واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۔۔۔ حُکم، فضیلت اور آداب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-03-09, 01:41 PM   #1
امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۔۔۔ حُکم، فضیلت اور آداب
احمد غزنوی احمد غزنوی آف لائن ہے 31-03-09, 01:41 PM

الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ و بعد۔

بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا شریعتِ اسلامیہ کے اہم واجبات میں سے ہے اور اس کی اہمیت سے کوئی صاحبِ فہم و ادراک انکار نہیں کرسکتا۔ "بھلائی" میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ "معروف" ایسا جامع لفظ ہے جس میں نیکی اور بھلائی کے تمام تر امور کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ ہر محمود و باعثِ اجر و ثواب عمل اس میں داخل ہے۔ اسی طرح "منکر" کا لفظ بھی تمام برائیوں کیلئے جامع ہے۔ اس میں ہر وہ کام داخل ہے جو شرعاً ممنوع اور معاشرے میں فتنہ و فساد کا باعث ہو۔ آئندہ سطور میں دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں اس کے وجوب و اہمیت سے متعلق کچھ تفصیل فراہم کرنے کی کوشش جائے گی ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بیان قرآن کریم میں:

اعـوذ بـالله مـن الشـيطـان الـرجـيم
بـســم الله الرحــمن الـرحـــيم

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ترجمہ: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔
(آل عمران:104)
اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگوں کو اس راہ کی طرف بلائے اور اس کے دین کی رہنمائی کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کاربند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں اور انہیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں۔"
(تفسیر السعدی)

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے ہی پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو۔
(آل عمران آیت 110 کا ابتدائی حصہ)

اللہ تعالی اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے۔ اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کیلئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔"
(تفسیر السعدی)

لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
ترجمہ: ان کے اکثر مصلحتی مشورے بے خیر ہیں، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے۔ اور جو شخص صرف اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔
(النساء:114)


دو جلیل القدر پیغمبروں کی زبانی بنی اسرائیل پر لعنت کا سبب:
بنی اسرائیل میں سے ایک طائفے پر دو جلیل القدر پیغمبروں، حضرت داوُد اور حضرت عیسی علیہما السلام کی زبانی لعنت کی گئی۔ اور اُس جماعت کے جرم جو قرآن مجید میں بیان کیا گیا، وہ یہ تھا کہ یہ برائی کے کاموں سے ایک دوسرے کو روکا نہیں کرتے تھے:
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (78) كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (79)
ترجمہ: بنی اسرائیل کے کافروں پر (حضرت) داود اور (حضرت) عیسی بن مریم (علیہما السلام) کی زبانی لعنت کی گئی۔ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے۔ جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت بُرا تھا۔
(المائدہ:78،79)


امر بالمعروف کا حکم نبئی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو:
ایک مقام پر اللہ سبحانہ و تعالی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں خطاب ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
ترجمہ: آپدرگزر کو اختیار کریں، نیک کام کا امر کریں اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجائیں۔
(الاعراف:199)

اور یہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی انبیاء و مرسلین نے کی اور اسی کی بجا آوری کیلئے کتابیں نازل ہوئیں۔ ہمارے پیارے، اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس فریضہ کو بحسن و بخوبی بجا لائے اور اس کی خبر اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید میں یوں دی:

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
ترجمہ: جو لوگ ایسے رسول نبیِ امی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں۔۔۔۔
(الاعراف آیت 157 کا ابتدائی حصہ)


منافقین کی صفات:
اس آیت میں منافقین کی صفات کے بیان میں اُن کی اِس بُرائی کا تذکرہ سب سے پہلے ہے کہ وہ بُرائی کا حکم دینے والے اور بھلائی سے روکنے والے ہوتے ہیں:
الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (67)
ترجمہ: تمام منافق مرد و عورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ بے شک منافق ہی فاسق و بدکردار ہیں۔
(التوبۃ:67)


مومنوں کی صفات:
اس کے برعکس مومنوں کی صفات میں یہ صفتِ امر و نہی بیان فرمائی گئی:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (71)

ترجمہ: مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور) دوست ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بُرائیوں سے روکتے ہیں ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجالاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی بہت جلد رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
(التوبۃ:71)

ایک اور مقام پر اس کا بیان یوں ہے:
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ترجمہ: (وہ ایسے ہیں جو) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، (راہ حق میں) سفر کرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔
(التوبہ:112)

سورۃ الحج میں اپنے نیک بندوں کے متعلق اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:
الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآَتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جمادیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔
(الحج:41)


عذاب سے نجات کا ذریعہ
جب تک امر بالمعروف و نہی عنِ المنکر کا کسی بستی میں اہتمام رہے، اللہ سبحانہ و تعالی اس بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں فرماتے:
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
ترجمہ: آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں۔
(ہود:117)



حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت:

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
ترجمہ: اے میرے بیٹے! تُو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا۔ بے شک یہ (بڑی) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
(لقمان: 17)


احادیثِ مبارکہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بیان


1:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلافِ شرع) کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی۔ (دل میں اس کو بُرا جانے اور اس سے بیزار ہو) اور یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم، کتاب الایمان)

2: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جو نبی بھی بھیجا اس کی امت میں اس کے حواری اور ساتھی تھے جو اس کی سنت پر عمل اور اس کے حکم کی اقتدا کرتے تھے، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو ایسی باتیں کہتے جو وہ کرتے نہیں تھے اور وہ ایسے کام کرتے تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پس جو شخص اپنے ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہے اور جو شخص اپنے دل سے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہے اور جو شخص اپنی زبان سے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہے اور اس کے بعد تو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔''
(مسلم)

3: حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔'' صحابہ نے کہا: "اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے وہاں بیٹھے بغیر چارہ نہیں، ہم وہاں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر تم نے وہاں ضرور ہی بیٹھنا ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔'' انہوں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟" آپ نے فرمایا: ''نگاہوں کو پست رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔''
(متفق علیہ)

4: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم ضرور اچھائی کا حکم کرو گے اور بُرائی سے روکو گے، ورنہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔ پھر تم اس کو پکارو گے (لیکن) وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔
(صحیح مسلم)

اس حدیث سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ دعاؤں کی عدم قبولیت کا ایک سبب امر بالمعروف و نہی عنِ المنکر سے غفلت برتنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

5: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔'' ایک آدمی نے کہا: "اے اللہ کے رسول! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں لیکن یہ بتائیں کہ اگر وہ ظالم ہو تو پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟" آپ نے فرمایا: ''تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی اس کی مدد کرنا ہے۔''
(رواہ البخاری)

6: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، پس جس شخص نے اللہ اکبر کہا، الحمد للہ کہا، لا الہ الا اللہ کہا، سبحان اللہ کہا، استغفر اللہ کہا، لوگوں کے راستے سے کسی پتھر ،کسی کانٹے یا کسی ہڈی کو دور کردیا، یا نیکی کا حکم دیا، یا کسی برائی سے منع کیا اور اس نے تین سو ساٹھ مذکورہ کام کیے تو وہ اس روز اس حال میں شام کرتا ہے کہ اس نے اپنے نفس کو جہنم کی آگ سے بچا لیا ہوتا ہے۔''
(متفق علیہ)

7: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صبح کو ایک صدقہ ہے، پس ہر تسبیح (سبحان اللہ) کہنا صدقہ ہے ہر حمد (الحمد للہ) کہنا صدقہ ہے، ہر تہلیل (لا الہ الااللہ) کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیر (اللہ اکبر) کہنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب سے وہ دو رکعتیں کافی ہوجاتی ہیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھے۔''
(مسلم)

8: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ "۔۔۔۔۔۔ نیکی کاحکم کرنا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے ۔۔۔"
(اختصار کے پیشِ نظر پوری روایت نقل نہیں کی گئی)
(مسلم)

9: غزوۂ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علم (جھنڈا) عطا فرماتے ہوئے منجملہ دیگر ارشادات کے یہ بھی فرمایا کہ "اللہ کی قسم، تمہارے ذریعے اللہ تعالی ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے، تو یہ تمہارے لئے سُرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔"
(بخاری)

10: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (بیعت عقبہ ثانی کے موقع پر) ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ سے کس بات پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اس بات پر کہ چستی اور سستی ہر حال میں بات سنو گے اور مانو گے، تنگی اور خوشحالی ہر حال میں مال خرچ کرو گے، بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوگے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرو گے۔ اور جب میں تمہارے پاس آجاؤں گا تو میری مدد کرو گے اور جس چیز سے اپنی جان اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو اس سے میری بھی حفاظت کرو گے۔ اور تمہارے لیے جنت ہے۔"
(رواہ احمد باسناد حسن)

11: حضرت ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دین خیر خواہی کرنے کا نام ہے۔'' ہم نے کہا: "کس کی خیر خواہی اے اللہ کے رسول؟" آپ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔''
(مسلم)


اللہ کے عذاب کا سبب
جب ایک معاشرہ اس حال تک پہنچ جائے، کہ اس میں ایک شخص سرِ عام گناہ کر رہا ہو اور ناظرین میں سے نہ اسے (حسبِ استطاعت ہاتھ یا زبان سے) کوئی روکنے والا ہو، نہ اُس کے اِس فعل کو کم از کم دل ہی میں بُرا جاننے والا ہو، تو یہ درحقیقت اُس معاشرے کی تباہی کی اطلاع و ابتدا ہے اور ایسے میں آفات و مصائب کا نزول صد فیصد متوقع ہے۔ جیسا کہ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اطلاع دی ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:

12: "یقیناً اللہ تعالی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا، یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اس سے نہ روکیں، جب ایسا ہونے لگے تو اللہ کا عذاب عام اور خاص سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
(مسند الامام احمد ج 5 ص 388)

13: ایک موقع پر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ارشاد فرمایا: "اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے نوجوان بدکار ہوجائیں گے، اور تمہاری لڑکیاں اور عورتیں تمام حدود پھلانگ جائیں گی"، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوگا؟" فرمایا "ہاں اور اس سے بڑھ کر، اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب نہ تم بھلائی کا حکم کرو گے، نہ برائی سے منع کرو گے۔" صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوگا؟" فرمایا "ہاں اور اس سے بھی بدتر، اس وقت تم پر کیا گزرے گی؟ جب تم برائی کو بھلائی اور بھلائی کو برائی سمجھنے لگو گے۔"
(مسند ابی یعلی)

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے:
14: جو قوم گناہوں میں مبتلا ہوجائے اور ان میں اسے روکنے کی قدرت والے بھی موجود ہوں اور وہ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ جل شانہ ان سب کو اپنی طرف سے عذاب میں مبتلا کردیں۔
(رواہ الترمذی و قال حسن صحیح)

15: حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بنی اسرائیل میں جو پہلا نقص داخل ہوا وہ یہ تھا کہ اگر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے ملاقات کرتا تو اسے کہتا: "اے شخص! اللہ سے ڈرو اور جو (برا) کام تو کرتا ہے اسے چھوڑ دے، اس لیے کہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں،" پھر وہ اسے کل ملتا تو وہ اپنی اسی حالت پر ہوتا تو پھر اس کی یہ حالت اسے اس کا ہم نوالہ، ہم پیالہ اور ہم مجلس بننے سے نہ روکتی۔ (یعنی یہ بھی اسی طرح ہوجاتا) جب انہوں نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک جیسا کردیا۔'' پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ''بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی لعنت کی گئی، یہ اس سبب سے جو انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرنے والے تھے، وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے، یقیناً بہت برا ہے جو وہ کرتے تھے۔ تم اکثر لوگوں کو دیکھو گے کہ یہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ البتہ برا ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا'' آپ نے (فاسِقون) تک تلاوت فرمائی، پھر فرمایا: ''ہرگز نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور تم ضرور ظالم کے ہاتھ کو پکڑو، تم ان کوزبردستی حق کی طرف موڑو اور ان کو حق پر مجبور اور پابند رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کے دلوں کو ایک جیسا کردے گا، پھر تم پر لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی۔''

(ابوداؤد، ترمذی۔ امام ترمذی نے کہا کہ حدیث حسن ہے) یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔ اور ترمذی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو ان کے علماء نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے پھر وہ (عالم) بھی ان کی مجلسوں میں بیٹھنے لگ گئے، ان کے ساتھ کھانے پینے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک جیسا کردیا اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنت فرمائی۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرنے والے تھے۔'' پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سیدھے) بیٹھ گئے جب کہ (پہلے) آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا:'' نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (تمہاری نجات نہیں) حتیٰ کہ تم انہیں حق کی طرف موڑو۔''
(أخرجہ أبوداؤد (4336) و الترمذی (3047) و ابن ماجہ و فی اسنادہ ضعف)

16: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: "اے ثعلبہ! اچھائی کا حکم کرو اور برائی سے روکو۔ جب دیکھو کہ کنجوسی کی روش جاری ہوچکی ہے اور خواہشات کی پیروی ہورہی ہے اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے پر اِترا رہا ہے تو تم اپنے آپ کو بچاؤ اور عوام سے دور ہوجاؤ۔ تمہارے پیچھے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہوں گے، تمہارے عقیدہ و عمل کو اپنانے والوں کیلئے تم میں سے پچاس آدمیوں کی طرح ثواب ملے گا۔ پوچھا گیا "اے اللہ کے رسول! کیا پچاس انہی میں سے؟" فرمایا "نہیں، بلکہ تم میں سے۔ کیونکہ (آج) نیکی کرنے میں معاون دستیاب ہیں، جو ان کو دستیاب نہیں ہوں گے۔ (اللہ اکبر)
(سنن ابی داود، سنن ابنِ ماجہ و سنن الترمذی و حسنہ)


ایک تمثیل
حدیث مبارکہ میں ایک خوبصورت تمثیل کے ذریعے وضاحت کی گئی ہے کہ معاشرے کی بقا کیلئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا قیام کتنا ضروری ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
17: "اللہ کی حدوں میں مداہنت (نرمی اور درگزر) کرنے والوں اور حدوں کے توڑنے والے کی مثال اس قوم کی سی ہے جنہوں نے ایک (دو منزلہ) کشتی میں سفر کرنے کیلئے قرعہ اندازی کی، بعض کے حصے میں بالائی منزل اور بعض کے حصے میں نچلی منزل آئی، نچلی منزل والے پانی لینے کیلئے بالائی منزل پر آتے اور بالا نشینوں کے پاس سے گزرتے تو وہ تکلیف محسوس کرتے، چنانچہ نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑ کر کشتی میں سوراخ کرنا شروع کردیا تاکہ نیچے سے ہی پانی لے لیں اور اوپر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سوراخ کرنے کی آواز سن کر اوپر والے آئے اور پوچھا: "تم یہ کیا کررہے ہو؟" انہوں نے کہا "ہم پانی لینے اوپر جاتے ہیں تو تم ناگواری محسوس کرتے ہو، چنانچہ ہم نیچے ہی سوراخ کرنے لگے ہیں، کیونکہ پانی کے بغیر تو چارہ نہیں" (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اگر وہ (اوپر کی منزل والے) اسی وقت ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور سوراخ سے روک دیں تو وہ سوراخ کرنے والوں کو بھی بچالیں گے اور خود کو بھی بچالیں گے اور اگر وہ ان کو اپنے حال ہی پر چھوڑ دیں گے تو ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور خود کو بھی ہلاک کرلیں گے"۔
(صحیح البخاری، الشہادات، باب القرعۃ فی المشکلات، و کتاب الشرکۃ، باب ہل یقرع فی القسمۃ)


قرآن مجید میں ایک قوم کا قصہ:

وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (163)وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (164) فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (165)فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ (166)
ترجمہ: اور آپ ان لوگوں (یہود) سے ان بستی والوں کا جو کہ دریا کے کنارے آباد تھے اس وقت کا حال پوچھیے جب کہ وہ ہفتے (کے دن) کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔ اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کیلئے اور اس لئے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔ سو جب وہ اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچالیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔ یعنی جب وہ، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔
(الاعراف آیات 163 تا 166)

ان آیات میں بنی اسرائیل کی جس قوم کا تذکرہ کیا گیا ہے، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ان کی بابت نقل کیا ہے کہ یہ قوم "ایلہ" نامی ایک بستی میں آباد تھی، یہ مدین اور کوہ طور کے درمیان بحر قلزم کے ساحل پر واقع تھی۔ (اس بستی کے نام و تعین میں کچھ اختلاف ہے تاہم جو قول نقل کیا ہے اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے) انہیں ہفتے کے دن شکار کی ممانعت تھی، لیکن ان کی آزمائش کیلئے حکمتِ الہی سے اس دن مچھلیاں ہفتے کے باقی دنوں کی بنسبت سمندر میں بکثرت نظر آتیں۔ ان لوگوں نے یہ حیلہ کیا کہ گڑھے کھود لیے جن میں ہفتے کے دن مچھلیاں آتیں تو پھنس جاتیں، پھر یہ دوسرے دنوں میں انہیں پکڑ لیتے۔

اس واقعہ کی تفسیر میں بڑے لطیف نکات ہیں۔ مذکورہ بستی میں لوگ تین حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے اس برے فعل کا ارتکاب کیا۔ دوسری جماعت ان صالحین کی تھی جو اپنی قوم کو اس فعل سے باز رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ تیسری جماعت ان لوگوں کی تھی جو اس فعل کے مرتکب بھی نہیں تھے لیکن یہ اپنی قوم کی اصلاح سے مایوس ہوگئے تھے۔ اور انہی کے قول کا قرآن مجید میں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے اُن ساتھیوں سے، جو اپنی قوم کے لوگوں کو اس فعل سے منع کرتے تھے، کہا کہ "تم کیوں ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا سخت سزا دینے والا ہے؟" اس پر صالحین کی جماعت کا جواب آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان کے قول کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ "ہم اس لیے ان لوگوں کو برے کام سے منع کرتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرسکیں، کہ ہم نے تو ان لوگوں کو روکا تھا۔ اور معصیتِ الہی کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی (حسبِ استطاعت) کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے، جس پر اللہ تعالی کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ باز آجائیں۔" نتیجتاً ان لوگوں کو تو بچالیا گیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے۔ اور نافرمانوں کو مسخ کرکے بندر بنادیا گیا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے نہ تو اس فعل کا ارتکاب کیا نہ نافرمانوں کو منع کیا، ان کے بارے میں مفسرین کے ہاں اختلاف ہے۔ کہ آیا یہ بھی نجات یافتگان میں سے تھے۔ یا عذاب کا شکار ہوئے۔ حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کی فضیلت:
1: تفسیر ابن کثیر میں روایت ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: "اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے کس کو قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب دیا جائے گا؟" فرمایا: "وہ شخص جس نے نبی کو قتل کیا، یا (ایسے شخص کو قتل کیا) جو نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآَيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (21) أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
ترجمہ: جو لوگ اللہ تعالی کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کرڈالتے ہیں، تو (اے نبی) انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے۔ ان کے اعمال دنیا و آخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔
(آل عمران: 21،22)

انصاف سے یہاں مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے۔ (تفسیر السعدی) یہاں ان لوگوں کا انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ تذکرہ فرمایا گیا جو ان کی عظمت و فضیلت کی دلیل ہے۔

2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: "اے اللہ کے رسول! کون سب سے زیادہ متقی ہے؟" فرمایا: "نیکی کا حکم دینے والا، برائی سے روکنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا" او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الادب)


چند عقلی دلائل:
1: تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ اگر بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو وہ جسم میں پھیل جاتی ہے اور پھر اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح برائی کو اگر ابتدا ہی میں ختم نہ کیا جائے اور اسے معاشرے میں پھیلنے دیا جائے اور چھوٹے بڑے اس کے عادی ہوجائیں تو پھر اسے مٹانا اور اس کا ازالہ مشکل ہوجاتا ہے اور بالآخر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے، یہ قانونِ ایزدی ہے جس میں کوئی تغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:


سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا
ترجمہ: (یہ) اللہ کا قانون ہے جو (پہلی قوموں میں) گزر چکا ہے، اور تُو قانونِ الہی میں ہرگز تبدیلی نہ پائے گا۔
(سورۃ الفتح آیت 23)


2: یہ بھی مشاہدہ ہے کہ اگر کسی مکان کی صفائی نہ کی جائے اور اس میں سے کوڑا کرکٹ دور نہ پھینکا جائے تو کچھ عرصہ بعد وہ جگہ رہائش کے قابل نہیں رہتی، اس کی ہوا متعفن اور زہر آلود ہوجاتی ہے اور اس میں وبائی جراثیم کی خوب پرورش ہوتی ہے۔ کیونکہ میل کچیل اور غلاظتوں کی کثرت و بہتات کا یہی لازمی نتیجہ ہے۔


اسی طرح اگر اسلامی معاشرہ میں برائی کو پنپنے دیا جائے اور اچھائی کا پرچار معدوم ہوجائے تو کچھ مدت بعد لوگ گندے اور شریر النفس بن جائیں گے۔ اچھائی و برائی کا امتیاز مٹ جائے گا اور پھر اس زمین پر انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ چنانچہ مختلف اسباب و ذرائع سے اللہ سبحانہ و تعالی انہیں برباد کردیں گے۔


ارشادِ باری تعالی ہے: إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
ترجمہ: تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ (سورۃ البروج آیت 12)


اور فرمایا: وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ
ترجمہ: اور اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا۔ (سورۃ آل عمران آیت 4)


3: یہ بات بھی تجربہ سے ثابت ہے کہ انسانی نفوس جب قبیح اور خراب چیزوں کے عادی ہوجائیں تو وہ انہیں اچھی لگتی ہیں۔ جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیا جائے تو لوگ اچھے کام چھوڑ دیتے ہیں اور برے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برائی عام ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کی عادات اور بتقاضائے بشری وہ برائی محسوس نہیں ہوتی، بلکہ الٹا اسے اچھائی اور عمدہ بات سمجھ لیا جاتا ہے اور یہی بصیرت کا ختم ہونا اور یہی فکری مسخ ہے۔ (العیاذ باللہ)


اسی بنا پر اللہ سبحانہ و تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو مسلمانوں پر لازم قرار دیا ہے کہ یہ انسانی معاشرہ کی پاکیزگی اور درستگی کا باعث ہے اور اقوام و ملل کے عز و شرف کا محافظ بھی۔


(مندرجہ بالا عقلی دلائل کتاب "منہاج المسلم" ص 121، 122 سے لیے گئے، مؤلفِ کتاب "شیخ ابوبکر جابر الجزائری" ہیں)



آدابِ امر و نہی:
1: داعی یہ جانتا ہو کہ جس بات کا وہ حکم دے رہا ہے، وہ شریعت میں معروف اور نیکی ہے۔ اسی طرح وہ برائی کی حقیقت بھی سمجھتا ہو، جس سے منع کرتا ہے اور جسے مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ نیز وہ کام واقعتاً شریعت میں گناہ ہو اور اسے حرام قرار دیا گیا ہو۔


2: اصلاح کرنے والا جس بات سے منع کررہا ہو، خود بھی اس پر عامل ہو اور اس کے قریب نہ جائے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ

ترجمہ: اے ایمان والو! کیوں وہ بات کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی ناراضگی کا باعث ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔
(الصف: 2،3)


نیز فرمانِ الہی ہے:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
(البقرۃ: 44)


3: ایک مبلغ کو اچھے اخلاق کا مالک ہونا چاہیے، جو نرمی کے ساتھ حکم کرے اور منع کرے، اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں شدت و تکلیف پہنچے تو دل میں محسوس نہ کرے اور نہ ہی غصے کا اظہار کرے، بلکہ اس بارے میں درگزر، عفو اور اعراض سے کام لے۔


ارشادِ عالی ہے:
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِترجمہ: اور اچھائی کا حکم دے، برائی سے منع کر اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
(لقمان: 17)


4: برے کام جاننے کیلئے لوگوں کی جاسوسی نہ کرے۔ یہ بات غیر مناسب ہے کہ منکرات کی دریافت کیلئے لوگوں کے گھروں میں جھانکتے پھریں، یا کسی کا کپڑا اٹھا کر دیکھیں کہ اندر کیا ہے اور برتن کا ڈھکنا اٹھاتے پھریں کہ برتن میں کیا ہے۔ بلکہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لوگوں کے عیوب چھپانے کا بھی حکم فرمایا ہے۔ قرآن پاک میں ہے:
وَلَا تَجَسَّسُوا
ترجمہ: اور تم خفیہ انداز سے ٹوہ نہ لگاؤ۔
(الحجرات: 12)


اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاسوسی نہ کرو"
(صحیح بخاری)


نیز فرمایا: "جو شخص ایک مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالی آخرت میں اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔"


5: مبلغ جسے وعظ و تبلیغ کرنا چاہتا ہے، اسے نیکی اور برائی کی پہلے پہچان کرائے، اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ نیکی اور برائی کو پہچانتا ہی نہ ہو، جبھی تو وہ اس کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس لئے اولاً برائی اور نیکی کی ضروری وضاحت کرنی چاہیے۔


6: اچھائی کے حکم اور برائی سے منع کرنے کے بعد بھی اگر وہ نیکی پر عمل نہیں کرتا اور برائی والا برائی نہیں چھوڑتا تو شریعت کے مطابق ترغیب و ترہیب سے کام لے۔ اگر پھر بھی وہ تعمیل سے گریزاں ہے تو ڈانٹ اور سختی اپنائی جائے، اگر اس طرح بھی کام نہیں چلتا تو حکومت یا برادران اسلام کا تعاون حاصل کیا جائے۔


7: اگر اپنے ہاتھ اور زبان سے برائی کو ختم نہ کرسکے کہ اس صورت میں اسے اپنی جان و مال اور عزت کے ضائع ہونے کا ڈر ہے اور وہ مصائب پر صبر کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر دل سے ہی اس کو برا جانے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو تم میں سے برا کام دیکھے، اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے۔ ورنہ دل سے ضرور بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے"۔ (صحیح مسلم)


(آدابِ امر و نہی "منہاج المسلم" سے لیے گئے، صفحات 122، 123)



دوسروں کو نصیحت کرنے اور خود عمل پیرا نہ ہونے پر وارد وعیدیں:اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

''کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اورخود اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پس کیا تم نہیں سمجھتے؟ ''
(البقرة :44)

ایک اور مقام پر فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
''اے ایمان والو!تم وہ بات کیوں کہتے ہو۔ جو تم کرتے نہیں ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بات بڑی ناراضی والی ہے کہ تم وہ باتیں کہو جو تم نہ کرو'' (الصف:2،3)


حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ قول بھی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں نقل فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:
وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ''میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں جس چیز سے روکتا ہوں میں خود وہ کرکے تمہاری مخالفت کروں'' (سورة ھود:88)


وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآَيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ

ترجمہ: "جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے گا، ہم زمین سے ان کیلئے ایک جانور نکالیں جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پریقین نہیں کرتے تھے"۔
(النمل آیت 82)


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ فرمایا: "جب نیکی کا حکم نہیں کیا جائے گا اور برائی سے نہیں روکا جائے گا (تب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے گا۔ اور دابۃ الارض کا خروج ہوگا۔)"۔
(مصنف ابن ابی شیبہ)


حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''ایک شخص کو روز قیامت لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیاجائے گا، اس کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ ان کو لے کر اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی پر چکر لگاتا ہے۔ اتنے میں جہنمی اس کے پاس جمع ہوجائیں گے اور کہیں گے "اے فلاں! تجھے کیا ہوا؟ کیا تم نیکی کا حکم نہیں کرتے تھے اور برائی سے نہیں روکتے تھے؟" وہ کہے گا: "ہاں! یقیناً میں نیکی کا حکم تو کرتا تھا۔ لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا۔ اور برائی سے (دوسروں کو) منع تو کرتا تھا۔ لیکن خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔''
(متفق علیہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

اِن صواباً فمن اللہ تبارک و تعالی۔ و اِن خطاءً فمن نفسی والشیطان۔ واللہ اعلم۔ وصلی اللہ و سلم و بارک علی نبینا محمد۔

 
احمد غزنوی's Avatar
احمد غزنوی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
شکریہ: 111
25 مراسلہ میں 79 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 225
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (31-03-09), عبداللہ حیدر (31-03-09)
پرانا 31-03-09, 02:59 PM   #2
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,182
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


ماشا اللہ، سبحان اللہ

آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
آپ کا بہت بہت شکریہ
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
color, ٹیک, پہچان, پاک, نظر, منافقین, مجید, معاشرہ, ایمان, بہترین, بچوں, جرم, حواری, حدیث, دیکھو, دوست, دریافت, دعا, عیسیٰ, عورت, علی, عبادت, صحیح, صحابہ, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger