واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


:::::: غیر مسلموں کے تہواروں میں شمولیت :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-12-11, 01:37 AM   #1
:::::: غیر مسلموں کے تہواروں میں شمولیت :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 23-12-11, 01:37 AM

:::::: غیر مسلموں کے تہواروں میں شمولیت :::::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمدُ لِلَّهِ حَمدًا كَثيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرضَى ، و افضَلُ الصَّلاۃِ و اَتمُّ السَّلام ِعَلَی رَسُولِہِ الکَریم ، امَّا بَعد ،
ہم پیدائشی ، خاندانی مُسلمانوں کی مُسلمانی میں اِیمان کو قتل کرنے والے امراض کی کثرت ہوتی جا رہی ہے ، اِن اِیمان کے قاتل امراض میں سے ایک مرض غیر مُسلموں کے لیے قلبی لگاؤ بھی ہے ایسا قلبی لگاؤ جو بسا اوقات مُحبت کی صُورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور جب یہ مرض شدت اختیار کر جاتا ہے تو ہم اپنوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور کافروں سے مُحبت کا اقرار ،
جی ہاں مُحبت ، اُس مُحبت کے اقرار و اظہار کے انداز و اطوار میں سے ایک انداز اُن کافروں کے تہواروں میں شمولیت بھی ہے ، خواہ وہ تہوار خالصتاً دینی ہوں ، کفریہ عقائد پر مبنی ہوں ، یا محض اُن کافروں کی عادات میں سے ہوں ،
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں رہی کہ کافروں کے تہوار میں شمولیت کے بارے میں ہمارے دِین میں ہمارے لیے کیا حُکم ہے ؟ ہم اُن میں شامل ہوتے ہیں ، اور کچھ نہ ہو تو انہیں نیک تمنائیں اور مبارک کی دعائیں تو دے ہی دیتے ہیں ،
ہمیں صِرف یہ شوق حُدود جنون میں داخل کر چکا ہے کہ ہمیں کسی طور ہم پر """ تنگ نظر ، یا ، قدامت پرست ، یا ، بنیاد پرست ، یا ، دقیانوسی """، یا ماضی قریب میں انہی کافروں کی طرف سے ہماری محبتوں کے جواب میں دیے گئے نئے لقب """دھشت گرد """ وغیرہ میں سے کوئی لقب نہ دے دیا جائے ،
ہم تو فقط اپنے اندر موجود کفار کی محبت اور ان سے مرعوبیت اور کہیں اُن کے خوف کی وجہ سے اُنہیں خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، خواہ اُس میں دُنیا کی ذِلت بھی ملتی رہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی رہے
جی ہاں ، ایسا ہی ہے ، کیونکہ لوگوں کے أعمال ان کے عقائد اور نیتوںکا نتیجہہوتے ہیں حتیٰ کے وہ أعمال بھی جو لاشعوری طور پر سر زد ہو جاتے ہیں ان کےپیچھے بھی انسان کا کوئی نہ کوئی اِرداہ کارفرما ہوتا ہے جو اُس کے لاشعور میں مُقیم ہونے کی وجہ سے اس کے ادراک سے باہر ہوتا ہے ، پس أعمال کو دیکھ کر ہی عاملین کے عقائد اور نیتوں کا اندازہ کیا جاتا ہے ،
اس مخلوط و حیراں کیفیت کے بارے میں اس سے زیادہ اور کیا کہوں کہ """إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ """،
کافروں کے تہواروں اور اُ ن کی عادات میں شمولیت اور اُن کی عادات کی نقالی کے بارے میں اِسلامی احکام کا ذِکر کرنے سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو قران کریم کو اللہ کی آخری ، حتمی ، مکمل اور غیر محرف کتاب نہیں مانتا وہ کافر ہے ، ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو کہ عبداللہ بن عبدالمطب کے بیٹے تھے ، کو اللہ کا آخری رسول نہیں مانتا وہ کافر ہے ، خواہ وہ اللہ پر اِیمان رکھتا ہو اور بظاہر اُس کے پاس موجود کتابوں یا باتوں کے مطابق اللہ کا عبادت گذار اور تابع فرمان نظر آتا ہو ، وہ مُسلمانوں کی صفوف میں شُمار نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ کافر ہی مانا جائے گا ،
اِس وضاحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، کافروں کی پہچان نظر میں رکھتے ہوئے ، پہلے بیان کردہ باتوں کی روشنی میں ہمیں یہ جان رکھنا چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں معاشرے میں الگ تھلگ رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ معاشرےمیں ہمارا اور کافروں کا وہ مقام برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نےمقرر کر رکھا ہے،ہمارے اور اُن کے درمیان وہ فرق برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کر رکھے ہیں ،
بحیثت انسان کافروں کی جان مال اور عِزت پر ہاتھ نہ ڈالنا اور ان کے ساتھ ظُلم و زیادتی نہ کرنا اِسلامی تعلیمات میں سے ہے ،کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں نرمی اور اچھائی والا رویہ رکھنا اسلامی تعلیمات میں سے ہے ،اپنے اردگرد پائے جانے والے کفار کے ساتھ بات چیت کرنا اوراسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا بحثیت انسان ان کےحقوق میں سے ہے ،
ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اچھے اسلامی اخلاق کے ساتھ پیش آنا ہی چاہیے اور ساتھ ساتھ انہیں اسلام کی دعوت بھی دیتے رہنا چاہیے ،
دُکھ درد اور غم و تکلیف کے وقت اُن کی داد رسی کرنا بھی اسلامی تعلیمات میں سے ، لیکن ان سب اعمال کی حُدود و شرائط ہیں ، معاشرتی زندگی میں کافروں کی خوشیوں اور تہواروں میں شمولیت ایک الگ معاملہ ہے ،
کافروں کے لیے قلبی میلان رکھنے ، اُن کی عادات کو اپنانے ، اُن کی نقالی کرنے ، ان کے تہواروں پر اُنہیں برکت کی دُعا دینے ، اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے ، اور اُن کے تہواروں میں شامل ہونے جیسی اپنی اِن بدعملیوں سے بڑھ کر بد عملی یہ ہے کہ ہم اپنی بد عملیوں ، خامیوں اور اپنے دِین کی درست تعلیمات سے اپنی دُوری کو ختم کرنے کی بجائے اپنے دِلوں اور دِماغوں پر مُسلط خلافءِ اِسلام خیالات کو دُرست بنانے کے لیے ، اور اِن خیالات کے مطابق کیے جانے والے اپنے اعمال کو دُرست ثابت کرنے کے لیے دِین کوبھی بدلنے کی کوشش کر ڈالتے ہیں ، جب کہ ہمیں ہمارے اکیلے لا شریک خالق و مالک ، جِس کی واحدنیت اور الوہیت کا کلمہ پڑھنے کے سبب ہم مسلمانوں کی صفوف میں شُمار ہوتے ہیں ، اُس رب نے تو ہمیں حُکم دیا ہے کہ (((((فَاِن تَنَازَعتُم فِی شَیءٍ فَرُدُوہُ اِلَی اللّٰہِ و الرَّسُولِ اِن کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللّٰہِ وَ الیَومِ الاٰخِرِ، ذَلِکَ خَیرٌ وَ اَحسَنُ تَاوِیلاً ::: اور اگر تُم لوگوں میں کسی چیز (کام ) کے بارے میں کوئی اِختلاف ہو جائے تو اگر تو تم لوگ(واقعتا ہی) اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھتے ہو تو ( اِختلاف کو حل کرنے کے لیے ) اُس اِختلاف کو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف لوٹاؤ ، اور یہ (یعنی اِختلاف کا حل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامت میں تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا)بہت خیر والا اور اچھے انجام والا ہے ))))) ، سُورت النِساء/آیت 59،
اور اِسی اللہ نے جِس کی بندگی کا ہم دعوی ٰ رکھتے ہیں ، اور جِس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت کا ہم دم بھرتے ہیں ، اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں حکم فرمایا ہے ((((( وَ مَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَ لَا لِمُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسوُلَہُ اَمراً اَن یَکُونَ لَھُم الخِیرَۃُ مَن اَمرِھِم وَ مَن یَعصِ اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلاً مُبِیناً ::: اور جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو کِسی اِیمان والے مَرد اور کِسی اِیمان والی عورت کے لیے اُن (یعنی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم )کے فیصلے کے بارے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (یعنی وہ فیصلے ماننا اُس پر فرض ہے )اور جِس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نا فرمانی کی تو وہ یقیناً کھلی واضح گمراہی میں جا پڑا )))))سُورت الاحزاب /آیت 36،
اللہ پاک نے اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بلا مشروط اور کسی تاویل کے بغیر تابع فرمانی کے احکامات بار بار صادر فرما رکھے ہیں ، پس اگر ہم واقعتا ہی اِیمان والے ہیں تو ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی ہی کریں گے اور اگر ہم صِرف نام نہاد اِیمان والے ہیں تو پھر اپنی سوچوں ، فلسفوں ، آراء اور عقلوں کو کسوٹیاں بنا کر اپنی بد عملیوں کو درست بنانے کی کوشش کرتے دکھائی گے ،
ایسے لوگوں کو دیکھ کر اللہ کا یہ فرمان دل و دماغ میں گونجنے لگتا ہے کہ((((( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ::: اے ایمان والو ، اللہ کی بات قبول کرو اور رسول کی بات قبول کرو جب کہ وہ تم لوگوں کو زندگی بخش چیز کی طرف ہی بلاتے ہیں اور جان لو کہ اللہ (ان کی بات نہ ماننے والے)بندے اور اس کے دِل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے (اور پھر اُس بندے کے لیےحق سمجھنے کی گنجائش نہیں رہتی)اور تم لوگوں کو اللہ کی طرف ہی ہانکا جایا گا )))))سُوعت الانفال/آیت24،
ان بھائی بہنوں کو شاید پتہ نہیں کہ وہ اللہ کی بات سن کر اپنی سوچوں کی بنا پر انکاری کی سی کیفیت میں اس سے منہ ُ پھیر کر کس قدر نقصان کما رہے ہیں ، اور وہاں کا نقصان کما رہے ہیں جہاں کوئی دوستی کام نہ آئے گی ، سوائے دو ایمان والوں کی وہ دوستی جو صرف اللہ کے لیے تھی ،
(((((وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ::: اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جسے اللہ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے اور وہ اُن آیات سے(نہ ماننے کی صورت میں) مُنہ پھیر لے(تو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ)یقیناً ہم مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے)))))سُورت سجدہ/آیت22،
اللہ ہم سب کو ہمارے ہر اس مسلمان بھائی اور بہن کو ہدایت دے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سن کر بھی اُن کے خلاف اپنے خیالات کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ، اور نصیحت کی بات کو ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات کو حقارت اور طنز کے ساتھ رد کرتا ہے،اور کچھ تو ایسے ہیں جو کہ غلط فہمیوں پر مبنی اپنے فلسفوں اور سوچوں کے دھارے میں اس قدر بہہ رہے ہوتے ہیں کہ اپنے تیئں قران کریم کے مدبر بنے ہوئے اللہ کی اسی قران میں اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ کا انکار کرتے ہیں ، اللہ ہی جانے اُن کی قران فہمی میں اللہ کا یہ فرمان کہاں ہوتا ہے کہجو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں ، ان سے دُشمنی رکھتے ہیں ، ان کو غصہ دلانے والے اعمال کرتے ہیں ، خواہ وہ کلمہ گو ہوں یا کافر ان سب کا انجام اللہ نے ایک ہی بتایا ہے
((((( أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ:::کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول سے دُشمنی رکھے گا (اور ان کی نافرمانی کرے گا اور ، انہیں غصہ دلانے والے کام کرے گا)تو یقیناً اُس کے لیے جہنم ہے جِس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بہت بڑی ذِلت ہے )))))سُورت التوبہ/آیت63،
اور یہ طے شدہ امر ہے کہ کافروں کے لیے دوستی ، قلبی میلان اور ان کے کفر پر رضا مندی والا معاملہ رکھنا، یہ سب عمل اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی ہیں ، اور انہیں غُصہ دِلانے والے ہیں ،
((((( وَ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ:::اور تُم لوگ اُن لوگوں کی طرف مائل مت ہو جنہوں نے (اللہ کا دِین اور حق قبول نہ کر کے اپنی جانوں)ظُلم کیا (اگر ایسا کرو گے)تو تُم لوگوں کو جہنم پکڑ لے گی اور تُم لوگوں کے اللہ کے علاوہ کوئی سرپرست اور والی نہ ہو گا اور پھر تم لوگوں کی کوئی مدد نہ کی جائے گی )))))سُورت ھُود/آیت113،
اس مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں کسی اہل کتاب یا کسی خاص نسل و قِسم کے کافروں کا ذِکر نہیں ، بلکہ ہر قسم کے کافروں اور حتیٰ کہ کلمہ گو منافقوں اور فاسقوں و فاجروں کے ساتھ تعلق داری کا ایک ہی حکم بیان ہوا ہے ،
لہذا کسی کو یہ غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ یہ آیات یا اِن میں دیا گیا حُکم صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں ہے ،
اب اگر اتنے صاف اور واضح حُکم کے بعد بھی کوئی صاف صریح کھلے کافروں سے قلبی لگاؤ رکھتا ہو، اُن کی عادات اور ان کے کفر و عناد پر مبنی تہواروں کی طرف مائل ہوتا ہو ، بلکہ اُن کو دُرست سمجھ کر اور ان احکامات کو نا دُرُست سمجھ کر ، اُن کافروں کو اُن کے کفر پر مبنی اعمال اور تہواروں پر برکت کی دعاء دینے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے، اور اُن کے ساتھ اُن تہواروں میں شامل ہو نے میں کوئی برائی نہیں سمجھتا تو ہم اس کے لیے دُعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ اسے ہدایت دے اور سب ہی مسلمانوں کو ہر اس معاملے میں ہدایت دے جس میں وہ گمراہ ہیں ،
اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ کا فرمان مُبارک ہے (((((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ:::اے اِیمان لانے والو ، تُم لوگ نصاریٰ (عیسائیوں) اور یہودیوں کو دوست مت بناؤ ، وہ لوگ ایک دوسرے کے ہی دوست ہیں ، اور تُم لوگوں میں سے جِس نے اُن(کافروں)کے ساتھ دوستی کی تو وہ(میرے ہاں )اُن ہی میں سے ہے)))))سُورت المائدہ/آیت51،
دوستی جو کہ قلبی لگاؤ کے ایک انداز کا نام ہے ، جِس میں دوست کے دُکھ پر غم ہوتا ہو اور اُس کی خوشی پر خوشی محسوس ہوتی ہو ، قطع نظر اس کے کہ اُس کے غم یا خوشی کا سبب کفر ہی کیوں نہ ہو ، اُس کی غمی اور خوشی میں شامل ہونا ، کسی بھی انداز میں شرکت کرنا اس قلبی لگاؤ کا ثبوت ہوتا ہے ، اورکسی مُسلمان کی طرف سے کسی کافر کے لیے ایسے قلبی لگاؤکو روا رکھنے کی اسلام میں اجازت نہیں ،
اور کسی کام کے لیے اللہ یا اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اجازت نہ ہونا کچھ معمولی بات نہیں کہ وہ کام کر لیا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا ، یا کچھ ہلکا پھلکا سو نقصان ہو گا ، بلکہ اُس کام کو کرنا آخرت کی مکمل تباہی کے اسباب میں سے ہے اور کافروں سے قلبی لگاؤ رکھنا بھی ایک ایسا ہی کام ہے ،
یہ آیت بھی ملاحظہ فرمایے اس میں بھی مطلقاً کافروں کا ذِکر ہے صِرف یہود و نصاریٰ کا نہیں ،
(((((لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ:::اِیمان والے (دوسرے)اِیمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں ، اور جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے اللہ کی طرف سے کسی(خیر و بخشش والا معاملہ ) میں نہیں ، ایسا صرف (ظاہری طور پر )اس وقت کر سکتے ہو جب تم لوگ ان کافروں سے کسی طور بچنا چاہتے ہو اور اللہ تُم لوگوں کو اپنی ذات مبارک کے بارے میں خبر دار کرتا ہے اور اللہ کی طرف(تم سب نے)پلٹنا ہے)))))سُورت آل عمران/آیت 28،
اس آیت میں اللہ تعالیٰ سب ہی کافروں سے دوستی کرنے والوں کے لیےہر خیر و بخشش سے محروم کر دیے جانے کا اعلان فرما رہے ہیں ، اس آیت مبارکہ اور دیگر آیات مبارکہ کے مطابق بالکل ظاہر سی بات ہے ایسا کسی اِیمان والے کے ساتھ نہ ہوگا ، یعنی ایسا کرنے والا شخص اگر اللہ کے ہاں اِیمان والوں میں رہے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے آخرت کی ہر خیر سے محروم ہونے کی وعید نہ فرماتا،
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اس معاملے میں واضح احکامات دیے ہیں ، ان میں سے ایک حُکم تو ایک عام قاعدے قانون کی صُورت میں ہے جس میں کافروں کی ہر قسم کی نقالی کی ممانعت ہے ، کیونکہ کسی کی نقالی اُس کے لیے قلبی لگاؤ ، اُس سے مُحبت اور اُس سے متاثر
ہونے کا مُنہ بولتا ثبوت ہے ، کوئی صحیح عقل و سمجھ والا انسان کبھی کسی ایسے شخص کی عادات ، انداز و اطوار نہیں اپناتا ، اُن کی نقالی نہیں کرتا جِس شخص کو وہ اچھا نہ سمجھتا ہو ،
:::::: عبداللہ ابن عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ:::جِس نے جِس قوم کی نقالی کی وہ اُسی قوم میں سے ہے )))))سُنن ابو داؤد /حدیث4033/کتاب اللباس/باب5،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے فرمایا """حسنٌ صحیح""
:::::: جریر بن عبداللہ البُجلی رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی تو انہوں نے فرمایا(((((أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ:::میں ان باتوں پرتمہاری بیعت لیتا ہوں کہ تُم اللہ کی عبادت کرو گے اور نماز ادا کرو گے اور مسلمانوں کو نصیحت کرو گے اور مشرکوں سے الگ رہو گے)))))سُنن النسائی/حدیث4194/کتاب البیعۃ/باب17،السلسلہ الاحادیث الصحیحہ/ حدیث636،
اس میں مشرکوں سے الگ رہنے کا مطلب معاشرتی علیحدگی نہیں کیونکہ ایسا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دور مبارک میں مسلم معاشرے میں بھی نہ تھا ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی عادات اور نقالی سے الگ رہو گے ، اور اگر کوئی معاملہ اُن کے ہاں دینی نوعیت کا ہو تو پھر تو اس میں کسی بھی طور شمولیت بدرجہ اَولیٰ ممنوع ہے ،
یہ مفہوم ہمیں دیگر احادیث اور آثار میں ملتا ہے جس کی مثال کے طور پر آپ کو اُمت کے سب سے مقدس اور پاکیزہ طبقے کے عُلماء رضی اللہ عنہم اجمعین کے فتاویٰ میں سے کچھ پیش کرتا ہوں ،
:::::: عبداللہ ابن عَمرو رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ(((((مَنْ بَنَى بِبِلاَدِ الأَعَاجِمِ وَصَنَعَ نَيْرُوزَهُمْ وَمِهْرَجَانَهُمْ وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ::: جو کوئی کافروں کے شہروں میں آباد ہوا اور ان کے تہوار منائے اور ان کی نقالی کی یہاں تک وہ اسی حالت میں مر گیا تو قیامت والے دن اس کا حشر انہی کافروں کے ساتھ ہو گا )))))سنن البیہقی ، حدیث صحیح ہے ،
اور ایک روایت میں((((( مَنْ بَنَى بِبِلاَدِ المُشرکین)))))کے الفاظ ہیں اور وہ روایت بھی صحیح ہے ،
:::::: دوسری حدیث بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے
(((((لا تَعلَّمُوا رَطانةَ الأَعاجِم ، ولا تَدخُلُوا علىَ المُشرِكِين في كَنَائسِهِم يَومَ عِيدهُم ، فإنَّ السَخطةَ تَنزِلُ عَلِيهِم ::: نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو ، اور نہ ہی مشرکوں کے تہواروں والے دِن ان کی عباد گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں ان پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے)))))سنن البیھقی میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے ،
:::::: میں ان مذکورہ بالا آثار کو کو حدیث اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس میں ایک ایسی خبر ہے جو وحی کے بغیر نہیں دی جا سکتی ایسی خبر کو """ موقوف فی حکم الرفع """ کہا جاتا ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے((((( وَالَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ الزُّ ورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً ::: اور وہ جو بے کار کاموں کی طرف نہیں دیکھتے اور اگر فضول کاموں والی جگہوں سے گذر ہو تو عزت کے ساتھ گذر جاتے ہیں ))))) سُورت الفُرقان/آیت72،اس فرمان کی تفیسر اگر آپ تفیسر ابن کثیر میں ہی دیکھ لیجیے تو آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی طرف سے """ الزُّ ور""" کی تفیسر """ کافروں کے تہوار""" بھی ملے گی ،
پس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مذکورہ بالا فرامین کی روشنی میں ، کافروں سے دوستی ، ان کے تہواروں میں کسی قسم کی شمولیت ناجائز کام ہیں ،
یہ معاملہ بھی بہت اچھی طرح سے ذہن و قلب میں جما رکھنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتے وقت ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث مبارکہ صادر فرماتے وقت یقیناً خوب جانتا تھا کہ قیامت تک میرے مسلمانوں نے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس کے ساتھ رہنا ہے ، پس ہمیں اپنے زندگی کے معاملات اور خاص طور پر عقیدے سے متعلق معاملات مختلف علاقوں کے حالات و عادات اور مختلف لوگوں کی سوچ و فِکر کے مطابق نہیں سمجھنے ،
لہذا یہ بات بھی خُوب یاد رکھنے کی ہے کہ شریعت کے احکام مختلف علاقوں کی عادات اور مختلف لوگوں کی معاشرتی دلچپیوں یا لگاؤ ، یا مجبوریوں سے اخذ نہیں کیے جا سکتے ، بلکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات سے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے اخذ کیے جاتے ہیں ، اور وہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق نہ کہ ہر کس و ناکس اپنی اپنی سوچ و فِکر کی بنا پر ایسا کرنے کا اہل ہے ،
اس موضوع پر اور بھی کافی بات کی جاسکتی ہے لیکن امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ اتنی ہی کافی رہے گی ،
وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ،،،،،وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ،،،،، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 735
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (23-12-11), shafirajput (24-12-11), skjatala (24-12-11), ھارون اعظم (23-12-11), نبیل خان (23-12-11), مرزا عامر (23-12-11), ابن آدم (23-01-12), احمد نذیر (23-12-11), عبداللہ آدم (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 02:07 AM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,519
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ہمیں دین اسلام پر ہمیشہ قائم رکھے،آمین ، اور یہ پڑھ کر تو ایک لمحے کے لئے لرز گئ
نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو ، اور نہ ہی مشرکوں کے تہواروں والے دِن ان کی عباد گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں ان پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے

جزاک اللہ خیراً ۔۔۔۔ اللہ ہمیں ہر شر سے بچائے‌آمین۔۔!
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Miss Khan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-03-12), نبیل خان (23-12-11), عادل سہیل (23-12-11), عبداللہ آدم (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 07:40 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم عادل سہیل صاحب
جناب ہمارے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب تو اپنے ہاں عیسائی پادریوں کو بلاتے ہیں اور ان کو اپنی عبادت کی بھی کھلی اجازت ہوتی ہے ۔ اور بعد میں تحفے دے کر رخصت کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اسی طرح ہمارے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کا ایک خطاب ہے جو آپ نے ان عیسائی پادریوں کی موجودگی میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ جس میں حضرت نے فرمایا ہے کہ ہم عیسائی اور یہودیوں کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ ۔ اج آپ کا مراسلہ پڑھا تو عجیب احساس ہوا ۔ ۔ ۔ اب آپ بتائیں کہ کیا کیا جائے ۔ ۔ ۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کے طرز عمل کو دیکھا جائے تو ان عیسائیوں کی عبادات میں شامل ہونے کی گنجائش نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر آپ کی تحریر سے تو بلکل نہیں ؟؟؟
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (23-12-11), مرزا عامر (24-12-11), عادل سہیل (23-12-11), عبداللہ آدم (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 09:06 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

37:103 فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
پھر جب دونوں جھک گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا


حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں یہودیوں‌اور عیسائیوں‌کے نبی پہلے ہیں۔ ان کی عظیم قربانی کی نیت کے باعث اللہ تعالی نے حج اور اس سے وابستہ تہوار منانے کا حکم دیا ۔۔ یہ تہوار تو یہودیوں‌ اور عیسائیوں کے نبی کا تہوار ہے ۔ کیا آپ اللہ تعالی سے بھی زیادہ حکیم ہیں ؟

19:33 وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
اور مجھ پر سلام ہو میری پیدائش کے دن پر ، اور میری موت کے دن پر ، اور جس دن میں زندہ کیا جاؤں گا

حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں‌کے ایک نبی ہیں جن کو یہودی اپنا یہودی بھائی کہتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے ان کی والدہ کو دنیا کی تمام عورتوں‌سے بڑھ کر پاکیزگی عطا کی اور اس دن پر سلام بھیجا گیا جس دن یہ جلیل القدر نبی پیدا ہوئے ۔۔ کیا حضرت عیسی کے مبارک یوم پیدائش یعنی عید میلاد النبی ، جس کو اللہ تعالی نے اپنے فرمان قرآن میں‌ سلامتی کا دن قرار دیا ہے ، جس کو دنیا کے دو ارب لوگ مناتے ہیں۔ اس مبارک دن کو مبارک قرار دینا اللہ تعالی کی حکمت سے خالی ہے ؟؟‌ کیا آپ اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہیں؟؟ یا کسی نفرت کا شکار ہیں ؟؟؟؟


والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-03-12)
پرانا 23-12-11, 11:39 AM   #5
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,336
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر حضور صلی اللٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللٰہ علیھم اجمعین میں سے کسی نے عیسائیوں کے تہوار منائے ہوں تو ہم بھی منائیں گے۔ ورنہ کوئی بھی تاویل بے معنی ہوگی۔

ہمارے لئے ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللٰہ علیھم اجمعین مشعل راہ ہیں۔ ان سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی تعظیم کیا ہوتی ہے؟ باقی رہی بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی، تو یہ بات واضح رہے کہ مسلمان ان کو اللٰہ کا نبی مانتے ہیں، اور جو ان کو نبی نہ مانے اس کا مسلمان ہونا ممکن نہیں، لیکن عیسائی ان کو خدا کا درجہ دیتے ہیں۔ اب کرسمس کون سے عیسیٰ کی منائی جارہی ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی؟ یا پھر عیسائیوں کے خدا کی؟
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (24-12-11), rana ammar mazhar (16-03-12), skjatala (24-12-11), فیصل ناصر (23-12-11), فاروق سرورخان (23-12-11), نبیل خان (23-12-11), مرزا عامر (23-12-11), حیدر (24-12-11), عادل سہیل (23-12-11), عبداللہ آدم (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 12:41 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
37:103 فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
پھر جب دونوں جھک گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا


حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں یہودیوں‌اور عیسائیوں‌کے نبی پہلے ہیں۔ ان کی عظیم قربانی کی نیت کے باعث اللہ تعالی نے حج اور اس سے وابستہ تہوار منانے کا حکم دیا ۔۔ یہ تہوار تو یہودیوں‌ اور عیسائیوں کے نبی کا تہوار ہے ۔ کیا آپ اللہ تعالی سے بھی زیادہ حکیم ہیں ؟
خان صاحب ایک غلطی کی طرف اشارہ کر دوں۔
یہودی اور عیسائی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اللہ کا نبی نہیں مانتے ۔
یہ لوگ قربانی کے اس واقعہ کو حضرت ابرٰہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے وابستہ کرتے ہیں ۔
یہ تہوار صرف مسلمانوں میں منایا جاتا یے اور دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں۔ یعنی یہ خالصتاً ایک اسلامی تہوار ہے۔ یوں تو کلمہ توحید ہر نبی کا مشن تھا ۔ لیکن ہم دین اسلام کی پیروی کرنے والوں میں سے ہیں جس کا آغازحضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوا ۔ جنہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی جسے قبلہ اول قرار دیا گیا۔ یہودی و نصرانی حج کرنے مکہ نہیں آتے ۔
اب رہی یہ بات کہ ان کے تہواروں میں جایا جائے یا نہ جایا جائے۔
تو میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ ان کے تہواروں میں جانے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہاں حلال اشیاء موجود ہیں تو انہیں بھی کھایا جا سکتا ہے ۔ مجھے اگر دعوت دی جاتی ہے تو میں جاتا بھی ہوں اور وہاں کھاتا بھی ہوں ۔
قران پاک میں ارشاد ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تم پر اور تمھارا کھانا اہل کتاب پر حلال ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (24-12-11), rana ammar mazhar (16-03-12), فیصل ناصر (23-12-11), فاروق سرورخان (23-12-11), ھارون اعظم (23-12-11), احمد نذیر (23-12-11), بنت حوا (23-12-11), حیدر (24-12-11), عادل سہیل (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 11:47 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Miss Khan مراسلہ دیکھیں
اللہ ہمیں دین اسلام پر ہمیشہ قائم رکھے،آمین ، اور یہ پڑھ کر تو ایک لمحے کے لئے لرز گئ
نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو ، اور نہ ہی مشرکوں کے تہواروں والے دِن ان کی عباد گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں ان پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے

جزاک اللہ خیراً ۔۔۔۔ اللہ ہمیں ہر شر سے بچائے‌آمین۔۔!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً ، خانم بہن ،
اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے اِیمان میں اضافہ عطاء فرمائے ، فی زمانہ ہم مُسلمانوں نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ میل جول اور ان کے ساتھ معاشرتی معاملات کو تقریباً شریعت کی حُدود سے خارج ہی کر رکھا ہے ، ز ُبانی نہیں تو عملی طور پر ایسا ہی نظر آ رہا ہے ، جِس کا ایک بنیادی سبب اپنے دِین سے دُوری ہے، دِین کے احکامات سے دُوری ہے ، اور دوسرا بنیادی سبب دین کے احکامات کے خود ساختہ معانی و مفاہیم اخذ کر کے ان کے مطابق مسئلے اور فتوے گَھڑ لینا ہے ، جِس کی ایک مثال اسی تھریڈ میں بھی نظر آ رہی ، اِن شاء ابھی اُس کے جواب میں بھی کچھ گذارش کرتا ہوں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ، ہر ایک کلمہ گو ، اللہ کا وہ دِین سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے جو دِین اُس نے تمام تر مخلوق سے بُلند اور جدا رہتے ہوئے اپنے آخری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا ، اور جِس دِین کو اپنی کتاب اور اپنے نبی مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ میں ظاہر فرمایا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 11:54 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم عادل سہیل صاحب
جناب ہمارے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب تو اپنے ہاں عیسائی پادریوں کو بلاتے ہیں اور ان کو اپنی عبادت کی بھی کھلی اجازت ہوتی ہے ۔ اور بعد میں تحفے دے کر رخصت کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اسی طرح ہمارے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کا ایک خطاب ہے جو آپ نے ان عیسائی پادریوں کی موجودگی میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ جس میں حضرت نے فرمایا ہے کہ ہم عیسائی اور یہودیوں کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ ۔ اج آپ کا مراسلہ پڑھا تو عجیب احساس ہوا ۔ ۔ ۔ اب آپ بتائیں کہ کیا کیا جائے ۔ ۔ ۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری کے طرز عمل کو دیکھا جائے تو ان عیسائیوں کی عبادات میں شامل ہونے کی گنجائش نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر آپ کی تحریر سے تو بلکل نہیں ؟؟؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی نبیل خان صاحب ،
آپ کی باتوں کے جواب میں صِرف اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ اور اس کے حبیب مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات ، اور پھر اللہ کی منتخب شدہ ، اور اللہ کے ہاں تقویٰ کے امتحان میں کامیاب شدہ ، اور اللہ کی رضا کے سندیں پانے والی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے سامنے کسی کا قول اور عمل کچھ حیثیت نہیں رکھتا ، خواہ وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی لقب سے بذات خود مُلقب ہو ، یا غُلو کرنے والوں نے اُس کچھ بھی لقب دے رکھا ہو ، یا کسی بھی مُقام پر فایز ہو ، یا دکھایا جاتا ہو ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر کلمہ گو کو یہ کڑوی ، سخت اور کُھردری حقیقت نگلنے کر اپنے سینوں میں جما لینے کی ہمت دے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (24-12-11), skjatala (24-12-11)
پرانا 23-12-11, 11:57 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
اگر حضور صلی اللٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللٰہ علیھم اجمعین میں سے کسی نے عیسائیوں کے تہوار منائے ہوں تو ہم بھی منائیں گے۔ ورنہ کوئی بھی تاویل بے معنی ہوگی۔

ہمارے لئے ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللٰہ علیھم اجمعین مشعل راہ ہیں۔ ان سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی تعظیم کیا ہوتی ہے؟ باقی رہی بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی، تو یہ بات واضح رہے کہ مسلمان ان کو اللٰہ کا نبی مانتے ہیں، اور جو ان کو نبی نہ مانے اس کا مسلمان ہونا ممکن نہیں، لیکن عیسائی ان کو خدا کا درجہ دیتے ہیں۔ اب کرسمس کون سے عیسیٰ کی منائی جارہی ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی؟ یا پھر عیسائیوں کے خدا کی؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً ، بھائی ھارون اعظم صاحب ، ماشاء اللہ مختصر ، دو ٹوک اور دُرست بات کہی ہے ، اللہ قبول فرمائے ،
بھائی کافی عرصہ بعد دکھائی دیے ہیں ، اِن شاء اللہ بخیر وعافیت ہوں گے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (24-12-11), skjatala (24-12-11), ھارون اعظم (24-12-11)
پرانا 24-12-11, 12:47 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb مراسلہ رقم ۴ میں خان صاحب کی خلاف قران ، قران فہمی کا جائزہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
37:103 فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
پھر جب دونوں جھک گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا


حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں یہودیوں‌اور عیسائیوں‌کے نبی پہلے ہیں۔ ان کی عظیم قربانی کی نیت کے باعث اللہ تعالی نے حج اور اس سے وابستہ تہوار منانے کا حکم دیا ۔۔ یہ تہوار تو یہودیوں‌ اور عیسائیوں کے نبی کا تہوار ہے ۔ کیا آپ اللہ تعالی سے بھی زیادہ حکیم ہیں ؟
السلام علی من اتبع الھویٰ ،
انا للہ و انا الیہ راجعون ، سچ ہے جب کوئی اپنی ھوائے نفس کا متبع ہوتا ہے تو اُسے اللہ کے کلام پاک کی باطل تاویل کرتے ہوئے بھی کچھ خوف نہیں محسوس ہوتا ،
نبی اللہ ابراہیم اور اُن کے نبی بیٹے اسماعیل علیہ السلام یہودیوں کے لیے نبی رہے ہوں یا نہ رہے ہوں ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے آخری دِین ، کے ایک رُکن میں اُن دونوں نبیوں علیھما السلام کی عظیم الشان اطاعت والی بندگی کی یاد اپنے اِیمان والے بندوں میں تازہ رکھنے کے لیے ، اور اُن اِیمان والے بندوں کے اِیمان کی تقویت کے لیے اُس رُکن کا ایک منسک بنا دی ،
اور یہ صاحب اپنی """ خلافء قران ، قران فہمی """ کے عین مطابق ، یہود و نصاریٰ کے لیے اپنے قلبی میلان کا اظہار کرتے ، اللہ کی طرف سے اپنے ان دو عظیم المرتبہ نبیوں علیھما السلام کی عالی شان اور اللہ کے ہاں مقبول اطاعت و بندگی کی مثال کی عِزت افزائی کا سبب اللہ کی رحمت اور اُن دو عظیم المرتبہ نبیوں علیھما السلام کی بے مثال اطاعت و بندگی کی بجائے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے نبی ہونا قرار دے رہے ہیں ،
صرف یہ ہی نہیں ، بلکہ حج کو ، جو کہ ایک اسلام کا ایک رُکن ہے ، اعلی ترین عبادات میں سے ایک عبادت ہے اُسے """ تہوار """ بنا ڈالا ، جسے منایا جاتا ہے ،
اور پھر کھنچ تان کر اُس تہوار کو بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی نسبت میں ہی ڈال دیا ، اور ہماری عید الاضحیٰ کو بھی ،
فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ،
اگر یہ صاحب یہ کہیں کہ ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
۔۔ یہ تہوار تو یہودیوں‌ اور عیسائیوں کے نبی کا تہوار ہے ۔ کیا آپ اللہ تعالی سے بھی زیادہ حکیم ہیں ؟
سے اُن کی مُراد عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن منانا ہے تو ، پہلی بات یہ کہ یہ دِن منانا عیسیٰ علیہ السلام کا تہوار نہیں ، بلکہ عیسائیوں کا خود ساختہ تہوار ہے ، اسے عیسی السلام کا تہوار کہنا عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان ہے ،
اور دوسری بات یہ کہ ، اگر یہ کہیں کہ نہیں ، ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عیسائی یہ تہوار عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کی نسبت سے مناتے ہیں تو الحمد للہ ، کہ ، خودان صاحب کے الفاظ میں ہی یہ اعتراف ہو جاتاہے کہ یہ کافروں کا تہوار ہے ،
لہذا میرے مضمون میں دی گئی معلومات کی روشنی میں یہ بات مزید محقق ہو جاتی ہے کہ چونکہ یہ کافروں کا تہوار ہے ،خواہ اُس کی نسبت کسی سے بھی جوڑ دی گئی ہو ، کسی مسلمان میں کے لیے اُس میں کسی قسم کی شمولیت جائز نہیں ، کیونکہ اُس کی شمولیت اُن کافروں کے لیے ، قلبی لگاؤ ، دوستی اور مُحبت وغیرہ کی عملی دلیل ہے ، اور اُن کے کفر پر رضا مندی کا اظہار ہے ۔
بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ ہی بے عیب اور سب سے بڑھ کر حِکمت والا ہے ، اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے ، جتنی حِکمت چاہے عطاء فرماتا ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
19:33 وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
اور مجھ پر سلام ہو میری پیدائش کے دن پر ، اور میری موت کے دن پر ، اور جس دن میں زندہ کیا جاؤں گا

حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں‌کے ایک نبی ہیں جن کو یہودی اپنا یہودی بھائی کہتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے ان کی والدہ کو دنیا کی تمام عورتوں‌سے بڑھ کر پاکیزگی عطا کی اور اس دن پر سلام بھیجا گیا جس دن یہ جلیل القدر نبی پیدا ہوئے ۔۔ کیا حضرت عیسی کے مبارک یوم پیدائش یعنی عید میلاد النبی ، جس کو اللہ تعالی نے اپنے فرمان قرآن میں‌ سلامتی کا دن قرار دیا ہے ، جس کو دنیا کے دو ارب لوگ مناتے ہیں۔ اس مبارک دن کو مبارک قرار دینا اللہ تعالی کی حکمت سے خالی ہے ؟؟‌ کیا آپ اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہیں؟؟ یا کسی نفرت کا شکار ہیں ؟؟؟؟


والسلام
ایک دفعہ پھر """ خلافء قران ، قران فہمی """ کا مظاہرہ ، اور ایک دفعہ پھر یہود و نصاریٰ کی طرفدای کا مظاہرہ ،
کوئی ان صاحب کو بتائے کہ اپنی """ خلافء قران ، قران فہمی """کے زعم میں ، یہود و نصاری کے کاموں میں سے ایک کام کو قرانی ثابت کرنے کے لیے انہوں نے سراسر غلط ترجمہ لکھ مارا ہے ، پس عیسائیوں اور یہودیوں کی وکالت کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان صاحب نے اللہ کے کلام کا ترجمہ ایک غلط انداز میں کر کے اس کی بہت باطل تاویل پیش کر کے اپنی """ خلافء قران ، قران فہمی """ کا ایک اور ثبوت دے دیا ، لیکن ان شاء اللہ ، اپنا مطلوب حاصل نہ کر سکیں گے ،
اپنے اس غلط انداز میں لکھے گئے ترجمے کے مطابق ان صاحب نے جو باطل تاویل لکھی ہے اُس کی روشنی میں تو یہ بھی نہیں مانا جا سکتا کہ غلطی سے لکھا گیا ، یا پیسٹ ہو گیا ،
اس آیت مبارکہ کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ((((( اور مجھ پر سلامتی ہے جِس دِن میں پیدا ہوا ، اور جِس دِن میں مروں گا ، اور جِس دِن میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا ))))) ،
جی ہاں ، عیسیٰ علیہ السلام پر سلامتی کا ذِکر ہے ، جِس دِن وہ پیدا ہوئے اُس دِن میں بھی اُن علیہ السلام پر سلامتی کی خبر ہے ، نہ کہ اُس دِن پر ، پھر جِس دِن وہ مریں گے ، اُس دِن میں بھی اُن علیہ السلام پر ہی سلامتی کی خبر ہے ، نہ کہ اُن کے مرنے کے دِن پر سلامتی کی بات ہے ، پھر جِس دِن اُن علیہ السلام کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اُس دِن میں بھی اُن علیہ السلام پر ہی سلامتی کا ذِکر ہے ، نہ کہ اُن کے مرنے کے دِن پر ،
پس اِن صاحب نے جِس طرح اللہ کے کلام کی باطل تاویل کی ہے وہ یقیناً بہت افسوس ناک ہے ،
اس کے علاوہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
۔۔ کیا حضرت عیسی کے مبارک یوم پیدائش یعنی عید میلاد النبی ، جس کو اللہ تعالی نے اپنے فرمان قرآن میں‌ سلامتی کا دن قرار دیا ہے ،
کوئی انہیں بتائے ، اور اللہ ہی انہیں سمجھائے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے باز رہیں ، جِس آیت کا غلط ترجمہ کر کے اور اُس ترجمے کی روشنی میں باطل تاویلیں کر ماری ہیں اُس آیت مُبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے دِن کو کہیں مُبارک قرار نہیں دیا ،
رہا معاملہ اِن کی اس دلیل کا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جس کو دنیا کے دو ارب لوگ مناتے ہیں۔ اس مبارک دن کو مبارک قرار دینا اللہ تعالی کی حکمت سے خالی ہے ؟؟
تو ، ایک دفعہ پھر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے انِ صاحب کی ہی بات سے اِن کی """ خلافءقران ، قران فہمی """کو واضح کروایا ہے ،
ایک تو یہ کسی دِن کو خود ہی مُبارک بنائے بیٹھے ہیں اور دوسرے اُسے اللہ کی طرف سے مُبارک قرار دینے کا غلط بیان دے کر اُسے اللہ کی طرف سے مُبارک قرار دیے جانے کا سبب """ دو ارب لوگوں کا اس دِن کو منانا """ قرار دے رہے ہیں ، ولا حول ولا قوۃ اِلا باللہ ،
کوئی اِن صاحب کو بتائے کہ اکثریت کا عمل اللہ کے ہاں ، اور اللہ کی شریعت میں کسی قِسم کی کوئی دلیل نہیں ، کسی قدر و قیمت کا حامل نہیں ،(((((أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا:::کیا تُم یہ سمجھتے ہو کہ اُن (یعنی لوگوں)کی اکثریت سنتی یا سمجھتی ہے (نہیں بلکہ درحقیقت)وہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ چوپایوں سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں)))))سُورت الفرقان/آیت 44،
(((((وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ::: اور اُن (یعنی لوگوں) کی اکثریت تو صِرف گُمان کی پیروی کرتی ہے ، اور گُمان حق کے سامنے کسی قِسم کا فائدہ دینے والا نہیں ، بے شک یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اُس کا خُوب عِلم رکھتا ہے)))))سُورت یُونُس /آیت36،
(((((وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ:::اور لیکن اُن (یعنی لوگوں)کی اکثریت جہالت میں ہے))))) سُورت الانعام/آیت111،
(((((وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ:::اور ہم نے اُن (یعنی لوگوں)کی اکثریت کو یقیناً نافرمان اور بدکار ہی پایا ہے )))))سُورت الاعراف/آیت102،
یہودیوں کے بارے میں بالخصوص فرمایا (((((أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ:::بلکہ ان کی نحوست اللہ کے ہاں مقرر ہے لیکن اِن کی اکثریت عِلم نہیں رکھتی)))))سُورت الاعراف /آیت 131،
عیسائیوں کے بارے میں بالخصوص فرمایا (((((قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَذَا أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ::: کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، اللہ(تواولاد سے)پاک ہے (اور)وہ بےنیاز ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ کا ہی ہے (اللہ پر جھوٹ بولنے والو)تمہارے پاس(تُمہاری اس باطل بات کی) کی کوئی دلیل نہیں ہے، تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جِس کا تُم لوگوں کو عِلم نہیں )))))سُورت یُونُس /آیت68،
یہود و نصاریٰ دونوں ہی وہ کچھ کہتے چلے آ رہے ہیں جِس کا انہیں خودبھی کوئی یقینی علم نہیں ہوتا، اور اپنی باتوں کو درست بنانے کے لیے اللہ کے کلام میں لفظی اور معنوی تحریف اُن کا ہی مشغلہ چلا آرہا ہے ، (((((وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ::: اور یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ (عیسائی) کسی (حق ) چیز پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی کسی (حق ) چیز پر نہیں ہیں، اور وہ لوگ کتاب پڑھتے ہیں ، اسی طرح اُن لوگوں نے بھی کہا جو اپنے ہی کہے ہوئے کی حقیقت نہ جانتے تھے ، پس اللہ ہی قیامت والے دِن ان کے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جِس میں یہ اختلاف کرتے ہیں)))) سُورت البقرہ/آیت 113،
اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرامین میں روز روشن سے زیادہ عیاں ہے کہ اکثریت کا قول و فعل کچھ دلیل و حجت نہیں ، یہ تو عام اکثریت کا حال ہے اور وہ قومیں جنہیں اللہ پاک نے """ الضالین """ اور """ المغضوب علیھم""" قرار دے دیا ہو اُن کی اکثریت کا قول و فعل کسی مُسلمان کے لیے کسی کام کی دلیل کیسے ہو گیا ؟؟؟
بلا شک و شبہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ہی سب سے زیادہ اور بے عیب حِکمت والا ہے اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہے جتنی چاہے حِکمت عطاء فرماتا ہے ،
الحمد للہ ، ثُم الحمد للہ ، یہ فقط اللہ کا کرم ہے کہ میری محبت اور نفرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کی پابند ہے ، اور اللہ نے مجھےمیرے نفس کی خواھشات کے مطابق دوستیاں اور دُشمنیاں پالنے سے ، مُحبتیں اور نفرتیں کرنے سے محفوظ رکھا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اسی پر خاتمہ فرمائے ،
اللہ ہی ہے جو ہدایت دینے والا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کو ہدایت دے جو راہ ہدایت سے دُور ہے ، اور اگر اللہ کی مشیئت میں اُس کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ اُس کی گمراہی سے اپنی ساری ہی مخلوق کو محفوظ رکھے ، و السلام علی من اتبع الھدیٰ ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (24-12-11)
پرانا 24-12-11, 01:10 AM   #11
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 11
کمائي: 405
شکریہ: 0
9 مراسلہ میں 18 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاك الله خيرا
وجعله في ميزان حسناتك
حسن سعودي آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن سعودي کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (24-12-11)
پرانا 24-12-11, 01:29 AM   #12
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,336
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً ، بھائی ھارون اعظم صاحب ، ماشاء اللہ مختصر ، دو ٹوک اور دُرست بات کہی ہے ، اللہ قبول فرمائے ،
بھائی کافی عرصہ بعد دکھائی دیے ہیں ، اِن شاء اللہ بخیر وعافیت ہوں گے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے ، و السلام علیکم۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللٰہ،

عادل صاحب، میں تو فورم پر موجود ہوتا ہوں۔ البتہ کبھی کبھار صرف پڑھنے پر اکتفا کرلیتا ہوں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-03-12)
پرانا 24-12-11, 05:37 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیسی کیسی تاویلات پیش کی ہیں اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ۔۔۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام سابقہ امت‌ یعنی یہودیوں‌کے نبی تھے۔ بغض نبی اکرم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے یا ان کی امت سے؟؟؟
حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں‌کے نبی تھے ۔۔۔ بغض حضرت عیسی علیہ السلام سے ہے یا ان کی امت سے۔
اپنے سال کی ابتداء پر آدھے مسلمان روتے ہیں اور آدھے ان کو دیکھتے ہیں ۔ کون سی قوم ہے جو اپنے سال کی ابتداء رو رو کر کرتی ہے ‌؟ یہ کونسا تہوار ہے جو مسلمانوں پر اللہ نے فرض‌کیا ہے ، اس کو رو رو کر کیوں‌مناتے ہیں؟ یہودیوں‌اور عیسائیوں‌کے تہوار وں کو منع کرتے ہیں اور حج کے بعد عید الاضحی کا تہوار مناتے ہیں‌جو کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی نیت کی وجہ سے ہے ۔ جو کہ یہودیوں‌کے نبی تھے۔ کیا وجہ ہے جو نفرت پھیلاتے ہو؟؟؟؟‌ کیا اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہو؟؟؟؟
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-03-12), مرزا عامر (24-12-11)
پرانا 24-12-11, 06:15 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اپنے اس غلط انداز میں لکھے گئے ترجمے کے مطابق ان صاحب نے جو باطل تاویل لکھی ہے اُس کی روشنی میں تو یہ بھی نہیں مانا جا سکتا کہ غلطی سے لکھا گیا ، یا پیسٹ ہو گیا ، [FONT=Alvi Nastaleeq]اس آیت مبارکہ کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ((((( اور مجھ پر سلامتی ہے جِس دِن میں پیدا ہوا ، اور جِس دِن میں مروں گا ، اور جِس دِن میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا )))))
وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
Tahir ul Qadri اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا

طاہر القادری بھی شائید غلطی ہوگئی جو ---- دوبارہ ----- کا اضافہ کرنا بھول گئے۔۔ اس آیت میں‌کس لفظ کا ترجمہ---- لفظ ------ دوبارہ ---- ہے ؟؟؟؟؟ جس کا اضافہ اس قابل حکیم نے کیا ہے ؟

میں‌ ترجمہ نہیں‌کرتا بلکہ عالمی طور پر مسلمانوں کے قابل قبول ترجمے استعمال کرتا ہوں۔ جن لوگوں‌کے عقائید ہی خلاف قرآن ہوں۔ ان کو قران حکیم کے درست تراجم بھی خلاف قرآن لگتے ہیں۔۔۔۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-03-12)
پرانا 24-12-11, 08:47 AM   #15
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,336
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیسی کیسی تاویلات پیش کی ہیں اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ۔۔۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام سابقہ امت‌ یعنی یہودیوں‌کے نبی تھے۔ بغض نبی اکرم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے یا ان کی امت سے؟؟؟
حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں‌کے نبی تھے ۔۔۔ بغض حضرت عیسی علیہ السلام سے ہے یا ان کی امت سے۔
اپنے سال کی ابتداء پر آدھے مسلمان روتے ہیں اور آدھے ان کو دیکھتے ہیں ۔ کون سی قوم ہے جو اپنے سال کی ابتداء رو رو کر کرتی ہے ‌؟ یہ کونسا تہوار ہے جو مسلمانوں پر اللہ نے فرض‌کیا ہے ، اس کو رو رو کر کیوں‌مناتے ہیں؟ یہودیوں‌اور عیسائیوں‌کے تہوار وں کو منع کرتے ہیں اور حج کے بعد عید الاضحی کا تہوار مناتے ہیں‌جو کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی نیت کی وجہ سے ہے ۔ جو کہ یہودیوں‌کے نبی تھے۔ کیا وجہ ہے جو نفرت پھیلاتے ہو؟؟؟؟‌ کیا اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہو؟؟؟؟
فاروق صاحب، آپ نے یہ بات واضح نہیں کی کہ کرسمس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی منائی جارہی ہے یا عیسائیوں کے خدا کی؟
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-03-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک موجو عمومی بحث 7 02-01-12 08:56 AM
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
قوموں کی غیرت و حمیت ابو عمار عمومی بحث 1 22-10-08 10:45 AM
قبائلی علاقوں میں غیرملکیوں سمیت 168شدت پسند گرفتار ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:08 PM
حکمرانوں نے آئین کا حلیہ بگاڑدیا،ق لیگ دھاندلی کے بغیر ایک سیٹ نہیں جیت سکتی،نواز شر یف عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 11:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger