| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 258
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-04-10), sjk (16-04-10), فیصل ناصر (15-04-10), ھارون اعظم (15-04-10), نورالدین (05-05-10), ابو عبداللہ (14-02-11), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (15-04-10), عبداللہ حیدر (15-04-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوںکو ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے۔ دین کو مسجد تک محدود کر دینے کی سوچ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیںہے۔ یہ فکر اصل میں صلیبیوں نے پروان چڑھائی ہے کہ عبادت گاہ میں انسان اللہ کا بندہ اور باہر کی دنیا میں مرضی کا مالک ہے۔ موجودہ محرف و مبدل انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب اس قول کو وہ دین و دنیا کی تقسیم کی دلیل بناتے ہیں کہ "جو (حق) اللہ کا ہے وہ اللہ کو دو اور جو (حق) قیصر (بادشاہ)کا ہے وہ قیصر کو دو"۔ ہمارے پاس اس قول کی درستگی کی کوئی دلیل نہیںہے اور اگر یہ صحیح بھی ہو تو پرانی شریعتوں کے احکام اس امت پر لاگو نہیں ہوتے۔ اللہ کرے کہ قرآن و حدیث کی جو روشنی آپ نے مہیا کی ہے وہ غلط فہمیوں کے شکار بھائیوں کی تاریک خیالی کو حقیقی روشن خیالی میں بدل دے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-04-10), فیصل ناصر (15-04-10), ابو عبداللہ (14-02-11), ضِرار Derar (02-05-10), عادل سہیل (15-04-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ عادل بھائی
اللہ ہمیں ہر کام اسلام کے مطابق اور اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے بھتیجے کا کہنا انتہائی درست ہے کے ہم نے دین کو صرف عبادات کا منبع بنا کر رکھا ہوا ہے جب کے دین اصل میں معاملات کا طریقہ بیان کرتا ہے اللہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
:::::::::السلام علیکم
چچا جان یہ مواد بھی ملاحظہ فرمائیں۔سوچ اس میں یہ پیش کی گئی ہے کہ امور کی دو اقسام ہیں ایک وہ جن کو عبادت سمجھ کر کیا جاتا ہے اور دوسرے وہ جن کو عبادت نہیں سمجھا جاتا تو وہ بدعت کے زمرے نہیں آئیں گے مثلا علاقائی رسوم و رواجات وغیرہ۔اگر اسلام نے ان سے روکا نہیں ہے یا ان میں کفار س مشابہت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:::::::::: رسوم و رواج اور بدعات میں امتیاز متعدد مشائخ کی تحریرات اردو استفادہ: ایقاظ ڈیسک یوں تو یہ سوال نیا نہیں ہے، لیکن قوموں اور علاقوں کی بڑھتی ہوئی قربت، اور جغرافیائی فاصلوں کے تیزی کے ساتھ سمٹنے کے اِس عمل نے اِن سوالوں کی اہمیت بڑھا دی ہے کہ کسی قوم یا علاقے کے مقامی رسم و رواج، جنہیں وہ خدا کی قربت کا ذریعہ سمجھ کر نہیں کرتے، کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ رہن سہن میں بہت کچھ ایسا پایا جاتا ہے جو کسی قوم یا علاقے یا قبیلے کے ہاں نہ صرف چلتا ہے بلکہ وہ ایسی اشیاءیا معمولات یا رواجات کو اپنانے میں ایک خاص خاندانی، یا قبائلی یا یا علاقائی یا قومی اشتراک بھی محسوس کرتی ہیں۔ کیا شریعت نے، جو کہ (سابقہ شرائع کے برعکس) تمام انسانیت کیلئے آئی ہے اور ہردور کیلئے ہے، فرض ٹھہرا دیا ہے کہ ہر قوم اپنے علاقائی رہن سہن تک کو چھوڑ دے؟ کسی قوم کے رہن سہن، رسم و رواج اور عرف میں اگر کوئی چیز ایسی ہے جس کو شریعت نے ہی ممنوع ٹھہرا دیا ہو، پھر تو اُس کی ممانعت یقینا فرض ہے اور یہ بات تو کسی بھی بحث اور اختلاف آراءسے بالاتر ہے۔لیکن اگر شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو کسی قوم کے کلچر میں پائی جانے والی کسی بات کو ممنوع ٹھہراتی ہو، تو کیا وہاں پر بھی یہ کہا جائے گا کہ تم اپنے علاقی طور طریقوں اور رسوم و رواج کو چھوڑ دینے کے شرعاً پابند ہو، یا ”اسلامی تہذیب“ اِس سے وسیع تر ایک مفہوم رکھتی ہے؟ نئی اقوام کے ساتھ سب سے پہلے صحابہ کو واسطہ پڑا تھا، کیا انہوں نے وہاں کے ’کلچرز‘ کو بالکلیہ ختم کروایا تھا، یا ان کلچرز میں پائی جانی والی صرف ”خلاف شریعت“ اشیاءکو ختم کروایا تھا؟ لباس، زبان، طرز تعمیر، بالوں وغیرہ کی تراش خراش، بود و باش، میل جول کے آداب، خوشی غمی، شادی بیاہ وغیرہ ایسے امور میں دیگر اقوام کی اُن سب باتوں کو موقوف ٹھہرا دیا تھا ’جن کا ثبوت رسول اللہﷺ یا مدینہ کے معاشرہ‘ سے نہیں ملتا؟ یا لوگوں کو اُن معاملات میں جہاں شریعت نے واضح ممانعت نہیں کر رکھی، اپنے آبائی طور طریقوں پر چھوڑ دیا تھا کہ چاہیں تو ان کو اپنائیں اور چاہیں تو ان میں اپنی مرضی سے کوئی ترمیم کریں او رجس وقت چاہیں کسی دوسرے رواج سے اپنی مرضی کا کسب کریں؟ نئی اقوام پر ایسی کوئی پابندیاں صحابہ نے عائد کی ہوتیں تو صحابہ سے منقول ہی ہوتیں۔ یہ کوئی اکا دکا واقعہ تو نہیں، چند عرب خطوں کو چھوڑ کر پوری اسلامی دنیا ”نئی اقوام“ پر ہی مشتمل تھی اور ہماری خوش قسمتی کہ صحابہ کے زیر سرکردگی اسلام میں داخل کروائی گئی تھی، کہ اِس امت کو ”گلوبلائزیشن“ کے سٹینڈرڈز اصحابِ رسول اللہ ہی صادر کر کے جائیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ ہمارے آج کے بہت سے داعی اِس دورِ کمزوری میں اپنے سر وہ کام بھی لے رہے ہوں جو اصحابِ رسول اللہ ﷺ نے دورِ فتوحات میں اپنے ذمہ نہ لئے تھے؟! یہ داعی ان بہت سی اشیاءکو بھی ’خلافِ اسلام“ قرار دلوانے پر محنت کرتے ہوں جو ایک قوم کے ”رواج“ میں آتی ہیں، جبکہ شریعت نے ان کی ممانعت پر ہمیں کوئی نص فراہم نہ کر رکھی ہو۔ ایسا کر کے یہ داعی نہ صرف اپنا کام دشوار کریں گے، جبکہ شریعت نے انکو اس بات کا مامور ہی نہیں کیا، بلکہ یہ اِن اقوام کیلئے بھی ”دین کی طرف لوٹنے“ کے اِس عمل کو دشوار اور پیچیدہ کریں گے، جو کہ اندریں حالات اگر ”دین“ کے اساسی ترین تقاضوں کی ہی پابندی کر لیں تو ایک نہایت بڑی بات ہو گی۔ علاوہ ازیں، یہ دین صرف ان اقوام کیلئے تو نہیں جو ’صدیوں سے‘ مسلمان چلی آ رہی ہیں۔ ”اسلامی ایمپائر“ آج بھی اللہ کے فضل سے توسیع پزیر ہے۔ وہ اقوام جو تاریخی طور پر امت کا حصہ نہیں، اگر آج ”اسلام“ کی طرف متوجہ ہوتی ہیں تو کیا ان کو اپنے کلچر کے اُن حصوں سے بھی دستبردار ہونا ہوگا جو اسلامی شریعت سے متصادم نہیں؟ اور کیا ’تہذیبوں‘ کے ایسے کسی ’تصادم‘ پر ہم بھی یقین رکھتے ہیں؟ کیا ان کو اپنا رہن سہن اور طرز بود و باش ’پاکستانی‘ یا ’افغانی‘ یا ’عربی‘ یا ’ایرانی‘ یا ’تورانی‘ بنانا ہوگا؟ اپنے اپنے کلچر پر برقرار رہنے کی وہ ’اجازت‘ یا ’رخصت‘ جو قرونِ اولیٰ میں فارس، ہند، وسط ایشیا اور شمالی افریقہ کے ’نو مسلموں‘ کو رہی تھی، اور جو بعد ازاں مشرقی یورپ اور ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کے ’نو مسلموں‘ کو ملی رہی تھی، اور جس کی ’میعاد‘ امت میں کبھی ختم نہیں ٹھہرائی گئی تھی، کیا آج وسطی افریقہ، چین، یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ وغیرہ کے نو مسلموں کو اُس سے انکار کر دیا جائے گا؟ یا ”اسلامی تہذیب“ میں اِس بات کی پوری گنجائش ہے کہ دنیا بھر کے کلچر اپنے تمام تر تنوع کے ساتھ باہم مل کر اِسکی تشکیل کریں، جسکا طریقہ یہ ہو کہ یہ سب کلچر مل کر ایک وسیع تر معنیٰ میں آسمانی ہدایت کی پابندی کریں اور اُسکی بیان کردہ حدود و قیود کے فریم میں فٹ ہو کر دکھائیں اور یوں اِس معنیٰ میں بھی ایک ”امت“ نظر آئیں، البتہ کلیتاً اپنا وجود اور اپنا یہ رنگ برنگ تنوع ختم کر دینے کے مکلف نہ ہوں؟ اِس موضوع کی ایک جہت اور ہے۔ اور وہ یہ کہ کئی ایک داعیانِ دین لوگوں کو ان کے بعض رواجات اور معمولات سے اِس بنیاد پر بھی روکتے ہیں کہ ’یہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں‘ اور یوں ان رواجات کو ”بدعات“ سے ملتی جلتی ایک حیثیت میں لیتے ہیں اور اسی ”رد بدعت“ کے جذبہ کے تحت ہی معاشرے میں ان رواجات کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ رسوم یا رواج ’عادات‘ اور ’معاملات‘ ہی کے باب میں آتے ہیں جن کے کرنے والے ان کو خاص تقرب خداوندی کا ذریعہ سمجھ کر انجام نہیں دیتے، جبکہ ”بدعت“ کا گویا یہ ایک بنیادی ’رکن‘ ہے کہ ایک چیز جو شریعت میں نہیں آئی اُس کو قربِ خداوندی کے جذبہ کے تحت انجام دیا جائے یا اس کو ایک ’دینی عمل‘ یعنی ’تعبد‘ کے رنگ میں لیا جائے۔ اِس موضوع کو دیکھنے کیلئے پس اِس اصولی مسئلہ کو جاننا بھی ضروری ہو گا کہ ”بدعت“ اور ”رسم و رواج“ میں آیا کوئی اصولی فرق ہے یا یہ دونوں ایک سا حکم رکھتے ہیں؟ اِس آخر الذکر جہت پر یہاں ہم اہل علم کی چند تحریریں ملاحظہ کرنے جارہے ہیں۔ شیخ محمد بن الحسین الجزانی: مسلمان مبلغین و کارکنان اسلام کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ مقامی و علاقائی رسوم کے معاملے میں تحمل کا رویہ اختیار کریں اگرچہ وہ رواج ان (کی عمومی روایات )کے لئے اجنبی ہی ہوں۔چناچہ حلال رسوم و رواج اور بدعات کی تفریق کا علم ہوناان پر لازم ہوجاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم چند وضاحتیں پیش کریں گے جنکی روشنی میں اس تفریق کا طریقہ کار وضع ہو سکے گا۔ اسلامی قانون کا ایک عمومی اصول یہ ہے کہ ثقافتی اور عمومی رسوم جائز ہیں۔ اس اصول کے مطابق یہ اجازت تمام رواج کیلئے قائم رہے گی الا یہ کہ کوئی دوسری صورت درپیش ہوجائے۔اس دوسری صورت میں بھی کسی رسم کو گناہ یا ناجائز قرار دینے سے پہلے ثبوت دینا ہوگا۔اگر کچھ ثقافتی معمولات ایسی باتوں سے منسلک ہیں جو پہلے ہی سے اسلام میں گناہ قرار دیے جاچکے ہیں تو اس صورت میں وہ معمولات بجائے خودناجائزہونگے۔مثلا مردوں کا سونا اور ریشم پہننا یاایسے مروجہ دستور جو کسی حرام کی طرف راستہ پیدا کرتے ہوں۔۔۔البتہ ایسے کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں جو ایک چیز کو واضح طور پر حرام ٹھہراتا ہو،تمام رسوم ورواج کو جائز تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے یہ اصول ان تمام روایات کیلئے ہیں جو رسوم ِعبادات سے متعلق نہیں ہیں! عبادات سے متعلق معاملات البتہ اس کھلی اجازت کے حکم کے تحت نہیں آتے۔ بلکہ اس اصول کے عین بر عکس عبادات کیلئے مخصوص تمام اعمال ناجائز ہونگے الا یہ کہ قرآن وحدیث کی کسی نص سے ان کا جائز ہوناثابت ہوتا ہو۔ جو معاملات کھلی اجازت والے اصول کے دائرہ کار میں آتے ہیں ان میں گھر یلو بندوبست ،سواری کے انتظام،لباس کے انداز،خوراک و طعام،شادی بیاہ کے رسوم اورمعاہدوں سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ رِواج ا ور بدعات کے درمیان فرق کیسے معلوم ہو؟ بہت سے ایسے معمولات لوگ اس لئے انجام دیتے ہیں تاکہ اللہ عز و جل کی خوشنودی حاصل کرسکیں،تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مروجہ معمولات ناجائز بدعات کے زُمرے میں آتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عبادت کا وسیع تر مفہوم بطور ”اللہ کو خوش کرنے کے لئے اچھے اعمال کرنا “ اور عبادت کے مخصوص مراسِم و آدابِ پرستش کے مابین امتیاز کو ملحوظ رکھیں۔۔۔ عام معمولات عوام الناس کی عقلی توجیہات و تدبیرات کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں، انسانی فہم اور عادات جن کا اہم جزو ہوتے ہیں۔ان سب میں اچھے اعمال کرنے کے کل عام طریقے آجاتے ہیں۔جیسے صدقات دینے کیلئے جدید دور کی کرنسی استعمال کرنا یا بچت کی خاطر آس پڑوس کے احباب کو ایک ہی گاڑی میں( مسجد وغیرہ)لانے لے جانے کا انتظام کرنا، یہ سب بدعات نہ ہوں گی۔ دوسری طرف عبادات کیلئے مخصوص اعمال،جیسے نماز کی حرکات و سکنات، اوقاتِ ادائیگی ، تعدادِ رکعات،روزہ کونسے مہینے میں رکھا جائے،حج کے ارکان اور مقامِ حج وغیرہ محض انسانی عقل سے حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ان کے لئے صرف وحی سے ہی ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ چناچہ ہمارے سامنے مندرجہ ذیل لائحہ عمل واضح ہوجاتا ہے؛ 1۔ اگر کوئی روزمرہ کے کام اللہ سبحانہ و تعالی کی خوشنودی کی خاطر ادا کئے جائیں، تو یہ عبادت کے وسیع تر مفہوم کے تحت آئیں گے، مخصوص عبادت کی تعریف میں البتہ نہیں۔ یہ وہ اعمال ہیں جو اگر نیک اور خالص نیت سے (مستندطور کی)اچھائی کیلئے کئے جائیں تو ثواب بھی حاصل ہوگا۔اس میں ہر وہ عمل شامل ہوگا جس سے نیکی کرنے میں مدد ملتی ہو۔ 2۔ ایسی کوئی رسم جو مخصوص عبادات کے اعمال سے مشابہت رکھتی ہو، (ناجائزہوگی اور) بدعت کے درجے میں آئے گی!مثلابظاہر کسی جائز عبادت کیلئے ازخودایام مخصوص کردینایا مذہبی جشن (دو عیدوں کے علاوہ)اختراع کرنا۔ اس زمرے میں ایسے تمام اعمال آتے ہیں جن کا اسلامی رسوم کے قوانین سے بالواسطہ تعلق بنتا ہویا ایسے اعمال جن کی مشابہت دور جاہلیت کی رسوم ورواج سے ہوتی ہو۔چناچہ میت پر باقاعدہ ماتم کی رسم بدعت ہوگی۔اسی طرح مذہبیت میں انتہا پسندی بھی اسی درجے میں آئے گی مثلا رہبانیت اختیار کرنا ۔ بالطبع معمولی اعمال جو عبادت سے کسی طور مخصوص نہیں حلال اورجائز ہیں الا یہ کہ کتاب وسنت کی کوئی نص ان کو خصوصی طور پر ناجائز ثابت کرتی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب IslamToday - English شیخ صالح المنجد شیخ صالح المنجد کو سوال موصول ہوا: ہمارے ہاں رواج ہے کہ بچہ کی پیدائش پر ایک خاص پکوان تیار کیا جاتا ہے، جس سے زچہ کھاتی ہے اور جو جو اُس کے ہاں (بچہ دیکھنے یا مبارک دینے وغیرہ کیلئے) آئے اُس کو کھلایا جاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاں محض ایک رسم ہے۔ اِس کے پیچھے کوئی اعتقاد نہیں۔ اِس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ بدعت ہو گا؟ نیز ’جائز رسوم‘ اور ’بدعت‘ میں فرق کیسے کیا جائے گا؟ شیخ کا جواب: تعریف اللہ کیلئے۔ ’جائز رسوم‘ اور ’بدعت‘ میں فرق یوں کیا جائے گا کہ: بدعت میں اللہ کا تقرب مقصود ہوتا ہے۔ جبکہ رسوم میں یہ مقصود نہیں ہوتا۔ ’رسوم‘ جو لوگوں میں عرف کا درجہ اختیار کر لیں، ان کے معاملہ میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہوں گی، ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دینا جائز نہ ہو گا، الا یہ کہ کوئی صحیح دلیل اُس کے حرام ہونے پر دلالت کرنے والی ہو۔ شیخ ابن عثیمینؒ کہتے ہیں: رسم اور عبادت میں فرق یہ ہے کہ: عبادت وہ ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول نے حکم دیا ہو، کہ اُس کے ذریعے اللہ کا تقرب پایا جائے، اور اُس کے ہاں اجر کی جستجو کی جائے۔ رسم وہ ہے جسے لوگوں نے اپنے مابین معمول ٹھہرا لیا ہو کھانے پینے، رہن سہن، ملبوسات، سواریوں ، معاملات اور اسی جیسے دیگر امور میں۔ مزید ایک فرق یہ ہے کہ: عبادات میں اصل یہ ہے کہ وہ ممنوع اور حرام ہیں جب تک کہ شریعت سے اُس پر دلیل نہ مل جائے کہ وہ (مشروع) عبادات ہیں: جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ (الشوریٰ: 21)۔ یعنی: ”کیا ان کے کوئی شریک ہیں جو ان کیلئے دین (طریقِ بندگی) صادر کرتے ہیں کہ جس کا اللہ نے حکم نہیں دے رکھا؟“ رہ گئے عادات و رسوم، تو ان میں اصل یہ ہے کہ جب تک کہ شریعت سے اس پر دلیل نہ مل جائے کہ وہ منع ہیں۔ بنا بریں، لوگ اگر کسی چیز کو اپنے مابین معمول بنا لیں، اور کوئی ان کو کہے: یہ حرام ہے، تو اُس سے اِس بات کی دلیل مانگی جائے گی۔ اُس سے کہا جائے گا کہ اِس بات کی دلیل کیا ہے کہ یہ حرام ہے؟ رہی عبادات، تو ان کی بابت اگر انسان سے کہا جائے کہ یہ بدعت ہے اور وہ کہے کہ ’نہیں یہ بدعت نہیں ہے‘ تو اُس سے کہا جائے گا کہ اِس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے، وجہ یہ کہ عبادات اصل ہی یہ ہے کہ یہ منع ہیں جب تک کہ دلیل اِس بات پر نہ آ جائے کہ یہ مشروع ہیں۔ از (پروگرام): لقاءالباب المفتوح (2:72 ) شیخ ابن عثیمین (ایک دوسری جگہ) فرماتے ہیں: بدعت کا تعین جس چیز سے ہو گا وہ یہ کہ:” اِس میں اللہ کیلئے (تعبد) عبادت گزاری کی گئی ہوتی ہے ایک ایسے طریقے کے ساتھ جس کو اُس نے مشروع نہیں ٹھہرا رکھا“، اور اگر آپ کہنا چاہیں تو یہ کہ: اللہ تعالی کیلئے (تعبد) عبادت گزاری کی گئی ہوتی ہے اُس طریقے سے جس پر نبی ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین نہ پائے گئے تھے“۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ کیلئے ”تعبد“ کرے ایک ایسے طریقے سے جسے اللہ نے مشروع نہیں ٹھہرا رکھا یا جس پر نبی ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین نہ پائے گئے تھے، تو ایسا شخص مبتدع (بدعتی) ہے، چاہے اِس ”تعبد“ کا تعلق اللہ کے اسماءو صفات کے ساتھ ہو، یا اُس کے احکام کے ساتھ، یا اُس کی شرع کے ساتھ“۔ رہ گئے رسم و رواج، جن کا تعلق عرف اور لوگوں کے اختیار کردہ معمولات سے ہے، تو ان کو ”دین کے اندر بدعت“ نہیں کہا جائے گا، اگر لغت میں ان کو بدعت کہہ دیا جائے، مگر یہ دین کے اندر بدعت نہ ہو گی اور یہ وہ چیز نہیں ہو گی جس سے رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا ہے۔ مجموع فتاویٰ و رسائل ابن عثیمین (2:292) شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: انسانی تصرفات خواہ وہ اقوال ہوں یا افعال، دو قسم کے ہیں: ایک عبادات، جن سے ان کا دین سنورتا ہے۔ دوسری عادات، جن سے ان کو دنیا میں واسطہ پڑتا ہے۔ اصولِ شریعت کا استقراءکریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ”عبادات“ جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب یا مستحب ٹھہرایا ہے وہ تو ثابت نہیں ہوتیں سوائے اس کے کہ شریعت خود بتائے۔ رہ گئے عرف و عادات تو یہ وہ اشیاءہیں جن کو لوگوں نے دنیا (کے امور) میں اپنی ضرورت کے تحت آپس میں اختیار کر لیا ہے۔ اِن میں اصل عدم ممانعت ہے، پس اِس صنف میں سے کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی، سوائے کسی ایسی چیز کے جس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرما دی ہو۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد29: ص16،17) شیخ ابن جبرینؒ کہتے ہیں: عبادات اور عرف وعادات کے مابین فرق ہے۔ عرف و عادات مباح ہیں۔ آدمی کیلئے مباح ہے کہ اپنے لئے جیسی مرضی تعمیر کرے۔ جیسا مرضی پہنے، جیسی مرضی سواری کرے، اور صنعت و حرفت وغیرہ کا جو کام چاہے کرے۔ یہ بدعت نہیں کہلاتیں۔ ’دنیوی بدعت‘ نام کی کوئی چیز نہیں۔ رہ گئیں ’دین بدعات‘ تو وہ سب کی سب سیئہ (بری) ہیں، ان میں کوئی چیز بدعت حسنہ نہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی جس کو ’بدعتِ جائزہ‘ یا ’بدعتِ مباحہ‘ کہا جائے۔ بلکہ ہر وہ چیز جس کو شریعت کے ساتھ جوڑا جائے گا جبکہ وہ شریعت میں شامل نہیں کر رکھی گئی، تو وہ ناجائز ہے۔ http://ibn-jebreen.com/ftawa.php?vie...52&parent=3601 - 35k – پس رسوم و عادات میں اصل اباحت ہے یہاں تک کہ اُس سے ممانعت کردینے کا (شرعی) سبب سامنے نہ آئے، مثلا یہ کہ اُس رواج میں کوئی چیز ایسی ہو شریعت میں ناجائز ہے، یا مثلاً اُس میں اسراف اور تبذیر ہوتی ہے، یا اُس میں دولت کی نمائش ہے۔ البتہ کسی رسم یا رواج میں اگر ایسی کوئی بات نہیں تو وہ جائز ہی رہے گی۔ پس اوپر گزرنے والے اِس (اصولی) بیان کی بنا پر: اگر یہ پکوان جو زچہ کیلئے اور اُس کے ہاں آنے والوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے کسی ایسی بات پر مشتمل نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرا رکھا ہے، اور وہ کسی اسراف یا تبذیر یا دوسروں سے بڑھ کر اپنا دولتمند ہونا ثابت کرنے کیلئے تیار نہیں کیا جاتا، تو وہ جائز ہو گا اور اس میں حرج کی کوئی بات نہیں۔ موقع الإسلام سؤال وجواب - حكم إعداد طعام معين للنفساء ولمن يأتي لزيارتها
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
احترام سے مخاطب کرنے اور پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمایے ، صدیقی بھائی ، محترم صدیقی بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِن فرامین پر بھی غور فرمایے ، اِن آیات مبارکہ سے بھی جو کچھ میں نے پہلے بنیادی مضمون میں کہا تھا اُس کی درستگی کا اور سوچ و سمجھ کی جہت کا اندازہ ہو سکتا ہے، ((((( سَيَقُولُ السُّفَهَاء مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُواْ عَلَيْهَا قُل لِّلّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم ::: اب بیوقوف کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا وہ جس پر وہ تھے؟ آپ فرما دیجیے کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے O وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلاَّ عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللّهُ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ::: اور اسی طرح ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو ، اور رسول تم پر گواہ ہوں اور جس قبلہ پر آپ تھے وہ ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ یہ معلوم کر سکیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل واپس جاتا ہے اور بیشک یہ بھاری بات تھی مگر ان پر (نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت دی بے شک اللہ لوگوں پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے O قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاء فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوِهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُون ::: یقینا ہم بار بار آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھا ہے ، لہذا ہم ضرور آپ کو اُس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے ، لہذا (اب) آپ اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجیے اور تُم لوگ جہاں کہیں بھی ہو (نماز کی ادائیگی کے لیے) اپنے چہرے مسجد الحرام کی طرف پھیر لیا کرو اور بیشک اہلِ کتاب ضرور جانتےہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں و وہ کرتے ہیںO سورت البقرہ / آیات 142 تا 144، دیکھا صدیقی بھائی ، بہت سی ایسی باتیں اور کام ایسے ہوتے ہیں جنہیں کرنے والا بھی اُن کی شرعی حیثیت نہیں سمجھ رہا ہوتا بس اچھا سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ کسی طور شریعت کی مخالفت کی حد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، اس دھاگے کا بنیادی مضمون یہی سمجھانے کے لیے لکھا گیا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، آپ کی بات ٹھیک ہے ، اسلام میں دین کو مساجد تک محدود کرنے کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ، بلکہ اسلام کی انفرادی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں دیے گئے ہر ایک حُکم پر انسانی معاشرے میں رہ کر ہی عمل کیا جاتا ہے اور اُس پر عمل کرنا عین ممکن ہوتا ہے، اسلام کو مساجد ، خانقاہوں اور دینی مدارس تک محدود کرنے کی سازش صدیوں سے کام کر رہی ہے ، اور پچھلی چار پانچ دھائیوں سے اس سازش کے اگلے حصہ پر بھی عمل شروع ہو چکا ہے کہ اب اُن مساجد اور دینی مدارس کو بھی محدود و محکوم کیا جائے ، ایسے لوگوں کے کے زیر حکم لایا جائے جنہیں دِین کی کچھ سمجھ نہیں یا جو سمجھ ہے تو اسی منہج کے مطابق ہے جو اسی سازش کا منہج ہے جس کے بنا پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے ، اور افسوس کہ سازشی باہر سے خود تو اتنا کام نہیں کرتے جتنا ان سے شعوری یا لا شعوری طور پر متاثر مسلمان اندر سے کرتے ہیں ، اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں کے بارے میں میرا حسنء ظن یہی ہے کہ ایسی گمراہ اور گمراہ کن سوچوں اور مناھج کے شکار مسلمانوں کی اکثریت انہیں اپنے معاشرے اور اپنے دِین کی بہتری خیال کرتی ہے اور ان کی حقیقت کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے ان کے لیے کام کرتی ہے ، ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر ، اللہ کی کتاب قران الکریم پر آخرت کے دن ہر قلبی اور جسمانی قول و فعل کا حساب ہونے اور اُس کے مطابق سزا اور جزاء پر ایمان رکھتا ہو اور پھر بھی اپنے عقإئد ، اقوال و افعال میں سے کسی کو اسلام کی کسوٹیوں پر پرکھے جانے سے مستثنیٰ سمجھتا ہو ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ حق سمجھنے ، ماننے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے کہ اسلام چند مخصوص عقائد اور اقوال و اعمال کا نام نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کے ہر ایک ظاہری اور باطنی قول و فعل پر محیط نظام زندگی ہے ، ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے فیصل بھائی ، اور آپ کی دُعا قبول فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (02-05-10) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے رقم دو ، معاشرتی عادات اور رسموں وغیرہ کے بارے میں آپ کی اس بات میں ساری ہی تفصیل پوشیدہ ہے اور یہ بالکل درست ہے کہ """اگر اسلام نے ان سے روکا نہیں ہے یا ان میں کفار سے مشابہت نہیں ہے """" جزاک اللہ خیرا ، اور یہ جو میں نے آپ کو بھتیجا رقم دو کہا ہے تو فقظ ترتیب زمانی ہے اس کا کوئی اور سبب نہیں، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
اللہ میاں کرے کہ ہم اپنے سارے کام اسلام کے مطابق کرین بہت اچھی بات بولی ہے اسلام چند مخصوص عقائد اور اقوال و اعمال کا نام نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کے ہر ایک ظاہری اور باطنی قول و فعل پر محیط نظام زندگی ہے ، عادل صاحب یہ تو بتاو کہ ہم لوگ بزرگوں کو ادب سے قبلہ کہتے ہین کیا یہ صیح نہیں ؟ آپ نے جو آیتیں لکھی ہین ان کا کیا مقصد ہے |
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (02-05-10) |
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بحث بیکار ہے۔۔۔ سورہ الاحزاب۔۔۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ۔ نہ تاویل نہ منطق نہ جواز نہ حیلہ اور نہ ہی عقلی اُصول۔۔۔ اطیعواللہ واطیعوالرسول |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حرب صاحب مشورے کا شکریہ بحث بیکار ہے ۔۔۔سورت الاحزاب۔۔۔ میں کہاں ہے جناب بات بحث کی نہین بلکہ اپنی تسلی کرنے کی ہے مین جو سوال عادل صاحب سے کیا ہے اس میں بحث والی بات کون سی ہے بحث تو تب ہو نہ جب میرے بات کو کوئی اچھا جواب ملے اور میں غلط بات میں جواب دے کر نہ مانون اگر عادل صاحب جواب نہین دینا چاہتا تو آپ دے دو جناب اگر آپ دونون کو جواب نہین آتا تو بتا دو یا چپ رھو ابھی سے بحث کا الزام تو نہ لگاو حرب صاحب |
|
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (05-05-10) |
|
|
#13 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تعالیٰ کے بیش بہا اور ان گنت انعامات اور نوازشات میں سے سب سے بڑی نعمت اور نوازش کا نام ہدایت ہے ۔ اس بیش قیمت خزانے سے متعارف کرانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں کتب و صحائف نازل کئے وہاں ان کی تشریح و توضیح کیلئے اپنے برگزیدہ بندوں کو بھی منتخب فرمایا جنہیں ہم انبیاءو رسل ( علیہم السلام اجمعین ) کہتے ہیں ان مقدس و محترم ہستیوں نے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی اپنی امت کے سامنے وہ احکام اور تعلیمات پیش کیں جن پر عمل پیرا ہو کر ایک بندہ مومن اپنے خالق حقیقی کی رضا جوئی کو حاصل کر سکتا ہے اور آخرت کے بڑے احتساب میں فوز و فلاح کی ضمانت حاصل کر سکتا ہے ۔ کاروان نبوت کا یہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت تک جاری رہا یعنی اس کاروان نبوت اور قافلہ رسالت کے آخری ہدی خواں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن پر نازل کیا جانے والا صحیفہ انسانیت کے پاس اپنی کامل ترین شکل میں موجود اور محفوظ ہے ۔ اور جس کی تشریح و تفسیر اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قیامت تک کیلئے ایک روشن چراغ ہے ۔ اللہ احکم الحاکمین نے امام الانبیاءحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو پوری انسانیت کیلئے اسوہ حسنہ قرار دیا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : لقد کان لکم في رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان يرجوا اللہ واليوم الاخر وذکر اللہ کثيرا ( الاحزاب : ٢١ ) ” یقینا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بہترین نمونہ ہے ، ہر اس شخص کیلئے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوارہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ۔ “ یعنی تمہارے ہر معاملے میں اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور فیصلے حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رد کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کائنات ارضی و سماوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرح کوئی ذات نہیں ہو سکتی بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی طرح کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات اور فیصلے کو دل و جان سے قبول کرنا ہی مؤمن ہونے کی علامت ہے ۔۔۔ والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
ایک دفعہ پھر شکریہ لے لو حربصاحب پر آپ کے جواب میں جواب نہین جناب یہ تو بتا دو کہ بحث کرنے سے کہاں روکا گیا ہے اور مین تو ابھی بحث کر ہی نہیں رہا صرف کچھ سوال پوچھ رہا ہون آپ لوگ ایک طرف کی بات کرتے ہو اور اسے حدیث سے جوڑ دیتے ہو دوسرے لوگ کیا حدیث نہیں جانتے یہ بھی تو کسی حدیث مین ہے نہ کہ اگر معلوم نہ ہو تو سوال کرو جناب سوال کا جواب سیدھا اور چھوٹا ہو میرے جیسے کو کچھ فائدہ بھی ہو |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کرے, قول, قبلہ, لوگ, چند, نام, نظام, میاں, مقصد, مطابق, اپنے, اقوال, اللہ, السلام, اچھی, انسانی, ادب, اسوہ رسول, اسلام, بتاو, زندگی, عقائد, عادل سہیل, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لڑکیاں عمر کیوں چھپاتی ہے ؟؟؟ | ابن جلال | گپ شپ | 44 | 16-12-10 07:15 AM |
| قران پڑھتے ہوئے یا ذکر ازکار کرتے ہوئے ہلا کیوں جاتا ہے ؟؟؟ | عادل سہیل | اسلامی نظریہ حیات | 47 | 18-10-10 12:26 PM |
| کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ | محمدعدنان | عمومی بحث | 24 | 08-09-10 01:59 PM |
| اجازت کیوں نہیں ہے؟؟؟ | محمد عاصم | تجاویز اور شکایات | 25 | 17-06-10 07:17 PM |