واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


::::::: انانیت ، اور عبادات کی بے ثمری کا عِلاج :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-10-10, 11:10 PM   #1
::::::: انانیت ، اور عبادات کی بے ثمری کا عِلاج :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 13-10-10, 11:10 PM

::::::: انانیت ، اور عبادات کی بے ثمری کا عِلاج :::::::
بسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ،بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :::لوگوں کی اکثریت مختلف اوقات میں یہ سوال کرتی ہے کہ اس کا کیا سبب ہے کہ وہ اللہ کی عِبادت میں کوئی لذت نہیں پاتے ؟ جبکہ وہ اس کی بہت کوشش کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی عِبادت میں خشوع و خضوع برقرار رکھیں اور اس کی لذت اور فوائد حاصل کر سکیں ، اور اس کی بھی بہت کوشش کرتے رہتے ہیں کہ دورانء عِبادت اُن کے خیالات اور شعور اللہ کی طرف ہی متوجہ رہیں ، لیکن انہیں ایسا میسر نہیں ہوتا ، اور اُن کے خیالات اِدھر اُدھر بھاگتے رہتے ہیں؟؟؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ :
ایسا ہونے کے بنیادی اسباب میں ایک سبب انسان کو ملنے والی نعمتیں ہیں ، جی ہاں ، حیران مت ہوں ،
مال ، صحت ،عِلم وعِرفان، اہل و عیال ، اور ایسی دیگر نعمتیں جو اللہ تعالیٰ کسی بندے کو دیتا ہے اور ان نعمتوں کے حصول کےلیے اور ان کو برقرار رکھنے ، اور ان میں اضافے کے لیے اس بندے کو کچھ خاص محنت بھی نہیں کرنا پڑتی ، زندگی کے معاملات میں اس بندے کو معمولی سی محنت سے کامیابیاں ملتی رہتی ہیں ، یہ سب اللہ کی نعمتیں ہی تو ہیں ، اور یہ نعمتیں ہی بسا اوقات بندے اور اللہ کے درمیان حجاب بن جاتی ہیں ، کہ ان نعمتوں کی موجودگی میں بندہ خود کو خوب اچھا اور توانا سمجھتا ہے ، کامیاب اور خوش قسمت سمجھتا ہے ، اسے اپنی حقیقی کمزوری اور غربت کا احساس نہیں رہتا ، پس اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ وہ فقیر ہے اور اللہ غنی ہے اور وہ ہر ایک لمحے اللہ کا محتاج ہے ، اسے یہ یاد نہیں ہوتا کہ وہ ایک زرخرید غُلام کی طرح ہے اور اللہ اُس کا مالک ہے ، وہ مخلوق ہے اور اللہ اس کا خالق ہے ، اسے اللہ کی نعمتیں ، اللہ کی نعمتوں کی حیثیت سے یاد نہیں ہوتیں بلکہ انہیں وہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور خود کو طاقتور اور کامیاب سمجھتا ہے اور یہ زعم عکھتا ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے اسے کسی کی نہیں بلکہ دوسروں کو اس کی مدد کی ضرورت رہتی ہے ،
اسی حال میں وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، کبھی اللہ کی عبادت کے لیے ہی بھوک پیاس کاٹتا ہے ، کبھی اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے ، کبھی اللہ کا ذکر کرتا ہے ،لیکن اِن سب عِبادات کے دوران وہ اللہ کے سامنے اپنی کمزوری اور اپنے عجز کا حقیقی ادارک اپنے نفس میں نہیں پاتا ، پس وہ اللہ کی رضا کے لیے تو عبادت کرتا ہے لیکن عِبادت کی اصل اساس خشوع وخضوع اپنے قلب و رُوح میں نہیں پاتا ، ظاہری طور پر وہ ایسی حالت اور ایسی شکل اور ایسی حرکات خود پر مسلط کرتا ہے جو خشوع و خضوع کی علامات ہوتی ہیں ،
لیکن اصل میں خشوع و خضوع نہیں ہوتا ،وہ تو اپنی معاشی ، معاشرتی اور بدنی طاقت کےاطمینان میں ہوتا ہے ، اپنے عِلم و ہنر پر توکل کیے ہوتا ہے ،اپنی ذات پر بھروسہ کیےہوتا ہے ،
اللہ کی یہ نعمتیں اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب بن چکی ہوتی ہیں ، تو کیسے اُس کے دِل میں اپنی کمزوری اور اللہ کی طاقت کا صحیح اور درست تصور آسکتا ہے ، اپنی غریبی اور اللہ کے غنی ہونے کا درست اندازہ ہو سکتا ہے ، اور اپنی محتاجی اور اللہ کے داتا ہونے کا یقین آسکتا ہے ، اور جب تک یہ نہ ہو قلبی و رُوحانی خشوع و خضوع آ ہی نہیں سکتا ، لہذاعِبادات میں کوئی لذت وسکون نہیں ملنے والا ، اور نہ ہی عِبادت کا کوئی فائدہ پاتا ہے ،
::::::: الحمد للہ یہاں تک تو ہم نے عِبادات میں لذت نہ ملنے کا ایک بنیادی سبب بیان کیا ، اب ہم اس کے علاج کے بارے میں کچھ بات کرتے ہیں ان شاء اللہ ،
::::::: اس وھم اور غلط فہمی کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی حقیقت جانے ، پہچانے اور قولا و عملاً ، ظاہراً و باطنا ً مانے کہ کچھ ہی دن پہلے وہ کچھ بھی نہ تھا اُسے عدم سے وجود میں ،غائب سے ظہور میں لانے والا صرف اللہ ہے ، پس وہ ہی اس کا خالق ہے اور جب اس کا حکم ہو گا پھر اُس کے اِس وجود کو معدوم کر دے گا ، اس کے ظہور کو غیاب کر دے گا ، اور پھر اسے حاضر کرے گا اور اس کے ہر ایک قول و عمل کا حساب لے گا ، اور ہر بندے کو اس کے عمل کے مطابق جزا و سزا دے گا ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
(((((هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا::: یقیناً انسان پر ایسا وقت تھا کہ وہ کوئی قابل ذِکر چیز نہ تھا ))))) سورت الانسان/آیت 1،
(((((وَهُوَ الَّذِي أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ:::اور وہ (اللہ) ہی ہے جس نے تُم لوگوں کو زندہ کیا پھر تُم لوگوں کو موت دے گا پھر تُم لوگوں کو زندہ کرے گا(لیکن)بے شک انسان نا شکر گذار ہے)))))سورت الحج /آیت66،
(((((لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ::: تا کہ اللہ ہر جان کو اُس کی کمائی کے مطابق جزاء دے دے بے شک اللہ بہت تیزی سے حساب کرنے والا ہے))))) سورت اِبراہیم /آیت
::::::: اور جان اور مان لے کہ وہ ایک کمزور اور عاجزمُخلوق ہے ،اور کمزوری اُس ذات کا لازمی جُز ہے ،
(((((يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الإِنْسَانُ ضَعِيفاً::: اللہ چاہتا ہے کہ تُم لوگوںکا بوجھ ہلکا کرے اور اِنسان کی تخلیق ہی کمزوری پر ہوئی ہے)))))سورت النساء/آیت 28،
::::::: اُس کی ابتداء انتہائی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں ہوئی اور انتہاء بھی اِسی طرح ہونی ہے ، اس کی کمزوری کو قوت میں بدلنے والا اور پھر قوت کو کمزوری میں بدلنے والا صرف اس کا خالق و مالک اللہ ہی ہے ،کسی طاقت کو پا لینا بندے کے بس میں نہیں ، بالکل اُسی طرح جس طرح کہ کسی کمزوری کو خود سے روکے رکھنا اس کے بس میں نہیں،
(((((اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ::: اللہ وہ ہے جِس نے تُم لوگوں کو کمزوری میں سے تخلیق فرمایا اور پھر اُس کمزوری کے بعد قوت دی ، اور پھر اُس قوت کے بعد کمزوری دی اور بوڑھا کر دیا ، اللہ کو چاہتا ہے تخلیق فرماتا ہے اور وہ بے عیب مکمل عِلم رکھتا ہے اور زبردست قُدرت رکھتا ہے))))) سورت الروم /آیت 54،
::::::: اور جان اور مان لے کہ اُس کے پاس جو عِلم ہے اللہ کی دین ہے ، اُس کے پاس جو مال ہے اللہ کی دین ہے ، اس کے پاس جو اہل و عیال ہیں اللہ کی دین ہیں ، غرضیکہ جو کچھ اس کے پاس ہے اللہ کی عطاء ہے اور جب چاہے اللہ وہ سب واپس لے سکتا ہے ،
(((((وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ::: اور اللہ نے تُمہاری جانوں میں سے ہی تُمہارے جوڑے بنائے اور تُمہارے جوڑے میں سے تُمارے لیے بیٹے اور پوتے بنائے اور تُم لوگوں کو پاکیزہ چیزیں رزق کِیں )))))سورت النحل /آیت 72،
(((((وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْوَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًاإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ :::اور اللہ نے تم لوگوں کی تخلیق فرمائی اور پھر وہی تُم لوگ کو موت دیتا ہے اور تُم میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بہت خراب عُمر تک پہنچایا جاتا ہے ،تا کہ بہت کچھ عِلم رکھنے کے بعد ہر چیز سے لا عِلم ہوجائے ، بے شک اللہ بہت زیادہ یقینی عِلم رکھنے والا زبردست قدرت والا ہے))))) سورت النحل /آیت 70،
::::::: اور جان اور مان لے کہ وہ اللہ کی عطا کے بغیر بے لباس ہے ، فقیر ہے ، رُسوا ہے ، جاھل ہے ، مریض ہے ، کمزور ہے ، بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، بے سکون ہے ، بے آرام ہے ، اس کے پاس جو کچھ بھی لباس ہے ، مال ہے ، عِزت ہے، عِلم ہے ، صحت ہے ، قوت ہے، کھانا ہے ، پینے کا سامان ہے ، سکون ہے، آرام ہے ، سب اللہ کا دیا ہوا ہے ، اور صرف اللہ کی مشیئت سے دیا گیا ہے ، اُس کی اپنی کسی خوبی کی بنا پر نہیں ،لہذا وہ ہر ایک چیز کے لیے اللہ کا محتاج ہے ، اُس کی مشیئت سے ملنے والی چیزوں کو اُس کی رضا کے ساتھ حاصل کرنے میں ہی بندے کی خیر ہے ،
::::::: خود پر اللہ کی نعمتیں جاننے کے لیے ، اپنی حقیقت اور اپنی ذات کی حیثیت کو پہچاننے کے لیے ،غور و فِکر کے عِلاوہ کچھ ایسے کام بھی کرتے رہنا چاہیں جواس غور و فِکر کی طرف مائل رکھنے بلکہ اس کے مطلوبہ نتائج پر جلدی پہنچ کر اُن پر قائم رہنے میں بہت مددگار ہیں اِن شاء اللہ ، مثلاً :::
::::::: غریب و نادار لوگوں سے ملنا اور ان کے ساتھ وقت کچھ گذارنا ،
::::::: مریض ، اپاہج اور کمزور لوگوں سے ملنا اور ان کے ساتھ کچھ وقت گذارنا ،
::::::: قبرستان اور قبروں کو دیکھنے جایا جائے ، دیکھنے کی بات ہو رہی ہے کسی خاص قسم کی زیارت یا وہاں جا کر کوئی عبادت یا چلہ کشی کرنے کی نہیں ، کہ پہلا کام جائز اورمطلوب ہے اور دوسرا کام ناجائز ہے ،
جب بندہ اپنے بارے میں ان حقائق کو جانے گا ، مانے گا ، تو اسے یقین ہوگا کہ وہ انتہائی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں پیدا ہو ا، اور کیا کیا کچھ بھی طاقت و قوت پا لے پھر بھی اپنی پیدائش کے وقت سے کہیں زیادہ کمزوری اور بے بسی کی حالت میں واپس جانا ہے ، اُس کے پاس جس نے یہ سب کچھ دیا ، تو اس کے ذہن میں یہ خوف بھی ہو گا کہ کہیں میرا مالک و خالق مجھ سے ناراض ہو کر یہ سب نعمتیں واپس ہی نہ لے لے ، اور یہ فِکر بھی جاگزیں رہے گی کہ میں اپنے مالک و خالق کے سامنے کیا لے کر جا ؤں گا ؟
جب بندہ اس مُقام پر پہنچے گا تو اس کی انانیت ختم ہو جائے گی ، اُسے اپنی حقیقت اور اپنے ملک و خالق کی عظمت سمجھ آ چکی ہو گی تو پھر جب وہ اپنے رب کی عِبادت کرے گا تو اس میں وہ خشوع و خضوع موجود ہو گا جس کی بنا پر اللہ اُس کی عبادت کو اس کے لیے پُرلذت و پر سکون بنا دے گا ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 166
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sjk (20-10-10), فیصل ناصر (11-12-10), ارشد کمبوہ (04-12-10), ضِرار Derar (04-12-10)
پرانا 13-10-10, 11:26 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-12-10), ارشد کمبوہ (04-12-10), ضِرار Derar (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 09:04 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Talking

عادل صاحب
ٹایٹل چینج کرو جناب
کسی کو اس بیماری کا علاج نہیں چاہیے
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (04-12-10)
جواب

Tags
color, green, کوشش, پیاسا, مکمل, موت, اللہ, انسان, جواب, حکم, حال, خوش, زندگی, طاقتور, علاج, عبادت, عدم, عظمت, غلط, غنی, غریبی, غربت, صحیح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger