واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


:::::::نِکاح ، شادی اور رِزق :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 20-01-12, 10:46 PM   #1
:::::::نِکاح ، شادی اور رِزق :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 20-01-12, 10:46 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

:::::: نِکاح ، شادی اور رِزق :::::::

بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہُ، وَ رَسو لہُ،
بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
أما بعد ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اِیمانی کمزرویوں کے سبب ہمارے معاشرے میں پائی جانی والی بیماریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والدین عموماً اپنی اولاد کی شادی کرنے میں دیر کرتے ہیں ، اور دیر کرنے کا بڑا سبب دُنیاوی مال و دولت کی کمی بناتے ہیں ، دُنیاوی مال کی کمی کے سبب اپنی اولاد کی شادی میں تاخیر کرنا اِیمان کی کمزوری کی علامت ہے ،
کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ رزق دینے والا ہے ، لیکن بہت سے دیگر ز ُبانی عقائد کی طرح یہ عقیدہ بھی ہماری ز ُبانوں تک ہی ہوتا ہے ، اگر سینوں میں ہو تو اس پر عمل بھی نظر آئے ،
اگر ہمیں یقین ہو کہ ((((( وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ::: اور کتنے ہی چوپایے ایسے ہیں جو اپنا رزق (اپنے ساتھ)اُٹھائے تو نہیں پھرتے (لیکن)اللہ ہی اُنہیں رِزق دیتا ہے اور تُم لوگوں کو بھی ،اور اللہ سننے والا بہت زیادہ عِلم والا ہے)))))سورت العنکبوت،آیت 60 ،
(((((إِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ:::بے شک اللہ ہی بہت رزق دینے والا ، زبردست قوت والا ہے )))))سورت الذاریات/آیت58،
اِن مذکورہ بالا دو آیات کے علاوہ اور بھی کئی آیات مُبارکہ میں اللہ پاک نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہی اپنی تمام تر مخلوق کو رزق دیتا ہے ،پس کسی ایک جان کو کسی دوسرے کے رزق کی فکر نہیں ہونی چاہیے ، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے ہر جان کا رزق اپنی رحمت اور بے عیب حِکمت کے مطابق مقرر فرما رکھا ہے ، خاوند، باپ بھائی وغیرہ اپنے اہل خانہ و خاندان تک ان کا رزق پہنچانے کا ذریعہ ہی ہوتے ہیں ، رازق صِرف اور صِرف اللہ ہی ہے،
اور خاص طور پر نکاح کے معاملے میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے یقین دھانی کروائی گئی ہے کہ نکاح رزق میں کمی کا نہیں بلکہ اضافے کا سبب ہوتا ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ (((((وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ:::اور تم لوگ اپنے میں سے اکیلے (بغیر بیوی والے مرودوں اور بغیر شوہر والی عورتوں)اور اپنے نیک غُلاموں اور باندیوں کے نکاح کر دیا کرواگر وہ غریب ہیں( تو اس سے مت گھبراو) اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار کر دے گا اور اللہ بہت وسعت والا اور بہت علم والا ہے )))))سورت النور/آیت 32،
پس غریب یا کم مال ہونے کے سبب سے شادی میں تاخیر کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں، بلکہ اللہ پر توکل کے خِلاف ہے جو سراسر کمزوریء اِیمان کی علامت ہے ، اور اللہ کی زمین مین فتنے اور فساد کا سبب ہے ، جِس کی خبر اللہ پاک نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مُقدس، پاکیزہ اور معصوم ز ُبان سے کروائی اور حُکم کروایا کہ کہ (((((إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ::: اگر تم لوگوں سے کوئی ایسا شخص رشتہ طلب کرے جس کا دین اور کردار تم لوگوں کو اچھا لگے تو اس کی(اپنی لڑکی، بہن بیٹی جس کا اس نے رشتہ طلب کیا ہو ، اس سے)شادی کر دو ، اگر تُم لوگ ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ ہو جائے گا اور بہت بڑا فساد ہو جائے گا )))))سُنن الترمذی /حدیث1107/کتاب النکاح /باب3،سُنن ابن ماجہ/حدیث2043/کتاب النکاح/باب46 ، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے کہا حدیث حسن ہے ،
ہمیں تو اللہ پاک نے اپنے حبیب علیہ الصلاۃ و السلام کے ذریعے یہ خوش خبری بھی دے رکھی ہے کہ (((((ثَلاَثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمُ الْمُجَاهِدُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُكَاتَبُ الَّذِى يُرِيدُ الأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِى يُرِيدُ الْعَفَافَ:::تین لوگوں کی مدد کرنا اللہ پر اُن لوگوں کا حق ہے ، (1) اللہ کی راہ میں جِہاد کرنے والا ، (2) غُلامی اور قرض وغیرہ سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا، (3)اور اپنی عِفت محفوظ رکھنے کے لیے نکاح کرنے والا)))))سُنن الترمذی/حدیث1655/کتاب الجھاد/باب20،امام الترمذی رحمہُ اللہ نے کہا """حدیث حَسن صحیح """ہے ، اور اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے """حَسن""" قرار دیا،
پس یہ بات یقینی ہے کہ نیک نیتی سے، اپنی عِزت و عِفت محفوظ رکھنے کی نیت سے نکاح کرنے والے کی مدد اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے نکاح کرنے سے رزق میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافے کا سبب ہو جاتا ہے ،
::::::: صحابہ رضی اللہ عنہم اس حقیقت کو نہ صِرف جانتے تھے بلکہ اِس کی تعلیم بھی دیتے تھے :::::::
:::::::خلیفہ اول بلا فصل أمیر المومنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان:::::::

ابھی ذِکر کی گئی سُورت النور کی آیت رقم 32 کی تفسیر میں اِمام عبد الرحمن بن محمدابن ابی حاتم الرازی رحمہ ُ اللہ نے اپنی تفسیر """ تفسير القرآن العظيم مسندا عن الرسول صلى الله عليه وسلم و الصحابة و التابعين """ میں اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا کہ:::
""""" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ ، أَطِيعُوا اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكُمْ بِهِ مِنَ النِّكَاحِ، يُنْجِزْ لَكُمْ مَا وَعَدَكُمْ مِنَ الْغِنَى، قَالَ تَعَالَى،،، إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه:::ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ ، اللہ تعالیٰ نے نکاح کرنے کے بارے میں تُم لوگوں کو جو حُکم دِیا ہے اُس میں اُس کی اطاعت کرو ، اللہ نے تُم لوگوں سے تونگری دینے کا جو وعدہ کیا ہے وہ اُسے پورا کرے گا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه ::: اگر وہ غریب ہیں( تو اس سے مت گھبراو) اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار کر دے گا)))))) """""
::::: خلیفہ دوئم بلا فصل أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان :::::
اسی آیت کی تفسیر میں اِمام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی رحمہُ اللہ نے اپنی تفیسر """معالم التزیل فی تفسیر القران، المعروف بالتفسیر البغوی """ میں ذِکر کیا ہے کہ """"" وَقَالَ عُمَرُ ، عَجِبْتُ لِمَنِ ابْتَغَى الْغِنَى بِغَيْرِ النِّكَاحِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ،،، إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه:::اور عُمر (رضی اللہ عنہ ُ ) نے فرمایا ، میں اس کے بارے میں حیران ہوں جو نکاح کیے بغیر تونگری چاہتا ہے ، جبکہ اللہ عَز ّو جَلَّ تو کہتا ہے کہ،،، إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه:::اگر وہ غریب ہیں( تو اس سے مت گھبراو) اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار کر دے گا """"""،
::::: عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان :::::
اِمام مُحمد بن جریر ابو جعفر الطبری نے اپنی تفیسر """جامع البيان في تأويل القرآن ، المعروف تفسیر الطبری """ میں اپنی سند کے ساتھ لکھا """""عن عبداللہ بن مسعود،،،التَمِسُوا الغِنَى فِي النِّکاح ،،، يَقُولُ اللہُ تَعالیٰ ،،، إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه ::: ابن مسعود (رضی اللہ عنہ ُ)کے بارے میں روایت ہے کہ (انہوں نے فرمایا )نکاح میں تونگری تلاش کرو ،،، اللہ تعالیٰ کہتا ہے،،، إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه:::اگر وہ غریب ہیں(تو اس سے مت گھبراو) اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار کر دے گا """"""،
اِمام اِسماعیل بن عُمر ابن کثیر نے اپنی """ تفیسر القران العظیم ، المعروف تفسیر ابن کثیر """ میں بھی اِسی حوالے سے اِس قول کو نقل کِیا ہے ،
جو لوگ کسی شرعی عُذر کے سبب اپنے بچوں کی شادیوں میں تاخیر کرتے ہیں ، کوئی لڑکوں کی کمائی کے انتظار میں رہتا ہے اور کوئی لڑکیوں کے لیے مالدار رشتے کے انتظار میں ، وہ سب ہی اِس حقیقت سے لا علم ہوتے ہیں ، یا یوں کہیے کہ اِس حقیقت کو ماننے والے نہیں ہوتے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب ، جیسے اور جس کا چاہے رزق بڑھا دیتا ہے یا گھٹا دیتا ہے ، پس مال و دولت کے انتظار میں اپنے بچے بچیوں کی شادیوں میں تاخیر کرنا خود کو اور اپنے اہل خانہ ، اہل خاندان اور پورے ہی معاشرے کو مشکل میں ڈالے رکھنا ہے جو کہ نہ تو اخلاقاً درست ہے نہ ہی شرعاً ،
غُربت نکاح نہ کرنے کا کوئی عُذر نہیں جب اللہ نے اپنے کلام مبارک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مُقدس ، پاکیزہ اور معصوم ز ُبان سے ہمیں یہ مذکورہ بالا خوشخبریاں دے رکھی ہیں تو ہمیں اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دی ہوئی خوش خبریوں پر اِیمان رکھنا ہی چاہیے ، اوراپنی ،اپنے بہنوں بھائیوں اور اپنے بچوں کے نکاح میں کسی شرع عُذر کے بغیر تاخیر نہیں کرنی چاہیے ،
اگر کسی کا معاملہ اِن مذکورہ بالا خوشخبریوں کے مطابق ظاہر نہیں ہوتا تو وہ اس کی ایمان کی کمزوری اور اللہ کے ساتھ اُس کے گمان کے مطابق ہوتا ہے ، اس کی خبر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پاکیزہ اور معصوم ز ُبان مُبارک سے ادا کروائی کہ (((((يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِى بِى ، ،،،،:::اللہ تعالیٰ کہتا ہے ، میں اپنے بندے کے پاس میرے بارے میں اُس کے گُمان کے مطابق ہوتا ہوں(یعنی اُس کے گُمان کے مطابق اُس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں)،،،،،)))))صحیح البُخاری/حدیث7405/کتاب التوحید/باب15،صحیح مُسلم /حدیث6981/کتاب الزِکر و الدُعاء و التوبہ/ پہلا باب،
پس ہر مسلمان کو اللہ کی کتاب ، اُس کے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح سُنّت مُبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق اپنے عقائد کی اصلاح کرنا چاہیے ، اپنے اِیمان کی پرکھ کرنا چاہیے ،اورسچے پکے اِیمان کے ساتھ اللہ پر حقیقی توکل کرتے ہوئے اپنے تمام تر معاملات نبھانے چاہیں ، اللہ رزق دینے والا ہے ، اپنی مخلوق کو اُس کے بارے میں گُمان اور اُس پر توکل کے مطابق رزق دیتا ہے ،
اللہ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے یہ جو خبر کروائی ہے حق ہے کہ (((((لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا :::اگر تُم لوگ اللہ پر توکل کا حق ادا کرتے ہوئے توکل کرو تو یقیناً وہ تم لوگوں کو اُس طرح رزق دے گا جِس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ خالی پیٹ صُبحُ کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ ہوتے ہیں)))))سُنن ابن ماجہ/حدیث4303/کتاب الزُھد/باب14،سُنن الترمذی/حدیث2515/کتاب الزُھد /باب33،، مُسند احمد میں مُسند عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ ُ کی حدیث رقم 127، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا۔
اللہ ہی ہے جو ہمیں سچا پکا اِیمان اور اُس پر حقیقی توکل کرنے کی توفیق دینے والا ہے ، ہمیں کوشش کرنا ہے اور کرتے ہی رہنا ہے ، و السلام علیکم۔
طلبگارءدُعا ء ، عادل سہیل ظفر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 232
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (21-01-12), Miss Khan (21-01-12), shafirajput (25-01-12), skjatala (21-01-12), ھارون اعظم (27-01-12), نبیل خان (21-01-12), محمد یاسرعلی (22-01-12), محمدمبشرعلی (25-01-12), شکاری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 02:49 AM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,519
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے آپ نے۔۔۔۔ اور ماشاءاللہ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ ہر لفظ دل پر نقش ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں ہدایت دے، یہ مضمون ان لوگوں پر اثر کرے جو دنیاوی معیار پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ اللہ سب والدین کی ایمان کی اس کمزوری کو دور کرے، آپ کی محنت قبول کرے،آمین۔۔۔۔۔۔

آپ کے مضامین پڑھ کر تو میں کچھ لمحے کے لئے گم سم ہو جاتی ہوں ، کتنے حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں آپ کے مضامین۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ آپ کی دعا سے مجھے بھی گمراہیوں سے بچائے، سچی توبہ اور ہدایت عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔

اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے ہمیشہ آمین۔۔۔۔۔!
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Miss Khan کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (21-01-12), shafirajput (25-01-12), skjatala (21-01-12), عادل سہیل (23-01-12)
پرانا 21-01-12, 10:19 AM   #3
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,094
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ نے خوب لكها، اور درست نشاندهى كى، ليكن ايك پہلو ميرے ذہن ميں ہے جس كى طرف توجہ دلانا اسى ضمن ميں ضرورى ہے-
همارے معاشرے ميں أيسى مثاليں بہت عام هيں كہ لڑكے كى كم عمرى ميں والدين نے اس كى شادى كردى اور لڑكے نے انتہائى غير ذمہ دارى كا روئيه اپنايا، خواه معاشى حوالے سے يا معاملات ميں، نتيجتا والدين كو ايك طرف لڑكے كے رويے پہ نادم هونا پڑتا ہے اور دوسرى طرف اس بياه كے لائى گئى لڑكى كى ذمہ دارى اٹھانى پڑتى ہے- بچے اپنى جگہ نفسياتى مسائل كا شكار هوجاتے هيں-
اور واپسى كا راستہ تو همارے معاشرے ميں كفر كے مترادف ہے-
يه مثاليں بہت عام هيں، اور حقيقى هيں-
ايسے ميں نكاح كى كوئى غايت بهى پورى نهيں ہوتى-
جب خوب لعن طعن هو رهتى ہے، دلوں ميں دورياں پيدا هوجاتى هيں تو لڑكى كے بھاگوں اس لڑكے كو ہدايت آگئى تو خير ورنه وہى تماشا-
أيسى مثالوں سے تو يہى سبق حاصل هوتا ہے كہ كم سے كم كچھ شعور آنے كا انتظار كر لينا چاہيے-
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (25-01-12), سام (21-01-12), عادل سہیل (23-01-12)
پرانا 23-01-12, 10:33 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Miss Khan مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے آپ نے۔۔۔۔ اور ماشاءاللہ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ ہر لفظ دل پر نقش ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں ہدایت دے، یہ مضمون ان لوگوں پر اثر کرے جو دنیاوی معیار پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ اللہ سب والدین کی ایمان کی اس کمزوری کو دور کرے، آپ کی محنت قبول کرے،آمین۔۔۔۔۔۔

آپ کے مضامین پڑھ کر تو میں کچھ لمحے کے لئے گم سم ہو جاتی ہوں ، کتنے حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں آپ کے مضامین۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ آپ کی دعا سے مجھے بھی گمراہیوں سے بچائے، سچی توبہ اور ہدایت عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔

اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے ہمیشہ آمین۔۔۔۔۔!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا خانم بہن ،
مجھ سے جو کوئی اچھائی واقع ہوتی ہے تو بلا شک وہ صِرف اللہ پاک کا لُطف و کرم ہے ، جِس کے ملنے کے ممکنہ اسباب میں سے آپ جیسی بہنوں کی دُعائیں بھی ہیں ، اِن شاء اللہ ،
اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی دُعائیں قُبول فرمائیں ، اور جس کی دُعا آپ میری لیے کرتی ہیں اُس سے کہیں زیادہ بہتر اور زیادہ آپ کو عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (23-01-12)
پرانا 23-01-12, 10:44 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : mama_shalla مراسلہ دیکھیں
آپ نے خوب لكها، اور درست نشاندهى كى، ليكن ايك پہلو ميرے ذہن ميں ہے جس كى طرف توجہ دلانا اسى ضمن ميں ضرورى ہے-
همارے معاشرے ميں أيسى مثاليں بہت عام هيں كہ لڑكے كى كم عمرى ميں والدين نے اس كى شادى كردى اور لڑكے نے انتہائى غير ذمہ دارى كا روئيه اپنايا، خواه معاشى حوالے سے يا معاملات ميں، نتيجتا والدين كو ايك طرف لڑكے كے رويے پہ نادم هونا پڑتا ہے اور دوسرى طرف اس بياه كے لائى گئى لڑكى كى ذمہ دارى اٹھانى پڑتى ہے- بچے اپنى جگہ نفسياتى مسائل كا شكار هوجاتے هيں-
اور واپسى كا راستہ تو همارے معاشرے ميں كفر كے مترادف ہے-
يه مثاليں بہت عام هيں، اور حقيقى هيں-
ايسے ميں نكاح كى كوئى غايت بهى پورى نهيں ہوتى-
جب خوب لعن طعن هو رهتى ہے، دلوں ميں دورياں پيدا هوجاتى هيں تو لڑكى كے بھاگوں اس لڑكے كو ہدايت آگئى تو خير ورنه وہى تماشا-
أيسى مثالوں سے تو يہى سبق حاصل هوتا ہے كہ كم سے كم كچھ شعور آنے كا انتظار كر لينا چاہيے-
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، آپ کے مراسلے کے جواب میں کچھ گذارش کرنے سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ایک معاشرے کی ایک اہم کمزوری کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے ، گو کہ میرے مضمون میں کم عمری کے شادیوں کے معاملے کے بارے میں کوئی بات نہ تھی لیکن آپ کی طرف سے ظاہر کیے گئے اس نکتے پر بات چیت بھی اِن شاء اللہ سب ہی کے لیے فائدہ مند رہے گی ،
جی بھائی/بہن ، آپ کا کہنا دُرست ہے ، ایسی خاندانی تباہیوں کی مثالیں ملتی ہیں ، لیکن اِس کا سبب لڑکے کی کم عمری نہیں ہوتا ، بلکہ والدین ہوتے ہیں ،
جی ہاں ، کچھ ہی دیر پہلے عموماً کم عمری میں ہی شادیاں ہوتی تھیں اور تقریبا ً سب ہی جوڑے بالکل کامیاب نہیں تو کم از کم معتدل انداز میں اپنی ازدواجی اور معاشرتی ذمہ داریاں نبھاتے چلتے تھے ،
جِس کا سبب اُن کے وقت میں پائے جانے والےماحول میں معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس تھا ، پس فطری طور پر وہ بچے اپنے احساسات کے نمو ساتھ یہ ذمہ داریاں بھی جانتے چلے جاتے اور جب کوئی ذمہ داری اُن پر آن پڑتی تو اُسے اچھے طور پر نبھاتے تا کہ معاشرے میں بدنام نہ ہوں ،
پھر اُس سے کچھ اور پہلے ، مُسلمانوں کے معاشرے میں ہر بچے اور بچی کی تربیت اِسلامی تعلیمات کے مطابق ہوتی تھی ، اُسے ایک اچھے مُسلمان کی طرح اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح اور حفاظت کرنا سکھایا جاتا تھا ، اپنے دِین ، دُنیا اور آخرت کی خیر کمانا سکھایا جاتا تھا ، اور انہیں اپنے اِرد گِرد بھی ایسے ہی لوگوں کی کثرت دِکھائی دیتی تھی ، پس وہ لوگ بھی اچھے مُسلمانوں کی طرح اپنی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کی کوششوں میں رہتے خواہ وہ ذمہ داریاں اُن کی خود اختیاری ہوتیں یا اُن پر آن پڑی ہوتیں ،
اب ہمارے پاس نہ تو وہ معاشرتی تربیت رہی اور اِسلامی تربیت تو کتابی قصے بن رہی ، پس کم عمری تو دُور ٹھہری بڑی عُمر والوں میں بھی اب خال خال ہی ایسے دِکھتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے احساس ہی رکھتے ہوں ، چہ جائیکہ اُنہیں نبھانے کی کوشش کریں ،
جس پریشانیوں کا آپ نے ذِکر کیا ہے اُن کا اصل سبب ہماری تربیت کی خامی ہے ، بالخصوص اِسلامی تربیت کا فُقدان ، کیونکہ اگر ہماری تربیت اللہ کی ذات و صِفات کی پہچان کے ساتھ اُس پر ، روزء حساب کے حساب پر ، سزاء وجزاء پر مکمل اِیمان والی ہو تو ایسی پریشانیاں شاذ شاذ ہی رہ جائیں ،
تربیت کے اِس نُقص کا مجرم یُوں تو معاشرے کا ہر ایک فرد ہی قرار پاتا ہے لیکن والدین کا حصہ اِس میں سب سے زیادہ ہے ، ہمیں اکثر والدین کے حقوق کے بارے میں ہی پڑھایا سکھایا جاتا ہے ، لیکن اولاد کے حقوق کی بات کہاں ہوتی ہے ، جن میں سے بنیادی ترین اور مستقل حق اولاد کی اچھی اسلامی تربیت ہے ،
اگر واقعتا اسلامی تربیت ہو تو اِن شاء اللہ ،بچوں کے سن بلوغ تک پہنتے پہنچتے وہ لوگ اتنا کچھ سیکھ اور سمجھ چکے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے شریک حیات اور اپنی اولاد کے حقوق کے بارے میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہی کاخوف رہتا ہے ، اور یہی وہ شعور ہے جو کسی مُسلمان کی اُس کی تما تر ذمہ داریوں کو خوبصورت طور پر نبھانے کی کوششوں کا سبب رہتا ہے ، اور اِس شعور کا وجودعمر کے زیادہ یہ کم ہونے پر منحصر نہیں، کہ کئی کم عُمر بھی اللہ کے خوف میں کئی بوڑھوں سے کہیں زیادہ آگے ہوتے ہیں ، اور اپنا ہر کام اللہ کے خوف سے ، اللہ کے سامنے جواب دہی کی تیاری کے شعور کے ساتھ کرتے ہیں ،
جب سب ہی کام اللہ کے سامنے جواب دہی کے خوف کے ساتھ ہوں تو پھر ہر کام کی ہر غرض و غایت اِن شاء اللہ پوری ہوتی ہے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ، ہمارے اہل خانہ و خاندان ، اور ہمارے سارے کلمہ گو بھائیوں بہنوں کو اپنے اعمال کے محاسبے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا شعور عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (28-01-12), Miss Khan (23-01-12), shafirajput (25-01-12), محمدمبشرعلی (25-01-12), عبداللہ حیدر (25-01-12)
پرانا 25-01-12, 02:13 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,504
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ھیں اور اللہ کے ہاں جواب دہ ہونگے۔۔۔۔
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (27-01-12), عادل سہیل (27-01-12)
پرانا 27-01-12, 07:34 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafirajput مراسلہ دیکھیں
والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ھیں اور اللہ کے ہاں جواب دہ ہونگے۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی بالکل ، انسان اپنے ہر عمل کا اللہ کے سامنے جواب دہ ہے ، اور اولاد کی تربیت بھی انسان کے اعمال میں سے ہی تو ہے ، اللہ تعالیٰ سب والدین کو ہمت دے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ کے دین کے مطابق کر سکیں نہ کہ دُنیاوی معایر کے مطابق ، کہ اللہ کے دِین کے مطابق تربیت یافتہ شخصیات میں دُنیاوی معایر کے مطابق ہر خُوبی اور ہر اچھإئی مل جاتی ہے ، سوإئے اُن معایر کے جو شیطانی ہوتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتے ہیں ، و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (27-01-12)
پرانا 27-01-12, 08:56 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger