| اسلام اور مغربی دنیا اسلام مغرب تک پہنچ چکا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ہر طرف اسلام کا دور دورہ ہو گا، اس سکشن میں ہم مغربی ممالک میں اسلام کے مطالق ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 542
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فتویٰ نمبر ایک: مشینی ذبیحہ حلال ہے ذبیحہ اہل کتاب کے بارے میں آپ کے استفسار کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ۔ ۔ ۔ ۔ جس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اہل کتاب کا کھانا حلال کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ ’’اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے حلال ہے‘‘ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ’’ اہل کتاب کا کھانا تمدہارے لیے حلال ہے‘‘ (و طعام الذین اُوتُو الکتاب حل لکم)۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے پادری اور اہل دین جو کھانا بھی کھاتے ہیں ’’بجز لحم خنزیر‘‘ وہ مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ذبیحہ پر یہ شرط عائد نہیں کی گئی کہ اُس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا وہ اہل اسلام کے طریقے پر ذبح کیا گیا ہو۔ سورہ المائدہ (رکوع 1) میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دین کو مکمل کر کے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے واضح ہے کہ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی۔ اس سلسلے میں لطیف بات یہ ہے کہ جس آیت میں طعام اہل کتاب کی اباحت کا حکم دیا گیا ہے وہ مذکورہ تکمیل دین والی آیت سے صرف چند سطور کے فاصلہ پر وارد ہے، جس کا قریبی تعلق یہ بتاتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا دین مکمل اور دائمی ہے اور اس کے دوسرے احکام ابدی اور ناقابل تنسیخ و تغیر ہیں اسی طرح طعام اہل کتاب کی حلت کا حکم بھی اٹل ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے کسی خاص زمانے کے ساتھ وابستہ نہیں رکھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ حکم نازل کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آئندہ چل کر اہل کتاب کے ہاں جانوروں کو سر میں میخ مار کر ذبح کرنے کا طریقہ جاری ہو گا علاوہ ازیں خود نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم کا عمل موجود ہے کہ ایک بار ایک یہودی عورت نے آپ کو زہر آلود بکری دعوت میں پیش کی۔ اور آپ نے یہ دریافت کیے بغیر اُسے تناول فرما لیا کہ اس بکری کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہے یا نہیں یا اس کے ذبح کرنے میں کون سا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ چناچہ اسی ضمن میں آپ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال ٹھہرا دیا وہ حلال ہے اور جسے حرام قرار دے دیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے، جس کی ذات نسیاں سے پاک ہے، محض اپنی رحمت سے سکوت فرمایا ہے تم اس کے متعلق کرین مت کرو‘‘ ۔۔۔۔ نیز اپ نے فرمایا : جس چیز کی صراحت میں نے تم سے نہیں کی اس کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگ بھی انبیا سے بکثرت سوالات کرنے اور اختلافات کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پس جب میں کسی چیز سے تم کو روک دوں تم اس سے رک جاؤ اور جب کسی کام کا حکم دوں تو اُسے جہاں تک کر سکتے ہو کرو۔ امام ابن العزی المعافری نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ اگر عیسائی مرغی کی گردن تلوار سے اڑا دیتا ہے تو مسلمان کے لیے اس کا کھا لینا جائز ہے۔ یہی حکم ان بند ڈبوں کے گوشت کے بارے میں اختیار کیا جائے گا جنہیں یہودی اور عیسائی تیار کرتے ہیں۔ یہود نصاریٰ کے بارے میں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ ان کے جن افراد پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دعوت کی حجت تمام ہو چکی ہے وہ اگر خدا کا ذکر بھی کریں تو ان کا ذکر اللہ اس وقت تک مقبول نہیں ہو گا جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔ اس لیے ذبح کرتے وقت ایسے افراد کا اللہ کا نام لینا یا نا لینا یکساں ہے۔ البتہ جن تک دعوت نہیں پہنچی اور حجت قائم نہیں ہوئی وہ اپنے پہلے دین پر قائم ہیں اور وہ صحیح ہے جس جانور کو مشرک ذبح کرے ، جو یہودی یا عیسائی نہیں ہے، تو اس نے بوقت ذبح خواہ ہزار مرتبہ بھی اللہ کا نام لیا ہو، اُس کا کھانا حلال نہیں ہے۔ اس کے برعکس مسلمان کا وہ ذبیحہ جس پر اللہ کا نام لینا اُسے یاد نہ رہا ہو حلال ہے۔ اور اسکا کھانا جائز ہے۔ کیونکہ ہر مومن کے دل میں اللہ کا ذکر ہر حالت میں موجود ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے گوشت کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اہل بادیہ شہر لے کر آتے تھے اور جس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ انہوں نے جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تم خود اللہ کا نام لے لو اور اُسے کھا لو)۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ سے رومی پنیر کے بارے میں دریافت کیا گیا اور آپ کو بتایا گیا کہ اس پنیر کو اہل روم خنزیر کے بچوں کے چُستے سے بناتے ہیں۔ آپ نے جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ ’’ میں ایک حلال چیز کو حرام نہیں کر سکتا‘‘ اور مزید سائل کی بات کی طرف دھیان نہ دیا (اینڈ نوٹ 1 دیکھیے) اس موضوع پر فقہا نے جو قواعد مستنبط کیے ہیں ان میں سے ایک قائدہ یہ ہے کہ ’’محض شک کی بنا پر طعام کو رد نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ نیز یہ قاعدہ بھی قابل لحاظ ہے کہ اللہ کے دین میں آسانی ہے تم اسے آسان ہی رکھو۔ سخت نہ بناؤ اور لوگوں کو اس سے متنفر نہ کرو‘‘ اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اینڈ نوٹ 1: اس روایت کے ماخذ کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے اس لیے تحقیق نہیں کی جا سکتی۔ ابو داؤد کتاب الاطعمہ میں جو روایت آئی ہے اس میں صرف اتنا ذکر ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حضور صل اللہ علیہ وسلم کے لیے پنیر لایا گیا اور آپ نے چھری منگوا کر اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹ کر نوش فرما لیا۔ خطابی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ پنیر چُستے سے جمایا جاتا تھا یعنی جانور کے دودھ پیتے بچے کو کاٹ کر اس کا معدہ نکال لیا جاتا اور اس کے ذریعہ سے پنیر بنانے کے لیے دودھ جمایا جاتا تھا۔ اور یہ صنعت کفار اور مسلمانوں کی مشترکہ تھی۔ ابو داؤد نے یہ روایت اس لیے نقل کی ہے کہ نبی کریم نے اسے مباح سمجھا کیونکہ بظاہر اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ مسند احمد میں ایک روایت ابن عباس سے آئی ہے کہ ایک لڑائی میں حضور کے پاس پنیر کا ایک ٹکرا لایا گیا۔ آپ نے پوچھا کہاں کا بنا ہوا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ایران کا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ مرادر سے بنتا ہے (یعنی ایسے جانور کے چُستے سے جسے غیر اہل الذبح یعنی مجوسی ذبح کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اللہ کا نام لے کر کاٹو اور کھا لو۔ لیکن اس قصے کو ابن عباس کے شاگرد عکرمہ کے حوالہ سے روایت کرنے والا شخص مشہور کذاب جابر جعفی ہے اس لیے یہ روایت قابل قبول نہیں ۔ عکرمہ ہی کی دوسری روایت جو ابو داؤد طیاسی نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے نقل کی ہے اس میں مردار کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صرف ایران کے بنے ہونے کا ذکر ہے۔ اب یہ بات تحقیق طلب ہے کہ یہ روایت جس میں پنیر جمانے کے لیے بچہ خنزیر کے چُستے کا استعمال جائز قرار دیا گیا ہے جس کتاب میں کس سند سے وارد ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف) Last edited by حیدر; 11-04-11 at 08:42 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ اس کو علحدہ ٹاپک کی صورت میں لگا دیں تو مہربانی ہو گی۔ کیونکہ مجھے ابھی بہت لکھنا باقی ہے۔ ترتیب خراب ہو جائے گی۔ شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (10-04-11), مرزا عامر (11-04-11), معظم (10-04-11), حیدر (09-04-11), عبداللہ آدم (10-04-11) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ جن عالم صاحب نے لیا ہے انہی سے پوچھنا چاہیے۔ یہ فتویٰ دینے والے صاحب عراق سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم ان کے دلائل کا تفصیلی تجزیہ ایک اور "حامی مشینی ذبیحہ" کا فتویٰ پیش کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ اُس میں اس بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ویسے میرے خیال میں یہی کلیہ درست ہے کہ دین کو آسان یعنی سادہ رکھنا چاہیے۔ جتنا پیچیدہ ہو گا اتنا ہی لڑائیاں اور اختلافات بڑھتے چلے جائیں گے۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی وہ بوجھل احکام سے پاک ہے اور اس کا امتیازی وصف ہی یہ ہے کہ وہ نہایت آسان اور رخصتوں والی شریعت ہے حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ (احمد ج ۵ص۲۶۶) ” مجھے ایسے دین کے ساتھ بھیجا گیا ہے جو سیدھا اور آسان ہے۔ ” دوسری حدیث میں ہے کہ:: بشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا. وشخبری دینے والے بنو نہ کہ تنفر پیدا کرنے والے، آسانی کرنے والے بنو نہ کہ مشکل ڈالنے والے.سنن أبي داؤود. |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے پوچھنے کی وجہ یہی تھی کے یہ حقیقت سے قریب تر لگتا ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
2:256 لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے دین میں آسانی ضرور ہے لیکن اس کہ وجہ ہدایت اور گمراہی کا فرق ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ لحم الخنزیر نا کھایا جائے۔ اور ہدایت یہ بھی ہے کہ صاحب الکتاب کا کھانا کھا لیا جائے۔ اور ہدایت یہ بھی ہے کہ صاحب الکتاب مشرک نہیں ہوتا۔ پھر عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کے تخت پر بٹھاتے ہوئے عیسائی کس زمرےمیں آتے ہیں؟ یہودی، خنزیرنہیں کھاتے۔ اس پر مزید بعد میں ۔ بنیادی امر یہ ہے کہ اس آیت کا اطلاق ہدایت اور گمراہی کے فرق و امتیاز کے بعد دین میں کسی زبردستی کے بارے میں ہے۔ انشاء اللہ مزید حیدر کا مضمون ختم ہونے کے بعد۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
||
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
لا اکراہ فی الدین.............. دین اسلام کے اندرونی امور سے بحث نہیں کرتا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ کوئی اسلام میں انا چاہے یا نہیں ...............کوئی جبر نہیں.
ہاں دین میں آنے کے بعد اللہ کے احکامات کی پابندی کرنا ہوگی!!! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشینی ذبیحہ کی حمایت میں دوسرا اور آخری فتویٰ فتویٰ نمبر دو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’ الیوم اُحل لکم الطیبات، و طعام الذین اُوتو الکتاب حل لکم ۔۔۔۔‘ یہ حکم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اہل کتاب کا طعام ، جس میں ان کا ذبیحہ اور غیر ذبیحہ سب شامل ہے، مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اہل کتاب ذبیحہ پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں ، یہ اللہ کے علم میں ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ تعالیٰ نے انکا کھانا حلال قرار دیا ہے خواہ وہ تسمیہ کے ساتھ ہو یا بغیر تسمیہ کے۔ شیخ زادہ تفسیر انعام میں لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کا قول ’’ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاو بظاہر ان تمام اشیا کی تحریم پر دلالت کرتا ہے جن پر اللہ کا نام لینا عمدا یا نسیاناَ ترک ہو گیا ہو۔ داود ظاہری کا یہی مذہب ہے۔ امام احمد سے بھی اسی طرح کا مسلک مروی ہے۔ امام مالک اور شافعی نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ وہ ذبیحہ مسلم کو ہر صورت میں حلال قرار دیتے ہیں خواہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ۔ ان کا استدلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر مبنی ہے کہ ’’ذبیحۃ المسلم حلال و ان لم یزکر اسم اللہ علیھا‘‘۔ امام ابو حنیفہ نے عمداَ تسمیہ کرنے اور نسیاناَ تسمیہ ترک ہو جانے میں فرق کیا ہے۔ جس طعام پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو علما نے اسے فسق قرار دیا ہے (جیسا کہ قرآن میں آتا ہے او فسقھا اُھل لغیر اللہ بہ) علما کی یہ تاویل اس صورت میں ہے جب کہ 'انہہ لفسق' کی ضمیر 'مما لم یُذکر' میں کلمہ' مَا' کی جانب راجع ہو۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ضمیر کا مرجع 'و لاتاکلو' میں صدر 'اکل' کو بنا لیا جائے۔ (اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جس طعام پر غیر اللہ کا نام لیا جائے اس کا کھانا فسق ہے) اس کے بعد شیخ زادہ اس مجمل کلام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’یہ رائے کہ آیت و لا تاکلو ۔۔۔۔۔الخ ان تمام اشیا کی تحریم پر دلالت کرتی ہے جن پر اللہ کا نام قصداَ یا نسیاناَ متروک ہو گیا ہو اس وجہ سے ہے کہ آیت عمومی مفہوم رکھتی ہے اور کھانے پینے کی تمام اشیا کو شامل ہے۔چناچہ عطا نے اسی مفہوم کو لیا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ چیز حرام ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ خواہ وہ ماکولات میں سے ہو یا مشروبات میں سے۔ لیکن جمہور علما کا اجماع ہے کہ آیت کا اطلاق صرف اس جانور پر ہے جس کی جان اللہ کا نام لیے بغیر زائل ہو گئی ہو۔ ایسے جانور کی تین حالتیں ہو سکتی ہیں ۱: اسی ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ کسی دوسرے طریقے سے اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ ۲: اسے ذبح کیا گیا ہوں لیکن غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ ۳: یا اس پر اللہ یا غیر اللہ، کسی کا نام نہ لیا گیا ہو۔ پہلی دونوں شکلوں میں بلااختلاف اس کا گوشت حرام ہے۔ تیسری قسم مختلف فیہ ہے اور اس میں تین قول ملتے ہیں ۱: وہ مطلق حرام ہے جیسا کہ آیت و لا تاکلو ۔۔۔۔الخ کے عموم سے واضح ہوتا ہے جو کہ تینوں شکلوں کو شامل ہے۔ ۲: مطلق حلال ہے ۔یہ امام شافعی کا مسلک ہے ۔ ان کے نزدیک متروک التسمیہ ذبیحہ ہر صورت میں حلال ہے ، تسمیہ کا ترک خواہ عمداَ ہوا ہو یا نسیانا۔ بشرطیکہ اسے اہل الذبح نے ذبح کیا ہو۔ امام موصوف آیت کے عموم کو ’’المیۃ‘‘ اور ’’اھل لغیر اللہ بہ‘‘ والی آیات کے ساتھ خصوص میں تبدیل کر کے اس کی دلالت کو صرف اول الذکر دو شکلوں تک محدود کرتے ہیں، تیسری شکل کے جواز میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر مومن کے دل میں ہر حالت میں اللہ کا ذکر بھی موجود ہئ۔ اس پر عدم ذکر کی کبھی حالت طاری نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کا ذبیحہ بھی ہر صورت میں حلال ہے۔ اس کی حلت اس وقت حرمت میں تبدیل ہو گی جب کہ ذبیحہ پر غیر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذبیحہ بغیر تسمیہ کو فسق فرمایا ہے۔ بہر حٓل اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ جس جانور کو مسلمان نے ذبح کیا ہو اور اس پر ذکر اللہ ترک کر دیا ہو اس کا گوشت کھانا فسق کے حکم میں نہیں ہے۔ کیونکہ آدمی کسی اجتہادی حکم کی خلاف ورزی سے فسق کا مرتکب نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ ’’بما لم یذکر اسم اللہ’’ کا اطلاق صرف پہلی دو شکلوں پر ہو گا۔ اس کی تائید اگلی آیت ‘‘شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں’’ سے بھی ہوتی ہے ۔کیونکہ اولیا الشیاطین کا مجادلہ صرف دو مسئلوں پر تھا۔ پہلا مردار کے مسئلہ پر تھا۔جس کے بارے میں وہ مسلمانوںپر یہ اعتراض کرتے تھے کہ ‘‘جسے باز اور کتا مارے اُسے تم کھا لیتے ہو اور جسے اللہ مارے اُسے تم نہیں کھاتے’’ اور دوسرا جھگڑا غیر اللہ۔۔۔۔یعنی بتوں وغیرہ۔۔۔۔کے نام پر ذبح کرنے کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ اور مسلمانوں سے کہتے تھے ‘تمہارا بھی خدا ہے اور ہمارے بھی خدا ہیں۔ تم اپنے خدا کے نام پر جو ذبح کرتے ہو ہم اُسے کھا لیتے ہیں لیکن جسے ہم اپنے خداوں کے نام پر ذبح کرتے ہین تم اسے کیوں نہیں کھاتے ہو’’۔ چونکہ انہی دونوں مسئلوں پر ان کا مجادلہ تھا اس لیے ولا تاکلو کی نہی انہی دونوں صورتون کے لیے مخصوص ہے۔ نیز آیت کے اختتام میں اللہ کا ارشاد ہے ’’ اگر تم نے انکی اطاعت قبول کر لی تو یقیناَ تم مشرک ہو گئے’’ اس ارشاد کی رُو سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اطاعت کفار ومشرکین متروک التسمیہ طعام کھا لینے سے نہیں ہو گی بلکہ مردار کو مباح ٹھہرانے اور بتوں پر جانوروں کی قربانی دینے اور ذبح کرنے سے ہو گی۔ ۳۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام عمداَ۔ ترک کیا تو اسکا ذبیحہ حرام ہے اور اگر اس سے سہواَ ترک ہوا ہے تو ذبیحہ حلال ہے۔ امام ابو حنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ آیت ولا تاکو میں تینوں شکلیں داخل ہیں اور تینوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے لیکن سہواَ۔ متروک التسمیہ زبیحہ اس آیت کے حکم سے دو وجوہ دے خارج ہے۔ اولاَ اس لیے کہ ‘انہ لفسق’’ کی ضمیر ‘‘لم یذکر اسم اللہ’’ کی جانب راجع ہے ۔کیونکہ یہ قریب ہے اور ضمیر کو قریبی مرجع کی جاب لوٹانا اولیٰ ہے۔ پس بلاشبہ تسمیہ کو قصداَ تظر انداز کرنے والا فاسق ہے۔ لیکن جو سہو کا شکار ہو گیا ہو وہ غیر مکلف ہے اور خارج از حکم ہے۔ اس لیے ایت کے یہ معنی ہوں گے کہ جس جانور پر عمداَ اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائیں اور ناسی خود بخود حکم سے مستثنیٰ قرار پائے گا۔ دوسری دلیل امام صاحب یہ دیتے ہیں کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے دریافت کیا کہ اگر جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اس کے گوشت کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا ‘‘اُس کا گوشت کھا لو۔ اللہ کا نام ہر مومن کے دل میں موجود ہے’’ ‘‘اوتو الکتاب’’ میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں اس لیے بحکم آیت ‘و طعام الذین اوتو الکتاب’ یہود ونصاریٰ کے ذبائح ہمارے لیے حلال ہیں خواہ انہوں نے غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کئے ہوں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ‘‘اگر نصاریٰ مسیح کے نام پر جانور کریں تو اس کا گوشت کھانا ہمارے لیے حلال نہیں’’ لیکن علما کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ مسیح کے نام پر بھی ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے (اینڈ نوٹ دیکھیے)۔ ایک بار امام شعبی اور عطا سے دریافت کیا گیا کہ اگر نصاریٰ مسیح کے نام پر ذبح کریں تو کیا اس جانور کا گوشت مسلمانوں کے لیے حلال ہے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ نصاریٰ کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے ذبائح کو ہمارے لیے جب حلال کیا ہے تو اس کے علم میں تھا کہ نصاریٰ بوقت ذبح کس کا نام لیں گے’’ اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ: یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ مسیح کے نام پر کسی جانور کا ذبح کیا جانا صریح طور پر ما اھل لغیر اللہ بہ کی تعریف میں آتا ہے۔ اس کے حلال ہونے پر علما کی اکثریت کیسے متفق ہو سکتی ہے۔ الفقہ علیٰ المذاہب الاربعہ جلد اول میں اس کے متعلق مذاہب اربعہ کا جو مسلک نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے : حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص ذبح کے وقت مسیح کا نام لے تو اسکا کھانا حلال نہیں ہے (صفحہ ۷۲۶) مالکیہ ذبیحہ کی حلت کے لیے شرط لگاتے ہیں کہ اس پر غیر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (صفحہ ۷۲۶) شافعیہ مسلمان کے ذبیحہ کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ جانور ذبح کرتے ہوئے اللہ کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے لے اور اس سے اس کی نیت شرک کی ہو تو اسکا ذبیحہ حرام ہو جائے گا (صفحہ ۷۲۹) حنابلہ کہتے ہیں کہ نصرانی اگر ذبح کے وقت مسیح کا نام لے لے تو اسکا ذبیحہ حلال نہیں ہے (صفحہ ۷۳۰) سوال یہ ہے کہ مذاہب اربعہ اس کی حرمت پر متفق ہیں تو وہ کن علما کی اکثریت ہے جو اسے حلال قرار دیتی ہے؟ از: مصنف Last edited by حیدر; 11-04-11 at 08:45 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب تک میں نے اُن کی رائے پیش کی ہے جو مشینی ذبیحہ جو حلال تصور کرتے ہیں۔
آئندہ کے مراسلہ جات میں ، میں مشینی ذبیحہ کے حلال نہ ہونے سے متعلق قرآن و حدیث سے کی گئی ریسرچ پیش کروں گا ۔ پیش کرنے والے صاحب کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آرا کو "فتویٰ" کے بجائے تحقیق کہنا پسند کرتے ہیں۔ چناچہ آئیندہ کے مراسلہ جات میں جو کُچھ آئے گا اُس کو فتویٰ مت سمجھیے گا۔لیکن وہ معاملہ صاف کر دے گا۔تھوڑا سا تفصیلی ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم!
میرا سوال مکمل ہونے کے بعد۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبردست کنعان بھائی۔ آپ نے تو ان مراسلہ جات کو پڑھنے کے قابل بنا دیا۔ میں نے تو گِچ مِچ کیا ہوا تھا۔
![]() پتا نہیں کب مجھے اچھا اچھا کام کرنا آئے گا
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (11-04-11) |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج سے میں دوسرا موقف پیش کرنا شروع کر دوں گا انشا اللہ۔ ایک تو نامعقول مصروفیات اچانک سے بڑھ گئی ہیں۔ اینڈ ائی ہیٹ مصروفیات
خیر دوسرے موقف پڑھنے کے بعد کم از کم یا تو آپ اس مشینی ذبیحہ سے اجتناب کرتے رہیے گا ۔نہیں تو اگر اول الذکر موقف زیادہ بہتر لگے تو پھر تو موجاں ای موجاں ۔ برطاینیہ کا ہر ریسٹورینٹ آپ کے لیے کھلا ہوا ہو گا۔ ٹوٹ پڑنا۔
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحقیق مسئلہ از مصنف
یاد رہے کہ مصنف کا کہنا تھا کہ وہ فتوے نہیں دیا کرتے۔ اس لیے انکی رائے کو فتویٰ کا نام نہیں دیا گیا۔حیدر علمائے عراق کے یہ دونوں فتوے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ ان سے پہلے فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف صاحب اور ان سے بھی پہلے مفتی محمد عبدہ اور علامہ رشید رضا تسمیہ اور تذکیہ کے بغیر نصاریٰ کے ذبیحوں کو حلال قرار دے چُکے ہیں۔ اس معاملہ میں ان سب حضرات کے دلال قریب قریب یکساں ہیں۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم ان دلائل پر کوئی بحث کریں ، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ مسئلہ بجائے خود کیا ہے۔ حیوانی غذاوں کے متعلق قرآن کی عائد کردہ قیود: قرآن مجید میں گوشت کے استعمال پر جو حدود و قیود عائد کی گئی ہین اور پھر احادیث صحیحہ میں نبی کریم ﷺ نے انکی جو تشریحات فرمائی ہیں وہ حسب ذیل ہیں: وہ اشیا جن کا کھانا حرام ہے: اولین قید، جسے قرآن میں چار جگہ صاف صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ مردار ، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جسے اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، حرام ہے۔ یہ حکم مکی سورتوں میں سے سورہ انعام (آیت ۱۴۵) اور سورہ نحل(آیت ۱۱۵) میں وارد ہوا ہے اور مدنی سورتوں میں سے سورہ بقرہ (آیت ۱۷۳) اور سورہ مائدہ(آیت ۳) میں اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔ سورہ مائدہ، جو آخری احکامی سورہ ہے، اس پر دو مزید باتوں کا اضافہ کرتی ہے۔ اول یہ کہ صرف وہی مردار حرام نہیں ہے جو طبعی موت مرا ہو، بلکہ وہ جانور بھی حرام ہے جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ لگ کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔ دوم یہ کہ جو جانور مشرکین کی قربان گاہوں پر ذبح کیاجائے وہ بھی حرمت کے حکم میں ‘ما اھل لغیر اللہ بہ’’ کے ساتھ شریک ہے۔خواہ اس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے۔ نبی ﷺ نے ان حام اشیا میں گدھے اور کچلیوں والے درندوں اور پنجوں والے شکاری پرندوں کو بھی شامل فرمایا ہے جیسا کہ بکثرت احادیث صحیحہ سے ثابت ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو نیل الاوطار، کتاب الاطعمہ و الصید و الذبائح) ذبح کے لیے تذکیہ کی شرط دوسری قید قرآن مجید یہ بیان کرتا ہے کہ صرف وہی جانور حلال ہیں جس کا تذکیہ کیا گیا ہو۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ہوتا ہے : ‘‘حرام کیا گیا تم پر مرا ہوا جانور۔۔۔۔اور گلا گھونٹا ہوا اور چوٹ کھایا ہوا اور گرا ہوا اور ٹکر کھایا ہوا اور جس کو درندے نے پھاڑا ہو ، بجز اس کے جس کا تم نے تزکیہ کیا ہو’’ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس جانور کی موت تذکیہ سے واقع ہوئی ہو صرف وہی حرمت کے حکم سے مستثنیٰ ہے، باقی تمام وہ صورتیں جن میں تذکیہ کے بغیر موت واقع ہو جائے، حرمت کا حکم ان سب پر جاری ہو گا۔ تزکیہ کے مفہوم کی کوئی تشریح قرآن میں نہیں کی گئی ہے اور نہ لغت اس کی صورت متعین کرنے میں زیادہ مدد کرتی ہے۔ اس لیے لا محالہ اس کے معنی متعین کرنے کے لیے ہم کو سنت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ سنت میں اس کی دو شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک شکل یہ ہے کہ جانور ہمارے قابو میں نہین ہے، مثلاَجنگلی جانور ہے جو بھاگ رہا ہے یا اُڑ رہا ہے یا وہ ہمارے قابو میں تو ہے مگر کسی وجہ سے ہم اس کو باقاعدہ ذبح کرنے کا موقع نہیں پاتے۔ اس صورت میں جانور کا تزکیہ یہ ہے کہ ہم کسی تیز چیز سے اس کے جسم کو اس طرح زخمی کر دیں کہ خون بہہ جائے اور جانور کی موت ہمارے پیدا کردہ زخم کی وجہ سے خون بہنے کی بدولت واقع ہو۔ حدیث میں نبی کریمﷺ اس صورت کا حکم ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں ‘‘جس چیز سے چاہو خون بہا دو’’ (ابو داود۔نسائی) دوسری شکل یہ ہے کہ جانور ہمارے قابو میں ہے اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ذبح کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں باقاعدہ تذکیہ کرنا ضروری ہے اور اس کا طریقہ سنت میں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اونٹ اور اس کے مانند جانور کو تحر کیا جائے اور گائے بکری یا اس کے مانند جانوروں کو ذبح۔ نحر سے مراد یہ ہے کہ جانور کے حلقوم میں نیزے جیسی تیز چیز زور سے چبھوئی جائے تاکہ اس سے خون کا فوارہ چھوٹے اور خون بہ بہ کر جانور بالاخر بے دم ہر کر گر جائے۔ اونٹ ذبح کرنے کا یہ طریقہ عرب میں معروف تھا ،قرآن میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے (فصل لربک و انحر) اور سنت نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اسی طریقہ سے اونٹ زبح کیا کرتے تھے۔ رہا زبح تو اس کے متعلق احادیث میں حسب ذیل احکام وارد ہوئے ہیں ‘‘حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے حج کے موقع پر بُدیل بن ورقا خُزاعی کو ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر بھیجا تاکہ منیٰ کے پہاڑی راستوں پر یہ اعلان کر دیں کہ ذبح کی جگہ حلق اور لبلبہ کے درمیان ہے (یعنی گردن کے اوپر سے نہیں کہ پہلے نخاع کٹ جائے بلکہ اندرونی حصہ سے جہاں نرخرہ واقعہ ہے۔مصنف) اور ذبیحہ کی جان جلدی سے نہ نکال دو’’ (دار اقطنی) ابن عباس سے روایت ہے کہ ‘‘آنحضرت ﷺ نے اس بات سے سختی سے منع فرمایا کہ ذبح کرتے ہوئے آدمی نُخاع تک کاٹ ڈالے’’ (طبرانی) اسی مضمون کی روایت امام محمد نے سعید بن المسیب سے بھی روایت کی ہے جس کے الفاظ ہیں ‘‘ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا کہ بکری کو ذبح کرتے وقت نخاع تک کاٹ ڈالا جائے’’۔ ان احادیث کی بنا پر، اور عہد نبوی و عہد صحابہ کے معمول بہ عمل کی شہادتوں پر حنفیہ، شافیعہ اور حنابلہ کے نزدیک ذبح کے لیے حلقوم اور مری (غذا کی نالی) کو اور مالکیہ کے نزدیک حلقوم اور ووجین (گردن کی رگوں ) کو کاٹنا چاہیے (الفقہ علیٰ المذاہب اربعہ۔ جلد اول۔ صفحہ ۷۲۵ تا ۷۳۰) اضطراری اور اختیاری ذکات کی یہ تینوں صورتیں جو قرآن کے حکم کی تشریح کرتے ہوئے سنت میں بتائی گئے ہیں اس امر میں مشترک ہیں کہ ان میں جانور کی موت یکلخت واقع نہیں ہوتی بلکہ اس کے دماغ اور جسم کا تعلق آخری سانس تک باقی رہتا ہے، تڑپنے اور پھڑپھڑانے سے اس کے جسم کے ہر حصہ کا خون کھچ کر باہر آ جاتا ہے اور صرف سیلان خون ہی اس کی موت کا سبب ہوتا ہے۔ اب چونکہ قرآن نے اپنے حکم کی خود کئ کوئی تشریح نہیں کی ہے اور صاحب قرآن سے اس کی یہی تشریح ثابت ہے ، اس لیے ماننا پڑے گا کہ ‘‘الا ما ذکیتم’’ سے یہی ذکات مراد ہے اور جس جانور کو یہ شرط ذکات پوری کیے بغیر ہلاک کیا ہو وہ حلال نہیں ہے۔ ان صورتوں کے علاوہ قرآن مجید میں تذکیہ کی ایک اور شکل بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی جانور کو سدھائے ہوئے شکاری درندے نے مارا ہو، بشرطیکہ یہ سدھایا ہوا درندہ اپنے مالک کے لیے شکار کو روک رکھے۔ اس صورت میں اگر جانور درندے کے پھاڑنے سے مر بھی جائے تو وہ مذکیٰ(پاک) شمار ہو گا۔ ‘‘ اور جن شکاری جانوروں کو تم سدھاتے ہو، جنہیں تم شکار کی وہ تعلیم دیتے ہو جو خدا نے تمہیں سکھائی ہے، وہ جس جانور کو تمہارے لیے روک رکھیں اس کا گوشت کھاو’’ (المائدہ‘۴) نبی ﷺ نے اس حکم کی یہ تشریح فرمائی ہے ‘‘ اگر وہ جانور کو تیرے لیے روک کر رکھے اور تو اسے زندہ پا لے تو ذبح کر۔ اور اگر جانور تجھے اس حالت میں ملے کہ تیرے کُتے نے اسے ہلاک کیا ہو لیکن اس میں سے کُچھ نہ کھایا ہو تو اسے کھا لے۔لیکن اگر کتے نے کھایا ہو تو پھر اُسے نہ کھا’’ (بخاری۔مسلم) ‘‘اگر کتے نے اس میں سے کُچھ کھا لیا ہو تو اس جانور کو نہ کھا، کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لیے پکڑا تھا’’(بخاری۔مسلم۔احمد) ‘‘اور جو شکار تو نے بے سُدھے کتے سے کیا ہو اسے اگر زندہ پا کر تو نے ذبح کر لیا ہو تو اسے کھا لے’’ (بخاری و مسلم) اس سے معلوم ہوا کہ سدھائے ہوئے شکاری درندے کا کسی جانور کو مالک کے لیے مارنا قرآن کی رُو سے شرط ذکات پوری کر دیتا ہے اس لیے یہ ‘‘ما اکل السبع’’ کی حرمت سے خارج ہو کر ‘‘الا ما ذکیتم’’ کے حکم استثنا میں آ جاتا ہے۔لیکن قرآن یہ حکم صرف سدھائے ہوے شکاری درندے ہی کے لیے بیان کرتا ہے اور نبی کریم ﷺ اس حکم سے اُس درندے کو بھی خارج کر دیتے ہیں جو پالا ہوا ہو مگر شکار کے لیے نہ سدھایا ہوا۔ ۔لہذا اس پر کسی دوسری چیز کو قیاس کر کے اس کے چیرے پھاڑے ہوئے جانور کے جواز کا پہلو نہیں نکالا جا سکتا۔ حدیث کے یہ الفاظ کے بے سدھے کُتے کا مارا ہوا شکار اگر تو نے زندہ پا کر ذبح کر لیا ہو تو اسے کھا لے، اس امر کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ تذکیہ کے سوا جس دوسری صورت سے بھی کوئی جانور مرا ہو وہ مردار کے حکم میں ہے۔ (جاری ہے) Last edited by حیدر; 11-04-11 at 11:55 PM. |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (13-04-11) |
![]() |
| Tags |
| پاکستانی, پسند, قواعد, قرآن, لوگ, لندن, نظر, مکمل, ممکن, معلوم, ایران, اللہ, امریکہ, اسلامی, بھائی, بچوں, تعلیم, جواب, حکم, حال, حدیث, خدا, دریافت, عورت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|