واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


مغربی تہذیب کے پیدا کردہ انسانی مسائل اور ان کا حل-ایک جھلک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-10, 08:25 PM   #1
مغربی تہذیب کے پیدا کردہ انسانی مسائل اور ان کا حل-ایک جھلک
Aurangzeb Yousaf Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے 20-09-10, 08:25 PM

آج کی 'مہذب'دنيا اور 'ترقی يافتہ مغربی تہذيب' کے زيراثر انتہائی طاقتور مغربی ميڈيا کی خباثتیں گھر گھر پہنچ رہی ہیں اور اس نے دنيا کے انسانوں کو جھو ٹ کے کچھ ايسے گورکھ دھندے ميں ڈال ديا ہے کہ جہاں انسانی مسائل الجھتے ہی چلے جاتےہيں اور انسانیت کے لیے نافع کوئی چيز برآمد نہیں ہو تی، ايک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دلوں سے خدا کا خوف نکال کر باطل کا خوف بٹھايا جا رہا ہے اور وحیءالہی کے نور سے دور اندھيروں ميں بھٹکتی يہ تہذيب سفاک سے سفاک تر ہو تی چلی جا رہی ہے۔ چشم فلک نے ايسی "تہذيب يافتہ" انسانيت کم ہی ديکھی ہو گی کہ جس کے سربراہان ملينز کی تعداد ميں انسانوں کے قاتل ہيں، جہاں چند سرمایہ دار سٹے باز اور عالمی معاشی غنڈے ؎چند دنوں ميں کروڑوں انسانوں کے منہ سے نوالہ چھين کر انہيں غربت کی لکير سے نيچے پہنچا ديتے ہيں، جہاں چند افراد ملکوں سے زيادہ امير ہيں، جہاں انسانيت بھو ک سے سسکتی ہے اور کھربوں ڈالر جنگوں ميں جھو نک ديے جاتےہيں اور جہاں دوسروں پر ظلم کے جواز کے ليے اصطلاحيں گھڑی جاتی ہيں اور اسی ميڈيا کے زير اثر ساری دنيا وہی راگ الاپنے لگتی ہے، جہاں خاندانی نظام کو برباد کر کے، عورت سے چادر اور چارديواری کی عزت چھين کر، اس پر غیر فطری ذمہ داریاں ڈال کر، اسے آلہء اشتہار بنا کر "مساوات" اور رو‏شن خيالی کے نعرے لگائے جاتے ہيں۔ یہ وہی تہذيب ہے جو اپنی ماچس کی تيلی بنانے کے ليے تو ايک فيکٹری لگاتی ہے اور کائنات کے عظيم الشان و بے مثال نظام کا مشاہدہ کرنے کے بعد اسے اتفاقی حادثہ قرار دیے جانے کو بھی معقول بات سمجھتی ہے اور ستم بالائے ستم يہ کہ "اسفل سافلين" کی تفسير يہ خدا نا آشنا تہذيب اپنے آپ کو دنيا کی امامت کا جائز حقدار سمجھتی ہے اور ميڈيا کا ايک بڑا اور غالب حصہ اس کی غلامی ميں انسانيت کے زخموں کے مرہم اور انسانیت کے تمام مسائل کے حل نظام زندگی اسلام کو فرسودہ اور ناقابل عمل ٹھہراتا ہے۔ امن و محبت کے اس دين کو کہ جو ايک انسان کا ناحق قتل ساری انسانيت کا قتل قرار ديتا ہے:

مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا {32} سورة المائدة (5)
"جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین ميں فساد پھيلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔"

عالمی جنگوںمیں انسانیت پر نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے والے، لاکھوں،کروڑوں افرادکو موت کےگھاٹ اتارنے والے مہذب آج بھی خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اس اسلام کو تلوار کے زور پر پھیلا ہوا قرار دیتے ہیں جو ایک ہزار سے بھی کم جانی نقصان میں سارے عرب پر چھا گیا تھا ۔ اور جس کی پوری تاريخ میں کسی ايک مسلم حکمران پر ايک لاکھ افراد کے قتل کا الزام بھی نہيں لگايا جا سکتا۔ سودی نظام کے علمبردار ، ناجائز ہتھکنڈوں سے دنیا کی دولت چند ہاتھوںمیں سمیٹنے والے،لاکھوں غریبوں کا خون نچوڑ کر اپنے بینک بیلنس بڑھانے والے عالمی معاشی غنڈے اور ان کے چیلے اس اسلامی نظام کوناقابل عمل قرار دیتے ہیں جس کے نظام معيشت کی بنيادہی اس پر ہے کہ:

لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ {7} سورة الحشر (59)
"وہ (مال) تمھارے مالداروں ہی کے درميان گردش نہ کر تا رہے"۔

جو اسلام غريبوں کا خون چوسنے اور ارتکاز دولت کے بجائے اپنے نظام میں دولت کی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ ادائے زکواة کو فرض قرار ديتا ہے، صدقات کی ترغيب ديتا ہے اور آپ کے مال میں یتیموں، مساکین، رشتہ داروں اور مسافروں تک کے حقوق کی نشاندہی کرتا ہے۔ جو عورت کو رشتوں کے بندھن ميں عزت ديتا ہے اور اسے وراثت ميں حصہ دارٹھہرا تاہے اور جو دشمنی میں بھی اپنے پیروکاروں کو عدل و انصاف، حق و صداقت اور اصولوں کی تعليم ديتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ {8} سورة المائدة (5)
"اے ایمان والو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔"

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقَيرًا فَاللّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْهَوَى أَن تَعْدِلُواْ وَإِن تَلْوُواْ أَوْ تُعْرِضُواْ فَإِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا {135} سورة النسآء (4)
"اے ایمان والو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدين پر اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔"

یہ ان اصولوں میں سے چند اصول ہیں جو اسلام نے صدیوں پہلے ديے۔ کیا یہ آج ناقابل عمل ہیں؟ کیا آج کی اندھی تہذیب بھی انسانیت کو ایسے ہی مبنی بر انصاف اصولوں کی تعلیم دے رہی ہے۔ آج کے عالمی منظر نامے ميں اس کا چہرہ بھی دیکھ لیجیے۔ اور يقیناً یہ ان لوگوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے جو خدا سے غافل اس تہذيب پر فریفتہ ہو ئے جاتے ہیں۔
اور پھر اسلام اپنی تعليمات پر کھلے دل و دماغ سے ساری انسانيت کو غوروفکر کی دعوت ديتا ہے اور انسانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ذی عقل مخلوق ہو نے کی حیثیت میں اس کی پیش کردہ دعوت پر عقل سے کام لے کر غور کريں:

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابَّ عِندَ اللّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ {22} سورة الأنفال
"یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے"

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ {100} سورة يونس (10)
"کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال ديتا ہے۔"

ہم تو محو حيرت ہيں کہ کيا اس مغربی ميڈيا نے انسانوں کی صحيح و غلط اور اچھائی و برائی کے درميان فرق کرنے والی خدا کی وديعت کردہ وہ فطری صلاحيت بھی سلب کر لی کہ جو انسان کے اشرف المخلوقات ہو نے کی ايک نشانی ہے يقيناً آج اقبال ہو تے تو کہتے کہ " ان تازہ خداؤں ميں ميڈيا سب سے بڑا ہے"
بلاشبہ آج معلومات(information) کا ايک سمندر موجزن ہے ليکن اس ميں سچائی کے علم (knowledge) کے قطرے بھی ڈھو نڈے سے نہيں ملتے اور قرب قيامت کی نشانياں پوری ہو تی دکھائی ديتی ہيں۔ ناقدين اور تجزيہ نگاروں کا ايک ہجوم ہے ليکن سچائی کے علم کے ساتھ انسانيت کے زخموں پر مرہم رکھنے والے، انسانيت کے دکھو ں کے مسيحا اور انسانيت کی روح کی پياس حق کے ساتھ بجھانے والے مصلحين کی تعداد آٹے ميں نمک کے برابر بھی نہيں ۔آج ہم يہ تو نہيں کہہ سکتے کہ انسانوں کے معاشروں ميں اصلاح کی گنجائش نہيں رہی اور اصلاح قبول کرنے والے نہيں رہے البتہ اصلاح کرنے والوں کا معقول تعداد ميں نہ ہونا اور اہل علم کا اس طرف توجہ نہ دينا کسی بڑی تباہی اور ہلاکت کا باعث ضرور بن سکتا ہے۔
آج امت مسلمہ کی اکثريت ميڈيا کے پيش کردہ اسی جھو ٹ کی گواہ بنی ہوئی ہے، اسی ميں اپنی صلاحيتيں و وقت برباد کر رہی ہے اور اسی کی دی ہوئی عينک لگا کر حالات، واقعات اور معاملات کو ہم ديکھتے، جانچتے، پرکھتے اور رائے قائم کرتے ہيں۔ حالانکہ قرآن اہل ايمان کی ايک خوبی یہ بيان فرماتا ہے کہ وہ جھو ٹ کے گواہ نہيں بنتے:

وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ{72} سورة الفرقان (25)
" اور وہ جھو ٹ کے گواہ نہيں بنتے"

نتيجتاً فطری حق شناسی رفتہ رفتہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوئی جاتی ہے اور ہميں وقت ہی نہيں ملتا کہ ان مسائل سے بہت زيادہ اہميت کے حامل وہ حقائق جانيں کہ جن کا جاننا ہماری اولين ذمہ داری ہے اور جن کے جاننے نہ جاننے، ماننے نہ ماننے، اور جن پر عمل کرنے نہ کرنے پر ہماری دائمی کاميابی يا ناکامی کا انحصار ہے۔
آج کا انسان اپنے عقل و فکر کی صحت کو اپنے پیدا کرنےوالے کے ديے نظام پر پرکھنے کے بجائے اس کے نظام کو جھوٹ کی عینک لگا کر اپنے عقل پر پرکھتا ہے اور بات خود سمجھ نہ آئے تو اسلام کے نظام کو ناقابل عمل قرار دیتا ہے۔ہم تو يہ کہيں گے کہ جسے اپنی ذہنی و فکری صحت کی درستگی کے بارے ميں جاننا ہو وہ اسے اسلام پر پرکھے۔ اگر اسلام کے ہر عقيدے، ہر تعليم اور ہر حکم و فيصلے پر دل و دماغ آمنا و صدقنا کہيں تو شرح صدر کی اس نعمت پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کيجیے کہ آپ کی فطرت مسخ نہيں ہوئی اور دعا کیجیے:

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا{8} سورة آل عمران (3)
"پروردگار جب تو ہمیں سیدھے راستے پر لگا چکا ہے تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو۔"

بصورت ديگر رو رو کر اپنی ہدايت کی دعا مانگئے اور اس کے ليے صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کیجیے۔
کتنی بدگمانی ہے اللہ سے اور کيسی ناقدری ہے اس کی دی ہو ئی نعمت یعنی نظام اسلام کی کہ ہم عملاً يہ بات کہتے ہيں کہ ہم معاملات زندگی ميں اس کی بھيجی ہدايت و قوانين کے محتاج نہيں، وہ تو فرسودہ ہو چکے ہيں۔ ہم اپنے قوانین خود بنائيں گے کيا يہ پروردگار کی قدر ہے؟ کيا ہم یہ ناقدری کر کے زبان حال سے کہ نہيں رہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی ہدايت نہيں آئی:

وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ {91} سورة الأنعام (6)
"ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے، جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔"

اور اس موقع پر ہم یہ بھی بھو ل جاتے ہیں کہ قانون الہی محض سفارشات نہیں ہیں بلکہ:

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ {44} سورة المائدة (5)
"اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔"
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ {45} سورة المائدة (5)
"اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔"
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ {47} سورة المائدة (5)
"اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔"

حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت بڑی آزمائش میں ہيں۔ ہماری عقل و فہم کا، ہماری دانشمندی و سمجھ، ہمارے ظرف، ہمارے فيصلوں اور ہمارے اختيار کا بہت بڑا اور سخت امتحان ہو رہا ہے۔ آئيے اپنے رب کو پہچان کر اس پر ايمان لائيں اور اس کی اطاعت و بندگی کا راستہ اختيار کريں۔ دوسروں کے ڈر اور دوسروں سے امیدیں دلوں سے نکال کر اسی کی محبت و خشيت کو دل ميں بٹھائيں اور اس سے ايسا تقوی اختیار کريں جيسا اس کا حق ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ {102} سورة آل عمران (3)
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔"

شاخ نازک پر بنے آشیانے۔۔۔ بے خدا، ملحدانہ اور خلاف فطرت سفاک تہذیب سے مرعوب اور متاثر ہو کر، اور اس خوشنما دھو کے پر فریفتہ ہو کر اپنی فطرت مسخ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ کیونکہ فطرت سے لڑنے میں ہمیشہ شکست ہی ہو تی ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط استوار کریں اور جس فطرت پر اللہ نے ہمیں پیدا فرمايا ہے اس پر جم جائیں:

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ {30} سورة الروم (30)
" پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہيں۔"

آج وقت ہے کہ اسلام کی نعمت کو پہلے سے بہت بڑھ کر سمجھیں اور اپنائیں اور اس کا زیادہ سے زیادہ ابلاغ کریں تاکہ لوگ اس نعمت سے آشنا ہو سکيں اور جھو ٹ کے چنگل سے نکل سکیں۔آج ہمیں انسانیت کو بتلانا ہو گا کہ انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اسلام ہی میں ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم رب کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کریں اور جو عھد ہم نے بحیثیت مسلمان اللہ سے باندھا ہے اسے سچ کر دکھائیں:

إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ {162} لاَ شَرِيكَ لَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔{163} سورة الأنعام (6)
"بے شک میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔"

اور سچ تو یہ ہے کہ ہماری یہ زندگی تو بھلائیاں کمانے اور اپنے آپ کو اللہ کا نائب ثابت کرنے کا ايک موقع ہے۔ اور اپنے لیے جو بھلائی بھی ہم کما کر بھیجیں گے اللہ کے ہاں اسے موجود پائیں گے:

سورة البقرة ( 2 )
وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُواْ لأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ{110}

نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔

اسلام ہی انسانیت کے دکھوں کامرہم ، اور تمام انسانی مسائل بالخصوص آج کی مغربی تہذیب کے پیدا کردہ معاشی، سماجی اور معاشرتی مسائل کا حل ہے۔آج حق و باطل کی اس کشمکش میں اپنے کوششوں، صلاحیتوں اور وقت کا کچھ حصہ سچائی کے پلڑے میں ڈال دیں تو ہمارےہی حق میں بہتر ہے کیونکہ آخری فیصلہ تو قیامت ہی کے دن ہونا ہے۔ جہاں کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا:

سورة الأنبياء ( 21 )
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ {47}

قیامت کے دن ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کےلئے ہم کافی ہیں۔

Last edited by Aurangzeb Yousaf; 23-09-10 at 10:46 AM..

Aurangzeb Yousaf
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 245
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-09-10), فیصل ناصر (21-09-10), یاسر عمران مرزا (21-09-10), نورالدین (20-09-10), محمد عاصم (28-09-10), مرزا عامر (20-09-10), بلال الراعی (21-09-10), راجہ اکرام (21-09-10), عبداللہ آدم (20-09-10)
پرانا 21-09-10, 12:58 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے حیرت کی بات ہے سب سے زیادہ امداد بھی یہ اقوام دیتی ہیں۔ پوری کی پوری قوم اور ملک کو رگڑا لگانے کے برائیوں کو رگڑا کیجیے۔


والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), نورالدین (21-09-10), مرزا عامر (02-10-10)
پرانا 02-10-10, 11:41 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ویسے حیرت کی بات ہے سب سے زیادہ امداد بھی یہ اقوام دیتی ہیں۔ پوری کی پوری قوم اور ملک کو رگڑا لگانے کے برائیوں کو رگڑا کیجیے۔
دنیا کے قدرتی وسائل پر ان اقوام کا کسی نہ کسی صورت میں قبضہ ہے ۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی ہیروں کی کانوں پر قبضہ جمانے کے بعد اگر انہیں کبھی کبھی خوراک یا مفت دوا دے دی جاتی ہے تو یہ کوئی احسان نہیں ہے ۔ تیل کی دولت سے مالا مال نائیجیریا قرض تلے دبا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ نظر دوڑاتے جائیں حالات دیکھتے جائیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), گلاب خان (03-10-10)
جواب

Tags
فرض, پہچان, واقعات, قرآن, موت, محبت, مسائل, آج, ایمان, اللہ, الزام, امتحان, اسلام, اسلامی, بندگی, تعلیم, جھوٹ, خون, خدا, دعا, راستہ, عورت, عقل, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 30 08-03-12 10:46 AM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 01:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 08:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger