واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور مغربی دنیا



اسلام اور مغربی دنیا اسلام مغرب تک پہنچ چکا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ہر طرف اسلام کا دور دورہ ہو گا، اس سکشن میں ہم مغربی ممالک میں اسلام کے مطالق ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے


لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-01-10, 02:50 PM  
لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔
رفیّعہ جوََِِأد رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے 02-01-10, 02:50 PM

لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔
البقرہ۔آیت۔330
ترجمہ ۔ دین میں کو ئی جبر نہیں
عموماً اس آیت کی تفسیر کچھ اسطرح کی جاتی ہے کہ
دین میں کافروں کو لانے میں کوئی جبر نہیں۔
1400 سو سال کا ایک طویل وقفہ آجانے کے باعث لوگوں کے ذہن میں یہی معنی پختہ ہو گئے ہیں۔
جبکہ ایسا نہیں۔
یہ تو اعادہِ اسلام کی صدی ہے اسلام نے پھر ویسے ہی جوہر دکھانے ہیں جیسے 1400 سو سال پہلے دکھائے تھے۔ اس صدی کو حضور صلی اللّہُ علیہِ وسلّم نے اپنی صدی کہا ہے۔
انا منھم وھم منّی۔
میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔
اور پھر صحابہ کا یہ نعرہ نہ ہوتا کہ
نحنُُُُُ الذِی بایعوامحمّداًعلی الجھادِ ما بقیناَ ابداً
ہم نے نبی کریم صلی اللہُ علیہِ وسلّم کے ہاتھ پر بیعت ہی یہ کی ہے کہ جب تک ذندہ ہیں جہاد کرتے رہیں گے۔
اور جب حضرت علی(رض)فاتح خیبر بننے نکلے۔اور حضرت عائشہ(رض)کے دوپٹّے سے جھنڈا تیار کیا جارہا تھا تو آپ صلی اللہُ علیہِ وسلّم نے حضرت علی(رض) سے فرمایا
“علی اُن سے تین ہی باتیں کرنا چوتھی مت کرنا کہ

قبولِ اسلام ۔ جزیہ ۔ ورنہ جہادِ فی سبیلِ اللہ“

اور اگر اس آیت کا مطلب یہ ہوتا کہ کافر کو دین میں لانے میں کوئی زبردستی نہیں تو قرآن میں 700 آیاتِ جہاد نہ ہوتیں۔اور باقائدہ مسلمانوں کو اُٹھایا نہ گیا ہوتا۔
اور جہاد وہ واحد حکم ہے جو صرف مسلمان پر فرض ہے کسی دوسری قوم پر نہیں۔اس لئے کما کتبَ کے الفاظ نہیں آئے۔
کتبَ عَلیکمُ القتالُ وھوکُرہُ لکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(216 ۔ 2)
تم پر قتال فرض کیا گیا ہے ۔ بظاہر تم کو یہ مکروہ چیز نظر آتی ہے۔مگر بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو تم کراہت کی نگاہ سے دیکھتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے لئے مفید ہوتی ہیں ۔
اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ تم اُن کو چاہتے ہو وہ درحقیقت تمہارے لئے مضر رساں ہے ۔اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے۔ جسطرح کائنات پر حکمرانی کا حق صرف انسان کو حاصل ہے۔اگر انسان یہ حکمرانی چھوڑ دے تو دنیا جھاڑ جھنکار بن جائے ۔
کٹائی چھٹائی کرنی پڑتی ہے۔ کچرے کے ڈھیر سجا کر نہیں رکھتا انسان ورنہ اُس کا جینا مشکل ہو جائے گا۔
یہی ذمّہ داری اللہ نے روحانیت میں مسلمان کو دی ہے ۔
جب انسان کو کائنات پر حکمرانی کے لئے کسی جانور ،پھول ،پودوں سے اجازت کی ضرورت نہیں ۔پوری کائنات کے ساتھ اُس کی زبردستی چلتی ہے ۔ مزے کی بات تبلیغ کی بھی
ضرورت نہیں ۔ پانی کی طاقت کو روک کر ڈیم بناتا ہے،پھول توڑ کر اپنا گلدان سجاتا ہے،درخت کی لکڑی توڑ کر اپنے لئے فرنیچر بناتا ہے،جانور کی کھال سے جوتے اور بیگ
وغیرہ بناتا ہے،حتیٰ کہ اُس کا گوشت کھا کر مزے سے ڈکار لیکر پیٹ پر ہاتھ پھیر کر کہتا ہے الحمدُللہ ۔
اور جب اللہ کے دین کو منوانے کی بات ہو تو(یاد رہے یہ ادائیں صرف مسلمان کے حصّے میں آئیں ہیں کافر کو حق نہیں کہ مسلمان کو تبلیغ کرے)۔ کہتا ہے کہ دین میں زبردستی
نہیں۔ کیوں تمہیں اللہ نے وہ مقام نہیں دیا جو اس کائنات میں ایک انسان کا ہے؟ تم قرآن کو اِس انداز سے پڑھ کر تو دیکھو خود کو انسان کے مقام پر رکھ کر تو دیکھو۔ پورا قرآن ایک لڑی کی طرح تمہارے ہاتھ میں ہوگا اور ذرا ذرا سی بات کے لئے تم کو حوالے مانگنے نہیں پڑیں گے۔ نہ کسی عالم کے پیچھے بھاگنا پڑے گا۔تمہارے اندر کا انسان خود جواب
دیگا ۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہُ علیہِ وسلّم نے مسلمان کو وہ ادائیں سکھائیں جو کسی سابقہ نبی(ع) نے نہیں سکھائیں ۔ سکھانے کا حق ہی نہیں تھا کیسے سکھاتے۔
چنانچہ اوّل مسلمان کا جب بچّہ پیدا ہوتا ہے تو ایک کان میں اذان جو خود ایک پانچ وقت کی دعوتِ تبلیغ ہے۔ جو ایک مسلمان ممبر پر کھڑے ہوکر اپنے وجود سے اللہ اور رسول کی شہادت دیتے ہوئے کافر کو پیش کرتا ہے اور اُس کی پکار پر سارے مسلمان مقتدی بن جاتے ہیں۔ اور صلٰواہ قائم ہو جاتی ہے گویا ایک کان سے دوسرے کان ۔ تک ہی وقفے کی اجازت دی اللہ نے۔ پھر باقائدہ حکومتی سطح سے مستقل تبلیغ ہو کافروں میں۔ یہاں یاد رہے مسلمان کو تبلیغ نہیں کی جاسکتی ۔ تبلیغ کے لئے تین وجودوں کا ہونا ضروری ہے۔
1) پہنچانے والا
2) لینے والا
3) وہ چیز جو پہنچائی جارہی ہے ۔
گویا اگر لینے والے کے پاس پہلے سے وہ چیز موجود ہے تو وہ تبلیغ نہیں اصلاح کہلائے گی۔
تیسری بات ہر مسلمان ملک میں کافروں سے جزیہ لیا جانا۔ جو اس بات کو ظاہر کرے کہ تم غلام ہو مسلمان ہو جاؤ گے تو جزیہ سے بچ جاؤ گے۔
جب یہ تمام کام مسلسل ہوں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کافر تبلیغِ اسلام میں رُکاوٹ پیدا نہ کرے۔ بس یہی ہے۔
تبلیغ کی رُکاوٹوں کو دور کرنے کا نام جہاد ہے
جس نے تبلیغ نہیں کی وہ جہاد نہیں کر سکتا
آپ ایک مُرغی کو ذبح نہیں کر سکتے جب تک کلمہِ حق اُسکے سامنے نہ رکھ دیں تو ایک کافر کو کیسے مار سکتے ہیں جب تک اُسے کلمہِ حق پیش نہ
کردیں۔
تو لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔ کا مطلب مسلسل کافر کے سامنے دعوتِ تبلیغ ہے۔
اور فرمایا رشد کی راہ تم پر غئ سے واضح ہو چکی ہے اے مسلمانوں تم پر دین کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں زبردستی نہیں ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایک دوسرے کی گردنیں مت پکڑو ورنہ اصل کام جو کافروں میں تبلیغ کا ہے وہ کر نہیں پاؤ گے۔
جاگو اے مسلمانوں
تم ایک دوسرے کی گردن پکڑنے کے لئے نہیں بلکہ کافر کی گردن پکڑ کر دائرہِ اسلام میں لانے کے لئے پیدا ہوئے ہو۔
گھروں میں جھگڑے پیدا کرنا عورتوں کا کام ہوتا ہے۔ تم مردِ میدان بنو۔ اللہ کے واسطے کافر کو مسلسل دعوتِ اسلام کا سامان پیدا کرو۔
اس سے پہلے کہ پانی مزید سر سے گزر جائے۔
اللہ مسلمان کی حفاظت فرمائے ۔آمین

رفیعہ جوّاد

رفیّعہ جوََِِأد
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 699
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), راجہ اکرام (02-01-10), سحر (02-01-10), غلام مجتبی جان (17-01-10)
پرانا 06-01-10, 08:49 PM   #31
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
جناب فاروق صاحب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ،کیوں کہ وہ یزید کے لشکر میں شامل ھوئے بغیر ہی مجاھد اسلام ہیں اور شہید اسلام بھی؟
اور حجاج کے خلاف کھڑے ھونے والے صحابہ کے جہاد کو کیا کہتے ہیں آپ؟ فساد فی العرض؟
وہ جہاد کا پیغام لے کر ہر گز نہیں گئے تھے۔ اس وقت بھی ان کے دو مطالبے تھے۔ مجھے واپس جانے دو۔ یا پھرمجھے اور یزید کو اپنے معاملات خود دیکھنے دو اور مجھے اس تک جانے دو۔
جنگ اپ پر مسلط کی گئی تھی۔ اپ جنگ اور جہاد کی نیت لے کر نہیں گے تھے۔ اور نہ ہی اپ نے ان بدکرداروں کو جنگ کے لیے پہلے للکارہ تھا۔ اس لیے یہ اپ کی جہاد کی ترکیب میں فٹ نہیں ہوتی۔ اور اپنے خیالات کے لیے اس طرح دوسروں جلیل القدر ہستیوں کو بحث کا حصہ نا بنایا کریں۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (29-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10)
جواب

Tags
فرض, کرنی, وقت, قرآن, نام, نظر, ملک, مسلمانوں, انداز, انسان, اسلام, جواب, حکم, دیکھو, دیں, دنیا, ذرا, سال, عورتوں, عالم, عائشہ, غلام, صحابہ, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger