واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


خلیفہ کون منتخب کرئے گا؟ اہل شوری کون ہیں؟ کیا یہ مدینہ کا حق ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-07-10, 08:51 PM   #1
خلیفہ کون منتخب کرئے گا؟ اہل شوری کون ہیں؟ کیا یہ مدینہ کا حق ہے؟
منتظمین منتظمین آف لائن ہے 24-07-10, 08:51 PM

سلام!
خلیفہ کون منتخب کرئے گا؟ اہل شوری کون ہیں؟ کیا یہ مدینہ کا حق ہے؟ کیا کسی خلیفہ کے انتخاب کے وقت عام لوگوں سے اس بارے میں استسفار کیا گیا؟

کچھ دوسرے بحثیں

خلافت قریش کا حق ہے؟ کیا یہ اسلامی مساوات کے اصولوں کے منافی ہے؟

http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8...93/#post300328

جمہوریت دینِ ابلیس


والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!

Last edited by shafresha; 25-07-10 at 02:21 AM.. وجہ: عنوان کی تصیح!

 
منتظمین's Avatar
منتظمین
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1691
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-07-10), ھارون اعظم (24-07-10), مرزا عامر (26-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), رفیع انجم (25-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10)
پرانا 24-07-10, 11:20 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ ازالتہُ الخفاء میں لکھتے ہیں ۔
شاہ ولی اللہ شروط خلافت بیان کرتے ہیں ۔
خلیفہ مسلمان ، عاقل ، بالغ ، عادل یعنی
کبیرہ گناہوں سے بچنے والا اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنے والانہ ہو ۔ ذی مروت ہو نہ کہ ہرزہ گرد وراستہ مزاج ۔

شاہ ولی اللہ انعقاد خلافت کے طریقے بیان فرماتے ہیں
پہلا ان کے نزدیک اہل حل و عقد کا انتخاب ہے ، یعنی مملکت کے عالم ، قاضی ، اور نامور لوگ بیعت کرلیں
اس سلسلے میں وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر بیعت کی اور جس نے لی ، ان کی کوئی بیعت نہیں بلکہ وہ دونوں سزاوار قتل ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اس پہلے طریق پر منعقد ہوئی ۔
دوسرا طریقہ
خلیفہ کسی شخص کو مسلمانوں کی خیر خواہی کو سامنے رکھ کر بطور جانشین تجویز کردے جو شروط خلافت کا جامع ہو ۔ اور لوگوں کو جمع کرنے کے بعد ان کے سامنے اس کا اعلان کردے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت اسی طرح منعقد ہوئی ۔
تیسرا طریقہ
مجلس شوریٰ کا قیام ہے
خلیفہ ایک ایسی جماعت میں امر خلافت دائر کردے جس جماعت کے تمام ارکان شروط خلیفہ پر پورے اترتے ہوں ۔ یہ مجلس شوریٰ خیلفہ کے انتقال کے بعد مشورہ کرے اور ایک شخص کو خلیفہ معین کرلے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب اسی طریق پر ہوا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (24-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), آبی ٹوکول (25-07-10), ابن آدم (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10)
پرانا 24-07-10, 11:48 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بعض صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں جمع ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا ۔ جب آپ سے بار بار تقاضا کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک اہل شوریٰ اور اہل بدر میری خلافت پر اتفاق کا اظہار نہ کریں اس وقت تک میری خلافت منعقد نہیں ہوسکتی
تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 450 میں آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی منقول ہے
میری بیعت مخفی طریق پر نہیں ہوسکتی ، اس کے لیے مسلمانوں کی رضائے عام لازم ہے ۔

پہر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مسجد نبوی میں جمع ہونے کا مشورہ دیا ۔ اور مہاجرین و انصار صحابہ رضی اللہ عنہ کی اکثریت نے آپ سے بیعت کی
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10)
پرانا 24-07-10, 11:54 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اموی اور عباسی ادوار بھی خلافت میں شامل ہی ہوئے کیونکہ ان میں جانشینی کا سلسلہ تھا اور شاہ ولی اللہ نے اسے بھی خلافت کے انعقاد کے طریقوں میں سے ایک بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی حاکمیت الٰہی اور بیت المال تو جاری تھا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اس طریقے کی توثیق بھی ہو گئی؟؟؟؟؟

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10)
پرانا 25-07-10, 12:03 AM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اموی اور عباسی ادوار بھی خلافت میں شامل ہی ہوئے کیونکہ ان میں جانشینی کا سلسلہ تھا اور شاہ ولی اللہ نے اسے بھی خلافت کے انعقاد کے طریقوں میں سے ایک بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی حاکمیت الٰہی اور بیت المال تو جاری تھا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اس طریقے کی توثیق بھی ہو گئی؟؟؟؟؟

والسلام
جانشینی اور ولی عہد میں فرق ہوتا ہے ۔
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (25-07-10), رفیع انجم (25-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 11:46 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الاحکام السطانیہ للماوردی میں
امام ماوردی کہتے کہ ہیں کہ خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا جانشین تجویز کرے جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کردیا تھا ۔اور مسلمانوں نے اسے تسلیم کرلیا تھا ۔
آگے فرماتے ہیں
جب امام کا ارادہ ہو کہ وہ جانشین مقرر کرے تو وہ پوری طرح غورو فکر کرے کہ کون شخص امامت کا سب سے ذیادہ مستحق اور شرائط خلافت پر سب سے ذیادہ پورا اترنے والا ہے ۔ اپنے فہم کی پوری جدوجہد کے بعد جب اس کی رائے ایک شخص پر جم جائے تو دیکھے کہ وہ کون ہے ۔ پس وہ اس کا بیٹا یا والد نہ ہو ۔
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 11:54 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امام ابن جریر اپنی تاریخ جلد 2 میں لکھتے ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دریچے میں‌سے لوگوں کی طرف جھانکا جب آپ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عُمیس نے آپ رضی اللہ عنہ کو تھام رکھا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے کہ کیا تم لوگ میرے جانشین پر راضی ہو؟ خدا کی قسم میں‌نے غوروخوض میں کمی نہیں کی اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو ولایت نہیں سونپی ۔ میں‌نے عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کو خلیفہ تجویز کیا ہے
پس سنو اور مانو ۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ۔
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 12:17 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو لوگوں نے آپ کو جانشین مقرر کرنے کا مشورہ دیا ۔ آپ متردد ہوئے البتہ
آپ نے خلافت کے نام تجویز کرنے کا کام ایسے اصحاب کے سپرد کیا جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ۔
عشرہ مبشرہ میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تو جنت کے مکین ہوچکے تھے۔
تیسرے خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے جو جنت جانے کے لیے پابرکاب تھے ۔
باقی سات اصحاب بقید حیات تھے ۔
جن میں سے چھ کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا گیا ۔
ساتویں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت سعید بن زید کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مستثنیٰ قرار دیا تھا ۔

امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
جن چھ اصحاب کا نام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تجویز کیے تھے ، وہ عثمان رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ ، طلحہ رضی اللہ عنہ ، زبیر رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، اور عبدالرحمنٰ بن عوف رضی اللہ عنہ تھے ۔
اور انہوں نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ بن زید کو شامل نہیں کیا حالانکہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے ۔
کیونکہ وہ ان کے اقارب میں سے تھے ۔ پس آپ نے انہیں شوریٰ میں داخل نہیں فرمایا ۔ جیسا کہ آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بھی شریک نہیں کیا ۔
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), رفیع انجم (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 01:08 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
شاہ ولی اللہ انعقاد خلافت کے طریقے بیان فرماتے ہیں
پہلا ان کے نزدیک اہل حل و عقد کا انتخاب ہے ، یعنی مملکت کے عالم ، قاضی ، اور نامور لوگ بیعت کرلیں
اس سلسلے میں وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر بیعت کی اور جس نے لی ، ان کی کوئی بیعت نہیں بلکہ وہ دونوں سزاوار قتل ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اس پہلے طریق پر منعقد ہوئی ۔
اس کا مطلب ہے کہ ہم میں‌سے کوئی اٹھ کر کسی کی بیت کر لے اور باقی اس کو مان لیں‌۔(کہیں‌میں‌غلط تو نہیں‌سمجھا)
اقتباس:
دوسرا طریقہ
خلیفہ کسی شخص کو مسلمانوں کی خیر خواہی کو سامنے رکھ کر بطور جانشین تجویز کردے جو شروط خلافت کا جامع ہو ۔ اور لوگوں کو جمع کرنے کے بعد ان کے سامنے اس کا اعلان کردے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت اسی طرح منعقد ہوئی ۔
یہ تو قابل عمل نہیں ہے کیونکہ ہم میں خلیفہ تو موجود ہی نہیں۔جو کسی کو جانشین منتخب کرے۔
اقتباس:
تیسرا طریقہ
مجلس شوریٰ کا قیام ہے
خلیفہ ایک ایسی جماعت میں امر خلافت دائر کردے جس جماعت کے تمام ارکان شروط خلیفہ پر پورے اترتے ہوں ۔ یہ مجلس شوریٰ خیلفہ کے انتقال کے بعد مشورہ کرے اور ایک شخص کو خلیفہ معین کرلے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب اسی طریق پر ہوا
یہ بھی قابل عمل نہیں ہے ،کیونکہ خلیفہ موجود ہو گا تو کچھ لوگوں کو منتخب کر ے گا جب وہ ہے ہی نہیں تووہ کن کو منتخب کرے گا۔

اب اگر ان تین طریقوں سے کوشش کی جائے تو صرف پہلا ہی قابل عمل ہے۔
لیکن میرے ذہن میں ایک اورطریقہ بھی آرہا ہے ،کہ ہم خلفاء کی سنت پر عمل کریں، وہ نہیں جو انہوں نے کیا بلکہ جیسے انہوں نے کیا۔
پہلا طریقہ:کوئی کسی کو انتخاب کیلئے پیش کرے اور لوگ اسے منتخب کرلیں۔
دوسرا طریقہ:پہلے سے موجود خلیفہ کسی کو منتخب کرے اور لوگ اسے قبول کر لیں(ظاہر سی بات ہے کہ ان کے پاس یہ اختیار تو ہو گا کہ وہ اسے ریجیکٹ بھی کر سکیں)حضرت ابوبکرؓ کے الفاظ پر غور کریں انہوں نے حکم نہیں دیا تھا بلکہ درخواست کی تھی یا رائے لی تھی
اقتباس:
آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے کہ کیا تم لوگ میرے جانشین پر راضی ہو؟
تیسرا طریقہ:تیسرا طریقہ خلیفہ بجائے خود کسی کا نام دینے کے ایک جماعت کو منتخب کر لے اور وہ لوگوں سے رائے لے کر کسی کو خلیفہ منتخب کرلے ۔
خدارا ہم لوگ لکیر کے فقیر نہ بنیں ،شائد سکولوں/مدرسوں میں رٹا لگا لگا کر ہم لوگ ہر کام کی ہو بہو نقل لگانے کی کو شش کرتے ہیں ،بجائے اس طریقے کو فالو کرنے کے۔ جیسے کہ اصحاب رسول نے کیا ،کیا ایسے طریقے سے خلیفہ منتخب کرنے کا طریقہ نبی پاک ﷺ نے سکھایا تھا ،یا اصول (لوگوں میں قابل قبول اور متقی)بتا دیئے اور ان پر عمل کیا گیا ،لیکن ہمارے لیے وہ اصول ضروری نہیں ہیں بلکہ ان کا فعل مجبوری بن گیا ہے ۔
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 01:21 PM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابرار بھائی
ہم یہاں پہلے خلافت کے اصول بیان کررہے ہیں‌۔
اکابرین نے جو بیان کیے ہیں ۔
ہمارے ساتھ مسئلہ ہے ہم اسلام کو نا پڑھنا چاہتے ہیں‌اور نا سمجھنا چاہتے ۔
وقت اور محنت بھی صرف نہیں کرنا چاہتے ہیں
عمل تو بہت دور کی بات ہے ۔
آپ نے بہت آسانی سے کہہ دہا کہہ یہ قابل عمل نہیں ۔
پہلے سمجھیں تو کہ خلافت کہتے کس کو ہیں پہر سوچیے کہ یہ قابل عمل ہے یا نہیں ۔
اگر آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اور خلفائے راشدین کی بات کو من وعن تسلیم کرنے کو لکیر کے فقیر کہا تو
مجھے آپ کا یہ کمنٹ قبول ہے ۔
شکریہ
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (26-07-10), ابرارحسین (25-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 02:16 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ابرار بھائی
ہم یہاں پہلے خلافت کے اصول بیان کررہے ہیں‌۔
اکابرین نے جو بیان کیے ہیں ۔
ہمارے ساتھ مسئلہ ہے ہم اسلام کو نا پڑھنا چاہتے ہیں‌اور نا سمجھنا چاہتے ۔
وقت اور محنت بھی صرف نہیں کرنا چاہتے ہیں
عمل تو بہت دور کی بات ہے ۔
آپ نے بہت آسانی سے کہہ دہا کہہ یہ قابل عمل نہیں ۔
پہلے سمجھیں تو کہ خلافت کہتے کس کو ہیں پہر سوچیے کہ یہ قابل عمل ہے یا نہیں ۔
اگر آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اور خلفائے راشدین کی بات کو من وعن تسلیم کرنے کو لکیر کے فقیر کہا تو
مجھے آپ کا یہ کمنٹ قبول ہے ۔
شکریہ
سحر بہن ،میں نے ‌جس کو ناقابل عمل کہا وہ اس وجہ سے کہ اس وقت تو ہمارے پاس کوئی خلیفہ ہے نہیں‌جو کہ کسی کو منتخب کرے اور دوسرے اس پر رائے دیں،اس کے قابل عمل ہونے کی صورت تو اسی وقت ہو سکتی ہے جب ہمارے پاس پہلے خلفیہ موجود ہو۔
اور رہی لکیر کے فقیر کی بات تو کچھ لوگ ایسے ہیں جو ثوب(عربی لباس) کو سنت سمجھتے ہیں ،جب کہ شلوار قمیض ان کی نظر میں سنت نہیں ہے ۔جب کہ مجھے ابھی تک کوئی یہ نہیں دکھا سکا کہ نبی پاک ﷺ نے ثوب کو پہننے کا حکم دیا ہو۔بلکہ وہ ایک ایسا لباس تھا جو کہ اس وقت کے لوگ عرب میں پہنتے تھے۔اور آپ ﷺ بھی وہی پہنتے تھے۔جب کہ آپ ﷺ نے جو حکم دیا کہ لباس میں یہ یہ خصوصیات ہونی چاہیے توجو جو اس پر عمل کر رہا ہوتا ہے وہ بھی میری سمجھ کے مطابق سنت پر ہی عمل کر رہا ہوتاہے۔
اور خلافت کے بارے میں تو نبی ﷺ کی سنت کو بھی چھوڑ کر اصحاب رسول ؓ کی سنت کو بھی بعینہ عمل کرنے کی بات کی جاتی ہے ،چہ جائیکہ ان اصولوں پر عمل کیا جائے جن پر اصحاب رسول ﷺ نے عمل کیا۔
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-07-10), سحر (25-07-10)
پرانا 25-07-10, 02:30 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابرار بھائی
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ہے
جب بھی ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم صحابہ رضی اللہ عنہ کا طریقہ دیکھنے کے بجائے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو تسلیم کیا کرتے تھے اور عمل کیا کرتے تھے
ہم یہ دیکھنے لگتے ہیں ہیں کہ آجکل لوگ اسلام کو کس طرح لیتے ہیں ۔
ہمارے سامنے آجکل کے لوگ معیار نہیں بلکہ معیار صحابہ رضی اللہ عنہ اور وہ لوگ جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہیں ۔
آپ جن لوگوں کی بات کررہے ہیں
کہ وہ شلوار قمیص کو خلاف سنت قرار دیتے ہیں کیا وہ لوگ شلوار قمیص نہیں پہنتے ہیں ۔
ویسے ان باتوں میں اپنی توانائی خرچ کرنے کے بجائے ۔
اسلام کے صحیح اصول سمجھنے میں لگائیں ۔ تو ہم سب کا بہت فائدہ ہوگا ۔

جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ
جب خلیفہ ہی نہیں تو یہ تمام شرائط کیسی پوری ہونگی ۔
اس کی مثال بھی اسلامی تاریخ میں موجود ہے
حضرت عمر بن عبدالعزیز
وہ جب خلیفہ بنے تو ان سے پہلے بادشاہت تھی ۔
میں کوشش کروں گی
ایک کے بعد ایک تمام حکومتوں کا حال ریفرنسس کے ساتھ پیش کروں انشاءاللہ ۔
آپ بھی مطالعہ کریں اور کوشش کریں بات مثبت طریق پر ہو
شکریہ
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 02:44 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ بھائی کی تحریر
اقتباس:
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اموی اور عباسی ادوار بھی خلافت میں شامل ہی ہوئے کیونکہ ان میں جانشینی کا سلسلہ تھا اور شاہ ولی اللہ نے اسے بھی خلافت کے انعقاد کے طریقوں میں سے ایک بیان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی حاکمیت الٰہی اور بیت المال تو جاری تھا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اس طریقے کی توثیق بھی ہو گئی؟؟؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جانشینی اور ولی عہد میں فرق ہوتا ہے ۔
بہن یہ معاملہ اتنا مشکل نہیں ہے کہ سمجھ ہی نہ آئے۔
دیکھیں اصل چیز ہوتی ہے کہ اللہ کے نظام عدل کو قائم کرنا اس نظام کے تحت جو اللہ نے دیا ہے یعنی خلافت،
اب بہن آپ سمجھتیں ہیں کہ جو اپنی اولاد میں سے جانشین مقرر کر دے تو وہ خلافت نہیں بلکہ ملوکیت ہے جبکہ ایسا نہیں ہے گو کہ بعض حضرات اس کو ایسے ہی مانتے ہیں مگر یہ نظام پھر بھی خلافت کا ہی ہوتا ہے، دیکھیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے بھی تو اپنے بیٹے کو جانشین بنایا تھا ان کی خلافت کو سبھی خلافت ہی کہتے ہیں مگر جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو جانشین بنایا تو اس کو ملوکیت کس دلیل سے بنایا جاتا ہے؟
اسی بات کو لے کر بہت سے مسلمان لوگ ہی یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ کیسا نظام ہے جو صرف چند عشرے قائم رہا۔
بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ اگر خلیفہ اپنا بیٹا جانشین بنادے گو کہ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے اور صرف ایک کام غلط ہونے سے پورا نظام باطل یا غلط نہیں ہوجاتا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دیکھیں احادیث میں بہت واضح احکامات ہیں کہ خلیفہ کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو بےشک وہ ظالم، جابر اور فاسق ہی کیوں نہ ہو، دوسرا ایسا طریقہ کہ جس کی دلیل پہلے گزرے ہوئے خلفاء راشدین کی سنت سے بھی ملتی ہے کہ اپنے بیٹے کو جانشین بنانا پھر بھی ہم اس طریقہ کو نہ مانیں تو صحیح نہیں ہے، اصل میں تب ہی خراب ہوتا ہے جب کوئی خلیفہ اللہ کے قوانین کو قائم نہ کرئے اور یا کھولا کفر کرئے، یا عام مسلمانوں میں صلوٰۃ قائم نہ کرئے، پھر اس خلیفہ کی کوئی اطاعت نہیں رہے گی اور پھر وہ شرعی طور پر خلیفہ نہیں رہے گا لیکن اگر وہ یہ سب کچھ صحیح طریقے کے مطابق کررہا ہے تو وہ ولی عہد کی حکومت خلافت ہی ہوگی۔
اس ساری بات میں ایک بات لازم ہے کہ وہ شخص خلیفہ کی سبھی شرائط پوری کرتا ہو۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

Last edited by محمد عاصم; 25-07-10 at 02:47 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (26-07-10), حیدر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), سحر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 02:58 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عاصم بھائی
یہاں مجھے آپ سے اختلاف ہے ۔
اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کرنا ۔ کیوں
اور اہل مدینہ کے کسی صحابیوں کی اولاد کا بیعت نا کرنا کس زمرے میں جائے گا ۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا حجاج بن یوسف سے جنگ کرنا ۔ آپ کے خیال میں کیا تھا ۔
میں اس معاملے میں خود بحث کرنے سے پرہیز کروں گی ۔
لیکن آپ کی باتوں کے جواب میں اکابرین کے ارشادات یہاں لکھ دیتی ہوں
فیصلہ آپ خود کرلیں ۔
شکریہ
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (27-07-10), حیدر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 03:00 PM   #15
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
جب کہ مجھے ابھی تک کوئی یہ نہیں دکھا سکا کہ نبی پاک ﷺ نے ثوب کو پہننے کا حکم دیا ہو۔
ابرار بھائی اگر نبی علیہ السلام اس کا حکم فرمادیتے تو وہ لباس ثوب پہننا ہم پر فرض ہوجاتا، سنت اسی وقت تک ہوتی ہے جس پر نبی علیہ السلام نے عمل کیا ہو اور جس کا حکم فرمادیا وہ تو فرض میں آجاتا ہے میرے بھائی۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ابرارحسین (25-07-10), حیدر (26-07-10), راجہ اکرام (26-07-10), سحر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
جواب

Tags
net, pak, post, url, ہیں؟, کرئے, گا؟, وقت, لوگ, لوگوں, منتخب, مدینہ, ایل, اللہ, انتخاب, حق, حل, خلیفہ, دوسرے, سلام, شوری, شخص, عقد, عالم, صدیق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا یہ انسان ہیں؟ علی عمران گپ شپ 12 08-09-11 09:18 PM
الزام کسے دیں؟ طاھر دلچسپ اور عجیب 13 07-08-10 12:32 AM
عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ منتظمین میرا پاکستان 32 23-07-10 08:14 PM
سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ nsa47 دلچسپ اور عجیب 25 25-06-10 07:50 PM
ہم کس گروہ سے ہیں؟ sahj عمومی بحث 4 01-02-10 01:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger