::::::: شکر گذار بننے کا آسمانی گُر :::::::
بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمد ا ً صَلی اللہ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّم و مَن أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ عَلیٰ مَسلکہِ :::
اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد ، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جو اُن کی ہدایت کے ذریعے راہ اپنائی اور اُن کی راہ پر چلا:
عبيد الله بن محصن الخطمي رضي الله عنه کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((
مَن أصبح مَنكم آمنًا فِي سِربه ، مُعَافًى في جَسدِهِ عِندهُ قُوتَ يَومَهُ فَكأنما حِيزَتْ لَهُ الدُّنيا بِحَذَافِيرِهَا:::
تُم لوگوں میں سے جو اس حالت میں صبح کرے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے گھر میں خیر و عافیت کی حالت میں ہو ، اس کے جسم میں کوئی تکلیف نہ ہو ، اس کے پاس وہ دِن گذارانے کے لیے خوراک ہو ، تو گویا اُسکے لیے ساری کی ساری دُنیا مہیا کر دی گئی )))))سنن الترمذی / حدیث 2346/ کتاب الزھد/ باب34 ، صحیح ابن حبان میں ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ُ سے بھی روایت ہے السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 2318،
اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے کہ (((((
مَن أصبح مَنكُم :::
تُم لوگوں میں سے)))) یعنی """ اے ایمان والو تُم میں سے جو کوئی اس حالت میں صبح کرے کہ اسے اپنی جان ،اپنے گھر ،اپنے اہل خانہ اور اہل خاندان اور اپنے راستے وغیرہ کے بارے میں ، کسی دُشمن ، کسی تکلیف ، کسی بیماری وغیرہ کا کوئی خوف نہ ہو ، اور اُس کا جِسم ظاہری اور باطنی طور پر کسی بھی قِسم کی کمزوری ، کمی اور بیماری سے بچا ہوا ہو ، اور اس کے پاس اپنے اُس دِن کے کھانے پینے کا سامان ہو ، تو وہ جان لے کہ اللہ کی طرف سے گویا کہ اسے ساری ہی دُنیا اپنی تمام خیر کے ساتھ دی گئی ہے ،
اس حدیث پاک میں ہمیں یہ سبق دیا گیا کہ اگر کسی ایمان والے کو یہ چیزیں میسر ہوں تو اسے کسی قسم کی کمتری کا احساس نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ ان چیزوں کواللہ کی نعمت جانے اور اللہ کا شکر گذار بندہ بن کر ان نعمتوں کو اللہ کی تابع فرمانی میں استعمال کرے ،
اگر اُس بندے نے ان نعمتوں کو اللہ کی تابع فرمانی میں استعمال کرنے کے بجائے نافرمانی میں استعمال کیا تو اِن کی کمی کے باوجود جو خیر ان میں رکھی گئی وہ اٹھا لی جائے گی اور وہ بندہ اِن تھوڑی سی چیزوں کو واقعتا تھوڑا ہی پائے گا،
اگر وہ اِن چیزوں کو اللہ کی نعمت نہ جانے گا تو ناشکر گذاری کا گناہ بھی کمائے گا ، اور مزید کی ہوس کا شکار ہو کر بے سکون بھی رہے گا ،
خود کو ملنے والی نعمتوں کے احساس کو اجاگر کرنے کے لیے، اور دُنیا کے لالچ سے بچنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں یہ نسخہ بتایا کہ (((((
انْظُرُوا إلى مَن أَسْفَلَ مِنْكُمْ ولا تَنْظُرُوا إلى مَن هو فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ :::
تُم لوگ اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھا کرو اور اپنے سے اوپر والے کی طرف مت دیکھا کرو یہ(یعنی ایسا کرنا) بہتر ہے تاکہ (اس طرح)تُم لوگ خود پر (پائی جانے والی) اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو)))))صحیح مُسلم /حدیث2963/کتاب الزھد والرقائق،
پس اگر ہم ایمان اور یقین کے ساتھ اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِن دو فرامین کو ہی سامنے رکھیں اور ان پر عمل پیرا رہیں تو ہماری زندگی میں پائی جانے والی کمی کا احساس ختم ہوجائے ، اور اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ ہمیں جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے اُن کی پہچان ہو جائے ، اور ہم اللہ کے شکر گذاروں میں شامل ہوجائیں ۔