واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-09-09, 05:55 AM  
ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 29-09-09, 05:55 AM

ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔

مسابقت اور مقابلے کا یہ عنصر فرد سے معاشرے میں آجاتا ہے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے لئے اجتماعی تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قوم کے اجزائے ترکیبی میں رنگ، نسل، زبان، علاقائیت اور مذہب یا نظریہ جیسے عناصر شامل ہیں لیکن ان سب میں اہم اور موثر عنصر مذہب ہے۔ کیوں کہ نظریات اور مذہب پر تشکیل پانے والی اجتماعیت پائیدار اور دیر پا ہوتی ہے۔

مذہب یا نظریہ جو کسی بھی قوم کی بنیاد ہو وہ فطری اور بشری تقاضوں کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے، کیوں کہ اگر فطری تقاضوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت تا دیر بحال نہیں رہ سکتی۔ انہی فطری تقاضوں میں ایک ترقی اور کامیابی کا حصول ہے لہذا ہر مذہب اور نظریہ اپنے پیروکاروں کی ترقی کے لئے ایسے اصول وضع کرتا اور انہیں اپنی بنیادی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے کہ اگر ان کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقینی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور اگر روگردانی برتی جائے تو ایک وقت کے بعد زوال شروع ہو جاتا ہے تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں جن میں اپنی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کرنے والی قومیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اور جو اپنی تعلیمات پر کاربند رہیں انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔

لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔

ان روشن خیال دانشوروں سے اگر تاریخ انسانی سے کوئی مثال طلب کی جائے تو ہزاروں سال پر مشتمل اس تاریخ میں سے وہ صرف ایک مثال پیش کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔

مذہب کی وجہ سے زوال و ناکامی اور ترک مذہب اور دین بیزاری کے باعث ترقی و کامیابی کی مثال وحید جو آج تک بطور دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کا عصر تاریک (ڈارک ایج) ہے۔

مگر بدقسمتی سے وہ مثال ”سوال گندم جواب چنا“ کے مصداق ان کے دعوے کا بھرم نہیں رکھ سکتی کیوں کہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ اصول یہ ہے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے اجزاءکا علم ضروری ہے، اور مثال پیش کرتے ہوئے مسئلے کے بنیادی اجزاءکو پیش نطر رکھنا ہی اہل علم کا شیوہ ہے۔

بطور مثال اگر مذہب کی بات ہو، ترقی اور زوال میں اس کے کردار کی ہو تو مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کے علم کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی کے لئے بتائے گئے اصولوں اور ان کی روشنی میں کار جہاں گیری کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ اس مذہب سے منسوب قوم کے زوال کا جائزہ لینے یا مذہب کو زوال کا سبب قرار دینے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا مذکورہ قوم بنیادی تعلیمات اور کار جہاں گیری کے اصولوں پر کار بند تھی یا نہیں؟ ورنہ صرف مذہب سے نسبت ترقی کی ضمانت نہیں ۔

عصر تاریک (ڈارک ایج ) کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور ہے جب یورپ کی زمام اقتدار عیسائی رجال دین اور اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھی۔ اہل کلیسا کی بات حرف آخر تھی اور اس سے اختلاف کا مطلب اپنی موت کا جواز مہیا کرنے یا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ دینی و دنیاوی تمام معاملات میں اہل کلیسا کی رائے وحی سماوی کا درجہ رکتھی تھی۔ سزا و جزا کے تمام اختیارات کا منبع کلیسا تھا۔

ایک جانب انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کا اخیتار اور دوسری طرف زمین کی ہیئت ، اجرام فلکی کی حرکت جیسے خالص دنیوی معاملات مکمل طور پر اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھے۔ کئی نامور سائنس دان اور فلسفی صرف اختلاف رائے کی پاداش میں جان سے جاتے رہے اور کئی ایک کو سر عام زندہ جلا دیا گیا۔ فکرو اظہار پر قدغن کا نتیجہ فکری انجماد اور بے عملی کی صورت میں نکلا۔ اور یہی انجماد قوموں کی حیات میں زوال اور موت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں مسدود ہو گئیں، آگے بڑھنے کا جوش و ولولہ دم توڑ گیا اور تاریخ انسانی کا کئی صدیوں پر محیط عرصہ ہمیشہ کے لئے عصر تاریک کے نام سے موسوم ہو گیا ۔

لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت اہل کلیسا عیسائیت کی حقیقی تعلیمات پر کاربند تھے؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات ہی ان کے تمام معاملات میں مشعل راہ تھیں؟کیا فکرو اظہار پر پابندی اور مرتکبین کے لئے سزائیں انجیل مقدس کی روشنی میں دی جاتی تھیں؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام جیسا رحمدل انسان اتنی ظالم اور بھیانک تعلیمات دے سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب یقینا نفی میں ہے۔

در حقیقت اس وقت جو عیسائیت رائج تھی وہ تحریف شدہ تھی، اناجیل اربعہ آسمانی وحی کے بجائے انسانوں کی آراءکا مجموعہ تھیں جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات سے سینکڑوں برس بعد تحریر کی گئیں۔ بلکہ اسے عیسائیت کے بجائے پولس کی تعلیمات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اور سینٹ پولس (سینٹ پال) یہودی الاصل اور عیسی علیہ السلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا، آپ کی وفات کے بعد عیسائیت قبول کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وہ مقام حاصل کیا کہ عیسائی اسے اپنا امام و پیشوا تصور کرنے لگے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے عیسائیت کی بنیادیں ہی ہلا دیں۔

توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ لانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کے بجائے ایسی تعلیمات کو عیسائیت میں شامل کر دیا جس نے عیسائیت کو عصر تاریک کی صورت میں ایک مستقل بد نما داغ دیا۔ اور جب عصر تاریک ختم ہوا اور اہل یورپ نے مذہب کا دامن چھوڑ کر سیکولرزم کا سہارا لیا تو ترقی کی منازل طے کرتے بام عروج کو پہنچے۔جسے دلیل بنا کر مذہب کو ترقی کا دشمن کہا جانے لگا۔ مگر ان تعلیمات کو مذہب کہنا اور اس کی ناکامی کو دلیل بنا کر مذہب کو زوال اور ناکامی کا سبب گرداننا سراسر زیادتی اور مذہب بیزاری ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ دین و مذہب تو ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک زندہ مثال جو عصر تاریک ہی میں عرب کے ریگزاروں میں قائم ہو ئی۔ جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا عین اسی وقت ریگستان عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ اہل اسلام نے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا، فکرو اظہار کی مکمل آزادی دی گئی۔رنگ و نسل اور امیر و غریب کے تمام امتیازات مٹا دیئے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے بدو اپنے وقت کی مہذب ترین اقوام کو تہذہب سکھاتے نطر آئے۔ مختصر عرصے میں دنیا کی امامت ان کے قدموں میں تھی۔ اور جب تک مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کاربند رہے حکمرانی کرتے رہے۔ قلیل تعداد ہو کر بھی بڑی بڑی افواج پر فتح حاصل کرتے رہے اور اقلیت میں ہو کر بھی سینکڑوں سال اکثریت پر حکمرانی کی۔

اگر یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ یورپ نے مذہب اور ملائیت سے چھٹکارا حاصل کیا تو ترقی اور کامیابی ملی، تو آخر یہ مثال کیوں نہیں دی جاتی کہ مسلمان جب تک اپنے مذہب پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی اس لئے اگر کامیابی چاہیے تو مذہب کی طرف لوٹنا ہو گا۔
لیکن وہ ایسا کون کہے؟ اہل دانش کی فکری خوراک کا سرچشمہ تو مغرب ہے جہاں سے روشن خیالی اور اسلام دشمنی کے پرچار کا معاوضہ ملتا ہے۔

ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا انداز فکر اور زاویہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر اقوام کے عروج و زوال کے قصے عبرت و نصیحت کے لئے ضرور پڑھیں مگر تقلید کے لئے نہیں۔ ہماری اپنی تاریخ اتنی جامع ہے کہ اس میں عروج و زوال کے تمام اسباب موجود ہیں، بس ذرا فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔

اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2041
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Haya 786 (02-10-09), mama_shalla (30-04-11), پاکستانی لڑکی (30-09-09), ھارون اعظم (19-02-11), منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), wajee (29-09-09), ایس اے نقوی (02-10-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), سحر (08-11-09), عامرشہزاد (30-09-09), عادل سہیل (13-10-09)
پرانا 30-09-09, 03:15 AM   #16
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

edited due to double posting

Last edited by حیدر; 30-09-09 at 03:19 AM.
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 04:59 AM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیکولر ازم کی تعریف امریکہ اس طرح کرتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ یہ جملہ امریکی آئین سے لیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے کسی ڈکشنری یا انسائکلوپیڈیا کے معانی کوئی معانی نہیں‌ رکھتے۔

Amendment I
Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the government for a redress of grievances
کانگرس کسی بھی مذہبی اسٹبلشمنٹ (ادارہ) کے بارے میں کوئی قانون نہیں بنائے گی اور نہ ہی کسی مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونے پر کوئی پابندی لگائی جائے گی۔ نہ ہی کسی کے بولنے پر پابندی اور نہ ہی آزادی سے پر امن ریقہ پر ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔


اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکولر ازم کے بارے میں پیش کئے گئے نکات مجموعی طور پر لاعلمی پر مشتمل ہیں۔ کہ جو قوم اس سیکولر ازم پر عمل کرتی ہے وہ اپنے آئین میں اس کو کن الفاظ میں درج کرتے اور عمل کرتی ہے، سیکولر ازم کا اصٌ ثبوت ہے نہ کہ ادھر ادُھر کی مثالیں اور حوالے۔

قرآن ، اسلامی جغرافیائی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ ایسے افراد کے دل اللہ کے پیغام کی طرف خود سے مٹاثر نہ ہوجائیں۔ یہی سیکولر ازم کا بنیادی نظریہ ہے جو اللہ تعالی کے پیغام کے مخالف نہیں کہ حق و سچ واضح ہو چکا ہے ، جو چاہے قبول کرے اور چاہے اس کو رد کرے ، جو رد کرے گا اس کا حساب کتاب اللہ تعالی خود فرمائیں گے۔ ریاست مسلم ہو یا غیر مسلم، ریاست میں امن لوگوں کو مذہبی آزادی دئے بناء ممکن ہی نہیں‌ہے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 30-09-09 at 05:09 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 05:05 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں اپنی تائید میں بے شمار قرانی آیات بھی پیش کر سکتا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دکھاوا کروں گا۔ ورنہ قران تو آج نہایت مظلوم کتاب بن گئی ہے ۔ کاپی پیسٹ کرنے نے اس پر ظلم کر مزید بڑھا دیا ہے۔ راجہ بھائی آپکی پوسٹ پر تبصرہ میں بعد میں کروں گا۔

عرض‌یہ ہے کہ ۔
اللہ تعالی کے احکامات و فرامین ، قرآنی آیات کو شئیر کرنا کسی طور دکھاوا نہیں ہے۔ مکمل قرآنی آیت کو کٹ پیسٹ کرکے پیش کرنا بھی ظلم نہیں ہے، آپ یہ نیک کام ضرور بالضرور سر انجام دیجئے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کا جاننا ہر مسلم پر فرض‌ ہے۔ یہ کتاب ہمارا کامن پروٹوکول ہے کہ اسی کتاب کے قواعد و ضوابط پر مسلمان متفق ہیں۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 05:41 AM   #19
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سیکولر ازم کی تعریف امریکہ اس طرح کرتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ یہ جملہ امریکی آئین سے لیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے کسی ڈکشنری یا انسائکلوپیڈیا کے معانی کوئی معانی نہیں‌ رکھتے۔

Amendment I
Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the government for a redress of grievances
کانگرس کسی بھی مذہبی اسٹبلشمنٹ (ادارہ) کے بارے میں کوئی قانون نہیں بنائے گی اور نہ ہی کسی مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونے پر کوئی پابندی لگائی جائے گی۔ نہ ہی کسی کے بولنے پر پابندی اور نہ ہی آزادی سے پر امن ریقہ پر ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔


اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکولر ازم کے بارے میں پیش کئے گئے نکات مجموعی طور پر لاعلمی پر مشتمل ہیں۔ کہ جو قوم اس سیکولر ازم پر عمل کرتی ہے وہ اپنے آئین میں اس کو کن الفاظ میں درج کرتے اور عمل کرتی ہے، سیکولر ازم کا اصٌ ثبوت ہے نہ کہ ادھر ادُھر کی مثالیں اور حوالے۔

قرآن ، اسلامی جغرافیائی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ ایسے افراد کے دل اللہ کے پیغام کی طرف خود سے مٹاثر نہ ہوجائیں۔ یہی سیکولر ازم کا بنیادی نظریہ ہے جو اللہ تعالی کے پیغام کے مخالف نہیں کہ حق و سچ واضح ہو چکا ہے ، جو چاہے قبول کرے اور چاہے اس کو رد کرے ، جو رد کرے گا اس کا حساب کتاب اللہ تعالی خود فرمائیں گے۔ ریاست مسلم ہو یا غیر مسلم، ریاست میں امن لوگوں کو مذہبی آزادی دئے بناء ممکن ہی نہیں‌ہے۔
فاروق بھائی
مجھے اپنی علمی کم مائیگی کا اعتراف ہے لیکن۔۔اگر چپ رہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
سیکولرازم کے بارے میں پیش کئے گئے نکات لاعلمی پر ہر گز مبنی نہیں، بلکہ آپ مغالطے کا شکار ہیں۔
سب سے پہلے یہ یاد رکھیئے کہ خالص علمی اصطلاحات کے بارے میں‌علمی کتابوں اور ذخیروں کو ہی مرجع سمجھا جاتا ہے۔
جب کہ آپ امریکی آئین کی ایک شق کو کتاب مقدس کا درجہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ’’ اس کے سامنے کسی ڈکشنری یا انسائکلوپیڈیا کے معانی کوئی معانی نہیں‌ رکھتے۔‘‘
میرے خیال میں یہ علمی رویہ نہیں۔۔۔۔۔ گستاخی پر معذرت خواہ ہوں

جہاں تک امریکی آئین کی اس شق کا تعلق ہے تو شاید آپ نے غور سے پڑھا نہیں
یہ سیکولرزم کی تعریف ہر گز نہیں اور نہ ہی اسے کوئی سیکولرزم کی تعریف سمجھتا یا مانتا ہے۔ اور میرے خیال میں یہ بات خود امریکیوں کے ذہن میں بھی نہیں‌ہو گی جو آپ ان کے آئین کے تقدس کے حوالے سے کر رہے ہیں۔

یہ اور اس طرح کی دیگر شقیں دنیا کے بے شمار آئینوں میں آپ کو مل جائیں گی، اگر کبھی موقع ملے تو ضرور پڑھنا۔
یہ تمام آزادیاں جن کا اس میں ذکر ہے یہ انسانی حقوق کے عالمی منشور(UDHR) کا منظور نظر ہے۔
اور وہ تمام ممالک جو اس پر دستخط کر چکے ہیں ان کے آئین میں یہ چیز ملتی ہے۔
عمل کتنا ہوتا ہے وہ دنیا جانتی ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 08:03 AM   #20
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے جس ترمیم کا حوالہ دیا بدقسمتی سے وہ سیکولرازم کی وضاحت کے لیے نہیں بلکہ "حقوق کے قوانین" سے متعلق ترامیم ہیں کہ لوگوں کو کیا کیا اور کیسے کیسے حقوق حاصل ہوں گے۔ چناچہ حقوق کے قوانین کو بطور سیکولرازم کی تعریف کے پیش کرنا مجھ جیسے سادہ لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
تاہم سیکولرازم کی تعریف وہ لے لی جائے میں نے بقول آپ کے ادھر اُدھر سے لی ہے یا سب سے میٹھی تعریف کہ "حکومت اور مذہبی معاملات کا جُدا جُدا ہونا اور تمام مذہبوں کو برابر کے حقوق دینا" بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ حکومت میں مذہب یا ہماری زبان میں دین اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
دیکھیے مذہبی آزادی ہونا اور بات ہے مذہب سے آزادی ہونا اور بات۔ اگر بات ہوتی ہے مذہبی آزادی کی ۔ ۔ ۔تو اس کو تو اسلام نے 1400 سال قبل ہی یقینی بنا دیا تھا۔ پھر کسی نئے Doctrineسیکولرازم کی کیا ضرورت؟ بھیا اسلام پر ہی عمل کرتے رہو۔ ضروری ہے سیکولرازم کا پھندنا ساتھ میں لگانا؟ کس مستند مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ اقلیتوں کو مار دو ۔ ۔ ۔ انکی مذہبی آزادی ختم کر دو۔ انکی عورتوں کو اٹھا کر لے جاؤ؟ ہاں مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو مرتدین کو دی جانے والی سزا کو اپنے لیے شرمندگی سمجھتے ہوئے اس کے خاتمے یا اس کے وجود کے خلاف کوششیں کرتا ہے۔ مگر کوئی ساٹھ سالہ کوششوں کے باوجود اسکو کسی قسم کی کامیابی نہ ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے اسلام نے ہی اقلیتوں کے تحٍظ کا تصور دیا تھا اور اس سے بڑھ کر کسی میں بھی انکے تحفظ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تو بات پھر وہیں آ جتی ہے کہ سیکولرازم کا دُم چھلا کیوں لگوائیں؟

قرآن ، اسلامی جغرافیائی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ ایسے افراد کے دل اللہ کے پیغام کی طرف خود سے مٹاثر نہ ہوجائیں۔ یہی سیکولر ازم کا بنیادی نظریہ ہے جو اللہ تعالی کے پیغام کے مخالف نہیں کہ حق و سچ واضح ہو چکا ہے ، جو چاہے قبول کرے اور چاہے اس کو رد کرے ، جو رد کرے گا اس کا حساب کتاب اللہ تعالی خود فرمائیں گے۔ ریاست مسلم ہو یا غیر مسلم، ریاست میں امن لوگوں کو مذہبی آزادی دئے بناء ممکن ہی نہیں‌ہے۔


آپکے اس پیرا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومت اسلامی جغرافیائی وحدت یعنی مملکت کی حفاظت کرتے ہوئے محض مذہب کی آزادی کو یقینی بنا دے تو وہ اسلامی فلاحی حکومت ہو گی۔ کیا آپ مجھے اسلام میں تصور وطن سے آگاہ کریں گے؟ ہم تو آج تک کہتے آئے ہیں کہ ہم مصطفوی ہیں اس لیے سارا جہاں ہمارا ہے۔اچانک اسلامی جغرافیائی وحدت کہاں سے آ گئی؟

۔ کسی غیر مسلم نے شراب کی بٹھی لگا رکھی ہے۔ وہ جوا کرواتا ہے اور ساتھ میں ہی فحاشی کا اڈا بھی کھول رکھا ہے اور اتفاق سے یہ سب اس کے مذہب میں جائز ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اس اصول کا کیا بنے گا کہ تمام مذاہب کو ان پر عمل کرنے کی آزادی ہو گی۔ حکومت کا قانون لا دینیت یا سیکولر ازم پر مشتمل ہے ۔ اب مسلمان اس واضح اسلامی حکم پر عمل کرنا چاہ رہا ہے کہ جہاں برائی دیکھو اس کو قوت سے مٹا دواور یہ سب اسکے مذہب میں واضح منکرات میں آتے ہیں۔ تو کیا ہوگا تمام مذاہب کو یکساں آزادی کا دعوا ی کرنے والے ہی بتائیں؟
غیر مسلم کا مذہبی حق ہے کہ اسکو شراب کی بٹھی اورجوا خانہ اور قحبہ خانہ چلانے دیا جائے جبکہ اسلام تقاضہ کر رہا ہے کہ جہاں برائی کو دیکھو اسکو قوت سے روک دو۔ سیکولرازم یا دین سے ہٹ کر نظام زندگی اس مسئلہ کا حل کیسے پیش کرے گا؟ یہی کہ جناب مسلمان کو چاہیے کہ وہ تبلیغ کرے اور اسکو قائل کرے۔ بھائی میرے مسلمان اس طرح تو اپنے ایک مذہبی حکم پر عمل کرنے سے محروم ہو گیا آپ اس کو قوت کے استعمال سے ہی روک رہے ہو۔ اب کہاں گئی یکساں مذہبی آزادی؟ پھر بات آ جائے گی کہ حکومت مداخلت کرتے ہوئے کئی مذہبی احکامات کو معطل کر دے گی اور دین اسلام ادھورا رہ جائے گا۔ شراب کی بھٹیاں چلیں گی، فحاشی کا اڈا ضرور چلے گا لیکن اسلم کی شق پر عمل نہیں ہو گا۔

اسی سے وہ حقیقت بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ کیوں تمام لا دینی ممالک بشمول تمام مسلمان نام رکھنے والے ممالک ۔ ۔ ۔ کیوں کر اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں جیسے ہی کوئی اسلامی تحریک صحیح معنوں میں اقتدار میں آئی ۔ ۔ ۔ آہسہ آہستہ برائی کے محور بکھرتے چلے جائیں گے کیونکہ اسلام تو ہر منکر کو مٹا دینے کا وعدہ لیتا ہے نہ کہ مذہبی آزادی کے نام نہاد پر فریب جال کا۔

باقی یہ کہ واقعی اسلامی مملکت میں ہر کسی کو آزادی ہوگی اپنے مذہب کے ان افعال کر سرانجام دینے کی کہ جو دین فطرت اسلام سے ہم آہنگ ہوں گے۔ ان لوگوں کو تحریر و تقریر کی آزادی ہو گی۔ ان لوگوں کے مذہبی مقامات کی آزادی ہو گی۔ صرف یہ آزادی ہر گز نہیں ہو گی کہ وہ منکرین میں شامل کسی چیز کی ترویج کر سکیں خواہ وہ شراب ہو یا کچھ اور۔ اسی کو اسلامی حکومت بزور قوت روکے گی تاکہ "فتنہ نہ رہے"

Last edited by حیدر; 30-09-09 at 08:05 AM. وجہ: Coloring
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 08:06 AM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجہ اکرام صاحب، سلام علیکم،

امریکی آئین کی یہ مذکورہ پہلی ترمیم 15 دسمبر 1791 میں‌ پاس ہوئی، یہ آزادی اقوام متحدہ یا کسی عالمی منشور سے نہیں لی گئی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اسی آزادی کو امریکہ میں‌ سیکولر ازم کہا ، سمجھا اور عمل کیا جاتا ہے۔

دیکھئے:

Text
“ Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the Government for a redress of grievances.

Background
Main article: Anti-Federalism
Opposition to the ratification of the Constitution was, in part, based on the Constitution's lack of adequate guarantees for civil liberties. In order to provide such guarantees, the First Amendment, along with the rest of the Bill of Rights, was submitted to the states for ratification on September 25, 1789 and adopted on December 15, 1791.

حوالہ :
First Amendment to the United States Constitution - Wikipedia, the free encyclopedia

آپ سیکولرازم کو کسی بھی کتاب سے رواج دیجئے۔ امریکی کے نزدیک سیکولر ازم کے یہی معنی ہیں کہ کسی بھی پبلک آفس کے الیکشن میں شامل ہونے کے لئے کسی قسم کا مذہبی ٹیسٹ درکار نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی مذہب کو حکومت فروغ نہیں‌دے گی یا دوسرے الفاظ میں ایک گروپ اپنے مذہبی نظریات دوسرے گروپ پر زبردستی یا بذریعہ قوت نہیں ٹھونسے گا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے ۔

1۔ دیکھئے ٹریٹی آف ٹریپولی جو کہ امریکی کانگرس نے جون 7 ، 1797 کو پاس کی، جس کے آرٹیکل 11 میں صاف صاف لکھا ہے کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے۔
حوالہ :
Treaty of Tripoli - Wikipedia, the free encyclopedia

تازہ ترین حوالہ آپ کو صدر اوباما کی ایک تازہ تقریر سے مل جاتا ہے کہ امریکہ کے اپنے اصول اور نظریات ہیں جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہیں۔ امید ہے کہ ان آرٹیکلز کو پڑھنے کے بعد آپ کو امریکی سوچ کا بہتر اندازہ ہو جائے گا۔

اب کوئی شخص سیکولر ازم کی کوئی دوسری تعریف پیش کرتا ہے تو یہ اس کے عالمانہ خیالات ہیں‌ جو اگر کسی انسائیکلوپیڈیا یا ڈکشنری میں ‌پائے جاتے ہیں تو ان معانی اور تعاریف سے امریکی قوم کے نظریات تبدیل نہیں ‌ہوتے ہیں۔ آپ میرے فراہم کردہ بہت ہی عام قسم کے آرٹیکلز میں‌دیکھ سکتے ہیں‌کہ سیکولر ازم لادینیت نہیں‌ بلکہ اپنے ملک میں مذہب کی آزادی ہے کہ حکومت کسی طور پر نہ مذہب کو سپورٹ کرے اور نہ ہی اس پر پابندی لگائے۔

امریکہ اس اصول پر کامل عمل کرتا ہے کہ آپ یہاں‌مسجد، مندر، چرچ ، گوردوارہ یا کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ قائم کرسکتے ہیں۔ اپنی مرضی کے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ کسی کو اس بناء پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ آج کل آپ ہیوسٹن میں جہاں جائیے آپ کو خالد خان اور ایم جے خان کے پوسٹر نظر آئیں گے ۔ ان میں‌سے موخر الذکر سٹی کونسل کا ممبر کذشتہ 8 سال سے ہے۔

مذہبی بنیادوں پر کسی کو نوکری سے یا کاربار کے لائسنس سے انکار نہیں‌کیا جاتا۔ ٹکساس میں‌ مسلمان ہر طرح کے بزنس میں ہیں اور کامیاب ہیں۔ کوئی امریکی مسلمان آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو یہ شکایت کرے کہ مذہب کی بنیاد پر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔

جو آیات میں نے پیش کیں ان سے بھی یہ واضح‌ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں فرد واحد کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی اللہ تعالی دیتا ہے ، یہ ہمارا کام ہے کہ اسلام کی طرف دلوں‌کو مائیل کریں‌ نہ کہ دین کے نام پر زبردستی کریں۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 08:14 AM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب مسلمان اس واضح اسلامی حکم پر عمل کرنا چاہ رہا ہے کہ جہاں برائی دیکھو اس کو قوت سے مٹا دواور یہ سب اسکے مذہب میں واضح منکرات میں آتے ہیں۔

برادرم بدر الزماں، اپنے اس بیان کے دفاع میں قرآن حکیم سے فراہم کیجئے کہ فرد واحد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ برائی کو قوت سے مٹا دے ۔

یہ تو سراسر فساد فی الارض اللہ ہوا۔ اگر ایک مرکزی حکومت کی ضرورت نہیں تھی تو رسول اکرم اور خلفاء نے مرکزی حکومت کی ، عدالتوں کی تکلیف کیوں‌اٹھائی؟ ایسا کیوں‌تھا کہ لوگ انصاف و عدل کے لئے رسول اکرم کے سامنے لائے جاتے تھے۔ مسلمان ان کو قوت سے مٹا کیوں‌نہیں دیتے تھے بنا پوچھے؟

ایک مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور باہمی قانون سازی کا انتظام ہمیشہ سے رہا ہے۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 08:17 AM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسی سے وہ حقیقت بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ کیوں تمام لا دینی ممالک بشمول تمام مسلمان نام رکھنے والے ممالک ۔ ۔ ۔ کیوں کر اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں جیسے ہی کوئی اسلامی تحریک صحیح معنوں میں اقتدار میں آئی ۔ ۔ ۔ آہسہ آہستہ برائی کے محور بکھرتے چلے جائیں گے کیونکہ اسلام تو ہر منکر کو مٹا دینے کا وعدہ لیتا ہے نہ کہ مذہبی آزادی کے نام نہاد پر فریب جال کا۔

یہ بھائی ایک خواب و خیال کی بات ہے۔ اور حقیقت سے بہت ہی دور۔ پاکستان کا حکومتی نظام اسلام کے اصولوں پر بنا ہے ۔ اس کا آئین، اس کا حکومتی نطام، اس کا عمل قانون سازی اور عدلیہ کا نظام ۔ مکمل طور پر اسلام پر عمل پیرا ہو کر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اس کو بہتر بنا سکتے ہیں تو ان ترامیم پر لکھئے
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 08:34 AM   #24
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
راجہ اکرام صاحب، سلام علیکم،

امریکی آئین کی یہ مذکورہ پہلی ترمیم 15 دسمبر 1791 میں‌ پاس ہوئی، یہ آزادی اقوام متحدہ یا کسی عالمی منشور سے نہیں لی گئی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اسی آزادی کو امریکہ میں‌ سیکولر ازم کہا ، سمجھا اور عمل کیا جاتا ہے۔

دیکھئے:

Text
“ Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the Government for a redress of grievances.

Background
Main article: Anti-Federalism
Opposition to the ratification of the Constitution was, in part, based on the Constitution's lack of adequate guarantees for civil liberties. In order to provide such guarantees, the First Amendment, along with the rest of the Bill of Rights, was submitted to the states for ratification on September 25, 1789 and adopted on December 15, 1791.

حوالہ :
First Amendment to the United States Constitution - Wikipedia, the free encyclopedia

آپ سیکولرازم کو کسی بھی کتاب سے رواج دیجئے۔ امریکی کے نزدیک سیکولر ازم کے یہی معنی ہیں کہ کسی بھی پبلک آفس کے الیکشن میں شامل ہونے کے لئے کسی قسم کا مذہبی ٹیسٹ درکار نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی مذہب کو حکومت فروغ نہیں‌دے گی یا دوسرے الفاظ میں ایک گروپ اپنے مذہبی نظریات دوسرے گروپ پر زبردستی یا بذریعہ قوت نہیں ٹھونسے گا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے ۔

1۔ دیکھئے ٹریٹی آف ٹریپولی جو کہ امریکی کانگرس نے جون 7 ، 1797 کو پاس کی، جس کے آرٹیکل 11 میں صاف صاف لکھا ہے کہ امریکہ ایک کرسچین ملک نہیں ہے۔
حوالہ :
Treaty of Tripoli - Wikipedia, the free encyclopedia

تازہ ترین حوالہ آپ کو صدر اوباما کی ایک تازہ تقریر سے مل جاتا ہے کہ امریکہ کے اپنے اصول اور نظریات ہیں جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہیں۔ امید ہے کہ ان آرٹیکلز کو پڑھنے کے بعد آپ کو امریکی سوچ کا بہتر اندازہ ہو جائے گا۔

اب کوئی شخص سیکولر ازم کی کوئی دوسری تعریف پیش کرتا ہے تو یہ اس کے عالمانہ خیالات ہیں‌ جو اگر کسی انسائیکلوپیڈیا یا ڈکشنری میں ‌پائے جاتے ہیں تو ان معانی اور تعاریف سے امریکی قوم کے نظریات تبدیل نہیں ‌ہوتے ہیں۔ آپ میرے فراہم کردہ بہت ہی عام قسم کے آرٹیکلز میں‌دیکھ سکتے ہیں‌کہ سیکولر ازم لادینیت نہیں‌ بلکہ اپنے ملک میں مذہب کی آزادی ہے کہ حکومت کسی طور پر نہ مذہب کو سپورٹ کرے اور نہ ہی اس پر پابندی لگائے۔

امریکہ اس اصول پر کامل عمل کرتا ہے کہ آپ یہاں‌مسجد، مندر، چرچ ، گوردوارہ یا کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ قائم کرسکتے ہیں۔ اپنی مرضی کے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ کسی کو اس بناء پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ آج کل آپ ہیوسٹن میں جہاں جائیے آپ کو خالد خان اور ایم جے خان کے پوسٹر نظر آئیں گے ۔ ان میں‌سے موخر الذکر سٹی کونسل کا ممبر کذشتہ 8 سال سے ہے۔

مذہبی بنیادوں پر کسی کو نوکری سے یا کاربار کے لائسنس سے انکار نہیں‌کیا جاتا۔ ٹکساس میں‌ مسلمان ہر طرح کے بزنس میں ہیں اور کامیاب ہیں۔ کوئی امریکی مسلمان آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو یہ شکایت کرے کہ مذہب کی بنیاد پر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔

جو آیات میں نے پیش کیں ان سے بھی یہ واضح‌ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں فرد واحد کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی اللہ تعالی دیتا ہے ، یہ ہمارا کام ہے کہ اسلام کی طرف دلوں‌کو مائیل کریں‌ نہ کہ دین کے نام پر زبردستی کریں۔
برادرم
سلام سمنون
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کروں کہ علم و حکمت کا سر چشمہ صرف امریکہ ہی نہیں اور نہ ہی اس کا آئین کتاب مقدس کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہ اس میں جو ذکر ہو گیا، یا جو امریکہ نے مان لیا اس کے بعد اگر کسی نے کسی قاموس یا معجم کا حوالہ دیا اس کے پر جل جائیں گے۔
امریکہ یا اس کے حواریوں کی ایک سوچ ہو سکتی ہے لیکن اگرآپ کو یاد ہو تو ہم یہاں سیکولرازم کی بات کر رہے ہیں نا کہ سیکولر ازم کے امریکی مفہوم کی۔۔ اور آپ گھوم پھر کر امریکہ اور اس کے آئین کی طرف آ جاتے ہیں۔۔
یہ تو ضمنا ذکر کیا

اب جہاں تک بات ہے آپ کی طرف سے پیش کئے گئے آرٹیکلز کی تو میں عرض کروں کہ اس کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اگر کہیں بھی ایک بار بھی یہ سب سیکولرزم کا ذکر ملتا ہے۔۔
نہیں ملتا اور نہ ہی موجودہ آئین میں ان آرٹیکلز کے ساتھ ملے گا۔
اور جیم میڈیسن کی کاوشوں سے 1791 میں جب یہ شقیں شام لی گئیں تو ان کا عنوان
Bill of Rights تھا نہ کہ سیکولرزم
حکومتی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کا اعلان نہ تو امریکہ کے قانون و آئین میں ہے اور نہ اس کے عمل سے کبھی ظاہر ہوا ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو امریکی صدر بائبل پر حلف نہ لیتا۔۔اور اوبامہ خود اس پر حلف لے چکے ہیں۔۔اب اپنی تقریر میں وہ جو مرضی کہہ لیں لیکن Action speaks louder then words

اگر وہ سیکولر ملک ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اول تو وہ کتاب مقدس پر حلف نہ اٹھاتے جو کہ مذہبی وابستگی کا واضح اعلان ہے۔
اور اگر مقدس کتابوں پر حلف اٹھانا ضروری ہے ، تو سیکولرزم کا تقاضا ہے کہ دیگر مذاہب کی کتابوں کو بھی وہ مقام دیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا کیوں کہ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے۔

ویسے فاروق بھائی آپ کی تحریر سے آپ فاروق کم اور فواد ڈیجیٹل زیادہ لگتے ہیں
ناراض نہیں ہونا، مزاح کر رہا ہوں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 08:40 AM   #25
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جی آپ قانون ساز اداروں سے ، انتظامیہ سے کس قسم کے دین پر چلنے کی توقع کرتے ہیں؟ آزادی، عدل، مساوات ، تحفظ ؟ جو کہ دینی اصولوں پر بنائے قوانیں کے مطابق ہو؟ یا کچھ اور؟

کیا ان قانون ساز اداروں‌میں غیر مسلموں کی نمائندگی ہونی چاہئیے؟ کیا غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے سات تیسرے درجہ کے شہری جیسا سلوک ہونا چاہئیے؟

آپ کے نزدیک مسلم اور غیر مسلم ملک کی تعریف کیا ہے؟
کس قسم کا دین سے کیا مراد ہے مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی۔ دین تو ایک ہی ہے جسکو اللہ نے پسند کیا، اللہ کے نبی نے پیش کیا اور اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کسی اور دین کی موجودگی کا مجھے تو علم نہیں ہے۔ اس لیے حکومت کا دین اسلام کے اصولوں پر مبنی ہونا لازمی ہے۔ تمام روایات و احکامات و اصولوںً کا اسلام کی بٹھی میں سے گزر کر ٹیسٹ ہونا لازمی ہے۔

ہاں یہاں پھر وہی احمقانہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے جو اکثر جگہ اٹھایا جاتا ہے کہ کونسا اسلام۔ہر فرقے کا الگ سے اسلام ہے وغیرہ۔ یہ بات جہالت پر اور حقائق سے دُوری پر مبنی ہے۔ یہ کہنے والے بغیر کسی مناسب مطالعہ کے از خود اپنے ذہنوں میں تصور بنا لیتے ہیں کہ یہ نا ممکن ہے۔
اسلام آج بھی چکمتی دمکتی حالت میں ہم کو اپنی طرف بُلا رہا ہے۔ یہ کوئی خفیہ نہیں ۔ ۔ ۔ قرآن کی صورت میں سورک سے زیادہ واضح ہو کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ اسلام تو آج بھی زندہ ہے۔ مسئلہ مسلمانوں میں ہے۔ اب آ جاتی ہے مسلمانوں کی بات تو جناب جس جگہ جس مکتبہ فکر کے لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے وہی فقہ وہاں حکومت کا حصہ بنتی ہے۔ تاہم باقیوں کے لیے یہ آپشن موجود ہوتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو انکے مسائل کا حل انکے فقہ کے مطابق بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب ہر فرقہ (آپکی ایک اور پوسٹ کے مطابق اور میرے نزدیک مکتبہ فکر) کو اسکی مرضی کے مطابق فقہ کا فیصلہ ہوگا تو فساد کہاں سے ہوگا؟اسلام آج بھی وہی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل امین کے ذلیعے نازل ہوا تھا۔
مسئلہ صرف وہی ہے جو مشرف کے ٹرائیل کے سلسلہ میں ہے قبل از وقت شور ڈال دیا جاتا ہے کہ اسلام یوں ہے اسلام ووں ہے۔

اسلامی قانون ساز اداروں میں غیر مسلم افراد کی شمولیت لازمی ہونی چاہیے ۔ اس طرح سے وہ اپنا پرسنل لا تشکیل دینے میں مدد دیں گے۔ تاہم انکا اسلامی امور حکومت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔

کس اسلامی فلاحی مملکت میں غیر مسلموں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کا سلوک ہوا جو آپ یہ پوچھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ویسا سلوک کیا جائے؟ تاہم اگر کہیں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوتا بھی ہے تو یہ اسلامی حکومت کا کام ہو گا کہ وہ اپے بھائیوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں "ہر قسم" کی کوششیں کرے۔

غیر مسلم ملک اور مسلم ملک کی وہی تعریف کی جا سکتی ہے جو کسی عام انسان کے سلسلہ میں لاگو ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے تمام احکام کو اللہ کئ رضا حاصل کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ اللہ کے احکامات کے مطابق لاگو کرتا ہے وہ اسلامی ملک ہے۔ اس ملک میں عوام سپریم نہیں ہوتی بلکہ اللہ سپریم ہوتا ہے۔ کوئی بھی قانون جو اللہ کے احکامات سے متصادم ہو نہیں بن سکتا خواہ عوام کو کتنا ہی پسند کیوں نہ ہو۔ اس میں ووٹ سے زیادہ انسان کی بات کی اللہ کے مطابق ہونے کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
واللہ عالم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 08:45 AM   #26
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اب مسلمان اس واضح اسلامی حکم پر عمل کرنا چاہ رہا ہے کہ جہاں برائی دیکھو اس کو قوت سے مٹا دواور یہ سب اسکے مذہب میں واضح منکرات میں آتے ہیں۔

برادرم بدر الزماں، اپنے اس بیان کے دفاع میں قرآن حکیم سے فراہم کیجئے کہ فرد واحد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ برائی کو قوت سے مٹا دے ۔

یہ تو سراسر فساد فی الارض اللہ ہوا۔ اگر ایک مرکزی حکومت کی ضرورت نہیں تھی تو رسول اکرم اور خلفاء نے مرکزی حکومت کی ، عدالتوں کی تکلیف کیوں‌اٹھائی؟ ایسا کیوں‌تھا کہ لوگ انصاف و عدل کے لئے رسول اکرم کے سامنے لائے جاتے تھے۔ مسلمان ان کو قوت سے مٹا کیوں‌نہیں دیتے تھے بنا پوچھے؟

ایک مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور باہمی قانون سازی کا انتظام ہمیشہ سے رہا ہے۔
ارے بھائی یہ تو آپ نے میری تائید کر دی اور اپنی ہی بات کی مخالفت کر دی ۔ میں یہی تو کہہ رہا ہوں کہ اسلام فرد واحد کا مذہب یا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے اور اسکو حکومتی سظح پر بھی ہونا چاہیے۔ شکریہ آپکا کہ آپ نے یہ تو مانا کہ دین اسلام کو حکومت کی سطح پر لاگو کرنا چاہیے۔ راجہ اکرام بھائی و دیگر کو میں دعوت دیتا ہوں کہ فاروق بھائی کے سابقہ مراسلے اور اس مراسلے کو ملا کر دیکھ لیں ۔ اس مراسلہ میں وہ حکومت میئں اسلام کی دخل اندازی تسلیم کر رہے ہیں۔ شکریہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 08:51 AM   #27
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اسی سے وہ حقیقت بھی آشکارا ہو جاتی ہے کہ کیوں تمام لا دینی ممالک بشمول تمام مسلمان نام رکھنے والے ممالک ۔ ۔ ۔ کیوں کر اسلام پسندوں کی سیاسی تحریک سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں جیسے ہی کوئی اسلامی تحریک صحیح معنوں میں اقتدار میں آئی ۔ ۔ ۔ آہسہ آہستہ برائی کے محور بکھرتے چلے جائیں گے کیونکہ اسلام تو ہر منکر کو مٹا دینے کا وعدہ لیتا ہے نہ کہ مذہبی آزادی کے نام نہاد پر فریب جال کا۔

یہ بھائی ایک خواب و خیال کی بات ہے۔ اور حقیقت سے بہت ہی دور۔ پاکستان کا حکومتی نظام اسلام کے اصولوں پر بنا ہے ۔ اس کا آئین، اس کا حکومتی نطام، اس کا عمل قانون سازی اور عدلیہ کا نظام ۔ مکمل طور پر اسلام پر عمل پیرا ہو کر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اس کو بہتر بنا سکتے ہیں تو ان ترامیم پر لکھئے
بھائی میرے ۔ ۔ ۔ جب ‌sahjنے لکھا تھا تو آپ نے بیک جنبش کئی اسلامی قوانین کو یہودیت کی پیدا وار قرار دے دیا تھا۔ میں کیوں اسلامی قوانین کی تضحیک کا سبب بنوں۔
میں آپکو مثال دیتا ہوں کہ اسلام میں جو سزا دے دی گئی مثال کے طور پر پھانسی/ قتل کے بدلے قتل وہ کوئی معاف نہیں کر سکتا حتی کہ حکمران بھی ۔لیکن یہاں تو صدر معاف کر دیا کرتا ہے۔ بلکہ اکثر تہواروں پر قیدیوں کی سزا معاف کر دی جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کے قانون اور اسکی سپرمیسی میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 08:57 AM   #28
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,267
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
برادرم
سلام سمنون
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کروں کہ علم و حکمت کا سر چشمہ صرف امریکہ ہی نہیں اور نہ ہی اس کا آئین کتاب مقدس کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہ اس میں جو ذکر ہو گیا، یا جو امریکہ نے مان لیا اس کے بعد اگر کسی نے کسی قاموس یا معجم کا حوالہ دیا اس کے پر جل جائیں گے۔
امریکہ یا اس کے حواریوں کی ایک سوچ ہو سکتی ہے لیکن اگرآپ کو یاد ہو تو ہم یہاں سیکولرازم کی بات کر رہے ہیں نا کہ سیکولر ازم کے امریکی مفہوم کی۔۔ اور آپ گھوم پھر کر امریکہ اور اس کے آئین کی طرف آ جاتے ہیں۔۔
یہ تو ضمنا ذکر کیا

اب جہاں تک بات ہے آپ کی طرف سے پیش کئے گئے آرٹیکلز کی تو میں عرض کروں کہ اس کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اگر کہیں بھی ایک بار بھی یہ سب سیکولرزم کا ذکر ملتا ہے۔۔
نہیں ملتا اور نہ ہی موجودہ آئین میں ان آرٹیکلز کے ساتھ ملے گا۔
اور جیم میڈیسن کی کاوشوں سے 1791 میں جب یہ شقیں شام لی گئیں تو ان کا عنوان
Bill of Rights تھا نہ کہ سیکولرزم
حکومتی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کا اعلان نہ تو امریکہ کے قانون و آئین میں ہے اور نہ اس کے عمل سے کبھی ظاہر ہوا ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو امریکی صدر بائبل پر حلف نہ لیتا۔۔اور اوبامہ خود اس پر حلف لے چکے ہیں۔۔اب اپنی تقریر میں وہ جو مرضی کہہ لیں لیکن Action speaks louder then words

اگر وہ سیکولر ملک ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اول تو وہ کتاب مقدس پر حلف نہ اٹھاتے جو کہ مذہبی وابستگی کا واضح اعلان ہے۔
اور اگر مقدس کتابوں پر حلف اٹھانا ضروری ہے ، تو سیکولرزم کا تقاضا ہے کہ دیگر مذاہب کی کتابوں کو بھی وہ مقام دیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا کیوں کہ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے۔

ویسے فاروق بھائی آپ کی تحریر سے آپ فاروق کم اور فواد ڈیجیٹل زیادہ لگتے ہیں
ناراض نہیں ہونا، مزاح کر رہا ہوں
درست کہا اکرام بھائی آپ نے کہ یہ قوانین در حقیقت حقوق کے قوانین سے متعلق ہیں نہ کہ سیکولرازم کی تعریف کے لیے۔ مزید یہ کہ جب خود سیکولرازم کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ مذہیبی آزادی کے لیے نہیں بلکہ مذہب سے آزادی کے لیے وجود میں آیئا تھا تو اسکو حق ثابت کرنا کیا معنی
۔ "مذہبی آزادی" اور بات ہے جبکہ "مذہب سے آزادی" اور۔ مذہبی آزادی کا تصور دیا ہی اسلام نے ہے تو پھر ہم امریکہ کے ملفوظات سے استفادہ کیوں حاصل کریں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 09:04 AM   #29
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
ارے بھائی یہ تو آپ نے میری تائید کر دی اور اپنی ہی بات کی مخالفت کر دی ۔ میں یہی تو کہہ رہا ہوں کہ اسلام فرد واحد کا مذہب یا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے اور اسکو حکومتی سظح پر بھی ہونا چاہیے۔ شکریہ آپکا کہ آپ نے یہ تو مانا کہ دین اسلام کو حکومت کی سطح پر لاگو کرنا چاہیے۔ راجہ اکرام بھائی و دیگر کو میں دعوت دیتا ہوں کہ فاروق بھائی کے سابقہ مراسلے اور اس مراسلے کو ملا کر دیکھ لیں ۔ اس مراسلہ میں وہ حکومت میئں اسلام کی دخل اندازی تسلیم کر رہے ہیں۔ شکریہ
حکومت میں دین اسلام کی عمل داری تو اسلام کی روح کا تقاضا ہے،’’ لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کی عملی تفسیر ہی تب ہو گی جب اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام ہو گا۔
اسلام ایک فطری اور فلاحی دین ہے۔ اس کا منشا ہی یہ ہے کہ زمین پر فساد نہ ہو۔
اب فساد کیسے ختم ہو گا لازما اس کے لئے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹانا ہوگا، آزادی فکرو اظہار ہو گی، مذہبی آزادی ہو گی، ظلم اور طاغوت کو روکا جائے گا، انصاف کا بول بالا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت اسلامی نہ ہو۔ کیوں کہ فردا فردا اسلام کے ان زریں اصولوں کو نہ تو نافذ کیا جا سکتا ہے اور نہ ان سے فائدہ لیا جا سکتا ہے۔
اس لئے حکومت الہیہ کا قیام ضروری ہے

اور فاروق بھائی کی باتوں سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ اس کے قائل ہیں لیکن شاید کچھ تحفظات ہیں، جس کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر سکتے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-09-09, 09:47 AM   #30
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
بھائی میرے ۔ ۔ ۔ جب ‌sahjنے لکھا تھا تو آپ نے بیک جنبش کئی اسلامی قوانین کو یہودیت کی پیدا وار قرار دے دیا تھا۔ میں کیوں اسلامی قوانین کی تضحیک کا سبب بنوں۔
میں آپکو مثال دیتا ہوں کہ اسلام میں جو سزا دے دی گئی مثال کے طور پر پھانسی/ قتل کے بدلے قتل وہ کوئی معاف نہیں کر سکتا حتی کہ حکمران بھی ۔لیکن یہاں تو صدر معاف کر دیا کرتا ہے۔ بلکہ اکثر تہواروں پر قیدیوں کی سزا معاف کر دی جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کے قانون اور اسکی سپرمیسی میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔
بالکل درست فرمایا آپ نے
ہمارے صدر صاحب اتنے بااختیار ہیں کہ حدود اللہ تک کی معافی کا اختیار رکھتے ہیں
حالانکہ قاتل کو مقتول کے ورثاء کے علاوہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
پھر بھی اگر اس نظام کو خالص اسلامی کہا جائے تو دعائے خیر اور افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
قدم, چین, مکمل, موت, مشعل, معاشرہ, ایمان, انسان, امیر, اسلام, توحید, تحریر, جواب, حال, دل, زندگی, سال, سائنس, ظالم, عقل, غریب, صفحہ, صحیح, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger