![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
جب اُن سے ملے تب صبر آیا، جو خود بھی لٹ کر آئے تھے
پہلے پہل اس شہر میں ورنہ ہم تو بہت گھبرائے تھے احباب، مریضِ غم کیلئے کچھ چارہ گروں کو لائے تھے پھر کیا جانے کیوں لوٹ گئے دروازے تک تو آئے تھے جب گھر کی آگ بجھی تو کچھ سامان بچا تھا جلنے سے سو وہ بھی ان کے ہاتھ لگا جو آگ بجھانے آئے تھے جو لوگ شریکِ سازش تھے ہم نام بھی ان کا کیسے لیں کچھ ان میں دوست پرانے تھے کچھ باعزت ہمسائے تھے کچھ اہلِ خرد اب کہتے ہیں اِس حال سے ماضی اچھا ہے اور یہی جب ہم نے کہا تھا دیوانے کہلائے تھے بے چارے چارہ سازوں کو، ناکامی کا الزام نہ دو وہ اُن زخموں کا کیا کرتے جو جان کے ہم نے کھائے تھے اِس شوقِ غزل گوئی سے، اُن کی حرمت بھی مجروح ہوئی جوزخم بڑی مشکل سے ہم نےساری عمر چھپائے تھے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شاعری ہے
شئیر کرنے کا شکریہ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
آپکا پسند کرنے کا شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم یا اھل پاکستان
یہ غزل تمام چاھنے والوں کے نام وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو وہي يعني وعدہ نباہ کا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے پيش تر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے ياد ذرا ذرا تہمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو وہ نئے گلے وہ شکايتيں وہ مزے مرے کي حکايتيں وہ ہر ايک بات پہ روٹھنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو کبھي بيٹھے سب ميں جو روبو تو اشارتوں ہي گفتگو وہ بيان شوق کا بر ملا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتائے کو دم بہ دم گلہ ملامت اقربا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو کوئي ايسي بات اگر ہوئي کہ تمہارے جي کو بري لگي تو بياں سے پہلے ہي بھولنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو کبھي ہم ميں تم ميں بھي چاہ تھي کبھي ہم ميں تم ميں بھي راہ تھي کبھي ہم بھي تم سے تھے آشنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو سنو ذکر ہے کئي سال کا کہ کيا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کيا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو کہا ميں بات وہ کوٹھے کي مرے دے صاف اتر گئي تو کہا کہ جانے مري بلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہوs وہ بگڑ وصل کي رات کا وہ نہ ماننا کسي بات کا وہ نہيں نہيں کي ہر آن ادا تمہيں ياد ہو نہ ياد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا ميں وہي ہوں مومن مبتلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو |
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (10-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پیش کرتے ہیں تمام کی خدمت مین:-
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق سچ تو يہ ہے بري بلا ہے عشق اثر غم ذرا بتا دينا وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق آفت جاں ہے کوئي پردہ نشيں مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق کس ملاحت سرشت کو چاہا تلخ کامي پہ با مزا ہے عشق ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني دل رہا حسن و جاں رہا عشق ديکھ حالت مري کہيں کافر نام دوزخ کا کيوں دھرا ہے عشق ديکھتے کس جگہ ڈبو دے گا ميري کشتي کا نا خدا ہے عشق آپ مجھ سے نباہيں گے سچ ہے با وفا حسن بے وفا ہے عشق قيس و فرہاد وامق و مومن مر گئے سب ہي کيا وبا ہے عشق |
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (10-12-10) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جو لوگ شریکِ سازش تھے ہم نام بھی ان کا کیسے لیں
کچھ ان میں دوست پرانے تھے کچھ باعزت ہمسائے تھے اِس شوقِ غزل گوئی سے، اُن کی حرمت بھی مجروح ہوئی جوزخم بڑی مشکل سے ہم نےساری عمر چھپائے تھے __________________ جناب یہ کون سا شاعر ہے؟؟؟ ہے تو غضب کا |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (10-12-10) |
![]() |
| Tags |
| ہمسائے, ہاتھ, کیلئے, کیسے, کرتے, گھر, پرانے, لگا, لوگ, لوٹ, لائے, نام, ملے, آگ, الزام, تب, جانے, حال, حرمت, خود, دوست, شہر, غم, غزل, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وہ بھی کیا دن تھے | یاسر عمران مرزا | قہقہے ہی قہقے | 5 | 13-11-09 08:53 PM |
| کس کو گماں ھے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے | The Great | احمد فراز | 1 | 03-09-09 10:12 AM |
| پھول بھی ابر بھی مہتاب بھی میرے کب تھے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 25-08-09 01:42 PM |
| کبھی ہم خوبصورت تھے | sender | شعر و شاعری | 6 | 03-02-09 11:25 AM |
| گلہائے دھنک رنگ سے خوش پوش تھے ہم بھی | محمدعدنان | شعر و شاعری | 0 | 30-03-08 07:05 PM |