| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 232
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (21-01-12), Miss Khan (21-01-12), shafirajput (25-01-12), skjatala (21-01-12), ھارون اعظم (27-01-12), نبیل خان (21-01-12), محمد یاسرعلی (22-01-12), محمدمبشرعلی (25-01-12), شکاری (21-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,519
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے آپ نے۔۔۔۔ اور ماشاءاللہ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ ہر لفظ دل پر نقش ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں ہدایت دے، یہ مضمون ان لوگوں پر اثر کرے جو دنیاوی معیار پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ اللہ سب والدین کی ایمان کی اس کمزوری کو دور کرے، آپ کی محنت قبول کرے،آمین۔۔۔۔۔۔
آپ کے مضامین پڑھ کر تو میں کچھ لمحے کے لئے گم سم ہو جاتی ہوں ، کتنے حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں آپ کے مضامین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کی دعا سے مجھے بھی گمراہیوں سے بچائے، سچی توبہ اور ہدایت عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے ہمیشہ آمین۔۔۔۔۔! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Miss Khan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
آپ نے خوب لكها، اور درست نشاندهى كى، ليكن ايك پہلو ميرے ذہن ميں ہے جس كى طرف توجہ دلانا اسى ضمن ميں ضرورى ہے-
همارے معاشرے ميں أيسى مثاليں بہت عام هيں كہ لڑكے كى كم عمرى ميں والدين نے اس كى شادى كردى اور لڑكے نے انتہائى غير ذمہ دارى كا روئيه اپنايا، خواه معاشى حوالے سے يا معاملات ميں، نتيجتا والدين كو ايك طرف لڑكے كے رويے پہ نادم هونا پڑتا ہے اور دوسرى طرف اس بياه كے لائى گئى لڑكى كى ذمہ دارى اٹھانى پڑتى ہے- بچے اپنى جگہ نفسياتى مسائل كا شكار هوجاتے هيں- اور واپسى كا راستہ تو همارے معاشرے ميں كفر كے مترادف ہے- يه مثاليں بہت عام هيں، اور حقيقى هيں- ايسے ميں نكاح كى كوئى غايت بهى پورى نهيں ہوتى- جب خوب لعن طعن هو رهتى ہے، دلوں ميں دورياں پيدا هوجاتى هيں تو لڑكى كے بھاگوں اس لڑكے كو ہدايت آگئى تو خير ورنه وہى تماشا- أيسى مثالوں سے تو يہى سبق حاصل هوتا ہے كہ كم سے كم كچھ شعور آنے كا انتظار كر لينا چاہيے- |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا خانم بہن ، مجھ سے جو کوئی اچھائی واقع ہوتی ہے تو بلا شک وہ صِرف اللہ پاک کا لُطف و کرم ہے ، جِس کے ملنے کے ممکنہ اسباب میں سے آپ جیسی بہنوں کی دُعائیں بھی ہیں ، اِن شاء اللہ ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی دُعائیں قُبول فرمائیں ، اور جس کی دُعا آپ میری لیے کرتی ہیں اُس سے کہیں زیادہ بہتر اور زیادہ آپ کو عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | Miss Khan (23-01-12) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، آپ کے مراسلے کے جواب میں کچھ گذارش کرنے سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ایک معاشرے کی ایک اہم کمزوری کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے ، گو کہ میرے مضمون میں کم عمری کے شادیوں کے معاملے کے بارے میں کوئی بات نہ تھی لیکن آپ کی طرف سے ظاہر کیے گئے اس نکتے پر بات چیت بھی اِن شاء اللہ سب ہی کے لیے فائدہ مند رہے گی ، جی بھائی/بہن ، آپ کا کہنا دُرست ہے ، ایسی خاندانی تباہیوں کی مثالیں ملتی ہیں ، لیکن اِس کا سبب لڑکے کی کم عمری نہیں ہوتا ، بلکہ والدین ہوتے ہیں ، جی ہاں ، کچھ ہی دیر پہلے عموماً کم عمری میں ہی شادیاں ہوتی تھیں اور تقریبا ً سب ہی جوڑے بالکل کامیاب نہیں تو کم از کم معتدل انداز میں اپنی ازدواجی اور معاشرتی ذمہ داریاں نبھاتے چلتے تھے ، جِس کا سبب اُن کے وقت میں پائے جانے والےماحول میں معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس تھا ، پس فطری طور پر وہ بچے اپنے احساسات کے نمو ساتھ یہ ذمہ داریاں بھی جانتے چلے جاتے اور جب کوئی ذمہ داری اُن پر آن پڑتی تو اُسے اچھے طور پر نبھاتے تا کہ معاشرے میں بدنام نہ ہوں ، پھر اُس سے کچھ اور پہلے ، مُسلمانوں کے معاشرے میں ہر بچے اور بچی کی تربیت اِسلامی تعلیمات کے مطابق ہوتی تھی ، اُسے ایک اچھے مُسلمان کی طرح اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح اور حفاظت کرنا سکھایا جاتا تھا ، اپنے دِین ، دُنیا اور آخرت کی خیر کمانا سکھایا جاتا تھا ، اور انہیں اپنے اِرد گِرد بھی ایسے ہی لوگوں کی کثرت دِکھائی دیتی تھی ، پس وہ لوگ بھی اچھے مُسلمانوں کی طرح اپنی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کی کوششوں میں رہتے خواہ وہ ذمہ داریاں اُن کی خود اختیاری ہوتیں یا اُن پر آن پڑی ہوتیں ، اب ہمارے پاس نہ تو وہ معاشرتی تربیت رہی اور اِسلامی تربیت تو کتابی قصے بن رہی ، پس کم عمری تو دُور ٹھہری بڑی عُمر والوں میں بھی اب خال خال ہی ایسے دِکھتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے احساس ہی رکھتے ہوں ، چہ جائیکہ اُنہیں نبھانے کی کوشش کریں ، جس پریشانیوں کا آپ نے ذِکر کیا ہے اُن کا اصل سبب ہماری تربیت کی خامی ہے ، بالخصوص اِسلامی تربیت کا فُقدان ، کیونکہ اگر ہماری تربیت اللہ کی ذات و صِفات کی پہچان کے ساتھ اُس پر ، روزء حساب کے حساب پر ، سزاء وجزاء پر مکمل اِیمان والی ہو تو ایسی پریشانیاں شاذ شاذ ہی رہ جائیں ، تربیت کے اِس نُقص کا مجرم یُوں تو معاشرے کا ہر ایک فرد ہی قرار پاتا ہے لیکن والدین کا حصہ اِس میں سب سے زیادہ ہے ، ہمیں اکثر والدین کے حقوق کے بارے میں ہی پڑھایا سکھایا جاتا ہے ، لیکن اولاد کے حقوق کی بات کہاں ہوتی ہے ، جن میں سے بنیادی ترین اور مستقل حق اولاد کی اچھی اسلامی تربیت ہے ، اگر واقعتا اسلامی تربیت ہو تو اِن شاء اللہ ،بچوں کے سن بلوغ تک پہنتے پہنچتے وہ لوگ اتنا کچھ سیکھ اور سمجھ چکے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے شریک حیات اور اپنی اولاد کے حقوق کے بارے میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہی کاخوف رہتا ہے ، اور یہی وہ شعور ہے جو کسی مُسلمان کی اُس کی تما تر ذمہ داریوں کو خوبصورت طور پر نبھانے کی کوششوں کا سبب رہتا ہے ، اور اِس شعور کا وجودعمر کے زیادہ یہ کم ہونے پر منحصر نہیں، کہ کئی کم عُمر بھی اللہ کے خوف میں کئی بوڑھوں سے کہیں زیادہ آگے ہوتے ہیں ، اور اپنا ہر کام اللہ کے خوف سے ، اللہ کے سامنے جواب دہی کی تیاری کے شعور کے ساتھ کرتے ہیں ، جب سب ہی کام اللہ کے سامنے جواب دہی کے خوف کے ساتھ ہوں تو پھر ہر کام کی ہر غرض و غایت اِن شاء اللہ پوری ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ، ہمارے اہل خانہ و خاندان ، اور ہمارے سارے کلمہ گو بھائیوں بہنوں کو اپنے اعمال کے محاسبے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا شعور عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (28-01-12), Miss Khan (23-01-12), shafirajput (25-01-12), محمدمبشرعلی (25-01-12), عبداللہ حیدر (25-01-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,504
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ھیں اور اللہ کے ہاں جواب دہ ہونگے۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جی بالکل ، انسان اپنے ہر عمل کا اللہ کے سامنے جواب دہ ہے ، اور اولاد کی تربیت بھی انسان کے اعمال میں سے ہی تو ہے ، اللہ تعالیٰ سب والدین کو ہمت دے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ کے دین کے مطابق کر سکیں نہ کہ دُنیاوی معایر کے مطابق ، کہ اللہ کے دِین کے مطابق تربیت یافتہ شخصیات میں دُنیاوی معایر کے مطابق ہر خُوبی اور ہر اچھإئی مل جاتی ہے ، سوإئے اُن معایر کے جو شیطانی ہوتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتے ہیں ، و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | Miss Khan (27-01-12) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|