واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


دہشتگردی کا اسلام سے تعلق نہیں،امہ متحد ہو جائے:خطبہ حج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-12-09, 11:38 AM   #1
دہشتگردی کا اسلام سے تعلق نہیں،امہ متحد ہو جائے:خطبہ حج
رانا امر رانا امر آف لائن ہے 01-12-09, 11:38 AM

صالح قیادت کے اقتدار میں آنے تک حالات نہیں بدلیں گے، علماء ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں
مسلمان دین سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کا خطبہ حج


میدان عرفات سے (اے پی پی) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے امت کے سربراہان مملکت پر زور دیا ہے کہ وہ محروم طبقات کی فکر کریں اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے کیلئے اقدامات کریں، صالح اور امانت دار قیادت کے اقتدار میں آنے تک ہمارے حالات نہیں بدلیں گے، نوجوان خود کو دین کی دولت سے مالا مال کریں اور اخلاقی انحطاط سے بچیں، دہشت گردی بہت بڑا چیلنج ہے، اس کے ذریعے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے، مسلمان رنگ و نسل، زبان اور جغرافیہ کی بنیاد پر اختلافات فراموش کرکے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں، علماء مسلمانوں کی رہنمائی کریں اور ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں، امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں، مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ جمعرات کو مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طرح طرح کی بدعات اور شرک کو عام کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمان توحید حقیقی سے ہٹ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ضعیف احادیث اور روایات کو عام اور اسلام کے حقیقی پیغام کو دھندلا کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ اﷲ کے رسول کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے میں ہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے جس طرح اپنے دین اور اپنے نبی کی سنت کا تحفظ کیا ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہر امین مکہ اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ مسلمان نوجوانوں کو ان کے دین اور ثقافت سے دور کر رہے ہیں تاکہ ہمارے نوجوان دین کی دولت سے محروم ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کی اس سازش اور پروگرام کے بارے میں ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی قوت کو انہیں تباہ و برباد کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا چیلنج دہشت گردی ہے، اس کے ذریعے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ اسلام امن و محبت کا دین ہے، لہٰذا دہشت گردی کی اس وباء اور مسئلہ سے ہمیں نمٹنا ہے۔ ہمیں اس سے کسی بھی قسم کی مصالحت نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر باہمی اختلافات اتحاد و یکجہتی اور ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مستقبل اسی دین کا ہے۔ اسلامی اقدار میں اتنی قوت موجود ہے کہ وہ دنیا کی ہر طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین کی امانت کو پہاڑوں اور زمین نے اٹھانے سے انکار کیا تو انسان نے یہ بوجھ اٹھایا۔ مفتی اعظم نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ہمارا جینا اور مرنا اﷲ ہی کیلئے ہے، ہمیں ہر قسم کے توہمات، دھوکے اور گمراہیوں سے دین ہی نجات دلا سکتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے ایمان کا یہ بھی حصہ ہے کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ نبی کریمؐ کو اپنے تمام معاملات کے اندر جج بنائیں اور آپ کے ارشادات کے سامنے سر جھکائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر رکن اسلام اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ معاشرے کے مفلوک الحال طبقات کو ساتھ لے کر چلیں اور اپنے مال کے اندر انہیں بھی حصہ دار بنائیں۔ ہمیں رنگ و نسل، زبان اور جغرافیے کے اختلافات فراموش کرکے لا الٰہ الا اﷲ پر اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زنا، شراب اور دیگر معاشرتی برائیوں کے فروغ کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیر اور غریب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی امانت پوری کریں مگر خاص طور پر امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت افراد جو منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ان پر زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نازک دور میں اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی نہیں ہے، ہمیں یہ صلاحیتیں دوسروں کو دینے کی بجائے اپنے لئے استعمال کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے راستوں کی رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور دیگر نشریاتی اداروں کو چاہئے کہ دین کے تشخص، ثقافتی اقدار اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے دانشوروں اور اہل علم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان تک جو علم منتقل ہوا ہے وہ اگلی نسل تک وہ پہچائیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء پر فرض ہے کہ وہ دعوت دین کے فریضہ سے غافل نہ ہوں تاکہ دین اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس امت کے مفتیوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی گہرائی تک پہنچ کر فتویٰ دینے کا فریضہ ادا کریں۔ کچے پکے علم اور دین کی گہرائی تک پہنچے بغیر فتوے صادر نہ کریں اور علم الفتاویٰ کے تقاضے پورے کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں دین کی روح کو نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دین کا ماضی کی عظمت رفتہ سے مقابلہ کیا جائے تو آج صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے روابط بہتر کریں، برداشت پیدا کریں اور اپنے تجربات ایک دوسرے کو منتقلی کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو قیامت کے دن ہماری پکڑ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مختلف قسم کی آوازیں، پروگرام اور تنظیمیں ہیں جن کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اقدار سے بیگانہ کر دیا جائے۔ ہمیں دین اور اقدار سے ٹکرانے والی آوازوں کو مسترد کر دینا چاہئے۔ ایسے لوگوں کی معاشرے کے اندر حوصلہ افزائی کی جائے جو سچے اور امانت دار ہیں اور لوٹ کھسوٹ میں مبتلا نہیں ہیں۔ جب تک صالح اور امانت دار قیادت ہمارے معاشروں میں نہیں آئے گی ہمارے حالات نہیں بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں امت کے سربراہان مملکت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ظلم حد سے بڑھ چکا ہے۔ انہیں محروم طبقات کی فکر اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے چاہئیں، اﷲ ظلم پسند نہیں کرتا۔ اگر انہوں نے اس سے غفلت برتی تو انہیں اﷲ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

 
رانا امر's Avatar
رانا امر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 153
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (01-12-09), عامرشہزاد (01-12-09)
پرانا 01-12-09, 01:30 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دہشتگردی کا اسلام سے تعلق نہیں ،امہ متحد ہو جائے :خطبہ حج

صالح قیادت کے اقتدار میں آنے تک حالات نہیں بدلیں گے ، علماء ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں
مسلمان دین سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کا خطبہ حج


میدان عرفات سے (اے پی پی) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے امت کے سربراہان مملکت پر زور دیا ہے کہ وہ محروم طبقات کی فکر کریں اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے کیلئے اقدامات کریں ، صالح اور امانت دار قیادت کے اقتدار میں آنے تک ہمارے حالات نہیں بدلیں گے ، نوجوان خود کو دین کی دولت سے مالا مال کریں اور اخلاقی انحطاط سے بچیں ، دہشت گردی بہت بڑا چیلنج ہے ، اس کے ذریعے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے ، مسلمان رنگ و نسل، زبان اور جغرافیہ کی بنیاد پر اختلافات فراموش کرکے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں ، علماء مسلمانوں کی رہنمائی کریں اور ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں ، امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں ، مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ جمعرات کو مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طرح طرح کی بدعات اور شرک کو عام کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمان توحید حقیقی سے ہٹ جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ضعیف احادیث اور روایات کو عام اور اسلام کے حقیقی پیغام کو دھندلا کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ اﷲ کے رسول کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے میں ہے ۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے جس طرح اپنے دین اور اپنے نبی کی سنت کا تحفظ کیا ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہر امین مکہ اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ مسلمان نوجوانوں کو ان کے دین اور ثقافت سے دور کر رہے ہیں تاکہ ہمارے نوجوان دین کی دولت سے محروم ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کی اس سازش اور پروگرام کے بارے میں ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی قوت کو انہیں تباہ و برباد کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا چیلنج دہشت گردی ہے ، اس کے ذریعے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے ۔ اسلام امن و محبت کا دین ہے ، لہٰذا دہشت گردی کی اس وباء اور مسئلہ سے ہمیں نمٹنا ہے ۔ ہمیں اس سے کسی بھی قسم کی مصالحت نہیں کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر باہمی اختلافات اتحاد و یکجہتی اور ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مستقبل اسی دین کا ہے ۔ اسلامی اقدار میں اتنی قوت موجود ہے کہ وہ دنیا کی ہر طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دین کی امانت کو پہاڑوں اور زمین نے اٹھانے سے انکار کیا تو انسان نے یہ بوجھ اٹھایا۔ مفتی اعظم نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ہمارا جینا اور مرنا اﷲ ہی کیلئے ہے ، ہمیں ہر قسم کے توہمات، دھوکے اور گمراہیوں سے دین ہی نجات دلا سکتا ہے ۔ لہٰذا ایک مسلمان کے ایمان کا یہ بھی حصہ ہے کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ نبی کریمؐ کو اپنے تمام معاملات کے اندر جج بنائیں اور آپ کے ارشادات کے سامنے سر جھکائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر رکن اسلام اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے ۔ معاشرے کے مفلوک الحال طبقات کو ساتھ لے کر چلیں اور اپنے مال کے اندر انہیں بھی حصہ دار بنائیں ۔ ہمیں رنگ و نسل، زبان اور جغرافیے کے اختلافات فراموش کرکے لا الٰہ الا اﷲ پر اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زنا، شراب اور دیگر معاشرتی برائیوں کے فروغ کو روکا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیر اور غریب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی امانت پوری کریں مگر خاص طور پر امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت افراد جو منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ان پر زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نازک دور میں اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کریں ۔ انہوں نے کہا کہ امت کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی نہیں ہے ، ہمیں یہ صلاحیتیں دوسروں کو دینے کی بجائے اپنے لئے استعمال کرنی چاہئے ۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے راستوں کی رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ امت کے اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور دیگر نشریاتی اداروں کو چاہئے کہ دین کے تشخص، ثقافتی اقدار اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ امت کے دانشوروں اور اہل علم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان تک جو علم منتقل ہوا ہے وہ اگلی نسل تک وہ پہچائیں ۔ انہوں نے کہا کہ علماء پر فرض ہے کہ وہ دعوت دین کے فریضہ سے غافل نہ ہوں تاکہ دین اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس امت کے مفتیوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی گہرائی تک پہنچ کر فتویٰ دینے کا فریضہ ادا کریں ۔ کچے پکے علم اور دین کی گہرائی تک پہنچے بغیر فتوے صادر نہ کریں اور علم الفتاویٰ کے تقاضے پورے کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں دین کی روح کو نظر انداز نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ دین کا ماضی کی عظمت رفتہ سے مقابلہ کیا جائے تو آج صورتحال انتہائی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے روابط بہتر کریں ، برداشت پیدا کریں اور اپنے تجربات ایک دوسرے کو منتقلی کریں ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو قیامت کے دن ہماری پکڑ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مختلف قسم کی آوازیں ، پروگرام اور تنظیمیں ہیں جن کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اقدار سے بیگانہ کر دیا جائے ۔ ہمیں دین اور اقدار سے ٹکرانے والی آوازوں کو مسترد کر دینا چاہئے ۔ ایسے لوگوں کی معاشرے کے اندر حوصلہ افزائی کی جائے جو سچے اور امانت دار ہیں اور لوٹ کھسوٹ میں مبتلا نہیں ہیں ۔ جب تک صالح اور امانت دار قیادت ہمارے معاشروں میں نہیں آئے گی ہمارے حالات نہیں بدلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں امت کے سربراہان مملکت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ظلم حد سے بڑھ چکا ہے ۔ انہیں محروم طبقات کی فکر اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے چاہئیں ، اﷲ ظلم پسند نہیں کرتا۔ اگر انہوں نے اس سے غفلت برتی تو انہیں اﷲ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (01-12-09), رانا امر (02-12-09)
پرانا 01-12-09, 01:32 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا امر بھائی اب کیسا ہیں اور یہ کیسے ہوا ہے کوئی بتاسکتا ہیں
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (01-12-09), رانا امر (02-12-09)
پرانا 01-12-09, 01:38 PM   #4
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,171
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عامرشہزاد مراسلہ دیکھیں
رانا امر بھائی اب کیسا ہیں اور یہ کیسے ہوا ہے کوئی بتاسکتا ہیں
رانا امر بھائی نے فونٹ تبدیل کیاہوا ہے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-12-09, 02:01 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں عدنان بھائی۔ رانا امربھائی کے فونٹ کو میں نے ان پیج میں جا کے تبدیل کر کے دوبارہ یہاں پوسٹ کیا ہیں۔ صرف آدھ منٹ میں
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-09, 09:30 AM   #6
Senior Member
 
رانا امر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
کمائي: 18,427
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
رانا امر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں رانا امر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عامرشہزاد مراسلہ دیکھیں
نہیں عدنان بھائی۔ رانا امربھائی کے فونٹ کو میں نے ان پیج میں جا کے تبدیل کر کے دوبارہ یہاں پوسٹ کیا ہیں۔ صرف آدھ منٹ میں
ہٹ شرارتی،،،،،،،،،،،
رانا امر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-09, 09:30 AM   #7
Senior Member
 
رانا امر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
کمائي: 18,427
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
رانا امر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں رانا امر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عامرشہزاد مراسلہ دیکھیں
نہیں عدنان بھائی۔ رانا امربھائی کے فونٹ کو میں نے ان پیج میں جا کے تبدیل کر کے دوبارہ یہاں پوسٹ کیا ہیں۔ صرف آدھ منٹ میں
ہٹ شرارتی،،،،،،،،،،،
رانا امر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فرض, پسند, نظر, مکہ, مقابلہ, منتقل, منتقلی, منصوبہ, محبت, مسجد, آج, ایمان, انسان, امیر, اسلام, اسلامی, توحید, جوابدہ, روزہ, راستہ, شہر, صورتحال, صلاحیتیں, صالح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
ججوں کی بحالی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اعتراض نہیں،اعتزاز عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:53 PM
ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں،امر یکی صدارتی امیدوار سیاست چمکانے کیلئے بیان بازی کر رہے ہیں،دفتر خارجہ ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:16 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger