واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور مغربی دنیا



اسلام اور مغربی دنیا اسلام مغرب تک پہنچ چکا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ہر طرف اسلام کا دور دورہ ہو گا، اس سکشن میں ہم مغربی ممالک میں اسلام کے مطالق ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے


مدر ڈے ایک المیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-08, 02:46 AM   #1
مدر ڈے ایک المیہ
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 20-09-08, 02:46 AM

مدر ڈے ایک المیہ

اس سال 13 مئی کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں مدر ڈے منایا گیا۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز سن 1870ء میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں 1877ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا۔ 1907ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسنددیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماؤں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماؤں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماؤں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماؤں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماؤں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم امریکہ، ڈنمارک، فن لیند، ترکی، اسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا اس مدر ڈے سے یورپ خود کو ترقی یافتہ معاشرہ خیال کرتا ہے؟ کیا یورپی دنیا سال میں ایک دن ماں اور ایک دن باپ کے لیے مختص کر کے خود کو عالمی انسانی حقوق کا خود ساختہ چئمپین تصور کرتی ہے؟ کیا ماں باپ کا حق صرف ایک دن کا پیار سرخ پھول اور کچھ شفقت بھرے لمحے ہی ہیں؟

یقینا یہ وہ سوال ہیں آج بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر اب ہمارے معاشرے میں بھی فادرز ڈے اور مدرز ڈے منائے جا رہے اور ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہومز بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔ تقلید بری بات نہیں مگر اندھی تقلید دین میں ہو یا دنیا میں مہلک ہوا کرتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید ہمیں بھی مہلک مقام تک لے آئی ہے جس سے ہماری عائلی قدریں پامال اور معاشر ے کی بنیاد ی اکائی یعنی خاندان کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ اس اکائی کی بنیاد اور جڑ یعنی والدین کو گھروں سے اکھاڑ کر اولڈ ہومز میں پھینکا جارہا ہے پھر سال کے بعد ان کا ایک دن منا کر حق ادا کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک مدر ڈے کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے۔ اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ اور چند احادیث پیش ہیں۔

اسلام معاشرے کے عمر رسیدہ اَفراد کو کس قدر اَہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ خصوصاً بوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے :

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًاO وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO

(بني اسرائيل، 17 : 23، 24)

’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo‘‘

قرآن پاک کے بعد معتدد احادیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويؤقر کبيرنا.

’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان، 4 : 321، 322، رقم : 1919، 1921
2. ابويعلي، المسند، 7 : 238، رقم : 4242
3. ربيع، المسند، 1 : 231، رقم : 582

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان من إجلال اﷲ إکرام ذي الشيبة المسلم، و حامل القرآن غير الغالي فيه، و الجافي عنه، و إکرام ذي السلطان المقسط.

’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حصہ ہے، اور اسی طرح قرآن مجید کے عالم کی جو اس میں تجاوز نہ کرتا ہو اور اس بادشاہ کی تعظیم جو انصاف کرتا ہو۔‘‘

1. ابو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في تنزيل الناس، 4 : 261، رقم : 4843
2. بزار، المسند، 8 : 74، رقم : 3070
3. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 421، رقم : 32561
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 163
5. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 21، 22، رقم : 6736

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
إن من إجلالي توقير المشائخ من أمتي.

’’بے شک میری اُمت کے معمر افراد کی عزت و تکریم میری بزرگی و عظمت سے ہے۔‘‘

1. عسقلاني، لسان الميزان، 6 : 303 2. هندي، کنز العمال، 3 : 172، رقم : 6013

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف شرف کبيرنا.

’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ پہچانے۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان، 4 : 322، رقم : 1920 2. منذري، الترغيب والترهيب، 1 : 64، 65، رقم : 171

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے :
من لم يرحم صغيرنا و يعرف حق کبيرنا فليس منا.

’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا حقِ (بزرگی) نہیں پہچانتا۔‘‘

1. ابو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في الرحمة، 4 : 296، رقم : 4943
2. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 222
3. ابن ابي شيبه، المصنف، 5 : 214، رقم : 25359
4. حاکم، المستدرک، 1 : 131، رقم : 209
5. حاکم، المستدرک، 4 : 197، رقم : 7353

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

ما أکرم شاب شيخا لسنه إلا قيض اﷲ له من يکرمه عند سنه.

’’جو جوان کسی بوڑھے کی عمر رسیدگی کے باعث اس کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس جوان کے لیے کسی کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرےگا‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في إجلال الکبير، 4 : 372، رقم : 2022
2. قضاعي، مسند الشهاب، 2 : 20، رقم : 802
3. بيهقي، شعب الايمان، 7 : 461، رقم : 10993 4.
4. طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 94، رقم : 5903
5. ديلمي، الفردوس بماثور الخطاب، 4 : 61، رقم : 6191
6. هندي، کنز العمال، 3 : 172، رقم : 6014

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔

1. صحييح بخاري، کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة، 2227/5 حديث نمبر562
2. مسلم شريف، کتاب البروالصلة والاداب، باب : برالوالدين وانهااحق به، 1973/4 حديث نمبر : 2548
3. ابن ماجة : کتاب الادب، ناب بر الوالدين 1207/2 حديث نمبر : 6094
4. صحيح ابن حبان 175/6 حديث نمنر 433
5. المسند ابو يعلي : 486/1 حديث نمبر 6094

اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ دوسری طرف آج جو ہم مدر اور فادر ڈے منا کر مغربی روایات کو فروغ دے رہے ہیں تو یہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دین تو نہیں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین میں تو ماں باپ کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ وہ گھروں کے تاحیات سربراہ ہوا کرتے ہیں ان کی معزولی کا کوئی تصور موجود نہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین کے ماننے والوں کو اس کا بھی حساب اسی طرح دینا ہے جس طرح نماز روزے اور زکوۃ و حج کا۔ اگر کوئی یہ چاہے کہ وہ نماز روزہ تو محمد کے دین کا لے لے اور والدین کے بارے میں فادرز ڈے اور مدرز ڈے منانے والوں کا تصور لے لے تو یہ تو اس کا اپنا اختراعی دین ہو گا نہ کہ اسلام۔ والدین کی خدمت کے بغیر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دین ادھورا ہے۔ اور محمد کے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اسے ادھورا دین منظور نہیں۔ (ادخلوا فی السلم کافۃ)

کاش ہم دین میں اس رخنہ سازی کو ترک کر دیں تو پھر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین اسلام کو کسی غیر مسلم سے خطرہ نہیں ہو گا۔ حقیقت میں ہم اسی دوغلے پن سے دین کو کمزور اور خود کو دنیا کی محکوم قوم بنا رہے ہیں۔

تحریر : ایم ایس پاکستانی
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

Last edited by Real_Light; 04-05-09 at 12:01 AM..

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 302
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (03-05-09), منتظمین (20-09-08), ایس اے نقوی (10-05-09), تفسیر حیدر (20-09-08)
پرانا 20-09-08, 03:50 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مدر ڈے ایک المیہ

اپ نے بہت ہی عمدہ لکھا ہے لیکن میرے نزدیک مدر ڈے منانے میں کوئی حرج نہیں اور ساتھ ساتھ اپنی معاشی اور مذہبی ذمہ داریوں کو بھی نبھانا چاہیے نہ کہ صرف ایک ہی دن۔ لیکن اگر کوئی اپنی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے پورا بھی کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ مدرڈے کا بھی اہتمام کرتا ہے تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی۔۔۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09)
پرانا 20-09-08, 10:03 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,174
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مدر ڈے ایک المیہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
اپ نے بہت ہی عمدہ لکھا ہے لیکن میرے نزدیک مدر ڈے منانے میں کوئی حرج نہیں اور ساتھ ساتھ اپنی معاشی اور مذہبی ذمہ داریوں کو بھی نبھانا چاہیے نہ کہ صرف ایک ہی دن۔ لیکن اگر کوئی اپنی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے پورا بھی کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ مدرڈے کا بھی اہتمام کرتا ہے تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی۔۔۔

والسلام
سیکنڈ لاسٹ پیراگراف میں اس کا مکمل تفصیلی جواب موجود ہے۔
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
پرانا 03-05-09, 04:04 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
یہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ مصنفین بچارے آخر ایسی کیا سنگین غلطی کرتے ہیں کہ ان کے نام کا حوالہ دینا تک گوارہ نہیں کیا جاتا۔
یہ تحریر دو سال پہلے منہاجین کی ویب سائیٹ پر "مدر ڈے............ایک المیہ" کے عنوان سے اور کوئی صاحب "ایم ایس پاکستانی" کی طرف سے یہاں شائع ہو چکی ہے۔ کیا Real_Light صاحب ہی "ایم ایس پاکستانی" ہیں ؟

خیر جو بھی ہو ۔۔۔۔
صحیحین کی حدیث کو چھوڑ کر (کہ اس کی صحت میں تو کوئی شک نہیں) باقی احادیث ۔۔۔۔

ترمذي، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان، 4 : 321، 322، رقم : 1919، 1921
ترمذي، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان، 4 : 322، رقم : 1920
ابو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في الرحمة، 4 : 296، رقم : 4943

ان تینوں کو علامہ البانی نے "صحیح" کہا ہے۔

ابو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في تنزيل الناس، 4 : 261، رقم : 4843
اس حدیث کو علامہ البانی نے "حسن" کہا ہے۔

ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في إجلال الکبير، 4 : 372، رقم : 2022
علامہ البانی نے اسے "ضعیف" قرار دے کر "ضعیف ترمذی" میں شامل کیا ہے۔

رہ گئی آخری روایت ۔۔۔۔۔
1. عسقلاني، لسان الميزان، 6 : 303 2. هندي، کنز العمال، 3 : 172، رقم : 6013
۔۔۔۔ تو اس کا درست متن یوں ہے:
إن من إجلالي توقير الشيخ من أمتي‏
جبکہ مضمون میں یوں لکھا گیا ہے :
إن من إجلالي توقير المشائخ من أمتي.
کنزالعمال کے آن لائن ورژن میں یہ روایت یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

علامہ البانی نے الضعیفہ والموضوعة جلد:14 میں اس روایت کو "موضوع" قرار دیا ہے۔
حتیٰ کہ خود حافظ العسقلانی نے "لسان الميزان" میں اس کے راویوں کو "واضعی" کہا ہے۔
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (04-05-09), shafresha (10-05-09), منتظمین (03-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09), عبداللہ حیدر (03-05-09)
پرانا 03-05-09, 04:22 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر میں اصل مصنف کا نام دیا جائے۔ باذوق بھائی اس طرف توجہ دلانے پر اپکا شکریہ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (04-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09)
پرانا 10-05-09, 02:42 PM   #6
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,015
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رئیل بھائی کافی اچھی تحریر ہے اور حقائق پر مبنی بھی
اور ہم لوگ اپنے آپ میں اتنے کو مصروف ہو چکے ہیں کہ دیگر معاملات میں ہم لوگ توجہ دینا بھی پسند نہیں کرتے
اور اسی لئے ہم لوگ پیچھے رہ چکے ہیں مدر ڈے منانے میں حرج تو کوئی نہیں مگر کسی حد تک افسوس کا مقام بھی ہے کہ ہم لوگوں نے ماں جیسی عظیم ہستی کو وش کرنے کےلئے سال کے 365 دنوں میں سے ایک دن رکھا ہوا ہے اس ماں کےلئے ایک دن جو دنیا کی صوبعتیں برداشت کر کے ہمیں پال پوس کر جوان کرتی ہے خود بھوکا رہ لے مگر اولاد کو کھلاتی ہے خود دھوپ میں رہے اولاد کےلئے سائی بن جاتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص صرف سال میں ایک دن ماں کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے اور اسے وش کرتا ہے وہ ماں لفظ کو جانتا ہی نہین اسے ماں کا پتہ ہی نہیں
شکریہ کے ساتھ اجازت سید انجم شاہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-05-09)
جواب

Tags
color, com, downloads, eman, php, پاکستانی, ویب, قرآن, قرآن حکیم, نماز, ماں, مجید, مدر ڈےMother day, معاشرہ, امریکہ, بھائی, تحریر, جلد, حدیث, حسن, روزہ, سال, عورت, عبادت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger