واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


غیبت اور اس کی تباہ کاریاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-10-11, 01:47 AM   #1
غیبت اور اس کی تباہ کاریاں
ملک اظہر ملک اظہر آف لائن ہے 30-10-11, 01:47 AM

سماج ومعاشرہ صاف ستھرا اور پاکیزہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے افراد نیک دل اور نیک طبیعت کے ہوں،ان کا سینہ اخلاص وللہیت سے معمور ہو،ان کی زبان جھوٹ ، چغلی،افتراءپردازی اورغیبت جیسی مذموم صفت سے پاک ہواور ان کے دل میں ایثار وقربانی اور باہمی جذبہ محبت کارفرماہو۔

آج ہمارے معاشرے میں متعدد اقسام کی بیماریاں سرایت کرگئی یہاں ان بیماریوں میں سے ایک اہم بیماری غیبت ہے ۔ یہ ایسی بیماری ہے جو عوام ہی نہیں بلکہ سماج کے بااثر ذی شعور طبقہ کو بھی لاحق ہوگئی ہے اور اس با ت کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا ہے کہ ان سے کوئی مذموم حرکت سرزد ہورہی ہے ۔

غیبت کا مطلب: غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے سامنے کسی کی غیرموجودگی میں اسکی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔

حضرت ابوہریره رضى الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے فرمایا:

تم جانتے ہو کہ غیبت کیاہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کاذکر اسطرح کرناکہ وہ اسے ناگوار گذرے، لوگوںنے کہا: اگروہ برائی اس میں موجود ہوتو؟ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگراس کے اندر وہ برائی موجود ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی اس کے اندر موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“(مسلم)
غیبت ایک بھیانک جرم ہے کیونکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے عیوب کی تشہیر کرکے اس کی آبروریزی کی جائے یہ سراسر حرام ہے اور اللہ تعالی نے اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔
ارشاد فرمایا: وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
اور (کسی کے عیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جستجو میں نہ رہوجسے اللہ تعالٰی نے اپنی ستّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ، بغض ، بے مروتی نہ کرو ، اے اللہ تعالٰی کے بندو بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے ، اس کو رسوا نہ کرے ، اس کی تحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، ( اور یہاں کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا) آدمی کے لئے یہ برائی بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر دیکھے ، ہر مسلمان مسلمان پرحرام ہےاس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ، اللہ تعالٰی تمہارے جسموں اور صورتوں اور عملوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔ (بخاری و مسلم) حدیث جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالٰی روزِ قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔

تو مسلمان بھائی کی غیبت بھی گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے بُرا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کے مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کو بدگوئی سے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت آبرو گوشت سے زیادہ پیاری ہے ۔
شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے وہ اسے کھلائیں پلائیں ہر ایک کاکا م چلے اسی طرح حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ دو آدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے ، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، حضور کے خادمِ مطبخ حضرت اُسامہ تھے رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ان کے پاس کچھ رہا نہ تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا کہ اُسامہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بُخل کیا ، جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، فرمایا میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ، انہوں نے عرض کیا ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ، فرمایا تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے مسلمان کا گوشت کھایا ۔
مسئلہ : غیبت بالاتفاق کبائر میں سے ہے ، غیبت کرنے والے کو توبہ لازم ہے ، ایک حدیث میں یہ ہے کہ غیبت کا کَفّارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔
مسئلہ : فاسقِ معلِن کے عیب کا بیان غیبت نہیں ، حدیث شریف میں ہے کہ فاجر کے عیب بیان کرو کہ لوگ اس سے بچیں ۔
مسئلہ : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تین شخصوں کی حرمت نہیں ایک صاحبِ ہوا (بدمذہب) ، دوسرا فاسقِ معلِن ، تیسرا بادشاہ ظالم ، یعنی ان کے عیوب بیان کرنا غیبت نہیں ۔

غیبت کی حرمت پر متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں:

حضرت جابر بن عبداللہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے کہ سخت بدبو پھیلی تو آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیسی بدبو ہے ؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

ان لوگوں کی بدبو ہے جو مسلمانوںکی غیبت کرتے ہیں “۔ (مسنداحمد 3/351 )

دوسری حدیث کے اندر آتا ہے کہ عائشہ نے صفیہ رضى الله عنها کی کوتاہ قامتی کا تذکرہ کیا جس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: لقد قلتِ کلمة لومُزجت بماءالبحر لمزجتہ (ابوداؤد) ”اے عائشہ ! تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا کے پانی میں ملا دیا جائے تو دریا کا پانی متغیر ہوجائے “۔

لیکن اگر آج ہم اپنے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ معاشرے کے اندر غیبت جیسی مذموم خصلت اتنی عام ہوچکی ہے جس سے اہل اسلام کے اتحاد واتفاق کا جنازہ نکل گیا ہے اورایک دوسرے کی عزت وآبروپر کیچڑاچھالنا ان کا شیوہ بن چکاہے ۔
غیبت کا اخروی انجام: جولوگ دوسروںکی غیبت کرتے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب ہوگا جیساکہ نبی اکرم انے فرمایا:

”جب میں معرا ج کو گیا تو جہنم کے مناظر میں یہ دردناک منظر بھی دیکھا کہ ایک جماعت کے ناخن تانبہ کے ہیں جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں،میں نے جبریل ں سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبریل ںنے فرمایا: ھولاءالذین یاکلون لحوم الناس ویقعون فی اعراضھم ”یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی آبروریزی کرتے تھے ۔“ (مسنداحمد)

غیبت نیکیوں کو تلف کردیتی ہے :

حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن صحابہ کرام رضى الله عنهم سے پوچھا : ”کیا آپ لوگ جانتے ہیں مفلس کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: مفلس تو وہی ہے جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو،آپ نے فرمایا: مفلس میری امت میں وہ ہے جو قیامت کے دن صوم وصلاة ، زکاة سب عبادات لے کرآئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کی آبروریزی کی ہوگی ، کسی کا مال کھایاہوگا، کسی کا خون بہایاہوگا ،کسی کو ماراپیٹا ہوگا ،لہذا کسی کواس کی فلاں نیکی دے دی جائے گی اور کسی کو فلاں نیکی دے دی جائے گی۔ اس طرح اس کی سب نیکیا ںدوسروںکے حقوق دینے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گی تب ان حقداروں کے گناہ اس پرلاد دئیے جائیں گے ،اور اس طرح وہ جہنم میں ڈال دیاجائے گا ۔“ (مسلم)


غیبت کا کفارہ : اگر کسی شخص کے سامنے غیبت کی قباحت عیاں ہوچکی ہے اور وہ اس عمل پر نادم وشرمندہ ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس حرام فعل سے توبہ واستغفار کرتے ہوئے رک جائے ،پھر اگر وہ آدمی موجود ہو جس کی غیبت کی گئی ہے تو اس سے معافی مانگے ورنہ اس کے حق میں کثرت سے دعائے مغفرت کرے ۔
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 30-10-11 at 02:29 AM..

ملک اظہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
شکریہ: 442
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 137
Reply With Quote
ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فرض, پسند, نفرت, نظر, محبت, معلوم, آدمی, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, جھوٹ, جواب, جرم, حدیث, خون, دل, شخص, عذاب, عرض, عزت, غیبت, صفت, صاف, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح غیر موثر نہیں ہوسکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ گلاب خان خبریں 16 24-04-12 10:41 AM
امریکہ کے غیر قانونی تارکینِ وطن کنعان عمومی بحث 14 20-07-10 09:40 AM
نیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کی پالیسی اختیار کی ،اسٹیفن فلیمنگنیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقی عبدالقدوس کرکٹ 0 29-10-07 11:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger