واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تھوڑی سی لفٹ کرا دے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-02-10, 10:22 PM  
تھوڑی سی لفٹ کرا دے
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 18-02-10, 10:22 PM

تحریر : محمودالحق

چھوڑو نا یار۔۔۔ آجکل ہمیں معاش کی فکر ہلنے نہیں دیتی۔۔۔ کون سے نظریات اور کہاں کے نظریات۔۔۔
میرے بلاگ پر جناب نعیم صاحب
نے یہ تبصرہ فرمایا ہے ۔ لکھنے کا خیال تو تھوڑی سی لفٹ کرا دے سے متعلق تھا ۔ مگر سوچا لگے ہاتھوں اس تبصرہ پر بھی اظہار خیال ہو جائے ۔سنجیدہ موضوع پر لکھا جائے تو پڑھنے والے تعداد میں انتہائی کم ہوتے ہیں ۔یعنی سینکڑوں کی بجائے دہائیوں میں ۔ لیکن ٹریفک بڑھانے کے لئے میرا قطعا کسی فلمی یا غیر فلمی گانے کے بارے میں لکھنے کا موڈ نہیں ہے ۔ اور نہ ہی عدنان سمیع کا ڈائٹنگ پروگرام یہاں بیان کرنا ہے ۔کیونکہ میں ہمیشہ سے ہی موٹا کرنے والی خوراک کا دیوانہ رہا ہوں ۔اس لئے موٹاپا کم کرنے کی ترکیب بیان کی جسارت نہیں کر سکتا ۔ جو کام خود نہ کیا ہو دوسروں کے لئے کیوں مولانا فصیحت ہو جاؤں ۔میرا مزاج معتدل ہے ۔ شوکت علی کے گانے ہوں یا ترانے سننے میں ہی گردش خون بڑھا دیتے ہیں اس لئے ان سے بھی ہمیشہ آنکھ بچا کر نکل جاتے ۔ عطا اللہ عیسی خیلوی کولڑکپن میں جنازہ نکالتے سنا تو بلڈ پریشر کم ہو گیا ۔ اب سننے کی ہمت نہیں کمزوری بڑھ چکی ہے ۔ چکر آ جاتے ہیں ۔ صحت مزاج پرسی کے گانوں سے ہی تسکین پاتی ہے اب تو ۔ خوشی ہوتی ہے جب کوئی ہمارا حال پوچھتا ہے ۔ بیماری سے اظہار نفرت کرتا ہے اور ہمیں ساتھ دینے کا حوصلہ باندھتا ہے ۔کہ چلیں اسی بہانے ہماری ہمدرد فوج میں نئے سپاہیوں کا اضافہ ہوتا ہے ۔
جیسے میری تحاریر پر داد دینے والے مختصر الفاظ کے ساتھ حوصلہ دیتے ہیں۔ جیسے بہت اچھے ، جاری رکھو، ویری نائس ، گڈ شئیرنگ وغیرہ ۔ مگر سبھی تو سپاہی نہیں ہوتے۔ تفصیل سے روشنی ڈال کر بعض پہلی صفوں میں اعلی عہدوں کے تغمہ بھی سجا لیتے ہیں ۔ اورکچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیماری کے متعلق ایسے انکشافات کرتے ہیں کہ سوتے میں آنکھ کھل جاتی ڈراؤنے خواب سے ۔مگر ان سب تفصیلات میں لفٹ کا ذکر تو کہیں بھی نہیں مل رہا ۔ ابھی تک تو صرف صفت ہی بیان کی جارہی ہے ۔ جو ہمیشہ انسان کی سرشت میں پائی جاتی ہے ۔بات تو شروع ہوئی تھی کہ ہر انسان کو روزی کے لالے پڑے ہیں ۔ پھر نظریات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ہماری زندگی میں عملی لحاظ سے اس کا کیا عمل دخل ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ جناب روزی کے لالے پڑے ہیں تو لالوں ( لالہ کی جمع یعنی بھائی ) سے لفٹ کی بجائے کیوں نہ لاالہ الااللہ سے ہی لفٹ کا قصد کیا جائے ۔
ہمارے مشورے بھی اب تو مال مفت دل بے رحم کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔ کہ جناب باتوں سے پیٹ نہیں بھرتے ۔ جان کے لالے پڑے ہیں ۔ لالہ سے مدد نہ ملی تو زندگی تہہ و بالا ہوتی نظر آ رہی ہے ۔اپنا بلاگ بنا کر بیٹھے ہیں در دستک ۔ چھتیں بغیر بالے کے ہیں ۔ محنت سے ہاتھوں میں چھالے ہیں ۔ گھر کے اندر اندھیرے تو باہر اجالے ہیں ۔دستک دیں تو کہاں ۔ دیواروں پر ۔صرف جھانکتے ہیں لوگ کبھی چلمن سے تو کبھی چوباروں سے۔ پریشانیاں اتنی ہیں کہ زندگی ایک کم ہے۔ کیونکہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔ جب ہر خواہش پہ دم نکلے تو ایک زندگی کے دم گن لیں ۔ اب تو حالت یہ ہے ہزاروں زندگیاں بھی کم نکلیں ۔ہم نے ہزاروں میں جینے کی بجائے ایک زندگی سے کام چلانے کی کوشش کی ۔ کوشش تو ہم نے یہ بھی کی تھی کہ گورنمنٹ کالج میں ایم اے تاریخ میں جب داخلہ لیا تو کلاس میں مجھے بھی کوئی لفٹ کرا دے ۔ آپ پھر غلط رخ دیکھ رہے ہیں ۔ میرا مطلب ہے کہ کلاس کے سبھی لڑکے لڑکیاں جب کسی اسائنمنٹ کو اکٹھے بیٹھ کر ڈسکس کرتے تو ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر خاموشی چھا جاتی ۔اور ہم اپنا سا منہ لے کر کسی دوسری سمت چل پڑتے ۔ جہاں سے جو ملتا پڑھ لیتے اور پہلی پوزیشن سے جلا کر رکھ دیتے صرف کلاس ٹیسٹ میں ۔تقریبا چار ماہ بعد اقلیتی نشست سے جان چھوٹی ۔ لفٹ نہ ملنے کی بابت دریافت کیا کیونکہ چار ماہ اقلیت کا کردار نبھایا تھا ۔ فرمایا گیا جناب کا کردار ہی ایسا تھا ۔
اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ہمارا گھر محلے میں چھڑوں (کنواروں ) کا گھر مشہور تھا ۔ کزنز اور محلے کے سبھی چھڑے وہیں ڈیرہ جماتے تھے ۔مگر جناب ہم تو ہمیشہ سے آنکھ نیچے رکھتے محلے میں ۔ تو کلاس میں کیسے اُٹھا سکتے تھے پھر یہ ناروا سلوک کیوں ہوا ۔اب اگرداخلہ لینے کے چند روز بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے باہر آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹیں گے تو کیا ہم خاموش تماشائی بنے تماشا دیکھیں گے ۔ نہیں نہ ! یاد تو ہو گا آپ کو کھڑکی پر حملہ اور لائن توڑنے والے شدید ناپسند تھے ۔ سو کود پڑے بیچ میں اور دونوں کو بچا کر اپنا فرض ادا کیا ۔ تو کیا برا کیا ۔ نیکی کا یہ صلہ ملا ۔پوری کلاس نے اقلیتی بنچوں پر بٹھا کر رکھا ۔کہ کہیں اس کی وجہ سے کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں ۔ لیکن مصیبت تو میرے گلے پڑی۔ جب مخالف محاذ کی طلبا تنظیم نے دعوت شمولیت دے دی ۔ ہم کرایہ کے --- تھوڑے تھے ۔ چمچہ گیری سے جان چھڑاتے چھڑاتے اب داداگیری کو پلے باندھ لیں ۔ پلہ تو ہم کب کا جھاڑ چکے تھے ۔ ابا جی کی پانچ مربع زرعی زمین کے ٹھیکیدار فصل کے اجڑنے پر معافی مانگ کر پلہ جھاڑچکے اور ہم اخراجات و ضروریات زندگی سے ۔
امیرزادے کلاس میں ڈالہ (بوتلوں کے )کھلواتے ۔ اور ہم اکثر ہی حلیم کی ریڑھی پر پائے جاتے ۔ ایسے موقع پر خیال آتا کہیں سے تھوڑی سی لفٹ ہی مل جائے ۔
دعا سنی گئی ۔ اور پانچ بڑے لالوں (بھائیوں) نے امریکہ سےماہانہ مدد کا بل پاس کیا کہ کہیں تنگیء داماں میں بیرون ملک کا قصد سفر نہ باندھ لے ۔ بوڑھے اور بیمار والدین کی بیماریوں کو شکست دئے بنا تو اپنا فوجی اڈا نہیں چھوڑنا تھا ۔ بل منظور ہوا تو دو سو ڈالر کا پہلا چیک امریکن ایکسپریس سے کیش کروایا تو 4200 روپیہ ہاتھ لگا ۔ اس وقت ڈالر 21 روپے کا تھا ۔ سترھویں گریڈ کی بنیادی تنخواہ 2200 روپے تھی ۔ اتنی جلدی ایسی لفٹ کہ انیسویں گریڈکی تنخواہ گھر بیٹھے ملنے لگے تو بھاٹی کی سلطان حلیم چھوڑ لکشمی چوک سے مرغ کڑاہی کا دور چلنے لگا ۔
ابھی صرف تین چیک کو تین ماہ ہی کھا پائے تھے کہ چوتھا چیک مزاج ،سوچ ،تربیت اور اصولوں پر بوجھ بن گیا ۔سن رکھا تھا اللہ تبارک تعالی کو صرف اوپر والا ہاتھ پسند ہے یعنی دینے والا مدد کرنے والا ہاتھ ۔بس پھر کیا تھا آئی روزی کو لات مار دی ۔ ایک لمبا چوڑا خط لکھ دیا ۔ ہم اپنا مقصد پورا کریں گے ۔ والدین کی چھاؤنی نہیں چھوڑیں گے۔ مگر ہمیں مدد نہیں چاہیئے ۔ جو والدین کے پاس ہے میری ضرورتوں کے لئے کافی ہے ۔اور چیک کا سلسلہ رک گیا ۔سنا تھا برا وقت اکیلا نہیں آتا ۔ اب اگر ٹھیکیدار اچھا ملا تو ٹیوب ویل کا بور بیٹھ گیا اور پانی کی کمی سے آمدن کا سلسلہ رک گیا ۔ دو سال بعد مجھے ملازمت ملی وہ بھی 65 میل دور دوسرے شہر میں ۔ روزانہ آتا جاتا ۔ تنخواہ جو مجھے ملتی 2400 روپے ماہوار تھی ۔ اسی سال میری شادی ہوئی اور ولیمہ کےسادہ اخراجات پھر بیرونی امداد سے پورے ہوئے ۔ لیکن زندگی میں لالوں کی بجائے لاالہ الااللہ پر ایمان کو پختہ رکھا ۔
وقت گزرتا رہا ۔پائی پائی جوڑ کرکاروبار شروع کیا ۔ والد صاحب کی بیس سال پرانی کار کی بجائے سوزوکی ایف ایکس پھر شیراڈ اور کشکول توڑنے کے دس سال بعد میرے پاس پجارو گاڑی تھی ۔ اکثر لوگ خیال کرتے کہ پھر کوئی بل منظور ہوا ہے مدد کا۔ مگر یہ پیکج میرے بوڑھے اور بیمار والدین کی دعاؤں کا تھا ۔


نوٹ : اگر مناسب خیال کریں تو اپنا اپنا اظہار خیال ضرور کریں ۔ سپاہیوں والا نہیں ۔ کیونکہ نئی نسل کو بہت ضرورت ہے ۔ اچھی مثالوں سے تحریک پیدا کرنی کی ۔ مایوسی انسان کو گمراہی میں مبتلا کر دیتی ہے ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 570
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
J.S (19-02-10), shafresha (20-02-10), فیصل ناصر (21-02-10), فرحان دانش (20-02-10), ھارون اعظم (18-02-10), منتظمین (21-02-10), محمدعدنان (20-02-10), ام طلحہ (22-02-10), راجہ اکرام (20-02-10), رضی (21-02-10), شاہ جی 90 (20-02-10), عبداللہ آدم (28-02-10), عبداللہ حیدر (19-02-10)
پرانا 22-02-10, 07:22 AM   #16
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,424
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
ماشاء اللہ۔۔ بہت جاندار اور کسی بھی جھول سے پاک تحریر ہے ۔
اور خاص کو اس تحریر میں جو سوچنے کے لیے آپ نے نکتہ دیا ہے وہ بھی بہت اہم ہے ۔۔
آپ کی تحریر پڑھ کر یہ محسوس نہیں ہوا کہ ۔۔ مزاح میں موضوع کسی دوسری طرف نکل گیا ہو ۔۔
یا آپ لوگوں کو متوجہ تو کرنا چاہ رہے ہیں لیکن انداز ۔۔۔ آج کل کے جو مزاح نگار کہلوانے والے ہیں اس کی طرز کا ہو ۔۔
جس میں فضول گوئی تو ہوتی ہے ۔۔۔ کوئی اپم پہلو نہیں ۔۔ اب تو ہر کوئی یہ کام کرنے تلا ہوا ہے ۔۔۔
خوبصورت انداز تحریر ہے آپ کا ۔۔
اسلام و علیکم
بہت شکریہ ارحم بھائی
ہنسی مذاق تو لطیفہ گوئی سے بھی کیا جا سکتا ہے مگر ضرورت ہے کہ کسی اچھی بات کو احسن طریقے سے دوسرے تک پہنچایا جا سکے ۔ نعیم صاحب کے تبصرہ پر ایک سادہ انداز میں بھی لکھا جا سکتا تھا ۔ مگر ضرورت تھی کہ اس بات کا جواب کسی عملی ثبوت میں دیا جائے ۔ جس پر آج کل لوگوں کا ایمان کم ہے ۔ سوچنے کے لئے ایک نقطہ دیا ہے کہ کمی کہاں ہے ۔ جب معاشی حالات بھی اچھے نہ ہوں تو ایسے سخت فیصلے توکل کے بنا کرنے آسان نہیں ہوتے۔ حقوق و فرائض کی بات کرنا آسان مگر نبھانا مشکل ہوتا ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-02-10, 08:37 PM   #17
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,424
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
تو محمود بھائی جلدی سے انہیں بھی پوسٹ کر دیں نا
اور اگر کر دئیے ہیں تو پلیز لنک مجھے بھیج دیں بلکہ اسی تھریڈ میں لگا بھی دیں
کیا خیال ہے
معظم بھائی میرے ریکارڈ کے مطابق درج ذیل تحریریں آپ کی راہ آج بھی تک رہی ہیں
پنکھڑی پر خار،،،،سیاسی محبت کے اسیر،،،،سمت پرواز کیا ہے،،،،زمانہ پھر بھی رہ جائے گا،،،،2009 بھی گزر گیا - کیا کھویا کیا پایا،،،،قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر،،،،قطار در قطار،،،،سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی،،،،قانون فطرت،،،،ووٹر ابن ووٹر،،،،واہ میرے شیر جوانوں !،،،،کالونی سے کمپیوٹر تک
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-02-10), شاہ جی 90 (23-02-10)
پرانا 23-02-10, 12:59 PM   #18
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
شکریہ محمود بھائی ایک ایک کر کے پڑھوں گا
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (04-06-11)
پرانا 28-02-10, 03:21 PM   #19
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کرینِ
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (04-06-11), شاہ جی 90 (01-03-10)
جواب

Tags
فرض, کالج, گانے, ٹریفک, قصد, لوگ, نفرت, مفت, موٹاپا, ایمان, اللہ, انسان, امریکہ, بھائی, حال, خون, دریافت, دعا, زندگی, سفر, شہر, علی, عدنان, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تھوڑی سی مدد درکار ہے۔ معظم آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 18 27-09-10 01:25 PM
کیا خیال ہے، تھوڑی سی گالف نہ کھیل لی جائے؟ حسن مغل گپ شپ 1 16-11-08 10:41 AM
مسلمان کیلیےتھوڑی سی شراب’جائز‘ ابن جلال خبریں 1 12-04-08 04:30 PM
تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئیے Zullu230 شعر و شاعری 0 18-03-08 05:51 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger