واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور مغربی دنیا



اسلام اور مغربی دنیا اسلام مغرب تک پہنچ چکا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ہر طرف اسلام کا دور دورہ ہو گا، اس سکشن میں ہم مغربی ممالک میں اسلام کے مطالق ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے


لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-01-10, 02:50 PM   #1
لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔
رفیّعہ جوََِِأد رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے 02-01-10, 02:50 PM

لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔
البقرہ۔آیت۔330
ترجمہ ۔ دین میں کو ئی جبر نہیں
عموماً اس آیت کی تفسیر کچھ اسطرح کی جاتی ہے کہ
دین میں کافروں کو لانے میں کوئی جبر نہیں۔
1400 سو سال کا ایک طویل وقفہ آجانے کے باعث لوگوں کے ذہن میں یہی معنی پختہ ہو گئے ہیں۔
جبکہ ایسا نہیں۔
یہ تو اعادہِ اسلام کی صدی ہے اسلام نے پھر ویسے ہی جوہر دکھانے ہیں جیسے 1400 سو سال پہلے دکھائے تھے۔ اس صدی کو حضور صلی اللّہُ علیہِ وسلّم نے اپنی صدی کہا ہے۔
انا منھم وھم منّی۔
میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔
اور پھر صحابہ کا یہ نعرہ نہ ہوتا کہ
نحنُُُُُ الذِی بایعوامحمّداًعلی الجھادِ ما بقیناَ ابداً
ہم نے نبی کریم صلی اللہُ علیہِ وسلّم کے ہاتھ پر بیعت ہی یہ کی ہے کہ جب تک ذندہ ہیں جہاد کرتے رہیں گے۔
اور جب حضرت علی(رض)فاتح خیبر بننے نکلے۔اور حضرت عائشہ(رض)کے دوپٹّے سے جھنڈا تیار کیا جارہا تھا تو آپ صلی اللہُ علیہِ وسلّم نے حضرت علی(رض) سے فرمایا
“علی اُن سے تین ہی باتیں کرنا چوتھی مت کرنا کہ

قبولِ اسلام ۔ جزیہ ۔ ورنہ جہادِ فی سبیلِ اللہ“

اور اگر اس آیت کا مطلب یہ ہوتا کہ کافر کو دین میں لانے میں کوئی زبردستی نہیں تو قرآن میں 700 آیاتِ جہاد نہ ہوتیں۔اور باقائدہ مسلمانوں کو اُٹھایا نہ گیا ہوتا۔
اور جہاد وہ واحد حکم ہے جو صرف مسلمان پر فرض ہے کسی دوسری قوم پر نہیں۔اس لئے کما کتبَ کے الفاظ نہیں آئے۔
کتبَ عَلیکمُ القتالُ وھوکُرہُ لکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(216 ۔ 2)
تم پر قتال فرض کیا گیا ہے ۔ بظاہر تم کو یہ مکروہ چیز نظر آتی ہے۔مگر بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو تم کراہت کی نگاہ سے دیکھتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے لئے مفید ہوتی ہیں ۔
اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ تم اُن کو چاہتے ہو وہ درحقیقت تمہارے لئے مضر رساں ہے ۔اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے۔ جسطرح کائنات پر حکمرانی کا حق صرف انسان کو حاصل ہے۔اگر انسان یہ حکمرانی چھوڑ دے تو دنیا جھاڑ جھنکار بن جائے ۔
کٹائی چھٹائی کرنی پڑتی ہے۔ کچرے کے ڈھیر سجا کر نہیں رکھتا انسان ورنہ اُس کا جینا مشکل ہو جائے گا۔
یہی ذمّہ داری اللہ نے روحانیت میں مسلمان کو دی ہے ۔
جب انسان کو کائنات پر حکمرانی کے لئے کسی جانور ،پھول ،پودوں سے اجازت کی ضرورت نہیں ۔پوری کائنات کے ساتھ اُس کی زبردستی چلتی ہے ۔ مزے کی بات تبلیغ کی بھی
ضرورت نہیں ۔ پانی کی طاقت کو روک کر ڈیم بناتا ہے،پھول توڑ کر اپنا گلدان سجاتا ہے،درخت کی لکڑی توڑ کر اپنے لئے فرنیچر بناتا ہے،جانور کی کھال سے جوتے اور بیگ
وغیرہ بناتا ہے،حتیٰ کہ اُس کا گوشت کھا کر مزے سے ڈکار لیکر پیٹ پر ہاتھ پھیر کر کہتا ہے الحمدُللہ ۔
اور جب اللہ کے دین کو منوانے کی بات ہو تو(یاد رہے یہ ادائیں صرف مسلمان کے حصّے میں آئیں ہیں کافر کو حق نہیں کہ مسلمان کو تبلیغ کرے)۔ کہتا ہے کہ دین میں زبردستی
نہیں۔ کیوں تمہیں اللہ نے وہ مقام نہیں دیا جو اس کائنات میں ایک انسان کا ہے؟ تم قرآن کو اِس انداز سے پڑھ کر تو دیکھو خود کو انسان کے مقام پر رکھ کر تو دیکھو۔ پورا قرآن ایک لڑی کی طرح تمہارے ہاتھ میں ہوگا اور ذرا ذرا سی بات کے لئے تم کو حوالے مانگنے نہیں پڑیں گے۔ نہ کسی عالم کے پیچھے بھاگنا پڑے گا۔تمہارے اندر کا انسان خود جواب
دیگا ۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہُ علیہِ وسلّم نے مسلمان کو وہ ادائیں سکھائیں جو کسی سابقہ نبی(ع) نے نہیں سکھائیں ۔ سکھانے کا حق ہی نہیں تھا کیسے سکھاتے۔
چنانچہ اوّل مسلمان کا جب بچّہ پیدا ہوتا ہے تو ایک کان میں اذان جو خود ایک پانچ وقت کی دعوتِ تبلیغ ہے۔ جو ایک مسلمان ممبر پر کھڑے ہوکر اپنے وجود سے اللہ اور رسول کی شہادت دیتے ہوئے کافر کو پیش کرتا ہے اور اُس کی پکار پر سارے مسلمان مقتدی بن جاتے ہیں۔ اور صلٰواہ قائم ہو جاتی ہے گویا ایک کان سے دوسرے کان ۔ تک ہی وقفے کی اجازت دی اللہ نے۔ پھر باقائدہ حکومتی سطح سے مستقل تبلیغ ہو کافروں میں۔ یہاں یاد رہے مسلمان کو تبلیغ نہیں کی جاسکتی ۔ تبلیغ کے لئے تین وجودوں کا ہونا ضروری ہے۔
1) پہنچانے والا
2) لینے والا
3) وہ چیز جو پہنچائی جارہی ہے ۔
گویا اگر لینے والے کے پاس پہلے سے وہ چیز موجود ہے تو وہ تبلیغ نہیں اصلاح کہلائے گی۔
تیسری بات ہر مسلمان ملک میں کافروں سے جزیہ لیا جانا۔ جو اس بات کو ظاہر کرے کہ تم غلام ہو مسلمان ہو جاؤ گے تو جزیہ سے بچ جاؤ گے۔
جب یہ تمام کام مسلسل ہوں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کافر تبلیغِ اسلام میں رُکاوٹ پیدا نہ کرے۔ بس یہی ہے۔
تبلیغ کی رُکاوٹوں کو دور کرنے کا نام جہاد ہے
جس نے تبلیغ نہیں کی وہ جہاد نہیں کر سکتا
آپ ایک مُرغی کو ذبح نہیں کر سکتے جب تک کلمہِ حق اُسکے سامنے نہ رکھ دیں تو ایک کافر کو کیسے مار سکتے ہیں جب تک اُسے کلمہِ حق پیش نہ
کردیں۔
تو لَآ اِِِِِکراہَ فی الدّین۔ کا مطلب مسلسل کافر کے سامنے دعوتِ تبلیغ ہے۔
اور فرمایا رشد کی راہ تم پر غئ سے واضح ہو چکی ہے اے مسلمانوں تم پر دین کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں زبردستی نہیں ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایک دوسرے کی گردنیں مت پکڑو ورنہ اصل کام جو کافروں میں تبلیغ کا ہے وہ کر نہیں پاؤ گے۔
جاگو اے مسلمانوں
تم ایک دوسرے کی گردن پکڑنے کے لئے نہیں بلکہ کافر کی گردن پکڑ کر دائرہِ اسلام میں لانے کے لئے پیدا ہوئے ہو۔
گھروں میں جھگڑے پیدا کرنا عورتوں کا کام ہوتا ہے۔ تم مردِ میدان بنو۔ اللہ کے واسطے کافر کو مسلسل دعوتِ اسلام کا سامان پیدا کرو۔
اس سے پہلے کہ پانی مزید سر سے گزر جائے۔
اللہ مسلمان کی حفاظت فرمائے ۔آمین

رفیعہ جوّاد

رفیّعہ جوََِِأد
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 699
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), راجہ اکرام (02-01-10), سحر (02-01-10), غلام مجتبی جان (17-01-10)
پرانا 02-01-10, 03:42 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب اپ نے اسلام کی بنیاد ہی ڈھا دی۔۔ اسلام کا لفظی مطلب بھی بتا دیں کیا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کے مار کٹائی کی تراکیب فراہم کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (06-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), سحر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:03 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بعد از سلام۔
ظاہر ہے اسلام کا لفظی مطلب امن آشتی peace ہے۔اور امن قائم نہیں رہ سکتا اگر ناحق بات کی side لی جائے۔چنانچہ لا اکراہَ فی الدین کی غلط تفسیر کے نتائج آپ کے سامنے ہیں کہ کہیں مسلمان محفوظ نہیں۔اور میں نے کائنات میں پیدا کردا اللہ کے نظام سے سمجھایا ہے.آپ ہر حوالے کی مخالفت کر سکتے ہیں مگر اس کائنات کے مستقل حوالوں کی نہیں جو برابر اپنے
وقت پر شہادتیں دے رہیں ہیں۔کیونکہ
ولن تجدَ لِسنَّتہِ اللہِ تبدیلا
ایک اور بات
آپ جب بھی قرآن اور حدیث کو سمجھنے کی خواہش رکھیں۔تو تین کتابوں کی مطابقت رکھیں۔
1۔اُمُّ اکتاب۔ قرآن
2۔کتابِ مبین۔کائنات۔کھُلی ہوئی کتاب
3۔کتابِ مکنون۔انسان۔چھُپی ہوئی کتاب
تو ہی سمجھ میں آسکے گا۔ورنہ کھیر کی سفیدی بگلے کے تیڑے پن کو ظاہر کرنے لگتی ہے۔
میں اُمّید کرتی ہوں میری اپنی بات بگلے کی تیڑی گردن تک نہیں پہنچی ہوگی۔
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), اخترحسین (04-01-10), حیدر (02-01-10), راجہ اکرام (02-01-10), سحر (02-01-10), غلام مجتبی جان (17-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:25 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اپکو نہائت ادب اور احترام سے مشورہ دوں‌گا کہ کسی مناسب اور صیح عالم دین کی صحبت اختیار کریں۔ معاشرے میں لوگوں سے گھلیں ملیں اور انسانیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں نے بہت سارے ایسے گمراہ خود ساختہ عالم دیکھے ہیں جو کتابیں پڑھ کر ٹیڑھ کا شکار ہو چکے ہیں۔ دین کے صیح سمجھ کے لیے علم اور اچھی صحبت کا موجود ہونا بہائت اہم ہوتا ہے۔ اپنے حلقہ احباب کو وسعت دیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (04-01-10), ابرارحسین (03-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:30 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ مسلمانوں کے لیے جہاد کرتے رہنا بہت ضروری ہے ۔ لیکن تبلغ اور جہاد میں کیسے مطابقت ہوگی ۔کہ ہم کواس وقت تک تبلغ کرنی ہے اور اب جہاد شروع کرنا ہے ۔
جہاد کی تعریف ہے اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد ۔ وہ قلم ، زبان اور تلوار
سے ہوتا ہے ۔
اس کو ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت قلم سے دوسری زبان سے جہاد کرے اور مسلمانوں کی ایک جماعت تلوار سے جہاد کرے ۔
لیکن تینوں کا مقصد اسلام کا غلبہ ہونا چاہیے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), اخترحسین (04-01-10), حیدر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:36 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,555
کمائي: 315,020
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
محترمہ رفیعہ صاحبہ
ماشاء اللہ آپ کی آراء سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن آپ کا جذبہ انتہائی قابل قدر ہے۔
اللہ آپ کے علم و عمل اور صلاحیتوں میں برکت عطا فرمائے اور انہیں راہ حق میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (04-01-10), حیدر (02-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:40 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مناسب دعا یہ ہوتی کہ اللہ اپکو صیح علم عطاء فرمائے۔ دین کی نئی نئی تشریح سے بچائے۔ 1400 سال کے بعد اپ اسلام کو ایک نہی جہت دینے جا رہی ہیں۔ شائد ایسی تشریحات کے بارے میں‌ہی کچھ حدیثیں ہیں‌جن میں ہر عامی کی قرآن کی اپنی اپنی تشریح کے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), فاروق سرورخان (04-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 05:48 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,555
کمائي: 315,020
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

منتظمین بھائی آپ کو کون سی بات شدید قابل اعتراض لگی؟
اگر اسے مناسب انداز سے سوال کے طور پر پیش کر دیں تو اس پر تفصیلات آ جائیں گی جو مجھ جیسوں کے لئے مفید ہوں گی۔
شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 06:10 PM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔۔ اور نہ ہی کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن محترمہ تلوار کے زور پر سب کو مسلمان کرنے کا سبق دے رہی ہیں۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو عیسائیوں نے اندلس میں اختیار کیا تھا۔
لاکھوں عماء اکرام جو کے مغرب میں "اسلام تلوار کے زور پر پھیلا" کے رد میں لگے ہوئے ہیں ان کی کوششوں پر پانی پھیر رہی ہیں۔ تعجب ہے کہ اج کل کے دور میں بھی ایسی سوچ پائی جاتی ہے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (04-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 06:55 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,555
کمائي: 315,020
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔۔ اور نہ ہی کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن محترمہ تلوار کے زور پر سب کو مسلمان کرنے کا سبق دے رہی ہیں۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو عیسائیوں نے اندلس میں اختیار کیا تھا۔
تو آپ کے خیال میں یہ طریقہ اب قابل عمل نہیں کہ۔۔دعوت اسلام، جزیہ،یا قتال؟
کیا سیدنا حٍضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہہ کر روانہ نہیں کیا تھا؟
کیا اسلام کے ابتدائی سالوں میں، خلافت راشدہ میں یہی طریقہ نہیں تھا پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی فتوحات ہوئیں؟
یا اسلام قبول کریں اگر نہیں تو جزیہ دیں اور امن کے ساتھ رہیں، اپنے دین کے مطابق عمل کریں۔
یا اب یہ احکامات منسوخ ہو چکے ہیں۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (02-01-10), سحر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 08:01 PM   #11
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
مناسب دعا یہ ہوتی کہ اللہ اپکو صیح علم عطاء فرمائے۔ دین کی نئی نئی تشریح سے بچائے۔ 1400 سال کے بعد اپ اسلام کو ایک نہی جہت دینے جا رہی ہیں۔ شائد ایسی تشریحات کے بارے میں‌ہی کچھ حدیثیں ہیں‌جن میں ہر عامی کی قرآن کی اپنی اپنی تشریح کے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

والسلام
سبحان اللہ

یا اللہ میں تیرے قربان

کیا بات لکھ دی آپ نے منتظمین صاحب، سبحان اللہ
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), عبداللہ حیدر (03-01-10)
پرانا 02-01-10, 08:45 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بعد از سلام
ویسے مشورے کا شکریہ
علم کتابیں پڑھنے سے اگر آتا ہوتا تو آپ کا نبی صلی اللہُ علیہِ وسلّم اُمّی نہ ہوتا۔
امام غزالی عمر کے آخری غالباً آٹھ سالوں میں ایک خانقاہ میں جاکر نہ بیٹھتے۔اور اپنے چاہنے والوں سے نہ کہتے کہ
میری کتابیں میرے مرنے کے 10 سال بعد لوگوں میں تقسیم کرنا کیونکہ دنیا کی عقل ابھی اس قابل نہیں ہوئی۔ تو چاہنے والوں نے کہا ۔
"مگر بڑے بڑے عالموں میں"
فرمایا۔
"وہ بھی جاہل ہیں"
اگر علم پڑھنے سے آتا ہوتا تو اللہ عالموں کے سردار ابلیس کو خدا سے تعلق کے حامل ہوکر اسماء کا علم رکھنے والے آدم ۔ع۔کے سجدے کا حکم نہ دیتا۔
اگر علم پڑھنے سے آتا ہوتا تو مولانا روم۔رح۔اتنے بڑے عالم ہوکر شمس تبریز۔رح۔جیسے فقیر کی بیعت نہ کرتے اور یہ جملہ نہ کہتے کہ۔
"اگر مجھے یہ ہاتھ نہ ملتا تو جاہل مرتا۔
میری صحبت الحمدُ لللّہ ولیوں میں رہی ہے اور مجھے بہت کچھ ملا ہے مزید کی حاجت نہیں پیٹ بھر چُکا ہے۔
یک زمانہ صحبتِ با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بےریا
ویسے اگر آپ قرآن سے بتاتے کہ میں نے کیا بات قرآن کے خلاف لکھی ہے تو ذیادہ بہتر ہوتا۔
اور ہاں اسلام کا جہاد مومنوں کے ساتھ حکمت پر مبنی ہوتا ہے ۔جس میں کم سے کم نفری مرتی ہے۔آج کی نفسی جنگوں کا حال آپ کے سامنے ہے۔مولی گاجر کی طرح لوگ کٹ رہے ہیں
اللہ کی بات کے آگے نہ آپ کی چلے گی نہ میری۔
وہ طوعاً نہ آنے پر سارے مسلمانوں کو مار مار کر اسی نکتے پر کرھاً لا رہا ہے۔
اللہ تمام مسلمانوں کو اللہ کی بات اُس کے مقام سے سمجھنے کی توفیق دے ۔آمین
آپ سب کی مخلص بہن
رفیعہ جوّاد
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), راجہ اکرام (02-01-10), سحر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 08:55 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دین کی جو نئی تشریحات ہو گئی ہیں اُن کے ختم ہونے کا وقت آیا ہے
کھلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی
گیا دورِ حدیثِ لن ترانی
ہوئی جس کی خودی اوّل نمودار
وہی مہدی وہی آخرُ الزمانی
ا قبال۔رح۔
اللہ ہم سب کی خودی کو طوعاً بیدار فرمائے۔آمین
آپ سب کی بہن
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), حیدر (02-01-10), راجہ اکرام (02-01-10), سحر (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 09:51 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے حیرت ہے ان پر جو محترمہ رفیعہ کے غلط الفاظ کی تائید اور منتطمین بھائی کی درست بات کی تنقید کر رہے ہیں۔ان سے درخواست ہے پہلے مراسلے کو دوبارہ غور سے پڑھیں۔ والسلام
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-01-10), فاروق سرورخان (04-01-10), ابرارحسین (03-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10)
پرانا 02-01-10, 10:39 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,555
کمائي: 315,020
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
مجھے حیرت ہے ان پر جو محترمہ رفیعہ کے غلط الفاظ کی تائید اور منتطمین بھائی کی درست بات کی تنقید کر رہے ہیں۔ان سے درخواست ہے پہلے مراسلے کو دوبارہ غور سے پڑھیں۔ والسلام
بدر بھائی
غلط الفاظ اور درست بات کی تفصیلات اگر ذکر کر دیں تو ہمارے لئے بھی آسانی ہوگی صحیح کی تائید کرنے میں۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-01-10), اخترحسین (04-01-10), بزم خیال (03-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10)
جواب

Tags
فرض, کرنی, وقت, قرآن, نام, نظر, ملک, مسلمانوں, انداز, انسان, اسلام, جواب, حکم, دیکھو, دیں, دنیا, ذرا, سال, عورتوں, عالم, عائشہ, غلام, صحابہ, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger