واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-10-10, 07:41 AM   #1
تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے
کنعان کنعان آن لائن ہے 21-10-10, 07:41 AM


" تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے "


شیخ عبدالعزیز بن باز کے فرزند شیخ احمد عبدالعزیز بن باز


نمازوں کے لئے مجبورکرنا کیا جائز ہے؟

شیخ احمد نے محکمہ امر بالمعروف کو چیلنج کیا ہے کہ وہ شریعت سے اس بات کا ثبوت پیش کریں جس کے ذریعے (بازار اور آفس زبردستی بند کروا کر) وہ عوام کو مخصوص وقت میں ہی نماز پڑھنے کا پابند کرتے ہیں۔ شیخ احمد کہتے ہیں کہ نماز کیلئے لوگوں کو تلقین کرنا ایک اچھی بات ہے تاکہ لوگ غفلت سے خبردار رہیں۔ لیکن پہلے تو یہ مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں پر زبردستی کی جائے اور نماز اُسی وقت پر نہ پڑھنے والوں کو سزا دی جائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں نے سات سال کے عرصے میں امر بالمعروف والوں کو کئی بار تحریری طور پر توجہ دلائی یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہیکہ مجھ پر ٹکراؤ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایسا کر کے امربالمعروف کے بعض لوگ لوگوں کی عزت اور آزادی کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہر موقع پر زیر بحث آنا چاہیے۔ تیسری بات یہ ہیکہ مجھ پر شہرت پسندی کا الزام دراصل ایسا تیار حربہ ہے جسکے ذریعے وہ اُن حقیقی مسائل اور نظریات کو نظر انداز کر ڈالتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چوتھی بات یہ ہیکہ یہ مسائل آج تک حل نہیں کئے گئے شاید اسلئے کہ ان پر ابھی تک کسی نے توجہ نہیں دلائی۔


فتویٰ وحی نہیں ہوتا

شیخ احمد بن باز پران کے والد کے فتوؤں کے خلاف رائے دینے کا الزام ہے ۔ اس الزام کو انہوں نے ردّ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدِ مرحوم کے فتوے مخصوص حالات اور وقت کے تقاضے کے مطابق تھے۔ کسی بھی چیز کو اس کی حقیقت یا حقیقی واقعہ کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ چونکہ ہر واقعہ وقتی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت، وقت ماحول اور افراد کے ساتھ ہی بدل جاتی ہے اس لئے حالات بدلتے ہی فتوے بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔

امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) کے ایک ہی عنوان پر نو مختلف فتوے موجود ہیں۔ امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) کے بھی ایک ہی چیز کے بارے میں نئے اور پرانے مختلف فتوے موجود ہیں اور دوسرے اماموں کے ایسے کئی فتوے موجود ہیں جو ایک ہی مسئلہ پر ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے مختلف ہیں
اورکئی ائمہ سلف نے اپنی راے سے رجوع بھی کیا ہے۔ لہذا حالات کی نوعیت کے ساتھ ہی فتوے کا اطلاق بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ خود میرے والد کے ایک ہی مسئلہ پر دو مختلف نئی اور پرانی رائیں موجود ہیں جیسے کے ٹیلیویژن کے بارے میں انہوں نے پہلے یہ فتویٰ دیا کہ یہ حرام ہے، بعد میں رائے بدلی اور یہ فتوی دیا کہ ٹی-وی ایک مشین کی طرح ہے جس کا حلال یا حرام ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ میرے والد کے وہ فتوے جن میں اختلاف ہے کسی مخصوص شخص اور مخصوص حالات یا مخصوص اسباب کی روشنی میں تھے جو ضروری نہیں کہ وہی کسی دوسرے شخص کیلئے قابل اتباع ہوں۔ان فتوؤں کو عمومی قرار نہیں دیا جا سکتا۔


کیا ہر غیر مسلم کافر ہے؟

لفظ کافر کو عمومی طور پر ہر اہل کتاب کیلئے استعمال کرنا غلط ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اہلِ کتاب کو کافر نہیں قرار دیا گیا۔ کافر اس شخص کیلئے لاگو ہوتا ہے جس کو اسلام کی حقیقت پہنچا دی جائے اور وہ سچ کو پانے کے بعد بھی ردّ کردے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج دنیا کو واقعی وہی اسلام پہنچ رہا ہے جو حقیقتاً اسلام ہے یا اس کی مسخ شدہ شکل پہنچ رہی ہے؟


عورتوں کا کار چلانا

جہاں تک عورتوں کے کار چلانے کا تعلق ہے میرے والد نے جس وقت اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا تھا اُس وقت کے حالات اور تھے آج وہ حالات نہیں رہے۔ آج اس فتوے پر پھر سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ جس وقت اسے حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات شاید بہت سارے لوگوں کے علم میں نہیں ہیں۔ 1990ء کا وہ دور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ نازک دور تھا۔ صدام کے کویت پر قبضے اور امریکی فوجوں کی خلیج میں آمد نے ایک غیر یقینی تشویشناک صورت حال سے دوچار کر دیا تھا۔ اور ٹیلیویژن بھی اسی زمانے میں غیر معمولی ترقی کر رہا تھا۔ ایسے پیچیدہ حالات میں اچانک کچھ عورتوں کا سڑک پر کار چلا کر احتجاج کرنا ایک اچنبھے میں ڈالنے والی حرکت تھی۔ اپنے مسائل کو پیش کرنے اور احتجاج کرنے کا یہ نیا طریقہ غیر اخلاقی اور نا قابل قبول تھا اور ہماری سماجی اقدار کے خلاف بھی ۔ ایسے وقت میں جبکہ سیاسی صورت حال دھماکو تھی اور جنگ سر پر منڈلا رہی تھی ، بم کے خوف سے لوگوں میں ماسک تقسیم کئے جارہے تھے، یہ اندیشہ بڑھتا جارہا تھا کہ کہیں ایک خارجی دشمن کی وجہہ سے ہم لوگ داخلی طور پر تقسیم نہ ہو جائیں ایسے وقت میں بے شمار ایسے لوگ بھی دارالافتاء پر احتجاج کیلئے جمع ہو گئے تھے جن کو متوع کہتے ہیں۔ اس وقت دارالافتاء کے اندر چند علماء تھے جن میں میرے والد بھی تھے۔ ایسے وقت میں میرے والد عبدالعزیز بن باز نے عورت کا کار چلانا حرام قرار دیا ۔ اس فتوے کو ان حالات کے پس منظر کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔


فتوؤں کا کھیل

آج کل فتوؤں کا دنیا میں ایک کھیل بن گیا ہے جس پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اسلاف کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نہ تو وہ اس قدر سوالات کیا کرتے تھے اور نہ اس طرح فتوے دیا کرتے تھے۔ یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے فتوؤں کو کھیل بنا دیا ہے۔ ہر شخص نے انفرادی طور پر فتوے دینا شروع کر دیا ہے۔ کچھ فروعی مسائل ایسے ہیں جن کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے اور ان کی حیثیت ایسے فرض یا واجب کی طرح کر دی گئی ہے جن کو تبدیل کیا ہی نہیں جا سکتا حالانکہ انکی حیثیت فروعی ہے جن پر علماء کا مدت دراز سے اختلاف ہے۔ جن مسائل پر آج ہم کثرت سے گفتگو کرتے ہیں ان مسائل کی اکثریت اسی قسم کے فروعی مسائل سے ہے جن کو اتنی ہی اہمیت یا وزن دینا چاہیے جو ان کی واقعتاً ہے۔


کیا آج تجدید فقہ کی ضرورت ہے؟

جی ہاں! آج ضرورت ہے ایسے مدارس کی جہاں شریعت کے وسیع ترمقاصد کی تکمیل کیلئے فقہی تحقیق کی ضرورت ہے۔ جہاں مسائل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔


مذہبی شدّت پسندی

آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے دینی اور فقہی عقائد پر انتہا پسندی پر اُترآئے ہیں۔ دوسروں پر اپنا اصول مسلّط کرنا چاہتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا آج بھی وہی ہے جوآج سے ساٹھ ستّر سال پہلے تھی۔ اصلاح اور دعوت کے کام کیلئے افہام و تفہیم کے راستے کھولنے اور ذہن و دل کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ تحمل اور ضبط کے بغیر یہ کام نہیں ہوگا ۔ یہ سعی کئی قربانیاں اور وقت چاہتی ہے۔ ان امور پر توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے جو اہمیت کے اعتبار سے زیادہ اہم ہیں۔ (شیخ احمد یہ تمام باتیں اس سوال کے جواب میں کہہ رہے تھے کہ: کیا ان مسائل پر بھی فتوے دینا ضروری ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے محض رحم کی بنیاد پر ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا، یعنی کئی ایسے مسائل جن پر شریعت نے تو خاموشی اختیار کی لیکن لوگوں نے ان پر حلال و حرام کی بحث شروع کر دی)۔


لوگ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں

شیخ احمد کی جن لوگوں نے کردارکشی کرنے کی کوشش کی ، ان کا نام یا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ : “ اصل مسائل پر توجہ دلانے والے پر باغی ، آزاد اور سیکولر وغیرہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن یہ طئے ہے کہ کوئی تبدیلی اور ریفارم قیمت دئیے بغیر نہیں آتی۔ جو ریفارم کیلئے اُٹھے اُسے یہ تہمتیں اور الزامات قیمت کے طور پرسہنے ہی ہیں۔ اور جو لوگ ایسے الزامات دھرتے ہیں وہ سطحی عقل کے لوگ ہوتے ہیں۔ نہ اُن کا تعلیمی معیار ہوتا ہے اور نہ ان میں اتنی ذہانت ہوتی ہے کہ وہ تعمیری تنقید کے عمل کو سیکھیں اور برتیں۔ اور نہ ان میں افہام و تفہیم کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسلئے یہ لوگ اختلاف الرائے رکھنے والے کی فوری طور پر کافر ، باغی ، ایجنٹ وغیرہ کی درجہ بندی کر دیتے ہیں اور اس طرح کی اصطلاحات تراش لیتے ہیں۔ یہ بہت پرانی روش ہے۔ لیکن آج حالات بدل رہے ہیں اب لوگ پڑھتے بھی ہیں اور گفتگو بھی کرتے ہیں ہیں۔ اندھی تقلید کرنے کی روش اب بدل رہی ہے۔


دار الکفر اور دار الاسلام کی بحث

سعودی عرب ہی کے ایک عالم نے شیخ احمد بن عبدالعزیز بن باز کے 2003ء میں شائع شدہ الشرق الاوسط کے ایک مضمون کے جواب میں اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مذہب اور سیکولرزم کے نازک فرق کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ لکھا کہ :
” جسطرح رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں مشرکین کی حکومت رہی اور مسلمانوں کو ان کے دین کی دعوت کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ اسی طرح کی جہاں بھی ایسی ریاست جس میں شرک اور کفر کی حکومت ہوگی وہ دارالکفر کہلائے گا اور موصوف نے لکھا تھا کہ دارالکفر یا دارالاسلام محض اصطلاحات نہیں بلکہ نص سے ثابت ہیں”۔

اس کے جواب میں شیخ احمد بن باز نے کہا کہ” دارالاسلام یا دارالکفر کی درجہ بندی دراصل ایسی اصطلاحات ہیں جو اجتہادی ہیں ۔ جن لوگوں نے بھی ان اصطلاحات کو رائج کیا وہ ان کی ذاتی سوچ و فکر یا ذاتی رائے ہے۔ آج کے عہد میں ان فقہی اصطلاحات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت صدیاں گزرجانے کے بعد آج بھی ہم کئی ایسے خیالات اور اصطلاحات کو برت رہے ہیں جن کا نہ قرآن سے کوئی ثبوت ہے اور نہ وہ آج کے حالات سے کسی قسم کی مطابقت رکھتے ہیں۔ جس دور میں مسلمانوں کی حکومت کو دارالاسلام اور غیر مسلموں کی حکومت کو دارالکفر کہا جاتا تھا آج وہ دور باقی نہیں رہا اب کسی کو دارالاسلام یا دار الکفر قرار دینا مشکل ہے۔ ان اصطلاحات کو اسلئے بھی منطبق نہیں کیا جا سکتا کہ اب حکومت کا تصور الگ ہے۔ اس میں ریاست ، قوم، شہری، مختلف طرزِحکومت ، طریقہ انتخاب ، پارلیمنٹ، مجالس نمائندگان، ملکی اور عالمی تنظیمیں ایک ریاست کے تصور میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر لبنان کو لیجئے جہاں صدر اگرا یک مذہب کا ہو تو وزیر اعظم دوسرے مذہب کا ہوتا ہے۔ اسپیکر تیسرے مذہب کا ہوتا ہے۔ (وہاں مسلمان کرسچین اور یہودی سارے مل کر رہتے ہیں مسلمانوں میں بھی شیعہ سنی بڑی تعداد میں ہیں اس لئے قانون یہ بنا دیا گیا کہ صدر ، وزیراعظم اور اسپیکر مختلف مذاہب کے ہوں گے تا کہ تمام مذاہب کا حکومت کی تشکیل میں برابر کا حصہ رہے)۔ اسلئے اب لبنان کو قدیم اصطلاحات کی بنیاد پر کیا درجہ دیا جائے گا؟ دارالکفر یا دار الاسلام؟۔

آج ہم کو نئی فقہی نظریات کی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے، جوحکومت، قوم، وطن سے وفاداری، عالمی تعلقات اور عالمی تنظیموں کا صحیح تصور پیش کریں، ایسا تصورجسے سماجی، سیاسی اور دانشوری کے زاویہ سے دیکھا جائے۔

آج ہمیں انتفادہ کی ضرورت ہے (جس طرح فلسطینیوں نے میدان کارزار میں انتفادہ کیا اسی طرح کا ) ایسا انتفادہ جو دانشورانہ اور علمی ہو۔ اس کے لئے ورکشاپس، یونیورسٹیوں میں تحقیق اور نئی فقہی تالیف کی ضرورت ہے جس کے ذریعے آج کی تیزی سے تغیر پذیر تہذیبی نشیب و فراز کا جائزہ لیا جائے۔ ہمیشہ کی طرح (پرانی کتابوں اور پرانے اصولوں کو) کاپی پیسٹ نہ کیا جائے جسطرح کہ اسلامی معاشیات کی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ آج کی دنیا نے کئی اہم تہذیبی اورانسانی کارنامے انجام دئیے ہیں ، صنعتی انقلاب سے لے کر آج کے ڈیجیٹل انقلاب تک وہ وہ تبدیلیاں آچکی ہیں جو پہلے ہزاروں سال میں نہیں آئی تھیں۔

ہم کو ایک لمحے کے لئے رک کر سوچنا ہوگا اور کئی چیزوں پر از سرِنو غور کرنا ہوگا،اور ایسے نئے اصول وضوابط وضع کرنے ہونگے جو شریعت کی کسوٹی اور مقصد کی عکاسی کریں۔ ہم محض خاموش تماشائی یا ان ترقیوں کے محض خریدنے والے بن کر نہ رہیں بلکہ آگے بڑھیں اور مستقبل کیلئے خود بھی کچھ اقدام کریں ۔ ہم ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جیتے ہیں ، ہمارے ایجنڈے میں وہی مسائل ہوتے ہیں جو فوری طور پر پیش آتے ہیں (مستقبل کی منصوبہ بندی ہمارے لائحہ عمل میں شامل نہیں ہوتی)۔

شیخ احمد بن باز نے ایک اور اچھی خبر سنائی کہ سعودی عرب کے موجودہ فرمانروا مَلِک عبداللہ بن عبدالعزیز خود ایک تبدیلی اور انقلاب کے خواہاں ہیں اور اس کے لئے انہوں نے انقلابی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ شیخ احمد نے یہ اقرار کیا کہ ان کی دعوتی اور اصلاحی کوششوں میں مَلِک عبداللہ بن عبدالعزیز ہی کی ہمت افزائی کے نتیجے میں اضافہ ہوا ہے۔

بحوالہ سعودی اخبار

بحوالہ پی ڈی ایف

یہ ایک مراسلہ نظر سے گزرا جسے آپکی نظر کر رہا ہوں۔
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 359
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-10-10), فاروق سرورخان (22-10-10), پاکستانی (21-10-10), نورالدین (21-10-10), منتظمین (21-10-10), مرزا عامر (21-10-10), آبی ٹوکول (10-02-11), ابرارحسین (21-10-10), بزم خیال (17-02-11), حیدر Rehan (11-02-11), راجہ اکرام (21-10-10), رضی (21-10-10), شمشاد احمد (21-10-10), عروج (16-02-11)
پرانا 21-10-10, 09:38 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا بہت بہت بہت شکریہ!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-10), نورالدین (21-10-10), مرزا عامر (21-10-10)
پرانا 21-10-10, 01:45 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کنعان بھائی بہت ہی اچھی شیرنگ ہے۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ میرے مطلب کی شیرنگ ہے ۔ بہت بہت شکریہ ۔ اب واقعی تجدید کی ضرورت ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-10-10), کنعان (21-10-10), نورالدین (21-10-10), شمشاد احمد (21-10-10)
پرانا 21-10-10, 01:52 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-10-10), کنعان (21-10-10), مرزا عامر (21-10-10)
پرانا 21-10-10, 07:21 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پورے مضمون کا سب سے پسندیدہ جملہ یہ ہے

تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-10), نورالدین (21-10-10)
پرانا 21-10-10, 08:05 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,142
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قیمت دینے والے الگ اور اس کا پھل کھانے والے الگ۔ کراچی میں دیکھ لیں لسانیت کی تقسیم سے دونوں طرف غریب مر رہے ہیں اور لیڈران خون پر سیاست چمکا رہے ہیں۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-10, 11:04 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سب دعا کیا کیجیے کہ کوٕئی ایسی تبدیلی واقع نہ ہونے پإئے جس کی قیمت ہمارے ایمان ہوں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-10-10), کنعان (11-02-11), مرزا عامر (01-11-10), ابو عبداللہ (11-02-11), ضِرار Derar (06-11-10), عبداللہ آدم (14-02-11), عبداللہ حیدر (01-11-10)
پرانا 11-02-11, 12:43 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مراسلے کا سب سے اچھا جملہ یہ بھی ہوسکتا ہے اگر سمجھیں تو۔ ۔ ۔
آج ہم کو نئی فقہی نظریات کی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے، جوحکومت، قوم، وطن سے وفاداری، عالمی تعلقات اور عالمی تنظیموں کا صحیح تصور پیش کریں، ایسا تصورجسے سماجی، سیاسی اور دانشوری کے زاویہ سے دیکھا جائے۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اس بات پر اگر کسی ملک کی یا ایسی جگہ جہاں ہر فرد کی سوچ یہی ہو مثال دی جائے تو اس جگہ کا نام ’’ایران‘‘ ہے

اور اس بات کا اقرار یا انکار کرنے سے پہلے ایران کو سمجھنا ہوگا اور ایران کے بارے میں جاننا ہوگا
کہ کیا واقعی ایسا ہے ؟؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-02-11, 04:36 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
اس مراسلے کا سب سے اچھا جملہ یہ بھی ہوسکتا ہے اگر سمجھیں تو۔ ۔ ۔
آج ہم کو نئی فقہی نظریات کی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے، جوحکومت، قوم، وطن سے وفاداری، عالمی تعلقات اور عالمی تنظیموں کا صحیح تصور پیش کریں، ایسا تصورجسے سماجی، سیاسی اور دانشوری کے زاویہ سے دیکھا جائے۔
اس بات پر اگر کسی ملک کی یا ایسی جگہ جہاں ہر فرد کی سوچ یہی ہو مثال دی جائے تو اس جگہ کا نام ’’ایران‘‘ ہے

اور اس بات کا اقرار یا انکار کرنے سے پہلے ایران کو سمجھنا ہوگا اور ایران کے بارے میں جاننا ہوگا
کہ کیا واقعی ایسا ہے ؟؟
آپ اسی ایران کی بات کر رہے ہیں نا؟ جہاں نبی پاک ﷺ کے دور میں دی جانے والی اذان بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ! پھر تو واقعی فقہی نظریات کی بڑی صیح تصور پیش کر رہے ہیں ایران والے ۔بس ہماری سمجھدانی ہی کمزور ہے
ہمیں سمجھ ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی صورت میں کتنی بڑی نعمت دے دی ہے اور اس کی اصلاح کیلئے سوچیں ، ہماری نظریں ہمیشہ دوسروں میں ہی اپنا آئیڈیل اور ہیرو تلاش کرتیں رہتی ہیں ۔ جہاں جا کر اگر رہنا پڑ جاے تو دم ہی گھٹ جائے

Last edited by ابرارحسین; 11-02-11 at 04:43 PM.
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-02-11, 09:24 AM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابرارحسین مراسلہ دیکھیں
آپ اسی ایران کی بات کر رہے ہیں نا؟ جہاں نبی پاک ﷺ کے دور میں دی جانے والی اذان بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ! پھر تو واقعی فقہی نظریات کی بڑی صیح تصور پیش کر رہے ہیں ا

""نماز نیند سے بہتر ہے""
یہ جملہ آپ آذان میں صابت کردیں کہ رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کے دور میں تھا تو وہ بھی فجر کی نماز میں یہ جملہ شامل کردیں گئے ۔
شکریہ
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-02-11, 11:53 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی باتیں پڑھنے کو ملیں۔ شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فراز, فرض, کارنامے, کتابوں, وزیر, وزیراعظم, قرآن, نیا طریقہ, مکہ, موجودہ, منصوبہ, مسائل, آج, اللہ, الزام, احتجاج, اسلام, اسلامی, تحریری, جواب, حل, حدیث, خلاف, شخص, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غیرملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں چار کروڑ ڈالر کی کمی عبدالقدوس خبریں 0 24-12-07 04:32 PM
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور خرم شہزاد خرم دیوان غالب 0 17-12-07 08:51 AM
منتقل شدہ: کیا اس فورم غیر ممبر کو ای میل کر سکتے ہیں ؟ کشورناہید گپ شپ 0 24-07-07 03:42 PM
کیا اس فورم غیر ممبر کو ای میل کر سکتے ہیں ؟ رضی الدین قاضی ویب سائٹس کا جائزہ 4 19-07-07 01:02 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger