھی مطالعہ کیا اور تفسیریں بھی خریدیں، تفسر عثمانی، تفسیر ابنِ کثیر، تفہیم القرآن، احسن القرآن، تفسیر مکہ وغیرہ۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ دین کا نام سبھی ہی لیتے ہیں مگر اس کے باوجود آپس میں متفرق ہیں اور یہ تفرقہ صرف الفاظ تک ہی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان بہت اونچی اونچی دیواریں ہیں ایک فقہ کو ماننے والوں میں بھی اتنا اختلاف ہے کہ ایک دوسرے کو بدعتی، مشرک اور کافر تک کہہ دیتے ہیں یہ سب حالات دیکھ کر میں اکثر سوچتا کہ کیا نبی علیہ السلام ہمیں ایسا اسلام دے کر گے تھے؟ یقینا ایسا نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ حالت یہ ہوگئی ہے؟ اس طرح کے بےشمار سوالات ذہن میں آتے تو ایک دفعہ کسی بھائی نے یہ درج بالا احادیث سنائیں حالانکہ میں یہ احادیث پہلے خود بھی پڑھ چکا تھا مگر اس پر غور نہیں کیا تھا تو جب میں نے ان پر غور و فکر کیا تو یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان فرقہ بندیوں سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ان سب فرقوں سے لاتعلق ہوجایا جائے اور مسلمانوں کی شرعی جماعت کو تلاش کیا جائے ایک اور حقیقت اس سے پہلے ہی میں سمجھ چکا تھا وہ یہ کہ امتِ محمد علیہ السلام کو اگر متحد کیا جاسکتا ہے تو صرف اور صرف قرآن و صحیح حدیث ہی ہے باقی کسی بھی چیز پر امت متحد نہیں ہوسکتی اور میں نے یہی سوال فقہ حنفی کے پیروکار ایک عالم صاحب سے بھی پوچھا تھا ان کے مدرسے میں جاکر، انہوں نے کہا تھا کہ نہ امت فقہ شافعی پر ، نہ فقہ مالکی پر، نہ فقہ حنبلی پر اور نہ ہی فقہ حنفی پر متحد ہوسکتی ہے پھر میں نے پوچھا کہ کیا امت قرآن و سنت پر متحد ہوسکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں قرآن و سنت پر امت متحد ہوسکتی ہے۔ تب سے لے کر آج تک میری اسی بات پر کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں میں اس بات کی اہمیت اُجاگر کی جائے کہ وہ باہمی فرقی بندیوں سے نکل کر اور فرقہ پرستانہ ناموں کو چھوڑ کر ایک مسلم بنا جائے اور صرف قرآن و سنت کو اپنا دین سمجھا جائے اور اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے، کیونکہ ہم جب تک فرقہ پرستی نہیں چھوڑیں گے کبھی بھی متحد نہیں ہوسکیں گے اور جب تک فرقہ پرستی والے نام نہیں چھوڑیں گے کبھی صحیح مسلم نہیں بن سکیں گے۔ ایک اور حدیث ہے اس میں کافی قرب قیامت کی نشانیہ ہیں اس کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے زمین کو میرے لئے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک، عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ جائے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے دعا مانگی کہ وہ انہیں عام قحط سالی میں ہلاک نہ کرے اور اپنے علاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح جائز سمجھے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد جب میں کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بے شک میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جو ان سب کی جانوں کو مباح وجائز سمجھ کر ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے لوگ جمع ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔ صحیح مسلم:جلد سوم: فتنوں کا بیان : اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں اس میں پیش کی جانی والی نشانی کہ امت خود آپس میں ہی لڑئے گی اور قتل کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے آج کل حقیقت میں ایسا ہورہا ہے کفار بھی مل کر ہیۢ مسلمانوں کو قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہم خود بھی آپس میں لڑ رہے ہیں اور یقیناً یہ چیز بشارت نہیں ہے بلکہ وعید ہے کہ اگر ایسا ہو تو ان سب سے لاتعلق ہوجانا اور اگر امام شرعی مل جائے تو اس کو لازم پکڑ لینا اور اگر نہ ملے تو سب فرقوں سے اپنا ناطہ توڑ لینا اور بھی اسی مفہوم کی کافی احادیث موجود ہیں اگر وہ بھی لکھوں تو مضمون مزید لمبا ہوجائے گا۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |||
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ آدم بھائی آپ نے مزید لکھا ہے کہ اقتباس:
یہاں میرےسوالات یہ ہیں کہ ایسی جدوجہد کس کے تحت رہ کر کرنی ہے؟؟؟ کیا اسی طرح متفرق گروہوں میں بٹ کر یا کہ ایک شرعی جماعت بناکر؟؟؟ اگر اسی طرح ہی کرنی ہے تو امت کی وحدت کا کیا کریں گے؟؟؟ اور ایسی ہی جدوجہد افغانستان میں کی گئی روس کے خلاف اس کا نتیجہ کیا نکلا؟؟؟ افغان میں صرف سات۷ مجاہدین کی جماعتیں تھیں جب نجیب اللہ کی حکومت ۱۹۹۲ء میں ختم ہوئی تو آپ کو پتا ہے اس کے بعد کیا ہوا تھا؟؟؟ اور اس خانہ جنگی میں مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا تھا اور خیران کن بات یہ کہ سب کا یہی دعوی تھا کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر کے اسلام نافذ کر رہا ہے اور میرے بھائی یہی تفرقہ بازی کی انتہا ہوتی ہے، پہلے جو تفرقہ ہمیں ہلکا محسوس ہو رہا ہوتا ہے وہی تفرقہ جب اپنی گروہی مفاد میں آتا ہے تو پھر خون کی ندیاں بہتی ہیں اور سب کا یہی دعوی ہوتا ہے کہ وہ جو کر رہا ہے وہی حق ہے، اللہ عالم غیب ہے اس نے اسی لیے مسلمانوں کو آپس میں متحد رہنے کا حکم دیا ہوا ہے اور یہاں تک فرمایا کہ ان مشرکین کی طرح نہ ہوجانا جو متفرق ہوگے۔ میرے بھائیو اسلام میں تفرقہ بازی مکمل طور پر حرام ہے اس لیے اس سے بچیں اور باطل نظاموں کے خلاف بھی جو جدوجہد کرنی ہے وہ متحد ہوکر ہی کریں گے تو ہی ہمیں اللہ فتح دے گا افسوس ہے کہ بچن میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے اتحاد میں برکت ہے لکڑہارے کے بیٹوں کی طرح آج ہم بھی کمزور ہوچکے ہیں اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مار نہ سکے تو ہمیں آپس میں ایک جان بننا ہوگا ورنہ دشمن ہمیں ایک ایک کر کے قتل کر رہا ہے، اور آپ کو پتا ہی ہوگا کہ کفار نے سب سے پہلے مسلمانوں کی اجتماعیت خلافت کو پہلی جنگِ عظیم میں مل کر اسی لیے ختم کیا تھا کہ مسلمانوں کی اس اجتماعیت کو پہلے ختم کرو پھر ان کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کر دو تو یہ باآسانی قابو آجایا کریں گے اگر یہ خلافت رہی تو یہ ایک بہت بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کی عوامی طاقت بھی اسی طرح زیادہ ہوگی جو فوجی طاقت کا اہم مرکز ہوتی ہے، تو ان کفار نے پہلے مسلمانوں کو علاقوں میں تقسیم کیا پھر ان میں جو حکمران بنائے وہ بھی اپنے خاص ایجنٹ بنائے تاکہ کل کوئی ہمارے خلاف کوئی مشکل پیدا نہ کر سکے اگر کوئی اسن علاقوں میں ایسا کرئے تو یہاں کے ہمارے ایجنٹ حکمران ان کو قابو کر لیں ہمیں اپنے فوجی مروانے نہ پڑیں، معذرت بات پھر لمبی ہونے لگی ہے، مختصر اًیہ کہ ان کفار کے باطل نظاموں کے خلاف جدوجہد کرنی ہے اور ضرور کرنی ہے مگر اس طرح نہیں کہ باہم متفرق ہوکر بلکہ متحد ہوکر نی ہے تو ہی اس کا صلہ کامیابی ہمیں ملے گی، اس سے پہلے کی ٹھوکروں سے سبق سیکھیں بھائی جان۔ عبداللہ بھائی یہ آپ کی بات سمجھنے والی ہے اقتباس:
بالکل بھائی یہ سبھی موضوعات بہت اہمیت کے حامل ہیں میں آپ سے ہی گزارش کرونگا کہ آپ ان موضوعات پر اپنی یا کسی اور کی لکھی تحاریر یہاں پوسٹ کرین خاص طور پر کفربالطاغوت کے موضوع پر، اگر ہم اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ لیں تو حاکمیت اور الولاءوالبراء والا معاملہ خود ہی سمجھ میں آجائے گا، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس موضوع پر کوئی اچھی تحریر جلد پوسٹ کریں۔ جزاک اللہ عبداللہ آدم بھائی آپ کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اقتباس:
اس بات پر مجھے اختلاف ہے اور اس کی وجہ وہی ہے افغانستان والا تجربہ وہاں ہونا تو وہی چاہیے تھا کہ جس کے لیے ۱۵۰۰۰۰۰ پندراں لاکھ مسلمان قتل کیے گے:::۱۹۹۲ءتک::: مگر ہوا اس کے خلاف تھا کہ سبھی صف اول کے مجاہدین آپس میں ہی لڑ پڑے اور اقامتِ دین تو دور کی بات وہ ایک متفقہ حکومت بھی نہ بناسکے، تو پھر کیا ہوا کہ جس کمانڈر کے قبضے میں جو علاقہ تھا وہی اس علاقے کا حکمران بن گیا اور عوام کا جینا حرام کردیا گیا تھا، یہ سب کباحتیں اسی فرقہ پرستی کی ہی ہیں، اگر افغان جہاد کے شروع میں ہی ایک جماعت ہوتی اور سبھی لوگ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے جہاد کرتے تو کیا پھر خانہ جنگی ہونی تھی؟؟؟ یقیناً نہیں ہونی تھی، اور میرا بھی اس ساری تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے اپنا امامِ شرعی پہلے بنانا ہے پھر اس کے پیچھے ہوکر کفار کے نظاموں کے خلاف جہاد کرنا ہے تو ہی امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ ہمیں فتح دے گا ان شاءاللہ یہ ایک چھوٹا سا اقتباس اپنی تحریر اسلام میں بیعت کس کی ہے؟ سے دینا چاہتا ہوں۔ ان سب احادیث کو سامنے رکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیعت خلیفہ، امام،امیر المومنین کا حق ہے یہ حق کسی اور کے پاس ہے نہ ہی کسی اور کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ حق خلیفہ نے خود اپنے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ یہ نبی علیہ السلام کا حکم ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اور یہ بھی حکم دے دیا گیا کہ اگر ایک خلیفہ کے ہوتے کوئی اور اُٹھے اور بیعت لے تو اس کو قتل کیا جائے تاکہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور یہ آپس میں متحد رہیں قرآن میں بھی اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ اجتماعیت کو قائم کیا جائے اور تفرق سے بچا جائے بعض جگہ تفرق کو مشرکین کا فعل کہا گیا اور اس سے مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ مشرکین کی طرح متفرق نہ ہوجانا، ان سب احکامات کے ہوتے ہوئےپھر کس دلیل و نص کے ساتھ ایسا سسٹم ایجاد کیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے امت میں ہزاروں خلفاء بنا لیے گئے ہیں اور جو دین ہم کو ہر جگہ اتحاد کا درس دیتا ہے وہی دین ہم کو انتشار کا درس کس طرح دے سکتا ہے؟؟؟اور اس سے تو بیعت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے،بیعت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امت کو ایک امام و خلیفہ دیا جائے جو لوگوں کی سیاست و امارت کرئےاور جس کے ذریعہ کفار سے جہاد کیا جائے اور جس امام کو امت کا سر :::ہیڈ:::قرار دیا گیا ہے اور ایک حدیث میں پوری امت کو ایک جسم کے مانند کہا گیا ہے کہ جس کا سر خلیفہ کو قرار دیا گیا ہے جو کے جسم کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے کہ جس کے بنا جسم زندہ نہیں رہ سکتا کہ جس نے پورے جسم کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اگر سر کو جسم سے جُدا کردیا جائے تو جسم کی موت واقع ہوجاتی ہے تو میرے بھائیو اور بہنو افسوس صد افسوس کہ ہم اس سر کے بغیر ہیں اسی لیے تو امت انتشار کا شکار ہے کہ اُمت کے پورے جسم کو مختلف بیماروں نے قابو کیا ہوا ہے،جسم کو فالج اور لقوا ہو چکا ہے، ہاتھ کہیں پڑا ہے تو پاوں کہیں، بازو کہیں پڑا ہے تو ٹانگ کہیں، الغرض پورا جسم اپنے آخری انجام کو پہنچ چکا ہے، اس کو سنبھالنے والا :::سر::: ہی نہیں ہے کہ اس جسم کا علاج کروا سکے اس کو پڑی ہوئی بیماریوں کا مناسب بندوبست کر سکے، آج امتِ محمدیہ کا یہ حشر اس لیے ہوا ہے کہ ان کے جسم کا سر یہود و نصاری نے پہلی جنگ عظیم میں اتار دیا تھا، اور پھر ان ظالموں نے اس امت کے اپنی مرضی کے مطابق ٹکرے کیے اور آج تک وہ اس کو مزید ٹکروں میں تقسیم کرتے جا رہے ہیں کہ پہلے تو امت میں صرف دین کی بنیاد پر فرقے بنائے گے اور جب خلافت کو ختم کردیا گیا تو پھر امت کو علاقوں،وطنوں، قوموں،برادریوں،زبان و رنگ و نسل میں بھی تقسیم کر دیا گیا ہے جو کہ امت میں مزید انتشار کا سبب بن گیا ہے، اور افسوس ایک ہم ہیں کہ پھر بھی ہمیں ہوش نہیں آرہا کہ ہم لوگوں کی جہالتوں کو سمجھیں اور حق :::قرآن و حدیث::: کو اپنا کر اپنا امام و خلیفہ قائم کریں کہ جس کی قیادت میں امت کو متحد کرنے کی کوشش کریں۔لوگوں کو سمجھائیں کہ اسلام میں ہم سب ہررنگ و نسل کے آپس میں بھائی بھائی ہیں وطن پرستی تو اسلام میں ہے ہی نہیں ہے کہ ساری زمین مسلمانوں کا وطن ہے رہ گئی قوم اور برادری تو یہ اللہ نے پہچان کے لیے بنائیں ہیں نہ کہ فخر و غرور کے لیے اور نہ ہی فرقہ بندی کے لیے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ حق بات کرنے اور حق بات کو قبول کرنے کی ہمت و طاقت دے آمین
|
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
عاصم بھائی اجمالا آپ کے جوابکامطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ آئیڈیل ازم سے کم پر راضی نہیں ہیں.................. آپ نےبالکل بجا فرمایا ہے کہ یہ سب اقدامات ایک امیر کے ماتحت ہونے چاہیں..............لیکن بات پھر گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے کہ آج جبکہ ہمیں 56 ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے تو اسی طرح ہم مسلکوں سے بھی نچلی سطح پر بھی بٹے ہوئے ہیں................ایسے میں ہر گروہ اول تو اس ساری بات کو ہی تسلیم نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو ہر کوئی اپنا اپنا خلیفہ لے آئے گا جیسا کہ حزب التحریر اور 2،3 دوسری جماعات اس وقت بی اپنے اپنے خلافاء رکھتی ہیں اور ان کی بیعت ہیں................ فائدہ؟؟؟؟؟؟؟//کچھ بھی نہیں ............ جاری ہے |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ سے گزارش ہے کہ باقی ۲۔۳ اور جماعتوں کے خلفاء کا بھی بتادیں۔شکریہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
دیکھیں بھائی میں عملی بات کرنے کا قائل ہوں:::
ابھی سب سے پہلے کیا یوں کریں کہ ایک قریشی ہاشمی خلیفہ ڈھونڈ کر بیعت کریں یا نئے سرے سے کوئی اہل آدمی دیکھ کر خود ہی اسے اس منصب پر فائز کر دیں............ یاپھر کیا کریں؟؟؟؟؟؟؟؟ یاد رہے کہ پہلے سے کئی خلیفہ اس وقت موجود ہیں اور یہ بھی حدیث ہے کہ ایک کی موجودگی میں دوسرا نہیں ہو سکتا............ اب بتائیں کہ کیا کریں؟؟؟؟؟؟؟؟؟میں محض بحث برائے بحث نہیں کرنا چاہ رہا بلکہ چاند والے مسئلےکی طرح آپ کو احساس دلا رہاہوں کہ یہ سب عملا ممکن نہیں ہے........... والسلام |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-04-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() ![]() ![]() اس کا مطلب کہ ان لوگوں کی بات سچ ہے جو کہتے ہیں کہ ۱۴۰۰ سال پرانہ دین اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ ٹھیک ہے میں کوشش کرونگا کہ آپ کے سوال کہ یہ اب سب کیسے ممکن ہے اس کا جواب دے سکوں۔ ان شاءاللہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
عاصم صاحب، سلام۔
چند سوالات: 1۔ خلیفہ کا انتخاب کیسے ہوگا؟ 2۔ کیا خلیفہ اکیلا قانون سازی کرے گا یا اسکے ساتھ کوئی جماعت ہوگی؟ 3۔ اس قانون ساز جماعت کا انتخاب کیسے ہوگا؟ 4۔ کیا خلیفہ اکیلا عدالت لگائے گا یا ایک جماعت ہوگی؟ 5۔ اگر عدل نافڈ کرنے والی جماعت ہوگی تو اس جماعت کا انتخاب کیسے ہوگا؟ قرآن حکیم کی صریح آٰیات کی مدد سے جوابات دیجئے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
حاکمیت میں وحدت:
حاکمیت میں وحدت اس بات کی طرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اللہ ، خالق، مالک اورحقیقی رب ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں حکومت کرنے کا حق اور سارے جہاں پر تصرف رکھتا ہے۔وہ اس حکومت کرنے کے حق کو اس زمین پر اپنے نبی اور ولی کو دے سکتا ہے اور یوں خدا کی پیروی میں نبی اور ولی بھی جہان میں تصرف اور امر و نہی کا حق رکھتے ہیں۔ النبِی ا ولیٰ بِالمؤمِنین مِن ا نفسِہِم وا زواجہ ا مہاتہم وأ ولوا الا رحامِ بعضہم ا ولیٰ بِبعضٍ فی کِتابِ اللہِ مِن المؤمِنین و المہٰجِرین ا ِلّا ان تفعلوا ِلیٰ ا ولِیائکِم معروفاً کان ذالکِ فِی الکِتابِ مسطوراً (الاحزاب6) نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے یا یہا الذین آمنوا طیعوا اللہ و طیعوا الرسول و أولِی الامرِ مِنکم فأِن تنازعتم فی شی ئٍ فردوہ ِلیَ اللہِ و الرسولِ اِن کنتم تؤمِنون بِاللہِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر و أحسن تأویلا (النسائ٥٩) (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا) ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو بھی اللہ کے علاوہ دوسروں پر حکومت کرنے اور دوسروں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دینے کا حق نہیں ہے۔ ۔ قرآن میں اللہ کی صفات میں سے ایک صفت خلیفہ کا انتخاب ہے۔ و اِذ قال ربّک لِلملائکة اِِ ِنِّی جاعِل فِی الارضِ خلیفة قالوا ا تجعل فیہا من یفسِد فیہا و یسفکِ الدِماء و نحن نسبِح بحمدک و نقدِس لک قال ا ِنِّی ا علم ما لا تعلمون (البقرہ ٣٠) (اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فسادپھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟جب کہ ہم تیری ثنا کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)یا داوودا ِنا جعلنٰک خلیفة فِی الارضِ فاحکم بین الناسِ بِالحقِ و لا تتبِعِ الہویٰ فیضِلک عن سبیلِ اللہِ اِن الذین یضِلون عن سبیلِ اللہِ لہم عذاب شدید بِما نسوا یوم الحِسابِ (ص٢٦) (اے داؤد!ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا لوگوںمیں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا ) ام یحسدون الناس علیٰ ما آتاہم اللہ مِن فضلِہِ فقد آتینا آل ِبراہیم الکِتاب و الحِکمة و آتیناہم ملکاً عظیماً (نسائ٥٤) (کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟(اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں عظیم سلطنت عنایت کی ) و جعلناہم ائِمة یہدون باِمرِنا و واحینا اِلیہِم فِعل الخیراتِ وا ِقام الصلاةِ وا یتاء الزکوةاِ وکانوا لنا عابِدین (انبیائ٧٣) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے نیک عمل کی انجام دہی اور قیام نماز اور ادائیگی زکواة کے لیے ان کی طرف وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے ) و نریدا ن نمن علی الذین استضعِفوا فِی الارضِ و نجعلہم ا ئِمة و نجعلہم الوارِثین ( قصص٥) ّ(اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں ) فہزموہم باِِذنِ اللہِ و قتل داوود جالوت و ء اتاہ اللہ الملک و الحکِمة و علمہ مِما یشاء و لو لا دفع اللہِ الناس بعضہم بِبعض لفسدتِ الارض و لکِن اللہ ذو فضل علی العالمین (بقرة ٢٥١) (چنانچہ اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھا دیا اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا، لیکن اہل عالم پر اللہ کا بڑا فضل ہے ) قال ربِ اغفِر لی و ہب لی ملکاً لا ینبغی لاِحد مِن بعدی اِنک ا نت الوہاب (ص٣٥) (کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو، یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے ) مندرجہ بالا اور دوسری آیتوں میں خلیفہ کا انتخاب کرنا اللہ کے اوصاف میں ایک وصف شمارکیا گیا ہے۔ اور لوگوں کے ذریعہ خلیفہ کو منتخب کیے جانے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اللہ اپنے علم سے یہ جانتا ہے کہ انسانوں کے لیے کیا صحیح ہے اور کون اس کی اس دنیا میں جانشینی اور دین خدا کو زمین پر نافذ کرنے کی شرائط رکھتا ہے۔ ان شرائط میں معصوم ہونا، اعلم اور افضل ہونا شامل ہیں اور صاف ظاہر یہ کہ یہ اوصاف کسی بھی شخص میں اگر موجود ہوں تو یہ اس کے باطن میں موجود ہوں گی اور ان اوصاف کو پھر وہی پہچان سکتا ہے کہ جو خود تمام حقیقتوں کا عالم ہو۔ کس طرح لوگ ان اوصاف کو پہچان سکتے ہیں جبکہ وہ خود صرف ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی نگاہ سطحی ہے اور یہ سطحی نگاہ بہت آرام سے فریب کار افراد سے دھوکہ بھی کھا جاتی ہے۔ امامت جو کہ اِس زمین پر خدا کی خلافت ہے اور امام کا مشن انسانوں کے درمیان خدا اور اس کے دین کی حاکمیت کوقائم کرنا ہے۔ امامت اور امام کا انتخاب خدا کے کاموں میں سے ایک کام ہے کہ وہ بلند ترین معیار کے مطابق اپنا نمائندہ اور خلیفہ اس سرزمین پر منتخب کرے اور اس انتخاب میں عام لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اور ان پر فرض ہے کہ خدا کے انتخاب کیے ہوئے ایسے معصوم اور الہی انسانوں کی اطاعت کریں۔ بس اللہ کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کی مضبوط عقلی اور نقلی دونوںدلیلیں موجود ہیں اور یہ بات کہ اللہ اوراسکے رسول(ص) نے یہ اقدام عام لوگوں پر چھوڑ دیا تھا وہ کہ اپنے لیے خلیفہ خود منتخب کرلیں عقلی اور نقلی دلیل سے عاری ہے۔ اس طرح کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے کہ یہ سوچیں کہ وہ کس طرح وہ عام لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرنے کے قابل ہیں جبکہ اسکے خلاف شیعوں کے پاس عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پہلی, پہلے, پسند, یوم, نام, آج, ایمان, اللہ, اتنی, بہترین, بدل, حکم, حامل, حدیث, خود, دیکھا, سیاست, طور, عبادت, عرض, عظیم, صالح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیالکوٹ: دو بھائیوں کی ہلاکت کیخلاف شہریوں کا احتجاج، ریسکیو دفتر پر حملہ | گلاب خان | خبریں | 5 | 28-08-10 10:49 PM |
| روتے ہوے بہن بھائیوں کو عید مبارک کیسے کہیں | شاہ جی 90 | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 12 | 02-12-09 10:18 AM |
| گرا ھوں یوں کہ جیسے شاخ سے اک زرد پتہ | The Great | شعر و شاعری | 0 | 09-08-08 07:42 PM |