واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


حجاب کے متعلق آیات قرآنی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 08:41 PM   #1
حجاب کے متعلق آیات قرآنی
کنعان کنعان آن لائن ہے 22-10-09, 08:41 PM

عورت اورحجاب


حجاب کے متعلق آیات قرآنی


(۱)
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ أَزْکٰی لَہُمْ إِنَّ اللہ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوبِہِنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُولِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلاَیَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَتُوْبُوا إِلَی اللہ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔
آپ مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔ اور مومنہ عورتوں سے بھی دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کر یں اوراپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں اوراپنی زیبائش کی جگہوں کو ظاہر نہ کریں سوائے اسکے جو خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں آبا ء شوہر کے آبا ء اپنے بیٹوں، شوہر کے بیٹوں اپنے بھائیوں بھائیوں کے بیٹوں بہنوں کے بیٹوں اپنی ہم صنف عورتوں، اپنی کنیزوں، ایسے خادموں جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں اور ا ن بچوں کے جو عورتوں کی پردے کی بات سے واقف نہ ہوں اور مومن عورتوں کو چاہیے کہ چلتے ہوئے اپنے پاوٴں زور سے نہ رکھیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہوجائے ۔ اور اے مومنو سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو امید ہے کہ تم فلاح پا وٴ گے ۔
(سورہ نور :۳۰،۳۱)



(۲ )
یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَیُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللہ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۔
اے نبی ! اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں یہ امر ان کی شناخت کے
لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا ۔ پھرکوئی انہیں اذیت نہیں دے گا ۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے ۔

(سورہ احزاب :۵۹)



(۳)
وَإِذَا سَأَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ
اور جس وقت وسائل زندگی میں سے کوئی چیز عاریتاً ان رسول کی بیویوں سے طلب کرو درمیان میں پردہ حائل ہونا چاہیے یہ کا م تمہارے اور انکے دلوں کو زیادہ پاک رکھتا ہے۔
( سورہ احزاب :۵۳)


(۴)
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَاتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُوْلَی ۔
اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو
( سورہ احزاب :۳۳)


(۵)
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّ تِیْ لاَیَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ م بِزِیْنَةٍ وَأَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّ وَاللہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔
اور جو عورتیں ضعف السنی کی وجہ سے گھروں میں خانہ نشین ہو گئی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں ان کے لیے اپنے حجاب کے اتار دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں ۔ تاہم عفت کاپاس رکھنا ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے ۔
( سورہ نور:۶۰)


پردہ ہر زمانہ میں شافت و عظمت کی نشانی سمجھا جاتا رہاہے اسلام نے اس کاحکم دے کرایک عورت کی عظمت کی حفاظت کی ہے ۔ پردہ چادر برقعہ دو پٹہ غرضیکہ ایسا کپڑ ا جس سے عورت کا بدن اور اس کے بال نظر نہ آئیں ۔


۱)
حکم ہے کہ نرم لہجہ میں ہنستے ہوئے غیر مردسے بات نہ کریں ۔ ارشاد رب العزت ہوتاہے


فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے اور معمول کے مطابق باتیں کیا کرو
( سورہ احزاب : ۳۲ )


۲)
میک اپ بن سنور کا بازار یا باہر کسی جگہ جانا ممنوع ، زینت صرف شوہر وں کے لیے ہونا چاہیے۔ ہاں محرموں کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں۔


وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ
اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں مگر شوہر وں اور محروں کے لئے
(سورہ نور:۳۱)


۳)
چلتے ہوئے کوئی ایسی علامت نہیں ہونی چاہیے جس سے لوگ متوجہ ہوں مثل پاؤں زور سے مارنا پا زیب یا اس طرح کا زیور جس سے آواز پید اہو پرفیوم عطریات جس سے لوگ خصوصی توجہ شروع کریں ۔
ارشاد رب العزت ہوتاہے



لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ
جس سے پوشیدہ زینت ظاہرہو جائے
(سورہ نور:۳۱)


۴)
ایسی چادر دوپٹہ اوڑھیں جس سے بدن کے اعضا سینہ گردن بال ظاہر نہ ہوں ۔
ارشاد ِرب العزت ہے



وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ
اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش ظاہر نہ ہونے دیں
(نور:۳۱)


۵)ا رشادِ رب العزت ہے


یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ یُعْرَفْنَ
اپنی چادراور اوڑھنی اس طرح ڈالے رکھیں تاکہ ان کی پہچان ہو سکے



۶)
ارشاد رب العزت ہے


فَاسْأَلُوہُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ
عورتوں سے ضرورت کی کوئی چیز طلب کرنا ہو تو پردہ یا دروازے کے پیچھے رہ کر طلب کرو
(احزاب :۵۳)


۷)
بناؤ سنگھار کے ساتھ باہر نکلنا اسلام سے پہلے کا (جاہلیت) طور طریقہ ہے، اسلام کے بعد ایسا کرنا گویا جاہلیت کی طرف پلٹناہے ۔
ارشاد رب العزت ہوتاہے



وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُوْلٰی
قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو
(سورہ احزاب ۳۳)


آخر بحث میں رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا فرمان و سیدہ سلام اللہ علیھا کا جواب

قال رسول اللہ لابنتہ فاطمةعلیھا السلام ایُّ شیء خیر للمرئة قالت ان لا تری رجلا ولا یراھا رجل۔
رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سے پوچھا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کیا عورت مرد کو نہ دیکھے اور مرد اس عورت کونہ دیکھ سکے ۔ عورت کی عظمت سیدہ سلام اللہ علیہا جن کی تعظیم کے لیے رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بنفس نفیس کھڑے ہو جاتے تھے ،اے بیٹی ! جس قدر سیرت زہرا پرعمل ہوگا اسی قدر تیری عزت وعظمت ہوگی ۔

قرآن مجید و ازدواج ازدواج او رنکاح مرد و عورت کے درمیان اتصال۔ جس میں حدود شرعی کو مدنظر رکھتے ہوئے جسمانی وروحانی لذت کا حصول اورنسل انسانی کی بقاء مقصود ہوتی ہے ۔


النکاح سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی

فطری لذت بھی حاصل او رانسانیت کی بقاء بھی موجود ۔ فرمان رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
المحجة البیضاء جلدنمبر ۳ ص۵۴
نکاح میری سنت ہے میری سنت سے روگردانی کرنے والامیرا نہیں ہو سکتا۔ نکاح کا ذکر قرآن مجید میں ۲۴ دفعہ آیا ہے ۔


فطرت انسانی میں مرد بہ عنوان طالب او ر محب او رعورت پھول او رشمع کی حیثیت رکھتی ہے مرد مائل ہو جاتا ہے اورعورت اسکا مقصود بنتی ہے لہذا اسی فطرت کے مطابق خطبہ ازدواج کی خواہش مرد کی طرف سے ہوتی ہے
ناز و نعم میں پروردہ عورت کے لیے افتخار مرد کی بار بار آمد تاکہ قبولیت ہوجائے۔ مرد محبت اور چاہت رکھتا ہے اس بیوی کو اپنے گھر میں لانا چاہتا ہے اوراس شمع سے اپنے گھر کو روشن چاہتا ہے ۔ یہ ہے اظہار۔
محبت اسی میں عورت کا شرف
اورعورت کی عظمت ہے ۔ پھر برات مرد کی طر ف سے جاتی ہے تاکہ عزت کے ساتھ اپنے گھر میں اس عظیم شخصیت اس محبوبہ کو لایا جاسکے تاکہ گھر میں رونق ہو گھرمیں چہل پہل ہو مرد کیلئے سکون واطمینان ہو۔
لیکن جب صیغہ نکاح پڑھا جاتا ہے تو عورت کی طرف سے ابتدا ہوتی ہے انشاء عورت کی طرف سے اور قبول مرد کی طرف سے یہ در حقیقت مرد کا استقبال ہے ۔ اپنی طرف سے رضا مندی کا اظہار ہے تا کہ مرد سمجھ لے کہ اسکی محنت رائگاں نہیں گئی ۔
مجھے محبت کا جواب محبت سے ملا ہے ۔ کتنی چاہت کے ساتھ کتنی خوشی کے ساتھ مرد اس عورت کو اپنے گھرلے جاتا ہے ۔
جو گھر مرد کا تھا بنانے والے مرد کا تھا لیکن اب اس گھر کی سجاوٹ عورت ہے ۔ گھر کی زینت عورت ہے، گھرمیں روشنی عورت سے، گھر میں خوشبو عورت سے ۔ مرد گھر سے باہر ہوتے ہوئے بھی فورا گھر جانے کی خواہش رکھتا ہے
تاکہ اپنے اس پھول کی خوشبو سے مستفید ہو ۔ یہ ہے خدا کا عطیہ یہ ہے فطری ملاپ ملاپ بھی ایسا کہ (تو من شدی من تو شدم) کا مصداق ہیں۔



ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ
وہ تمہارے لباس اور تم ان کے لبا س ہو ۔
(بقرہ:۱۸۷)


ارشا د رب العزت ہے


وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ
اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پید ا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقینا ان میں(خداکی) نشانیاں ہیں ۔
(روم :۲۱)

عورت کی طرف سے محبت او رپیار مرد کی طرف سے محبت کے ساتھ رحمت و مہربانی تاکہ باہمی ارتباط مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے خد ا کرے یہ شادی یہ خوشی دائمی ہو ساری زندگی ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ملاپ و صل و ارتباط ہو۔
ارشادِ رب العزت



ہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلَالٍ عَلَی الْأَرَائِکِ مُتَّکِئُوْنَ
وہ اور انکی ازواج سایوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
(یٰسین:۵۶)


انسانی فطرت میں اس محبت کو ودیعت کیا گیا ہے ۔ صحیح محبت حدود شرعی میں رہتے ہو ئے محبت فطری کہلائے گی۔
ارشاد رب العزت ہے



زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْث
لوگوں کوان کی مرغوب چیزوں یعنی بیویوں، بیٹیوں ، سونے چاندی کے خزانے۔ عمدہ گھوڑوں اورمریشیوں اورکھیتوں کی الفت و زینت دکھا دی گئی ہے۔
(آل عمران:۱۴)



لیکن یہ تو دنیا وی سامان ہے انجام و عاقبت میں بھی ازواج و عورت کی اہمیت واضح ہے ۔
ارشاد رب العزت ہے



قُلْ أَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللہ وَاللہ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ
کہہ دیجیے کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز نہ بتادوں جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغا ت ہیں جن کے نیچے نہریں جا ری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ نیز ان کے لیے پاکیزہ بیویا ں ہیں اور اللہ کی خوشنودی ہوگی اورا للہ بندوں پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے ۔
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 134
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Adeeba (24-10-09), shafresha (22-10-09), فاروق سرورخان (23-10-09)
پرانا 23-10-09, 12:23 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ۔ بہت ہی شکریہ ان آیات کو شئیر کرنے کا۔ پردہ کی وضاحت کرنے کا اور واضح‌کرنے کا کہ پردہ کس قدر ہے۔ ان آیات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مردوں پر بھی خواتین کا احترام فرض ہے کہ ان احکام کو بجالانے میں عورتوں کے مدد گار ہوں ۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (23-10-09)
جواب

Tags
color, green, پہچان, پھول, قرآنی, لوگ, چاہت, نظر, مجید, محبت, اللہ, اسلام, بچوں, جواب, خدا, خصوصی, زندگی, زمانہ, شناخت, شخص, عورت, عمران, غور, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:47 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger