واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


::::: ہر کام میں اسلام کیوں ؟؟؟ :::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 15-04-10, 12:11 AM   #1
::::: ہر کام میں اسلام کیوں ؟؟؟ :::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 15-04-10, 12:11 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

::::: ہر کام میں اسلام کیوں ؟؟؟ :::::

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
""" ہر کام کو اسلامی زوایہء نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا ، اور نہ ہی دیکھا جانا چاہیے ، ہماری زندگی کے کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنے علاقائی معاشرے ، اپنی خاندانی عادات ، اپنے ذاتی افکار ، اپنی ذاتی پسند نا پسند کی بنا پر کرتے ہیں ، اگر ہر ایک کام کو ہر ایک کلام کو اسلامی طور پر جانچا جانا لگے تو ہم کریں گے کیا ، سوائے گنتی کے چند اعمال کے """
الحمد للہ ، یہ مذکورہ بالا الفاظ میری کسی سوچ کا شاخسانہ نہیں اور ثُمَ الحمد للہ کہ نہ ہی میں اِن کا ہمنوا ہوں ، اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ ایک ایسا خوفناک فلسفہ ہے کہ جِس کے دام میں ہمارے کچھ مسلمان بھائی بہن میں پھنسے نظرآتے ہیں ، بلکہ اِس ابلیسی دھوکہ دہی میں مسحور نظر آتے ہیں ، معاف کیجیے ایسے بھائیوں یا بہنوں کو شاید میرے یہ الفاظ کچھ سخت محسوس ہوں ، لیکن کسی ناراضگی یا غصے کے اظہار سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ ذیل فرامین کا بغور مطالعہ فرمایے اور دیکھیے بلکہ سمجھیے کہ یہ فلسفہ آپ کو کہاں لے جانے والا نظر آتا ہے ، و لا حول و لا قوۃَ اِلّا باللہ ،
چند روز پہلے میرے دفتری کام کے دو ساتھی میرے سامنے بیٹھے کچھ بات چیت کر رہے تھے کہ اُن کی بات چیت بسنت کے تہوار کی طرف ہو گئی ، میں نے کہا """ بھائی یہ تہوار غیر اسلامی ہے """
ایک بھائی نے جواب دیا کہ """ اب ہر کام تو اسلام کے مطابق نہیں دیکھا جا سکتا نا ، کچھ اپنی اپنی رسمیں بھی ہوتی ہیں ، وغیرہ وغیرہ """
اور دوسرے بھائی نے ایک اور فلسفہ پیش کیا کہ """ ہر قوم کے اپنے اپنے تہوار اور عادات ہیں اسلام اُن سے منع تو نہیں کرتا اور نہ ہی ہر ایک کو اسلام کے مطابق جانچا جانا چاہیے """
قطع نظر اس کے کہ کسی جغرافیائی تقسیم کی بنا پر مختلف علاقوں میں آباد مسلمانوں کو الگ الگ قوم سمجھنا درست ہے یا غلط ، اِن شاء اللہ اس کے بارے میں پھر کسی وقت بات کی جا سکتی ہے ، اس وقت تو میں صرف اس موضوع پر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان کا کوئی بھی کام اسلامی حدود اور احکام سے خارج ہو کر کیا جانا چاہیے یا نہیں ،
آیے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے اور ہمارے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ کی روشنی میں یہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں حق پہچاننے اسے سمجھنے اُسے ماننے اسے اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے مرنے کی توفیق دے ،
أعوذُ باللہ مِن الشَّیطٰن الرَّجیم و مِن ہَمزہِ و نَفخِہِ ونَفثِہِ
((((( وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ::: اور (اے محمد ) لوگوں میں ایسے بھی ہیں جِن کی بات آپ کو دُنیا کی زندگی(کے بارے ) میں اچھی لگے گی اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بہت ہی زیادہ جھگڑے ڈالنے والا ہے O
آغاز گفتگو میں جِس فلسفے کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس آیات مبارکہ میں بیان کردہ بظاہر اچھی اور خوبصورت لیکن در حقیقت فساد اور ھلاک والی باتوں میں شامل ہوتا ہے ، اس کے لیے کسی لمبی چوڑی بات کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنے اعمال کو اسلامی حدود سےخارج کرنے کے نتائج روزء روشن کی طرح عیاں ہیں ،
اور ایسی باتیں کرنے والوں سے اللہ تبارک و تعالٰی کے اس فرمان کی روشنی میں، میں یہ بھی درخواست کروں گا کہ وہ اپنے اپنے دِلوں کا جائزہ لیں ، کہ جب وہ اپنے یا کسی اور کے کسی کام کو اسلامی احکام کی کسوٹی پر نہیں پرکھنا چاہتے تو اُس وقت اُن کے دِلوں میں جھگڑے اور فساد کی خواہش ہوتی ہے ، لیکن شیطان انہیں اُن کے اپنے ہی دِل کا حال جاننے نہیں دیتا ، اور اُن کا رب جو مہربان ہے وہ انہیں اِس کی خبر دے کر اِس کے انجام سے باخبر کرتا ہے تا کہ وہ اُس دردناک انجام سے بچ سکیں ،

کسی بھی کام کواللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کے خلاف کرنے والا خواہ کچھ بھی سمجھتا رہے کچھ بھی کہتا رہے ، بظاہر اچھی اور خوبصورت نظر آنے والی ایسی باتیں کرنے والوں کے بارے میں اللہ کا فرمان یہ ہے کہ :::
وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيِهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الفَسَادَ :::
اور جب وہ زمین میں چلتا پھرتا ہے تو اُس میں فساد ڈالنے کی ہی کوشش کرتا ہے اور کھیت اور نسل تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد پسند نہیں کرتا O
اور حق بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں وہ کچھ بھی جانتا ہے جو وہ نہیں جانتی ، لہذا ایک دفعہ پھر کہتا ہوں کہ اپنے اعمال یا عقائد میں سے کسی کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنے سے مستثنیٰ قرار دینے والے بھائی بہنیں اللہ پر ایمان رکھتے ہوں تو اپنی سوچوں اپنائے ہوئے فلسفوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کے سامنے پیش کریں اور یقین کر لیں کہ انہیں اللہ کا ، اور ہم سب کا کھلا دشمن دھوکہ دے رہا ہے اور خود اُن کے اُن کے اپنے ہی اندر کا حال جاننے سے روکے ہوئے ہے ،
اب اس کے بعد دیکھیے کہ وہ لوگ جو نہ صرف ایسے غیر اسلامی فلسفوں کو مانتے ہیں ، اور واضح احکام آنے کے باوجود اپنی اصلاح کی طرف نہیں آتے ، بلکہ اُس پر اصرار کرتے ہیں اُن کی حالت بالکل اسی شخص کی طرح جس کی مثال اللہ نے بیان کی کہ صرف اپنی معاشرتی عِزت اور اپنے نام و نمود کی خاطر وہ درست بات کو نہیں مانتا کہ اگر مان لیا تو لوگ کیا کہیں گے ، دیکھیے مذکورہ بالا آیات کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے :::
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ و َلَبِئْسَ الْمِهَادُ ::: اور جُب اسے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ (کی ناراضگی اور عذاب) سے بچو تو اُس کی (معاشرتی )عِزت اُسے گُناہ کے ساتھ (حق قبول کرنے سے )روک لیتی ہے ، پس اِس (شخص )کے لیے تو جہنم کافی ہے اور جہنم کیا ہی برا ٹھکانہ ہے O
اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اِیمان والوں میں سے ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی جن کا مطمع ء نظر ہمیشہ اور صرف اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے خواہ انہیں اس کے لیے اپنا آپ ہی بیچنا پڑے ،
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَاللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ ::: اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اپنا آپ ہی اللہ کی خوشیاں حاصل کرنے کے لیے بیچ دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بہت ہی نرمی کرنے والا ہے O
بظاہر اچھی اور دل آویز باتوں ، ایسی باتیں کرنے والوں کی دلی حالت اور پھر ایمان والوں کی اللہ کے لیے تابع فرمانی کا ذِکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اِیمان والوں کو حُکم دیتا ہے ، جی ہاں حُکم دیتا ہے ، اللہ جو اکیلا خالق ہے اور باقی ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے ، وہ علیم ، خبیر ، اپنے اِیمان لانے والے بندوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ :::
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ :::اے اِیمان لانے والوپووووووووووووووووورے کے پوووووووووووووووورے اِسلام میں داخل ہو جاؤ ، اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو بے شک وہ تُم سب کا واضح طور پر کھلا دُشمن ہے O
اللہ کے واضح احکام اور فرامین سننے کے بعد بھی جو مُسلمان اللہ کی مقرر کردہ راہوں پر ثابت قدمی سے چلنے کی بجائے اُس قِسم کی جہنم تک لے جانے والی سوچ کا شکار رہیں جس کا ذکر آغازء کلام میں کیا گیا ، اور ایسی باتوں اورمختلف فلسفوں کے نشے میں ڈگمگاتا پھرےاور اپنی زندگی کے کسی بھی معاملے یا کام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا نہ چاہے ، اور اپنے کسی بھی کام یا کلام کو اسلامی حدود سے خارج ہو کر کرے ور اسے درست بھی سمجھے اور اور اپنی اصلاح نہیں کرے ، تو پھر اللہ کی طرف سے انہیں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ:::
فَإِن زَلَلْتُمْ مِّن بَعْدِ مَا جَاءتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ::: اور اگر تُم لوگ تُمہارے پاس واضح احکام آنے کے بعد بھی ڈگمگا جاؤ تو پھر جان رکھو کہ اللہ زبردست حِکمت والا ہے O ))))) ،
اللہ تعالیٰ اپنی قوت و جبروت کی زبردستی یا ددلا رہا ہے ، کیوں ؟
تا کہ ایسے لوگ سمجھ جائیں کہ اگر ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل نہ ہوئے اور اپنا ہر ہر عقیدہ اور ہر ہر کام اور ہر ہر کلام اسلام کے مطابق نہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قوت و سطوت کے ساتھ ہم پر گرفت کرے گا ،
اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اللہ بڑی حِکمت والا ہے اور یہ اُس کی حِکمت میں سے ہے کہ تُم لوگوں کو سمجھاتا ہے اور تُم لوگوں پر گرفت کرنے میں ، تُم لوگوں کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہیں کرتا ،

اس کے بعد ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ سمجھاتا ہے ، یاد کرواتا ہے ،کہ فیصلوں کا وقت آ جانے سے پہلے باز آجاؤ :::
((((( هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِكَةُ وَقُضِيَ الأَمْرُ وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ::: تو کیا یہ لوگ اِس چیز کا انتطار کر رہے کہ اللہ اور فرشتے اِن لوگوں کے اس بادلوں کے سائے میں آجائیں اور (اِن لوگوں ) کا معاملہ نمٹ جائے اور (یاد رکھو) اللہ ہی طرف سارے معاملات پلٹنے ہیں ))))) سورت البقرۃ /آیات204 تا 210،
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ان فرامین مبارکہ پر بھی غور فرمایا جانا چاہیے :::
(((((وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيناً::: جب اللہ اور اللہ کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو اُس فیصلے میں کسی اِیمان والے مرد اور کسی اِیمان والی عورت کے لیے کوئی اختیار نہیں رہتا (کہ وہ اپنی مرضی سے اسے مانیں یا نہ مانیں ) اور (یاد رکھو کہ) جِس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا )))))سورت الاحزاب /آیت 36،
اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے فرمایا """یہ آیت تمام تر معاملات کے بارے میں عام ہے اور اگر اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کسی چیز کے بارے میں حکم فرما دیں تو کسی کے لیے اُس حُکم کی مخالفت کی گنجائش نہیں رہتی اور نہ ہی کسی کے لیے اُس فیصلے میں کوئی اختیار رہتا ہے (یعنی اس پروہ فیصلہ قبول کرنا ہی فرض ہے ) اور نہ ہی اُس فیصلے کے بارے میں کوئی اور رائے یا بات کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ((((( فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً :::ہر گِز نہیں اور آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اُس وقت تک اِیمان والے نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اُن کے اختلافات میں حاکم نہ مان لیں اور پھر جو فیصلہ آپ کریں اُس فیصلے کے بارے میں اپنی جانوں میں کوئی شک نہ پائیں اور مکمل اطاعت کے ساتھ اپنا آپ حوالے کردیں )))))(سورت النساء/ آیت 65)
اور حدیث شریف میں ہے کہ ((((( لا یؤمِنُ اَحدُکُم حَتیٰ یِکُونُ ھواہُ تَبعاً لِمَا جِئتُ بِہِ ::: تُم سے کوئی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اُسکی خواہشات میری ساتھ آئی ہوئی چیز(یعنی کتاب اللہ اور سُنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے مُطابق نہ ہو جائیں ))))))(اِمام بغوی نے اپنی کتاب ''' شرح السُنّہ ''' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ) اوراسی لیے اللہ نے فرمایا (((( وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيناً::: اور (یاد رکھو کہ) جِس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی وہ یقیناً کھلی گمراہی میں جا پڑا ))))) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((((( فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ::: پس جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ ہوشیار رہیں کہ (اس نافرمانی کی وجہ سے ) کہیں اُنہیں کوئی مصیبت یا دکھ دینے والا عذاب نہ آن پکڑیں ))))) سورت النور/ آیت63،"""" تفیسر القران العظیم المعروف تفیسر ابن کثیر ،
اور امام الطبری نے اپنی تفیسر """ جامع البیان فی تفسیر القران """ میں لکھا :::
"""
اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان رکھنے والے مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اُن لوگوں کے کسی معاملے کے بارے میں کوئی فیصلہ فرما دیں تو وہ لوگ اُن اپنے کسی بھی معاملے میں اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کیے ہوئے فیصلے کے علاوہ کوئی اور چیز اختیار کریں ، اور اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی، اور اُن کے کیے ہوئے فیصلے کی مخالفت کریں، اور جس کسی نے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے کسی کام کرنے یا کسی کام سے باز رہنے کے کسی بھی فیصلے میں اُن کی نافرمانی کی تو (((( فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيناً:::یقیناً وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا ))))) یعنی اللہ کہتا ہے کہ یقیناً ایسا کرنے والا درست راستے سے ہٹ گیا اور ہدایت اور رُشد کی راہ کے علاوہ کسی اور راہ پر چلا """
اللہ کرے کہ وہ اپنے اِن فرامین کو اُن مسلمانوں کی سوچ و فکر کی درستگی کا سبب بنا لے جو اپنے کسی بھی عقیدے ،قول یا عمل کو اسلام کے مطابق جانچے جانے سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں ، اور طرح طرح کی باتیں بنا کر اپنے عقائد ، سوچوں ،عادات ،افعال ، اعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جب کہ اصولی بات یہ ہے کہ لوگوں کے عقائد ، سوچوں ،عادات ،افعال ، اعمال کی بنا پر اسلامی احکام کو نہیں پرکھا جاتا بلکہ اسلامی احکام کے مطابق لوگوں کی عادات کو پرکھا جاتا ہے ، کیونکہ اسلام لوگوں کے عقائد ، سوچوں ،عادات ،افعال ، اعمال پر حجت ہے نہ کہ لوگوں کے عقائد ، سوچوں ،عادات ،افعال ، اعمال اسلام پر حجت ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عادل سہیل; 17-04-10 at 12:09 AM..

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 258
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-04-10), sjk (16-04-10), فیصل ناصر (15-04-10), ھارون اعظم (15-04-10), نورالدین (05-05-10), ابو عبداللہ (14-02-11), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (15-04-10), عبداللہ حیدر (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 01:09 AM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں‌کو ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے۔ دین کو مسجد تک محدود کر دینے کی سوچ کی اسلام میں‌ کوئی گنجائش نہیں‌ہے۔ یہ فکر اصل میں صلیبیوں نے پروان چڑھائی ہے کہ عبادت گاہ میں انسان اللہ کا بندہ اور باہر کی دنیا میں مرضی کا مالک ہے۔ موجودہ محرف و مبدل انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب اس قول کو وہ دین و دنیا کی تقسیم کی دلیل بناتے ہیں کہ "جو (حق) اللہ کا ہے وہ اللہ کو دو اور جو (حق) قیصر (بادشاہ)کا ہے وہ قیصر کو دو"۔ ہمارے پاس اس قول کی درستگی کی کوئی دلیل نہیں‌ہے اور اگر یہ صحیح بھی ہو تو پرانی شریعتوں کے احکام اس امت پر لاگو نہیں ہوتے۔ اللہ کرے کہ قرآن و حدیث کی جو روشنی آپ نے مہیا کی ہے وہ غلط فہمیوں کے شکار بھائیوں کی تاریک خیالی کو حقیقی روشن خیالی میں بدل دے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-04-10), فیصل ناصر (15-04-10), ابو عبداللہ (14-02-11), ضِرار Derar (02-05-10), عادل سہیل (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 01:17 AM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ عادل بھائی
اللہ ہمیں ہر کام اسلام کے مطابق اور اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے
بھتیجے کا کہنا انتہائی درست ہے کے ہم نے دین کو صرف عبادات کا منبع بنا کر رکھا ہوا ہے جب کے دین اصل میں معاملات کا طریقہ بیان کرتا ہے
اللہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-04-10), ابو عبداللہ (14-02-11), عادل سہیل (15-04-10), عبداللہ آدم (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 10:14 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قبلہ عادل بھائی السلام علیکم،
شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 10:16 AM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default علاقائی کلچرز کیلئے شریعت میں کہاں تک گنجائش ہے؟

:::::::::السلام علیکم

چچا جان یہ مواد بھی ملاحظہ فرمائیں۔سوچ اس میں یہ پیش کی گئی ہے کہ امور کی دو اقسام ہیں ایک وہ جن کو عبادت سمجھ کر کیا جاتا ہے اور دوسرے وہ جن کو عبادت نہیں سمجھا جاتا تو وہ بدعت کے زمرے نہیں آئیں گے مثلا علاقائی رسوم و رواجات وغیرہ۔اگر اسلام نے ان سے روکا نہیں ہے یا ان میں کفار س مشابہت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔::::::::::



رسوم و رواج اور بدعات میں امتیاز

متعدد مشائخ کی تحریرات


اردو استفادہ: ایقاظ ڈیسک




یوں تو یہ سوال نیا نہیں ہے، لیکن قوموں اور علاقوں کی بڑھتی ہوئی قربت، اور جغرافیائی فاصلوں کے تیزی کے ساتھ سمٹنے کے اِس عمل نے اِن سوالوں کی اہمیت بڑھا دی ہے کہ کسی قوم یا علاقے کے مقامی رسم و رواج، جنہیں وہ خدا کی قربت کا ذریعہ سمجھ کر نہیں کرتے، کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟

رہن سہن میں بہت کچھ ایسا پایا جاتا ہے جو کسی قوم یا علاقے یا قبیلے کے ہاں نہ صرف چلتا ہے بلکہ وہ ایسی اشیاءیا معمولات یا رواجات کو اپنانے میں ایک خاص خاندانی، یا قبائلی یا یا علاقائی یا قومی اشتراک بھی محسوس کرتی ہیں۔ کیا شریعت نے، جو کہ (سابقہ شرائع کے برعکس) تمام انسانیت کیلئے آئی ہے اور ہردور کیلئے ہے، فرض ٹھہرا دیا ہے کہ ہر قوم اپنے علاقائی رہن سہن تک کو چھوڑ دے؟ کسی قوم کے رہن سہن، رسم و رواج اور عرف میں اگر کوئی چیز ایسی ہے جس کو شریعت نے ہی ممنوع ٹھہرا دیا ہو، پھر تو اُس کی ممانعت یقینا فرض ہے اور یہ بات تو کسی بھی بحث اور اختلاف آراءسے بالاتر ہے۔لیکن اگر شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو کسی قوم کے کلچر میں پائی جانے والی کسی بات کو ممنوع ٹھہراتی ہو، تو کیا وہاں پر بھی یہ کہا جائے گا کہ تم اپنے علاقی طور طریقوں اور رسوم و رواج کو چھوڑ دینے کے شرعاً پابند ہو، یا ”اسلامی تہذیب“ اِس سے وسیع تر ایک مفہوم رکھتی ہے؟

نئی اقوام کے ساتھ سب سے پہلے صحابہ کو واسطہ پڑا تھا، کیا انہوں نے وہاں کے ’کلچرز‘ کو بالکلیہ ختم کروایا تھا، یا ان کلچرز میں پائی جانی والی صرف ”خلاف شریعت“ اشیاءکو ختم کروایا تھا؟ لباس، زبان، طرز تعمیر، بالوں وغیرہ کی تراش خراش، بود و باش، میل جول کے آداب، خوشی غمی، شادی بیاہ وغیرہ ایسے امور میں دیگر اقوام کی اُن سب باتوں کو موقوف ٹھہرا دیا تھا ’جن کا ثبوت رسول اللہﷺ یا مدینہ کے معاشرہ‘ سے نہیں ملتا؟ یا لوگوں کو اُن معاملات میں جہاں شریعت نے واضح ممانعت نہیں کر رکھی، اپنے آبائی طور طریقوں پر چھوڑ دیا تھا کہ چاہیں تو ان کو اپنائیں اور چاہیں تو ان میں اپنی مرضی سے کوئی ترمیم کریں او رجس وقت چاہیں کسی دوسرے رواج سے اپنی مرضی کا کسب کریں؟ نئی اقوام پر ایسی کوئی پابندیاں صحابہ نے عائد کی ہوتیں تو صحابہ سے منقول ہی ہوتیں۔ یہ کوئی اکا دکا واقعہ تو نہیں، چند عرب خطوں کو چھوڑ کر پوری اسلامی دنیا ”نئی اقوام“ پر ہی مشتمل تھی اور ہماری خوش قسمتی کہ صحابہ کے زیر سرکردگی اسلام میں داخل کروائی گئی تھی، کہ اِس امت کو ”گلوبلائزیشن“ کے سٹینڈرڈز اصحابِ رسول اللہ ہی صادر کر کے جائیں۔

کیا ایسا تو نہیں کہ ہمارے آج کے بہت سے داعی اِس دورِ کمزوری میں اپنے سر وہ کام بھی لے رہے ہوں جو اصحابِ رسول اللہ ﷺ نے دورِ فتوحات میں اپنے ذمہ نہ لئے تھے؟! یہ داعی ان بہت سی اشیاءکو بھی ’خلافِ اسلام“ قرار دلوانے پر محنت کرتے ہوں جو ایک قوم کے ”رواج“ میں آتی ہیں، جبکہ شریعت نے ان کی ممانعت پر ہمیں کوئی نص فراہم نہ کر رکھی ہو۔ ایسا کر کے یہ داعی نہ صرف اپنا کام دشوار کریں گے، جبکہ شریعت نے انکو اس بات کا مامور ہی نہیں کیا، بلکہ یہ اِن اقوام کیلئے بھی ”دین کی طرف لوٹنے“ کے اِس عمل کو دشوار اور پیچیدہ کریں گے، جو کہ اندریں حالات اگر ”دین“ کے اساسی ترین تقاضوں کی ہی پابندی کر لیں تو ایک نہایت بڑی بات ہو گی۔


علاوہ ازیں، یہ دین صرف ان اقوام کیلئے تو نہیں جو ’صدیوں سے‘ مسلمان چلی آ رہی ہیں۔ ”اسلامی ایمپائر“ آج بھی اللہ کے فضل سے توسیع پزیر ہے۔ وہ اقوام جو تاریخی طور پر امت کا حصہ نہیں، اگر آج ”اسلام“ کی طرف متوجہ ہوتی ہیں تو کیا ان کو اپنے کلچر کے اُن حصوں سے بھی دستبردار ہونا ہوگا جو اسلامی شریعت سے متصادم نہیں؟ اور کیا ’تہذیبوں‘ کے ایسے کسی ’تصادم‘ پر ہم بھی یقین رکھتے ہیں؟ کیا ان کو اپنا رہن سہن اور طرز بود و باش ’پاکستانی‘ یا ’افغانی‘ یا ’عربی‘ یا ’ایرانی‘ یا ’تورانی‘ بنانا ہوگا؟ اپنے اپنے کلچر پر برقرار رہنے کی وہ ’اجازت‘ یا ’رخصت‘ جو قرونِ اولیٰ میں فارس، ہند، وسط ایشیا اور شمالی افریقہ کے ’نو مسلموں‘ کو رہی تھی، اور جو بعد ازاں مشرقی یورپ اور ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کے ’نو مسلموں‘ کو ملی رہی تھی، اور جس کی ’میعاد‘ امت میں کبھی ختم نہیں ٹھہرائی گئی تھی، کیا آج وسطی افریقہ، چین، یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ وغیرہ کے نو مسلموں کو اُس سے انکار کر دیا جائے گا؟ یا ”اسلامی تہذیب“ میں اِس بات کی پوری گنجائش ہے کہ دنیا بھر کے کلچر اپنے تمام تر تنوع کے ساتھ باہم مل کر اِسکی تشکیل کریں، جسکا طریقہ یہ ہو کہ یہ سب کلچر مل کر ایک وسیع تر معنیٰ میں آسمانی ہدایت کی پابندی کریں اور اُسکی بیان کردہ حدود و قیود کے فریم میں فٹ ہو کر دکھائیں اور یوں اِس معنیٰ میں بھی ایک ”امت“ نظر آئیں، البتہ کلیتاً اپنا وجود اور اپنا یہ رنگ برنگ تنوع ختم کر دینے کے مکلف نہ ہوں؟

اِس موضوع کی ایک جہت اور ہے۔ اور وہ یہ کہ کئی ایک داعیانِ دین لوگوں کو ان کے بعض رواجات اور معمولات سے اِس بنیاد پر بھی روکتے ہیں کہ ’یہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں‘ اور یوں ان رواجات کو ”بدعات“ سے ملتی جلتی ایک حیثیت میں لیتے ہیں اور اسی ”رد بدعت“ کے جذبہ کے تحت ہی معاشرے میں ان رواجات کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ رسوم یا رواج ’عادات‘ اور ’معاملات‘ ہی کے باب میں آتے ہیں جن کے کرنے والے ان کو خاص تقرب خداوندی کا ذریعہ سمجھ کر انجام نہیں دیتے، جبکہ ”بدعت“ کا گویا یہ ایک بنیادی ’رکن‘ ہے کہ ایک چیز جو شریعت میں نہیں آئی اُس کو قربِ خداوندی کے جذبہ کے تحت انجام دیا جائے یا اس کو ایک ’دینی عمل‘ یعنی ’تعبد‘ کے رنگ میں لیا جائے۔

اِس موضوع کو دیکھنے کیلئے پس اِس اصولی مسئلہ کو جاننا بھی ضروری ہو گا کہ ”بدعت“ اور ”رسم و رواج“ میں آیا کوئی اصولی فرق ہے یا یہ دونوں ایک سا حکم رکھتے ہیں؟

اِس آخر الذکر جہت پر یہاں ہم اہل علم کی چند تحریریں ملاحظہ کرنے جارہے ہیں۔

شیخ محمد بن الحسین الجزانی:

مسلمان مبلغین و کارکنان اسلام کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ مقامی و علاقائی رسوم کے معاملے میں تحمل کا رویہ اختیار کریں اگرچہ وہ رواج ان (کی عمومی روایات )کے لئے اجنبی ہی ہوں۔چناچہ حلال رسوم و رواج اور بدعات کی تفریق کا علم ہوناان پر لازم ہوجاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم چند وضاحتیں پیش کریں گے جنکی روشنی میں اس تفریق کا طریقہ کار وضع ہو سکے گا۔

اسلامی قانون کا ایک عمومی اصول یہ ہے کہ ثقافتی اور عمومی رسوم جائز ہیں۔

اس اصول کے مطابق یہ اجازت تمام رواج کیلئے قائم رہے گی الا یہ کہ کوئی دوسری صورت درپیش ہوجائے۔اس دوسری صورت میں بھی کسی رسم کو گناہ یا ناجائز قرار دینے سے پہلے ثبوت دینا ہوگا۔اگر کچھ ثقافتی معمولات ایسی باتوں سے منسلک ہیں جو پہلے ہی سے اسلام میں گناہ قرار دیے جاچکے ہیں تو اس صورت میں وہ معمولات بجائے خودناجائزہونگے۔مثلا مردوں کا سونا اور ریشم پہننا یاایسے مروجہ دستور جو کسی حرام کی طرف راستہ پیدا کرتے ہوں۔۔۔البتہ ایسے کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں جو ایک چیز کو واضح طور پر حرام ٹھہراتا ہو،تمام رسوم ورواج کو جائز تصور کیا جائے گا۔

واضح رہے یہ اصول ان تمام روایات کیلئے ہیں جو رسوم ِعبادات سے متعلق نہیں ہیں!

عبادات سے متعلق معاملات البتہ اس کھلی اجازت کے حکم کے تحت نہیں آتے۔ بلکہ اس اصول کے عین بر عکس عبادات کیلئے مخصوص تمام اعمال ناجائز ہونگے الا یہ کہ قرآن وحدیث کی کسی نص سے ان کا جائز ہوناثابت ہوتا ہو۔

جو معاملات کھلی اجازت والے اصول کے دائرہ کار میں آتے ہیں ان میں گھر یلو بندوبست ،سواری کے انتظام،لباس کے انداز،خوراک و طعام،شادی بیاہ کے رسوم اورمعاہدوں سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

رِواج ا ور بدعات کے درمیان فرق کیسے معلوم ہو؟

بہت سے ایسے معمولات لوگ اس لئے انجام دیتے ہیں تاکہ اللہ عز و جل کی خوشنودی حاصل کرسکیں،تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مروجہ معمولات ناجائز بدعات کے زُمرے میں آتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عبادت کا وسیع تر مفہوم بطور ”اللہ کو خوش کرنے کے لئے اچھے اعمال کرنا “ اور عبادت کے مخصوص مراسِم و آدابِ پرستش کے مابین امتیاز کو ملحوظ رکھیں۔۔۔

عام معمولات عوام الناس کی عقلی توجیہات و تدبیرات کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں، انسانی فہم اور عادات جن کا اہم جزو ہوتے ہیں۔ان سب میں اچھے اعمال کرنے کے کل عام طریقے آجاتے ہیں۔جیسے صدقات دینے کیلئے جدید دور کی کرنسی استعمال کرنا یا بچت کی خاطر آس پڑوس کے احباب کو ایک ہی گاڑی میں( مسجد وغیرہ)لانے لے جانے کا انتظام کرنا، یہ سب بدعات نہ ہوں گی۔

دوسری طرف عبادات کیلئے مخصوص اعمال،جیسے نماز کی حرکات و سکنات، اوقاتِ ادائیگی ، تعدادِ رکعات،روزہ کونسے مہینے میں رکھا جائے،حج کے ارکان اور مقامِ حج وغیرہ محض انسانی عقل سے حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ان کے لئے صرف وحی سے ہی ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے۔

چناچہ ہمارے سامنے مندرجہ ذیل لائحہ عمل واضح ہوجاتا ہے؛

1۔ اگر کوئی روزمرہ کے کام اللہ سبحانہ و تعالی کی خوشنودی کی خاطر ادا کئے جائیں، تو یہ عبادت کے وسیع تر مفہوم کے تحت آئیں گے، مخصوص عبادت کی تعریف میں البتہ نہیں۔ یہ وہ اعمال ہیں جو اگر نیک اور خالص نیت سے (مستندطور کی)اچھائی کیلئے کئے جائیں تو ثواب بھی حاصل ہوگا۔اس میں ہر وہ عمل شامل ہوگا جس سے نیکی کرنے میں مدد ملتی ہو۔

2۔ ایسی کوئی رسم جو مخصوص عبادات کے اعمال سے مشابہت رکھتی ہو، (ناجائزہوگی اور) بدعت کے درجے میں آئے گی!مثلابظاہر کسی جائز عبادت کیلئے ازخودایام مخصوص کردینایا مذہبی جشن (دو عیدوں کے علاوہ)اختراع کرنا۔ اس زمرے میں ایسے تمام اعمال آتے ہیں جن کا اسلامی رسوم کے قوانین سے بالواسطہ تعلق بنتا ہویا ایسے اعمال جن کی مشابہت دور جاہلیت کی رسوم ورواج سے ہوتی ہو۔چناچہ میت پر باقاعدہ ماتم کی رسم بدعت ہوگی۔اسی طرح مذہبیت میں انتہا پسندی بھی اسی درجے میں آئے گی مثلا رہبانیت اختیار کرنا ۔ بالطبع معمولی اعمال جو عبادت سے کسی طور مخصوص نہیں حلال اورجائز ہیں الا یہ کہ کتاب وسنت کی کوئی نص ان کو خصوصی طور پر ناجائز ثابت کرتی ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

IslamToday - English


شیخ صالح المنجد

شیخ صالح المنجد کو سوال موصول ہوا: ہمارے ہاں رواج ہے کہ بچہ کی پیدائش پر ایک خاص پکوان تیار کیا جاتا ہے، جس سے زچہ کھاتی ہے اور جو جو اُس کے ہاں (بچہ دیکھنے یا مبارک دینے وغیرہ کیلئے) آئے اُس کو کھلایا جاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاں محض ایک رسم ہے۔ اِس کے پیچھے کوئی اعتقاد نہیں۔ اِس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ بدعت ہو گا؟ نیز ’جائز رسوم‘ اور ’بدعت‘ میں فرق کیسے کیا جائے گا؟

شیخ کا جواب: تعریف اللہ کیلئے۔

’جائز رسوم‘ اور ’بدعت‘ میں فرق یوں کیا جائے گا کہ: بدعت میں اللہ کا تقرب مقصود ہوتا ہے۔ جبکہ رسوم میں یہ مقصود نہیں ہوت
ا۔

’رسوم‘ جو لوگوں میں عرف کا درجہ اختیار کر لیں، ان کے معاملہ میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہوں گی، ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دینا جائز نہ ہو گا، الا یہ کہ کوئی صحیح دلیل اُس کے حرام ہونے پر دلالت کرنے والی ہو۔

شیخ ابن عثیمینؒ کہتے ہیں:

رسم اور عبادت میں فرق یہ ہے کہ: عبادت وہ ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول نے حکم دیا ہو، کہ اُس کے ذریعے اللہ کا تقرب پایا جائے، اور اُس کے ہاں اجر کی جستجو کی جائے۔ رسم وہ ہے جسے لوگوں نے اپنے مابین معمول ٹھہرا لیا ہو کھانے پینے، رہن سہن، ملبوسات، سواریوں ، معاملات اور اسی جیسے دیگر امور میں۔

مزید ایک فرق یہ ہے کہ: عبادات میں اصل یہ ہے کہ وہ ممنوع اور حرام ہیں جب تک کہ شریعت سے اُس پر دلیل نہ مل جائے کہ وہ (مشروع) عبادات ہیں: جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ (الشوریٰ: 21)۔ یعنی: ”کیا ان کے کوئی شریک ہیں جو ان کیلئے دین (طریقِ بندگی) صادر کرتے ہیں کہ جس کا اللہ نے حکم نہیں دے رکھا؟“ رہ گئے عادات و رسوم، تو ان میں اصل یہ ہے کہ جب تک کہ شریعت سے اس پر دلیل نہ مل جائے کہ وہ منع ہیں۔

بنا بریں، لوگ اگر کسی چیز کو اپنے مابین معمول بنا لیں، اور کوئی ان کو کہے: یہ حرام ہے، تو اُس سے اِس بات کی دلیل مانگی جائے گی۔ اُس سے کہا جائے گا کہ اِس بات کی دلیل کیا ہے کہ یہ حرام ہے؟ رہی عبادات، تو ان کی بابت اگر انسان سے کہا جائے کہ یہ بدعت ہے اور وہ کہے کہ ’نہیں یہ بدعت نہیں ہے‘ تو اُس سے کہا جائے گا کہ اِس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے، وجہ یہ کہ عبادات اصل ہی یہ ہے کہ یہ منع ہیں جب تک کہ دلیل اِس بات پر نہ آ جائے کہ یہ مشروع ہیں۔

از (پروگرام): لقاءالباب المفتوح (2:72 )

شیخ ابن عثیمین (ایک دوسری جگہ) فرماتے ہیں:

بدعت کا تعین جس چیز سے ہو گا وہ یہ کہ:” اِس میں اللہ کیلئے (تعبد) عبادت گزاری کی گئی ہوتی ہے ایک ایسے طریقے کے ساتھ جس کو اُس نے مشروع نہیں ٹھہرا رکھا“، اور اگر آپ کہنا چاہیں تو یہ کہ: اللہ تعالی کیلئے (تعبد) عبادت گزاری کی گئی ہوتی ہے اُس طریقے سے جس پر نبی ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین نہ پائے گئے تھے“۔

پس ہر وہ شخص جو اللہ کیلئے ”تعبد“ کرے ایک ایسے طریقے سے جسے اللہ نے مشروع نہیں ٹھہرا رکھا یا جس پر نبی ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین نہ پائے گئے تھے، تو ایسا شخص مبتدع (بدعتی) ہے، چاہے اِس ”تعبد“ کا تعلق اللہ کے اسماءو صفات کے ساتھ ہو، یا اُس کے احکام کے ساتھ، یا اُس کی شرع کے ساتھ“۔

رہ گئے رسم و رواج، جن کا تعلق عرف اور لوگوں کے اختیار کردہ معمولات سے ہے، تو ان کو ”دین کے اندر بدعت“ نہیں کہا جائے گا، اگر لغت میں ان کو بدعت کہہ دیا جائے، مگر یہ دین کے اندر بدعت نہ ہو گی اور یہ وہ چیز نہیں ہو گی جس سے رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا ہے۔

مجموع فتاویٰ و رسائل ابن عثیمین (2:292)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

انسانی تصرفات خواہ وہ اقوال ہوں یا افعال، دو قسم کے ہیں: ایک عبادات، جن سے ان کا دین سنورتا ہے۔ دوسری عادات، جن سے ان کو دنیا میں واسطہ پڑتا ہے۔ اصولِ شریعت کا استقراءکریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ”عبادات“ جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب یا مستحب ٹھہرایا ہے وہ تو ثابت نہیں ہوتیں سوائے اس کے کہ شریعت خود بتائے۔ رہ گئے عرف و عادات تو یہ وہ اشیاءہیں جن کو لوگوں نے دنیا (کے امور) میں اپنی ضرورت کے تحت آپس میں اختیار کر لیا ہے۔ اِن میں اصل عدم ممانعت ہے، پس اِس صنف میں سے کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی، سوائے کسی ایسی چیز کے جس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرما دی ہو۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد29: ص16،17)

شیخ ابن جبرینؒ کہتے ہیں:

عبادات اور عرف وعادات کے مابین فرق ہے۔ عرف و عادات مباح ہیں۔ آدمی کیلئے مباح ہے کہ اپنے لئے جیسی مرضی تعمیر کرے۔ جیسا مرضی پہنے، جیسی مرضی سواری کرے، اور صنعت و حرفت وغیرہ کا جو کام چاہے کرے۔ یہ بدعت نہیں کہلاتیں۔ ’دنیوی بدعت‘ نام کی کوئی چیز نہیں۔ رہ گئیں ’دین بدعات‘ تو وہ سب کی سب سیئہ (بری) ہیں، ان میں کوئی چیز بدعت حسنہ نہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی جس کو ’بدعتِ جائزہ‘ یا ’بدعتِ مباحہ‘ کہا جائے۔ بلکہ ہر وہ چیز جس کو شریعت کے ساتھ جوڑا جائے گا جبکہ وہ شریعت میں شامل نہیں کر رکھی گئی، تو وہ ناجائز ہے۔

http://ibn-jebreen.com/ftawa.php?vie...52&parent=3601 - 35k –

پس رسوم و عادات میں اصل اباحت ہے یہاں تک کہ اُس سے ممانعت کردینے کا (شرعی) سبب سامنے نہ آئے، مثلا یہ کہ اُس رواج میں کوئی چیز ایسی ہو شریعت میں ناجائز ہے، یا مثلاً اُس میں اسراف اور تبذیر ہوتی ہے، یا اُس میں دولت کی نمائش ہے۔ البتہ کسی رسم یا رواج میں اگر ایسی کوئی بات نہیں تو وہ جائز ہی رہے گی۔

پس اوپر گزرنے والے اِس (اصولی) بیان کی بنا پر: اگر یہ پکوان جو زچہ کیلئے اور اُس کے ہاں آنے والوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے کسی ایسی بات پر مشتمل نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرا رکھا ہے، اور وہ کسی اسراف یا تبذیر یا دوسروں سے بڑھ کر اپنا دولتمند ہونا ثابت کرنے کیلئے تیار نہیں کیا جاتا، تو وہ جائز ہو گا اور اس میں حرج کی کوئی بات نہیں۔

موقع الإسلام سؤال وجواب - حكم إعداد طعام معين للنفساء ولمن يأتي لزيارتها
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-04-10), عادل سہیل (15-04-10), عبداللہ حیدر (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 08:23 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
قبلہ عادل بھائی السلام علیکم،
شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ!
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
احترام سے مخاطب کرنے اور پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمایے ، صدیقی بھائی ،
محترم صدیقی بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِن فرامین پر بھی غور فرمایے ، اِن آیات مبارکہ سے بھی جو کچھ میں نے پہلے بنیادی مضمون میں کہا تھا اُس کی درستگی کا اور سوچ و سمجھ کی جہت کا اندازہ ہو سکتا ہے،
((((( سَيَقُولُ السُّفَهَاء مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُواْ عَلَيْهَا قُل لِّلّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم ::: اب بیوقوف کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا وہ جس پر وہ تھے؟ آپ فرما دیجیے کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے O
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلاَّ عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللّهُ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ::: اور اسی طرح ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو ، اور رسول تم پر گواہ ہوں اور جس قبلہ پر آپ تھے وہ ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ یہ معلوم کر سکیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل واپس جاتا ہے اور بیشک یہ بھاری بات تھی مگر ان پر (نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت دی بے شک اللہ لوگوں پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے O
قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاء فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوِهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُون ::: یقینا ہم بار بار آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھا ہے ، لہذا ہم ضرور آپ کو اُس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے ، لہذا (اب) آپ اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجیے اور تُم لوگ جہاں کہیں بھی ہو (نماز کی ادائیگی کے لیے) اپنے چہرے مسجد الحرام کی طرف پھیر لیا کرو اور بیشک اہلِ کتاب ضرور جانتےہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں و وہ کرتے ہیںO
سورت البقرہ / آیات 142 تا 144،
دیکھا صدیقی بھائی ، بہت سی ایسی باتیں اور کام ایسے ہوتے ہیں جنہیں کرنے والا بھی اُن کی شرعی حیثیت نہیں سمجھ رہا ہوتا بس اچھا سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ کسی طور شریعت کی مخالفت کی حد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں ،
اس دھاگے کا بنیادی مضمون یہی سمجھانے کے لیے لکھا گیا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-04-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (16-04-10)
پرانا 15-04-10, 09:10 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں‌کو ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے۔ دین کو مسجد تک محدود کر دینے کی سوچ کی اسلام میں‌ کوئی گنجائش نہیں‌ہے۔ یہ فکر اصل میں صلیبیوں نے پروان چڑھائی ہے کہ عبادت گاہ میں انسان اللہ کا بندہ اور باہر کی دنیا میں مرضی کا مالک ہے۔ موجودہ محرف و مبدل انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب اس قول کو وہ دین و دنیا کی تقسیم کی دلیل بناتے ہیں کہ "جو (حق) اللہ کا ہے وہ اللہ کو دو اور جو (حق) قیصر (بادشاہ)کا ہے وہ قیصر کو دو"۔ ہمارے پاس اس قول کی درستگی کی کوئی دلیل نہیں‌ہے اور اگر یہ صحیح بھی ہو تو پرانی شریعتوں کے احکام اس امت پر لاگو نہیں ہوتے۔ اللہ کرے کہ قرآن و حدیث کی جو روشنی آپ نے مہیا کی ہے وہ غلط فہمیوں کے شکار بھائیوں کی تاریک خیالی کو حقیقی روشن خیالی میں بدل دے۔
والسلام علیکم
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ،
آپ کی بات ٹھیک ہے ، اسلام میں دین کو مساجد تک محدود کرنے کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ، بلکہ اسلام کی انفرادی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں دیے گئے ہر ایک حُکم پر انسانی معاشرے میں رہ کر ہی عمل کیا جاتا ہے اور اُس پر عمل کرنا عین ممکن ہوتا ہے،
اسلام کو مساجد ، خانقاہوں اور دینی مدارس تک محدود کرنے کی سازش صدیوں سے کام کر رہی ہے ، اور پچھلی چار پانچ دھائیوں سے اس سازش کے اگلے حصہ پر بھی عمل شروع ہو چکا ہے کہ اب اُن مساجد اور دینی مدارس کو بھی محدود و محکوم کیا جائے ، ایسے لوگوں کے کے زیر حکم لایا جائے جنہیں دِین کی کچھ سمجھ نہیں یا جو سمجھ ہے تو اسی منہج کے مطابق ہے جو اسی سازش کا منہج ہے جس کے بنا پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے ، اور افسوس کہ سازشی باہر سے خود تو اتنا کام نہیں کرتے جتنا ان سے شعوری یا لا شعوری طور پر متاثر مسلمان اندر سے کرتے ہیں ،
اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں کے بارے میں میرا حسنء ظن یہی ہے کہ ایسی گمراہ اور گمراہ کن سوچوں اور مناھج کے شکار مسلمانوں کی اکثریت انہیں اپنے معاشرے اور اپنے دِین کی بہتری خیال کرتی ہے اور ان کی حقیقت کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے ان کے لیے کام کرتی ہے ، ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر ، اللہ کی کتاب قران الکریم پر آخرت کے دن ہر قلبی اور جسمانی قول و فعل کا حساب ہونے اور اُس کے مطابق سزا اور جزاء پر ایمان رکھتا ہو اور پھر بھی اپنے عقإئد ، اقوال و افعال میں سے کسی کو اسلام کی کسوٹیوں پر پرکھے جانے سے مستثنیٰ سمجھتا ہو ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ حق سمجھنے ، ماننے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے کہ
اسلام چند مخصوص عقائد اور اقوال و اعمال کا نام نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کے ہر ایک ظاہری اور باطنی قول و فعل پر محیط نظام زندگی ہے ، ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-04-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (16-04-10), عبداللہ حیدر (15-04-10)
پرانا 15-04-10, 09:37 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ عادل بھائی
اللہ ہمیں ہر کام اسلام کے مطابق اور اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے
بھتیجے کا کہنا انتہائی درست ہے کے ہم نے دین کو صرف عبادات کا منبع بنا کر رکھا ہوا ہے جب کے دین اصل میں معاملات کا طریقہ بیان کرتا ہے
اللہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے فیصل بھائی ، اور آپ کی دُعا قبول فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (02-05-10)
پرانا 15-04-10, 09:55 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
:::::::::السلام علیکم

چچا جان یہ مواد بھی ملاحظہ فرمائیں۔سوچ اس میں یہ پیش کی گئی ہے کہ امور کی دو اقسام ہیں ایک وہ جن کو عبادت سمجھ کر کیا جاتا ہے اور دوسرے وہ جن کو عبادت نہیں سمجھا جاتا تو وہ بدعت کے زمرے نہیں آئیں گے مثلا علاقائی رسوم و رواجات وغیرہ۔اگر اسلام نے ان سے روکا نہیں ہے یا ان میں کفار س مشابہت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔::::::::::
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے رقم دو ،
معاشرتی عادات اور رسموں وغیرہ کے بارے میں آپ کی اس بات میں ساری ہی تفصیل پوشیدہ ہے اور یہ بالکل درست ہے کہ """اگر اسلام نے ان سے روکا نہیں ہے یا ان میں کفار سے مشابہت نہیں ہے """" جزاک اللہ خیرا ،
اور یہ جو میں نے آپ کو بھتیجا رقم دو کہا ہے تو فقظ ترتیب زمانی ہے اس کا کوئی اور سبب نہیں، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-04-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (16-04-10)
پرانا 02-05-10, 09:51 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اللہ میاں کرے کہ ہم اپنے سارے کام اسلام کے مطابق کرین
بہت اچھی بات بولی ہے
اسلام چند مخصوص عقائد اور اقوال و اعمال کا نام نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کے ہر ایک ظاہری اور باطنی قول و فعل پر محیط نظام زندگی ہے ،
عادل صاحب یہ تو بتاو کہ ہم لوگ بزرگوں کو ادب سے قبلہ کہتے ہین کیا یہ صیح نہیں ؟
آپ نے جو آیتیں لکھی ہین ان کا کیا مقصد ہے
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 02-05-10, 05:10 PM   #11
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بحث بیکار ہے۔۔۔ سورہ الاحزاب۔۔۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ۔
نہ تاویل نہ منطق نہ جواز نہ حیلہ اور نہ ہی عقلی اُصول۔۔۔
اطیعواللہ واطیعوالرسول
حرب بن شداد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-10, 09:11 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حرب بن شداد مراسلہ دیکھیں
بحث بیکار ہے۔۔۔ سورہ الاحزاب۔۔۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ۔
نہ تاویل نہ منطق نہ جواز نہ حیلہ اور نہ ہی عقلی اُصول۔۔۔
اطیعواللہ واطیعوالرسول
السلام علیکم
حرب صاحب
مشورے کا شکریہ
بحث بیکار ہے ۔۔۔سورت الاحزاب۔۔۔ میں کہاں ہے
جناب بات بحث کی نہین بلکہ اپنی تسلی کرنے کی ہے
مین جو سوال عادل صاحب سے کیا ہے اس میں بحث والی بات کون سی ہے
بحث تو تب ہو نہ جب میرے بات کو کوئی اچھا جواب ملے اور میں غلط بات میں جواب دے کر نہ مانون
اگر عادل صاحب جواب نہین دینا چاہتا تو آپ دے دو جناب
اگر آپ دونون کو جواب نہین آتا تو بتا دو یا چپ رھو
ابھی سے بحث کا الزام تو نہ لگاو حرب صاحب
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-05-10, 11:21 AM   #13
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
حرب صاحب
مشورے کا شکریہ
بحث بیکار ہے ۔۔۔سورت الاحزاب۔۔۔ میں کہاں ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں

اللہ تعالیٰ کے بیش بہا اور ان گنت انعامات اور نوازشات میں سے سب سے بڑی نعمت اور نوازش کا نام ہدایت ہے ۔ اس بیش قیمت خزانے سے متعارف کرانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں کتب و صحائف نازل کئے وہاں ان کی تشریح و توضیح کیلئے اپنے برگزیدہ بندوں کو بھی منتخب فرمایا جنہیں ہم انبیاءو رسل ( علیہم السلام اجمعین ) کہتے ہیں ان مقدس و محترم ہستیوں نے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی اپنی امت کے سامنے وہ احکام اور تعلیمات پیش کیں جن پر عمل پیرا ہو کر ایک بندہ مومن اپنے خالق حقیقی کی رضا جوئی کو حاصل کر سکتا ہے اور آخرت کے بڑے احتساب میں فوز و فلاح کی ضمانت حاصل کر سکتا ہے ۔ کاروان نبوت کا یہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت تک جاری رہا یعنی اس کاروان نبوت اور قافلہ رسالت کے آخری ہدی خواں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن پر نازل کیا جانے والا صحیفہ انسانیت کے پاس اپنی کامل ترین شکل میں موجود اور محفوظ ہے ۔ اور جس کی تشریح و تفسیر اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قیامت تک کیلئے ایک روشن چراغ ہے ۔

اللہ احکم الحاکمین نے امام الانبیاءحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو پوری انسانیت کیلئے اسوہ حسنہ قرار دیا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لقد کان لکم في رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان يرجوا اللہ واليوم الاخر وذکر اللہ کثيرا ( الاحزاب : ٢١ )
” یقینا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بہترین نمونہ ہے ، ہر اس شخص کیلئے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوارہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ۔ “

یعنی تمہارے ہر معاملے میں اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور فیصلے حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رد کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کائنات ارضی و سماوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرح کوئی ذات نہیں ہو سکتی بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی طرح کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات اور فیصلے کو دل و جان سے قبول کرنا ہی مؤمن ہونے کی علامت ہے ۔۔۔

والسلام علیکم۔
حرب بن شداد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-05-10, 09:40 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ایک دفعہ پھر شکریہ لے لو حرب‌صاحب
پر آپ کے جواب میں جواب نہین
جناب یہ تو بتا دو کہ بحث کرنے سے کہاں روکا گیا ہے
اور مین تو ابھی بحث کر ہی نہیں رہا
صرف کچھ سوال پوچھ رہا ہون
آپ لوگ ایک طرف کی بات کرتے ہو اور اسے حدیث سے جوڑ دیتے ہو
دوسرے لوگ کیا حدیث نہیں جانتے
یہ بھی تو کسی حدیث مین ہے نہ
کہ اگر معلوم نہ ہو تو سوال کرو
جناب سوال کا جواب سیدھا اور چھوٹا ہو میرے جیسے کو کچھ فائدہ بھی ہو
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کرے, قول, قبلہ, لوگ, چند, نام, نظام, میاں, مقصد, مطابق, اپنے, اقوال, اللہ, السلام, اچھی, انسانی, ادب, اسوہ رسول, اسلام, بتاو, زندگی, عقائد, عادل سہیل, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیاں عمر کیوں چھپاتی ہے ؟؟؟ ابن جلال گپ شپ 44 16-12-10 07:15 AM
قران پڑھتے ہوئے یا ذکر ازکار کرتے ہوئے ہلا کیوں جاتا ہے ؟؟؟ عادل سہیل اسلامی نظریہ حیات 47 18-10-10 12:26 PM
کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ محمدعدنان عمومی بحث 24 08-09-10 01:59 PM
اجازت کیوں نہیں ہے؟؟؟ محمد عاصم تجاویز اور شکایات 25 17-06-10 07:17 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger