اسلام وعلیکم:
[ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھنے کے عادی رہے ہیں اور کبھی دوسرے زاویے پر غور نہیں کرتے آج تک زمانہ جُہل کے اس فعل پر ہم ایسے باپ بھائیوں کو لعن طعن کرتے آئے ہیں مگر اب اندازہ ہوا ہے کہ وہ ظالم نہیں تھے بلکہ اپنی عزت اور دکھ سے بچنے کیلئے طوعاً و کرحاً یہ گھناؤنی رسم ادا کرنے پر مجبور تھے کیونکہ وہ اپنی کمسن نابالغ بچی کے ساتھ ہونے والے ایسے مکروہ فعل کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ حیوانیت کی بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن بھولی بھالی، نادان، انجان بچیاں درندہ صفت بھیڑیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔ اپنے غلیظ گناہ کو چھپانے کی خاطر یہ جانور نما انسان ان معصوم کمسن بچیوںکو انتہائی سفاکی سے مار ڈالتے ہیں۔ کبھی گلا گھونٹ کر، کبھی کرنٹ لگا کر اور کبھی زہر دے کر چُپ کرا دیتے ہیں۔ ان نو عمر بچیوں کے ٹکڑے کر کے بوری میں باندھ کر کوڑے کے ڈھیر میں یا گندے نالے میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ لاشیں کبھی گٹروں سے برآمد ہوتی ہیں کبھی گھر کے پچھواڑوں سے تو کبھی صحن کے گڑھوں سے۔ گناہ کی دلدل میں دھنسنے والے اور چند سال کی نو عمر بچی کے خون میں ہاتھ رنگنے والے صاف بچ نکلتے ہیں کسی ایک آدھ کو سزا ہوتی ہے باقی دندناتے پھرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ان کی بھی ماں بہنیں ہیں ان کی بھی کمسن بیٹیاں ہیں جو کسی دن انہی جیسے جنگلی درندے کے []ہتھے چڑھ سکتی ہیں لیکن نہ وہ کبھی ایسا سوچتے ہیں اور نہ عموماً ان کے ساتھ کبھی ایسا ہوتا ہے۔ جہاں تک شادی کے بعد لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے بدترین سلوک ناانصافی، زیادتی بلکہ استحصال و جبر کے معاملے ہیں تو ان کی رپورٹیں بھی دل دہلا دینے والی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 40000 ہزار شادیاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے 30 ہزار لڑکیوں کے ساتھ عدم مساوات اور عدم تعاون ہوتا ہے۔ صرف دس ہزار لڑکیاں اچھی اور نارمل ازواجی زندگی گزارتی ہیں۔ 30 ہزار میں سے 14ہزار مسلسل ٹینشن کا شکار رہتی ہیں، چھ ہزار اپنے گھروں میں واپس جا کر بیٹھ جاتی ہیں ان چھ ہزار میں سے ڈھائی تین ہزار کو جہیز کے پیچھے طلاق دے دی جاتی ہے۔ باقی دس ہزار شادی شدہ لڑکیوں میں سے ساڑھے نو ہزار لڑکیوں پر گھریلو تشدد ہوتا ہے لیکن وہ یہ تشدد سہنے پر مجبور ہوتی ہیں کیونکہ شوہر اور سسرال والوں کی اصلیت سامنے آنے کے باوجود اور حقائق کے کڑوے گھونٹ پینے کے باوجود ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ یہ رشتہ توڑ کر دوبارہ سے نیا گھر آباد کریں۔ باقی پانچ سو لڑکیوں کے ساتھ مار پیٹ ہوتی ہے انہیں زخمی کر دیا جاتا ہے یا ٹینشن ڈیپریشن فرسٹریشن اور جبروتشدد سے نفسیاتی مریض بنا دیا جاتا ہے ان میں سے ہر سال 40 سے 60 لڑکیوں کو مار دیا جاتا ہے۔ طلاق یافتہ یا خلع زدہ عورتوں کی زندگی بھی اجیرن اور عبرت کا نمونہ ہے۔ اسی طرح عمر رسیدہ، غیر شادی شدہ بیوہ عورتوں کی حالت بھی بدتر ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو 2010ء میں صوبہ پنجاب میں قائم تین شیلٹر ہومز میں 2324 عورتیں اور 540 بچے پناہ نہ لیتے۔ ملک بھر میں قائم ایک درجن سے زائد دارلامانوں میں گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اس سال تقریباً چھ ہزار رہی۔ اگرچہ 20 جنوری 2010ء میں سینٹ میں ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کا ترمیمی بل 2009ء منظور ہوا لیکن دیگر قوانین کی طرح یہ بھی محض کاغذوں میں درج کر دیا گیا اور عملاً اس کا نفاذ صفر رہا۔ 31 فروری کو امریکی جیوری نے عافیہ صدیقی کو مجرم قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی پیشرفت عمل میں نہ آ سکی۔ 300 سے زائد خواتین نے اسمبلیوں اور سینیٹ میں بیٹھ کر اپنی صنف کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی گورنر خاتون ڈاکٹر شمع چند ماہ کی گورنری کے بعد وفات پا گئیں لیکن خواتین کے کسی فورم سے اظہار افسوس نہیں کیا گیا۔ پہلی بار بغداد میں زائرین پر کسی خاتون نے خودکش حملہ کیا خودکش بمبار خاتون کے جسم پر کئی کلو کے بم نصب تھے جس کی وجہ سے 54 افراد زخمی ہوئے۔ عورت کی جارحیت، بربریت اور انتقام کا یہ روپ کافی سے زیادہ خطرناک تھا۔ اسی خاتون بمبار کی پیروی کرتے ہوئے باجوڑ میں پاکستان خاتون نے خودکش حملہ کر دیا۔ برقعہ پوش خاتون نے چیک پوسٹ پر روکنے پر پہلے اہلکاروں پر دستی بم پھینکے پھر خود کو اڑا لیا۔ 45 آدمی موقع پرجاں بحق ہو گئے۔ تین آدمی دو دن میں زخموں سے خون بہنے کے باعث مر گئے اور 100 کے قریب لوگ زخمی ہو گئے۔ یہ خبر بھی خاصی روح فرسا ثابت ہوئی اور ان دو خبروں کے بعد اب کسی بھی عورت پر آسانی سے یقین اور اعتبار کی صدیوں پرانی روایت بدل جائے گی گویا یہ سیریز اب آگے چلے گی جس میں خودکش بمبار عورتیں منظر عام پر آئیں گی۔ حال ہی میں این این آئی نے خبر جاری کی ہے کہ ’’حقوق خواتین قانون‘‘ کے نفاذ کے بعد مجرموں نے اپنی کارروائیوں کے لئے خواتین کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ پنجاب ، سندھ، خیبر پختونخوا کی جانب سے وزارت داخلہ اور پولیس ریسرچ بیورو کو بھی دی جانے والی رپورٹوں کے مطابق خواتین کے تحفظ کے بل کے بعد ایسے جرائم میں نسبتاً اضافہ ہو گیا ہے جن میں خواتین بذات خود ملوث ہیں۔ جرائم پیشہ گروہ ان خواتین سے منشیات اور بارودی مواد سمگل کرا رہے ہیں۔ قبل ازیں عورتیں اپنی ہی صنف کی سمگلنگ میں ملوث تھیں لیکن اب شدت پسند گروہوں سے رابطے شروع ہو گئے ہیں۔ بل کے تحت خواتین کو 4 مقدمات قتل، اغوائ، برائے تاوان، دہشتگردی یا ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بھی 24 گھنٹے سے زائد حوالات میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ عورتیں فوراً ضمانت پر رہا ہو جائیں گی۔ اس بل نے عورت کو ایک منفی کردار میں ڈھالا ہے اس سے پہلے عورتیں اپنے شوہروں یا عزت لوٹنے والوں کی قاتل بنا کرتی تھیں بلکہ پہلے زیادہ تر خود کشی کرنے کا رواج تھا مثلاً 1998ء میں ملک بھر میں ڈھائی سو عورتوں نے خودکشی کی تھی۔ اور آج 12 سال بعد خودکشی کی شرح صرف 80 عورتیں رہ گئیں۔............ (ختم شد
Nawaiwaqt eNewspaper - A house of quality news content | Urdu News | Pakistan News | Nawaiwaqt | Nawaiwaqt Group | A house of quality news contents