| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2135
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), shafresha (25-07-10), فاروق سرورخان (25-07-10), محمد عاصم (24-07-10), مرزا عامر (25-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
منتظمین بھائی ،میں نے جس ٹاپک پر سوالات کیے تھے اس پر تو بحث ابھی جاری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ قریش والے سوال کا جواب یہاں ضرور لیں لیکن وہاں اصل بحث تو جاری رہنے دیں جو خلافت راشدہ کے بعد کے ادوار کی حیثیت کے حوالے سے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہربانی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام Last edited by shafresha; 25-07-10 at 02:19 AM. وجہ: ایک حرف کی تصیح! |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (29-04-12), rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
وقت بہت زیادہ ہو گیا ہے میں اس بارے میں کل ہی کچھ لکھوں گا ان شاءاللہ
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), فاروق سرورخان (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اس معاملے میں سب سے اہم مسئلہ رئیس مملکت (Head of the State) کے تقرر کا ہے جس کو اسلام میں امام، امیر اور خلیفہ کی مختلف اصطلاحوں سے یاد کیا جاتا ہے، اور اس باب میں اسلام کے مسلک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف رجوع کریں۔ جیسا کہ آپ سب حضرات جانتے ہیں، ہمارے موجودہ اسلامی معاشرے کا آغاز مکے میں کفر کے ماحول میں ہوا تھا اور اس ماحول سے لڑ کر اسلامی معاشرے کی ابتدا کرنے والے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ یہ اسلامی معاشرہ جب اپنے نظم اور سیاسی خود مختاری میں ترقی کر کے ایک اسٹیٹ بننے کی منزل پر پہنچا تو اس کے اولین رئیس بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے، اور آپ کسی کے منتخب کر دہ نہ تھے بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے ہوئے تھے۔ دس سال تک آپۖ اس ریاست کی امارت کا فریضہ انجام دینے کے بعد رفیق اعلیٰ سے جا ملے بغیر اس کے کہ اپنی جانشینی کے متعلق کوئی صریح اور قطعی ہدایت دے کر تشریف لے جاتے۔ آپۖ کے اس سکوت سے، اور قرآنِ مجید کے اس ارشاد سے کہ وَاَمْرُھُمُ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ''مسلمانوں کے معاملات آپس کے مشورے سے انجام پاتے ہیں۔'' صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ نبی کے بعد رئیس مملکت کا تقرر مسلمانوں کے اپنے انتخاب پر چھوڑا گیا ہے، اور یہ انتخاب مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللٰہ عنہ کا انتخاب مجمع عام میں ہوا۔ پھر جب ان کا آخری وقت آیا تو اگرچہ ان کی رائے میںخلافت کے لیے موزوں ترین شخص حضرت عمررضی اللٰہ عنہ تھے، لیکن انھوں نے اپنے جانشین کو نامزد نہ کیا بلکہ اکابر صحابہ کو الگ الگ بلا کر ان کی رائے معلوم کی، پھر حضرت عمر رضی اللٰہ عنہ کے حق میں اپنی وصیت اِملا کرائی، پھر حالت مرض ہی میں اپنے حجرے کے دروازے پر مسلمانوں کے مجمع عام کوخطاب کر کے فرمایا: اَ تَرْضَوْنَ بِمَنْ اَسْتَخْلِفُ عَلَیْکُمْ؟ فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ مَا اَلْوَتُّ مِنْ جَھْدِی الرَّأْیَ وَلَا وَلَّیْتُ ذَا قِرَابَةٍ۔ وَاِنِّیْ اَسْتَخْلِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَاسْمَعُوْا لَہ وَاطِیْعُوْا۔''کیا تم راضی ہو اُس شخص سے جس کو میں تم پر اپنا جانشین بناؤں؟ خدا کی قسم! میں نے غور و فکر کر کے رائے قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی ہے، او راپنے کسی رشتہ دار کو مقرر نہیںکیا ہے۔ میں نے عمر بن خطاب کو جانشین بنایا ہے۔ پس تم ان کو سنو اور اطاعت کرو۔''
مجمع سے آوازیں آئیں: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ''ہم نے سنا اور مانا۔''(طبری۔ ج:٢، ص:٦١٨۔ مطبعة الاستقامہ مصر) اس طرح مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کا تقرر بھی نامزدگی سے نہیں ہوا بلکہ خلیفۂ وقت نے مشورے سے ایک شخص کو تجویز کیا اور پھر مجمع عام میں اس کو پیش کر کے منظور کرایا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللٰہ عنہ کے دنیا سے رخصت ہونے کی باری آئی۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد ترین رفیقوں میں سے چھے اصحاب ایسے موجود تھے جن پر خلافت کے لیے مسلمانوں کی نگاہ پڑ سکتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللٰہ عنہ نے انھی چھے اصحاب کی ایک مجلس شوریٰ بنا دی اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ باہمی مشورے سے ایک شخص کو خلیفہ تجویز کریں، اور اعلان کر دیا کہ: مَنْ تَاَمَّرَ مِنْکُمْ عَلٰی غَیْرِ مَشْوَرَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَاضْرِبُوْا عُنُقَہُ۔ (الفاروق عمر، محمد حسین ہیکل، ج:٢، ص:٣١٣) ''تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بنے اس کی گردن مار دو۔'' اس مجلس نے بالآخر انتخاب کا کام حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللٰہ عنہ کے سپرد کیا اور انھوں نے مدینے میں چل پھر کر عام لوگوں کی رائے معلوم کی۔ گھر گھر جا کر عورتورں تک سے پوچھا۔ مدرسوں میں جا کر طلبہ تک سے دریافت کیا۔ مملکت کے مختلف حصوں کے جو لوگ حج سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس جاتے ہوئے مدینے میں ٹھہرے تھے ان سے استصواب کیا۔ اور اس تحقیقات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ امت میں سب سے زیادہ معتمد علیہ دو شخص ہیں، عثمان اور علی اور ان دونوں میں سے عثمان کی طرف زیادہ لوگوں کا میلان ہے۔ اسی رائے پر آخر کار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ ہوا۔ اور مجمع عام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ پھر حضرت عثمان رضی اللٰہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور امت میں سخت افراتفری برپا ہو گئی۔ اس موقع پر چند صحابہ حضرت علی ص کے مکان پر جمع ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ آج آپ سے زیادہ امارت کا حق دار کوئی نہیں، آپ اس بار کو سنبھالیں۔ حضرت علی رضی اللٰہ عنہ نے انکار کیا، مگر وہ اصرار کرتے رہے۔ آخر کار حضرت علی رضی اللٰہ عنہ نے فرمایا کہ اگر آپ لوگ یہی چاہتے ہیں تو مسجد میں چلیے۔ فَاِنَّ بَیْعَتِیْ لَا تَکُوْنُ خَفِیًّا وَلَا تَکُوْنُ اِلاَّ عَنْ رِضًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (طبریـ ج:٣، ص:٤٥) ''کیونکہ میری بیعت خفیہ طور پر نہیں ہو سکتی، اور مسلمانوں کی عام رضامندی کے بغیر اس کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔'' چنانچہ آپ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے اور مہاجرین و انصار جمع ہوئے اور سب کی نہیں تو کم از کم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اکثریت کی مرضی سے آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ پھر جب حضرت علی رضی اللٰہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد کیا ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسن سے بیعت کر لیں؟ اس پر انھوں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ: مَا آمُرُکُمْ وَلَا اَنْھَاکُمْ، اَنْتُمْ اَبْصَرُ۔ (طبری۔ ج: ٢، ص:١١٢ ) ''میں نہ تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔'' یہ ہے رئیس مملکت کے تقرر کے معاملے میں خلافت راشدہ کا تعامل اور صحابہ کرام کا اجماعی طرزِ عمل جس کی بنیاد خلافت کے باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت اور تمام اجتماعی معاملات کے باب میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَاَمْرُھُمُ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ پر رکھی گئی تھی۔ اس مستند دستوری رواج سے جو بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں صدر کا انتخاب عام لوگوں کی رضا مندی پر منحصر ہے۔ کوئی شخص خود زبردستی امیر بن جانے کا حق نہیں رکھتا۔ کسی خاندان یا طبقے کا اس منصب پر اجارہ نہیں ہے۔ اور انتخاب کسی جبرکے بغیر مسلمانوں کی آزادانہ رضا مندی سے ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ مسلمانوں کی پسند کیسے معلوم کی جائے، تو اس کے لیے اسلام میں کوئی خاص طریق کار مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ حالات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان سے معقول طور پر یہ معلوم کیا جا سکتا ہو کہ جمہور قوم کا اعتماد کس شخص کو حاصل ہے۔ (اسلامی ریاست: از سید ابوالاعلیٰ مودودی ص، ٣٣٦ـ ٣٤٠)
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ Last edited by ھارون اعظم; 25-07-10 at 12:38 AM. وجہ: کچھ الفاظ کی تصحیح |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), ہادی (02-01-12), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), آبی ٹوکول (25-07-10), ابرارحسین (26-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), سحر (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12), عبداللہ آدم (25-07-10) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ماشاء اللہ ہارون بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات واضح ہوگئی ہے۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), ھارون اعظم (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بات واضح کس طرحہو گئی ہے؟
بحث کا اصل موضوع خلافت کیا قریش کا حق ہے؟ اس پر تو کوئی بات ہوئی ہی نہیںہے۔ خلافت کے بعد کے ادوار کے لیے ایک الگ موضوع بنا لیں۔ جس میں صرف خلافت کے بعد کے ادوار کے متعلق لکھیں۔ والسلام |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), کنعان (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), حیدر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَا یُعَادِیْھِمْ اَحَدَ اِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ عَلَی وَجْھِہٖ مَٓا اَ قَامُوْا الدِّیْنَ
بخاری: کتاب الاحکام۔ آپ اگر اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے پڑھیں تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا ۔ اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کہیں نہیں ہے کہ خلافت قریش کا حق ہے ۔ یہ حدیث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ہے ۔ اگر آپ تاریخ پر نظر دورائیں تو واقع یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سچ ثابت ہورہی ہے ۔ اسلامی تاریخ کا ایک بڑا حصہ قریش نے حکومت کی ہے ۔ خلافت راشدہ ، بنو امیہ اور بنو عباس ۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ کیسی حکومتیں تھیںلیکن اتنا لمبا عرصہ تمام مسلمانوں نے قریش کو اپنا کو حکمران تسلیم کیا ۔ اور بعض کے ادوار میں مسلمانوں نے بہت ترقی کی ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), ھارون اعظم (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), حیدر (25-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10), عبداللہ حیدر (01-08-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ دوسری احادیث بھی ہیں ان کو بھی بیان کر دیں ۔۔ جن میں حکم دیا گیا ہے
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), فاروق سرورخان (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), حیدر (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ تعالی کے اگر کوئی احکامات ہوں اس بارے میں تو سب کی معلومات میں اضافہ فرمائیے۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), منتظمین (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), حیدر (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ نے ہی کسی کو عزت بخشی ہے اور کسی کو ذلت۔ کسی کو غریب رکھا ہے اور کسی کو امیر۔ کسی کو حاکم کیا ہے اور کسی کو محکوم۔ اگر نبی علیہ السلام نے کوئی ایسا حکم فرمایا ہے جو کہ کسی بھی طور پر اللہ کے احکامات کے خلاف نہیں تو کچھ لوگوں کو اس کی کیوں تکلیف ہے اس کی سمجھ نہیں آرہی حالانکہ یہ سب اللہ کے حکم کے مطابق ہی ہے ہمارا ایمان ہے کہ نبی علیہ السلام کا ہر فرمان اللہ کا حکم ہی ہے اسی لیے آپ اللہ نے اپنے قرآن میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ نبی اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتے۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), مرزا عامر (26-07-10), حیدر (25-07-10), راجہ اکرام (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین بھائی و دیگر سے معذرت کہ ایک مراسلہ "آف دی ٹاپک" کر رہا ہوں کیونکہ سابقہ ٹاپک "خلافت یا ملوکیت یا ففٹی ففٹی" میں مجھ سے ایک ہی سوال دو مختلف ممبرز کی جانب سےپوچھا گیا تھا اسکے بارے میں اپنی رائے دے دوں۔ مجھے کہا گیا کہ میں خود ہی اتنی واضح احادیث پیش کر رہا ہوں کہ منصب کے لیے انسان کو خؤد کوشش نہیں کرنی چاہیے اور پھر خود ہی آخر میں کہہ رہا ہوں کہ میرا خیال ہے کوئی حرج بھی نہیں۔
اصل میں اب تک میرے سامنے جتنی بھی احادیث آئی ہیں منصب کی قبولیت سے متعلق اس کا منشا جو مجھے محسوس ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو "منصب" یعنی جاہ و حشمت کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ اگر یہ اتنا ہی ناپسندیدہ امر ہوتا تو واضح طور پر منع کر دیا جاتا صرف کراہت نہ دلائی جاتی۔ تیسری بات اگرت آپج کے دور میں اگر کوئی مخلص انسان دعویٰ کرتا ہے کہ اگر مجھے حکومت مل گئی تو میں اسلامی نظام نافذ کروں گا۔ ۔ ۔ ۔تو کیا ہم کہیں گے کہ وہ حکومت کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے؟ چناچہ جب احادیث کو وسیع تناظر میں دیکھتا ہوں تو مجھے یہ کہنے میں پھر کوئی عار نہیں کہ کوئی مخلص شخص بھی عہدے کی طلب کر سکتا ہے۔جیسے امام ابو یوسف نے عہدہ قضا قبول کیا تھا (میرے خیال میں امام یوسف ہی تھے)۔ بہر کیف اگر اختلاف ہو بھی سہی مجھ سے تو بھی اس ٹاپک میں مت کیجیے گا۔آف ٹاپک گفتگو ہو جائے گی۔ شکریہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امامت قریش کی بابپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات:
یہ کام (امامت) قریش میں رہے گا،جو شخص بھی اس کام میں انکی مخالفت کرے گا اسے اللہ اوندھے منہ آگ میں پھینکے گا جب تک وہ دین کو قائم کرتے رہیں گے: بخاری اے گروہ قریش تم اس کام کے اہل ہو جب تک کہ اللہ کے کام کی نافرمانی نہ کرو۔پھر اگر نافرمانی کرو گے تو اللہ تم پر کسی کو بھیجے گاتو وہ تمہاری کھال اس طرح اتارے گا جیسے اس ٹتہنی کی چھال اتار دی جائے:مسند احمد ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں کی لعنت: مسند احمد، مسند ابو داؤد تم اس کار حکومت کے سب لوگوں سے زیادہ مستحق ہو جب تک کہ حق پر قائم رہو جب تم حق سے منہ موڑو گے تو وہ تمہاری کھال اس طرح اتارے گا جیسے اس ٹتہنی کی چھال اتار دی جائے: امام شافعی اور بہیقی قریش کو آگے کرو اور ان سے آگے نہ بڑھو: بہیقی، طبرانی، شافعی قریش لوگوں کے قائد و رہنما ہیں: مسند احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چناچہ یہ تمام احادیث واضح طور پر ایک اہم نقطے کی طرف اشارہ کرتی محسوس ہوتی ہیں وہ یہ کہ انکے لیے حکومت تب تک لازم قرار دی گئی جب تک ان میں چند خصوصیات پائی جاتی رہیں گی۔ واللہ عالم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), skjatala (30-04-12), مرزا عامر (26-07-10), ابرارحسین (26-07-10), راجہ اکرام (25-07-10), شمشاد احمد (01-05-12), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اگر کوئی یہ ثابت کرسکے کہ سینکڑوں سال بعد لکھی جانے والی کتب میں رسول اکرم سے منسوب شدہ روایت ، در حقیقت رسول اکرم نے ہی کہی تھی تو اس روایت پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن یہ شرط ہے کہ یہ ضرور ثابت کیا جائے کہ منسوب شدہ روایت در حقیقت رسول اکرم کا فرمان مبارک ہے۔ نبی کے اپنی خواہش سے بولنے کی بات تو بہت بعد میں آئے گی۔ اگر ایسا ثابت نہیں کیا جاسکتا تو آپ کے لئے آپ کا ایمان اور میرے لئے میرا ایمان۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 25-07-10 at 11:16 PM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-04-12 | rana ammar mazhar | اگر ایسا ثابت نہیں کیا جاسکتا تو آپ کے لئے آپ کا ایمان اور میرے لئے میرا ایمان۔ | 10 |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امات قریش کے معاملے میں علمائے امت کا مسلک:
"اور وہ سب (مکتبہ ہائے فکر)اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قریشی النسل ہونا لازمی ہے: الفارق بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی (429ہجری) "اہل سنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئیہ کا مذہب یہ ہے کہ امات جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں۔ ۔ ۔ ۔ اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہو اس شخس کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ وہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ ۔: الفصل فی املل و انحل از (452ہجری)ابن خرم تمام امت اس امر پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیںہے" عبدالکریم شہرستانی (548 ہجری) ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہوں اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں: امام نسفی (537 ہجری) امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اسکو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے" قاضی عیاض (544 ہجری) یہ احادیث اور اس معانی کی دوسری احادیث اس بات پر کھلی دلیل ہیں کہ خلافت قریش کے لیے خاص ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں: اما نوی فی شرح المسلم تمام اکابر اہل علم آٹھ صدیوں تک مسلسل اس مسئلے پر امت کا اجماع نقل کرتے چلے گئے۔ تاہم نویں صدی کے قریب پہنچ کر ابن خلدون خبر دیتا ہے کہ یہ اجماع ٹوٹنا شروع ہو گیا مگر اس بنا پر نہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مبارکہ کے نئے معننی یا نص دریافت ہو گئے تھے بلکہ اس لیے کہ قریش کا اثر و اقتدار کمزور پڑتا گیا اور مسلسل عیش و عشرت میں رہتے رہتے انکی طاقت اور ساتھی کم ہوتے گئے اور وہ روئے زمین پر منتشر ہو گئے تو وہ بار خلافت اٹھانے سے عاجز ہو گئے اسی وجہ سے بکثرت محققین پر انکا معاملہ مشتبہ ہو گیا اور وہ یہ رائے قائم کرنے لگ پڑے کہ اب خلافت کے لیے قرشیت کی شرط باقی نہیں رہی۔ یہی بنیاد تھی کہ آخر کار دسویں صدی میں علما کے ایک بڑے گروہ نے سلاطین آل عثمان کی خلافت تسلیم کر لی واللہ عالم |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-04-12), فاروق سرورخان (26-07-10), ھارون اعظم (26-07-10), منتظمین (26-07-10), مرزا عامر (26-07-10), راجہ اکرام (25-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
![]() |
| Tags |
| color, net, pak, post, red, url, پیش, قریش, چل, منافی, مساوات, اٹھ, الگ, اسلامی, اصولوں, بھائی, بحث, جمہوریت, حق, خلافت, سوالات, سلام, سارے, ضمنی, طویل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فکرِ غامدی : اپنے ہی اصولوں سے واضح انحراف | ALI-OAD | اسلام اور عصر حاضر | 17 | 01-05-12 10:10 PM |
| صومالی قزاقوں نے ڈنمارک کے بحری جہاز اغواء کرکے 7 شہری یرغمال بنا لئے | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-03-11 04:29 AM |
| اصولوں کی سخت پابندی! | Zullu230 | گپ شپ | 15 | 26-01-11 11:13 AM |
| مسلمانوں کے لیے انٹر نیٹ استعمال کرنے کے رہنما اصول | حیدر | اپکے کالم | 11 | 25-12-09 12:16 AM |
| فکر غامدی : اپنے ہی خودساختہ اصولوں سے واضح انحراف | باذوق | اسلام اور عصر حاضر | 25 | 25-08-08 01:08 PM |