| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | Haya 786 (02-10-09), mama_shalla (30-04-11), پاکستانی لڑکی (30-09-09), ھارون اعظم (19-02-11), منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), wajee (29-09-09), ایس اے نقوی (02-10-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), سحر (08-11-09), عامرشہزاد (30-09-09), عادل سہیل (13-10-09) |
|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
edited due to double posting
Last edited by حیدر; 30-09-09 at 03:19 AM. |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
سیکولر ازم کی تعریف امریکہ اس طرح کرتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ یہ جملہ امریکی آئین سے لیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے کسی ڈکشنری یا انسائکلوپیڈیا کے معانی کوئی معانی نہیں رکھتے۔
Amendment I کانگرس کسی بھی مذہبی اسٹبلشمنٹ (ادارہ) کے بارے میں کوئی قانون نہیں بنائے گی اور نہ ہی کسی مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونے پر کوئی پابندی لگائی جائے گی۔ نہ ہی کسی کے بولنے پر پابندی اور نہ ہی آزادی سے پر امن ریقہ پر ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the government for a redress of grievances اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکولر ازم کے بارے میں پیش کئے گئے نکات مجموعی طور پر لاعلمی پر مشتمل ہیں۔ کہ جو قوم اس سیکولر ازم پر عمل کرتی ہے وہ اپنے آئین میں اس کو کن الفاظ میں درج کرتے اور عمل کرتی ہے، سیکولر ازم کا اصٌ ثبوت ہے نہ کہ ادھر ادُھر کی مثالیں اور حوالے۔ قرآن ، اسلامی جغرافیائی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ ایسے افراد کے دل اللہ کے پیغام کی طرف خود سے مٹاثر نہ ہوجائیں۔ یہی سیکولر ازم کا بنیادی نظریہ ہے جو اللہ تعالی کے پیغام کے مخالف نہیں کہ حق و سچ واضح ہو چکا ہے ، جو چاہے قبول کرے اور چاہے اس کو رد کرے ، جو رد کرے گا اس کا حساب کتاب اللہ تعالی خود فرمائیں گے۔ ریاست مسلم ہو یا غیر مسلم، ریاست میں امن لوگوں کو مذہبی آزادی دئے بناء ممکن ہی نہیںہے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 30-09-09 at 05:09 AM. |
|
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
میں اپنی تائید میں بے شمار قرانی آیات بھی پیش کر سکتا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دکھاوا کروں گا۔ ورنہ قران تو آج نہایت مظلوم کتاب بن گئی ہے ۔ کاپی پیسٹ کرنے نے اس پر ظلم کر مزید بڑھا دیا ہے۔ راجہ بھائی آپکی پوسٹ پر تبصرہ میں بعد میں کروں گا۔
عرضیہ ہے کہ ۔ اللہ تعالی کے احکامات و فرامین ، قرآنی آیات کو شئیر کرنا کسی طور دکھاوا نہیں ہے۔ مکمل قرآنی آیت کو کٹ پیسٹ کرکے پیش کرنا بھی ظلم نہیں ہے، آپ یہ نیک کام ضرور بالضرور سر انجام دیجئے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کا جاننا ہر مسلم پر فرض ہے۔ یہ کتاب ہمارا کامن پروٹوکول ہے کہ اسی کتاب کے قواعد و ضوابط پر مسلمان متفق ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#19 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے اپنی علمی کم مائیگی کا اعتراف ہے لیکن۔۔اگر چپ رہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سیکولرازم کے بارے میں پیش کئے گئے نکات لاعلمی پر ہر گز مبنی نہیں، بلکہ آپ مغالطے کا شکار ہیں۔ سب سے پہلے یہ یاد رکھیئے کہ خالص علمی اصطلاحات کے بارے میںعلمی کتابوں اور ذخیروں کو ہی مرجع سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ آپ امریکی آئین کی ایک شق کو کتاب مقدس کا درجہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ’’ اس کے سامنے کسی ڈکشنری یا انسائکلوپیڈیا کے معانی کوئی معانی نہیں رکھتے۔‘‘ میرے خیال میں یہ علمی رویہ نہیں۔۔۔۔۔ گستاخی پر معذرت خواہ ہوں جہاں تک امریکی آئین کی اس شق کا تعلق ہے تو شاید آپ نے غور سے پڑھا نہیں یہ سیکولرزم کی تعریف ہر گز نہیں اور نہ ہی اسے کوئی سیکولرزم کی تعریف سمجھتا یا مانتا ہے۔ اور میرے خیال میں یہ بات خود امریکیوں کے ذہن میں بھی نہیںہو گی جو آپ ان کے آئین کے تقدس کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دیگر شقیں دنیا کے بے شمار آئینوں میں آپ کو مل جائیں گی، اگر کبھی موقع ملے تو ضرور پڑھنا۔ یہ تمام آزادیاں جن کا اس میں ذکر ہے یہ انسانی حقوق کے عالمی منشور(UDHR) کا منظور نظر ہے۔ اور وہ تمام ممالک جو اس پر دستخط کر چکے ہیں ان کے آئین میں یہ چیز ملتی ہے۔ عمل کتنا ہوتا ہے وہ دنیا جانتی ہے |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-09-09) |
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے جس ترمیم کا حوالہ دیا بدقسمتی سے وہ سیکولرازم کی وضاحت کے لیے نہیں بلکہ "حقوق کے قوانین" سے متعلق ترامیم ہیں کہ لوگوں کو کیا کیا اور کیسے کیسے حقوق حاصل ہوں گے۔ چناچہ حقوق کے قوانین کو بطور سیکولرازم کی تعریف کے پیش کرنا مجھ جیسے سادہ لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
تاہم سیکولرازم کی تعریف وہ لے لی جائے میں نے بقول آپ کے ادھر اُدھر سے لی ہے یا سب سے میٹھی تعریف کہ "حکومت اور مذہبی معاملات کا جُدا جُدا ہونا اور تمام مذہبوں کو برابر کے حقوق دینا" بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ حکومت میں مذہب یا ہماری زبان میں دین اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھیے مذہبی آزادی ہونا اور بات ہے مذہب سے آزادی ہونا اور بات۔ اگر بات ہوتی ہے مذہبی آزادی کی ۔ ۔ ۔تو اس کو تو اسلام نے 1400 سال قبل ہی یقینی بنا دیا تھا۔ پھر کسی نئے Doctrineسیکولرازم کی کیا ضرورت؟ بھیا اسلام پر ہی عمل کرتے رہو۔ ضروری ہے سیکولرازم کا پھندنا ساتھ میں لگانا؟ کس مستند مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ اقلیتوں کو مار دو ۔ ۔ ۔ انکی مذہبی آزادی ختم کر دو۔ انکی عورتوں کو اٹھا کر لے جاؤ؟ ہاں مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو مرتدین کو دی جانے والی سزا کو اپنے لیے شرمندگی سمجھتے ہوئے اس کے خاتمے یا اس کے وجود کے خلاف کوششیں کرتا ہے۔ مگر کوئی ساٹھ سالہ کوششوں کے باوجود اسکو کسی قسم کی کامیابی نہ ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے اسلام نے ہی اقلیتوں کے تحٍظ کا تصور دیا تھا اور اس سے بڑھ کر کسی میں بھی انکے تحفظ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تو بات پھر وہیں آ جتی ہے کہ سیکولرازم کا دُم چھلا کیوں لگوائیں؟ قرآن ، اسلامی جغرافیائی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ ایسے افراد کے دل اللہ کے پیغام کی طرف خود سے مٹاثر نہ ہوجائیں۔ یہی سیکولر ازم کا بنیادی نظریہ ہے جو اللہ تعالی کے پیغام کے مخالف نہیں کہ حق و سچ واضح ہو چکا ہے ، جو چاہے قبول کرے اور چاہے اس کو رد کرے ، جو رد کرے گا اس کا حساب کتاب اللہ تعالی خود فرمائیں گے۔ ریاست مسلم ہو یا غیر مسلم، ریاست میں امن لوگوں کو مذہبی آزادی دئے بناء ممکن ہی نہیںہے۔ آپکے اس پیرا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومت اسلامی جغرافیائی وحدت یعنی مملکت کی حفاظت کرتے ہوئے محض مذہب کی آزادی کو یقینی بنا دے تو وہ اسلامی فلاحی حکومت ہو گی۔ کیا آپ مجھے اسلام میں تصور وطن سے آگاہ کریں گے؟ ہم تو آج تک کہتے آئے ہیں کہ ہم مصطفوی ہیں اس لیے سارا جہاں ہمارا ہے۔اچانک اسلامی جغرافیائی وحدت کہاں سے آ گئی؟ ۔ کسی غیر مسلم نے شراب کی بٹھی لگا رکھی ہے۔ وہ جوا کرواتا ہے اور ساتھ میں ہی فحاشی کا اڈا بھی کھول رکھا ہے اور اتفاق سے یہ سب اس کے مذہب میں جائز ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اس اصول کا کیا بنے گا کہ تمام مذاہب کو ان پر عمل کرنے کی آزادی ہو گی۔ حکومت کا قانون لا دینیت یا سیکولر ازم پر مشتمل ہے ۔ اب مسلمان اس واضح اسلامی حکم پر عمل کرنا چاہ رہا ہے کہ جہاں برائی دیکھو اس کو قوت سے مٹا دواور یہ سب اسکے مذہب میں واضح منکرات میں آتے ہیں۔ تو کیا ہوگا تمام مذاہب کو یکساں آزادی کا دعوا ی کرنے والے ہی بتائیں؟ غیر مسلم کا مذہبی حق ہے کہ اسکو شراب کی بٹھی اورجوا خانہ اور قحبہ خانہ چلانے دیا جائے جبکہ اسلام تقاضہ کر رہا ہے کہ جہاں برائی کو دیکھو اسکو قوت سے روک دو۔ سیکولرازم یا دین سے ہٹ کر نظام زندگی اس مسئلہ کا حل کیسے پیش کرے گا؟ یہی کہ جناب مسلمان کو چاہیے کہ وہ تبلیغ کرے اور اسکو قائل کرے۔ بھائی میرے مسلمان اس طرح تو اپنے ایک مذہبی حکم پر عمل کرنے سے محروم ہو گیا آپ اس کو قوت کے استعمال سے ہی روک رہے ہو۔ اب کہاں گئی یکساں مذہبی آزادی؟ پھر بات آ جائے گی کہ حکومت مداخلت کرتے ہوئے کئی مذہبی احکامات کو معطل کر دے گی اور دین اسلام ادھورا رہ جائے گا۔ شراب کی بھٹیاں چلیں گی، فحاشی کا اڈا ضرور چلے گا لیکن اسلم کی شق پر عمل نہیں ہو گا۔ اسی سے وہ حقیقت بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ کیوں تمام لا دینی ممالک بشمول تمام مسلمان نام رکھنے والے ممالک ۔ ۔ ۔ کیوں کر اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں جیسے ہی کوئی اسلامی تحریک صحیح معنوں میں اقتدار میں آئی ۔ ۔ ۔ آہسہ آہستہ برائی کے محور بکھرتے چلے جائیں گے کیونکہ اسلام تو ہر منکر کو مٹا دینے کا وعدہ لیتا ہے نہ کہ مذہبی آزادی کے نام نہاد پر فریب جال کا۔ باقی یہ کہ واقعی اسلامی مملکت میں ہر کسی کو آزادی ہوگی اپنے مذہب کے ان افعال کر سرانجام دینے کی کہ جو دین فطرت اسلام سے ہم آہنگ ہوں گے۔ ان لوگوں کو تحریر و تقریر کی آزادی ہو گی۔ ان لوگوں کے مذہبی مقامات کی آزادی ہو گی۔ صرف یہ آزادی ہر گز نہیں ہو گی کہ وہ منکرین میں شامل کسی چیز کی ترویج کر سکیں خواہ وہ شراب ہو یا کچھ اور۔ اسی کو اسلامی حکومت بزور قوت روکے گی تاکہ "فتنہ نہ رہے" Last edited by حیدر; 30-09-09 at 08:05 AM. وجہ: Coloring |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ اکرام صاحب، سلام علیکم،
امریکی آئین کی یہ مذکورہ پہلی ترمیم 15 دسمبر 1791 میں پاس ہوئی، یہ آزادی اقوام متحدہ یا کسی عالمی منشور سے نہیں لی گئی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اسی آزادی کو امریکہ میں سیکولر ازم کہا ، سمجھا اور عمل کیا جاتا ہے۔ دیکھئے: Text “ Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the Government for a redress of grievances. Background Main article: Anti-Federalism Opposition to the ratification of the Constitution was, in part, based on the Constitution's lack of adequate guarantees for civil liberties. In order to provide such guarantees, the First Amendment, along with the rest of the Bill of Rights, was submitted to the states for ratification on September 25, 1789 and adopted on December 15, 1791. حوالہ : First Amendment to the United States Constitution - Wikipedia, the free encyclopedia آپ سیکولرازم کو کسی بھی کتاب سے رواج دیجئے۔ امریکی کے نزدیک سیکولر ازم کے یہی معنی ہیں کہ کسی بھی پبلک آفس کے الیکشن میں شامل ہونے کے لئے کسی قسم کا مذہبی ٹیسٹ درکار نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی مذہب کو حکومت فروغ نہیںدے گی یا دوسرے الفاظ میں ایک گروپ اپنے مذہبی نظریات دوسرے گروپ پر زبردستی یا بذریعہ قوت نہیں ٹھونسے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے ۔ 1۔ دیکھئے ٹریٹی آف ٹریپولی جو کہ امریکی کانگرس نے جون 7 ، 1797 کو پاس کی، جس کے آرٹیکل 11 میں صاف صاف لکھا ہے کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے۔ حوالہ : Treaty of Tripoli - Wikipedia, the free encyclopedia تازہ ترین حوالہ آپ کو صدر اوباما کی ایک تازہ تقریر سے مل جاتا ہے کہ امریکہ کے اپنے اصول اور نظریات ہیں جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہیں۔ امید ہے کہ ان آرٹیکلز کو پڑھنے کے بعد آپ کو امریکی سوچ کا بہتر اندازہ ہو جائے گا۔ اب کوئی شخص سیکولر ازم کی کوئی دوسری تعریف پیش کرتا ہے تو یہ اس کے عالمانہ خیالات ہیں جو اگر کسی انسائیکلوپیڈیا یا ڈکشنری میں پائے جاتے ہیں تو ان معانی اور تعاریف سے امریکی قوم کے نظریات تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ آپ میرے فراہم کردہ بہت ہی عام قسم کے آرٹیکلز میںدیکھ سکتے ہیںکہ سیکولر ازم لادینیت نہیں بلکہ اپنے ملک میں مذہب کی آزادی ہے کہ حکومت کسی طور پر نہ مذہب کو سپورٹ کرے اور نہ ہی اس پر پابندی لگائے۔ امریکہ اس اصول پر کامل عمل کرتا ہے کہ آپ یہاںمسجد، مندر، چرچ ، گوردوارہ یا کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ قائم کرسکتے ہیں۔ اپنی مرضی کے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ کسی کو اس بناء پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ آج کل آپ ہیوسٹن میں جہاں جائیے آپ کو خالد خان اور ایم جے خان کے پوسٹر نظر آئیں گے ۔ ان میںسے موخر الذکر سٹی کونسل کا ممبر کذشتہ 8 سال سے ہے۔ مذہبی بنیادوں پر کسی کو نوکری سے یا کاربار کے لائسنس سے انکار نہیںکیا جاتا۔ ٹکساس میں مسلمان ہر طرح کے بزنس میں ہیں اور کامیاب ہیں۔ کوئی امریکی مسلمان آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو یہ شکایت کرے کہ مذہب کی بنیاد پر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جو آیات میں نے پیش کیں ان سے بھی یہ واضح ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں فرد واحد کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی اللہ تعالی دیتا ہے ، یہ ہمارا کام ہے کہ اسلام کی طرف دلوںکو مائیل کریں نہ کہ دین کے نام پر زبردستی کریں۔ |
|
|
|
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() |
اب مسلمان اس واضح اسلامی حکم پر عمل کرنا چاہ رہا ہے کہ جہاں برائی دیکھو اس کو قوت سے مٹا دواور یہ سب اسکے مذہب میں واضح منکرات میں آتے ہیں۔
برادرم بدر الزماں، اپنے اس بیان کے دفاع میں قرآن حکیم سے فراہم کیجئے کہ فرد واحد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ برائی کو قوت سے مٹا دے ۔ یہ تو سراسر فساد فی الارض اللہ ہوا۔ اگر ایک مرکزی حکومت کی ضرورت نہیں تھی تو رسول اکرم اور خلفاء نے مرکزی حکومت کی ، عدالتوں کی تکلیف کیوںاٹھائی؟ ایسا کیوںتھا کہ لوگ انصاف و عدل کے لئے رسول اکرم کے سامنے لائے جاتے تھے۔ مسلمان ان کو قوت سے مٹا کیوںنہیں دیتے تھے بنا پوچھے؟ ایک مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور باہمی قانون سازی کا انتظام ہمیشہ سے رہا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() |
اسی سے وہ حقیقت بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ کیوں تمام لا دینی ممالک بشمول تمام مسلمان نام رکھنے والے ممالک ۔ ۔ ۔ کیوں کر اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں جیسے ہی کوئی اسلامی تحریک صحیح معنوں میں اقتدار میں آئی ۔ ۔ ۔ آہسہ آہستہ برائی کے محور بکھرتے چلے جائیں گے کیونکہ اسلام تو ہر منکر کو مٹا دینے کا وعدہ لیتا ہے نہ کہ مذہبی آزادی کے نام نہاد پر فریب جال کا۔
یہ بھائی ایک خواب و خیال کی بات ہے۔ اور حقیقت سے بہت ہی دور۔ پاکستان کا حکومتی نظام اسلام کے اصولوں پر بنا ہے ۔ اس کا آئین، اس کا حکومتی نطام، اس کا عمل قانون سازی اور عدلیہ کا نظام ۔ مکمل طور پر اسلام پر عمل پیرا ہو کر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اس کو بہتر بنا سکتے ہیں تو ان ترامیم پر لکھئے
|
|
|
|
|
|
#24 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سلام سمنون سب سے پہلے تو میں یہ عرض کروں کہ علم و حکمت کا سر چشمہ صرف امریکہ ہی نہیں اور نہ ہی اس کا آئین کتاب مقدس کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہ اس میں جو ذکر ہو گیا، یا جو امریکہ نے مان لیا اس کے بعد اگر کسی نے کسی قاموس یا معجم کا حوالہ دیا اس کے پر جل جائیں گے۔ امریکہ یا اس کے حواریوں کی ایک سوچ ہو سکتی ہے لیکن اگرآپ کو یاد ہو تو ہم یہاں سیکولرازم کی بات کر رہے ہیں نا کہ سیکولر ازم کے امریکی مفہوم کی۔۔ اور آپ گھوم پھر کر امریکہ اور اس کے آئین کی طرف آ جاتے ہیں۔۔ یہ تو ضمنا ذکر کیا اب جہاں تک بات ہے آپ کی طرف سے پیش کئے گئے آرٹیکلز کی تو میں عرض کروں کہ اس کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اگر کہیں بھی ایک بار بھی یہ سب سیکولرزم کا ذکر ملتا ہے۔۔ نہیں ملتا اور نہ ہی موجودہ آئین میں ان آرٹیکلز کے ساتھ ملے گا۔ اور جیم میڈیسن کی کاوشوں سے 1791 میں جب یہ شقیں شام لی گئیں تو ان کا عنوان Bill of Rights تھا نہ کہ سیکولرزم حکومتی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کا اعلان نہ تو امریکہ کے قانون و آئین میں ہے اور نہ اس کے عمل سے کبھی ظاہر ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکی صدر بائبل پر حلف نہ لیتا۔۔اور اوبامہ خود اس پر حلف لے چکے ہیں۔۔اب اپنی تقریر میں وہ جو مرضی کہہ لیں لیکن Action speaks louder then words اگر وہ سیکولر ملک ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اول تو وہ کتاب مقدس پر حلف نہ اٹھاتے جو کہ مذہبی وابستگی کا واضح اعلان ہے۔ اور اگر مقدس کتابوں پر حلف اٹھانا ضروری ہے ، تو سیکولرزم کا تقاضا ہے کہ دیگر مذاہب کی کتابوں کو بھی وہ مقام دیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا کیوں کہ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے۔ ویسے فاروق بھائی آپ کی تحریر سے آپ فاروق کم اور فواد ڈیجیٹل زیادہ لگتے ہیں ![]() ![]() ناراض نہیں ہونا، مزاح کر رہا ہوں |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-09-09) |
|
|
#25 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہاں یہاں پھر وہی احمقانہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے جو اکثر جگہ اٹھایا جاتا ہے کہ کونسا اسلام۔ہر فرقے کا الگ سے اسلام ہے وغیرہ۔ یہ بات جہالت پر اور حقائق سے دُوری پر مبنی ہے۔ یہ کہنے والے بغیر کسی مناسب مطالعہ کے از خود اپنے ذہنوں میں تصور بنا لیتے ہیں کہ یہ نا ممکن ہے۔ اسلام آج بھی چکمتی دمکتی حالت میں ہم کو اپنی طرف بُلا رہا ہے۔ یہ کوئی خفیہ نہیں ۔ ۔ ۔ قرآن کی صورت میں سورک سے زیادہ واضح ہو کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ اسلام تو آج بھی زندہ ہے۔ مسئلہ مسلمانوں میں ہے۔ اب آ جاتی ہے مسلمانوں کی بات تو جناب جس جگہ جس مکتبہ فکر کے لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے وہی فقہ وہاں حکومت کا حصہ بنتی ہے۔ تاہم باقیوں کے لیے یہ آپشن موجود ہوتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو انکے مسائل کا حل انکے فقہ کے مطابق بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب ہر فرقہ (آپکی ایک اور پوسٹ کے مطابق اور میرے نزدیک مکتبہ فکر) کو اسکی مرضی کے مطابق فقہ کا فیصلہ ہوگا تو فساد کہاں سے ہوگا؟اسلام آج بھی وہی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل امین کے ذلیعے نازل ہوا تھا۔ مسئلہ صرف وہی ہے جو مشرف کے ٹرائیل کے سلسلہ میں ہے قبل از وقت شور ڈال دیا جاتا ہے کہ اسلام یوں ہے اسلام ووں ہے۔ اسلامی قانون ساز اداروں میں غیر مسلم افراد کی شمولیت لازمی ہونی چاہیے ۔ اس طرح سے وہ اپنا پرسنل لا تشکیل دینے میں مدد دیں گے۔ تاہم انکا اسلامی امور حکومت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ کس اسلامی فلاحی مملکت میں غیر مسلموں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کا سلوک ہوا جو آپ یہ پوچھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ویسا سلوک کیا جائے؟ تاہم اگر کہیں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوتا بھی ہے تو یہ اسلامی حکومت کا کام ہو گا کہ وہ اپے بھائیوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں "ہر قسم" کی کوششیں کرے۔ غیر مسلم ملک اور مسلم ملک کی وہی تعریف کی جا سکتی ہے جو کسی عام انسان کے سلسلہ میں لاگو ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے تمام احکام کو اللہ کئ رضا حاصل کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ اللہ کے احکامات کے مطابق لاگو کرتا ہے وہ اسلامی ملک ہے۔ اس ملک میں عوام سپریم نہیں ہوتی بلکہ اللہ سپریم ہوتا ہے۔ کوئی بھی قانون جو اللہ کے احکامات سے متصادم ہو نہیں بن سکتا خواہ عوام کو کتنا ہی پسند کیوں نہ ہو۔ اس میں ووٹ سے زیادہ انسان کی بات کی اللہ کے مطابق ہونے کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ واللہ عالم |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (30-09-09) |
|
|
#26 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (30-09-09) |
|
|
#27 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں آپکو مثال دیتا ہوں کہ اسلام میں جو سزا دے دی گئی مثال کے طور پر پھانسی/ قتل کے بدلے قتل وہ کوئی معاف نہیں کر سکتا حتی کہ حکمران بھی ۔لیکن یہاں تو صدر معاف کر دیا کرتا ہے۔ بلکہ اکثر تہواروں پر قیدیوں کی سزا معاف کر دی جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کے قانون اور اسکی سپرمیسی میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (30-09-09) |
|
|
#28 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
۔ "مذہبی آزادی" اور بات ہے جبکہ "مذہب سے آزادی" اور۔ مذہبی آزادی کا تصور دیا ہی اسلام نے ہے تو پھر ہم امریکہ کے ملفوظات سے استفادہ کیوں حاصل کریں۔ |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (30-09-09) |
|
|
#29 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اسلام ایک فطری اور فلاحی دین ہے۔ اس کا منشا ہی یہ ہے کہ زمین پر فساد نہ ہو۔ اب فساد کیسے ختم ہو گا لازما اس کے لئے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹانا ہوگا، آزادی فکرو اظہار ہو گی، مذہبی آزادی ہو گی، ظلم اور طاغوت کو روکا جائے گا، انصاف کا بول بالا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت اسلامی نہ ہو۔ کیوں کہ فردا فردا اسلام کے ان زریں اصولوں کو نہ تو نافذ کیا جا سکتا ہے اور نہ ان سے فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ اس لئے حکومت الہیہ کا قیام ضروری ہے اور فاروق بھائی کی باتوں سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ اس کے قائل ہیں لیکن شاید کچھ تحفظات ہیں، جس کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ |
|
|
|
|
|
|
#30 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمارے صدر صاحب اتنے بااختیار ہیں کہ حدود اللہ تک کی معافی کا اختیار رکھتے ہیں حالانکہ قاتل کو مقتول کے ورثاء کے علاوہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ پھر بھی اگر اس نظام کو خالص اسلامی کہا جائے تو دعائے خیر اور افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| قدم, چین, مکمل, موت, مشعل, معاشرہ, ایمان, انسان, امیر, اسلام, توحید, تحریر, جواب, حال, دل, زندگی, سال, سائنس, ظالم, عقل, غریب, صفحہ, صحیح, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 04:54 PM |
| مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل | جاویداسد | خبریں | 15 | 22-10-10 12:49 PM |
| عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک | جاویداسد | خبریں | 1 | 08-08-10 09:46 PM |
| آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ | Zullu230 | سیاست | 6 | 29-06-10 12:18 AM |
| جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:19 AM |