| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 192
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ،،،،،،،
::::: نٕئے سال کا استقبال وقت کی اہمیت کے احساس کے ساتھ کیجیے ::::: (دوسرا حصہ) کیا ہم وہی لوگ نہیں جو اللہ پر ، اُس کی آخری مکمل ترین اور محفوظ ترین کتاب قران الکریم پراِیمان رکھنے کے دعویٰ دار ہیں ، اور کیا ہم وہی قوم نہیں جنہیں اسی اللہ نے اپنی اسی کتاب میں یہ سمجھایا ہے کہ (((((يَا أَيُّهَا الَذِينَ آمَنُوا لا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ ولا أَوْلادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ ومَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الخَاسِرُونَ o وأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ المَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلا أَخَّرْتَنِي إلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ o ولَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْساً إذَا جَاءَ أَجَلُهَا واللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ:::اے اِیمان لانے والو، تُمہارا مال اور تُمہاری اولاد تُم لوگوں کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور (یاد رکھنا کہ)جو کوئی بھی ایسا کرے گا (تو) وہی لوگ نقصان اُٹھانے والے ہوں گے o اور جو کچھ ہم نے تم لوگوں کو رزق دِیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تُم لوگوں میں سے کسی(ایسے ہی غافل )کی موت آجائےتو(پھر اُس وقت )وہ کہنے لگے ، اے میرے رب تُو نے مجھے تھوڑا سا وقت اور کیوں نہیں دیا کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا o اور(حق یہ ہے کہ ) جب کسی کی موت آجاتی ہے تو پھر اللہ اسے ہر گز کوئی مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کی خوب اچھی طرح خبر رکھتا ہے)))))سورت المنافقون /آیات 9 تا 11، ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ آنے والے وقت میں اُسی کے مطابق ملے گا جو کچھ ہم نے اس آنے وقت کے لیے گذرے ہوئے وقت میں کِیا ہو گا ::: (((((وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ:::اور یہ (ہی حق ہے ) کہ انسان کو اس کی کی ہوئی کوشش کے علاوہ کچھ اور نہیں ملے گا)))))سورت النجم /آیت 39، اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ آنے والا وقت اسی کے لیے خوش کن ہو گا جس نے اس وقت کے لیے گذرے ہوئے وقت میں کچھ ایسا کیا ہو گا جو اُس آنے والے میں اُس کے لیے خوشیوں کا سبب بن سکے ::: (((((وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ:::اور پرہیز گاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تُمہارے رب نے کیا اُتارا ہے تو وہ کہتے ہیں ، بہت اچھا ۔ جن لوگوں نے نیک کام کیے اُن کے لیے اس دُنیا میں (بھی)بہترین(بدلہ)ہے اور(اُن نیک کام کرنے والوں کے لیے) آخرت والا گھر بہتر ہے ہی ، اور(آخرت میں )تقویٰ والوں (پرہیز گاروں) کا گھر بہت ہی بہترین ہے)))))سورت النحل /آیت 30، اور یہ بھی بتا دیا کہ ہم جس مقصد سے جو کچھ کریں گے اس کے مطابق اس کا نتیجہ پائیں گے ، (((((مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ:::جو شخص آخرت کی کھیتی (حاصل کرنا )چاہتا ہے (تو) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ دیں گے اور جو کوئی دُنیا کی کھیتی چاہتا ہو گا (تو)ہم اُسے اُس(دُنیا )میں سے ہی دیں گے اور اس کے لیے آخرت(کی خیر ) میں کوئی حصہ نہ ہوگا)))))سورت الشوریٰ /آیت 20، لیکن ہم پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا ، ہم نے تو قران خوانی بھی دنیا کمانے کے لیے ، نیک کہلوانے کے لیے ، اہل قران اور اہل اللہ ظاہر ہونے کے لیے اور اپنے مُردوں کو بخشوانے کا سرٹیفائیڈ نسخہ سمجھ کر کرتے ہیں ، لیکن جو صاحب القران تھے ، علیہ افضل الصلاۃ و السلام وہ ہمیں یہ سمجھاتے رہے (((((نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ من الناس الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ::: دو نعمتوں کے بارے میں لوگوں کی اکثریت غلط کاری کا شکار رہتی ہے (1)صحت اور (2) فراغت)))))صحیح البخاری/کتاب الرقاق کی پہلی حدیث ، اور یہ تعلیم بھی دے گئے کہ (((((اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ:::پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں سے فائدہ اُٹھا لو (1) تُمارے بڑھاپے سے پہلے تُمہاری جوانی (کا فائدہ اُٹھا لو)اور (2) تُمہاری بیماری سے پہلے تُمہاری صحت (کا فائدہ اُٹھا لو)اور (3)تُماری غُربت سے پہلے تُمہاری مالداری(کا فائدہ اُٹھا لو)اور(4) تُمہاری مشغولیت سے پہلے تُمہاری فراغت(کا فائدہ اُٹھا لو)اور (5) تُمہاری موت سے پہلے تُمہاری زندگی(کا فائدہ اُٹھا لو) )))))المستدرک الحاکم /حدیث 7846،صحیح الجامع الصغیر 1077 اور صاحب القران صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے سیکھ سیکھ کر جو اہل الذکر ہوئے ، حقیقی معنوں میں اہل القران ہوئے وہ ایک دوسرے کو یہ سمجھاتے رہے اور ہمارے لیے بھی یہ پیغام چھوڑ گئے کہ """"" إذا أمسيتَ فلا تَنتَظِر الصباحَ وإذا أصبحتَ فلا تنتظر المساءَ ، وخُذ مِن صحتكَ لِمرضك ومِن حياتكَ لِموتك :::تُم پر اگر شام آجائے تو صُبح کا انتظار مت رکھو اور اگر صبح ہو جائے تو اگلی شام کا انتظار مت رکھو ، اور اپنی صحت میں سے اپنی بیماری کے لیے حصہ لے لو ، اور اپنی زندگی میں سے اپنی موت کے لیے حصہ لے لو """""صحیح البخاری /کتاب الرقاق /باب3، نئے سال کی خوشیاں مناتے ہوئے ، اور ایک دوسرے کو مبارباد دیتے ہوئے ، پچھلے سال پر بھی نظر کرتے چلیے کہ اس سال میں ہمارے اپنے پیاروں ، رشتہ داروں دوستوں یاروں میں سے کس کس کی صحت رخصت ہو گئی، کس کس کی مالداری یا مالی خوش حالی ہوا ہو گئی اور وہ غربت یا مالی تنگی کا شکار ہوا بیٹھا ہے ، کس کس کی فراغت رخصت ہوگئی اور اب وہ نیک کام کرنے کے لیے دُنیا اورآخرت کے فائدے والے کام کرنے کے لیے تڑپتا ہے ، کس کس کی زندگی کے گلستان کو موت کی آندھی تاراج کر گئی ، دُنیا کی چمچماتی ، جِھلملاتی رنگینیوں سے نکال کر اسے قبر کے خوفناک اندھیروں میں دھکیل گئی ، اس کے ساتھ یہ بھی سوچیے کہ اگر کِہیں اس نئے سال میں آپ بھی ان میں سے کسی جیسے ہونے والوں میں ہوں تو ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضمون جاری ہے ،،،،،،، |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ،،،،،،، ::::: نٕئے سال کا استقبال وقت کی اہمیت کے احساس کے ساتھ کیجیے ::::: (تیسرا، آخری حصہ) ::::: نیا سال آیا تو ہے ، لیکن ایک سال گذرا ہے تو یہ نیا سال آیا ہے ، اب اس کے بعد کوئی نیا سال ہماری زندگیوں میں آئے گا یا نہیں ،اس نئے سال کی خوشیاں منانا تو تب ہی درست ہو گا جب گذرے ہوئے سالوں میں اپنے کاموں کا جائزہ لینے کے بعد خوش ہونے والی کوئی بات دکھائی دے اور یہ امید رکھی جائے کہ اِن شاء اللہ اس نئے سال میں گذرے ہوئے سالوں سے بڑھ کر خیر اور نیکی والے کام کیے جائیں گے ،
اگر ہم اپنے گذرے ہوئے وقت میں اپنے اعمال کا کڑی تنقیدی نظر سے جائزہ نہیں لیں گے تو یقین جانیے کہ آنے والے نئے اوقات سے بھی ہم کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکیں گے بلکہ گذرے ہوئے وقت کی طرح ہی انہیں بھی کاٹ ڈالیں گے ، جن کی نقالی میں ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیے بغیر گذرے ہوئے سال کوعموماً اللہ نافرمانی کرتے ہوئے رخصت کرتے ہیں اور اسی طرح آنے والے نئے سالوں کا جشن مناتے ہیں ، کبھی ان کی عادات میں سے کسی اچھی بات کی طرف بھی توجہ دی ہے کہ وہ لوگ صرف جشن ہی نہیں مناتے بلکہ اپنے گذرے ہوئے وقت میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا خوب اچھی طرح محاسبہ کرتے ہیں اور آنے والے وقت میں ان غلطیوں اور کوتاہیوں کو درست کرنے کی کوشش کی منصوبہ کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ، قطع نظر اس کے کہ ان کے ہاں اعمال کی درستگی یا نا درستگی کا معیار ہمارے اسلام میں کیا حیثیت رکھتا ہے ، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم صرف انہی کاموں اور حرکات کو کیوں اپناتے ہیں جن میں ہمارے دین، دنیا اور آخرت کی ناکامی اور رسوائی ہی ہوتی ہے ، دینی زوایہ نظر سے دیکھنے کے علاوہ اگر ہم دُنیاوی اور تاریخی زوایہ نظر سے بھی دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر اٹیم بم گرا کر اور اس پر اقصادی پابندیاں لگا کر گویا اس کو عملی طور پر ایک مفلوج قوم کا مسکن بنا دیا ، لیکن ان لوگوں نے اپنے ماضی پر نظر کی اور اپنے سامنے آنے والےنئے وقت میں صرف ان کاموں میں اَن تھک محنت کی ، جِن کی مدد سے وہ ایک طاقت ور، آزاد اور با عزت قوم بن سکیں ، اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں نے جرمن کا جو حال کیا اس کے بعد دُنیا کے حکمت دانوں کے ہاں یہ تصور نا پید سا ہو گیا کہ اب دُنیا کی تاریخ میں جرمن کبھی کوئی نام دار قوم بن سکیں گے ، جرمنوں نے اپنے گذرے ہوئے وقت کو ہماری طرح صرف جشن منا منا کر رخصت نہ کیا ، اور نہ آنے والے وقت کو صرف جشن منا منا کر خوش آمدید کہا ، چند لوگوں نےجشن منانے کے علاوہ حقائق پر کڑی نظر کی اور گذرے ہوئے وقت میں اپنی غلطیوں اور اپنے نقصانات کا خوب اچھی طرح سے اندازہ کیا،اپنے ضائع شدہ ، تباہ شدہ وقت کو اپنے حال اور اپنے مستقبل میں دوبارہ سے داخل کیا ،ہر ایک شخص نے ان کی اس مثبت سوچ کو درست مانا اور سب نے گویا ایک جاں ہو کر ایک لمبے عرصے تک اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے اپنے ذاتی اوقات میں سے دو دو گھنٹے روزانہ بلا معاوضہ کام کیا ، اور وہی جرمن تھوڑے سے ہی وقت میں ایک دفعہ پھر ، بلکہ پہلے سے زیادہ شان و شوکت ،علمی اور عملی قوت کے ساتھ اُبھر پڑا ، آخر ہماری عقلوں پر ایسا پردہ کیوں پڑا ہوا ہے کہ ہم ان لوگوں کی گندگی کو تو اپناتے ہیں لیکن ایسے کاموں کی طرف دھیان نہیں دیتے جو کم از کم دُنیاوی عزت اور ترقی کا سبب تو بن سکتے ہیں،بِاِذن اللہ ، اور اگر ہم ان کاموں کو اپنے اسلامی قوانین کے مطابق چھان پھٹک کر صاف ستھرا کر کے اپنا لیں ، اور اللہ کی رضا کے لیے ، اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے ، اپنی امت کی دنیاوی اور اُخروی عزت کے لیے کریں تو ہم ان لوگوں سے کہیں زیادہ با عزت ، طاقتور اور عظیم قوم ہو سکتے ہیں ، اِن شاء اللہ ، اور ضرور ہو سکتے ہیں کہ اگر ہماری نیت خالص اللہ کے لیے ہو اور ہم ایسے کامیاب اور مجرب وسائل اپنائیں تو ہمیں وہ قوت بھی میسر ہوگی جو ان قوموں کو کبھی میسر نہ تھی اور نہ ہو سکتی ہے ،اور وہ قوت ہے اللہ کی مدد ، ::::: کیا میں یہ اُمید رکھوں کہ میری یہ باتیں سننے ، پڑھنے والے میرے بھائی بہنیں نئے سالوں اور نئے اوقات کو دنیا اور آخرت کی ذلت و ناکامی کی حالت میں منانے کی بجائے انہیں دنیا اور آخرت کی عزت اور کامیابی والا بنانے کی کوشش کریں گے ؟؟؟ ::::: کیا یہ ہو سکتا ہے ہم مسلمان بھی واقعتا ایک قوم بن جائیں، اور ایک جسم کے مختلف أعضاء کی طرح ایک دوسرے کی صحت اور طاقت کے ضامن ہو جائیں ؟؟؟ ::::: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے اوقات میں اپنے رب کی رضا کے حصول کی خاطر ، اپنی امت کی عزت اور رفعت کی خاطر کچھ وقت صِرف ایسے کاموں میں صَرف کرنے لگوں جن سے میرے بھائی بہن خصوصی طور پر اور بنی نوع انسان عمومی طور پر اپنے اوقات کی حقیقت جان لیں اور انہیں اپنے رب کی تابع فرمانی میں استعمال کرنے لگیں؟؟؟ ::::: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنی کچھ خواہشات کو تگ کر ، اپنے کچھ شوق پس پشت ڈال کر اپنے دین اور اپنی قوم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ تھوری سی اضافی محنت کر لوں ؟؟؟ ::::: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میری یہ باتیں سننے پڑھنے والوں کو ان کے وقت کی أہمیت کا احساس دلانے کا سبب بن جائیں اور وہ نئے اوقات کی آمد کی خوشی میں مدہوش ہونے کی بجائے گذرے ہوئے وقت کے نتائج کی روشنی میں با ہوش ہو جائیں ؟؟؟ ::::: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میری ان گذارشات کو دیکھنے، سننے اور پڑھنے والوں میں ان کی زندگیوں میں سے کم ہوجانے والے اوقات کے نقصانات کا شعور جاگ اُٹھے ؟؟؟ ::: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں نے جو کچھ کہا اس کے سبب ہم اپنے وقت کی قدر و قیمت جان لیں اور اپنے اللہ سے عہد کریں کہ اب ہم اللہ کے دیے ہوئے ہر ایک لمحے کو اس کی رضا کے مطابق، اس کے دین اور اس کے مسلمانوں کی بلندی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہی رہیں گے ؟؟؟ جی ہاں ، ہو سکتا ہے ، یقیناً ہو سکتا ہے ، میرے رب کے حکم سے کچھ خارج نہیں ، میرے رب کی رحمت کی وسعت لا محدود ہے، میرے رب کی عطاء کسی کی پابند نہیں ، اے اللہ ہمیں اُن میں سے بنا دے جن کے بارے میں تو نے اِرشاد فرمایا (((((الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ::: جو بات سُنتے ہیں اور میں سے اچھی بات پر عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں عقل والے)))))سورت الزُمر /آیت 18، اور اے اللہ ہمیں اُن جیسانہ بنانا جو کہا کرتے تھے ، اور جو اب بھی کبھی ز ُبان ء قال سے اور کبھی ز ُبانء حال سےکہتے ہیں (((((وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ::: اور انہوں نے کہا جس کی طرف تُم ہمیں بلاتے ہو اُس کے بارے میں ہمارے دِل پردوں میں ہیں اور ہمارےکانوں میں بھاری پن(یعنی بہرا پن)ہے اورہمارے اور تُمہارے درمیان پردہ ہے لہذا تُم(اپنا)کام کرو ، ہم بھی (اپنا ہی ) کام کریں گے)))))سورت فُصلت/آیت4 ۔ و السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ اس کے ساتھ """ پاکستانی کا پیغام پاکستانی کے نام """ بھی پڑھیے ، ان شاء اللہ فائدہ مند ہوگا۔ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,519
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ۔۔۔۔ جزاک اللہ خیرا ۔۔۔۔ آپ پر اللہ کا فضل ہے کہ آپ کی باتیں دل میں اثر کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ خاص کر آیات جس انداز سے آپ اپنے مضمون میں شامل رکھتے ہیں اس کا اپنا ہی حسن ہے اور مضمون مزید پراثر ہو جاتا ہے ، اللہ آپ کی یہ خدمت بھی قبول کرے اور آپ کو بہترین اجر دے، آمین ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم سب وقت کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھیں اور اس کو جائز کام میں صرف کریں۔۔۔۔۔آمین۔۔۔
سوچ کے نئے دروازے کھولتا یہ مضمون اپنی مثال آپ ہے۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے خانم بہن ، یہ سب محض اللہ پاک کی عطاء ہے ، جس کا ایک ممکنہ سبب آپ جیسے بھإئی بہنوں کی دعإئیں بھی ہیں، ان شاء اللہ ، اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو کو اس کی اور اس کے رسول کی حقیقی اطاعت کی ہمت دے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | Miss Khan (04-12-11) |
![]() |
| Tags |
| پہچان, نفرت, نظر, موت, منصوبہ, محبت, آج, اللہ, اجنبی, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, تاج, تعلیم, حکم, حال, خون, خوش, خبر, رات, رشتے, سال, غم, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نوجوانوں کا مستقبل خطرہ میں ۔وزیر خزانہ کے ساتھ مذاکرات ناکام۔ چھ یونیورسٹیوں کی بندش کا خدشہ | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-09-10 03:34 PM |
| پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع | راجہ اکرام | سیاست | 3 | 27-01-10 12:41 AM |
| بھارت میں اداکاراؤں کے ساتھ اسکینڈل سے بچنے کیلئے صراط مستقیم پر چلنا ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-04-08 02:04 PM |