واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری ہے :::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-04-09, 12:53 AM   #1
::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری ہے :::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 14-04-09, 12:53 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مندرجہ ذیل واقعہ میری ایک زیر تیاری کتاب """ مثالی شخصیات ::: دی آئیڈیلز """ میں سے ایک مثالی شخصیت کا ہے ،
اس وقعے کو یہاں نشر کرنے کا اصل سبب اور محرک """ یہاں """ ہونے والا گفتگو ہے ، پس اس واقعے کو اس گفگتگو کی روشنی میں پڑھا جانا ان شاء اللہ زیادہ فائدہ مند ہو گا ،
مِاعِز بن مالِک
ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو صُبح اُٹھتے ہیں تو فجر کی نماز ہو چُکی ہوتی ہے ، اور نماز گذر جانے اور جماعت چھوٹ جانے کا دُکھ ہونا تو کیا خیال بھی نہیں آتا ، اپنے دِن کا آغاز نماز چھوڑنے کے گُناہ سے کرتے ہیں ، پھر کتنے ایسے ہیں جو اِس کے بعد اپنے دِن کا آغاز ریڈیو ، ٹی وی، ڈش کی نشریات ، ٹیپ ریکارڈر ، سی ڈی پلیئر کو چلا کر کرتے ہیں ایک اور گناہ ، پھر کام کاج پر جانا ہوتا ہے ، حلیہ صاف ہونا چاہیئے ، لہذا ضروری ہے کہ ڈاڑھی مونڈھ یا کاٹ کر دِن کے آغاز کے گُناہوں کا کوٹہ پورا کیا جائے ، پھر رہائش گاہوں سے نکلتے ہیں تو کوئی دُعا نہیں ، کوئی ذِکر اللہ نہیں ، کِسی کے منہُ میں سگریٹ ہوتا ہے ، کِسی کی زُبان پر گانا ، کِسی کے منہُ سے سیٹی بج رہی ہوتی ہے ، جی ہاں دِن کا آغاز ہے ، تر و تازہ ہونا چاہیئے ،
کونسا گُناہ اور کہاں کا گُناہ ،
نہیں ناکامی کہ متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہماری أکثریت میں احساس گُناہ ہی نہیں رہا ، بیسیویں ایسے کام ہیں جنہیں عام عادت کے طور پر کیا جاتا ہے اور گُناہ سمجھا ہی نہیں جاتا ، اور جب گُناہ کو گُناہ ہی نہ سمجھاجائے تو پھر اُس پر ندامت کہاں سے اور اُس سے توبہ کیسی؟
آئیے آپ کو ایک واقعہ سُناتے ہیں کہ اِیمان والوں کو احساسِ گُناہ کِس طرح ہوا کرتا ہے اور وہ کیسی توبہ کرتے ہیں ؟ اور یہ لوگ ہی اپنے بعد دیگر اِیمان والوںکے لیئے مثالی
شخصیت (آئیڈیل ) ہوتے ہیں ،
ایک شادی شُدہ نوجوان کو ایک دِن کِسی کی باندی کے ساتھ تنہائی میسر ہوئی، ایک جوان مرد اور جوان عورت تنہائی میں أکٹھے ہوئے ، اور تیسرا شیطان ہوا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( ألا لا یَخلون رَجل بِإمراۃٍ إِلَّا و ثالثُھُما الشیطان ، مَن سَرَتہ ُ حَسنتَہ ُ و سَاء َتہ ُ سِیئَتُہ ُ فَھُوَ مِؤمِنٌ ::: خبردار کوئی مرد کِسی عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو (کیونکہ جب ایسا ہوتاہے تو)اُن میں تیسرا شیطان (شامل) ہوتا ہے جِسکو اُس کی نیکی خوش کرے اور بُرائی دُکھ پہنچائے وہ اِیمان والا ہے ))))) المُستدرک الحاکم /جُز مِن حدیث ٣٧٨ ، ٣٩٠ /کتاب العِلم
حدیث ٩٨ ،١٠١
تو اُن دونوں کا تیسرا جب شیطان ہوا تو اُس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیئے پسندیدہ بنایا اور اُن کے جذبات کو اُبھارا یہاں تک کہ وہ زِنا کر بیٹھے ، گُناہ کے بعد شیطان کا أثر ختم ہوا تو اللہ کے اِس صاحب اِیمان بندے کے دِل میں اپنے گُناہ کا احساس پیدا ہوا اُس پر ندامت ہوئی اور اللہ کے عذاب کا ڈر پیدا ہوا ، تو اُس نے توبہ کی اور اُسکے دِل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں اِس دُنیا میں ہی اپنے اِس گُناہ سے پاک ہو جاؤں تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا '''"" يا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرنِي ::: اے اللہ کے رسول مجھے پاک کر دیجیئے '"'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((وَيحَكَ ارجِع فَاستَغفِر اللَّهَ وَتُب إليه ::: تمہارا بُرا ہو ، جاؤ واپس جاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو ، اور اُسکی طرف توبہ کرو ))))) وہ شخص تھوڑی دور جا کر پھر واپس آگیااور پھر کہا '''" يا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرنِي ::: اے اللہ کے رسول مجھے پاک کر دیجیئے ''"' ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے پھر فرمایا ((((( وَيحَكَ ارجِع فَاستَغفِر اللَّهَ وَتُب إليه ::: تمہارا بُرا ہو ، ، جاؤ واپس جاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو ، اور اُس کی طرف توبہ کرو )))))
وہ شخص پھر تھوڑی دور جا کر واپس آگیا اور پہلے جیسی بات کی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھی پہلے جیسے جواب دِیا ، وہ شخص پھر تھوڑی دور جا کر واپس آگیا اور چوتھی دفعہ بھی وہی بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دریافت ((((( فِيما أُطَهِّرُكَ ::: میں تُمہیں کِس معاملے میں پاک کروں ؟ )))))
تو اُس شخص نے کہا ''' من الزِّنَى ::: زِنا کے گُناہ سے ''' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے اِرد گِرد موجود صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا (((((من الزِّنَى ::: کیا اِس کی دماغی حالت دُرست ہے ؟ ))))) تو اُنہوں نے جواب دِیا ''' جی ہاں ''' اور اُس کی قوم سے معلوم کروایا تو اُنہوں نے کہا ''' ہم نے اِس کی عقل میں کوئی خرابی نہیں دیکھی ''' پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے پوچھادریافت فرمایا ((((( أَشَرِبَ خَمرًا ::: کہیں یہ شراب پیئے ہوئے تو نہیں ؟)))))
تو ایک صحابی رضی اللہ عنہُ نے اُٹھ کر اُس شخص کا مُنہ سونگھا تو کوئی بُو نہ محسوس کر پایا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس سے پوچھا ((((( أَزَنَيتَ ::: کیا تُم نے زِنا کیا ہے ؟))))) تو اُس نے کہا ''' جی ''' ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ((((( کیا تُم جانتے ہو کہ زِنا کیا ہوتا ہے )))))
اُس نے جواب دِیا ،
''' جی ہاں ، میں نے اُس عورت کے ساتھ وہ کام حرام طریقے سے کیا ہے جو کام کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ حلال طریقے سے کرتا ہے '''
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( أثيب أنت ::: کیا تُم شادی شدہ ہو ؟ )))))
اس نے کہا """ جی ہاں """ ،
پھر اُس نے کہا ''' میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اِس گُناہ سے پاک کر دیجیئے ''' تو اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُسکو رجم یعنی سنگسار کرنے کا حُکم دِیا ،
جب اس پر سگنساری کا آغاز ہوا تو وہ ادھر اُدھر ہونے لگا تو ایک گڑھا کھود کر اُس شخص کو سینے تک اُس میں دفن کر دِیا گیا اور پھر اُسے سنگسار کر دیا گیا ،
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کچھ نے کہا ''' وہ برباد ہو گیا ہے کیونکہ اُسکے گُناہ نے اُسے مروا دِیا ''' اور کُچھ نے کہا ''' اُس سے بڑھ کر اچھی توبہ اور کِسی کی نہیں ، کیونکہ اُس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر خواہش کی تھی کہ اُسے سنگسار کر دِیا جائے ''' اِسی کشمکش میں دو تین دِن گُذر نے کے بعد اِن صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ((((( استَغفِرُوا لِمَاعِزِ بن مَالِكٍ ::: مِاعِز بن مالک کےلیئے مغفرت طلب کرو ))))) صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ''' اللہ تعالیٰ اُسکی مغفرت کرے ''' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((( لقد تَابَ تَوبَةً لو قُسِمَت بين أُمَّةٍ لَوَسِعَتهُم ::: اُس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اُس کی توبہ ایک اُمت پر تقسیم کی جائے تو (ساری اُمت کی مغفرت کےلیئے ) کافی ہو جائے )))))
اور ایک روایت میں ہے کہ ماعِز بن مالک رضی اللہ عنہ ُ کو رجم کر کے واپس آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے دو صحابہ کو کہتے ہوئے سُنا :::
''' دیکھو اِس شخص کو جِس پر اللہ نے پردہ ڈالا لیکن اُس کے نفس نے اُس پردے کو قائم نہ رہنے دِیا یہاں تک اُسے کُتّوں کی طرح سنگسار کر دِیا گیا ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ بات سُن کر خاموش رہے ، تھوڑی دیر بعد وہ سب ایک مُردہ گدھے کے پاس سے گُذرے جِسکا جسم اتنا پھول چُکا تھا کہ ٹانگیں أکڑ کرکھڑی ہوچُکی تِھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے پُکارا (((((إلى فلان وفلان ادنوا فكلا من جيفة هذا الحمار اِس گدھے میں سے کھاؤ ::: فُلان اورفُلان کہاں ہیں ؟ دونوں قریب آؤ اور گدھے کی اس لاش میں سے کھاؤ )))))
اُن دونوں نے کہا ''' غفر الله لك أتؤكل جيفة ::: اللہ تعالیٰ آپکی مغفرت فرمائے اے اللہ کے رسول اِس میں سے کون کھا سکتا ہے ؟ ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((فالذي نلتما من أخيكما أعظم من ذلك والذي نفسي بيده إنه لفي أنهار الجنة يتغمس فيها ::: ابھی ابھی تُم دونوں نے ( غیبت کر کے )اپنے بھائی کی عِزت میں سے جو کچھ لیا ہے وہ اِس مردار کو کھانے سے زیادہ شدید ہے ، اُس کی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، وہ ( مَاعِز بن مالک )اِس وقت جنّت کے دریاؤں میں غوطے لگا رہا ہے )))))
اللہ تعالیٰ مَاعِز بن مالک رضی اللہ عنہ کے درجات کو مزید بُلند کرے ۔
اسے کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رسالت پر ایمان ، اور ان کا اللہ کی طرف سے حاکم اور قاضی ہونے پر ایمان ، کہ اپنے طور پر فیصلے صادر فرمانے کی بجائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے فیصلہ لیا جایا اور اسی پر عمل کیا جائے خواہ اس میں جان ہی جائے ، اب ان کو کیا کہیے جو اپنی عقل اور مختلف چکرائے ہوئے فلسفوں میں گرداں رہیں اور دوسروں کو بھی اس میں گھمانا چاہیں ،
اسے کہتے ہیں ، ایک ایمان والا کا احساسِ گُناہ، ندامت ،اور اللہ کے عذاب کا ڈر ، کہ صرف اِس بات پر إِکتفاء نہیں کیا کہ توبہ کرتا رہوں ، بلکہ اُس راستے کو اپنایا جِس میں یقینی مغفرت تھی ، کیونکہ توبہ کے معاملے میں شک ہو سکتا ہے کہ وہ پوری نہ ہو ، ٹھیک نہ ہو ، اُسکی شرائط پوری نہ ہوں ، اور گُناہ وہیں کا وہیں کھاتے میں رہے ، لیکن اگر گُناہ کی سزا یہیں اِس دُنیا میں مل جائے اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھ مُبارک سے تو یقینا آخرت میں وہ گُناہ معاف ہو چُکا ہو گا ،اِسی طرح کا ایک واقعہ ایک غامدیہ صحابیہ رضی اللہ عنھا کا بھی ہے ، جگہ کی کمی کی وجہ سے اُسے ذِکر نہیں کیا جارہا ، اِن واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ اگر کوئی کِسی گُناہ کا شکار ہو تو وہ اُس گُناہ کی سزا طلب کرے، نہیں ، بلکہ اِن کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کِن کِن گناہوں کا شکار ہیں ، گُناہوں کی پہچان کریں، اورچھوٹے سے چھوٹے گُناہ کو بھی حقیر نہ سمجھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ گُناہ خواہ چھوٹا ہی ہو ، لیکن وہ کِس کی نافرمانی ہوتا ہے ، کیا جِس کی نافرمانی گُناہ ہے وہ چھوٹی ہستی ہے ، اپنے اندر احساس گُناہ پیدا کریں ، اُس پر ندامت ہو ، اللہ کے عذاب کا ڈر ہو ، تو اللہ کی طرف توبہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، اور توبہ کی جاتی ، لیکن اگر ہمارے آئیڈیل ، بھانڈ ، میراثی ، گناہوں اور نافرمانی کی زندگی والے اور والیوں ہوں ، تو ہم اُنہی کے راستے پر چلیں گے، اللہ تعالیٰ ہمارے دِل و دماغ کی اِصلاح فرمائے کہ ہم حق اور دُرست راستے کو جان لیں اور اُسی پر چلتے ہوئے ہماری زندگیاں ختم ہوں ، اللہ پر سچا اِیمان رکھنے والوں کو اپنے لیئے مثالی شخصیات(آئیڈیلز) بنائیں ، اور اُنکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اُن جیسے ٹھکانوں پر جا پُہنچیں۔

یہ واقعہ مندرجہ ذیل أحادیث میں سے أخذ کیا گیا ،صحیح البُخاری / کتاب المحاربین من اھل الکفر و الرِّدۃ / باب ۱۰ ، صحیح مُسلم /حدیث١٦٩٥ /کتاب الحدود /باب ٥، صحیح ابن حِبان /حدیث ٤٣٨٣ /کتاب الحدود /باب ٣ ،٤،٥، سنن ابو داؤد / کتاب الحدود / باب 24 ، سنن الترمذی / کتاب الحدود / باب ۵ ، سُنن النسائی الکبریٰ /کتاب الرجم /باب 6 مُسند أحمد/حدیث ٢٣٣٣٠ /حدیث بُریدۃ الأسلمی میں سے آٹھویں حدیث ، سنن الدار قطنی/ کتاب الحدود الدیات کی حدیث ۳۸،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ واقعہ میں نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں سے تقریبا ، نسخ کیا ہے ، اوروقت کی کمی کی وجہ سے فی الحال اپنے اسلوب کے مطابق اسے فارمیٹ نہیں کیا ، ان شا اللہ اگلی فرصت میں اسے قارئین کی آسانی کے لئے اسے بہتر طور پر فارمیٹ کر دوں گا ، و السلام علیکم۔

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4487
Reply With Quote
26 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
fazain (12-10-10), Miss Khan (07-10-11), sahj (19-12-09), فیصل ناصر (14-04-09), کنعان (18-12-09), پاکستانی (11-10-10), یاسر عمران مرزا (19-10-10), نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (14-04-09), مباح (27-05-09), محمد عاصم (23-02-11), مزمل فاروق (18-05-09), wajee (04-10-11), ام طلحہ (14-04-09), امتیاز احمد (29-05-09), احمد نذیر (03-11-11), حیدر (13-10-11), راجہ اکرام (14-04-09), رضی (14-04-09), سحر (19-05-09), ضِرار Derar (11-10-10), عارف اقبال (14-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عبداللہ حیدر (21-12-09), عدنان دانی (20-12-09), عروج (18-10-10)
پرانا 14-04-09, 01:01 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ
سہیل بھائی
آپ کی تفصیل سے ابہام دور ہوتے ہیں
اللہ سے بہترین اجر کی امید رکھئے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مباح (27-05-09), ام طلحہ (14-04-09), حیدر (14-10-10), رضی (14-04-09), عارف اقبال (14-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 14-04-09, 07:51 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل السلام علیکم، بہت ڈرتے ڈرتے ایک سوال کرنا چاھتا ہوں "برائے کرم اسے پرسنل مت لیجیئے گا"
حیرت ہے قرآن اس "جرم" کی سزا کے معاملے پر خاموش ہے؟؟؟
ویسے کیا آپ کی یہ کتاب کیا اسی قسم کے واقعات پر مشتمل ہے؟
آپکا نیاز مند،
شاہد علی صدیقی
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-04-09), فاروق سرورخان (19-12-09), حیدر (14-10-10)
پرانا 14-04-09, 09:38 AM   #4
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,182
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


ماشا اللہ، سبحان اللہ

آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
آپ کا بہت بہت شکریہ
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), مباح (27-05-09), حیدر (14-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عروج (18-10-10)
پرانا 14-04-09, 09:51 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,555
کمائي: 315,020
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل سہیل بھائی واقعی آپ کی تحریریں اشکالات اور ابہام دور کرنے کے لئے اکسیر ثابت ہوتی ہیں۔
اللہ آپ کو دین و دنیا کی کامیابیوں سے نوازے۔ آمین

میرے لئے ہدایت کی دیا کی خصوصی درخواست ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), مباح (27-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:02 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ
سہیل بھائی
آپ کی تفصیل سے ابہام دور ہوتے ہیں
اللہ سے بہترین اجر کی امید رکھئے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی فیصل ناصر ،
اللہ تعالیٰ آپ کی دُعا قبول فرمائے اور آپ کو بھی بہترین اجر عطا فرمائے ، کافی دنوں کے بعد جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں ، مزید تفصیلات لے کر حاضر ہوا ہوں ، ان شا اللہ زیادہ سکون اور تقویت ایمان کا باعث ہوں گی ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (19-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:22 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
عادل سہیل بھائی واقعی آپ کی تحریریں اشکالات اور ابہام دور کرنے کے لئے اکسیر ثابت ہوتی ہیں۔
اللہ آپ کو دین و دنیا کی کامیابیوں سے نوازے۔ آمین

میرے لئے ہدایت کی دیا کی خصوصی درخواست ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، راجہ بھائی ،
((((( ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ::: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطاء فرماتا ہے اور اللہ بہت ہی عظیم فضل والا ہے )))))
اللہ آپ کی دعا قبول فرمائے اور آپ کو بھی بہترین اجر عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔

عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:30 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
عادل سہیل السلام علیکم، بہت ڈرتے ڈرتے ایک سوال کرنا چاھتا ہوں "برائے کرم اسے پرسنل مت لیجیئے گا"
حیرت ہے قرآن اس "جرم" کی سزا کے معاملے پر خاموش ہے؟؟؟
ویسے کیا آپ کی یہ کتاب کیا اسی قسم کے واقعات پر مشتمل ہے؟
آپکا نیاز مند،
شاہد علی صدیقی
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ڈرنے کی کیا بات ہے صدیقی بھائی ، سوال مناسب ، اور اسلوب سوال مناسب ہو تو ان شاء اللہ فائدہ مند ہوتا ہے ،
ویسے مجھے آپ کی اس بات سے حیرت بھی ہوئی اور دکھ بھی ، کیونکہ میں تو ہمیشہ حصول علم کے لیے سوال کرنے کی ترغیب والی بات کرتا ہوں ، اور سوال ہونے کی صورت میں اللہ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق جواب دینے کی پوری کوشش کرتا ہوں ، اور اس بات کی بھی پوری کوشش کرتا ہوں کہ کسی مسلمان کی اولین اور کسی انسان کی ثانیا حق تلفی یا بے عزتی کا سبب نہ بنوں ، پھر آپ کو ڈر کیوں لگا !!!
صدیقی بھائی ، میری کتاب ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے واقعات پر مبنی ہے جنہیں عام طور پر ہماری اکثریت جانتی تک نہیں اور انہوں نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور اطاعت کی وہ عملی مثالیں پیش کی جن کی مثال ملنا ناممکن ہے ،
آپ کے سوال کا جواب ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ملاحظہ فرمایے ،
اور تاخیر کے لیے معذرت قبول فرمایے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-05-09), نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (19-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:36 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی (۱) :::::

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کچھ لوگوں کا خیال بلکہ یہ کہنا زیادہ قریب حقیقت ہے کہ ، کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ کسی شادی شدہ زانی یا زانیہ کو """ رجم کرنے """ یعنی ""' سنگسار کرنے """ کی سزا قرانی سزا نہیں ، لہذا وہ اس کا انکار کرتے ہیں ، اگر اُن کی اس بات کو مان بھی لیا جائے تو بھی کم از کم وہ سنّت کے معنوی انکار کے مرتکب ہوتے ہیں ،
جبکہ اُن کی یہ بات ماننے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سزا اللہ کی طرف سے قران میں نازل کی گئی ، اور اللہ کی حکمت کے مطابق اس کی قرأت منسوخ ہو گئ اور حکم برقرار رہا ،
طرح طرح کے فلسفوں کا شکار ہونے والے کئی اور لوگوں کی طرح """ رجم """ کا انکار کرنے والے بھی اپنے فلسفوں کی درستگی کی کئی اور فلسفیانہ اور لا علمی پر مبنی دلائل کے ساتھ ساتھ """ عُلوم القران """ میں سے ایک بہت اہم ترین عِلم """ ناسخ القران و المنسوخہ """ یا """ الناسخ و المنسوخ فی القران """ کا بھی انکار کرتے ہیں ، اور کچھ اس قسم کا دعویٰ کرتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں کہ """ قُران میں کچھ منسوخ نہیں """ ان کی بات اس حد تک صحیح ہے کہ یہ مُصحف جس کی قرأت ساری اُمت کرتی ہے اس میں سے قرأت کے لحاظ سے کچھ منسوخ نہیں ، اگر منسوخ ہوتا تو اس میں شامل ہو ہی نہیں سکتا تھا ، خواہ کوئی کتنی بھی کوشش کرتا ،
جیسا کہ بارہا چاہنے والوں کی کوششوں کے باوجود قران کے حروف میں کوئی بھی کمی یا زیادتی نہیں کی جا سکی اور نہ ہی کی جا سکتی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے ،
""" ناسخ القران و المنسوخہ """ یا """ الناسخ و المنسوخ فی القران """ کے بارے میں تفصیلی بات ان شاء اللہ پھر کبھی کسی الگ موضوع کے طور پر ، اس وقت صرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان """ ناسخ اور منسوخ """ کا انکار کرنے والوں کے لیے کافی سے بھی زیادہ ہو گا کہ ((((( مَا نَنسَخ مِن آیَۃٍ أَو نُنسِہَا نَأتِ بِخَیرٍ مِّنہَا أَو مِثلِہَا أَلَم تَعلَم أَنَّ اللّہَ عَلَیَ کُلِّ شَیء ٍ قَدِیرٌ ::: ہم جب کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے چھوڑتے ہیں تو اس سے بہتر لے آتے ہیں یا اس ہی جیسی لے آتے ہیں (اے رسول) کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ ہر ایک چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے ))))) سورت البقرہ ، آیت 106 ،
اب ہم اُن روایات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ ثابت ہوتا ہے ، کہ """ رجم """ یعنی """ سنگسار کرنا """ قران میں نازل شدہ سزا ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-05-09), کنعان (18-12-09), نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (19-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:46 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( ۲ ) :::::

اب ہم اُن روایات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ ثابت ہوتا ہے ، کہ """ رجم """ یعنی """ سنگسار کرنا""" قران میں نازل شدہ سزا ہے ،
::::: ۱ ::::::
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ ثنا عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهبٍ قَالَ أَخبَرَنِي مَالِكُ بنُ أَنَسٍ عَن ابنَ شِهَابٍ أَخبَرَهُ قَالَ أَخبَرَنِي عُبَيدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ ((((( إنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إلَينَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِالحَقِّ وَأَنزَلَ عَلَيهِ الكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أَنزَلَ عَلَيهِ آيَةُ الرَّجمِ قَرَأنَاهَا وَوَعَينَاهَا وَعَقَلنَاهَا وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمنَا بَعدَهُ , وَأَخشَى إن طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَن يَقُولَ قَائِلٌ وَاَللَّهِ مَا نَجِدُ الرَّجمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيُضِلُّوا بِتَركِ فَرِيضَةٍ أَنزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَلَى مَن زَنَى إذَا أُحصِنَ مِن الرِّجَالِ أَو النِّسَاءِ إذَا قَامَت البَيِّنَةُ , أَو كَانَ الحَبَلُ أَو الِاعتِرَافُ ))))))
ہمیں یونس نے بتایا ، کہا ہمیں عبداللہ بن وھب نے بتایا ، کہا ، مجھے (اِمام )مالک بن انس نے ابن شھاب کے بارے میں بتایا کہ اُنہوں نے کہا ، مجھے عُبید اللہ بن عبداللہ نے خبر کی کہ انہوں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہما ) کو (یہ کہیتے ہوئے ) سُنا کہ عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما نے فرمایا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما تھے ((((( اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل فرمائی اور جو کچھ ان پر نازل ہوا اُس میں رجم (کی سزا ) والی آیت بھی تھی ، جسے ہم نے پڑھا اور یاد کیا اور سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے رجم فرمایا اور ہم نے بھی اُن کے بعد رجم کیا ، اور مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر لمبا وقت گذرنے کے بعد کوئی کہنے والا یہ کہے گا کہ """ اللہ کی قسم ہم نے اللہ کی کتاب میں رجم (کی سزا کو )نہیں پایا """ اور یہ (ایسا کہنے والے) لوگ گمراہ ہوں گے ،(ایسا کہنے والا)اللہ کا نازل کردہ فرض چھوڑ دے گا ، اور بے شک اللہ کی کتاب میں ہے کہ اگر شادی شدہ مرد اور عورت (میں سے کوئی)زنا کرے اور اس کے بارے میں یہ بات واضح طور پر ثابت ہو جائے ، یا حامل ہو جائے (یعنی اُس فعل سے حمل ظاہر ہوجائے)، یا ایسا کرنے والا خود اعتراف کر لے تو اس کی سزا رجم (اسے سنگسار کرنا)ہے )))))
::: ::::::: ۲ اور کچھ روایات میں یہ اضافہ ہے کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ((((( وَأَيمُ اللَّهِ لَولَا أَن يَقُولَ النَّاسُ كَتَبَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَم يَنزِل لَكَتَبتُهَا ::: اور اللہ کی قسم اگر لوگوں کا یہ کہنے کا اندیشہ نہ ہوتا کہ عُمر نے اللہ کی کتاب میں وہ لکھ دیا جو اللہ نے نازل نہیں کیا تو میں یہ لکھ ہی دیتا )))))
::::: ۳ ::::: اور ایک روایت یہ ہے ((((( عَن عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ عَوفٍ قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ فَقَالَ """ قَد رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمنَا وَأَنزَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَلَولَا أَنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : إنَّ عُمَرَ زَادَ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبتُهُ بِخَطِّي حَتَّى أُلحِقَهُ بِالكِتَابِ """ ::: عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیان ہے کہ انہوں نے کہا کہ عُمررضی اللہ عنہُ نے ہم سے خطاب فرمایا اور کہا """ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم نے رجم کیا اور ہم نے رجم کیا اور اللہ نے اس (رجم کی سزا ) کو اس کی کتاب میں نازل کیا اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عُمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کیا تو میں ضرور وہ حکم اپنے ہاتھ سے لکھتا اور اس (اللہ کی) کتاب سے ملا دیتا )))))
یہ سب روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہیں ، سوائے آخری روایت کے ،
غور کیجیے اس میں ، ابن عباس رضی اللہ عنہُ اپنی سنی ہوئی بات نہیں ، بلکہ عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہُ کی سنی ہوئی بات بتا رہے ہیں ، یعنی ، امیر المومنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ نے یہ بات کم از کم دو مخلتف مواقع پر کہی ،
::::: مذکورہ بالا سند کے علاوہ ان روایت کی اسناد درج ذیل ہیں :::
::: وَوَجَدنَا أَحمَدَ بنَ عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ وَهبٍ قَد حَدَّثَنَا قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ وَيُونُسُ عَن ابنِ شِهَابٍ ثُمَّ ذَكَرَ بِإِسنَادِهِ مِثلَهُ .
::: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ سِنَانٍ قَالَ ثنا أَبُو الوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ ثنا إبرَاهِيمُ بنُ سَعدٍ قَالَ ثنا صَالِحُ بنُ كَيسَانَ عَن الزُّهرِيِّ عَن عُبَيدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ أَنَّ ابنَ عَبَّاسٍ أَخبَرَهُ ثُمَّ ذَكَرَ عَن عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ مِثلَهُ وَزَادَ فِيهِ :::
::: وَحَدَّثَنَا أَحمَدُ بنُ شُعَيبٍ قَالَ ثنا العَبَّاسُ بنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ ثنا أَبُو نُوحٍ عَبدُ الرَّحمَنِ بنُ غَزوَانَ قَالَ ثنا شُعبَةُ عَن سَعدِ بنِ إبرَاهِيمَ عَن عُبَيدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ عَن ابنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُمَا :::
::::: یہ مذکورہ بالا روایات ان کتابوں میں ہیں :::::
صحیح ابن حبان ، حدیث چار سو تیرہ ، کتاب البر و الاحسان ، باب حق الوالدین ، باب چار ،
سنن ابو داؤد ، حدیث 4418، کتاب الحدود ، باب 23 ،
سنن البیھقی الکبریٰ ، کتاب الحدود ، باب 2 ،
سنن النسائی ، حدیث 7151 ، کتاب الرجم ، باب 4 ،
سنن النسائی ، حدیث 7155 ، کتاب الرجم ، باب 4 ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-05-09), نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (19-05-09), مباح (27-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:52 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( ۳ ) :::::

::::: 4 ::::: ایک اور روایت یہ ہے ::: أخبرنا مَالك عَن يَحيى بِن سَعيد أنَّهُ سَمِع سَعيد بِن المُسيَّب يَقول قال عُمر بن الخَطاب رضي اللهُ عنهُ ::: ہمیں مالک نے خبر دی ، یحیی بن سعید کے بارے میں کہ انہوں نے سعید بن المُسیب کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ نے فرمایا (((( إِيَّاكُم ان تَهلِكُوا عن آيَةِ الرَّجمِ ان يَقُولَ قَائِلٌ لاَ نَجِدُ حَدَّينِ في كِتَابِ الله فَقَد رَجَمَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہ عَلِیہ وعَلی آلِہِ وسلّمَ وَرَجَمنَا وَالَّذِي نَفسِي بيده لَولاَ ان يَقُولَ الناس زَادَ عُمَرُ بن الخَطَّابِ في كِتَابِ الله تَعَالَى لَكَتَبتُهَا """ الشَّيخُ وَالشَّيخَةُ فَارجُمُوهُمَا البَتَّةَ """ فَإِنَّا قد قَرَأنَاهَا :::خبردار کہیں تُم لوگ رجم والی آیت کے بارے میں ھلاک نہ ہو جانا کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں(زنا کے بارے میں ) دو حدیں نہیں پاتے (یعنی کوڑے مانے کی حد اور رجم کی حد دونوں ہی ہمیں نہیں ملتی ہیں ) یقینی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے رجم کیا پس جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی قسم اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عُمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں ضرور وہ آیت لکھ دیتا (جو کہ یہ تھی ) """ اور کوئی شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو ضرور انہیں سنگسار کرو """ یقیناً ہم نے یہ آیت پڑھی ہے )))))
مسند الشافعی ، باب ومن كتاب اختلاف الحديث وترك المعاد منها ، ( جلد اول ، صفحہ 163 ) دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ،
سنن البیہقی الکبریٰ ، حدیث 16697 ، کتاب الحدود ، باب ۳ ،
مؤطا مالک ، حدیث 1506، کتاب الحدود ، اول باب ، ما جاء فی الرجم ،
أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان میں اور بھی کچھ اہم سبق ملتے ہیں ان کا ذکر ان شاء کسی اور وقت ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (19-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 01:58 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( 4 ) :::::

::::::: یہاں تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ فاروق أعظم عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُما کے فرامین جن سے یہ ثابت ہوتا ہےہے کہ رجم یعنی سنگسار کرنے کی سزا قران میں نازل کی گئی تھی ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دُنیا سے رخصت ہوتے وقت تک اس کو جوں کا توں برقرار رکھا ، پس ان کے بعد اس میں کسی تبدیلی کا قطعاً کوئی امکان نہیں ،
اس کے بعد ، اب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چوتھے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہُ کا عمل مبارک اور فرمان مبارک ملاحظہ فرمایے :::جو اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ رجم کی سزا قران میں نازل فرمایا گیا حُکم ہے ، کسی کے من گھڑت فلسفے ، یا کم علمی ، یا تصوراتی عقائد ، اللہ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ثابت شدہ سنت کے خلاف کچھ بھی کہتے اور کرتے رہیں ، ان شاء اللہ دُنیا اور آخرت میں ان کی حیثیت ھباءً منثوراً سے زیادہ کچھ نہیں ،
::::::: ۱ :::::::: حدثنا عَلِيُّ بن شَيبَةَ قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو الأَحوَصِ عن سِمَاكٍ عن عبد الرحمن بن أبي لَيلَى قال ((((( جَاءَت امرَأَةٌ من هَمدَانَ يُقَالُ لها شُرَاحَةُ إلَى عَلِيٍّ رضي الله عنه فقالت إنِّي زَنَيت فَرَدَّهَا حتى شَهِدَت على نَفسِهَا أَربَعَ شَهَادَاتٍ فَأَمَرَ بها فَجُلِدَت ثُمَّ أَمَرَ بها فَرُجِمَت )))))
ہمیں علی بن شیبہ نے بتایا ، کہا ، ہمیں یحیی بن یحیی نے بتایا ، کیا ، ہمیں ابو الأحوص نے سماک کے ذریعے بتایا کہ کہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کا کہنا ہے کہ ((((( ھمدان قبیلہ کی ایک عورت جس کو شُراحہ کہا جاتا تھا (أمیر المؤمنین)علی رضی اللہ عنہُ کے پاس آئی اور کہا میں نے زنا کیا ہے ، تو (أمیر المؤمنین)علی رضی اللہ عنہُ نے اُس واپس کر دِیا یہاں تک (کہ) اس نے (پھر سے آ کر )اپنے ہی خلاف خود چار دفعہ اس بات کی گواہی دی (کہ اس نے زنا کیا ہے ) تو (أمیر المؤمنین )علی رضی اللہ عنہُ نے اس کے بارے میں حُکم دیا ، تو اسے کوڑے لگائے گئے ، پھر ، (أمیر المؤمنین )علی رضی اللہ عنہُ نے حُکم دِیا تو اسے سنگسار کیا گیا ، )))))
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-05-09), میاں شاہد (19-05-09), مباح (27-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 02:01 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( 6 ) :::::

:::: ۲ ::::: حدثنا عبد الرحمن بن عَمرٍو الدِّمَشقِيُّ قال ثنا محمد بن بَكَّارِ بن بِلاَلٍ قال ثنا سَعِيدُ بن بِشرٍ عن قَتَادَةَ عن الرَّضرَاضِ بن أَسعَدَ قال ((((( شَهِدت عَلِيًّا رضي الله عنه جَلَدَ شُرَاحَةَ ثُمَّ رَجَمَهَا )))))
ہمیں عبدالرحمان بن عَمر دمشقی نے بتایا ، کہا ، ہمیں محمد بن بکار بن بلال کہا ، ہمیں سعید بن بُشر نے قتادہ کے ذریعے (کہ) الرضراض بن اسعد نے کہا ((((( میں نے (امیر المؤمنین) علی (رضی اللہ عنہُ ) کو دیکھا کہ انہوں نے شُراحہ کو کوڑے لگوائے اور پھر رجم کیا )))))
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (19-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 02:08 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( 7 ) :::::

::::: ۳ ::::: حدثنا محمد بن حُمَيدٍ قال ثنا عَلِيُّ بن مَعبَدٍ قال ثنا مُوسَى بن أَعيَنَ عن مُسلِمٍ الأَعوَرِ عن حَبَّةَ العَوفِيِّ عن عَلِيِّ بن أبي طَالِبٍ رضي الله عنه قال ((((( """" أَتَتهُ شُرَاحَةُ فَأَقَرَّت عِندَهُ أنها زَنَت """ فقال لها عَلِيٌّ ((((( فَلَعَلَّك غضبت ( ( ( غصبت ) ) ) نَفسَك ))))) قالت """ أَتَيت طَائِعَةً غير مُكرَهَةٍ """ قال فَأَخَّرَهَا حتى وَلَدَت وَفَطَمَت وَلَدَهَا ثُمَّ جَلَدَهَا الحَدَّ بِإِقرَارِهَا ثُمَّ دَفَنَهَا في الرَّحبَةِ أَي الفَضَاءِ الوَاسِعِ إلَى مَنكِبِهَا ((((( ثُمَّ رَمَاهَا هو أَوَّلَ الناس ثُمَّ قال إرموا ثُمَّ قال """"" جَلَدتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَرَجَمتهَا بِسُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہ عَلِیہ وعَلی آلِہِ وسلّمَ """"" )))))
ہمیں محمد بن حمید نے بتایا ، کہا ، ہمیں علی بن معبد نے بتایا ، کہا ، ہمیں موسیٰ بن أعین نے مسلم الأعور کے ذریعے ، اس نے حبۃ العوفی کے ذریعے ، اس نے (امیر المؤمنین) علی (رضی اللہ عنہُ ) کے بارے میں ( بتایا کہ ) """ اُن کے پاس شُراحہ آئی اور ان کے سامنے اقرار کیا کہ اُس نے زنا کیا ہے """ تو (امیر المؤمنین) علی (رضی اللہ عنہُ ) نے فرمایا ((((( ہو سکتا ہے تمہیں خود پر غصہ ہو (یا فرمایا ہو سکتا ہے) تُم نے خود کو مجبور کیا ہو ))))) شُراحہ نے کہا """ میں اپنی بغیر کسی زبردستی کے رضا سے (یہ اقرار کرنے) آئی ہوں """ تو (امیر المؤمنین) علی (رضی اللہ عنہُ ) نے شُراحہ کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ ( زنا کے نتیجے والے ) بچے کو جنم دے لے اور اپنے اس بچے کو دودھ پلانا پورا کر لے ، [[[ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہُ کا یہ فعل عین سُنت کے مطابق تھا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ نے غامدیہ صحابیہ رضی اللہ عنھا کے معاملے میں کیا تھا ]]] پھر اس کے بعد (امیر المؤمنین) علی (رضی اللہ عنہُ ) شُراحہ کو اس کے اقرار کی بنیاد پر اس کوڑے لگوائے ، پھر اسے ایک کھلی وسیع جگہ میں اس کے کندھوں تک دفن کروایا اور ((((( پھر اسے سنگسار کیا اور انہوں نے سب سے پہلے سنگساری کی ابتداء فرمائی ، اور پھر فرمایا """"" میں نے شُراحہ کو اللہ کی کتاب کے ذریعے کوڑے لگوائے اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت کے ذریعے سنگسار کیا """"" )))))
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہُ کے اس فرمان میں امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ کے فرمان کی تائید ہے ، کہ رجم کا حکم قران میں تھا ، جس کی تلاوت تو منسوخ کر دی گئی لیکن اس پر عمل سنّت میں برقرار رکھا گیا ،
اس واقعہ میں اور بے شمار واقعات کی طرح یہ سبق بھی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت کا کیا مقام ہے ، اور ، """"" سُنّت ہی تو ہے """"" جیسے فلسفوں کی کیا حیثیت ہے ،
اور یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، خاص طور پر خلفاء راشدین علیھم رضوان اللہ تعالیٰ ، کس طرح اور کس قدر سُنّت پر عمل پیرا رہتے تھے ،

اور سوچنے کا مُقام ہے کہ آج ہم جیسے عام مسلمان اور ہمارے حکام نورِ سُنّت سے کس قدر دُور ہیں ، انّا للہ و انّا اِلیہ راجِعُون ،
مذکورہ بالا روایات امام ابو جعفر الطحاوی الحنفی ،(متوفی ۳۲۱ ) جو اپنی """ عقیدہ طحاویہ """ کی نسبت سے زیادہ معروف ہیں ، کی عظیم المرتبہ کتاب """" شرح معاني الآثار جلد3 صفحہ 140 """ میں ہیں ، اس اصدار (ایڈیشن) میں کے مطابق جو دارلکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سے چھاپا اور نشر کیا گیا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (19-05-09), مباح (27-05-09), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
پرانا 18-05-09, 02:12 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری قران میں نازل ہوئی ( 8 ) :::::

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دوسرے اور چوتھے خلیفہ رضی اللہ عنہما کے قول اور فعل کے مطابق قران میں رجم کے حکم کے نازل ہونے اور سنّت مُبارکہ میں اس کے برقرار رہنے ، اور پھر خود اُن کے اس حُکم کو عملی طور پر نافذ کرنے کے واضح ثبوتوں کے بعد اب دو اور صحابہ رضی اللہ عنہما کے اقوال ملاحظہ فرمایے ،
:::::: ۱ ::::::: ابی بن کعب رضی اللہ عنہُ کا فرمان :::::::
حدثنا عبد اللَّهِ ثنا خَلَفُ بن هِشَامٍ ثنا حَمَّادُ بن زَيدٍ عن عَاصِمِ بن بَهدَلَةَ عن زِرٍّ قال قال لي أبي بن كَعبٍ ::: ہمیں عبداللہ نے بتایا کہ اسے خلف بن ھشام نے بتایا کہ اسے حماد بن زید نے کہا کہ عاصم بن ھذلہ کے ذریعے زر کے بارے میں یہ ہے کہ اس نے کہا کہ ، مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہُ نے پوچھا ((((( كائن تَقرَأُ سُورَةَ الأَحزَابِ أو كائن تَعُدُّهَا ؟ قال قلت له ثَلاَثاً وَسَبعِينَ آيَةً فقال قَطُّ لقد رَأَيتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ البَقَرَةِ وَلَقَد قَرَأنَا فيها """الشَّيخُ وَالشَّيخَةُ إذا زَنَيَا فَارجُمُوهُمَا البَتَّةَ نَكَالاً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ """ ::: تُم کیسے سورت الاحزاب پڑھتے ہو اور کیسے اسے گنتے ہو (یعنی اس میں کتنی آیات سمجھتے ہو)؟ زر نے کہا ، میں نے جواب دیا ، تہتر 73 آیات ، تو ابی ان کعب رضی اللہ عنہُ نے کہا ، ہر گز نہیں میں نے سورت الاحزاب کو (اس طرح) دیکھا ہے (کہ) وہ سورت البقرۃ کے برابر تھی اور یقینا ہم نے اُس میں یہ پڑھا کہ """ اور شادی شدہ مرد اور عورت اگر زنا کریں تو ضرور انہیں سنگسار کرو ، اللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے عبرت کے طور پر ، اور اللہ بہت ہی مکمل عِلم والا اور بے نقص و بے عیب حِکمت والا ہے """)))))
::::: مُسند احمد ، حدیث 21245 ، اس کی سند اوپر ذکر کی گئی ہے ،
::::: المستدرک الحاکم ، کتاب التفسیر ، باب 34 ، اس کی سند یہ ہے ::: أخبرنا أبُو العَباسِ أحمد بن هَارُون الفَقِيه حدثنا علي بن عَبدُ العَزِيز حدثنا حَجَاجُ بِن مَنهالِ حدثنا حَماد بِن سَلَمة عن عَاصَم عَن زَرٍ عَن أُبي بِن كَعب رضي اللهُ عَنهُ قال :::
::::: اسی المستدرک الحاکم کی ایک دوسری سند یوں ہے کہ ::: حدثنا أحمد بن كامل القاضي ثنا محمد بن سعد العوفي ثنا روح بن عبادة ثنا شعبة قال وحدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا أبو النعمان محمد بن الفضل ثنا حماد بن زيد جميعا عن عاصم عن زر قال قال لي أبي بن كعب :::
::::: صحیح ابن حبان ، حدیث 4428، کتاب الحدود ، باب ذكر اثبات الرجم لمن زنى وهو محصن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by عادل سہیل; 18-05-09 at 02:19 AM. وجہ: اعراب کی تصحیح
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-05-09), میاں شاہد (19-05-09), مباح (27-05-09), ابو ضیاء (27-10-10), حیدر (14-10-10), ضِرار Derar (11-10-10), عروج (18-10-10)
جواب

Tags
پہچان, پھول, پاک, پسندیدہ, واقعات, قدم, لوگ, نماز, معلوم, ایمان, اللہ, بھائی, جواب, حدیث, خوش, دُعا, دیکھو, دریافت, زندگی, عورت, عقل, صاف, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
”یہ سزا ہے یا جزا“ جاویداسد خبریں 2 03-12-10 06:09 PM
کیاسزا ہے ۔۔۔۔۔؟ جاویداسد دلچسپ اور عجیب 1 20-10-10 09:04 AM
بدکاری کی سزا میاں شاہد اسلامی نظریہ حیات 2 07-04-09 01:59 AM
سزا جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 2 22-02-09 03:04 AM
لو میرج کی سزا وسیم قہقہے ہی قہقے 3 05-01-09 05:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger