مشرک کی مثال
حنفآءللّٰہ غیر مشرکین بہ ومن یشرک باللّٰہ فکا نما خرّ من السمآءفتخطفہ الطیر او تھوی بہ الریح فی مکانٍ سحیق o ذٰالک و من یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوٰی القلوبo لکم فیھا منافع الیٰ اجلٍ مسمّیً ثم محلھا الیٰ البیت العتیق o ( الحج )
اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک بنانے والا ہواوہ تو یوں ہے جیسے کہ آسمان سے گر پڑا ہو ۔ اب اسے یا تو پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے دور دراز کی جگہ پھینک دے گی یہ تو سن لیا اب اور سنو جو شخص بھی اللہ کی نشانیوں کی عزت و حرمت کا خیال رکھے یہ اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے ہے ۔ ان کا موںمیں تمہارے لیے ایک مقررہ وقت تک کا فائدہ ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ اللہ کا پرانا گھر ہے ۔
حنفاء حنیف کی جمع ہے اور حنیف یک سو ہونے والے کو کہتے ہیں گذشتہ آیات میں اللہ کریم نے شرک اور جھوٹی گواہی بچنے کا حکم دیا ہے اس کے بعد تعلیم دی کہ یک سو ہو کر خالص اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ بناؤ اس لیے کہ مشرک کی مثال توا یسے ہے جیسے کوئی چیز بلندی سے گر پڑے تو اسے زمین پر گرنے سے قبل کوئی پرندہ اچک لے یا پھر ہوا اسے اڑاتی ہوئی کسی دور مقام پر جا پھینکے یعنی اسے کہیں قرار نہیں ملتا اسی طرح مشرک مارا مارا پھر تا ہے اور ایک االلہ کے دربار کو چھوڑ کر مختلف درباروں پر بھٹکتا پھر تا ہے ۔
اللہ کے دربار پر جھکنے کی توفیق اسے ہی ملتی ہے جو اللہ کی طرف سے عائد کردہ احکام کی پابندی کرتا ہے ۔ اور قابل تعظیم چیزوں کی عزت کرتا ہے ۔ ایسا انسان متقی ہے ۔ معلوم ہو اکہ اللہ کی طرف سے قابل تعظیم چیزوں کی عزت کرناشرک نہیں ہے ۔ صفا مروہ کی سعی ، بیت اللہ کا طواف منیٰ میں قربانی کرنا اور مزدلفہ و عرفات میں جانا شعائراللہ میں شامل ہے ۔ ان مقامات پر اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنا شعائراللہ کی تعظیم کہلاتی ہے اوریہ شرک نہیں ہے ۔ پھر ان چوپائیوں سے کچھ فائدہ اٹھا نا جو کہ قربانی کرنے کے لیے ساتھ لائے گئے ہیں یعنی ان پر سوار ہونا یا اپنا سامان ان پر رکھ لینا جائز ہے پھر جب وہ بیت اللہ پہنج جائیں تو عیدالاضحی کے دن انہیں اللہ کے گھرکے نزدیک میدان منیٰ میں قربان کر دیا جائے