| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 568
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
جزاک اللہ خیر۔۔ اگر ہم صرف انہیں اقوال پر عمل کریں تو زندگی درست ہو جاوے۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ ۔۔۔اگر جہ اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور بڑھا جاچکا ہے مگر پھر بھی چونکہ حکم الھی اور حکم رسول (ص) ہے اس لیے اس بات کو اگئے پہچانا ہمارہ فرض ہے تاکہ جو نہی جانتا وہ جان جائے اور اگے والوں کو بتا ئے ۔ کچھ باتیں رہ گئی تھیں وہ بھی کئے لیتے ہیں تاکہ اس دن کی اصل روح اور شان کا اندازہ ہوجائے بے شک یہ دن بہت محترم ہے یہ دن ہے 18 ذلحجہ 10 ھجری ۔اور مقام ہے غدیر خم یا وادی خم ۔۔۔
حج کی ادایئگی کے بعد پیغمبر اکرم صل علیہ والہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا گیا کل ناتوان افراد کے علاوہ کوئی نہ رہے سب حرکت کریں تا کہ معین وقت میں غدیر خم میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ طول تاریخ میں 10ھجری میں حج محمدی صلی علیہ والہ وسلم کی مانند عظیم الشان انداز سے دوبارہ حج کے مناسک انجام نہیں پائے ایسا حج کہ جسے آخری بار اشرف المخلوقات فخر کائنات اور خاتم الانبیاء نے کیا اور ھر طرف سے ایک لاکھ سے زائد آپ کے عاشقوں کا ہجوم آپ کے اردگرد پروانوں کی مانند موجود تھا، آخری طواف کے بعد جب سب لوٹنے کے پروگرام میں تھے ایکدم حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور تین پیغام دئیے : اے پیغمبر جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے ابلاغ کریں،اگر آپ نے الھی حکم کو ابلاغ نہ کیا گویا آپ کی رسالت مکمل نہیں ہوئی اور اللہ تعالی آپ کو بدخواھوں کے شر سے محفوظ رکھے گا مائدہ ۶۷آیت ابلاغ آپ (ص) نے حکم دیا کہ سب کے سب وادی غدیر میں ان کے پاس جمع ہوں، آگے بڑھنے والے لوٹ آئیں، پیچھے رہ جانے والے پہنچ آئیں، اونٹوں کی پلانوں سے آپ کے لئے ایک منبر تیار کیا گیا اور سب خاتم الانبیا کی پاکیزہ لسان سے کلام وحی سننے کے لئے مشتاق تھے یہ حکم اتنا اھم اور دقیق تھا کہ لوگوں کے قبول نہ کرنے کا خوف ، منافقوں کا شور و غوغا اور موسم کی گرمی اور دیگر مشکلات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھیں پیغمبر اکرم (ص) نے ہمیشہ کی مانند اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے ساتھ خطبہ کا آغاز کیا پھر آپ نے اپنی تیس23 سالہ رسالت کے معارف سے آگاہ کیا اور لوگوں کو ان کے دین کی عظمت کی طرف رہنمائی لیکن یہ سب کچھ ایک پیغام کے لئے ایک تمہید تھی اور وہ یہ تھا کہ: علامہ طاہر القادری کی کتاب سے ۔۔۔۔۔۔آج 18 ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاُہ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہ ُ. ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘ (القول المعتبر فی الامام المنتظر) پیغمبر اکرم (ص) نے الھی حکم کی بنیاد پر سلسلہ امامت کے پہلے امام کے اعلان کے بعد اس سلسلہ امامت کے آخری اپنے جانشین کا بھی چند جملوں میں تعارف کروایا تاکہ حق کے تشنہ اور عدالت کے مشتاق لوگ راہ گم نہ کرلیں اور سب جان لیں کہ ان کے جانشین بارہ 12ہیں اور سب خلیفہ ہیں ان میں سے آخری وہ ہے کہ جو عدل و انصاف کے لئے قیام کریں گے، اس دین حق اور خدا کے مورد رضایت دین کو پوری دنیا پر حاکم کریں گے ۔ آپ (ص) نے فرمایا:جان لو بلا شبہ ہمارے ائمہ میں سے آخری مہدی قائم ہے ۔ جان لو وہ تمام ادیان پر فتح پائے گا ۔ جان لو وہ ظالموں سے انتقام لے گا۔ جان لو وہ شرک و فساد کے قلعوں کے مضبوط دروازے کھولے گا اور انہیں تباہ و برباد کرے گا ۔ جان لو وہ شرک کو تباہ کرنے والا ہے۔ جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کے محبین کے خون کا انتقام لینے والا ہے۔ جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کے دین کی نصرت کرنے والا ہے۔ جان لو وہ پیاسوں کو دریائے حقیقت سے سیراب کرنے والا ہے۔ جان لو وہ علما کی برتری اور ان کے فضل اور جھلا کی جھالت و بے عقلی کو جانتا ہے۔ جان لو وہ اللہ تعالی کا برگزیدہ اور اس کی طرف سے امام منتخب ہونے والا ہے۔ جان لو وہ ہر علم کا وارث ہے اور اس کا علم تمام علوم پر برتر ہے۔ جان لو وہ اللہ عزیز و عظیم کی معرفت سے آگاہ کرنے والا اور احکام اور راہ ایمان کو روشن کرنے والا ہے۔ جان لو وہ شجاع اور صحیح عمل کرنے والا ہے ۔ جان لو مخلوق کے امور اس کے سپرد ہوئے ہیں۔ جان لو گذشتہ پیغمبروں نے اس کے ظہور کی بشارت دی ہے۔ جان لو وہ آخری الھی حجت ہے اور اس کے بعد کوئی حجت نہیں آئی گی دنیا میں صرف اس کے ساتھ حق ہےاور ہر علم صرف اس کے پاس ہے۔ جان لو کوئی اس پر کا میابی کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کے علاوہ کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔ جان لو وہ زمین میں ولی خدا اور مخلوق میں قاضی اور ظاھر و پنہان میں الھی اسرار کا محافظ ہے۔ احتجاج طبرسی ج۱ ص ۶۶ خطبہ غدیر
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | رانا امر (02-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
لگتا ہے کہ اس آخری خطبہ کے کئی ورژن ہیں۔ کہیںکم اور کہیںزیادہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خطبہ بھی تبدیل ہوتا جارہا ہے کیا؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
نہیں بھائی خطبہ وہ ہی ہے جو ایک مرتبہ آپ” صلٰی اللہ علیہ وسلم“ کی زبان مبارک سے ادا ہو گیا ،اس میںکوئی تبدیلی نہیں آئی اور نا ہی آئے گی انشاءاللہ ، یہ اور بات ہے کہ کسی کی معلومات کم ہیں اور کسی کی زیادہ،،،،،،،،،،،، |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-12-09), حیدر Rehan (03-12-09) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایک اور ورژن ایک اور ورژن ایک اور ورژن ایک اور ورژن اتنا اہم خطبہ اور مسلمانوں نے اس کی حفاظت بھی نہیں کی؟ کسی نے اس میں اپنے عقائد ڈالے تو کسی نے اس کی مخالفت کی۔ بہت معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن حقیقت آپ کے اپنے سامنے ہے۔ ان میں سے کونسا ورژن درست ہے؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 02-12-09 at 10:32 AM. |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
یہ سب یہودیوں کی چالیں ہیں انھوں نے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے بیچ تقسیم کی ہے اور ایسے مسائل پیدا کیے ہیں جو ہم کبھی درست نہی کر سکتے یہاں تک کہ وہ درست کرنے والہ نہ آجائے اور ہماریے درمیان اس تقسیم کو سہی نہ کردے اور خدا کا حکم ہے ایک روز اللہ سہی فیصلہ فرمادے گا جس میں ہم لوگ لڑ رہے ہیں ۔ برا مت مانیےگا کوئی بھی ۔۔۔۔۔کہ مسلمانوں کی دوسری بد ترین حقیقت یہ ہے کہ ۔ ہمارئے آخری نبی حضرت محمد (ص) نے 23 سال دنیا میں ظاہری طور پر نماز ادا کی لیکن بد قسمت مسلمان یہ فیصلہ اج تک نہ کرسکے کہ انھونے ہاتھ کھول کر نماز پڑھی یا ہاتھ باندھ کر۔ یہ بات کسی بحث کے لیے نہی لکھی بس مسلمانوں کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ ہم کو ہر وقت اللہ سے توبہ ہی کرتے رہنا چاہیے ۔ اس مراسلے کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ جو ہم جانتے ہیں وہ ہمارہ فرض ہے اگے بھیجنا ۔ کمی کسی صورت نہی کرنی چاہیے ۔( یہ بات یاد دلادوں کے میں نے خطبہ کا کچھ حصہ لکھا ہے) یہ نہی لکھا کہ یہ پورا خطبہ ہے ۔ اور جو بھی بات ہے وہ خطبہ کے درمیان کی ہیں ۔الفاظ بدلے ہوئے ہوسکتے ہیں کیونکہ ترجمہ ہے اور اصل خطبہ تو عربی میں ہے ۔ پورے جملے غلط عکاسی نہی کرتے شکریہ Last edited by حیدر Rehan; 03-12-09 at 01:42 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-12-09), کنعان (03-12-09) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
مقبول
|
اقتباس:
ویسے کہیں سنا تھا کے حدیث کے مطابق مومن نا دھوکہ دیتا ہے اور نا دھوکے میں آتا ہے ۔ وللہ اعلم |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-12-09), حیدر Rehan (04-12-09) |
|
|
#9 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() اقتباس:
![]() اسی حدیث کو دیکھ لیجئے اس کے کتنے ورژن موجود ہیں انٹر نیٹ پر اور کتب میںبھی۔ کسی بھی روایت کو پرکھ کر آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ آیا کہ وہ درست اور صحیح حدیث نبوی ہے یا نہیں۔ بس یہ دیکھئے کہ یہ روایت قرآن کے موافق ہے یا نہیں۔ اور دئے گئے خطبہ کا تجزیہ پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا تاکہ اندازہ ہوسکے کہ اس خطبہ میں کیا صحیح حدیث ہے اور کیا دشمناں اسلام کی طرف سے ممکنہ طور پر من گھڑت ہوسکتا ہے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 10:12 PM. |
||
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (04-12-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
|
شکریہ
ضرور تجزیہ کیجئے ہم بھی دیکھنا چاہیں گے |
|
|
|
| شاہ کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (04-12-09) |
|
|
#11 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے اقتباس:
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں 112:1 قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: وہ اﷲ ہے جو ایک ہے 7:172 وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اٹھے: کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا رب ہے)۔ ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے3:59 إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیا اقتباس:
پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اﷲ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ان آیات کی مدد سے یہ واضح ہے کہ رسول اکرم سے منسوب شدہ خطبہ کا نکتہ نمبر 1 قرآن کی آیات کے عین مطابق ہے۔ ( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے) والسلام |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اسی وجہ سے فرض کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کر ڈالا سب انسانوں کو اور جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو۔ اور بے شک آچُکے ہیں اُن کے پاس ہمارے رسول واضح احکام لے کر پھر بھی یقیناً بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرتے رہے۔ 25:68 وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گا 2:188 وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُواْ فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے) اقتباس:
جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، اور وہی سننے والا جاننے والا ہے 4:58 إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّواْ الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا بے شک اللہ حکم دیتا ہے تم کو کہ سپرو کرو امانتیں، اہلِ امانت کو۔ اور جب فیصلہ کرو تم لوگوں کے مابین تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ۔ بے شک اللہ بہت ہی اچھّی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اللہ ہے ہر بات کا سُننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا۔ اقتباس:
فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے 36:54 فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ پھر آج کے دن کسی جان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمہیں کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اُن کاموں کے جو تم کیا کرتے تھے ان آیات سے واضح ہے کہ خطبہ رسول اللہ کے نکات 2، 3، اور 4 بھی کلام اللہ کے عین مطابق ہیں۔ ( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے) والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 09:37 PM. |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے 31:21 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو اللہ تعالی صرف اور صرف کتاب اللہ کی پیروی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ اس فرمان نبوی سے صاف ظاہر ہے۔ ان آیات کی مدد سے یہ واضح ہے کہ رسول اکرم سے منسوب شدہ خطبہ کا نکتہ نمبر 5 قرآن کی آیات کے عین مطابق ہے۔ ( بقیہ نکات کا تجزیہ انشاء اللہ تعالی بعد میں ۔۔ جاری ہے) والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 10:10 PM. |
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
1۔اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں 2- اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔ یہ دونوں نکات منطقی نکتہ نظر سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اگر کوئی وصیت نہیں کرسکتا تو پھر ایسا کیوںکہ ایک تہائی کی وصیت جائز ہو؟ قرآن کی آیات ملاحظہ فرمائیے: 1۔اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں 2:180 كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ تم پر فرض کیا جاتاہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آپہنچے اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہو، تو (اپنے) والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں بھلے طریقے سے وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پر لازم ہے 2- اور (کسی شخص کیلئے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زائد کی وصیت جائز نہیں۔ 4:12 وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِن كَانُواْ أَكْثَرَ مِن ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ وَصِيَّةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ Tahir ul Qadri اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہویا قرض (کی ادائیگی) کے بعد ، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہے 2:182 فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ پس اگر کسی شخص کو وصیّت کرنے والے سے (کسی کی) طرف داری یا (کسی کے حق میں) زیادتی کا اندیشہ ہو پھر وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے 5:106 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلاَةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَلاَ نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللّهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو وصیت کرتے وقت تمہارے درمیان گواہی (کے لئے) تم میں سے دو عادل شخص ہوں یا تمہارے غیروں میں سے (کوئی) دوسرے دو شخص ہوں اگر تم ملک میں سفر کر رہے ہو پھر (اسی حال میں) تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے تو تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو، اگر تمہیں (ان پر) شک گزرے تو وہ دونوں اللہ کی قَسمیں کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی قیمت حاصل نہیں کریں گے خواہ کوئی (کتنا ہی) قرابت دار ہو اور نہ ہم اللہ کی (مقرر کردہ) گواہی کو چھپائیں گے (اگر چھپائیں تو) ہم اسی وقت گناہگاروں میں ہو جائیں گے ہم دیکھتے ہیں کہ وصیت پر پابندی نہیں ہے اور نہ ہی کہیں ایک تہائی سے زائید وصیت کرنے پر پابندی ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی دوست مزید معلومات فراہم کریں تو عنایت ہوگی۔ رسول اللہ کا فرمان ہے کہ : حوالہ: علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ ” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“ ” روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“ (مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢) ” وقال ابن جریر حدثنا محمد بن اسماعیل الَحمسی اَخبرنی جعفر بن عون عن عبدالرحمان بن المخارق عن ابیہ المخارق بن سلیم قال قال لنا عبداللہ ھوابن مسعود اذا حدثناکم بحدیث اتیناکم بتصدیق ذلک من الکتاب اللہ تعالٰی۔“ (عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ جب ہم تم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی لا تے ہیں ۔)( تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٩٤٥ ،سورہ فاطر) ان آیات اور روایات کی مدد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ سے جو کچھ منسوب کیا جارہا ہے اس کی دلیل قرآن حکیم سے نہیں ملتی بلکہ یہ نکتہ عین خلاف قرآن ہے۔ صاحب علم حضرات سے درخواست ہے کہ اس پر اپنی معلومات سے روشنی ڈالیں۔ یہ تجزیہ جاری ہے والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
مقبول
|
بہت خوب اچھا تجزیہ چل رہا ہے ابھی تک
|
|
|
|
| شاہ کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (03-12-09) |
![]() |
| Tags |
| وصیت, قید, نفرت, میراث, آج, اللہ, امیر, اسلام, ترک, جھوٹ, خون, خواتین, خوش, خدا, دریافت, رمضان, زمانہ, سال, شہر, شخص, شعبان, عہد, عورت, عبادت, عزت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|