18-10-11, 08:55 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,556
کمائي: 16,190
شکریہ: 6,821
922 مراسلہ میں 1,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایسی تفاہیم موجود ہیں اور یہ اپنائے جانے کی منتظر ہیں۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ صاحب
لارنس آسٹر کو جواب (معتدل اسلام کی تلاش میں)
by Daniel Pipes
FrontPageMagazine.com
January 28, 2005
مذہب ماضی میں وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے اور یقینی طور پر آئندہ بھی تبدیل ہوتا رہے گا۔ ہم میں سے اکثر اِس بات کے ساتھ متفق ہیں کہ مسلمان دنیا اِس وقت ایک شدید نوعیت کے بحران سے بنردآزما ہے مگر آسٹر اِس حالت کو مستقل حالت سمجھتے ہیں ، میں اِسے عارضی تصور کرتا ہوں، جس کا غالباً جرمنی کی حالتِ جنگ کے زمانہ سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
آسٹر کا قرآن کے حوالہ سے نقطہ نظر قرآن کی جامد تفہیم کے نتیجہ میں ہے اور وہ اِس بات کو بھول رہے ہیں کہ ماضی میں مسلمانوں کا زاویہ نگاہ بدلتا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ نئی تفاہیم اِس وقت بھی اپنا وجود رکھتی ہیں(جیسا کہ سوڈان کے عالم محمود محمد طاہا کی تفہیم اُن کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے)جو قرآن کی صدیوں پرانی تفاہیم کو یکسر بدل کر رکھ رہی ہیں اور جو اسلام کو جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتی ہیں۔ ایسی تفاہیم موجود ہیں اور یہ اپنائے جانے کی منتظر ہیں۔
|
مذہب ماضی میں وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے اور یقینی طور پر آئندہ بھی تبدیل ہوتا رہے گا۔
نئی تفاہیم اِس وقت بھی اپنا وجود رکھتی ہیں(جیسا کہ سوڈان کے عالم محمود محمد طاہا کی تفہیم اُن کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے)جو قرآن کی صدیوں پرانی تفاہیم کو یکسر بدل کر رکھ رہی ہیں اور جو اسلام کو جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتی ہیں۔ ایسی تفاہیم موجود ہیں اور یہ اپنائے جانے کی منتظر ہیں۔
|
|
|