واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > اقسام حدیث



اقسام حدیث اقسام حدیث


::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف :::::

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 07-04-08, 06:38 PM   #1
::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف :::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 07-04-08, 06:38 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

اس مراسلے پر تبصرے یا سوال کے لیے درج ذیل ربط پر تشریف لے جائیے:


::::: حدیث کی تعریف اور اقسام :::::

الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
لفظ ''' حدیث ''' کا لغوی معنیٰ ، یعنی عربی لُغت میں اِس کا معنیٰ ہے ::: کوئی بھی نئی چیز ::: اور اِسلامی اصطلاحات میں اِس کا معنیٰ او رمفہوم ہے ::: ہر وہ بات ، کام ، کام کی کیفیت ، کِسی کام یا بات کے لیے اقرار ، کوئی صفت ، جِس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی طرف کی گئی ہو ، یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم سے منسوب کی گئی کوئی بات ، کام ، کام کی کیفیت ، کِسی کام یا بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کا خاموش رہ کر اُس کو جائز قرار دینا ، اور اِخلاقی ، جِسمانی ، روحانی ، کوئی بھی صفت ۔
::: حدیث ::: کی بُنیادی طور پر چار بڑی اقسام کی جاتی ہیں (١) قولی (٢) فعلی (٣) تقریری ، قولی اور فعلی تو واضح بات ہے ، تقریری یعنی اقرار والی کیفیت کا معنیٰ ابھی اوپر ذِکر کیا گیا ہے (٤)صفاتی ، یعنی ایسی بات جِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی کوئی صفت بیان کی گئی ہو ،
:::حدیث قُدسی ::: جِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم نے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی کوئی بات اللہ سے منسوب کر کے نقل فرمائی ہو ، حدیث قُدسی قولی حدیث کے زُمرے میں گنی جاتی ہے ،
::: حدیث ::: جب پڑہی ، سُنی سُنائی ، لکھی ، لکھوائی جاتی ہے تو اُس عِبارت کو دو بُنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ،
::: (١) سند ::: یعنی وہ حصہ جِن میں راویوں کا ایک دوسرے سے سُننے کا ذِکر ہوتا ہے ، مثلاً میں نے عبداللہ سے سُنا ، اُس نے عبدالرحمان سے سُنا ، اُس نے عبدالرحیم سے سُنا ، اُس نے ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے سُنا ، اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، یا کو ، سُنا ، یا دیکھا ، کہ ۔ اِس حصے کو سند کہا جاتا ہے ، اور جو لوگ ایک دوسرے سے بات نقل کرتے ہیں وہ راوی کہلاتے ہیں ، ایک راوی کا دوسرے سے روایت کرنے کا انداز حدیث کی صحت یعنی دُرستگی کا تعین کرنے میں بہت مدد گار ہوتا ہے ، یہ ایک الگ تفصیلی موضوع ہے جِسے میں یہاں شروع نہیں کرنا چاہتا ، تا کہ آغاز میں ہم جِن بُنیادی باتوں کو سمجھنا چاہ رہے ہیں فی الحال ہماری بات اُنہی تک محدود رہے ، اِس موضوع پر بات اِنشا اللہ تعالیٰ حدیث کی اقسام کی تعریفات میں ہو گی ۔
::: (٢) متن ::: سند کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علی و علیٰ آلہ وسلم کی ذات مُبارک سے جو قول ، فعل ، اقرار یا صفت منسوب کی جارہی ہو اُسے متن کہا جاتا ہے ،
::: سند ::: کی صحت اور درجے کے مُطابق ''' حدیث ''' پر حُکم دِیا جاتا ہے ، اور ایسی صورت میں '''حدیث''' سے مُراد ''' متن ''' لیا جاتا ہے ، مثلاً یا کہا جائے کہ فُلان حدیث کمزور ہے تو اِس کا مطلب یہ ہو گا کہ اُس کی سند میں کوئی کمزوری ہے جِس کی وجہ سے اِس سند کے ذریعے نقل کیا گیا ''' متن ''' کمزور ہے ،
''' سند ''' اور ''' متن ''' کے مجموعے کو روایت بھی کہا جاتا ہے لہذا اگر یہ سننے یا پڑہنے میں ملے کہ فُلاں روایت کا یہ درجہ ہے تو اُس سے یہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ ''' متن ''' کی صحت کے بارے میں کہا جا رہا ہے ،
علم مصطلح الحدیث میں''' حدیث ''' کو ''' خبر ''' بھی کہا جاتا ہے ، اور ''' اثر''' اور دیگر کِسی کے بارے میں کِسی بھی خبر کو بھی ''' خبر ''' کہا جاتا ہے ، اور '''خبر''' کو مزید مندرجہ ذیل اِقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے :::
(١) متواتر (٢) خبر آحاد ،
خبر آحاد کو اسناد (سند کی جمع) کے اعتبار سے تین قِسموں میں تقسیم کِیا جاتا ہے:::
(١) مشہور (٢) عزیز (٣) غریب ،

اور صحت کے رُتبے کے لحاظ سے بُنیادی طور پر دو قِسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے :::
(١) مقبول (٢) مَردُود ،
::: مقبول خبر کو مزید چار قِسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے :::
(١) صحیح لِذاتہ اور صِرف صحیح بھی کہا جاتا ہے (٢) حسن لِذاتہ اور صِرف حسن بھی کہا جاتا ہے(٣) صحیح لغیرہ (٤) حسن لغیرہ ،

::: مَردُود خبر کو بُنیادی طور پر ایک نام ''' ضعیف ''' دِیا گیا اور وضاحت کے لیے اُس کی مزید اِقسام کی گئیں ،
اِس طرح ''' حدیث ''' یا''' خبر''' کی بُنیادی طور پر مندرجہ ذیل پانچ اِقسام ہوئیں ، یعنی :::
(١) صحیح لِذاتہ اور صِرف صحیح بھی کہا جاتا ہے (٢) حسن لِذاتہ اور صِرف حسن بھی کہا جاتا ہے(٣) صحیح لغیرہ (٤) حسن لغیرہ (٥) ضعیف ،

'''ضعیف ''' یعنی کمزور ''' حدیث ''' یا ''' خبر ''' کو بہت سی اِقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ، جِن میں سے اہم اور عام مندرجہ ذیل ہیں ،
(١) المُعلَّق (٢) المُرسَل (٣) الموقوف (٤) المعضَّل (٥) المُنقطع (٦) المقطوع(٧) المعلَّل (٨)المدلَّس (٩)المُنکر(١٠) المُدرَج (١١)المُضطرب (١٢)المقلوب (١٣) الشاذ (١٤) المُعنعن و المؤنن (١٥) الموضوع (١٦)المتروک(١٧ ) المُصحَّف (١٨)المزید فی المتصل الاسانید (١٩) المُتابع(٢٠)الشاھد۔

ٍٍ ::: مُردُود خبر ، یعنی ضعیف خبر یا حدیث کی مندرجہ بالا بیس ٢٠ اِقسام کو دو قِسموں میں تقسیم کہا جاتا ہے :::
(١) مَردُود یعنی ضعیف سند کی وجہ سے (٢ ) مَردُود یعنی ضعیف راوی کی وجہ سے ،

::: دو اِقسام ایسی ہیں جو مقبول اور مُردُود دونوں قِسم کی ''' خبر ''' میں پائی جاتی ہیں :::
(١) مُتصل (٣) مُسند ،

اِن تمام اِقسامِ حدیث کی تعریفات اِنشاء اللہ الگ الگ مُراسلات کی شکل میں """ اقسام حدیث """ والے ذیلی فورم میں ارسال کروں گا ۔
تمام پڑہنے والوں سے گذارش ہے کہ تعریفات ارسال کرنے تک اپنے سوالات کو روکے رکھیں ، ہو سکتا ہے کئی سوالات کے جوابات اُن تعریفات میں مُیسر ہوں ، اور اِس لیے بھی کہ موضوع کو اُسی موضوع تک محدود رکھا جا سکے ، جو کہ اِنشا اللہ تعالیٰ پڑہنے والوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔
و السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 22-05-09 at 08:14 AM..

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3365
15 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
arslansun (27-02-09), mr.attitude (24-05-10), sjk (12-05-10), slave of allah (01-07-08), ناصر نعمان (18-03-11), منتظمین (08-04-08), مرزا عامر (13-09-10), مسلم بھائی (24-07-10), ابن یعقوب (08-04-08), ابرارحسین (23-05-09), حیدر (11-09-11), خواجہ فاروق ساغر (26-06-09), سحر (23-05-09), شعبان نظامی (30-12-11), عبداللہ حیدر (22-05-09)
پرانا 08-04-08, 06:53 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف :::::

الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
''' حدیث ''' یا ''' خبر '''کی تعریف اور اقسام کا تعارف ''' میں بیان کیا گیا تھا کہ ''' ::: مقبول خبر کو مزید چار قِسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے :::
(١) صحیح لِذاتہ اور صِرف صحیح بھی کہا جاتا ہے (٢) حسن لِذاتہ اور صِرف حسن بھی کہا جاتا ہے(٣) صحیح لغیرہ (٤) حسن لغیرہ ''' اب اِس مضمون میں ، میں آپ صاحبان کے سامنے ''' صحیح ''' ''' حدیث ''' یا ''' خبر '''کی تعریف اور شرائط بیان کروں گا ، اِنشاء اللہ تعالیٰ ،
::: لفظ''' صَحیحٌ '''کا لغوی معنی ::::: ''' صَحَحَ ، یَصّحَحُ ، صَحِیحٌ ، تَصحِیحٌ ، اور ، صَحَّ ، یَصّحَحُ ، صَحِیحٌ ، تَصحِیحٌ '''::::: صحیح ، سقیم یعنی بیمار ، تھکا ہوا ، کِسی خرابی کا شِکار ، کی ضد ہے ،
لفظ ''' صحیح '''اِجسام کے لیے حقیقی معنی میں اِستعمال ہوتا ہے ، اور ''' مصطلح الحدیث ''' اور دیگر چیزوں کے لیے بالترتیب اصطلاحی اور مجازی معنیٰ میں اِستعمال ہوتا ہے ،

''' صحیح حدیث ''' کی تعریف کئی ائمہ محدثین نے کی ہے ، اور اِن میں سے سب سے زیادہ جامع اور بہترین تعریف اِمام ابو عُمر ابن الصلاح رحمۃُ اللہ علیہ جو '''ابن صلاح''' کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب ''' علوم الحدیث ''' میں کی ، کہ :::
::::: اَما الحِدیثُ الصَّحیحُ فَھُوَ الحَدیث ُ المُسنَدُ الّذِی یَتَّصِل اَسنادُہُ بِنَقلِ العَدلِ الضَابطِ عَن العَدلِ الضَابطِ اِلیٰ مُنتَھَاہِ ، وَلا یِکُونُ شَاذَاً و لا مُعلَّلا ً ::::: تو صحیح حدیث وہ ہے جو ایسی مُسنَد ہو کہ جِس کی سِند ایک '''عادل ''' '''ضابط ''' '''راوی ''' سے دوسرے '''عادل ''' '''ضابط ''' راوی کے نقل کرتے ہوئے آخر تک پہنچے ، اور نہ وہ شاذ ہو اور نہ ہی اُس میں کوئی عیب ہو :::::
اور پھر اِس کے بعد بہت سے قواعد و قوانین تفصیل سے بیان فرمائے ، جو اِس تعریف کی وضاحت اور شرح کرتے ہیں
الاِمام الحافظ المورِّخ عِماد الدین ابی الفِداء اِسماعیل بن الشیخ شھاب الدین عُمر ابن کثیر القرشی الدمشقی رحمہُ اللہ تعالیٰ ، جِن کی''' تفسیر القُران العظیم ''' ، یعنی ''' تفسیر ابن کثیر ''' مختصر اور جامع تفاسیر میں سب سے زیادہ اعلی اور با اعتماد جانی جاتی ہے اور واقعتا ہے بھی ، اُنہوں نے اِمام ابو عُمر ابن الصَّلاح رحمۃُ اللہ علیہ کی ''' علوم الحدیث''' کو انتہائی جامعیت اور مصطلح الحدیث کے علم سے لبریز رکھتے ہوئے مختصر کیااور اُس کا نام ''' اِختصار علوم الحدیث ''' اور اُس میں اِس مندرجہ بالا تعریف اور اُس کی شرح میں بیان کرد قوانین کا خُلاصہ بیان فرماتے ہوئے لکھا ::::: فَحاصِلُ حَدِّ الصَّحیح : اَنَّہُ المُتَّصل سَندُہُ بِنَقلِ العَدلِ الضَابطِ عَن مِثلِہِ ، حَتیٰ یِنتَھِی اِلیٰ رسول اللَّہِ صلی اللَّہ عِلیہِ و سلّم، اَو اِلیٰ مُنتَھَاہُ، مِن صحابیٍّ اَو مَن دُونہُ ، و لا یکُونُ شاذاً ، و لا مَردُوداً ، ولا مُعَلَّلا ً بِعِلۃٍ قادِحَۃٍ، و قد یکونُ مِشھُوراً اِو غریباً ::::: تو حاصلِ کلام یہ ہے کہ صحیح (حدیث)کی حد (یعنی معیار)یہ ہے کہ ، اِس کی سند''' مُتّصِل''' ( جُڑی) ہو (اِس طرح کہ ) ایک '''عادل ''' '''ضابط ''' راوی کی اپنے ہی جیسے راوی سے نقل کرتے ہوئے (یہ سند ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے ، یا صحابی یا اُن سے نیچے والے (تابعی وغیرہ یعنی )جِسکی (اوریا جس کی طرف سے یا جِس کے بارے میں) بات نقل کی جا رہی ہے (اُس تک پہنچے ) ، اور نہ ہی شاذ ہو، اور نہ ہی (کِسی سبب سے ) '''مَردُود'''، اور نہ ہی کِسی مذموم (بُری ، خرابی والی ) علت (یعنی سبب) کی وجہ سے مُعلل (عیب دار) ہو ، اور یہ حدیث (سنداً و متناً ) '''مشہور''' ( خبر میں سے) بھی ہو سکتی ہے ، یا '''غریب''' بھی ہو سکتی ہے :::::
( عام طور پر عربی کتابوں میں عِبارات سادہ ہوتی ہیں تشکیل شُدہ نہیں ، لیکن میں نے عربی عِبارات کی تشکیل کر دی ہے یعنی اپں پر اعراب لگا دیے ہیں تا کہ میرے بھائی جنہیں میرے ترجمے میں غلطیاں نظر آتی ہیں عِبارات کو ٹھیک سے سمجھ سکیں اور اگر کوئی غلطی پائیں تو ٹھیک سے اصلاح کر سکیں ، اور یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اِمام ابن کثیر علیہ رحمۃُ اللہ کا سن وفات 747 ہجری ہے ، اور اِمام ابن الصّلاح اُن سے پہلے ہیں ، اور یہ اِس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں بھائی لوگ اِن کی باتوں کو بھی """ وھابیت """ کے کھاتے میں نہ ڈال دیں)
پس ، جِس ''' خبر ''' یا ''' حدیث ''' میں مندرجہ بالا صِفات و شرائط نہ پائی جاتی ہوں وہ ''' صحیح ''' نہیں ہوتی ،
مندرجہ بالادو تعریفوں میں کچھ ایسے اِلفاظ اِستعمال ہوئے ہیں جو یقینا کئی پڑہنے والوں کے لیے غیر واضح و مُبہم ہوں گے ، اگر کِسی کو اِن کے لغوی معنیٰ معلوم بھی ہوں تو بھی شاید بات کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے گا کیونکہ عموماً اِن اِلفاظ کا اصطلاحی مفہوم اِستعمال کِیا جاتا ہے مُجرد لغوی معنیٰ نہیں ،
::: راویوں کے صفات کے بارے میں اِستعما ل شُدہ اِلفاظ :::
::: '''عادِل ''' ::: لغوی معنیٰ ::: انصاف کرنے والا ::: مُصطلح الحدیث میں مفہوم ::: ایسا شخص مرد یا عورت جِس کی ذہنی حالت اور سمجھ داری اتنی ہو کہ وہ گدھے اور خچر میں فرق کر سکے ،
::: '''ضابط ''' ::: ضَبَطَ کا اِسم فاعل ہے ::: لغوی معنیٰ ::: کِسی چیز کو دُرستگی کے ساتھ اُس کی حدود میں رکھنے والا ::: مُصطلح الحدیث میں مفہوم ::: ''' خبر''' کو اچھی مضبوطی اور دُرستگی کے ساتھ محفوظ رکھنے والا، اور علوم الحدیث میں ''' ضَبَطٌ ''' دو طرح کا ہوتا ہے:::
(١) ''' ضبط الصدر ''' یعنی ''' خبر ''' کو سینے میں محفوظ رکھنا ، اور ،
(٢) ''' ضبط الکتاب ''' یعنی ''' خبر ''' کو لکھ کر محفوظ رکھنا ،
::: سند کے بارے میں اِستعمال ہونے والے اِلفاظ :::
::: (١) ''' مُتّصِل''' ::: لغوی معنیٰ، جُڑا ہوا ::: مُصطلح الحدیث میں مفہوم ::: ایک راوی کا دوسرے راوی سے یا اُس کے ذریعے سے براہ راست نقل کرنااور کم از کم اِس بات کی تاکید ہونا کہ دونوں راوی ہم زمانہ تھے اور زمانے کے فرق کی وجہ سے اُن کے درمیان میں کِسی اور راوی کا ہونا ضروری نہیں ::: اگر ''' سند ''' ایسی ہو گی تو ''' مُتّصِل ''' کا درجہ پائے گی ورنہ نہیں ،
اِمام بُخاری نے اپنی صحیح البُخاری میں شامل کی گئی احادیث کے لیے راویوں کے''' اتصال ''' میں ''' سماع ''' کی شرط بھی رکھی ہے ، جِس کی وجہ سے اُن کی شرائط سب سے زیادہ مضبوط ہیں اور صحیح البُخاری میں شامل کی گئی روایات سب سے زیادہ صحیح اور مضبوط ہیں ،
::: (٢) مُعلّل (٣) مَردُود (٤) مشہور(٥) غریب :::
::: متن کے بارے میں اِستعمال ہونے والے اِلفاظ ::: (٢) شاذ ،
اِنشاء اللہ تعالیٰ اِن سب کی تعریف اِن کے اپنے اپنے عنوان میں پیش کی جائے گی ،اور شاید ایک ماہ بعد ، اور اُمید کرتا ہوں کہ یہ موضوع پڑہنے والوں کو خُشک نہیں بلکہ دلچسپ لگ رہا ہوگا ، خاص طور پر اُن کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کرتے ہیں اور یہ تڑپ رکھتے ہیں کہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنت کے مُطابق اپنا اِیمان ، عقائد ، اعمال و عبادات ، معاملات و معاشرت و معیشت دُرست کریں ، شریعت کے عُلوم کے بارے میں عربی میں ایک کہاوت ہے ، کہ """ مَن طلبَ عِلماً عَلیٰ راحۃِ الجَسد و الدِّماغِ لَم یَبلُغہُ و لَن یَصلَ اِلیہِ """ سب پڑہنے والوں سے دُعا کی گذارش ہے ، و السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
عادل سہیل آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
mr.attitude (24-05-10), مرزا عامر (13-09-10), مسلم بھائی (24-07-10), ابرارحسین (23-05-09), سحر (23-05-09), عبداللہ حیدر (22-05-09)
پرانا 23-05-09, 03:10 AM   #3
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,429
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صحیح حدیث کی دو قسمیں ہیں:
1۔ صحیح لذاتہ
2۔ صحیح لغیرہ
صحیح لذاتہ:
صحیح لذاتہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صفاتِ قبول والی ہوتی ہے اور اس میں وہ پانچوں اوصاف موجود ہوتے ہیں جو اوپر صحیح حدیث کی تعریف میں بیان کیے گئے ہیں۔
صحیح لغیرہ:
وہ حدیث جس میں مندرجہ بالاصفات بدرجہ اتم موجود نہ ہوں لیکن اسے کسی اور وصف کی بنا پر صحیح قرار دیا جائے ۔ اس کا مرتبہ اور درجہ صحیح لذاتہ سے کم اور حسن لذاتہ سے اوپر ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
mr.attitude (24-05-10), فیصل ناصر (23-05-09), مرزا عامر (13-09-10), سحر (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 03:11 AM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,429
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدیث حسن:
لغت میں حسن جمال اور خوبصورتی کو کہتے ہیں۔ علم حدیث کی اصطلاح میں حسن حدیث وہ ہوتی ہے جس میں صحیح حدیث کی ساری شرطیں پائی جاتی ہیں سوائے یہ کہ کسی راوی کا حافظہ کمزور ہو۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں:
حسن لذاتہ:
وہ روایت ہے جس کے روات صدق اور سچائی میں مشہور ہوں لیکن حافظے اور یادداشت میں کم ہوں۔ اس کا حکم صحیح حدیث کی طرح ہے اگر چہ یہ قوت میں اس سے کچھ کمزور ہے۔
حسن لغیرہ:
وہ حدیث ہے جس کے راوی یا اسناد میں کوئی معمولی خرابی پائی جاتی ہو مگر کچھ ایسے خارجی امور کی تائید اسے مل گئی ہو جن کی وجہ سے اس خرابی کی تلافی ہو گئی ہو۔ اس کی چار صورتیں ممکن ہیں:
ا۔ وہ حدیث جس کے کسی راوی کا حال معلوم نہ ہو، جب اسی حدیث کو کوئی دوسرا معتبر راوی بیان کرے تو وہ حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔
ب۔ وہ حدیث جس کے کسی راوی کی یادداشت کمزور ہو جب اس کا کوئی معتبر متابع مل جائے تو وہ حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔ البتہ اگر متابع اصل راوی سے کم درجے کا ہو تو اس کی متابعت کا اعتبار نہ ہو گا۔
ج۔ وہ حدیث جس کی سند کا آخری حصہ بیان نہ کیا گیا ہو اسے مرسل حدیث کہتے ہیں۔ اس میں تابعی بیان کرنے والے صحابی کا نام لیے بغیر حدیث بیان کرتا ہے، جب کسی مرسل حدیث کو کوئی معتبر متابع مل جائے تو وہ حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔
د۔ وہ حدیث جس کی اسناد میں تدلیس کی گئی ہو اور محذوف راوی کا کوئی پتہ نہ ہو، جب اس کا کوئی معتبر متابع مل جائے تو وہ بھی حسن لغیرہ بن جائےگی۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
mr.attitude (24-05-10), فیصل ناصر (23-05-09), مرزا عامر (13-09-10), مسلم بھائی (24-07-10), سحر (23-05-09), شعبان نظامی (30-12-11)
پرانا 27-05-09, 01:08 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اللہ تعالیٰ علم نافع میں مزید اضافہ عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-05-09), مرزا عامر (13-09-10), شعبان نظامی (30-12-11), عبداللہ حیدر (01-06-09)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, فورم, کتابوں, گذارش, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, ممکن, معلوم, اللہ, اعلیٰ, بھائی, تعارف, حکم, حال, حدیث, حسن, خبر, عورت, عزیز, صفت, صحیح, صحابی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب ابن یعقوب اقسام حدیث 16 24-05-10 10:03 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 0 28-10-09 09:28 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 3 12-10-09 01:53 AM
سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger