اکثر کہا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
میت چاہے مسلم کی ہو یا کافر کی ، احادیث سے ثابت ہے کہ میت کا احترام کیا جانا چاہئے جیسا کہ کہا گیا ہے :
لا تسبوا لاموات فانّھم قد افضوا الی ما قدموا
{تم وفات یافتہ لوگوں کو برا بھلا نہ کہو۔ ان سے برا سلوک نہ کرو کیونکہ وہ اپنے خدا کے حضورپہنچ چکے ہیں}۔
|
درحقیقت اس قسم کے اعتراض کے تحت معترضین نے دو الگ الگ معاملات کو خلط ملط کر دیا ہے۔
ایک چیز ہوتی ہے :
سبّ و شتم
اور دوسری چیز ہے :
کسی کی برائی بیان کرنا یا غیبت کرنا
حافظ ابن حجر العسقلانی کی "کتاب الجامع (بلوغ المرام)" کے شارح اردو فضیلۃ الاستاذ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ اسی کتاب کے باب "فوت شدہ لوگوں کو گالی مت دو" کے تحت متعلقہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اقتباس:
احادیث میں جس چیز کی ممانعت آئی ہے وہ سبّ و شتم ہے یعنی گندی گالی دینا۔
مُردوں کو گالی دینا حرام ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ، کیونکہ انہیں گالی دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
جبکہ دوسری طرف ایک بات یہ ہے کہ کسی کافر کی غیبت سے منع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی برائی بیان کرنا ممنوع ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے فوت شدہ کفار کی برائیاں بیان کی گئی ہیں۔
|
بالکل اسی طرح کی رائے امام نووی علیہ الرحمۃ نے بھی اپنی مشہور کتاب "ریاض الصالحین" میں بیان کی ہے۔ ریاض الصالحین کی کتاب "الامور المنھی عنھا" کے ایک باب کا عنوان امام نووی (رحمۃ اللہ) نے یوں رکھا ہے :
تحريم سب الأموات بغير حق ومصلحة شرعية
(وهو التحذير من الاقتداء به في بدعته وفسقه ونحو ذلك)
فوت شدہ لوگوں پر ناحق اور کسی شرعی مصلحت کے بغیر سب و شتم کرنا حرام ہے
(اور مصلحت شرعی یہ ہے کہ کسی بدعتی اور فاسق وغیرہ کی بدعت اور فسق وغیرہ میں یپروی کرنے سے لوگوں کو بچانا)
اور باب کے اس عنوان کی مزید شرح کرتے ہوئے فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
اقتباس:
|
امام نووی (رحمۃ اللہ) کا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔۔ فوت شدہ شخص بدعت اور فسق و فجور وغیرہ میں مبتلا رہا ہو ، تو ایسے شخص کے ایسے کردار سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے ، تاکہ لوگ اس کی بدعت اور اس کے فسق و فجور سے بچیں۔ یہ مُردہ کی بدگوئی اور سب و شتم نہیں ہے جس کی احادیث میں ممانعت ہے۔ بلکہ اس کی حقیقت واضح کرنے میں مصلحتِ شرعی موجود ہے ، اس لئے ایسا کرنا جائز ہے۔
|
ریاض الصالحین کی اسی کتاب "الامور المنھی عنھا" کے ایک اور باب کا عنوان ہے:
بيان ما يباح من الغيبة
غیبت کی جائز صورتوں کا بیان
اور اس باب کے تحت امام محترم نے غیبت کرنے کے 6 جائز اسباب کو بیان فرمایا ہے۔
ایک سبب کے تحت فرماتے ہیں :
اقتباس:
مسلمان کو برائی سے ڈرانا اور ان کی خیرخواہی کرنے کے متعدد طریقے ہیں۔
مثلاً حدیث کے سلسلہ سند کے مجروح راویوں اور (واقعے کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے) گواہوں پر جرح کرنا۔
یہ مسلمانوں کے اجماع سے جائز ہے۔
|
غور کیجئے کہ حدیث کے راویان مسلمان ہی تھے ، کیونکہ احادیث کفار کے ذریعے روایت نہیں ہوئیں۔ پھر بھی جرح کی کتب میں ان مسلمان راویوں کی بہت سے برائیوں کا ذکر ملتا ہے۔ کیا یہ سب "سب و شتم" والی حدیث کے زمرے میں آتا ہے؟؟
یقیناً نہیں !!
لہذا درست بات وہی ہے جس کی طرف فضیلۃ الاستاذ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ نے اشارہ کیا ہے ، یعنی :
احادیث میں جس چیز کی ممانعت آئی ہے وہ سبّ و شتم ہے یعنی گندی گالی دینا۔ جبکہ دوسری طرف کسی کافر کی غیبت سے منع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی برائی بیان کرنا ممنوع ہے۔