واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


کیا کوئی خود کو خلافت کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ حضرت علی اور حسین رضی اللہ عنھما کا اس بارے میں کیا عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-07-10, 08:48 PM   #1
کیا کوئی خود کو خلافت کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ حضرت علی اور حسین رضی اللہ عنھما کا اس بارے میں کیا عمل
منتظمین منتظمین آف لائن ہے 24-07-10, 08:48 PM

سلام!
خلافت اور جمہوریت کی ایک طویل بحث چل رہی ہے جس میں بہت سارے ضمنی سوالات اٹھ رہے ہیں ان سوالات کو میں الگ الگ پیش کر رہا ہوں۔

جمہوریت دینِ ابلیس

خلافت قریش کا حق ہے؟ کیا یہ اسلامی مساوات کے اصولوں کے منافی ہے؟


کیا کوئی خود کو خلافت کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ حضرت علی اور حسین رضی اللہ عنھما کا اس بارے میں کیا عمل تھا؟

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!

Last edited by shafresha; 25-07-10 at 02:23 AM.. وجہ: ایک حرف کی تصیح!

 
منتظمین's Avatar
منتظمین
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2190
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-07-10), فیصل ناصر (24-07-10), کنعان (24-07-10), ھارون اعظم (24-07-10), محمد عاصم (24-07-10), مرزا عامر (24-07-10), آبی ٹوکول (24-07-10), بلال اویسی (25-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ آدم (24-07-10)
پرانا 24-07-10, 09:01 PM   #2
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,440
کمائي: 21,438
شکریہ: 2,637
1,000 مراسلہ میں 2,159 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قطعاً نہیں کر سکتا، خلافت، مملکت، حکومت اس کے لئے نہیں جو اس کی خواہش کرے، بلکہ جو اسے برا سمجھتا ہو اور اس کو اپنی ذماداریوں کا احساس ہو۔ ۔ ۔
__________________
سارےسنم مسمارکر، بس اک خداسےپیاکر
رکھ کرنبی کو سامنے، آرائش کردار کر
محمدمبشرعلی آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (24-07-10), مرزا عامر (24-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10)
پرانا 24-07-10, 09:06 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپنے اس حکم کی دلیل دیجیے اور تاریخی طور پر حضرت علی اور حضرت حسین کے بارے میں ثبوت لائیں ورنہ خاموشی سے بحث کو دیکھیں۔ یہ بحث دلیل کے ساتھ بات کرنے کے لیے شروع کی گئ ہے
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-07-10), کنعان (24-07-10), محمدمبشرعلی (28-07-10), مرزا عامر (24-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), بلال اویسی (25-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 24-07-10, 09:26 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلافت کے لئے خود کو پیش کرنے میں کوئی قباحت تو ہونی نہیں چاہئے !

خیر جی ہم بھی چپ چاپ بحث دیکھتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-07-10), مرزا عامر (24-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 24-07-10, 11:24 PM   #5
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,048
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,813 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
سلام!
خلافت اور جمہوریت کی ایک طویل بحث چل رہی ہے جس میں بہت سارے ضمنی سوالات اٹھ رہے ہیں ان سوالات کو میں الگ الگ پیش کر رہا ہوں۔

کیا کوئی خود کو خلافت کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ حضرت علی اور حسین رضی اللہ کا اس بارے میں کیا عمل تھا؟

والسلام
اسلام علیکم ! سب سے پہلے میں اپنا مؤقف ایک بار پھر سے واضح کردوں میری رائے اور گذارش تمام بہنوں اور بھائیوں سے یہ ہے کہ دین میں شدت پسندی کو فروغ مت دیں نیز دین میں غلو کرتے ہوئے خاص طور پر ایسے مسائل کہ جن میں ہمیشہ سے امت کا اختلاف رہا ہے کو دین کے متفقہ اصول بنا کر مت پیش کریں اگر آپ کسی بات پر مصر ہی ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتے ہیں کہ آپ حوالہ دے دیں کہ فلاں عالم دین کی نظر میں یا اسکی تحقیق میں یہ چیز دین میں فلاں امر کے لیے مسملہ اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور اس عالم دین نے اس اصول کو فلاں فلاں قرآنی آیات یا احادیث سے استنباط فرمایا ہے وغیرہ ۔ ۔ ۔

ہماری رائے جمہوریت اور خلافت کے باب میں یہ ہے کہ بلاشبہ دین میں سیاسی امر کے بطور سب سے بہترین صورت خلافت کی ہے اور اس کا کوئی دوسرا مقابل نہیں نہ آمریت اور نہ ہی جمہوریت ۔ اور یہ کہ خلافت ایک آئیڈیل نظام ہے مگر آج کہ دور میں کوئی بھی اسکے نفاذ کی کوئی بھی عملی صورت پیش کرنے سے قاصر ہے

ہمارا اختلاف فقط اس حد تک ہے کہ مغربی جمہوری اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے اسلامی نظام جمہوریت کو مطلقا شرک نہ کہا جائے اور اس طرح سے دین میں شدت پسندی اور غلو کو فروغ نہ دیا جائے ۔ ۔
ادارہ المورد کے مفتی محمد رفیع لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مغربي جمہوريت کو اگر اس کے پورے تصور کے ساتھ ديکھا جائے تو اس کے حرام ہونے ميں کوئي شک ہي نہيں ہے ، کيونکہ وہ انسان کو خدا سے ہٹ کر قانون سازي کا اختيار ديتي ہے۔ اس کے نزديک انسان کثرت رائے سے اپنے ليے جس چيز کو چاہے حلال کر لے اور جس چيز کو چاہے حرام کر لے۔ اللہ تعالي کي طرف سے يہ اختيار انسان کو حاصل نہيں ہے ، چنانچہ جو فلسفہ و فکر انسان کو يہ اختيار ديتا ہے وہ سراسر باطل ہے۔ البتہ مغربي جمہوريت کا ايک پہلو جو " امرھم شوري بينھم" سے مماثل ہے اور وہ جائز ہے۔ اس اجمال کي تفصيل يہ ہے کہ ہم خدا اور اس کے رسول کي فرماں برداري ميں " امرھم شوري بينھم" کے اصول پر عمل کرتے ہوئے جب اپنے معاملات طے کر رہے ہوں اور اس ميں نزاع کا کوئي موقع پيدا ہو جائے تو کيا ہمارے ليے اسي طرح کثرت رائے سے کسي نتيجے تک پہنچنا جائز نہيں ہے جيسے اہل جمہوريت اپنے نزاعات کو ووٹنگ کے ذريعے سے حل کرتے ہيں؟

ہمارے خيال ميں يہ بالکل جائز ہے۔ مثلاً قرآن و سنت کے احکام کے مطابق ذيلي قانون سازي کرتے ہوئے باہمي اختلاف کي صورت ميں ووٹنگ وغيرہ کے طريقے کو اختيار کيا جا سکتا ہے يا خليفہ اور صدر کا انتخاب ميں اسي طريقے کو اختيار کيا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیز دین میں جو خلافت کا تصور قائم ہے اس کی روح میں بھی یہی جمہوریت کسی نہ کسی طور پر کار فرما ہے اور یہ اسلام ہی کہ جس نے سب سے پہلے دنیا میں جمہوری اقدار کو متعارف کروایا (از آبی ٹوکول) ۔ ۔ ۔ ۔

مولانا مودودی آیت کریمہ 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَيْنَهُمْ' کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ

" جو مشورہ اہل شوریٰ کے اجماع (اتفاق راے) سے دیا جائے یا جسے اُن کے جمہور (اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اُسے تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ: ''اُن کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے'' بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ: ''اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں۔''اِس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہو جاتی،بلکہ اِس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو،اُسی کے مطابق معاملات چلیں ۔ "

لہذا بعض قرآنی آیات جو کہ ایمانیات یا اعتقادیات یا پھر عقلیات کے باب میں ہیں یعنی جو ان امور میں لوگوں کی اکثریت کی کج فہمیوں کی خبر دینے والی ہیں ان میں لفظ " اکثر " کو بنیاد کر مسلمانوں کی انتظامی امور میں اکثریتی رائے کے فیصلہ کو مشکوک مت بنائیں کہ ان آیات کا تعلق ایک خاص موضوع کے اعتبار سے بطور خبر ہے نہ کے بطور اصول ۔ ۔ ۔۔

اب آتا ہوں یہاں شروع کیئے گئے اصل موضوع کی طرف منتظمین بھائی آپکا سوال تھا کہ کیا کہ کیا کوئی مسلمان اپنے دل میں خلافت کی خواہش رکھ سکتا ہے اور نیز اس ضمن میں حضرت علی اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنھما کا کیا تاریخی کردار رہا ہے ؟ تو آئیے ترتیب وار ان دونوں جید ہستیوں کے تاریخی کردار کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ۔
امام جلال الدین سیوطی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی مشھور زمانہ تصنیف تاریخ الخلفاء میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔

فلما قبض تذكرت في نفسي قرابتي وسابقتي وسالفتي وفضلي وأنا أظن أن لا يعدل بي ولكن خشى أن لا يعمل الخليفة بعده ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فأخذ عبد الرحمن بن عوف مواثيقنا على أن نسمع ونطيع لمن ولاه الله أمرنا ثم أخذ بيد عثمان بن عفان وضرب بيده على يده فنظرت في أمري فإذا طاعتي قد سبقت بيعتي وإذا ميثاقي قد أخذ لغيري فبايعنا عثمان ۔ ۔ ۔ ۔
۔۔۔ فلما أصيب نظرت في أمري فإذا الخليفتان اللذان أخذاها بعهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهما بالصلاة قد مضيا وهذا الذي قد أخذ له الميثاق قد أصيب فبايعني أهل الحرمين وأهل هذين المصرين فوثب فيها من ليس مثلي ولا قرابته كقرابتي ولا علمه كعلمي ولا سابقته كسابقتي وكنت أحق بها منه
۔ ۔

ٹوٹا پھوٹا مفھومی ترجمہ حاضر ہے ۔ ۔ جب حضرت عمر کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اپنے نفس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت داری ، سبقت اسلام اور دیگر فضائل کی وجہ سے یہ خیال کیا کہ اب شاید ہی مجھے خلافت کے لیے نہ منتخب کیا جائے ۔ ۔ لیکن جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تو میں نے اپنی اطاعت پر اپنی بیعت کو غالب پایا (یعنی میں نے بھی بیعت کرلی) او رمجھ سے جو وعدہ لیا گیا وہ دوسرے کی اطاعت میں لیا گیا تھا پس میں نے بھی عثمان کی بیعت کرلی جب ان کا وصال ہوا تو میں نے سوچا کہ وہ دنووں خلفاء کہ جن کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے پیچھے نماز پڑھوا کر عہد لیا تھا وہ دونوں بھی چل بسے اور نیز وہ بھی چلے گئے کہ جن کے لیے مجھ سے عہد لیا گیا تھا اب میرے سوا اس امر کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوسکتا ہے چناچہ اہل حرمین اور کوفہ اور بصرہ کے لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کرلی تو پھر اس امر یعنی خلافت میں ایک ایسا شخص (یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ) کود پڑا جو کہ نہ قرابت داری میں میرے مثل تھا نہ علم میں علم میں میری مثال اور نہ سبقت اسلامی میں میری طرح جبکہ میں اس سے زیادہ اس امر کا مستحق تھا ۔ ۔ ۔

اب ہم درج زیل میں تاریخ الکامل ابن اثیر جو کہ اہل سنت کے سب سے معتبر تاریخی ماخذ کے بطور جانی جاتی ہے سے حضرت امام حسین کا وہ تاریخی خطبہ نقل کریں گے جو کہ انھوں نے مقتل کربلا میں فوج یزید کے مخالف دیا تھا ۔ ۔ ۔

ثم إن الحسين خطبهم فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : أيها الناس إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال : من رأى سلطانا جابرا مستحلا لحرم الله ناكثا لعهد الله مخالفا لسنة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعمل في عباد الله بالإثم والعدوان فلم يغير ما عليه بفعل ولا قول كان حقا على الله أن يدخله مدخله .

ألا وإن هؤلاء قد لزموا طاعة الشيطان وتركوا طاعة الرحمن وأظهروا الفساد وعطلوا الحدود واستأثروا بالفيء وأحلوا حرام الله وحرموا حلاله ، وأنا أحق من غير ، وقد أتتني كتبكم ورسلكم ببيعتكم ، وأنكم لا تسلموني ولا تخذلوني فإن تممتم على بيعتكم تصيبوا رشدكم ، وأنا الحسين بن علي ابن فاطمة بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نفسي مع أنفسكم ، وأهلي مع أهلكم ، فلكم في أسوة ، وإن لم تفعلوا ونقضتم عهدي وخلعتم بيعتي فلعمري ما هي لكم بنكير ، لقد فعلتموها بأبي وأخي وابن عمي مسلم بن عقيل ، والمغرور من اغتر بكم ، فحظكم أخطأتم ، ونصيبكم ضيعتم ، فمن نكث فإنما ينكث على نفسه وسيغني الله عنكم ، ۔ ۔ ۔

سارے خطبہ کے ترجمہ کی بجائے فقط بڑے کیئے گئے سرخ الفاظ کو دیکھ لیں کہ جس میں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ صاف صاف اعلان فرمارہے ہیں کہ جو شخص اللہ پاک کے حلال کو حرام ٹھرائے اور طاعت شیطان کرئے بجائے طاعت رحمٰن کے اور زمین پر فساد برپا کرے اور حدود اللہ کو توڑے تو ایسے میں ، میں دوسروں سے زیادہ مستحق خلافت ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

باقی والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 24-07-10 at 11:30 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-07-10), منتظمین (25-07-10), محمدمبشرعلی (28-07-10), محمدخلیل (24-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (26-07-10)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
25-07-10 بلال اویسی دستیاب نہیں 150
24-07-10 محمدخلیل بہت اعلیٰ جناب ۔۔۔ "میں دوسروں سے زیادہ مستحق ہوں" 150
پرانا 24-07-10, 11:35 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

اس مسئلے میں ہر دو فریق احادیث پیش فرما رہے ہیں لیکن ایک فرق جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ دل میں"خواہش" ہونے اور عہدے کی"زبانی" طلب میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے دل میں خواہش تھی لیکن انہوں نے اس منصب کا منہ زبانی تقاضا نہیں‌کیا اور امت نے جس خلیفہ کو یعنی ابوبکر صدیق رضی ا للہ عنہ کو منتخب کیا ان پر بیعت کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ یہاں فرق ہو گیا محض دل میں "خواہش رکھنے" اور "تقاضا" کرنے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تقاضا ہی احادیث میں معیوب ٹھرایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی از خود خلافت کی صدا بلند نہیں کی بلکہ جب انہیں بظاہر یہ معلوم ہوا کہ کوفہ والے ان پر یہ ذمہ داری ڈالنا چاہتے ہیں تو تب انہوں نے سفر اختیار فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا ور یہ بھی روایات میں آتا ہے کہ غالبا عبد اللہ بن عباس ان کی سواری کے اگے لیٹ گئے تھے کہ وہ عراق نہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں مواقف میں اب کوئی تعارض اس طرح سے باقی نہیں رہ جاتا کہ ہم دل کی خواہش اور زبان سے تقاضے کے فرق کو سامنے رکھتے ہیں۔
مجھے یہی سمجھ ایا ہے لازمی نہیں ہے کہ ٹھیک بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-07-10), محمد عاصم (25-07-10), مرزا عامر (25-07-10), آبی ٹوکول (25-07-10), اویسی (06-08-10), بلال اویسی (25-07-10), حیدر (26-07-10), سحر (25-07-10)
پرانا 25-07-10, 10:12 AM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
، وأنا أحق من غير
بھائی میرے یہ دل کی خواہش نہیں‌ ہے یہ واضح‌طور پر ایک اعلان ہے۔ لکھے ہوئے پر کچھ توجہ فرمائیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (26-07-10), سحر (25-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 05:05 PM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,048
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,813 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
دونوں مواقف میں اب کوئی تعارض اس طرح سے باقی نہیں رہ جاتا کہ ہم دل کی خواہش اور زبان سے تقاضے کے فرق کو سامنے رکھتے ہیں۔
مجھے یہی سمجھ ایا ہے لازمی نہیں ہے کہ ٹھیک بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
اسلام علیکم عبداللہ بھائی دونوں مؤقفات میں پہلے بھی کوئی تعارض نہ تھا زبان سے دین اسلام میں کسی بھی عہدہ کا تقاضا کرنا کبھی برا نہیں رہا اور نہ ہی یہ کوئی اصول ہے کہ جو زبان سے تقاضا کرے اس کو یہ منصب نہیں دیا جاسکتا ۔ ۔
جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے انکا صحیح محمل سمجھنے کے لیے ہم سب کے لیے فقط عمل علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ ہی کافی ہونا چاہیے تھا مگر افسوس کہ ہم نے اپنی عقل و فہم کو عمل شیر خدا رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی اور ایک ایسی چیز کو دین کا مسلمہ اصول بنا ڈالا کہ جسکی متقدمین علماء میں سے شاید ہی کسی نے تصریح کی ہو ۔ ۔
مولانا مودودی نے جس طرح سے یہ باتیں اپنے رسالہ انتخابی جدو جہد میں لکھیں اور جس طرح سے صحابہ کرام کہ کردار باالخصوص خلیفہ برحق حضرت علی رضی اللہ عنہ کہ کردار کو مشکوک ٹھرایا یہ مولانا مودودی کا ہی خاصہ ہے کاش کہ مولانا اپنے فہم پر عمل علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو فوقیت دیتے مگر نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ ان کا قلم جب چلتا ہے تو پھر وہ کوئی چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا انکے قلم کی کاٹ سے تو انبیاء تک محفوظ نہیں رہے تو صحابہ کا تو درجہ ہ بہت بعد کا ہے ۔ ۔ ۔ خیر میں مولانا مودودی کا بڑا احترام کرتا ہوں ان کا بڑا کام ہے دین میں لیکن ان سے بہت سی جگہوں پر اختلاف بھی کرتا ہوں اور میری دانست میں پاکستان میں اس نام نہاد اصول کو انھوں نے ہی اپنے رسالہ انتخابی جدو جہد کی وساطت سے متعارف کروایا لیکن یہ نہیں کہ جب انھوں نے ایسا لکھا تو علماء حق نے ان کی خبر نہ لی بلکہ علامہ احمد سیعد کاظمی جو کہ شیخ الحدیث اور اپنے حلقہ فکر میں کلامی مسائل کہ امام مانے جاتے ہیں انھوں نے آئینہ مودودیت اور مکالمہ کاظمی و مودودی لکھ کر مودودی صاحب کی خوب خبر لی اور ان کے تمام اوہام باطلہ کا قلع قمع کیا تفصیل کے لیے دیکھیئے مقالات کاظمی حصہ دوم وغیرہ ۔۔۔
خیر بات بہت دور نکل گئی ۔۔۔۔ جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے وہ عام نہیں بلکہ خاص ہیں اور انکا محمل خاص ہے اور وہ ہے خواہش دنیا کی حرص کی بنا پر منصب پر حریص ہونا ۔۔ ۔ ۔رہ گئی وہ حدیث کہ جس میں دو افراد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہدہ مانگا تھا تو عرض یہ ہے کہ ان دونوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہدہ خلافت نہ مانگا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو کوئی یہ جراءت کر ہی نہیں سکتا لازمی تھا کہ انھوں نے عمال میں سے کسی عہدے کو طلب کیا تھا جیسے عمال زکواۃ یاپھر عہدہ قضاء وغیرہ لہزا ہوسکتا ہے کہ ان کے باب میں نگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی نیتوں کو بھانپ لیا ہو لہزا انکے حق میں یہ جانکر کہ یہ اس امر کے اہل نہیں ہیں تو اپنا مخصوص فیصلہ سنایا ہو ۔ ۔
رہ گئی خود کو پیش کرنے والی بات تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک فیصلہ کو جان کر بھی اس کی خلاف ورزی کریں لہذا یہی وجہ کہ ہم جب سقیقہ بنی سعد کے قضیہ پر غور کرتے ہیں اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو کہ انصار میں سے ہیں کہ عمل کو دیکھتے ہیں تو تب بھی یہ اصول ہمیں منہدم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انھوں نے یعنی سعد رضی اللہ عنہ نے خود کو اس امر کے لیے پیش کیا جب کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کہہ کر منع نہیں کیا کہ اے سعد اب چونکہ تم نے اس امر کا زبانی دعوٰی کردیا ہے لہذا تم اس کے مستحق نہیں بلکہ انھوں فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ یاد کرو اس امر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی تخصیص فرمائی ہے جس پر سعد رضی اللہ عنہ فورا پیچھے ہٹ گئے یہ ہے عمل صحابی کہ جب اس کے سامنے حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا جاتا ہے تو یاد آنے پر وہ فورا رجوع کرے ۔ ۔ ۔

اسی طرح اگر آپ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھما کہ طرز عمل پر غور فرمائیں تو تب بھی حق بات واضح ہوجائے گی جب ان دونوں صاحبان کے درمیان معاملہ برابری کی سطح پر آکر رک گیا اور حضرت عبدالرحمان بن عوف نے دونوں سے باری باری کسی ایک کے زیادہ حق دار ہونے کا پوچھا تو دونوں نے خاموشی اختیار کی۔ اور اپنی اپنی زبان خاموش سے اس امر کو حاصل کرنے کا عندیہ دے دیا وگرنہ چاہیے تھا کہ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک صاحب اس امر کی خواہش سے دست بردار ہوکر دوسرے کو با آسانی اس امر کے لیے موقع دے دیتے مگر ایسا نہ ہوا ۔ ۔خیر بات ہے سمجھ کی ۔ ۔ والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 25-07-10 at 05:34 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-07-10), کنعان (30-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 08:05 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ریاست چلانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ‌ خود عطا کرتے ہیں۔ کسی کی خواہش سے یا منہہ سے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھئے

2:247 وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُواْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا: بیشک اﷲ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرّر فرمایا ہے، تو کہنے لگے کہ اسے ہم پر حکمرانی کیسے مل گئی حالانکہ ہم اس سے حکومت (کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں اسے تو دولت کی فراوانی بھی نہیں دی گئی، (نبی نے) فرمایا: بیشک اﷲ نے اسے تم پر منتخب کر لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ کشادگی عطا فرما دی ہے، اور اﷲ اپنی سلطنت (کی امانت) جسے چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے

خواہش کرنا ، یا منہہ سے کہنا کوئی جرم نہیں ، یہ بھی مندرجہ بالاء آیت سے واضح ہے۔
اللہ تعالی ہی ایک گروہ کی مدد سے دوسرے گروہ کو ہٹاتے ہیں۔ جس کو چاہے ریاست کا سربراہ بناتے ہیں۔
2:251 فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ
پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (میں انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے

کسی کی ذاتی خواہش سے کچھ نہیں‌ہوتا، ریاست کا کاروبار چلانے کی ذمہ داری اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ اس کا واضح فرمان۔ اللہ لوگوں‌کے دلوں میں بہتر انسان کے لئے احساس جگا دیتا ہے یا مواقع پیدا کردیتا ہے۔
3:26 قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَـنْـزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(اے حبیب! یوں) عرض کیجئے: اے اﷲ، سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے

کاروبار ریاست چلانے کے لئے اپنی زبان سے خواہش کا اظہار کرنا اور اپنے آپ کو پیش کرنا ایک اچھا اور نیک کام ہے۔ کوئی غار میں چھپا بیٹھا ہو یا کام چور ہو اور ذمہ داری سے بھاگتا ہو تو اس کو اللہ تو کیا بندے بھی ذمہ داری نہیں دیتے۔ انسان کو اپنے آپ کا ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ قابل ہے۔ امین ہے اور اس کے پاس علم ہے۔ کہ وہ کاروبار ریاست چلا سکتا ہے ۔

12:55 قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَآئِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
یوسف نے کہا: مامور کردو مجھے ملک کے خزانوں پر، بے شک میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم بھی رکھتا ہُوں۔

قرآن حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت کی بنیاد ہے۔ اس کا ہر لفظ پر ایمان و عمل ‌مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس کی آیات کو سابقہ انبیاء کی شریعت کہہ کر رد نہیں‌کیا جاسکتا۔ اللہ تعالی نے یہ واقعات اسی لئے فراہم کئے ہیں کہ ہم کو پتہ چلے کہ اللہ تعالی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے۔ قرآن میں‌موجود اللہ تعالی کے فرمان کو آپ صرف قصص الانبیاء سمجھتے آئے اور کہانیوں کی طرح سمجھتے آئے آج وہی بیانات و واقعات مشعل راہ بنتے جارہے ہیں۔ آج تک کسی بھی شخص‌کو کوئی نوکری نہیں‌ملی ، جب تک کے اس نے اس کے لئے کوشش نہیں‌کی۔ علم نہیں‌حاصل کیا، تجربہ نہیں کمایا اور آگے بڑھ کر سامنے نہیں‌آیا کہ میں ہوں وہ جی دار جو تمہاری ریاست کا کاروبار چلانے کے قابل ہوں۔ جی؟؟؟

ایک مبارک و معزز نبی کا بیان جس سے ریاست کی ذمہ داری اللہ تعالی کی طرف سے ہونے کا اعلان:
12:101 رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کے علم سے نوازا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے! تو دنیا میں (بھی) میرا کارساز ہے اور آخرت میں (بھی)، مجھے حالتِ اسلام پر موت دینا اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا دے

17:95 لوگوں پر حکمران ان کی طرح‌کے ہی بنائے جاتے ہیں۔ انسانوں پر انسان اور فرشتوں پر فرشتہ :
قُل لَّوْ كَانَ فِي الأَرْضِ مَلَآئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولاً
فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے

اللہ تعالی اقتدار خواتین کو بھی عطا فرماتے ہیں۔ مردو یا عورت، دونوں حکومت کرنے کے برابر کے حق دار ہیں۔
27:23 إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
میں نے (وہاں) ایک ایسی عورت کو پایا ہے جو ان (یعنی ملکِ سبا کے باشندوں) پر حکومت کرتی ہے اور اسے (ملکیت و اقتدار میں) ہر ایک چیز بخشی گئی ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت ہے

جب اللہ تعالی حکومت کی ذمہ داری عطا فرماتے ہیں تو ساتھ ساتھ حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی عطا فرماتے ہیں۔
38:20 وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ
اور مستحکم کردی تھی ہم نے اس کی حکومت اور عطا کی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت۔

یقینی طور پر ایسا جب ہی ہوتا ہے جب ایک مرد مومن ، اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے۔ زبان سے اور دل حکمرانی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے بندوں کی خدمت کرتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ملاحظہ فرمائیے۔
38:34 وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
اور بلاشبہ آزمائش میں ڈالا ہم نے سلیمان کو بھی اور ڈال دیا اس کی کرسی پر ایک جسد پھر اس نے رجوع کیا۔
38:35 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے

یہ سابقہ نبیوں‌کی شریعت نہیں ۔ یہ اللہ تعالی کے وہ اٹل اصول ہیں جو قرآن حکم میں کائنات کے بزرگ ترین نبی اکرم صلعم پر نازل کئے گئے تاکہ یہ جناب( صلعم) کی شریعت بن جائیں۔

46:8 أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَى بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے


اللہ تعالی قرآن میں صراحت سے بیان فرماتے ہیں کہ انبیاء‌نے حکومت کرنے کے فرض‌کے لئے دعا کی اور اللہ تعالی نے ان کو اس آزمائش میں ڈالا۔ مزید یہ ہ حکومت صرف اور صرف اللہ تعالی کی مرضی سے عطا ہوتی ہے۔ اور ان کو ہی عطا ہوتی ہے جو اپنے آپ کو اس ذمہ داری کا اہل سمجھتے ہیں۔ اس کا اظہار زبان سے کرتے ہیں۔ دل میں‌ خواہش رکھتے ہیں۔ فرشتوں‌پر فرشتہ اور انسانوں پر انسان حکمراں مقرر کئے جاتے ہیں۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 25-07-10 at 08:26 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-07-10), کنعان (30-07-10), مرزا عامر (25-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 25-07-10, 08:23 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اسی طرح اگر آپ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھما کہ طرز عمل پر غور فرمائیں تو تب بھی حق بات واضح ہوجائے گی جب ان دونوں صاحبان کے درمیان معاملہ برابری کی سطح پر آکر رک گیا اور حضرت عبدالرحمان بن عوف نے دونوں سے باری باری کسی ایک کے زیادہ حق دار ہونے کا پوچھا تو دونوں نے خاموشی اختیار کی۔ اور اپنی اپنی زبان خاموش سے اس امر کو حاصل کرنے کا عندیہ دے دیا وگرنہ چاہیے تھا کہ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک صاحب اس امر کی خواہش سے دست بردار ہوکر دوسرے کو با آسانی اس امر کے لیے موقع دے دیتے مگر ایسا نہ ہوا ۔ ۔خیر بات ہے سمجھ کی ۔ ۔
عابد سلام،
بہت شکریہ اس اہم نکتہ کو اجاگر کرنے کا۔

آپ نے خلیفہ کے انتخاب سے پہلے کی بہت اچھی طرح وضاحت فرمائی ہے۔

ایک مزید اہم نکتہ نیابت و خلافت کے لئے حضرت ابوبکر صدیق کے منتخب ہوجانے کے بعد کا بھی ہے کہ حضرت علی نے اس فیصہ کو قبول کیا نہ کے تلوار سوت کر کھڑے ہوگئے۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-07-10), مرزا عامر (26-07-10), آبی ٹوکول (25-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ آدم (26-07-10)
پرانا 26-07-10, 12:16 AM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حکومت کی حرص
جمہوریت کا ایک اور اُصول حکومت کی حرص میں مبتلا ہونا ہے کیونکہ اس کے بغیر جمہوریت کی چکی چل ہی نہیں سکتی، حکومت کے حریص ایک دوسرے کے مقابل میدان میں اُتریں گے تب ہی لوگ اکثریتی فیصلے سے کسی ایک کو منتخب کریں گے۔ حکومت کی حرص میں مبتلا ہونے والے عام طور پرجذبہ ِ خدمت کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں اس کے برعکس اسلام میں ’’کسی کی طرف سے حکومت مانگنا اور اس کی حرص کرنا حرام ہے اورجس میں یہ چیز موجودہوتویہ حکومت کے لئے اُس کی نا اہلیت قرار پاتی ہے جیسا کہ نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ
يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنَا عَلَی بَعْضِ مَا وَلَّاکَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَی هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ
ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ساتھ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک بولا اے اللہ کے رسول ﷺہمیں کسی ملک کی حکومت دے دیجئے ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دئیے ہیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔
(مسلم:کتاب الامارۃ۔)
اس حدیث میں عہدہ امارت طلب کیا گیا ہے نہ کہ قاضی کا عہدہ، یعنی انہوں نے کہا کہ جو علاقے اللہ نے آپ کو عطاء کیے ہیں ان میں سے کسی کی حکومت:::گورنر:::ہم کو بھی دیں تو اس کے جواب میں آپ علیہ السلام نے یہ حکم لگایا کہ :::اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے:::
اس کی ممانعت میں اور بھی احادیث ہیں ان کا مطالعہ کرنے سے اصل حقیقت سامنے آئے گی ان شاءاللہ۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَکْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص اس (خلافت)میں مبتلا کردیاجائے۔۔۔۔۔الخ
صحیح مسلم:جلد سوم:کتاب:فضائل الصحابۃؓ :بہترین لوگوں کے بیان میں

کلمہ پڑھنے والے کے لئے مانگنے کی بنا پر ملنے والی حکومت دنیا میں بھی اللہ کی مدد سے محروم رہتی ہے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنتی ہے۔
جیسا کہ نبی ﷺ کے ا رشادات ہیں کہ!
لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُّ کِلْتَ اَلِیْھَا وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلِیْھَا
حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔
مسلم : کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ
اِنَّکُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَسَتَکُوْنَ نِِدَامَۃً یَوْمَ الْقیَامَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ
عنقریب تم حکومت کی خواہش کرو گے اور وہ قیامت کے دن باعثِ ندامت ہوگی پس وہ اچھی دودھ پلانے والی ہے اور بری دودھ چھڑانے والی ہے۔
بخاری: کتاب الاحکام۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
ان احادیث کے ہوتے ہوئے پتہ نہیں کس دلیل کی رو سے اس کو طلب کرنا جائز کہا جارہا ہے جبکہ نبی علیہ السلام کا اس پر واضح احکامات موجود ہیں۔
اس پر جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات نوٹ کیے گیے ہیں ان پر میں بعد میں بات کرنگا ان شاءاللہ

طلبِ حکومت کے گناہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے لوگوں کی نظر میں بڑا ثابت ہونا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنی پارسائی اور خدمات کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جائے جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
فَلَا تُزَکُّوْآ اَنْفُسَکُمْ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی
اپنی پارسائی کے دعوے مت کیا کرو، وہی جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔
۵۳: النجم۔آیت :۳۲
پھر پارسائی اور خدمات ،ڈھنڈورے کے ذریعے جب لوگوں کے دکھاوے (ریاکاری) کی بھینٹ چڑھتی ہیں تو دین میں شرک ِ ا صغرقرار پاتی ہیں جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّ اَخَوِّفُ مَا اَخَافُ عَلَیکُمُ الشِّرْکُ الْا َ صْغَرُ قَالُوْا وَمَاالشِّرْکُ
الْا َ صْغَرُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الرِّیَآءُ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ لَھُمْ یَوْمَ
الْقیَامَۃِ اِذَا جُزِیَ النَّاسُ بِاَعْمَالِھِمْ اِذْھَبُوْا اِلَی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ
تُرَاءُ وْنَ فِی الدُّنْیَا فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَاءً

مجھے تمہارے اوپر اصل خوف شرک اصغر کا خوف ہے ، پوچھا کہ اے اللہ کے رسول شرک ِاصغر کیا ہے ؟ فرمایا ’’ریا‘‘ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دینے لگے گا تو ان(ریا کرنے والوں) سے کہے گا جاؤ اُن کے پاس کہ جن کے لئے تم دنیا میں ریا کیا کرتے تھے اور دیکھو کہ اُن سے تم کوئی جزا پا سکتے ہو؟
احمد: باقی مسندالانصار۔ محمود بن لبیدرضی اللہ عنہ
پاکستان میں جو جمہوریت رائج ہے جس کو اسلامی جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے اس میں آپ یہ سب کباحتیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح حکومت کے حریص ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بہت متقی اور عوام کا خدمت گار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ سب کام ہیں جو کہ اسلام میں منع کیے گئے ہیں کہ کسی کے منہ پر اس کی تعریف سے منع کیا گیا ہے اور دوسرے کی برُائی بیان کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے تو اس جمہوریت کا اصول ہے کہ خود سامنے بیٹھ کر اپنے زر خرید چمچوں سے اپنی تعریفیں کرواتے ہیں اور اپنے مخالف کی جتنی بھی ہوسکتا ہے برُائی کرواتے ہیں یہ برُائی بھی اسی منحوس جمہوریت کی ہی پیدا کی گئی ہوئی ہے جسے سرعام کیا جاتا ہے اور اسلام کے اصولوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ جس نظام باطل کو بار بار اسلامی کہا جارہا ہے ابھی تک اس کو اسلامی بنانے کے لیے کسی بھی بھائی نے نہ تو قرآن سے کوئی واضح نص پیش کی ہے اور نہ ہی نبی علیہ السلام کے ارشاد میں سے کوئی واضح نص پیش کی ہے لیکن اپنی سوئی وہی اڑائی ہوئی ہے کہ نہیں جی یہی تو اسلام کا نظام ہے۔
ہاں آبی بھائی نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ
اقتباس:
:::ہماری رائے جمہوریت اور خلافت کے باب میں یہ ہے کہ بلاشبہ دین میں سیاسی امر کے بطور سب سے بہترین صورت خلافت کی ہے اور اس کا کوئی دوسرا مقابل نہیں نہ آمریت اور نہ ہی جمہوریت ۔ اور یہ کہ خلافت ایک آئیڈیل نظام ہے مگر آج کہ دور میں کوئی بھی اسکے نفاذ کی کوئی بھی عملی صورت پیش کرنے سے قاصر ہے:::
ماشاءاللہ اتنا اچھا بیان دے کر بعد میں اس سے منکر بھی جاتے ہیں، جب یہ مان لیا کہ:::بلاشبہ دین میں سیاسی امر کے بطور سب سے بہترین صورت خلافت کی ہے اور اس کا کوئی دوسرا مقابل نہیں نہ آمریت اور نہ ہی جمہوریت::: تو بعد میں پھر اس بات کے خلاف کیوں بھائی آپ لکھ دیتے ہو؟؟؟
اگر خلافت کو قائم کرنا مشکل ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھر اس کے متبادل میں ہم کفار کا نظام اپنا لیں کیا اس کی دلیل ہے آبی بھائی آپ کے پاس؟؟
دیکھیں ایک نظام ہم کو اللہ نے دیا ہے اور ایک نظام کفار نے اس کے مقابلے پر بنایاہے اب ہم بطور ایک مسلم کس نظام کو لاگو کریں گے؟؟؟اس بات سے قطعہ نظر کہ اسلامی نظام نافذ کرنا مشکل ہے کہ آسان۔
اور ایک بات یاد رکھیں اگر ہم مان بھی لیں کہ چلو جی کچھ گنجائش نکل آتی ہے حکومت کو طلب کرنے کی تو بھی یہ جمہوریت کا نظام ہم لاگو نہیں کرسکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظام خالص کفار کا ایجاد کردہ ہے اور اس کے سبھی اصول اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
اسلام ہم کو درس دیتا ہے کہ اکثریت کی بات نہ مانو بلکہ اللہ کی مانو، اور جمہوریت کا باطل نظام کہتا ہے کہ نہیں اُس کی بات مانو جس طرف اکثریت ہووہ چاہے کفر کا ہی حکم کیوں نہ ہو اس کی ہی مانو، اس کی زندہ مثال مشرف کا بنایا ہوا وہ قانون ہے جس میں زنا بلرضا جائز قرار دیا گیا ہےاور شراب کو بھی جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ اور تف ہے ہماری عقلوں پر پھر بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں رائج جمہوریت یورپ کی جمہوریت سے بہت مختلف ہے وہ کفر ہے اور یہ اسلامی ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ ملک کا مالک اللہ ہے اور یہ باطل نظامِ جمہوریت کہتا ہے کہ نہیں ملک کے مالک عوام ہیں، عوام کوہی حق حاصل ہے کہ وہ جوچاہیں نظام اپنائیں۔
اسلام کہتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ اللہ کی ہی ذات ہے، یہ جمہوری نظام کہتا ہے کہ نہیں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
اسلام کہتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار صرف ایک اللہ کے پاس ہے، مگر یہ نظامِ جمہوریت کہتا ہے کہ نہیں قانون سازی کا اختیار اکثریت کے پاس ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ امارت طلب نہ کرو، مگر یہ باطل نظامِ جمہوریت کہتا ہے کہ نہیں امارت طلب ہی نہ کرو بلکہ اس کو دوسروں سے چھین لو بےایمانی کرکے کسی بھی طرح حکومت کو حاصل کرو اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے ہضم کرو۔
اسلام کہتا ہے کہ آپس میں متحد رہو ایک جماعت بن کر رہو، اور یہ باطل اور جاہلانہ نظامِ جمہوریت کہتا ہے کہ نہیں تم سب آپس میں گرو گرو، فرقے فرقے بن جاو، ایک دوسرے کے خلاف جماعت بندی کرو۔

الغرض اس نظامِ باطل کے سبھی اصول جن کے اوپر اس کی عمارت کھڑی ہے سب اسلام کے خلاف ہیں اور پھر بھی لوگ اس نظامِ باطل کو اسلامی کہتے ہیں اور ابھی تک بغیر دلیل دیے، ان سب اصولوں کو اب کوئی بھی اسلام کے مطابق بناکر پیش کر دے تو ہم بھی اس نظام کو مان جائیں گے کہ واقعی یہ نظام اسلامی ہے لیکن کوئی بھائی اپنی عقلی دلیلیں نہ دینے بیٹھ جائے بلکہ دلیل ہو قرآن کی آیات سے اور نبی علیہ السلام کے ارشادات سے، تو ہی ہم اس کو مانیں گے ورنہ آپ لوگوں سے گزارش کروں گا کہ بھائیوں اللہ کے لیے ایسے اسلام شکن نظام کو اسلامی کم از کم نہ کہو کیونکہ اس طرح ہم بہت بڑی بات کہتے ہیں کہ جس پر اللہ کی پکڑ ہوسکتی ہے، اگر کسی کو یہ نظام پسند ہے تو وہ ایسا تو کہے کہ مجھے جمہوریت اچھا نظام لگتا ہے پر بھائی ایسا ظلم نہ کریں کہ اس باطل نظام کو اسلامی نظام کہہ کر۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-07-10, 12:39 AM   #12
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم۝
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ قرآن کو اپنی عقل سے سمجھیں گیں اس کے لیے نبی علیہ السلام نے جو تفسیر قرآن بیان کی تھی اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اور وہ اس کو صرف اس لیے نہیں مانتے کہ وہ ان کی عقل میں نہیں آتی کیونکہ یہ لوگ اسلام کو نظام حیات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ ہر ارشاد نبی علیہ السلام کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اگر ان کی عقل میں وہ بات آجائے تو ٹھیک ورنہ وہ ریجکٹ ہے، اور ان کا فہم ہے کہ انسان کوئی بھی نظامِ حیات اختیار کرسکتا ہے بےشک وہ نظام کسی کافر کا ہی بنایا ہوا ہو اور وہ نظام چاہے اپنے اندر جتنی مرضی جہالت اور کفر و شرک لیے ہوئے ہو۔
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم کو نئی نئی جہالتوں سے بچاکر دین کے اُس رستے پرچلا دے جس پر سب انبیاء کرام علیہما السلام اور ان کے اصحاب چلے اور وہ لوگ جو ان کے سچے جانشین ہوئے۔ آمین یا رب العالمین
فاروق صاحب نے کچھ آیات پیش کی تھیں جن میں انہوں نے ان آیات کو اپنی عقل کے مطابق مفہوم پہنانے کی کوشش کی تھی اب دیکھتیں ہیں کہ ان آیات میں واقعی وہی بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے پیش کیا ہے۔ فاروق صاحب نے پہلی یہ آیت اس مفہوم کے ساتھ پیش کی ہےکہ
اقتباس:
ریاست چلانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ‌ خود عطا کرتے ہیں۔ کسی کی خواہش سے یا منہ سے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھئے
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ۭ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۭ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۭ وَاللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ٢٤٧؁
اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا کہ دیکھو بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا ہے تمہارے لئے طالوت بادشاہ تو اس پر ان لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ہم پر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے جب کہ ہم ان کے مقابلے میں بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں اور ان کو تو مال کی فراخی بھی عطا نہیں فرمائی گئی ان کے پیغمبر نے ان لوگوں کے ان اعتراضات کے جواب میں فرماتا کہ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ نے اس کو تم پر چن لیا ہے اور دنیاوی مال و دولت کے بجائے ان کو اللہ نے علم اور جسم کی قوتوں میں فراخی اور فراوانی عطا فرمائی ہے اور اللہ اپنی بادشاہی جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی وسعت والا نہایت ہی علم والا ہے ۔
البقرہ:۲۴۷

اقتباس:
خواہش کرنا ، یا منہ سے کہنا کوئی جرم نہیں ، یہ بھی مندرجہ بالاء آیت سے واضح ہے۔

اب اس آیت میں بات واضح ہے کہ اللہ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جس کو اللہ نے امارت کا حق دیا ہے اُسی کو اس امارت کا حق دار مانا جائے جیسا کہ صحیح احادیث میں خلافت وامارت کا اہلِ قریش کو حقدار ٹھہرایا گیا ہے اس پر بےشمار احادیث پیش کی جاسکتی ہیں اس لیے ہمارا ایمان ہے کہ یہ حق انہی قریش کا ہی ہے اور دوسرا یہ کہ جنہوں نے اس امارت کو مانگا
ان کا بھی یہی دعوی تھا کہ اصل حقدار تو ہم ہیں تو یہ امارت ہم کو دی جائے جیسا کہ اس نظام جمہویرت میں سبھی یہی دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم کو ووٹ دو ہم اس حکومت کو چلانے کے زیادہ حقدار ہيں، مگر ان کے نبی نے فرمایا کہ :::حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ نے اس کو تم پر چن لیا ہے :::اس سے یہی ملا کہ اللہ جس کو چاہے اس امارت کی زمہ داری کے لیے چنے لوگوں کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ جی یہ تو اسلامی مساوات کے اصول کے خلاف ہے ۔
فاروق صاحب اگلی آیت پیش کرنے سے پہلے اس کا مفہوم پیش کرتے ہیں کہ

اقتباس:
اللہ تعالی ہی ایک گروہ کی مدد سے دوسرے گروہ کو ہٹاتے ہیں۔ جس کو چاہے ریاست کا سربراہ بناتے ہیں۔
فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ڐ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ٢٥١؁
چناچہ اللہ تعالٰی کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شگست دے دی اور ( داؤد علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالٰی نے داؤد علیہ السلام کو مملکت و حکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالٰی بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالٰی دنیا والوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے۔
البقرہ:۲۵۱

اس آیت میں آپ کا دعوی کہیں ثابت ہوتا نظر تو نہیں آرہا، اس میں ہم کو یہ خوشخبری نظر آرہی ہے کہ یہ جو ظلم کی کالی رات ہرطرف چھائی ہوئی ہے کہ کہیں بھی اللہ کے نازل کردہ نظامِ حیات نافذ نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ ،سرمایہ دارانہ نظام، سیکولرازم کانظام، لبرل ازم کا نظام اور جمہوریت کا باطل نظام قائم ہے۔ یہ اب جلد ہی اللہ کے حکم سے ختم ہونے والی ہے ان شاءاللہ۔
آگے فاروق صاحب آیت پیش کرنے سے پہلے اس کا مفہوم پیش کر رہے ہیں کہ
اقتباس:
کسی کی ذاتی خواہش سے کچھ نہیں‌ہوتا، ریاست کا کاروبار چلانے کی ذمہ داری اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ اس کا واضح فرمان۔ اللہ لوگوں‌کے دلوں میں بہتر انسان کے لئے احساس جگا دیتا ہے یا مواقع پیدا کردیتا ہے۔
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26؀
آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے تو جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔
اس کا صحیح مفہوم یہی بنتا ہے کہ اللہ ہر حکم اور فیصلے کا مالک ہے وہ جس کو چاہے عزت دے کر خلافت کے لیے چن لے اور جس کو چاہے اس سے محروم کر اور اس کے بارے میں اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو ہی آگاہی دینی تھی کہ کون اس امارت کا صحیح اور قابل حقدار ہیں تو نبی علیہ السلام نے اس کو اپنی امت پر پیش کردیا کہ خلافت قریش کا حق ہے اس کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں جو کہ بدرالزمان بھائی نے پیش بھی کی ہین بہرحال ایک مسلم کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ وجہ جانے بغیر کہ اس حکم میں اللہ اور رسول کی کیا حکمت ہے پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم دین جس کو سمجھتے ہیں وہ اللہ اور رسول کی تعلیمات پر ہی مبنی ہے اگر اس کے ایک حصہ پر ایمان اور ایک کا انکار کردیں تو انسان کا دین اسلام مکمل ہی نہیں ہوسکتا، اور اب کچھ لوگ ایسے پیدا ہوگئے ہیں جو نبی کی بات کو اللہ کی بات سے علیحدہ کر رہے ہیں صرف اس لیے کہ ان کی ناقص عقل اس بات کو قبول نہیں کرنے دے رہی اور وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کا صحیح اور اکمل فہم صرف انہی کے پاس ہے اور وہ ساری اُمت کو جاہل سمجھتے ہیں جو نبی علیہ السلام کے فہمِ دین کو قبول کرتے ہیں اور ویسا ہی ایمان لاتے ہیں جیسا کہ نبی علیہ السلام اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم ایمان لائے تھے۔
اس آیت میں بات واضح ہے کہ اللہ کی مرضی کہ جس قوم کو چاہے فصیلت سے نوازے آپ لوگ کون ہو کہ اس پر اعتراض کریں۔
اس کے بعد فاروق صاحب کی پیش کی گئی آیت کا مفہوم
اقتباس:
کاروبار ریاست چلانے کے لئے اپنی زبان سے خواہش کا اظہار کرنا اور اپنے آپ کو پیش کرنا ایک اچھا اور نیک کام ہے۔ کوئی غار میں چھپا بیٹھا ہو یا کام چور ہو اور ذمہ داری سے بھاگتا ہو تو اس کو اللہ تو کیا بندے بھی ذمہ داری نہیں دیتے۔ انسان کو اپنے آپ کا ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ قابل ہے۔ امین ہے اور اس کے پاس علم ہے۔ کہ وہ کاروبار ریاست چلا سکتا ہے ۔
قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ 55؀
(یوسف) نے کہا آپ مجھے ملک کے خزانوں پر معمور کر دیجئے میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔یوسف:۵۵

یوسف علیہ السلام کی بات سے اس کی دلیل نہیں پکڑی جاسکتی ان کی شریعت کے سب اصول ہماری شریعت میں نہیں ہیں اب اس کے بارے میں ہم کو جو حکم نبی محمد علیہ السلام دیں گے ویسا ہی عمل کیا جائے گا اور ہمارے سامنے نبی علیہ السلام کا واضح حکم موجود ہے الحمدللہ اور وہ یہ ہے کہ
::: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم ہم اس کام:: امارت:: پر اس کو مامور نہیں کرتے جو اس کا سوال کرتا ہو یا اس کی حرص کرتا ہو::: اب اس واضح حکم کے ہوتے پہلی شریعت پر عمل کرنا جہالت تو ہوسکتی ہے پر حق نہیں، ہاں جو شریعت ہم کودی گئی اگر اس میں اس بارے خاموشی ہوتی تو پھر اس بات پر عمل کیا جاسکتا تھا۔ لہذا آپ کا یوسف علیہ السلام کی یہ بات پیش کرنا کہ اس پر عمل کیا جائے،کسی طور بھی اس اُمت پر نافذ العمل نہیں ہے۔
فاروق صاحب آپ نے مزید اس پر تبصرہ کیا ہے کہ

اقتباس:
قرآن حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت کی بنیاد ہے۔ اس کا ہر لفظ پر ایمان و عمل ‌مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس کی آیات کو سابقہ انبیاء کی شریعت کہہ کر رد نہیں‌کیا جاسکتا۔ اللہ تعالی نے یہ واقعات اسی لئے فراہم کئے ہیں کہ ہم کو پتہ چلے کہ اللہ تعالی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے۔ قرآن میں‌موجود اللہ تعالی کے فرمان کو آپ صرف قصص الانبیاء سمجھتے آئے اور کہانیوں کی طرح سمجھتے آئے آج وہی بیانات و واقعات مشعل راہ بنتے جارہے ہیں۔ آج تک کسی بھی شخص‌کو کوئی نوکری نہیں‌ملی ، جب تک کے اس نے اس کے لئے کوشش نہیں‌کی۔ علم نہیں‌حاصل کیا، تجربہ نہیں کمایا اور آگے بڑھ کر سامنے نہیں‌آیا کہ میں ہوں وہ جی دار جو تمہاری ریاست کا کاروبار چلانے کے قابل ہوں۔ جی؟؟؟
فاروق صاحب میں نے پہلے بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پہلی شریعتوں کے سبھی احکامات اس شریعت میں جو نبی محمد علیہ السلام پر نازل ہوئی ہے پر لاگو نہیں ہوتے اگر ایسا مان لیا جائے تو ہم پر بہت سی چیزیں حرام ہو جائیں گی مثلا
وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ١٤٦؁
اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کر دی تھیں مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا ہڈی سے ملی ہو ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقیناً سچے ہیں ۔
الانعام:۱۴۶

اب آپ کا فہم کہتا ہے کہ
:::اس کا ہر لفظ پر ایمان و عمل ‌مسلمانوں پر فرض ہے:::اب آپ پر لازم ہے کہ یہود پر حرام کی گئی چیزیں نہ کھائیں کیونکہ آپ سابقہ انبیاء کی شریعتوں پر عمل کرنا لازمی قرار دے رہے ہیں ،جبکہ ایسا کسی بھی اہلِ علم نے یہ مفہوم نہیں لیا ہے ۔ اور الحمدللہ ہم قرآن کو اللہ کا کلام اور اللہ کی طرف سے رہنمائی اور نصیحت سمجھ کر پڑھتے ہیں کہ اس میں ہم اہلِ ایمان کے لیے نور و رہنمائی ہے اور زندگی گزارنے کو پورا طریقہ ہے،قرآن صرف پڑھنے پڑھانے کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی تعویزسازی کے لیے ہے بلکہ یہ کتاب ہم کو زندگی گزارنے کا پورا نظام دیتی ہےکہ جس میں صرف حاکمیت ایک اللہ کے لیے ہے کہ اسی کے دیے ہوئے قوانین کو نافذ کیا جائے اور لوگوں کے باطل اور ناقص قوانین کو ختم کردیا جائے۔
اور آپ کہتے ہو کہ وہ بندہ یہ علان کرے کہ
::: میں ہوں وہ جی دار جو تمہاری ریاست کا کاروبار چلانے کے قابل ہوں:::یہی تو جمہوریت کا باطل اصول ہے کہ دوسروں کو کمتر سمجھو اور اپنے آپ کو بہترین اور اسی لیے جمہوریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے خود اپنی تعریفیں کرتے ملتے ہیں اور اپنے چمچوں کے ذریعے بھی کرواتے ہیں کہ ہمارے گن گاو،ہماری تعریفوں کے پل باھندو کہ لوگ باتوں میں آکر ہمارے گلے میں حکومت کا ہار ڈال دیں،اس سے وہ عوام کو تو دھوکہ دےسکتے ہیں کیا اس سے اللہ کو دھوکہ دے پائیں گے؟؟؟

افسوس کہ آج انہی جی داروں نے پوری قوم کو بےوقوف بنایا ہوا ہے اور ان کے چیلے چمچوں نے عوام کو گمراہ کرنے میں ان جی داروں کا خوب ساتھ دیا ہے اور پاکستان کو کنگال کردیا ہوا ہے یہود اور نصاری سے قرضے لے لے کر اس ملک کا چپہ چپہ کافروں کے ہاتھوں بھیچ دیا ہوا ہے اور آپ ہو کہ پھر بھی انہی جی داروں کو ریاست کی حکومت دینے کی باتیں کررہے ہو۔
آگے جاکر آپ ایک آیت کا فہم پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
اقتباس:
اللہ تعالی اقتدار خواتین کو بھی عطا فرماتے ہیں۔ مردو یا عورت، دونوں حکومت کرنے کے برابر کے حق دار ہیں۔
اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ 23؁
میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا بڑا تخت ہے۔ النمل:۲۳
اب اگر کوئی اپنی عقل سے اس آیت کا مطلب لے گا تو وہ ایسا ہی لے گا جیسا کہ لیا گیا ہے مگر ہم سنت سے اس کا مطلب لیں گے تو وہاں اس کے خلاف فہم ہوگا یہیں سے آپ لوگ نفس پرستی کا اندازہ لگاسکتے ہیں، اللہ نے قرآن مجید میں بےشمار دفعہ یہ حکم دیاہے کہ اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی، مگر جن کے دل میں روگ ہے وہ اس کو نہیں مانتے اور اللہ کی اطاعت
::قرآن:: کو تو مانتے ہیں مگر نبی علیہ السلام کی اطاعت::حدیث:: کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ انہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں کہ

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ
اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا ١٥٠؀ۙ

جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ نکالیں۔

النساء:۱۵۰
اس آیت میں واضح ہے کہ ہم اطاعت میں اللہ اور رسول ميں فرق نہیں کرسکتے اور جو فرق کرتے ہیں اطاعت کے حوالے سے کہ ہم اللہ کی تو بات کو لیں گے مگر نبی کی بات کو نہیں کیونکہ پتا نہیں وہ ان کی بات ہے بھی کہ نہیں اور جب کہ یہ قرآن بھی تو انہی نبی کے منہ سے نکلا ہوا کلام ہے تو کیا وجہ کہ یہ لوگ اس بات کو تو مان لیتے ہیں جس کے ساتھ ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس بات کا انکار کردیتے ہیں جو کہ نبی علیہ السلام کا کلام ہے۔ اللہ ہم سب کو ایسے باطل اور نفس پرستی کے عقیدے سے بچائے اور ہم کو ان گمراہ لوگوں میں سے نہ کرئے جو اللہ اور نبی علیہ السلام کی اطاعت میں فرق کرنے والے ہیں۔ آمین یارب العالمین
اب میں ایک فرمانِ رسول علیہ السلام پیش کرتا ہوں

محمد بن مثنی، خالد بن حارث، حمید، حسن، ابوبکرة سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ کو ایک بات سے محفوظ رکھا جو کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی (وہ بات یہ ہے کہ ایران کا بادشاہ) کسری مر گیا تو آپ نے فرمایا اب اس کی جگہ کس کو مقرر کیا گیا؟ لوگوں نے عرض کیا اس کی لڑکی کو۔ آپ نے فرمایا وہ قوم کبھی فلاح یاب نہ ہوگی جو کہ اپنی حکومت عورت کے اختیار میں دے دے (یعنی عورت کو حاکم بنائے)۔
سنن نسائی:جلد سوم:باب:
خواتین کو حاکم بنانے کی ممانعت سے متعلق

اب اس فرمانِ رسول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھیں تو بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ پیش کیا گیا فہم غلط اور ناقص ہے کہ:::اللہ تعالی اقتدار خواتین کو بھی عطا فرماتے ہیں۔ مردو یا عورت، دونوں حکومت کرنے کے برابر کے حق دار ہیں::: اب اس فہم کو دیکھیں اور نبی کے ارشاد کو دیکھیں فیصلہ اہلِ عقل خود کرلیں اور آپ لوگ دیکھیں کہ آیت میں کسی مسلم عورت کا ذکر بھی نہیں ہورہا کہ جس سے دلیل پکڑی جائے کہ دیکھیں جی وہ بھی تو مسلم عورت نے حکمرانی کی تھی تو آج یہ حرام کیوں ہے اور جب کہ ایسا بھی نہیں ہے آیت میں کافر عورت کا ذکر ہے کہ جس سے استدلال کرنا بلکل ہی باطل ہے۔
آگے آپ لکھتے ہیں کہ

اقتباس:
جب اللہ تعالی حکومت کی ذمہ داری عطا فرماتے ہیں تو ساتھ ساتھ حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی عطا فرماتے ہیں۔
وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ 20؀
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکومت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا۔
ص:۲۰

آپ کے اس فہم کی تعید حدیث سے ہوتی ہے جیسا کہ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ
حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔
مسلم : کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ
اس حدیث میں یہی ہے کہ اگر بلا مانگے حکومت ملی تو اس ميں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوگی یعنی امورِ سلطنت کو چلانے کی تدبیر اللہ عطاء فرمائیں گے جیسا کہ اوپر آیت میں
داؤدعلیہ السلام کی مدد کا ذکر ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ ویسی ہی مدد کی جائے گی جیسی داؤدعلیہ السلام کی گئی تھی۔
آگے جناب ایک آیت کا مفہوم لکھتے ہیں کہ

اقتباس:
یقینی طور پر ایسا جب ہی ہوتا ہے جب ایک مرد مومن ، اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے۔ زبان سے اور دل حکمرانی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے بندوں کی خدمت کرتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ملاحظہ فرمائیے۔
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَاَلْقَيْنَا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ 34؀
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا۔
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 35؀
کہا اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے لائق نہ ہو تو بڑا ہی دینے والا ہے۔
ص:۳۴۔۳۵
پھر بعد میں مزید اس طرح لکھتے ہیں کہ
اقتباس:
یہ سابقہ نبیوں‌کی شریعت نہیں ۔ یہ اللہ تعالی کے وہ اٹل اصول ہیں جو قرآن حکم میں کائنات کے بزرگ ترین نبی اکرم علیہ السلام پر نازل کئے گئے تاکہ یہ جناب( علیہ السلام) کی شریعت بن جائیں۔
اس بارے میں مَیں پہلے اپنا موقف پیش کرآیا ہوں کہ سابقہ امتوں کی شریعت میں اور ہماری شریعتِ محمدی علیہ السلام میں بہت فرق ہے جس کی وضاحت اوپر گزر گئی ہے، اگر آپ پھر بھی اسی بات پر جمے ہوئے ہیں تو بھائی سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا جب کی تھی تو وہ اس وقت بھی خلیفہ ہی تھے نہ کہ خلافت ان کو بعد میں دی گئی اس دعا میں یہ ذکر فرمایا کہ ایسا عظیم ملک مجھے عطاء فرما کہ جو اور کسی کو عطاء نہ ہو اور اللہ نے آپ کہ ایسی ہی سلطنت دی بھی آپ کی حکومت جن و انس پر قائم ہوئی جو آج تک صرف آپ کا ہی خاصہ ہے۔
اگر پھر بھی آپ کہیں کہ نہیں جی
:::یہ اللہ تعالی کے وہ اٹل اصول ہیں جو قرآن حکم میں کائنات کے بزرگ ترین نبی اکرم علیہ السلام پر نازل کئے گئے تاکہ یہ جناب( علیہ السلام) کی شریعت بن جائیں:::اگر ایسا ہی لینا ہے تو صرف اس ایک بات کو کیوں لیں پھر سلیمان علیہ السلام کی سبھی شریعت لینی ہوگی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے ۱۰۰ شادیاں کی تھیں اور یہ ان کی شریعت کا خاصہ تھا اب اس بات پر آپ کیوں عمل نہیں کررہے؟؟؟تو کای کسی بھی اہلِ علم نے اس کو جائز کہا ہے؟؟؟
اور ناخن::کھر:: والے جانور کا گوشت آپ کیوں کھاتے ہیں؟؟؟ حلال جانوروں کی چربی کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟؟؟ بھائی جان اس اصول کو لیں گے تو پتا نہیں کیا کیا چیزیں حلال اور حرام ہو جائیں گیں۔ پہلے نبیوں کے حالات و واقعات ہمارے لیے نصیحت تو ہیں مگر لازم نہیں کہ ان شریعتوں کے سبھی احکامات ہماری شریعت میں باقی ہوں۔ ان میں کچھ باتیں اور احکامات اللہ نے باقی رکھے ہیں اور کچھ تبدیل کیے ہیں۔


Last edited by محمد عاصم; 26-07-10 at 10:17 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-07-10, 05:12 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ایسی حکومت بنانے والے افراد کون سے قرآن اور کون سی روایات سے اصول و قوانین بنائیں گے؟ اگر ان کی روایات قرآن حکیم کی مخالفت سے بھری پڑی ہیں تو پھر کونسا اصول قابل قبول ہوگا۔

اگر کوئی حکومت چاہنے والا ہی نہیں تو حکومت کون کرے گا۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (30-07-10)
پرانا 26-07-10, 05:31 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
فاروق سرور بھائی آپ نے جو آیات کو اپنی عقل کے نئے نئے مفہوم پہنائے ہیں ان پر پرسوں جواب دونگا ۔ان شاءاللہ۔
کل شہر سے باہر جانا ہے
بھائی معانی مترجمین کے ہیں اور سوالات ہم سب کے۔ بغور دیکھئے کہ کیا یہ آیات کیا پیغام دیتی ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا پاک ہو کر پڑھئیے۔ کچھ لوگ صرف ہاتھ دھو کر اس کتاب کو پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے ساتھ ساتھ، دل و دماغ‌ بھی پاک کرکے اس کتاب کو پڑھتے ہیں۔ کیا درست ہے؟ فیصلہ ہر شخص کا اپنا اپنا۔ ۔۔۔ تو بحث کیسی؟

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (30-07-10)
پرانا 26-07-10, 02:45 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اس معاملے میں آبی ٹو کول کے موقف کی حمایت کروں گا کہ ہم لوگ مطلقاً ہی مخالف ہو جایا کرتے ہیں۔ اگر تو ہم عاصم مٹھو بھائی کی پیش کردہ احادیث اور میری ایک اور ٹاپک میں پیش کردہ احادیث کو دیکھیں تو پھر تو کسی بھی درد مند دل کو اصلاح کے لیے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہیے۔
نبی کریم کے اقوال کی اگر انہی تشریحات کو مد نظر رکھا جائے تو آج کے معاشرے میں اگر کوئی شخص تبدیلی لانا چاہتا ہے تو پھر تو اسلامی نظام ہم کو اسی اجازت ہی نہیں دے گا۔ یعنی ایک مغربی سکالر (نام بھول رہا ہے) کا الزام درست ہے کہ اگر اسلامی نظام میں بگاڑ آ جائے تو پھر اسکو سیدھے راستے پر لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ کیوں کر؟؟
احادیث سے ہم اخذ کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جو خلافت (یا عرف عام میں اسلامی تبدیلی) کا خواہش مند ہو اسکو ہر گز نہ دو۔ اسی طرح دیگر احادیث میں جو شخص ان کو قبول کرتا ہے اسکو خوف دلایا جاتا ہے (میں نے ہی پیش کی تھیں وہ احادیث) کہ فتنوں میں پڑ جاؤ گے، گردن میں طوق ڈالا جائے گا، روز قیامت حسرت کرو گے وغیرہ۔
اب ہوتا کیا ہے کوئی شخص کڑوا گھونٹ بھرتے ہوئے معاشرے میں اسلامی تبدیلی لانے کا بیڑا اٹھا بھی لیتا ہے کہ چلو میری آخرت ہی خراب ہو گی اپنے لاکھوں کروڑوں بہن بھائیوں کی آخرت کو بچانے کی کوشش تو کروں شاید اسی سبب میری مغفرت بھی ہو جائے۔ لیکن فوراً ہئ ہم اس پر امید وار خلافت کا دعویٰ لگا دیں گے"

چناچہ اس حساب سے تو تبدیلی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو گئی ہے۔ ہم نہ خود کو امیدوار کر سکتے ہیں ، نہ امیر کے خلاف کر سکتے ہیں، نہ خروج یعنی بغاوت کر سکتے ہیں تو بھائی میرے تبدیلی کہاں سے آئے گی۔

اس کا تو پھر سادہ سا حل ہے میرے پاس، خود کو اپنے کسی یار دوست بھائی رشتہ دار سے امیدوار قرار دلوا لو۔

آبی بھائی اگر ممکن ہو تو آپ مجھے سید مودودی کا آپکا متذکرہ رسالہ "انتخابی جدو جہد" الیکٹرنک شکل میں بھجوا دیجیے گا۔ میں مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔ انکا موقف بھی سمجھ کر دیکھوں کہ وہ کیا کہتے ہیں
ulzaman@msn.com
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (27-07-10), کنعان (30-07-10), عبداللہ آدم (27-07-10)
جواب

Tags
color, net, pak, red, url, کوئی, پیش, چل, اٹھ, الگ, اللہ, بحث, تھا؟, جمہوریت, حسین, حضرت, خود, خلافت, رضی, سوالات, سلام, سارے, ضمنی, طویل, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آسیہ بی بی کیس پر سلمان تاثیر کے موقف نے مذہبی حلقوں میں نفرت پیدا کی گلاب خان خبریں 2 08-01-11 03:15 AM
سندھ میں سیلاب کی پیش گوئی پاکستانی خبریں 14 02-08-10 09:55 PM
بولٹن مارکیٹ میں جلاؤ گھیراؤ،پولیس و رینجرز کہاں تھی، الطاف حسین محمدعمر خبریں 9 07-01-10 10:29 AM
ملتان میں سیکورٹی ریڈ الرٹ، اسٹیڈیم قلعے کا منظر پیش کررہا ہے خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 26-10-07 10:03 AM
سانحہ کراچی:صدر مشرف تحقیقات میں تعاون کی پیشکش قبول کریں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 25-10-07 09:07 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger