واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اشفاق احمد



اشفاق احمد اشفاق احمد


بابا کی تعریف، اشفاق احمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-01-11, 12:29 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بابا کی تعریف، اشفاق احمد

بابا کی تعریف، اشفاق احمد

ہم زاویہ کے بیشتر پروگرموں میں بابوں کی بات کرتے ہیں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بابوں کی Definition سے یا ان کی تعریف سے ہیئتِ ترکیبی سے آپ یقیناً بہت اچھی طرح واقف ہوں گے، لین میرا یہ اندازہ بالکل صیحح نہیں تھا۔ اب میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں، اور اس کی ایک چھوٹی سی تعریف بھی کروں، بابا کی۔
بابا وہ شخص ہوتا ہے جو دوسرے انسان کو آسانی عطا کرے۔ یہ اس کی تعریف ہے۔ آپ کے ذہن میں یہ آتا ہو گا کہ بابا ایک بھاری فقیر ہے۔ اس نے سبز رنگ کا کرتا پہنا ہوا ہے۔ گلے میں منکوں کی مالا ہے۔ ہاتھ میں اس کے لوگوں کو سزا دینے کا تازیانہ پکڑا ہوا ہے، اور آنکھوں میں سرخ رنگ کا سرمہ ڈالا ہے۔ بس اتنی سی بات تھی۔ ایک تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے اعلٰی درجے کی سرخ رنگ کی ٹائی لگائی ہے۔ بیچ میں سونے کا پن لگائے ہوئے ایک بہت اعلٰی درجے کا بابا ہوتا ہے۔ اس میں جنس کی بھی قید نہیں ہے۔ مرد عورت، بچہ، بوڑھا، ادھیڑ نوجوان یہ سب لوگ کبھی نہ کبھی اپنے وقت میں بابے ہوتے ہیں، اور ہو گزرتے ہیں۔ لمحاتی طور پر ایک دفعہ کچھ آسانی عطا کرنے کا کام کیا۔ اور کچھ مستقلاً اختیار کر لیتے ہیں اس شیوے کو۔ اور ہم ان کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ میری زندگی میں بابے آئے ہیں اور میں حیران ہوتا تھا کہ یہ لوگوں کو آسانی عطا کرنے کا فن کس خوبی سے کس سلیقے سے جانتے ہیں۔
میری یہ حسرت ہی رہی۔ میں اس عمر کو پہنچ گیا۔ میں اپنی طرف سے کسی کو نہ آسانی عطا کر سکا، نہ دے سکا اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ نہ ہی آئندہ کبھی اس کی توقع ہے۔
جب ہم تھرڈایئر میں تھے تو کرپال سنگھ ہمارا ساتھی تھا۔ ہم اس کو کرپالاسنگھ کہتے تھے۔ بیچارہ ایسا ہی آدمی تھا جیسے ایک پنجابی فوک گانے والا ہوتا ہے۔ لال رنگ کا لباس پہن کے بہت ٹیڑھا ہو کے گایا کرتا ہے۔ ایک روز ہم لاہور کے بازار انارکلی میں جا رہے تھے تو سٹیشنری کی دکانوں کے آگے ایک فقیر تھا۔ اس نے کہا بابا اللہ کے نام پر کچھ دے تو میں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پھر اس نے کرپال سنگھ کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بابا سائیں کچھ دے۔ تو کہنے لگا کہ بھاجی اس وقت کچھ ہے نہیں، اور اس کے پاس واقعی نہیں تھا۔ تو فقیر نے بجائے اس سے کچھ لینے کے بھاگ کر اس کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور گھٹ کے چبھی (معانقہ) ڈال لی۔ کہنے لگا، ساری دنیا کے خزانے مجھ کو دیئے، سب کچھ تو نے لٹا دیا۔ تیرے پاس سب کچھ ہے۔ تو نے مجھے بھاجی کہہ دیا۔ میں ترسا ہوا تھا اس لفظ سے۔ مجھے آج کسی نے بھا جی نہیں کہا۔ اب اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ان دنوں ہم سارے ہوسٹل کے لڑکے چوری چھپے سینما دیکھنے جاتے تھے۔ تو لاہور بھاٹی کے باہر ایک تھیٹر تھا اس میں فلمیں لگتی تھیں۔ میں ارواند، غلام مصطفٰی، کرپال یہ سب۔ ہم گئے سینما دیکھنے، رات کو لوٹے تو انار کلی میں بڑی یخ بستہ سردی تھی، یعنی وہ کرسمس کے قریب کے ایام تھے سردی بہت تھی۔ سردی کے اس عالم میں کہرا بھی چھایا ہوا تھا۔ ایک دکان کے تختے پر پھٹا جو ہوتا ہے، ایک دردناک آواز آ رہی تھی ایک بڑھیا کی۔ وہ رو رہی تھی اور کراہ رہی تھی، اور بار بار یہ کہے جا رہی تھی کہ ارے میری بہوجھے بھگوان سمیٹے تو مر جائے نی، مجھے ڈال گئی، وہ بہو اور بیٹا اس کو گھر سے نکال کے ایک دکان کے پھٹے پر چھوڑ گئے تھے۔ وہ دکان تھی جگت سنگھ کواترا کی جو بعد میں بہت معروف ہوئے۔ ان کی ایک عزیزہ تھی امرتا پرتیم، جو بہت اچھی شاعرہ بنی۔ وہ خیر اس کو اس دکان پر پھینک گئے تھے۔ وہاں پر وہ لیٹی چیخ و پکار کر رہی تھی۔ ہم سب نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی کہ دیکھو کتنا ظالم سماج ہے، کتنے ظالم لوگ ہیں۔ اس غریب بڑھیا بیچاری کو یہاں سردی میں ڈال گئے۔ اس کا آخری وقت ہے۔ وہاں اروند نے بڑی تقریر کی کہ جب تک انگریز ہمارے اوپر حکمران رہے گا، اور ملک کو سوراج نہیں ملے گا ایسے غریبوں کی ایسی حالت رہے گی۔ پھر وہ کہتے حکومت کو کچھ کرنا چاہیے۔ پھر کہتے ہیں۔ اناتھ آشرم (کفالت خانے، مقیم خانے) جو ہیں وہ کچھ نہیں کرتے۔ ہم یہاں کیا کریں۔ تو وہ کرپال سنگھ وہاں سے غائب ہو گیا۔ ہم نے کہا، پیچھے رہ گیا یا پتا نہیں کہاں رہ گیا ہے۔ تو ابھی ہم تقریریں کر رہے تھے۔ اس بڑھیا کے پاس کھڑے ہو کے کہ وہ بایئسکل کے اوپر آیا بالکل پسینہ پسینہ سردیوں میں، فق ہوا، سانس اوپر نیچے لیتا آگیا۔ اس کے ہوسٹل کے کمرے میں چارپائی کے آگے ایک پرانا کمبل ہوتا تھا جو اس کے والد کبھی گھوڑے پر دیا کرتے ہوں گے۔ وہ ساہیوال کے بیدی تھے۔ تو وہ بچھا کے نا اس کے اوپر بیٹھ کر پڑھتے وڑھتے تھے۔ بدبودار گھوڑے کو کمبل جسے وہ اپنی چارپائی سے کھینچ کر لے آیا بایئسکل پر، اور لا کر اس نے بڑھیا کے اوپر ڈال دیا، اور وہ اس کو دعائیں دیتی رہی۔ اس کو نہیں آتا تھا وہ طریقہ کہ کس طرح تقریر کی جاتی ہے۔ فنِ تقریر سے ناواقف تھا۔ بابا نور والے کہا کرتے تھے انسان کا کام ہے دوسروں کو آسانی دینا۔ آپ کا کوئی دوست تھانے پہنچے، اور وہ تھانے سے آپ کو ٹیلی فون کرے کہ میں تھانے میں آگیا ہوں۔

تو کبھی یہ مت پوچھو کہ کیا ہوا، کس طرح ہوا، کیسے پہنچے۔یہ پوچھو کون سے تھانے میں ہو، بس یہ آسانی عطا کرنے کا طریقہ ہے، اور یہ فن ہم نے سیکھا نہیں تھا۔ ہمارے کورس میں، کتاب میں اس قسم کی چیزیں ہی نہیں تھیں تو میرے ایک بھائی ہیں۔ میرے تایا زاد میری عمر کے۔ تو وہ مجھ سے تھوڑے دن خفا ہوئے۔ اس نے کہا، یہ تم نے کیا پروگرام شروع کیا ہے۔ دنیا ترقی کر رہی ہے، زمانہ آگے بڑھ رہا ہے اور تم پیچھے مڑ کے بابوں کی طرف لیے جا رہے ہو۔ جب آدمی ترقی کا مطلب لیتا ہے تو وہ بہانہ، اور سہارا دوسروں کا لیتا ہے۔ اپنی زندگی بنانے کا صرف اکیلا خواہش مند ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اس میں کسی اخلاق یا موریلٹی کی ضرورت نہیں، چھوڑو انسان کو۔ اب تم کوئی ایسا کام کرو جو ٹیکنالوجی کے ساتھ تولق رکھتا ہو، اور علم عطا کرو، اور ان کو بتاؤ۔ تو جب وہ مجھ سے بات کر رہے تھے، مجھے اپنے بابا جی کا زمانہ یاد آ رہا تھا کہ یہاں پر سبّی میں ایک میلہ ہوتا ہے۔ سالانہ مویشیوں کا میلہ وہ ہمارے پاکستان میں بہت مشہور ہے۔ میلہ بہت اعلٰی درجے کا ہوتا ہے وہاں کے کچھ لوگوں نے مجھے خط لکھا، بڑی محبت کے ساتھ کہ ہمارا بھی آپ کے اوپر کوئی حق ہے، تو آپ کبھی اشفاق صاحب یہاں پر تشریف لائیں۔ تو میں نے سنا تھا کہ سبی میں بہت گرمی ہوتی ہے، اور میں کیا کروں گا جا کر۔ میں کچھ ٹال جاتا تھا۔ خط تقریباً چار سال تک آتا رہا۔ پھر مجھے بہت شرمندگی ہوئی، اور ضمیر نے ملامت کی۔ بھئی ایسی کون سی مصیبت ہے آپ نہیں جا سکتے میں نے کہا، میں تیار ہوں جانے کے لیے۔ میں نے ارادہ باندھا تو میں قادری بابا سے جا کر پوچھا۔ اجازت لینے کے لیے۔ ہم زور لگا کے یہ رسم سیکھ رہے تھے، ورنہ کون اجازت لیتا ہے۔ میں نے کہا، سرکات وہ مجھے سبّی جانا ہے۔ کہنے لگے بہت خوشی کی بات ہے۔ بڑی اچھی بات ہے، ضرور جاؤ۔ میں نے کہا، جی وہاں کے لوگ نے بلایا ہے۔ کہنے لگے، نہیں نہیں اس میں پوچھنے کی کیا بات ہی کوئی نہیں، اور تم جانا اور ضرور جانا۔ میں نے کہا، جی آپ کی طرف سے اجازت ہے۔ کہنے لگے ضرور ہاں، بالکل اجازت ہے۔ میں بلکہ بہت خوش ہوں۔ تو میں ان سے اجازت لے کر چلا۔ ابھی میں ڈیرے سے دروازے تک پہنچا، باہر جھاڑ جھنکار کی جسے جسے کہتے ہیں نا ایک باڑ لگی ہوئی تھی، وہاں سے مجھے آواز دے کر پھر بلایا۔ کہنے لگے بیٹا بات سنو، جب میں لوٹ کے آیا تو مجھ سے کہنے لگے، سبّی جا رہے ہو، بڑی خوشی کی بات ہے۔ وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نہ بیٹھ جانا، ان کو محبت دینا۔ میں نے کہا، سر محبت تو ہمارے پاس گھر میں دینے جاگی نہیں، وہ کہاں سے دوں۔ میرے پاس علم ہی علم ہے۔ کہنے لگے نہ انہیں علم نہ دینا۔ انہوں نے محبت سے بلایا ہے، محبت سے جانا اگر ہے تو لے کر جانا، لین ہم تو ظاہر علم سکھاتے ہیں کہ اتنا اونچا روشن دان رکھو، مویشی کو اندر مت باندھو، ناک سے سانس لو، منہ سے ایکسیل کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ محبت! میں نے کہا، جی یہ بڑا مشکل کام ہے۔ میں کیسے یہ کر سکوں گا۔ میں گیا کوششیں بھی کیں، لیکن بالکل ناکام لوٹا، کیونکہ علم عطا کرنا، اور ان کی نصیحتیں کرنا بہت آسان ہے، اور محبت دینا بڑا مشکل کام ہے۔
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ بابے وہ ہوتے ہیں جن میں تخصیص نہیں ہوتی۔ اگر آپ زندگی میں کبھی کسی شخص کو آسانی عطا کر رہے ہیں تو آپ بابے ہیں۔ اگر آسانی عطا نہیں کر رہے تو پھر آپ اپنی ذات کے ہیں۔ ان بابوں کی بات کیا کرتا ہوں۔ جیسا کہ میں ابھی عرض کر رہا تھا کہ اس میں جنس کی بھی تخصیص نہیں ہوتی، قید نہیں ہوتی، عمر کی، Age کی۔ میری چھوٹی پوتی نے اس دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک عجیب و غریب بات کی جو میں تو نہیں کر سکا، اس نے سکول کی تھرماس لے کے اس میں سکنجبین بنائی۔ بہت اچھی ٹھنڈی، اور برف ڈالی، اور اس کو جہاں ہمارا لیٹر بکس لگا ہے، درخت کے ساتھ ہے، اس درخت کی کھوہ میں رکھ دیا۔ اور ایک خط لکھ کے پن کر دیا اس کے ساتھ۔ اس نے لکھا، انکل پوسٹ مین۔ آپ گرمی میں خط دینے آتے ہیں، تو آپ بایئسکل چلاتے ہو، بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے آپ کے لیے یہ سکنجبین بنائی ہے۔ یہ آپ پی لیں۔ میں آپ کی بڑی شکر گزار ہوں گی۔ ہاں جی تو دوپہر کو ہم روز زبردستی سلا دیتے تھے بچوں کو۔ شام کو جب جا گی تو وہ لے آئی، تھرماس دیکھا تو وہ خط تھا اس کا۔ اس کے اوپر ہرکارے نے جو خاص کان میں رکھتے ہیں بال پوائنٹ، ان کا خاص انداز ہوتا ہے، تو اس نے لکھا تھا، پیاری بیٹی تیرا بہت شکریہ۔ میں نے سکنجبین نے دو گلاس پئیے، اور اب میری رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ میں ایک پیڈل مارتا ہوں تو دو کوٹھیاں آسانی سے گزر جاتا ہوں، تو جیتی رہ۔ اللہ تجھے خوش رکھے۔ کل جو بنائے گی، اس میں چینی کے دو چمچ زیادہ ڈال دینا۔ یہ اس کی محبت ہے نا۔ یہ بچی جو ہے چھوٹی سی خواتین و حضرات اس نے بابا کی طرح آسانی دی تھی۔ اس نے ایک Relatedness ایک تعلق محسوس کیا اس نے۔ اس طرح سے میں کہا کرتا ہوں کہ ہماری زندگیوں میں ہمارے اس جلتے ہوئے ماحول میں تکلیفوں بھرے ماحول میں آپ اکثر دیکھا ہو گا کہ دفاتر، سرکاری دفاتر سے بیورو کریسی سے کوئی خیر نہیں پڑتی۔ لوگ بہت دکھی رہتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہمارا ایک محکمہ ایسا ہے جو خیر بانٹتا ہے، اور میں اس سے بہت خوش ہوں۔ وہ ڈاک کا محکمہ ہے یعنی آپ بڑی آسانی کے ساتھ اپنی چیز لے جائیں، اور ٹھپا لگا کر آپ کو رسید دیتا ہے میں دعا کرتا ہوں۔ آپ یقین کریں میں سچی بات عرض کرتا ہوں کہ جس طرح سے وہ لوگ کسی درگاہ کے قریب سے گزرتے ہوئے سلام کرتے ہیں، میں جب بھی کسی ڈاک خانے کے پاس سے گزرتا ہوں، چاہے میں گاڑی میں جا رہا ہوں میں انہی سلام ضرور کرتا ہوں کہ میں آپ کی، اور کوئی خدمت نہیں کر سکا۔ اب آپ کہنے والے ہوں گے۔ جناب یہ منی آرڈر چوری کر لیا تھا، انہوں نے اخبار میں آتی ہیں ایسی چیزیں۔ میں مجموعی طور پر بات کر رہا ہوں۔ وہ بڑی خوبی کے مالک ہوتے ہیں، اور وہ آپ کو آسانیاں عطا کرتے ہیں۔
آپ اپنا پارسل لے کر جائیں، اور وہ بابو جو بیٹھا ہوا کہے، جناب اس پر پیلا کاغذ لگا کر لائیں۔ یہ نیلا نہیں قابلِ قبول۔

آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ دوسرا یہ کہ ڈوری اس پر سرخ باندھیں۔ یہ جو سیبا (دھاگہ) آپ نے باندھا ہے یہ قابلِ قبول ہے، کچھ بھی اعتراض کر سکتا ہے، یعنی آپ دیکھیے ایک چیز جو میرا استحاق ہے جس پر مجھے پورا حق ہے، اور جس پر ریاض صاحب، قادری صاحب کوئی بھی اس کے اوپر حق نہیں رکھتے۔ اتنی وہ چیز میری ہے کہ اس دنیا میں اس دنیا میں اس کرہ ارض پر، اور کسی کی نہیں، اور اس میں شامل ہی نہیں، اور میرا نام، اور میری تاریخ پیدائش ہے۔ اگر مجھ کو وہ خدانخواستہ تاریخ پیدائش دفتر سے لینی پڑ جائے۔ کئی دفعہ Date of Birth نکلوانی پڑتی ہے نا۔ تو وہ کہتے ہیں، اشفاق صاحب چھ مہینے کے اندر اتنی جلدی آپ کیسے نکال دیں گے۔ اب رویے کی بات ہے۔ وہ آسانی کے بجائے Objection لگا دیتے ہیں اس کے ساتھ۔ وہ لگائیں اپنا شناختی کارڈ، وہ لگایا، پھر کہا، جی اس کی دو کاپیاں کر کے لائیں، کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔تو میں بڑی دعا کرتا ہوں، اور دعا دیتا ہوں، اور یہ جو بابا پن ہے، ڈاکخانے نے اپنا قائم رکھا ہوا ہے، اور جس میں ہلکی ہلکی کوتاہیاں آتی رہتی ہیں۔ اللہ کے واسطے وہ انہیں دور کریں، تاکہ ہم فخر کے ساتھ اس کو دنیا کے اور اداروں کے ساتھ موازنے اور مقابلے میں پیش کر سکیں۔
میں جب نیا نیا آیا ولایت سے آیا تو میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ ڈیرے کیا ہوتے ہیں۔ میں نے وہاں جو پہلی بات نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ ہم لوگ اندر بیٹھے ہیں۔ کھانا کھا رہے ہیں۔ بابا سے باتیں ہو رہی ہیں تو جب ہم باہر نکلتے تھے تو ساروں کی جوتیاں ایک قطار میں ہوتی تھیں، اور ان کا رخ باہر کی طرف ہوتا تھا۔ آدمی جوتی اتار دیتا ہے۔ اونچی نیچی پڑی رہتی ہیں تو ڈیروں پر اس کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے۔
میں نے جب دیکھا تو یہ مباح، اچھا فعل ہے۔ لوگوں کی جوتیاں ٹھیک کرنا، اور مجھ میں کیونکہ تھوڑا سا استکبار تھا، گھمنڈ تھا کہ میں ولایت سے پڑھ کے آیا ہوں، بڑا کوالیفیکیشن والا ہوں، ہوتا ہے عام طور پر۔ میں نے ہمت کر کے جوتیاں سیدھی کرنے کی کوشش کی۔ یہ مشکل کام تھا، لیکن میں نے زور لگا کے، اور آنکھ بچا کے ( میری بھی عزت کا سوال تھا)۔ تین چار پانچ ٹھیک کی تھیں تو اوپر سے بابا جی آ گئے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ( کہ نہ نہ نہ پت تسیں ایہہ کم نہ کرو۔ بالکل نہیں کرنا)۔ آپ نے نہیں کرنا۔ میں نے کہا نہیں جی۔میں شرمندہ سا تھا، اٹھا لیا مجھے۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں، مجھے منع کر دیا، منع تو ہو گیا۔ لیکن میری طبیعت پر بڑا بوجھ رہا، اور میں یہ ساچتا رہا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ میں ایک اچھے فعل میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ ہاں جی میری ساتھ یہ کیوں کیا تو دوپہر کے وقت ہم اکیلے تھے۔ میں نے کہا، جی میں عرض کروں ایک بات، کیونکہ میری طبیعت پر اس کا بڑا بوجھ ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے کہا، یہ ٹھیک ہے جو علم آپ کو عطا کرنا ہے، وہ زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا، لیکن وہ سر میں تو اچھا کام کر رہا تھا۔ کہنے لگے آپ کے لیے ضروری نہیں تھا کہ ایسا فعل آپ کے تکبر میں، اور اضافہ کر دیتا ہے، کیونکہ چند لوگ دیکھتے کہ جناب سبحان اللہ اشفاق صاحب یہ کام کر رہے ہیں۔ آپ نے، اور پاٹے خان بن جانا تھا۔ آپ اس کو دیکھیں ہمارے ذہن میں بات نہیں آتی نا۔ بڑی دور کی بات ہے۔ نہیں آتی تو اس لیے ہم نے ان لوگوں کی خدمت میں یہ عرض کیا، ہم ہر گز ہر گز پیچھے کی طرف نہیں جا رہے ہیں۔ ہم تو بہت آگے ذرا زیادہ Advance جا رہے ہیں۔ ہم لوٹ کے آنا چاہتے ہیں۔ اس استحکام، اور مضبوطی کی طرف جو کسی زمانے میں ہمارا طرہ امتیاز تھا۔
ہمارے ایک یہاں پروفیسر تھے۔ بہت اچھے سایئکالوجی کے بھلے آدمی۔ میرا بھانجا ان سے پڑھتا تھا تو وہ ایک دن آیا، کہنے لگا، ماموں وہ ہماری ایکسڑا کلاسیں لیتے ہیں شام کے وقت اور دس
Student ان کے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ امی تو پیسے نہیں دے سکتیں، ابو کا ہاتھ کچھ تنگ ہے۔ تو آپ ایسے کریں کہ پروفیسر صاحب سے مل کر کچھ طے کریں۔ ابو کہتے ہیں کہ ہم ان کو 500 روپیہ دے سکتے ہیں، تو میں ان پروفیسر صاحب کے پاس گیا۔ شام کے وقت گھاس پر پرانے انداز میں بیٹھے ہوئے پڑھا رہے تھے۔ بڑے انہماک، اور لگن کے ساتھ۔ تو میں نے گستاخی کی۔ میں نے کہا، پروفیسر صاحب میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں تو وہ کہنے لگے، اچھا۔ وہ چھوڑ کے آئے۔ میں نے کہا، میں آپ کے پاس ایک درخواست لے کر آیا ہوں۔ آپ جانتے ہیں۔ کہنے لگے، ہاں جی ہاں آپ کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ تو میں نے کہا آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ یہ میری بہن زیادہ صاحبِ حیثیت نہیں ہے وہ صرف پانچ سو روپیہ آپ کو دے سکیں گے۔ کہنے لگے اشفاق صاحب مجھے پڑھانے کے پیسے تو ملتے ہیں۔ میں نے کہا، وہ دوسرے لڑکے آپ کو زیداہ دیتے ہوں گے۔ کہنے لگے، نہیں نہیں مجھے سرکار سے ملتے ہیں۔ میری تنخواہ ہے۔ میں نے کہا، وہ تو کالج میں پڑھانے کے ملتے ہیں وہ صبح ملیں یا شام آل دا ٹئم ٹیچرازٹیچر۔یہ تو آپ ایکسٹرا پڑھا رہے ہیں۔ کہنے لگے نونونواس کے پیسے تو مجھے سرکار ہی دیتی ہے۔ یہ آپ کو کس نے کہہ دیا کہ میں 500 روپیہ لیتا ہوں۔ آپ تو مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ یہ تو میرا فرض ہے، اور یہ میری محبت ہے، اور یہ بڑی محبت کے ساتھ لوگ آئے ہیں۔ تو وہ پروفیسر تھے جو آسانی عطا کرتے تھے، اور ان کے پاس اور کلاسیں آتی رہیں، میں ان کو دیکھتا رہا، اور ان کو سلام کرنے جاتا رہا، کیونکہ وہ بھی ایک بابا تھے، جس طرح میری پوتی ایک بابا ہے۔ میں اسے سلام کرتا ہوں، ڈاکخانے ایک بابا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جس میں سچ مچ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ذرا سا جھٹکا اس لیے لگتا ہے کہ اس میں ایمپوسٹرز تو ضرور آ ہی جاتے ہیں۔ جعلی بندے شامل ہو ہی جاتے ہیں جس طرح کئی دفعہ ٹھگ جو ہوتا ہے، وہ فوجی میجر کی وردی پہن کر دکان چیک کرنے چلا جاتا ہے۔ کہ تمھارے کیا حساب و کتاب ہیں، اور گلے میں سے ہزار روپیہ کھسکا کے لے آتا ہے تو آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ جو میجر ہوتا ہے، وہ ٹھگ ہوتا ہے اس لیے آرمی میں سے میجر کا رینک نکال دیں۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ ایمپوسٹرز جو ہے، ٹھگ جو ہے، وہ اپنے انداز کا ہے، ویسا ہی رہے گا۔ آپ کو اب یہ دیکھنا ہے، اور ذرا سا اس کا آسان ٹیسٹ یہ جو آپ اپنی ذات پر بھی Apply کر سکتے ہیں کہ اس نے کسی سطح پر کسی طریقے سے بنی نوع انسان کو آسانی عطا کی یا نہیں۔
آپ نے اپنے بچپن میں دیکھا ہو گا۔ آپ کے محلے کے آپ کے گاؤں کے، اور آپ کے قصبے کے یا آپ کے شہر کے بزرگ جو تھے وہ جب راہ چلتے تھے تو اپنی چھڑی کے ساتھ کوئی کیلے کا چھلکا پڑا ہوا ہے یا کوئی ایسی گری پڑی چیز اینٹ، روڑا ہٹاتے چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ بد نصیبی ہے۔ جس دن اپنی چھڑی کے ساتھ، ایک اکیلا آدمی اس آلائش کو دور کرتا چلا جائے گا، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پیچھے چلنے والے آتے جائیں گے، اور ملتے رہیں گے۔ ہماری یہ کوتاہی رہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں علم عطا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ وہ بابا جی نے جو کہا تھا کہ علم عطا کرنے نہ بیٹھ جانا۔ ان کو محبت دینا۔ آپ کو مجھ سے محبت دینے کی ضرورت ہے ورنہ علم اندر نہیں جاتا۔ وہ پروفیسر جو گھاس پر بیٹھ کے لڑکوں کو پڑھاتا تھا، اس کا علم جاری رہا تھا۔ وہ اس لیے کہ اس کے پاس ایک ایسا پرنالہ تھا جو محبت کا تھا، اور وہ پھسل پھسل کر لڑکوں میں داخل ہو رہا تھا۔ یہ اس کے بغیر نہیں ہو گا۔ خواتین و حضرات آج ہلکی سی وضاحت یہ بابے کی ہوئی، اور آپ کے ذہن سے بہت سے شکوک، میرا خیال ہے دور ہوتے رہیں گے، نہ ہوتے ہوں تو کوئی ایسی بری بات نہیں۔ شکوک کو ساتھ لے کر چلنا ہی اچھی بات ہے۔ کیونکہ شک جو ہے خلافِ ایمان نہیں ہے۔ ایمان کا ایک حصہ ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں شک پیدا ہو گا جو ایمان والا ہے، اللہ کو مانتا ہے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں، لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہر ہفتے آپ سے ملاقات ہو جاتی ہے، اور کچھ ایسی باتیں ہو جاتی ہیں، جو میں اپنے لیے جاننا نہیں چاہتا، کیونکہ یہ آپ کا حصہ ہے۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے، اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔آمین

زارا
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
saraah (19-03-11), shafresha (25-01-11), محمدخلیل (25-01-11), رضی (18-03-11), شمشاد احمد (25-01-11), عروج (19-03-11)
پرانا 25-01-11, 02:33 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ بہن!!!!!!!!!!

آپ کی شوئیرنگ واقعی لاجواب ہے!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-01-11, 02:39 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکے قیمتی کمنٹس کا شکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-01-11)
پرانا 27-01-11, 09:57 AM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بابا کی تعریف

اسکوکلوزکر دیں شکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-01-11, 10:04 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,327
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں یہی کہنے آیا تھا کہ یہ تحریر پہلے بھی یہاں موجود ہے لیکن آپ نے خود ہی کہہ دیا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-01-11)
پرانا 15-03-11, 11:28 PM   #6
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 19
کمائي: 364
شکریہ: 0
13 مراسلہ میں 34 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام۔۔۔۔۔اشفاق احمد صاحب ایک بہت ہی اچھے مصنف اور ڈرامہ نگار تھے ان کی تحریریں پڑھ کر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے وہ دل کو موہ لینے والے انداز کی بنا پر اپنی پہچان آپ تھے ان کی تحریروں سے آدمی بہت کچھ سیکھ کر نہ صرف اپنی موجودہ عملی زندگی کو بہتر بنا سکتاہے بلکہ مستقبل کے لئے بھی اچھی منصوبہ بندی کرسکتاہے۔ موصوف کی نظر میں بابا کی کی جو تعریف ہے وہ بہت ہی اچھوتی ہے یعنی ’’لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والا‘‘ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم بھی لوگوں کے لئے آسانیاں پیداکرکے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ کتابوں میں لکھا ہے کہ’’ تمام دنیا کے لوگ اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کواپنے بندوں میں سب سے پیارا وہ بندہ لگتاہے جو اس کے کنبے کی خیرخواہی چاہتاہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دوسروں کے لئے آسانیاں فراہم کرنے والا بنائے آمین ثم آمین والسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔غلام حسین نیازی ۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاک ستان
niazi1968 آف لائن ہے   Reply With Quote
niazi1968 کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (18-03-11)
پرانا 19-03-11, 06:00 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الفاظ نہیں مل رھے اس تحریر کے مقابل۔۔۔۔شکریہ زارا۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-11, 06:14 PM   #8
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کا شُکریہ اور شُکریہ عروج آپی۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-11, 07:25 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زارا آپ اشفاق احمد صاحب کو کوئی عام شخصیت نہ سمجھ لیجئے گا یہ خود بھی ایک چھپے ہوئے با با ہی تھے اور بابے کسی خاص حلیہ کے محتاج نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ جو اپنے آپ کو بابا ظاہر کرے وہ با با ہے ہی نہیں بابے تو اپنے آپ کو چھپا تے ہیں ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں پہچان ہی نہ سکیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ بابے ہونے کے لئے ڈاڑھی بھی شرط نہیں ہے بلکہ خلوت در انجمن کی صفت ہونی چاہئے
بحر حال آپ نے بہت خوبصورت لکھا ہے ایسے موضوع اب ناپید ہوتے جارہے ہیں
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-11, 07:35 PM   #10
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اشفاق احمد کو میں تو کیا سب جانتے ہیں۔ اورآپ نے دُرست فرمایاجو خود کوباباظاہرکرتے ہیں وہ ہوتے نہیں ہیں اورجو ہوتے ہیں وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-11, 10:29 PM   #11
Senior Member
 
saraah's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

بابا کی تعریف

اسکوکلوزکر دیں شکریہ
''a thing of beauty is a joy forever''
سو کوئی فرق نہیں پڑتا زارا ڈئیر
saraah آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, فرض, کالج, گانے, پوسٹ, پاکستان, قید, لوٹے, محبت, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اچھا کام, انسان, بھائی, بچپن, بچوں, خواتین, دیکھو, دوست, رفتار, رات, زندگی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب ابن یعقوب اقسام حدیث 16 24-05-10 10:03 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 0 28-10-09 09:28 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 3 12-10-09 01:53 AM
سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger