واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


خطبۂ حجۃ الوداع

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-12-09, 12:39 PM   #1
خطبۂ حجۃ الوداع
رانا امر رانا امر آف لائن ہے 01-12-09, 12:39 PM

تاریخِ اسلام بلکہ تاریخِ عالم میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبۂ حجۃ الوداع کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ فی الحقیقت یہ خطبہ ملت اسلامیہ اور عالم انسانیت کیلئے ابدالآبادتک مینارۂ نور، عدل ومساوات اور امن وسلامتی کے لازوال ابدی اصولوں پر مبنی ایک عظیم الشان دستورِ حیات ہے۔ محشر رسول نگریؒ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس آخری خطاب کے بارے میں کیاخوب کہا ہے
گونجا فضائے دہر میں وہ آخری خطاب
ہر دور کیلئے ہے جو عنوانِ انقلاب
ایک ایک حرف جس کا ہے انسانیت کا باب
ملتی ہے جس سے گوہرِ ہستی کو آب وتاب
جوظلمتِ حیات میں قندیلِ نور ہے
جو نغمۂ زبور ہے جو شمعِ طور ہے
اس خطبے کو خطبۂ حجۃ الکمال، حجۃ الاسلام، حجۃ البلاغ اورحجۃ التمام کے نام سے بھی یاد کیاجاتا ہے۔
محسنِ انسانیت خاتم النبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء سے فرمایا خطبہ دیتے وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پرسوار تھے حمدوثناء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(۱) ’’لوگو! میری بات سنو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید کہ اس کے بعد مجھے دوسرے حج کی نوبت نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے بہت سے خاندان اور قبیلے اس لئے بنائے ہیں کہ ان سے ایک دوسرے کاتعارف ہو۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم سب میں عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ شعار وپرہیزگار ہو اس لئے کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح کسی کالے کو گورے پر، اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے، لوگو بے شک تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہاراباپ بھی ایک ہے سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اورآدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ اے قبیلۂ قریش! ایسا نہ ہوکہ قیامت میں تم دنیا کا بوجھ سمیٹ کر اپنی گردنوں پر لادے ہوئے آؤ اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لائیں۔ اگر ایسا کیا تو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکوں گا۔

(۲) اے لوگو! تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کیلئے قیامت تک ایسے ہی قابل احترام ہیں جیسے کہ اِس دن اور اِس مہینے (ذی الحجہ) کا احترام اِس شہر میں ہے۔

(۳) اور یقیناً تم سب عنقریب اپنے رب سے ملو گے تو تمہارا رب تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا اور میں نے یہ بات تمہیں پہنچا دی ہے توجس شخص کے پاس کسی کی امانت ہو اس پرلازم ہے کہ وہ امانت والے کو پہنچا دے۔

(۴) خبردار! مجرم اپنے جرم کاذمے دار آپ ہے۔ خبردار! باپ کے جرم کا ذمے دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کاجواب دہ باپ نہیں۔

(۵) اگر کوئی نکٹا اور کن کٹا حبشی غلام بھی تمہارے اوپر امیر مقرر کردیا جائے اور وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے چلے تو تم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔

(۶) اے بنی آدم! اللہ جل شانہ نے ہرحقدار کاحق رکھا ہے اوراللہ تعالیٰ نے ہر وارث کیلئے میراث کاحصہ مقرر فرما دیا ہے اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں (یعنی اب کوئی شخص اپنے وارث کیلئے میراث کے معاملہ میں کوئی وصیت نہ کرے، ورثاء کو ان کے مقررہ حصۂ شرعی کے مطابق حصہ ملے گا) اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔

(۷) لوگو! آج کونسا دن ہے؟ تمام حاضرین نے جواب دیا، یومِ محترم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایاکہ یہ کونسا شہر ہے؟ سب نے کہا بلدِ محترم ،اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ سب نے کہا بلدِ محترم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے مال، تمہاری عزتیں، تمہارے ابدان اور تمہاری اولادباہم ایک دوسرے کے لئے محترم ہیں یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو اسی طرح جیسے تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر میں واجب الاحترام ہے بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب سے جاملو گے پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں بازپرس کرے گا سنو! میں نے اللہ کا پیغام پہنچادیا (راوی کہتے ہیں کہ) ہم نے جواباً عرض کیا، ہاں پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔

(۸) جس شخص کے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اُسے چاہئے کہ اس کی امانت ادا کرے، قرض اداکیا جائے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کی جائے، دودھ کیلئے ہدیتہً لی ہوئی اونٹنی دودھ سے استفادہ کے بعد واپس لوٹائی جائے اور ضامن ضمانت کا ذمہ دار ہے۔

(۹) لوگو! بے شک دورِ جاہلیت کے سارے امتیازات (فضیلت وبرتری کے سارے دعوے) ختم کردیئے گئے ہیں بجز بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے۔ اُس زمانے کے خون ومال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام (قصاص) اب کالعدم ہیں۔ پہلا خون (قصاص) جسے میں معاف کرتا ہوں( کالعدم قرار دیتاہوں) وہ میرے اپنے خاندان کا ہے، ربیعہ بن الحارث کے شیرخوار بیٹے کا خون۔۔۔ بے شک زمانۂ جاہلیت کاسود (ربوٰ) اب ختم کردیا گیا ہے البتہ تمہیں قرض کے اصل سرمائے کی بازیابی کا حق ہے۔ سب سے پہلا سود جو میں چھوڑتا ہوں وہ میرے چچا عباس بن عبدالمطلب کو سابقہ واجب الادا سود ہے۔ اب یہ ختم ہوگیا۔

(۱۰) لوگو! امن کے مہینہ کو ہٹاکر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ کرنا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں کہ ایک سال تو اُس (مہینے) کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام، تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کئے ہیں، گنتی پوری کرلیں، پس اس طرح جسے خدا نے حرام کیاہے اس کو حلال کرتے ہیں اور جسے اللہ نے حلال کیاہے اُسے حرام کرلیتے ہیں (چنانچہ) وہ ایک سال ماہِ صفر کو حلال کرلیتے ہیں( اور دوسرے سال حرام) اور ماہِ محرم کو ایک سال حرام سمجھتے ہیں (اور دوسرے سال حلال)۔

(۱۱) زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیئت پر آگیا ہے جس ہیئت پر کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی تخلیق کے دن بنایا تھا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے (جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہے) آسمان وزمین کی پیدائش کے وقت سے، ان میں سے چار مہینے محترم ہیں، تین یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں اور ایک الگ رجب ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان میں ہے، یہی دینِ قیم ہے، پس آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کرو، سنو! کیامیں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

(۱۲) دیکھو، کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم آپس ہی میں کشت وخون کرنے لگو، اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کاپابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے۔

(۱۳) شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں رہ گئی ہے کہ اب اُس کی اِس شہر میں عبادت کی جائے گی لیکن اِس کا امکان ہے کہ ایسے معاملات میں جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو، اُس کی بات مان لی جائے اور وہ اسی پرراضی ہے، اس لئے تم اس سے اپنے دین وایمان کی حفاظت کرنا۔

(۱۴) اے لوگو! تمہاری بیویوں کا تمہارے ذمہ حق ہے اور تمہارا ان پر حق ہے، تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارا فرش تمہارے غیر سے نہ رندوائیں بالخصوص جن کو تم برا سمجھتے ہو (یہ قید اضافی ہے) اورکسی ایسے شخص کو تمہارے گھر میں داخل نہ ہونے دیں جس کو تم ناگوار سمجھتے ہو، اِلّا یہ کہ تمہاری اجازت ہو اور وہ کھلی بے حیائی کی بات نہ کریں اور کسی امرِ خیر میں نافرمانی نہ کریں، پس اگر تمہیں ان کی طرف سے سرکشی کا خوف ہو تو اللہ رب العزت کی طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ ان کو نصیحت کرو اور مجبور کرو اور ان کی خوابگاہوں سے علیحدگی اختیار کر لو اور انہیں مارو، ایسی مار جو شدیدنہ ہو، کہ جس سے نشان پڑ جائے، پھر اگر وہ (کسی مرحل میں) باز آجائیں اور تمہاری اطاعت کرنے لگیں، تو وہ شرعی قاعدہ کے مطابق نان ونفقہ کی حقدار ہیں۔

(۱۵) بلاشبہ عورتیں تمہارے پاس مقید ہیں کہ وہ اپنی ذات کیلئے کسی چیز پر قادر نہیں، (یعنی محکوم ہیں)اور بلاشبہ تم نے ان کو بامان اللہ حاصل کیا ہے (یعنی حق تعالیٰ کا ان سے عہد امان ہے) اور ان کو اپنے اوپر خدا کے کلمات (احکام) کے ساتھ ساتھ حلال کیا ہے، لہٰذا خواتین کے باب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔ (یعنی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔

(۱۶) اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہے نہ تمہارے بعدکوئی دوسری اُمت۔

(۱۷) خبردار! تم اپنے رب کی عبادت کرتے رہو، پانچ نمازوں کی پابندی کرو اور اپنے ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ ادا کرو اور اپنے رب کے ’’بیت‘‘ کا حج کرو اور اپنے امرا کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

(۱۸) لوگو! میری بات سنو، بلاشبہ میں نے پیغام رسانی کافرض ادا کردیا، اسے سمجھو تاکہ تم جان لوکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے اور تمام مسلمان باہم بھائی بھائی ہیں، کسی شخص کیلئے اپنے بھائی کامال حلال نہیں ہے اِلّا یہ کہ وہ خوش دلی سے اس کو کچھ دے دے، خبردار! کسی عورت کیلئے یہ روا نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دیدے، سنو! کیا میں نے پیغام پہنچا نہیں دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔
(۱۹) اپنے غلاموں کاخیال رکھو، ہاں غلاموں کاخیال رکھو، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ ایسا ہی پہناؤ جیساتم خود پہنتے ہو۔

(۲۰) سنو! جس نے نفرت کے باعث اپنے باپ کے علاوہ کسی اورشخص کی جانب خود کو منسوب کیا (یعنی قومی نسبت تبدیل کی) یاکسی غلام نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس سے کوئی فدیہ قبول نہیں فرمائے گا۔

(۲۱)اور مومن کی ذات (جان ومال) مومن پر حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس پر اس کا گوشت حرام ہے کہ وہ جسے غیبت کے ذریعہ کھاتا ہے اور مومن کی عزت اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو خراب کرے اور مومن کاچہرہ اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو طمانچہ مارے، اور مومن کی ایذاء اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو ایذاء دے، اور حرام ہے اس پر کہ وہ مومن کو تکلیف رسانی کیلئے اس کو دھکا دے۔

(۲۲) میں تم کو آگاہ کرتاہوں، مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں، میں تم کو خبر دیتا ہوں مومن کون ہے؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان ومال کے باب میں مامون رہیں، اور میں تم کو بتاتا ہوں، مہاجر کون ہے؟ مہاجر وہ شخص ہے جواللہ تعالیٰ کی حرام کردہ برائیوں کو ترک کردے اور مجاہد وہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت کی راہ میں اپنے نفس سے جہاد کیا۔

(۲۳) اللہ تعالیٰ کے ذِمہ ڈال کر قسمیں نہ کھاؤ (مثلاً یہ کہ قسم ہے اللہ کی وہ ضرور فلاں کام کرے گا) اس لئے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ذمہ قسم کھائی اللہ تعالیٰ اس کا جھوٹ ظاہر کردے گا۔

(۲۴) میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہوسکو گے، اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے اور ہاں دیکھو، دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کردیئے گئے۔
آخر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت فرمائی:
’’سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں یہ احکام اور یہ باتیں اُن لوگوں کو بتائیں جو یہاں نہیں، ہوسکتا ہے کوئی موجود نہ ہونے والا تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو‘‘۔
اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا:
’’اور (لوگو!) تم سے میرے بارے میں (اللہ کے ہاں) سوال کیاجائے گا۔
بتاؤ تم کیاجواب دو گے؟‘‘
لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانتِ دین پہنچا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقِ رسالت ادا کردیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی‘‘۔
یہ سن کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا۔

 
رانا امر's Avatar
رانا امر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 568
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
معظم (01-12-09), احمدنواز (01-12-09)
پرانا 01-12-09, 12:54 PM   #2
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,537
کمائي: 66,879
شکریہ: 2,997
1,869 مراسلہ میں 4,763 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیر۔۔ اگر ہم صرف انہیں اقوال پر عمل کریں تو زندگی درست ہو جاوے۔
معظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا
احمدنواز (01-12-09), رانا امر (02-12-09)
پرانا 01-12-09, 02:24 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ ۔۔۔اگر جہ اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور بڑھا جاچکا ہے مگر پھر بھی چونکہ حکم الھی اور حکم رسول (ص) ہے اس لیے اس بات کو اگئے پہچانا ہمارہ فرض ہے تاکہ جو نہی جانتا وہ جان جائے اور اگے والوں کو بتا ئے ۔ کچھ باتیں رہ گئی تھیں وہ بھی کئے لیتے ہیں تاکہ اس دن کی اصل روح اور شان کا اندازہ ہوجائے بے شک یہ دن بہت محترم ہے یہ دن ہے 18 ذلحجہ 10 ھجری ۔اور مقام ہے غدیر خم یا وادی خم ۔۔۔
حج کی ادایئگی کے بعد پیغمبر اکرم صل علیہ والہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا گیا کل ناتوان افراد کے علاوہ کوئی نہ رہے سب حرکت کریں تا کہ معین وقت میں غدیر خم میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ طول تاریخ میں 10ھجری میں حج محمدی صلی علیہ والہ وسلم کی مانند عظیم الشان انداز سے دوبارہ حج کے مناسک انجام نہیں پائے ایسا حج کہ جسے آخری بار اشرف المخلوقات فخر کائنات اور خاتم الانبیاء نے کیا اور ھر طرف سے ایک لاکھ سے زائد آپ کے عاشقوں کا ہجوم آپ کے اردگرد پروانوں کی مانند موجود تھا، آخری طواف کے بعد جب سب لوٹنے کے پروگرام میں تھے ایکدم حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور تین پیغام دئیے :
اے پیغمبر جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے ابلاغ کریں،اگر آپ نے الھی حکم کو ابلاغ نہ کیا گویا آپ کی رسالت مکمل نہیں ہوئی اور اللہ تعالی آپ کو بدخواھوں کے شر سے محفوظ رکھے گا مائدہ ۶۷آیت ابلاغ
آپ (ص) نے حکم دیا کہ سب کے سب وادی غدیر میں ان کے پاس جمع ہوں، آگے بڑھنے والے لوٹ آئیں، پیچھے رہ جانے والے پہنچ آئیں، اونٹوں کی پلانوں سے آپ کے لئے ایک منبر تیار کیا گیا اور سب خاتم الانبیا کی پاکیزہ لسان سے کلام وحی سننے کے لئے مشتاق تھے یہ حکم اتنا اھم اور دقیق تھا کہ لوگوں کے قبول نہ کرنے کا خوف ، منافقوں کا شور و غوغا اور موسم کی گرمی اور دیگر مشکلات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھیں

پیغمبر اکرم (ص) نے ہمیشہ کی مانند اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے ساتھ خطبہ کا آغاز کیا پھر آپ نے اپنی تیس23 سالہ رسالت کے معارف سے آگاہ کیا اور لوگوں کو ان کے دین کی عظمت کی طرف رہنمائی لیکن یہ سب کچھ ایک پیغام کے لئے ایک تمہید تھی اور وہ یہ تھا کہ:

علامہ طاہر القادری کی کتاب سے ۔۔۔۔۔۔آج 18 ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا :
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاُہ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہ ُ.
’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ (القول المعتبر فی الامام المنتظر)
پیغمبر اکرم (ص) نے الھی حکم کی بنیاد پر سلسلہ امامت کے پہلے امام کے اعلان کے بعد اس سلسلہ امامت کے آخری اپنے جانشین کا بھی چند جملوں میں تعارف کروایا تاکہ حق کے تشنہ اور عدالت کے مشتاق لوگ راہ گم نہ کرلیں
اور سب جان لیں کہ ان کے جانشین بارہ 12ہیں اور سب خلیفہ ہیں ان میں سے آخری وہ ہے کہ جو عدل و انصاف کے لئے قیام کریں گے،
اس دین حق اور خدا کے مورد رضایت دین کو پوری دنیا پر حاکم کریں گے ۔
آپ (ص) نے فرمایا:جان لو بلا شبہ ہمارے ائمہ میں سے آخری مہدی قائم ہے ۔
جان لو وہ تمام ادیان پر فتح پائے گا ۔
جان لو وہ ظالموں سے انتقام لے گا۔
جان لو وہ شرک و فساد کے قلعوں کے مضبوط دروازے کھولے گا اور انہیں تباہ و برباد کرے گا ۔
جان لو وہ شرک کو تباہ کرنے والا ہے۔
جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کے محبین کے خون کا انتقام لینے والا ہے۔
جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کے دین کی نصرت کرنے والا ہے۔
جان لو وہ پیاسوں کو دریائے حقیقت سے سیراب کرنے والا ہے۔
جان لو وہ علما کی برتری اور ان کے فضل اور جھلا کی جھالت و بے عقلی کو جانتا ہے۔
جان لو وہ اللہ تعالی کا برگزیدہ اور اس کی طرف سے امام منتخب ہونے والا ہے۔
جان لو وہ ہر علم کا وارث ہے اور اس کا علم تمام علوم پر برتر ہے۔
جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کی معرفت سے آگاہ کرنے والا اور احکام اور راہ ایمان کو روشن کرنے والا ہے۔
جان لو وہ شجاع اور صحیح عمل کرنے والا ہے ۔
جان لو مخلوق کے امور اس کے سپرد ہوئے ہیں۔
جان لو گذشتہ پیغمبروں نے اس کے ظہور کی بشارت دی ہے۔
جان لو وہ آخری الھی حجت ہے اور اس کے بعد کوئی حجت نہیں آئی گی دنیا میں صرف اس کے ساتھ حق ہےاور ہر علم صرف اس کے پاس ہے۔
جان لو کوئی اس پر کا میابی کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کے علاوہ کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
جان لو وہ زمین میں ولی خدا اور مخلوق میں قاضی اور ظاھر و پنہان میں الھی اسرار کا محافظ ہے۔ احتجاج طبرسی ج۱ ص ۶۶ خطبہ غدیر
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
رانا امر (02-12-09)
پرانا 01-12-09, 09:07 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لگتا ہے کہ اس آخری خطبہ کے کئی ورژن ہیں۔ کہیں‌کم اور کہیں‌زیادہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خطبہ بھی تبدیل ہوتا جارہا ہے کیا؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-09, 09:15 AM   #5
Senior Member
 
رانا امر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
کمائي: 18,427
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
رانا امر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں رانا امر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
لگتا ہے کہ اس آخری خطبہ کے کئی ورژن ہیں۔ کہیں‌کم اور کہیں‌زیادہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خطبہ بھی تبدیل ہوتا جارہا ہے کیا؟
اسلام وعلیکم:
نہیں بھائی خطبہ وہ ہی ہے جو ایک مرتبہ آپ” صلٰی اللہ علیہ وسلم“ کی زبان مبارک سے ادا ہو گیا ،اس میں‌کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نا ہی آئے گی انشاءاللہ ،
یہ اور بات ہے کہ کسی کی معلومات کم ہیں اور کسی کی زیادہ،،،،،،،،،،،،
رانا امر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (02-12-09), حیدر Rehan (03-12-09)
پرانا 02-12-09, 10:16 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
(۶) اے بنی آدم! اللہ جل شانہ نے ہرحقدار کاحق رکھا ہے اوراللہ تعالیٰ نے ہر وارث کیلئے میراث کاحصہ مقرر فرما دیا ہے اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں (یعنی اب کوئی شخص اپنے وارث کیلئے میراث کے معاملہ میں کوئی وصیت نہ کرے، ورثاء کو ان کے مقررہ حصۂ شرعی کے مطابق حصہ ملے گا) اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔
یہ اس سے پہلے کہیں‌نہیں‌دیکھا۔ اس بیان کے اندر بھی تضاد ہے بھائی۔ اور یہ قرآن حکیم کی آیات کے خلاف بھی ہے۔ ایسا کیسے ہوا؟ کچھ روشنی ڈالئے۔ اس خطبہ کا ایک ورژن یہاں‌ دیکھئے۔

ایک اور ورژن

ایک اور ورژن
ایک اور ورژن

ایک اور ورژن

اتنا اہم خطبہ اور مسلمانوں نے اس کی حفاظت بھی نہیں کی؟ کسی نے اس میں اپنے عقائد ڈالے تو کسی نے اس کی مخالفت کی۔

بہت معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن حقیقت آپ کے اپنے سامنے ہے۔ ان میں سے کونسا ورژن درست ہے؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 02-12-09 at 10:32 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 01:39 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔

یہ سب یہودیوں کی چالیں ہیں انھوں نے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے بیچ تقسیم کی ہے
اور ایسے مسائل پیدا کیے ہیں جو ہم کبھی درست نہی کر سکتے یہاں تک کہ وہ درست کرنے والہ نہ آجائے اور ہماریے درمیان اس تقسیم کو سہی نہ کردے اور خدا کا حکم ہے ایک روز اللہ سہی فیصلہ فرمادے گا جس میں ہم لوگ لڑ رہے ہیں ۔

برا مت مانیےگا کوئی بھی ۔۔۔۔۔کہ مسلمانوں کی دوسری بد ترین حقیقت یہ ہے کہ ۔
ہمارئے آخری نبی حضرت محمد (ص) نے 23 سال دنیا میں ظاہری طور پر نماز ادا کی لیکن بد قسمت مسلمان یہ فیصلہ اج تک نہ کرسکے کہ انھونے ہاتھ کھول کر نماز پڑھی یا ہاتھ باندھ کر۔
یہ بات کسی بحث کے لیے نہی لکھی بس مسلمانوں کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ ہم کو ہر وقت اللہ سے توبہ ہی کرتے رہنا چاہیے ۔

اس مراسلے کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ جو ہم جانتے ہیں وہ ہمارہ فرض ہے اگے بھیجنا ۔ کمی کسی صورت نہی کرنی چاہیے ۔( یہ بات یاد دلادوں کے میں نے خطبہ کا کچھ حصہ لکھا ہے) یہ نہی لکھا کہ یہ پورا خطبہ ہے ۔ اور جو بھی بات ہے وہ خطبہ کے درمیان کی ہیں ۔الفاظ بدلے ہوئے ہوسکتے ہیں کیونکہ ترجمہ ہے اور اصل خطبہ تو عربی میں ہے ۔ پورے جملے غلط عکاسی نہی کرتے
شکریہ

Last edited by حیدر Rehan; 03-12-09 at 01:42 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (03-12-09), کنعان (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 07:04 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
یہ سب یہودیوں کی چالیں ہیں انھوں نے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے بیچ تقسیم کی ہے
مسلمانوں کو بھی سازشوں کا شکار بننا بہت پسند بہت بے وقوفی سے (یا پھر جان بوجھ کر )ان سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں
ویسے کہیں سنا تھا کے حدیث کے مطابق مومن نا دھوکہ دیتا ہے اور نا دھوکے میں آتا ہے ۔ وللہ اعلم
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (03-12-09), حیدر Rehan (04-12-09)
پرانا 03-12-09, 07:56 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ مراسلہ دیکھیں
مسلمانوں کو بھی سازشوں کا شکار بننا بہت پسند بہت بے وقوفی سے (یا پھر جان بوجھ کر )ان سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں
ایک ہزار بار شکریہ اتنی اچھی بات کہنے پر
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ مراسلہ دیکھیں
ویسے کہیں سنا تھا کے حدیث کے مطابق مومن نا دھوکہ دیتا ہے اور نا دھوکے میں آتا ہے ۔ وللہ اعلم
کاش کہ یہ درست ہوتا
اسی حدیث کو دیکھ لیجئے اس کے کتنے ورژن موجود ہیں انٹر نیٹ پر اور کتب میں‌بھی۔
کسی بھی روایت کو پرکھ کر آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ آیا کہ وہ درست اور صحیح حدیث نبوی ہے یا نہیں۔ بس یہ دیکھئے کہ یہ روایت قرآن کے موافق ہے یا نہیں۔

اور دئے گئے خطبہ کا تجزیہ پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا تاکہ اندازہ ہوسکے کہ اس خطبہ میں کیا صحیح حدیث ہے اور کیا دشمناں اسلام کی طرف سے ممکنہ طور پر من گھڑت ہوسکتا ہے۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 10:12 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (04-12-09)
پرانا 03-12-09, 08:22 PM   #10
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ
ضرور تجزیہ کیجئے ہم بھی دیکھنا چاہیں گے
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (04-12-09)
پرانا 03-12-09, 08:36 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
(۱) ’’لوگو! میری بات سنو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید کہ اس کے بعد مجھے دوسرے حج کی نوبت نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے
اور تمہارے بہت سے خاندان اور قبیلے اس لئے بنائے ہیں کہ ان سے ایک دوسرے کاتعارف ہو۔
بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم سب میں عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ شعار وپرہیزگار ہو
49:13 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
اس لئے کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔
اسی طرح کسی کالے کو گورے پر، اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے،
30:22 وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
لوگو بے شک تمہارا رب بھی ایک ہے
112:1 قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
(اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: وہ اﷲ ہے جو ایک ہے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
اور تمہاراباپ بھی ایک ہے سارے انسان آدم کی اولاد ہیں
7:172 وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ
اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اٹھے: کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا رب ہے)۔ ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
اورآدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔
3:59 إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
اے قبیلۂ قریش! ایسا نہ ہوکہ قیامت میں تم دنیا کا بوجھ سمیٹ کر اپنی گردنوں پر لادے ہوئے آؤ اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لائیں۔ اگر ایسا کیا تو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکوں گا۔
6:31 قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَاءِ اللّهِ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُواْ يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَاءَ مَا يَزِرُونَ
پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اﷲ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں


ان آیات کی مدد سے یہ واضح ہے کہ رسول اکرم سے منسوب شدہ خطبہ کا نکتہ نمبر 1 قرآن کی آیات کے عین مطابق ہے۔

( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے)

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
معظم (05-12-09), حیدر Rehan (04-12-09), شاہ (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 09:23 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
(۲) اے لوگو! تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کیلئے قیامت تک ایسے ہی قابل احترام ہیں جیسے کہ اِس دن اور اِس مہینے (ذی الحجہ) کا احترام اِس شہر میں ہے۔
5:32 مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
اسی وجہ سے فرض کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کر ڈالا سب انسانوں کو اور جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو۔ اور بے شک آچُکے ہیں اُن کے پاس ہمارے رسول واضح احکام لے کر پھر بھی یقیناً بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرتے رہے۔
25:68 وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گا

2:188 وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُواْ فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
(۳) اور یقیناً تم سب عنقریب اپنے رب سے ملو گے تو تمہارا رب تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا اور میں نے یہ بات تمہیں پہنچا دی ہے توجس شخص کے پاس کسی کی امانت ہو اس پرلازم ہے کہ وہ امانت والے کو پہنچا دے۔
29:5 مَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، اور وہی سننے والا جاننے والا ہے

4:58 إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّواْ الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا
بے شک اللہ حکم دیتا ہے تم کو کہ سپرو کرو امانتیں، اہلِ امانت کو۔ اور جب فیصلہ کرو تم لوگوں کے مابین تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ۔ بے شک اللہ بہت ہی اچھّی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اللہ ہے ہر بات کا سُننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
(۴) خبردار! مجرم اپنے جرم کاذمے دار آپ ہے۔ خبردار! باپ کے جرم کا ذمے دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کاجواب دہ باپ نہیں۔
6:164 قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے

36:54 فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
پھر آج کے دن کسی جان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمہیں کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اُن کاموں کے جو تم کیا کرتے تھے


ان آیات سے واضح ہے کہ خطبہ رسول اللہ کے نکات 2، 3، اور 4 بھی کلام اللہ کے عین مطابق ہیں۔

( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے)

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 09:37 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
معظم (05-12-09), حیدر Rehan (04-12-09), شاہ (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 09:59 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر;245336[COLOR="Blue"
(۵)[/COLOR] اگر کوئی نکٹا اور کن کٹا حبشی غلام بھی تمہارے اوپر امیر مقرر کردیا جائے اور وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے چلے تو تم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
6:106 اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے

31:21 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

اللہ تعالی صرف اور صرف کتاب اللہ کی پیروی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ اس فرمان نبوی سے صاف ظاہر ہے۔

ان آیات کی مدد سے یہ واضح ہے کہ رسول اکرم سے منسوب شدہ خطبہ کا نکتہ نمبر 5 قرآن کی آیات کے عین مطابق ہے۔

( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے)

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 10:10 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
معظم (05-12-09), شاہ (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 11:04 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
(۶) اے بنی آدم! اللہ جل شانہ نے ہرحقدار کاحق رکھا ہے اوراللہ تعالیٰ نے ہر وارث کیلئے میراث کاحصہ مقرر فرما دیا ہے اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں (یعنی اب کوئی شخص اپنے وارث کیلئے میراث کے معاملہ میں کوئی وصیت نہ کرے، ورثاء کو ان کے مقررہ حصۂ شرعی کے مطابق حصہ ملے گا) اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔
سرخ شدہ حصوں میں رسول اکرم سے منسوب کیا گیا ہے کہ
1۔اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں
2- اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔

یہ دونوں نکات منطقی نکتہ نظر سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اگر کوئی وصیت نہیں کرسکتا تو پھر ایسا کیوں‌کہ ایک تہائی کی وصیت جائز ہو؟

قرآن کی آیات ملاحظہ فرمائیے:

1۔اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں

2:180 كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ تم پر فرض کیا جاتاہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آپہنچے اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہو، تو (اپنے) والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں بھلے طریقے سے وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پر لازم ہے

2- اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔
4:12 وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِن كَانُواْ أَكْثَرَ مِن ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ وَصِيَّةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ
Tahir ul Qadri اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہویا قرض (کی ادائیگی) کے بعد ، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہے

2:182 فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پس اگر کسی شخص کو وصیّت کرنے والے سے (کسی کی) طرف داری یا (کسی کے حق میں) زیادتی کا اندیشہ ہو پھر وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے

5:106 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلاَةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَلاَ نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللّهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ
اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو وصیت کرتے وقت تمہارے درمیان گواہی (کے لئے) تم میں سے دو عادل شخص ہوں یا تمہارے غیروں میں سے (کوئی) دوسرے دو شخص ہوں اگر تم ملک میں سفر کر رہے ہو پھر (اسی حال میں) تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے تو تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو، اگر تمہیں (ان پر) شک گزرے تو وہ دونوں اللہ کی قَسمیں کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی قیمت حاصل نہیں کریں گے خواہ کوئی (کتنا ہی) قرابت دار ہو اور نہ ہم اللہ کی (مقرر کردہ) گواہی کو چھپائیں گے (اگر چھپائیں تو) ہم اسی وقت گناہگاروں میں ہو جائیں گے


ہم دیکھتے ہیں کہ وصیت پر پابندی نہیں ہے اور نہ ہی کہیں ایک تہائی سے زائید وصیت کرنے پر پابندی ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی دوست مزید معلومات فراہم کریں تو عنایت ہوگی۔

رسول اللہ کا فرمان ہے کہ :
حوالہ: علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ
” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“
” روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“
(مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢)
” وقال ابن جریر حدثنا محمد بن اسماعیل الَحمسی اَخبرنی جعفر بن عون عن عبدالرحمان بن المخارق عن ابیہ المخارق بن سلیم قال قال لنا عبداللہ ھوابن مسعود اذا حدثناکم بحدیث اتیناکم بتصدیق ذلک من الکتاب اللہ تعالٰی۔“
(عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ جب ہم تم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی لا تے ہیں ۔)( تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٩٤٥ ،سورہ فاطر)

ان آیات اور روایات کی مدد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ سے جو کچھ منسوب کیا جارہا ہے اس کی دلیل قرآن حکیم سے نہیں ملتی بلکہ یہ نکتہ عین خلاف قرآن ہے۔

صاحب علم حضرات سے درخواست ہے کہ اس پر اپنی معلومات سے روشنی ڈالیں۔

یہ تجزیہ جاری ہے

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
معظم (05-12-09), حیدر Rehan (04-12-09), شاہ (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 11:10 PM   #15
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب اچھا تجزیہ چل رہا ہے ابھی تک
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہ کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
وصیت, قید, نفرت, میراث, آج, اللہ, امیر, اسلام, ترک, جھوٹ, خون, خواتین, خوش, خدا, دریافت, رمضان, زمانہ, سال, شہر, شخص, شعبان, عہد, عورت, عبادت, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger