واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور مغربی دنیا



اسلام اور مغربی دنیا اسلام مغرب تک پہنچ چکا ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ہر طرف اسلام کا دور دورہ ہو گا، اس سکشن میں ہم مغربی ممالک میں اسلام کے مطالق ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے


مسلمانوں کے لازوال کارنامے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 17-06-11, 08:59 PM   #1
مسلمانوں کے لازوال کارنامے
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 17-06-11, 08:59 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

علوم فلکیات
قر آن کریم دنیا کی پہلی کتا ب ہے جس نے علوم فلکیات کی طرف انسان کی توجہ دلائی اسے مظاہر فطرت کے مطالعہ و مشاہدہ کی دعوت دی اور انکی حقیقت معلوم کرنے پر زور دیا ۔ گو زمانہ قدیم ہی سے یہ ستارے انسان کی صحراؤں اور سمندروں میں رہنمائی کر رہے تھے مگر قرآن نے یہ کہہ کر ان کی اہمیت اور بڑھادی کہ چاند ، سورج اورستاروں کا تعلق نماز ، روزے اور حج کی عبادات سے بھی ہے ۔ کیو نکہ ان کی مختلف حالتوں سے ہی وقت کا تعین ہوتا ہے اور قبلہ کا صحیح رخ معلوم ہوتا ہے ۔ اسی لئے جو زف ہیل کے قول کے مطابق روحانیت کے بعد مسلمانوں نے سب سے زیادہ توجہ ریاضیات اور فلکیات پردی ۔ مسلمان حکماء او ر سائنسدانوں نے ہی الجبرا اور کیمسٹری کے ایسے اصول اور فارمولے وضع کئے جن کے بغیر سائنسدان ایک قدم بھی نہیں چل سکتے تھے او ر انہی علوم کی بناء پر آج انسان کشش ارضی کی غیر مرئی زنجیروں کو توڑ کر آسمانوں کی طرف مائل پرواز ہے ۔
ڈاکٹر لیبان " تمدن عرب " میں لکھتے ہیں کہ طلوع اسلام کے فوراً بعد ۲۳۱ھ میں بغداد میں مدرسہ ہیئت قائم ہو چکا تھا جو سات سو سال تک جاری رہا ۔ اور موسیو سید یو نے " تاریخ عرب میں لکھا ہے کہ اس مدرسے کے علماء و حکماء کا کمال یہ تھا کہ وہ دوربین اور کواکب کے ارتفاع معلوم کرنے والے آلہ اصطرلاب کی مدد کے بغیر علوم فلکیات میں پورا کمال پیدا کر لیتے تھے دورِ اسلام کی پہلی رصد گاہ 214 ھ میں دمشق میں قائم ہوگئی تھی ۔ او ر یورپ میں پہلی رصد گاہ بھی مسلمانوں نے ہی قائم کی تھی مسلمانوں نے ہی سب سے پہلی دوربین قطب نما اور آلات اختر شناسی تیار کئے تھے ۔ ڈاکٹر ڈریپر " معرکہ مذہب و سائنس " میںلکھتے ہیں کہ " مسلمانوںنے ہی ان تمام سیاروں کی فہرست مرتب کی جو آسمانوں پر نظر آئے اور بڑے بڑے ستاروں کے نام لکھے جو آ ج تک تبدیل نہیں ہوئے " چنانچہ تیمور کے پوتے الغ بیگ نے ستاروں کی جو ریچ یا ڈائیریکٹری مرتب کی تھی اس میں پانچ ہزار ستاروں کے نا م محلِ وقوع اور خصوصیات درج ہیں ۔ یہاں تک کہ اس میں ارضی گر دش کی بدولت ستاروں کے محل وقوع میں ہونے والی تبدیلیوں تک کی تفصیل ملتی ہے جن سے آج تک سائنسدان استفادہ کر رہے ہیں ۔
علوم فلکیات سے چونکہ سب سے پہلے مسلمان حکماء نے دنیا کو روشناس کرایا تھا اس لئے اسٹرانومی تمام بنیادی کتابیں عربی میں ہیں اور قریبا ً قریباًتمام ستاروں کے ننانوے فیصد نام عربی نام معمولی تلفظ کی تبدیلی سے آج بھی مروج ہیں یہا ں تک کہ ان کا محل و قوع بھی وہی تسلیم کیا گیا ہے جو مسلمان ماہرین نے متعین کیا تھااور جن کی صحت پر دور جدید کی دور بینوں نے مہر ثبت کر دی ہے ۔
یہی اسلامی علوم تراجم کے ذریعے عربی سے دوسری زبانوں میں منتقل ہوئے ۔ مسلمانوں نے ان سائنسی علوم کی طرف توجہ دینی چھوڑ دی جو ان کی میراث تھے اور اہل مغرب نے انہی اسلامی علوم کو اپناکر اتنا آگے بڑھایا کہ ان کے ذریعے چاند پر پہنچ گئے ۔
ہمارے سلف کے نزدیک چاند ، ستاروں، فلکیات اور زمین کا علم قرآن دانی کے ضمرے میں آتا تھا کیوںکہ اللہ تعالی نے ان علوم کا قرآن میں جا بجا تذکرہ فرمایا ہے اور متعدد جگہ پر ان میں غور و فکر کر نے والوں کو تعریفی اسناد سے نوازہ ہے ان کے نزدیک یہ اللہ تک پہنچنے کا آسان راستہ تھا کہ اس کی نشانیوں میں غور و فکر کیاجائے اور یہ اس کا حکم بھی ہے اور ان لوگوں کو اولی الامر کے خطاب سے نوازہ ہے اور فرمایا سورج اور چاند کی چال حساب سے ہے دن اور رات کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں اور تم کائنات پر غور کیوں نہیں کرتے قرآن میں نماز سے بھی زیادہ جس چیز کے بارے میں حکم دیا گیا ہے وہ کائنات میں غورو فکر سے متعلق ہے تو جس چیز پر اللہ تعالی اس قدر تاکید کے ساتھ حکم فرمائے اس پر کیوں نہ تحقیق کی جائے وہ اس تحقیق کو اللہ کا حکم او ر اس کی معرفت کا زریعہ سمجھتے تھے جبھی ان لوگوں نے اس میدان میں اپنی صداقت کے نشان چھوڑ دئے ہیں جن کے نقش قدم پر آج کی جدید سائنس اپنی عمارت کھڑی کی ہوئی ہے لیکن ہمارے اسلاف کی تحقیق کا یہ ایک پہلو تھا دوسرا پہلو اس سے بھی حیرت انگیز تھا جو دور جدید سے آج تک پردے میں ہے ہمارے اسلاف کے تحقیق کے ہمیشہ دو رخ رہے ہیں ایک تحقیق انفس میں دوسری آفاق میں کیوں کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں نہ اس کے بغیر یہ مکمل نہ اس کے بنا وہ کامل ہر چیز جوڑوں میں ہے یہ کائنات عالم اکبر کے نام سے جانی گئی اور انسان کی اپنی ذات عالم اصغر ٹہری۔
لیکن فی الوقت ہم جس رخ پر آج بات کر رہے ہیں وہ ہمارے اسلاف کے مادی کارنامے ہیںروحانی نہیں اس پر پھر کبھی۔
مسلمانوں کے مادی کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے اور اس فہرست میں ایسے ایسے جید عالم گزرے ہیں جن کو فی زمانہ لوگ صرف تصوف کے حوالے سے جانتے ہیں ان علوم کے حوالے سے ان کا نام لینا بھی گویا کفر سمجھتے ہیں کہ یہ علوم تو دنیاوی علوم ہیں لیکن ایسا نہیں ہے دین اور دنیا کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں صر ف سمجھ کا کھیل ہی۔پچھلے دنوں ایک تھریڈ لکھا گیا تھا " سائنس کی ایک کلاس ابن تیمیہ کے ساتھ ہمارے ہاں ابن تیمیہ کو صرف عالم ہی سمجھا گیا ہے لیکن انہوں نے جس آسان اور سہل طریقے سے کشش ثقل کا اورزمین کی گردش کا معمہ حل کیا ہے وہ ایک عام بچہ بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایک عالم کو بھلا کشش ثقل اور زمین کی گردش کا کیاپتہ اور اگر پتہ چلا بھی تو وہ کون سا علم ہے جو ان صوفی منش لوگوں کو اس کا پتہ بتاتا تھا یہ تو ٹوٹلی ایک سائنسی معاملہ ہے ہم نے ان لوگوں کو کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا ۔
Uامام جعفر صادق ؓ نے روشنی کے متعلق اور یہ کہ روشنی کس طرح سفر کرتی ہے اور روشنی کس طرح کسی شے سے آنکھ میں آتی ہے اور کسی چیز کو دیکھنے کا سبب بنتی ہے یہی نہیں اس طرح کے کئی اصول جو طبیعات سے تعلق رکھتے ہیں امام جعفر ؑ نے اس پر قلم اٹھا یا ہے یہاں تک کہ ایٹم تک کے بارے میں بھی سیر حاصل بحث کی ہے لیکن ہم نے انہیں کہاں بٹھا کر رکھا ہے صرف ایک امام یا صوفی یہ وہ لوگ تھے جو ہر چیز میں خدا کو ساتھ لے کر چلتے تھے تو خدا بھی ان کے ساتھ چلتا تھا آج ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ہماری عبادات میں بھی خدا ہمارے ساتھ نہیں ہوتا مادے کی تو بات ہی جانے دو ۔
محمد بن موسیٰ الخوارزمی کے پاس ایک روز ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ اس کے پس کچھ اشرفیاں تھیں ۔ میں نے ان اشرفیوں کی تعداد کو اتنا ہی گنا کیا۔ پھر اس میں اصل تعداد کی دس گنا اشرفیاں اور شامل کر دیں یوں میرے پا س کل ۹۳ اشرفیاں ہوگئیں۔ بتائیے میرے پاس پہلے کتنی اشرفیاں تھیں؟محمد بن موسیٰ کے لئے یہ سوال ایک معمہ بن گیا ۔ عام حسابی طریقوں سے اس کا جواب نکالنا محال تھا ۔ چنانچہ انہوں نے دیہاتی کو اگلے روز آنے کو کہا اور پھر اس سوال کا حل ڈھونڈنے میں لگ گئے ۔ انہوں نے تختی پر 39 خانے بنائے جن میں مربع خانے 4،9،16،25 اور36بنتے تھی۔یوں وہ حساب لگا کر اس نتیجے پر پہنچے کہ ان میں9 ایک ایسا عدد ہے جو 3 کا مربع ہے اور 3 کو 10 سے ضرب دے کر 30 حاصل ہوتے ہیں ۔ جن میں ۹ ملائیں تو مجموعہ 39 بنتا ہے ۔ اس طرح اشرفیوں کی اصل تعداد 3 نکلی ۔
لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کا کوئی قاعدہ یا فارمولا نہیں تھا ۔یہ سوچتے سوچتے انہوں نے فرض کیا کہ ۔
اشرفیوں کی اصل تعداد = لا
لا کو لا گنا کیا = لا لا لا2
لا کو 10 گنا کیا = 10 لا 10 لا
پس لا2 10لا 39
لا2 + 10لا- 39برابر 39- 39
لا2 10لا 39 0
(لا 13)(ل30) 0
اگر لا 13 0 تو لا - 13
اور اگر لا - 3برابر0 تو لا =3۳
چونکہ اشرفیاں منفی مقدار نہیں ہوسکتیں لہذا اشرفیوں کی اصل تعداد ۳ تھی ۔ اگلے روز محمد بن موسی خوارزمی نے دیہاتی کو سوال کادرست جواب بتا کر حیران کر دیا ۔ اس کے بعد وہ اس کام میں اتنے مگن ہوئے کہ نا معلوم مقداروں کو لا ، ما وغیرہ حروف سے ظاہر کرتے گئے اور یک نئے علم کی پوری کتاب مرتب کرڈالی جسے آج الجبرا کا نا م دیا جاتا ہے اور جو سائنسی علوم کی بنیاد بن گئی ہے ۔ دیہاتی کے مذکورہ بالا سوال سے اخذ کردہ حل آج " دو درجی مساوا ت کا حل " کے نام سے الجبرا (ریاضی ) کی ہر کتاب میں شامل ہوتا ہے ۔ ہم نے الجبرا عربی حروف ا،ب ، ج،د، لا ، ما وغیرہ میں پڑھا تھا مگر اب قوم چونکہ انگلش میڈیم کی شاہراہ پر گامزن ہوچکی ہے ، اس لئے محمد بن موسی کے الجبرا کو انگریزی حروف a,b,c,x,y,z وغیرہ میں ڈھال کر پڑھایا جار ہا ہے ، یہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش کرنے کی روش کا شاخسانہ ہے ۔
اب ہم آپ کے سامنے انسانیت کے محسن محمد بن موسی خوارزمی کی علمی و سائنسی خدمات کی کچھ تفصیل پیش کرتے ہیں ۔
محمد بن موسی خوارزمی اپنے عہد کا عظیم ریاضی دان تھا ۔سارٹن کی رائے میں ازمنہ ء وسطی میں علم ریاضی کو کسی بھی دوسرے ریاضی دان سے زیادہ اس نے متاثر کیا ۔ اس نے یہ صرف اس کو ایک علم کی حیثیت سے مد ون و مرتب کیا بلکہ اس کو نئی جہتیں دیں اور اس طرز پر ترقی دی جس کی بدولت یہ آج تک نشو نما پاتا جا رہا ہے ۔ اس نے اس کو دوسرے علوم میں داخل کرنے کی طرح بھی ڈالی جس سے اس کی افادیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔اس نے اعداد کی مقامی قیمت مقرر کرکے اکائی ، دھائی ، سینکڑا ، ہزار اور اس سے اوپر کی رقمیں لکھنے کی طرح ڈالی ۔ ان میں عدد کی جو جگہ خالی ہوتی اس کو نقطے کی صورت میں لکھتا ۔ اس طرح خوازمی نے صفر کو بطور عدد استعمال کیا۔اس کے بعد اس نے اعداد کی جمع ، تفریق کے قوائد منضبط کئے اور علم الحساب کو ایک آسان اور مفید علم بنا دیا ۔ علم ِ حساب پہ اس کی تصنیف کا نام حساب العدد الہندی تھا جو اب ناپید ہے ۔البتہ اس کا وہ ترجمہ موجود ہے جو اس کا بارھویں صدی میں لاطینی زبان میں ہوا ۔ اس علم کو یورپ میں رائج کرنے والا
پیسا کالیونارڈو تھا جس نے اس نظام کی خوبیوں سے واقف ہوکر خود بھی علم الحساب پر ایک کتا ب لکھی ۔ اٹھارویں صدی تک خوارزمی کی نسبت سے ا س علم حساب کو یورپ میں الخوارزم(lgorism ) اور اسپین میں گورزمو کہاجاتا رہا ۔ حسابی قاعدہ لاگر تھم ( lgarithm)
میں بھی الخوارزمی کا نام پہچانا جا سکتا ہے ۔
ریاضی کی دوسری شاخ الجبرا کا حقیقی بانی خوارزمی کو مانا جاتا ہے ۔ بعض معلوم مقداروں کی مدد سے کسی نا معلوم مقدا تک پہنچنے کا تصور ایرانیوں کے ہاں موجود تھا لیکن یہ کسی مرتب متعارف شکل میں نہ تھا۔ نیزاس زمانے میں دنیا جیومیٹری سے زیادہ متعارف تھی اور لوگ اس کی مدد سے نا معلوم مقداروں تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے ۔ خوارزمی نے اس علم کو بھی اپنے علم ِ حساب کے انداز پر مرتب کیا ۔ اس میں بھی جمع اور تفریق کے قاعدے استعمال کئے ۔ دیہاتی کی ڈالی ہوئی پہیلی حل کرنے کے بعد خوارزمی نے حسابی جملوں کو مختصر کر کے مساواتوں کی شکل میں تبدیل کرنے کے طریقے تجویز کئے جن کے حل کے نتیجے میں وہ نا معلوم مقدار تک پہنچ جاتا۔ اس طور پر خوارزمی دو درجی مساواتوں کو حل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ مثال کے طور پر اس نے مساوات لا2 10 لا 39کو نہ صرف الجبرائی طریقے سے حل کیا بلکہ اس کا ثبوت جیومیٹری کی اشکال سے بھی مہیا کیا ۔ خوارزمی نے یہ نئی دریافت اپنی کتاب " المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ " میں بیان کیا ہے جس میں الجبرا سے مراد منفی اعداد کو مثبت اعداد میں بدلنا اور المقابلہ سے مراد ایک مساوات کے دونوں اطراف میں یکساں کمی بیشی سے نئی مساوات قائم کرنا تھا ۔ اس کتاب کا لاطینی ترجمہ چودھویں صدی کے کنشی (anacci ) نے کیا ۔
اس نے کتاب کے نام میں سے المقابلہ کا لفظ حذف کردیا ۔ اس طرح سولہویں صدی تک ریاضی کی اس شاخ کو الجبرا ہی کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔کتاب المختصر کا انگریزی ترجمہ 1831ء میں شائع ہوا ۔ اس کا اصل متن 1939 ء میں قاہرہ میں ہوا ۔
)ریاضی کی کتابوں میں مسائل کے حل کی سہولت کے لئے آج تکوینیاتی جدولیں (rignomentric ) (ables ) شامل کی جاتی ہیں ۔ ان کے آغاز کا سہرا خوارزمی کے سر جاتا ہے ۔ اس سے پہلے قائمہ زاویہ مثلث کے ارتفاع اور وتر کے مابین نسبت " جس کو آج Sine کہتے ہیں " کا تصور موجود تھا ۔ خوارزمی نے اس میں ارتفاع اور قاعدے کے مابین نسبت ظل " جس کو آج Tangent کہتے ہیں " کا اضافہ کیا اور مثلث کے مختلف زاویوں کے لئے نسبتوں کی جدولیں تیار کیں ۔ ان پر ہسپانیہ کے ریاضی دان مسلمہ المجر یطی نے دسویں صدی کے نصف آخر میں نظر ثانی کی اور وہاں سے یہ علم یورپ کو منتقل ہوا ۔
خوارزمی نے فلکیات میں سیاروں کی پوزیشنوں کی جدولیں بھی تیار کیں جو ہندوستان سے لائی ہوئی علم نجوم کی تین کتابوں " سوریا سدھانتا،چندا جا دیکا اور بر ہما گپتا کے مطالعہ پر مبنی تھیں ۔ان جدولوں کو زیج السند ہند کا نام دیا گیا ۔ خوارزمی نے دو رسالے اس دور کے کمپیوٹر اصطرلاب پر اور ایک رسالہ دھوپ گھڑی کی ساخت پر لکھا ۔ اس نے جغرافیہ پر پہلی مفصل کتاب صورۃالارض کے نام سے لکھی جس کا نسخہ سٹراسبرگ(فرانس ) میں محفوظ ہے یہ اگر چہ یونانی جغرافیہ دان بطلیموس (tolemy ) کے جغرافیہ پر مبنی تھی لیکن اس میں خوارزمی نے یونانیوں کے کئی تصورات کی تصحیح کی تھی ۔ اس نے نئے زمینی اور فلکی نقشے اور کئی شہروں کے محددات (oordinates ) یعنی طول بلد اور عرض بلد درج کر کے جغرافیہ کے علم میں ایک جدت پیدا کی ۔
محمد بن موسی الخوارزمی نے تاریخ کی ایک کتاب بھی تصنیف کی جو کتاب التاریخ کہلاتی ہے ۔ اس سے بعد کے مورخین مسعودی اور طبری نے استفادہ کیا ۔ خلیفہ مامون کے زمانے میں جب زمین کے درجات کی پیمایش کی گئی تو اس کام میں بھی محمد موسی الخوارزمی شریک تھا ۔ اس نے ۰۲۲ ھ اور ۰۳۲ھ کے درمیان وفات پائی ۔
محمد موسی الخوارزمی کا ہم نام ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن یوسف خوارزمی (متوفی ۷۸۳ھ) بھی ریاضی دان تھا ۔ اس نے مسلمانوں کا قدیم ترین دائرہ المعارف (انسائیکلو پیڈیا ) مفاتیح العلوم کے نام سے مرتب کیا۔

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 542
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
compaq (04-03-12), shafresha (18-06-11), حسنین ایوب (18-06-11), طارق راحیل (10-11-11)
پرانا 18-06-11, 12:07 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ۔ مسلمانوں کے شاندار ماضی کی یاد دلادی۔ مگر آج ھم اسلام پر چلنے ھی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کیوں سمجھتے ھیں۔ آپکا شکریہ بھیا جی کہ آپ نے ھمارے سوئے ھوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کی ٹھانی۔اب شاید ھم یہ سب پڑھ کر سوچیں کہ اگر ماضی میں کم وسائل کے باوجود ھم تعلیمی کاوشوں میں اس قدر آگے تھے تواب کیوں کر اسلامی روایات کی پاسداری کرکے پیچھے رھیں گے۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
compaq (04-03-12), shafresha (18-06-11), حسنین ایوب (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 01:08 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی مسلمانوں‌ نے اگر کچھ آج کل کے دور میں کیا ہوا تو اس پر بھی روشنی ڈالیں۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
compaq (04-03-12), shafresha (18-06-11), بزم خیال (14-03-12)
جواب

Tags
فرض, کمپیوٹر, کمال, کارنامے, کتابوں, قدم, قرآن, نماز, نظر, مکمل, میراث, منتقل, متعارف, مسائل, معلوم, آج, اکبر, اللہ, اسلام, اسلامی, خدا, دریافت, راستہ, ستارے, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی گلاب خان خبریں 0 10-03-11 06:01 AM
کمزور ذہن والے متوجہ ہوں قاسم شاہ خبریں 0 22-11-10 01:50 AM
سیالکوٹ: دو معصوموں کا قتل اور نعشوں کی بے حرمتی ۔۔۔ کمزور دل مت دیکھیں فرحان دانش پاکستان میں دہشت گردی 7 22-08-10 04:32 PM
قرآن اور قوموں کا عروج و زوال gorgeous عبادات 1 09-05-10 01:01 PM
مسلمانوں کے زوال کی وجوہات حدیث کی روشنی میں پیاسا اسلام اور عصر حاضر 0 04-08-08 07:30 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger