| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1691
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-07-10), ھارون اعظم (24-07-10), مرزا عامر (26-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), رفیع انجم (25-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ ازالتہُ الخفاء میں لکھتے ہیں ۔
شاہ ولی اللہ شروط خلافت بیان کرتے ہیں ۔ خلیفہ مسلمان ، عاقل ، بالغ ، عادل یعنی کبیرہ گناہوں سے بچنے والا اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنے والانہ ہو ۔ ذی مروت ہو نہ کہ ہرزہ گرد وراستہ مزاج ۔ شاہ ولی اللہ انعقاد خلافت کے طریقے بیان فرماتے ہیں پہلا ان کے نزدیک اہل حل و عقد کا انتخاب ہے ، یعنی مملکت کے عالم ، قاضی ، اور نامور لوگ بیعت کرلیں اس سلسلے میں وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر بیعت کی اور جس نے لی ، ان کی کوئی بیعت نہیں بلکہ وہ دونوں سزاوار قتل ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اس پہلے طریق پر منعقد ہوئی ۔ دوسرا طریقہ خلیفہ کسی شخص کو مسلمانوں کی خیر خواہی کو سامنے رکھ کر بطور جانشین تجویز کردے جو شروط خلافت کا جامع ہو ۔ اور لوگوں کو جمع کرنے کے بعد ان کے سامنے اس کا اعلان کردے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت اسی طرح منعقد ہوئی ۔ تیسرا طریقہ مجلس شوریٰ کا قیام ہے خلیفہ ایک ایسی جماعت میں امر خلافت دائر کردے جس جماعت کے تمام ارکان شروط خلیفہ پر پورے اترتے ہوں ۔ یہ مجلس شوریٰ خیلفہ کے انتقال کے بعد مشورہ کرے اور ایک شخص کو خلیفہ معین کرلے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب اسی طریق پر ہوا ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (24-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), آبی ٹوکول (25-07-10), ابن آدم (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بعض صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں جمع ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا ۔ جب آپ سے بار بار تقاضا کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک اہل شوریٰ اور اہل بدر میری خلافت پر اتفاق کا اظہار نہ کریں اس وقت تک میری خلافت منعقد نہیں ہوسکتی
تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 450 میں آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی منقول ہے میری بیعت مخفی طریق پر نہیں ہوسکتی ، اس کے لیے مسلمانوں کی رضائے عام لازم ہے ۔ پہر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مسجد نبوی میں جمع ہونے کا مشورہ دیا ۔ اور مہاجرین و انصار صحابہ رضی اللہ عنہ کی اکثریت نے آپ سے بیعت کی |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اموی اور عباسی ادوار بھی خلافت میں شامل ہی ہوئے کیونکہ ان میں جانشینی کا سلسلہ تھا اور شاہ ولی اللہ نے اسے بھی خلافت کے انعقاد کے طریقوں میں سے ایک بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی حاکمیت الٰہی اور بیت المال تو جاری تھا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اس طریقے کی توثیق بھی ہو گئی؟؟؟؟؟ والسلام |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الاحکام السطانیہ للماوردی میں
امام ماوردی کہتے کہ ہیں کہ خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا جانشین تجویز کرے جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کردیا تھا ۔اور مسلمانوں نے اسے تسلیم کرلیا تھا ۔ آگے فرماتے ہیں جب امام کا ارادہ ہو کہ وہ جانشین مقرر کرے تو وہ پوری طرح غورو فکر کرے کہ کون شخص امامت کا سب سے ذیادہ مستحق اور شرائط خلافت پر سب سے ذیادہ پورا اترنے والا ہے ۔ اپنے فہم کی پوری جدوجہد کے بعد جب اس کی رائے ایک شخص پر جم جائے تو دیکھے کہ وہ کون ہے ۔ پس وہ اس کا بیٹا یا والد نہ ہو ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امام ابن جریر اپنی تاریخ جلد 2 میں لکھتے ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دریچے میںسے لوگوں کی طرف جھانکا جب آپ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عُمیس نے آپ رضی اللہ عنہ کو تھام رکھا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے کہ کیا تم لوگ میرے جانشین پر راضی ہو؟ خدا کی قسم میںنے غوروخوض میں کمی نہیں کی اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو ولایت نہیں سونپی ۔ میںنے عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کو خلیفہ تجویز کیا ہے پس سنو اور مانو ۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو لوگوں نے آپ کو جانشین مقرر کرنے کا مشورہ دیا ۔ آپ متردد ہوئے البتہ
آپ نے خلافت کے نام تجویز کرنے کا کام ایسے اصحاب کے سپرد کیا جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تو جنت کے مکین ہوچکے تھے۔ تیسرے خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے جو جنت جانے کے لیے پابرکاب تھے ۔ باقی سات اصحاب بقید حیات تھے ۔ جن میں سے چھ کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا گیا ۔ ساتویں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت سعید بن زید کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مستثنیٰ قرار دیا تھا ۔ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جن چھ اصحاب کا نام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تجویز کیے تھے ، وہ عثمان رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ ، طلحہ رضی اللہ عنہ ، زبیر رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، اور عبدالرحمنٰ بن عوف رضی اللہ عنہ تھے ۔ اور انہوں نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ بن زید کو شامل نہیں کیا حالانکہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے ۔ کیونکہ وہ ان کے اقارب میں سے تھے ۔ پس آپ نے انہیں شوریٰ میں داخل نہیں فرمایا ۔ جیسا کہ آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بھی شریک نہیں کیا ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#9 | ||||
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اب اگر ان تین طریقوں سے کوشش کی جائے تو صرف پہلا ہی قابل عمل ہے۔ لیکن میرے ذہن میں ایک اورطریقہ بھی آرہا ہے ،کہ ہم خلفاء کی سنت پر عمل کریں، وہ نہیں جو انہوں نے کیا بلکہ جیسے انہوں نے کیا۔ پہلا طریقہ:کوئی کسی کو انتخاب کیلئے پیش کرے اور لوگ اسے منتخب کرلیں۔ دوسرا طریقہ:پہلے سے موجود خلیفہ کسی کو منتخب کرے اور لوگ اسے قبول کر لیں(ظاہر سی بات ہے کہ ان کے پاس یہ اختیار تو ہو گا کہ وہ اسے ریجیکٹ بھی کر سکیں)حضرت ابوبکرؓ کے الفاظ پر غور کریں انہوں نے حکم نہیں دیا تھا بلکہ درخواست کی تھی یا رائے لی تھی اقتباس:
خدارا ہم لوگ لکیر کے فقیر نہ بنیں ،شائد سکولوں/مدرسوں میں رٹا لگا لگا کر ہم لوگ ہر کام کی ہو بہو نقل لگانے کی کو شش کرتے ہیں ،بجائے اس طریقے کو فالو کرنے کے۔ جیسے کہ اصحاب رسول نے کیا ،کیا ایسے طریقے سے خلیفہ منتخب کرنے کا طریقہ نبی پاک ﷺ نے سکھایا تھا ،یا اصول (لوگوں میں قابل قبول اور متقی)بتا دیئے اور ان پر عمل کیا گیا ،لیکن ہمارے لیے وہ اصول ضروری نہیں ہیں بلکہ ان کا فعل مجبوری بن گیا ہے ۔ |
||||
|
|
|
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابرار بھائی
ہم یہاں پہلے خلافت کے اصول بیان کررہے ہیں۔ اکابرین نے جو بیان کیے ہیں ۔ ہمارے ساتھ مسئلہ ہے ہم اسلام کو نا پڑھنا چاہتے ہیںاور نا سمجھنا چاہتے ۔ وقت اور محنت بھی صرف نہیں کرنا چاہتے ہیں عمل تو بہت دور کی بات ہے ۔ آپ نے بہت آسانی سے کہہ دہا کہہ یہ قابل عمل نہیں ۔ پہلے سمجھیں تو کہ خلافت کہتے کس کو ہیں پہر سوچیے کہ یہ قابل عمل ہے یا نہیں ۔ اگر آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اور خلفائے راشدین کی بات کو من وعن تسلیم کرنے کو لکیر کے فقیر کہا تو مجھے آپ کا یہ کمنٹ قبول ہے ۔ شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), ابرارحسین (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور رہی لکیر کے فقیر کی بات تو کچھ لوگ ایسے ہیں جو ثوب(عربی لباس) کو سنت سمجھتے ہیں ،جب کہ شلوار قمیض ان کی نظر میں سنت نہیں ہے ۔جب کہ مجھے ابھی تک کوئی یہ نہیں دکھا سکا کہ نبی پاک ﷺ نے ثوب کو پہننے کا حکم دیا ہو۔بلکہ وہ ایک ایسا لباس تھا جو کہ اس وقت کے لوگ عرب میں پہنتے تھے۔اور آپ ﷺ بھی وہی پہنتے تھے۔جب کہ آپ ﷺ نے جو حکم دیا کہ لباس میں یہ یہ خصوصیات ہونی چاہیے توجو جو اس پر عمل کر رہا ہوتا ہے وہ بھی میری سمجھ کے مطابق سنت پر ہی عمل کر رہا ہوتاہے۔ اور خلافت کے بارے میں تو نبی ﷺ کی سنت کو بھی چھوڑ کر اصحاب رسول ؓ کی سنت کو بھی بعینہ عمل کرنے کی بات کی جاتی ہے ،چہ جائیکہ ان اصولوں پر عمل کیا جائے جن پر اصحاب رسول ﷺ نے عمل کیا۔ |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابرار بھائی
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ہے جب بھی ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم صحابہ رضی اللہ عنہ کا طریقہ دیکھنے کے بجائے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو تسلیم کیا کرتے تھے اور عمل کیا کرتے تھے ہم یہ دیکھنے لگتے ہیں ہیں کہ آجکل لوگ اسلام کو کس طرح لیتے ہیں ۔ ہمارے سامنے آجکل کے لوگ معیار نہیں بلکہ معیار صحابہ رضی اللہ عنہ اور وہ لوگ جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہیں ۔ آپ جن لوگوں کی بات کررہے ہیں کہ وہ شلوار قمیص کو خلاف سنت قرار دیتے ہیں کیا وہ لوگ شلوار قمیص نہیں پہنتے ہیں ۔ ویسے ان باتوں میں اپنی توانائی خرچ کرنے کے بجائے ۔ اسلام کے صحیح اصول سمجھنے میں لگائیں ۔ تو ہم سب کا بہت فائدہ ہوگا ۔ جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ جب خلیفہ ہی نہیں تو یہ تمام شرائط کیسی پوری ہونگی ۔ اس کی مثال بھی اسلامی تاریخ میں موجود ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز وہ جب خلیفہ بنے تو ان سے پہلے بادشاہت تھی ۔ میں کوشش کروں گی ایک کے بعد ایک تمام حکومتوں کا حال ریفرنسس کے ساتھ پیش کروں انشاءاللہ ۔ آپ بھی مطالعہ کریں اور کوشش کریں بات مثبت طریق پر ہو شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ بھائی کی تحریر
اقتباس:
دیکھیں اصل چیز ہوتی ہے کہ اللہ کے نظام عدل کو قائم کرنا اس نظام کے تحت جو اللہ نے دیا ہے یعنی خلافت، اب بہن آپ سمجھتیں ہیں کہ جو اپنی اولاد میں سے جانشین مقرر کر دے تو وہ خلافت نہیں بلکہ ملوکیت ہے جبکہ ایسا نہیں ہے گو کہ بعض حضرات اس کو ایسے ہی مانتے ہیں مگر یہ نظام پھر بھی خلافت کا ہی ہوتا ہے، دیکھیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے بھی تو اپنے بیٹے کو جانشین بنایا تھا ان کی خلافت کو سبھی خلافت ہی کہتے ہیں مگر جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو جانشین بنایا تو اس کو ملوکیت کس دلیل سے بنایا جاتا ہے؟ اسی بات کو لے کر بہت سے مسلمان لوگ ہی یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ کیسا نظام ہے جو صرف چند عشرے قائم رہا۔ بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ اگر خلیفہ اپنا بیٹا جانشین بنادے گو کہ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے اور صرف ایک کام غلط ہونے سے پورا نظام باطل یا غلط نہیں ہوجاتا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دیکھیں احادیث میں بہت واضح احکامات ہیں کہ خلیفہ کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو بےشک وہ ظالم، جابر اور فاسق ہی کیوں نہ ہو، دوسرا ایسا طریقہ کہ جس کی دلیل پہلے گزرے ہوئے خلفاء راشدین کی سنت سے بھی ملتی ہے کہ اپنے بیٹے کو جانشین بنانا پھر بھی ہم اس طریقہ کو نہ مانیں تو صحیح نہیں ہے، اصل میں تب ہی خراب ہوتا ہے جب کوئی خلیفہ اللہ کے قوانین کو قائم نہ کرئے اور یا کھولا کفر کرئے، یا عام مسلمانوں میں صلوٰۃ قائم نہ کرئے، پھر اس خلیفہ کی کوئی اطاعت نہیں رہے گی اور پھر وہ شرعی طور پر خلیفہ نہیں رہے گا لیکن اگر وہ یہ سب کچھ صحیح طریقے کے مطابق کررہا ہے تو وہ ولی عہد کی حکومت خلافت ہی ہوگی۔ اس ساری بات میں ایک بات لازم ہے کہ وہ شخص خلیفہ کی سبھی شرائط پوری کرتا ہو۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین Last edited by محمد عاصم; 25-07-10 at 02:47 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (26-07-10), حیدر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), سحر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عاصم بھائی
یہاں مجھے آپ سے اختلاف ہے ۔ اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کرنا ۔ کیوں اور اہل مدینہ کے کسی صحابیوں کی اولاد کا بیعت نا کرنا کس زمرے میں جائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا حجاج بن یوسف سے جنگ کرنا ۔ آپ کے خیال میں کیا تھا ۔ میں اس معاملے میں خود بحث کرنے سے پرہیز کروں گی ۔ لیکن آپ کی باتوں کے جواب میں اکابرین کے ارشادات یہاں لکھ دیتی ہوں فیصلہ آپ خود کرلیں ۔ شکریہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ابرارحسین (25-07-10), حیدر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), سحر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10) |
![]() |
| Tags |
| net, pak, post, url, ہیں؟, کرئے, گا؟, وقت, لوگ, لوگوں, منتخب, مدینہ, ایل, اللہ, انتخاب, حق, حل, خلیفہ, دوسرے, سلام, شوری, شخص, عقد, عالم, صدیق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا یہ انسان ہیں؟ | علی عمران | گپ شپ | 12 | 08-09-11 09:18 PM |
| الزام کسے دیں؟ | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 13 | 07-08-10 12:32 AM |
| عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ | منتظمین | میرا پاکستان | 32 | 23-07-10 08:14 PM |
| سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 25 | 25-06-10 07:50 PM |
| ہم کس گروہ سے ہیں؟ | sahj | عمومی بحث | 4 | 01-02-10 01:38 PM |