| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 228
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (01-11-09), یاسر عمران مرزا (31-10-09), راجہ اکرام (31-10-09), سیلانی (04-11-09), سحر (31-10-09), عامرشہزاد (31-10-09) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ایک سوال ہے
عورت کا ستر اگر پورا جسم ہے جس میں اس کے بال بھی شامل ہیں ۔ تو کیا محرم مردوں کے سامنے یعنی بھائیوں ، باپ ،اور بیٹے کے سامنے بال بھی چھپانے ہوتے ہیں ۔ اور عورت کو تو پوری چادر اوڑھ کر گھر میں بھی رہنا ہوگا ۔ تو گھر کے اندر اور باہر میں کیا فرق ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ذیادہ تر گھر ایسے ہوتے ہیں جن میں ساس ، سسر ساتھ رہتے ہیں ، سسر اگرچہ محرم ہیں لیکن پردہ ان سے بھی ہے یعنی پورا جسم اور بال کو چھپانا تو عورت اپنے شوہر کے لیے زینت کہاں کرے گی ۔ تو اپنے شوہر کے لیے زینت کرنے کے لیے تو عورت کو ایک الگ گھر دیا جانا چاہیے جہاں نہ سسر ساتھ رہیں اور نہ ہی اس عورت کے جوان بیٹے ۔ تب ہی عورت اپنے گھر میں بغیر پردے کے رہ سکتی ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
برادرم گوندل بہت ہی اچھی شیئرنگ ہے۔۔ اس اہم موضوع پر ایک اچھی تحریر و تحقیق ہے البتہ سحر بہنا کے سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بارے میں بھی اگر کچھ معلومات مل جائیں تو ہمارے لئے مفید ہوگا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ سحر!
آپ نے جو سوالات پیش کیے ہیں وہ بہت اہم ہیں، محرم لوگوں کے سامنے اللہ نے عورت کو زینتیں ظاہر کرنے کی رعایت دی ہے۔ اور اس رخصت ہی سے یہ بات واضح ہے کہ وہ ظاہر کی جانے والی زینت کیا چیز ہو سکتی ہے۔ستر کے لیے لمبی چوڑی چادر کا ہونا ضروری نہیں،کسی سکارف یا اس سے ملتی جلتی چیز سے سر ڈھانپا جا سکتا ہے۔ مقصد تو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کل ہمارے ہاں رائج مشترک خاندانی نظام کو اسلام نے ہمارے لیے لازم نہیں کیا۔ یہ مخصوص قبائلی یا علاقائی کلچر ہے۔ اسلام نے میاں اور بیوی کی پرائیویٹ زندگی کو تحفظ دیا ہے۔ تو پرائوسی کے تحفظ کے ساتھ اگر مشترک خاندانی نظام جاری رہے تو اس میں کوئ ہر ج بھی بظاہر محسوس نہیں ہوتا۔ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عورت اپنے محرم مردوں سے پردہ نہیں کرے گی ۔ اورعورت کا محرم وہ ہے جس سے اس کا نکاح قرابت داری کی وجہ سے ہیشہ کے لیے حرام ہو ( مثلا باپ دادا اور اس سے بھی اوپر والے ، بیٹا پوتا اوران کی نسل ، چچا ، ماموں ، بھائي ، بھتیجا ، بھانجا ) یا پھر رضاعت کے سبب سے نکاح حرام ہو ( مثلا رضاعی بھائي ، اوررضاعی باپ ) یا پھر مصاہرت ( شادی ) کی وجہ سے نکاح حرام ہو جائے ( مثلا والدہ کا خاوند ، سسر ، اگرچہ اس سے بھی اوپر والی نسل کے ہوں ، اورخاوند کا بیٹا اور اس کی نسل ) ۔ ذیل میں ہم سائلہ کے سامنے یہ موضوع بالتفصیل پیش کرتے ہیں : نسبی محرم : نسبی طور پر عورت کے محرم کی تفصیل کا بیان سورۃ النور کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان ہے : فرمان باری تعالی ہے : { اوراپنی زینت کوظاہر نہ کریں سوائے اس کےجوظاہر ہے ، اوراپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ، اوراپنی زیب وآرائش کوکسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکرمردوں سے جوشہوت والے نہ ہوں ، یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہيں ۔۔۔ } النور ( 31 )۔ مفسرین حضرات کا کہنا ہے کہ نسب کی بنا پرعورت کے لیے جو محرم اشخاص ہيں اس کی صراحت اس آیت میں بیان ہوئي ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں : اول : آباءو اجداد ۔ یعنی عورتوں کے والدین کے آباء اوراوپرکی نسل مثلا والد ، دادا ، نانا اوراس کا والد اوران سے اوپر والی نسل ، اورسسر اس میں شامل نہیں کیونکہ وہ محرم مصاہرت میں شامل ہے نہ کہ نسبی میں ہم اسے آگے بیان کریں گے ۔ دوم : بیٹے : یعنی عورتوں کے بیٹے جس میں بیٹے ، پوتے ، اوراسی طرح دھوتے یعنی بیٹی کے بیٹے اوران کی نسل ، اورآیت کریمہ میں جو ( خاوند کے بیٹوں ) کا ذکر ہے وہ خاوند کی دوسری بیوی کے بیٹے ہیں جوکہ محرم مصاھرت میں شامل ہے ، اوراسی طرح سسر بھی محرم مصاھرت میں شامل ہے نہ کہ محرم نسبی میں ہم اسے بھی آگے چل کربیان کريں گے ۔ سوم : عورتوں کے بھائي ۔ چاہے وہ سگے بھائي ہوں یا پھر والد کی طرف سے یا والدہ کی طرف سے ہوں ۔ چہارم : بھانجے اوربھتیجے یعنی بھائي اوربہن کے بیٹے اوران کی نسلیں ۔ پنجم : چچا اور ماموں : یہ دونوں بھی نسبی محرم میں سے ہیں ان کا آيت میں ذکر نہیں اس لیے کہ انہیں والدین کا قائم مقام رکھا گیا ہے ، اور لوگوں میں بھی والدین کی جگہ پر شمار ہوتے ہیں ، اوربعض اوقات چچا کو بھی والد کہا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : { کیا تم یعقوب ( علیہ السلام ) کی موت کے وقت موجود تھے ؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اورآپ کے آباء واجداد ابراہیم اوراسماعیل ، اوراسحاق ( علیھم السلام ) کے معبود کی جومعبود ایک ہی ہے اورہم اسی کے فرمانبردار رہيں گے } البقرۃ ( 133 ) ۔ اوراسماعیل علیہ السلام تو یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے چچا تھے ۔ دیکھیں تفسیر الرازی ( 23 / 206 ) تفسیر القرطبی ( 12 / 232 – 233 ) تفسیر الآلوسی ( 18 / 143 ) فتح البیان فی مقاصد القرآن تالیف نواب صدیق حسن خان ( 6 / 352 ) ۔ رضاعت کی بنا پر محرم : عورت کے لیے رضاعت کی وجہ سے بھی محرم بن جاتے ہیں ، تفسیر الآلوسی میں ہے : ( جس طرح نسبی محرم کے سامنے عورت کے لیے پردہ نہ کرنا مباح ہے اسی طرح رضاعت کی وجہ سے محرم بننے والے شخص کے سامنے بھی اس کے لیے پردہ نہ کرنا مباح ہے ،اسی اس طرح عورت کے لیے اس کے رضاعی بھائي اور والد سےبھی پردہ نہ کرنا جائز ہے ) دیکھیں تفسیر الآلوسی ( 18 / 143 ) ۔ اس لیے کہ رضاعت کی وجہ سے محرم ہونا بھی نسبی محرم کی طرح ہی ہے جوکہ ابدی طور پر نکاح حرام کردیتا ہے ۔ امام جصاص رحمہ اللہ تعالی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے : ( جب اللہ تعالی نے آباء کے ساتھ ان محارم کا ذکر کیا جن سے ان کا نکاح ابدی طور پرحرام ہے ، جوکہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جوبھی اس طرح کی حرمت والا ہوگا اس کا حکم بھی یہی حکم ہے مثلا عورت کی ماں ، اوررضاعی محرم وغیرہ ) دیکھیں احکام القرآن للجصاص ( 3 / 317 ) ۔ اورسنت نبویہ شریفہ میں بھی اس کی دلیل ملتی ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( رضاعت بھی وہی حرام کرتی ہے جو نسب کرتا ہے ) تو اس کا معنی یہ ہوا کہ جس طرح عورت کے نسبی محرم ہوں گے اسی طرح رضاعت کے سبب سے بھی محرم ہوں گے ۔ صحیح بخاری میں مندرجہ ذيل حدیث وارد ہے : ام المؤمنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ : ( ابوقعیس کے بھائي افلح نےپردہ نازل ہونے کےبعد آ کر اندر آنے کی اجازت طلب کی جوکہ ان کا رضاعی چچا تھا تومیں نے اجازت دینے سے انکار کردیا ، اورجب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو میں نے جوکچھ کیا تھا انہيں بتایا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اسے اپنے پاس آنے کی اجازت دے دوں ) صحیح بخاری مع الفتح الباری لابن حجر ( 9 / 150 ) ۔ امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس حدیث کو راویت کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہيں : عروۃ رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نے انہیں بتایا کہ ان کے رضاعی چچا جس کا نام افلح تھا نے میرے پاس اندرآنے کی اجازت طلب کی تومیں نے انہيں اجازت نہ دی ، اور پردہ کرلیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارہ میں بتایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے پردہ نہ کرو ، اس لیے کہ رضاعت سے بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جونسب کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے ۔ دیکھیں صحیح مسلم بشرح نووی ( 10 / 22 ) ۔ عورت کے رضاعی محرم بھی اس کے نسبی محرم کی طرح ہی ہیں : فقھاء کرام نے جوکچھ قرآن مجید اورسنت نبویہ سے ثابت ہے پر عمل کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی ہے کہ عورت کے رضاعی محرم بھی اس کے نسبی محرم کی طرح ہی ہیں ، لھذا اس کے لیے رضاعی محرم کے سامنے زینت کی چيزیں ظاہر کرنا جائز ہیں جس طرح کہ نسبی محرم کے سامنے کرنا جائز ہے ، اوران کے لیے بھی عورت کے بدن کی وہ جگہیں دیکھنی حلال ہيں جونسبی محرم کے لیے دیکھنی حلال ہيں ۔ مصاھرت کی وجہ سے محرم : ( یعنی نکاح کی وجہ سے ) عورت کے لیے مصاھرت کے محرم وہ ہیں جن کا اس سے نکاح ابدی طور پر حرام ہو جاتا ہے ، مثلا ، والد کی بیوی ، بیٹے کی بیوی ، ساس یعنی بیوی کی والدہ ۔ دیکھیں : شرح المنتھی ( 3 / 7 ) ۔ تو اس طرح والد کی بیوی کے لیے محرم مصاھرت وہ بیٹا ہوگا جو اس کی دوسری بیوی سے ہو ، اوربہو یعنی بیٹے کی بیوی کے لیے اس کا باپ یعنی سسر ہوگا ، اورساس یعنی بیوی کی ماں کے لیے خاوند یعنی داماد محرم ہوگا ۔ اللہ عزوجل نے سورۃ النور کی مندرجہ ذيل آیت میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے : { اور اپنی زیب و آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں سے جو شہوت والے نہ ہوں ، ایا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہيں ۔۔۔ } النور ( 31 ) تو اس میں سسر اورخاوند کے بیٹے عورت کے لیےمصاھرت کی وجہ سے محرم ہیں ، اوراللہ تعالی نے انہيں ان کے باپوں اوربیٹوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اورانہيں حکم میں بھی برابر قرار دیا ہے کہ ان سے پردہ نہیں کیا جائے گا ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 6 / 555 ) ۔ واللہ اعلم
__________________
|
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | گوندل (02-11-09) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پردہ، حجاب،, پسند, وائرس, قید, قرآن, لوگ, نظر, موجودہ, مجید, معاشرہ, اہل بیت, ایمان, اجنبی, بچوں, تلاش, حدیث, خواتین, خدا, دعا, راستہ, شاعری, طلاق, عورت, عقل, صحابہ, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|