|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: لاہور
مراسلات: 274
کمائي: 4,210
شکریہ: 353
170 مراسلہ میں 422 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہیں نشئہ بادئہ کبر و نخوت
جہاں کے لئے جو کہ آبِ بقا ہے وہ اقوم کے حق میں سمی دوا ہے ادھر مال و دولت نے یاں منہ دکھایا ادھر ساتھ ساتھ اس کے ادبار آیا پڑا آکے جس گھر پہ ثروت کا سایا عمل واں سے برکت نے اپنا اٹھایا نہیں راس یاں چار پیسے کسی کو مبارک نہیں جیسے پر چیونٹی کو سمجھتے ہیں سب عیب جن عادتوں کو بہائم سے نسبت ہے جن سیرتوں کو چھپاتے ہیں اوباش جن خصلتوں کو نہیں کرتے اجلاف جن حرکتوں کو وہ یاں اہلِ دولت کو ہیں شیرِ مادر نہ خوفِ خدا ہے نہ شرمِ پیمبر طبعیت اگر لہو و بازی پہ آئی تو دولت بہت سی اسی میں لٹائی جو کی حضرتِ عشق نے رہنمائی تو کردی بھرے گھر کی دم میں صفائی پھر آخر لگے مانگنے اور کھانے یونہیں مٹ گئے یاں ہزاروں گھرانے نہ آغاز پر اپنے غور ان کو اصلا نہ انجام کا اپنے کچھ ان کو کھٹکا نہ فکر ان کو اولاد کی تربیت کا نہ کچھ ذلتِ قوم کی ان کو پروا نہ حق کوئی دنیا پہ ان کا نہ دیںپر خدا کو وہ کیا منہ دکھائیں گے جاکر کسی قوم کا جب الٹتا ہے دفتر تو ہوتے ہیں مسخ ان میں پہلے تو نگر کمال ان میں رہتے ہیں باقی نہ جوہر نہ عقل ان کی ہادی نہ دین انکا رہبر نہ دنیا میں ذات نہ عزت کی پروا نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا تعیش میں جینا نمائش پہ مرنا سدا خوابِ غفلت میں بیہوش رہنا دمِ نزع تک خود فراموش رہنا پریشاں اگر قحط سے اک جہاں ہے تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں ہے اگر باغِ امت میں فصلِ خزاں ہے تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے بنی نوعِ انساں کا حق ان پہ کیا ہے وہ اک نوع، نوعِ بشر سے جدا ہے کہاں بندگانِ ذلیل اور کہاں وہ بسر کرتے ہیں بے غمِ قوت و ناں وہ پہنتے نہیں جز سمور و کتاں وہ مکاں رکھتے ہیں رشکِ خلدِ جناں وہ نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں ان کی گل و لالہ رہتے ہیں صحبت میں ان کی نفاست بھری ہے طبعیت میں ان کی نزاکت سو داخل ہے عادت میں ان کی دواؤں میں مشک ان کی اٹھتا ہے ڈھیروں وہ پوشاک میں عطر ملتے ہیں سیروں یہ ہوسکتے ہیں ان کے ہم جنس کیونکر نہیں چین جن کو زمانے سے دم بھر سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی جو تدبیر الٹی تو تقدیر کھوٹی یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُداٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر تفوق ہے ان کو کہین و مہیں پر مدار آدمت کا ہے اب انہیں پر شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے وہ لے جاکے سب اہلِ مغرب نے جوڑے سمجھتے ہیں گمراہ جن کو مسلمان نہیں جن کو عقبیٰ میں امیدِ غفراں نہ حصہ میں فردوس جن کے نہ رضواں نہ تقدیر میں حور جن کے نہ غلماں پس از مرگ دوزخ ٹھکانا ہے جن کا حمیم آب و زقوم کھانا ہے جن کا وہ ملک اور ملت پہ اپنی فدا ہیں سب آپس میں ایک اک کے حاجت روا ہیں اولوالعلم ہیں ان میں یا اغنیا ہیں طلب گار بہبود خلقِ خدا ہیں یہ تمغا تھا گویا کہ حصۃ انہیں کا کہ حب الوطن ہے نشان مومنیں کا امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرئات سپاہی کے ہتیار شاہوں کی طاقت دلوں کی امیدیں امنگوں کی خوشیاں سب اہلِ وطن اور وطن پر ہیں قرباں عروج ان کا جو تم عیاں دیکھتے ہو جہاں میں انہیں کامراں دیکھتے ہو مطیع ان کا سارا جہاں دیکھتے ہو انہیں بر تر از آسماں دیکھتے ہو یہ ثمرے ہیں ان کی جوانمردیوں کے نتیجے ہیں آپس کی ہمدردیوں کے غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت تو ہے پیرزادوں پہ وقف ان کی دولت نکمے ہیں دن رات واں عیش کرتے پہ نوکر ہیں جتنے وہ بھوکے ہیں مرتے عمل واعظوں کے اگر قول پر ہے تو بخشش کی امید بے صرفِ زر ہے نماز اور روزہ کی عادت اگر ہے تو روزِ حساب ان کو پھر کس کا ڈر ہے اگر شہر میں کوئی مسجد بنا دی تو فردوس میں نیو اپنی جمادی عمارت کی بنیاد ایسی اٹھانی نہ نکلے کہیں ملک میں جس کا ثانی تماشوں میں ثروت بڑوں کی اڑانی نمائش میں دولت خدا کی لٹانی چھٹی بیاہ مین کرنے لاکھوں کے ساماں یہ ہیں ان کی خوشیاں یہ ہیں انکے ارماں مگر دینِ بر حق کا بوسیدہ ایواں تزلزل مین مدت سے ہیں جس کے ارکاں زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں عزیزوں نے اس سے توجہ اٹھا لی عمارت کا ہے اس کی اللہ والی پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں کھیلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں کہاں ہیں وہ جذبِ الٰہی کے پھندے کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں اصولی کدھر ہیں، مناظر کدھر ہیں محدث کہاں ہیں، مفسر کدھر ہیں |
|
|
|
| abdulrehman303 کا شکریہ ادا کیا گیا | shafirajput (29-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شیئرنگ کا شکریہ |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | abdulrehman303 (27-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کلامِ, پاک, قدم, لوگ, چین, مسجد, آج, اللہ, انشا, حال, خوش, خدا, دوست, روزہ, رات, شہر, عقل, عالم, عبادت, عزت, عشق, غور, غمِ, غریبوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|