واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-09-09, 05:55 AM  
ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 29-09-09, 05:55 AM

ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔

مسابقت اور مقابلے کا یہ عنصر فرد سے معاشرے میں آجاتا ہے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے لئے اجتماعی تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قوم کے اجزائے ترکیبی میں رنگ، نسل، زبان، علاقائیت اور مذہب یا نظریہ جیسے عناصر شامل ہیں لیکن ان سب میں اہم اور موثر عنصر مذہب ہے۔ کیوں کہ نظریات اور مذہب پر تشکیل پانے والی اجتماعیت پائیدار اور دیر پا ہوتی ہے۔

مذہب یا نظریہ جو کسی بھی قوم کی بنیاد ہو وہ فطری اور بشری تقاضوں کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے، کیوں کہ اگر فطری تقاضوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت تا دیر بحال نہیں رہ سکتی۔ انہی فطری تقاضوں میں ایک ترقی اور کامیابی کا حصول ہے لہذا ہر مذہب اور نظریہ اپنے پیروکاروں کی ترقی کے لئے ایسے اصول وضع کرتا اور انہیں اپنی بنیادی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے کہ اگر ان کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقینی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور اگر روگردانی برتی جائے تو ایک وقت کے بعد زوال شروع ہو جاتا ہے تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں جن میں اپنی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کرنے والی قومیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اور جو اپنی تعلیمات پر کاربند رہیں انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔

لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔

ان روشن خیال دانشوروں سے اگر تاریخ انسانی سے کوئی مثال طلب کی جائے تو ہزاروں سال پر مشتمل اس تاریخ میں سے وہ صرف ایک مثال پیش کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔

مذہب کی وجہ سے زوال و ناکامی اور ترک مذہب اور دین بیزاری کے باعث ترقی و کامیابی کی مثال وحید جو آج تک بطور دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کا عصر تاریک (ڈارک ایج) ہے۔

مگر بدقسمتی سے وہ مثال ”سوال گندم جواب چنا“ کے مصداق ان کے دعوے کا بھرم نہیں رکھ سکتی کیوں کہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ اصول یہ ہے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے اجزاءکا علم ضروری ہے، اور مثال پیش کرتے ہوئے مسئلے کے بنیادی اجزاءکو پیش نطر رکھنا ہی اہل علم کا شیوہ ہے۔

بطور مثال اگر مذہب کی بات ہو، ترقی اور زوال میں اس کے کردار کی ہو تو مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کے علم کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی کے لئے بتائے گئے اصولوں اور ان کی روشنی میں کار جہاں گیری کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ اس مذہب سے منسوب قوم کے زوال کا جائزہ لینے یا مذہب کو زوال کا سبب قرار دینے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا مذکورہ قوم بنیادی تعلیمات اور کار جہاں گیری کے اصولوں پر کار بند تھی یا نہیں؟ ورنہ صرف مذہب سے نسبت ترقی کی ضمانت نہیں ۔

عصر تاریک (ڈارک ایج ) کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور ہے جب یورپ کی زمام اقتدار عیسائی رجال دین اور اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھی۔ اہل کلیسا کی بات حرف آخر تھی اور اس سے اختلاف کا مطلب اپنی موت کا جواز مہیا کرنے یا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ دینی و دنیاوی تمام معاملات میں اہل کلیسا کی رائے وحی سماوی کا درجہ رکتھی تھی۔ سزا و جزا کے تمام اختیارات کا منبع کلیسا تھا۔

ایک جانب انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کا اخیتار اور دوسری طرف زمین کی ہیئت ، اجرام فلکی کی حرکت جیسے خالص دنیوی معاملات مکمل طور پر اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھے۔ کئی نامور سائنس دان اور فلسفی صرف اختلاف رائے کی پاداش میں جان سے جاتے رہے اور کئی ایک کو سر عام زندہ جلا دیا گیا۔ فکرو اظہار پر قدغن کا نتیجہ فکری انجماد اور بے عملی کی صورت میں نکلا۔ اور یہی انجماد قوموں کی حیات میں زوال اور موت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں مسدود ہو گئیں، آگے بڑھنے کا جوش و ولولہ دم توڑ گیا اور تاریخ انسانی کا کئی صدیوں پر محیط عرصہ ہمیشہ کے لئے عصر تاریک کے نام سے موسوم ہو گیا ۔

لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت اہل کلیسا عیسائیت کی حقیقی تعلیمات پر کاربند تھے؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات ہی ان کے تمام معاملات میں مشعل راہ تھیں؟کیا فکرو اظہار پر پابندی اور مرتکبین کے لئے سزائیں انجیل مقدس کی روشنی میں دی جاتی تھیں؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام جیسا رحمدل انسان اتنی ظالم اور بھیانک تعلیمات دے سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب یقینا نفی میں ہے۔

در حقیقت اس وقت جو عیسائیت رائج تھی وہ تحریف شدہ تھی، اناجیل اربعہ آسمانی وحی کے بجائے انسانوں کی آراءکا مجموعہ تھیں جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات سے سینکڑوں برس بعد تحریر کی گئیں۔ بلکہ اسے عیسائیت کے بجائے پولس کی تعلیمات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اور سینٹ پولس (سینٹ پال) یہودی الاصل اور عیسی علیہ السلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا، آپ کی وفات کے بعد عیسائیت قبول کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وہ مقام حاصل کیا کہ عیسائی اسے اپنا امام و پیشوا تصور کرنے لگے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے عیسائیت کی بنیادیں ہی ہلا دیں۔

توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ لانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کے بجائے ایسی تعلیمات کو عیسائیت میں شامل کر دیا جس نے عیسائیت کو عصر تاریک کی صورت میں ایک مستقل بد نما داغ دیا۔ اور جب عصر تاریک ختم ہوا اور اہل یورپ نے مذہب کا دامن چھوڑ کر سیکولرزم کا سہارا لیا تو ترقی کی منازل طے کرتے بام عروج کو پہنچے۔جسے دلیل بنا کر مذہب کو ترقی کا دشمن کہا جانے لگا۔ مگر ان تعلیمات کو مذہب کہنا اور اس کی ناکامی کو دلیل بنا کر مذہب کو زوال اور ناکامی کا سبب گرداننا سراسر زیادتی اور مذہب بیزاری ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ دین و مذہب تو ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک زندہ مثال جو عصر تاریک ہی میں عرب کے ریگزاروں میں قائم ہو ئی۔ جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا عین اسی وقت ریگستان عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ اہل اسلام نے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا، فکرو اظہار کی مکمل آزادی دی گئی۔رنگ و نسل اور امیر و غریب کے تمام امتیازات مٹا دیئے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے بدو اپنے وقت کی مہذب ترین اقوام کو تہذہب سکھاتے نطر آئے۔ مختصر عرصے میں دنیا کی امامت ان کے قدموں میں تھی۔ اور جب تک مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کاربند رہے حکمرانی کرتے رہے۔ قلیل تعداد ہو کر بھی بڑی بڑی افواج پر فتح حاصل کرتے رہے اور اقلیت میں ہو کر بھی سینکڑوں سال اکثریت پر حکمرانی کی۔

اگر یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ یورپ نے مذہب اور ملائیت سے چھٹکارا حاصل کیا تو ترقی اور کامیابی ملی، تو آخر یہ مثال کیوں نہیں دی جاتی کہ مسلمان جب تک اپنے مذہب پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی اس لئے اگر کامیابی چاہیے تو مذہب کی طرف لوٹنا ہو گا۔
لیکن وہ ایسا کون کہے؟ اہل دانش کی فکری خوراک کا سرچشمہ تو مغرب ہے جہاں سے روشن خیالی اور اسلام دشمنی کے پرچار کا معاوضہ ملتا ہے۔

ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا انداز فکر اور زاویہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر اقوام کے عروج و زوال کے قصے عبرت و نصیحت کے لئے ضرور پڑھیں مگر تقلید کے لئے نہیں۔ ہماری اپنی تاریخ اتنی جامع ہے کہ اس میں عروج و زوال کے تمام اسباب موجود ہیں، بس ذرا فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔

اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2041
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Haya 786 (02-10-09), mama_shalla (30-04-11), پاکستانی لڑکی (30-09-09), ھارون اعظم (19-02-11), منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), wajee (29-09-09), ایس اے نقوی (02-10-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), سحر (08-11-09), عامرشہزاد (30-09-09), عادل سہیل (13-10-09)
پرانا 01-10-09, 09:46 AM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
دوم آپ فرماتے ہیں کہ ایک علماء‌کنسورشئیم کا کنسورشئیم قوانیں کی توثیق کے لئے ضروری ہے، جس کا تعین حکومت وقت کرے۔ بھائی ایسا کیوں؟ گویا جن منتخب نمایندگان کو عوام نے قانون سازی کے لئے منتخب کیا ہے ان کے اوپر مزید ایک ملائی سپریم کونسل کیوں ہو؟

پہلی بات تو یہ سمجھ لی جائے کہ منتخب نمائندوں کے اوپر ملائی کونسل یا ایک سے زائد ملائی کونسلز کا ہونا مذہب کے منافی نہیں۔
اپ مقاصد پر نگاہ رکھیں بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
ہمارا مقصد مذہب کے تقاضوں کے مطابق حکومت کا قیام ہے۔ اور مذہب کی صحیح تعلیمات اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اگر کونسل کی ضرورت ہو تو ضرور بنائیں، اگر اس پر ایک اور کی ضرورت ہو تو وہ بھی بنائیں۔
بس خیال اس بات کا رکھنا ہے کہ نفاذ مذہب کی راہ میں کوئی ایسا طریقہ نہ اپنایا جائے جس کی مذہب اجازت نہ دیتا ہو۔۔

اور یہ بھی ذہن نشین ہونا چاہیے کہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے ضروری نہیں کہ دین کے معاملات پر بھی دسترس رکھتے ہوں۔ اور نہ ہی منتخب ہونا صاحب فضل و علم ہونے کی دلیل ہے۔ اس لئے ان کے اوپر اگر کوئی کونسل بن جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ایک سپریم ملائی کونسل کسی طور اسلام سے ثابت نہیں۔ کہ تعلیم حاصل کرنے پر حکومت کرنے اور قانون سازی کا حق مل گیا۔ اگر عوام کو دین تعلیم یافتہ لوگ چاہئیے ہیں تو ان کو ووٹ دے کر اسمبلیوں‌میں لائیں۔ کسی قسم کی کونسل ان بیعت شدہ یعنی ووٹ یافتہ منتخب نمائندگان سے اوپر غیر ضروری ہے۔ صرف ایرانی ملائی کونسل اس کو ضروری سمجھتی ہے اور پاکستان کے نظام سے سخت خوف کھاتی ہے۔

صاحب علم و فضل ہر شعبہ زندگی سے درکار ہوتے ہیں، مذہبی معاملات میں اصحاب علم و فضل کی ضرورت اتنی ہی ہے جتنی کسی نہری نظام کے لئے ایک انجینئر کی۔ لیکن یہ کہنا کہ فرد واحد کی حکومت ہو تو اسلامی ہے یا موجودہ اسمبلیاں لال ، ہری ، نیلی مسجد سے اپنے قوانین کی توثیق کروائیں گے تو ہی اسلامی نظام بنے گا ، کسی طور اسلامی نہیں۔ یہ صرف اور صرف ایک ذاتی فائیدہ پہنچانے والی بات ہے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-10-09, 09:52 AM   #47
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میرا یہی اندازہ تھا کہ ایک ملاء سپریم کونسل کو قیام ، بہت سے لوگوں کی نظر میں اسلامی نظام ہے،
کسی بھی چیز کو غیر اسلامی قرار دینے کے لئے دلیل ضروری ہے
کیوں کہ یہ اصول مسلم ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ اصل اباحت ہے، جب تک حرمت کی دلیل موجود نہ ہو۔
تو اسی طرح کسی چیز کو غیر اسلامی قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-10-09, 10:01 AM   #48
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
کسی بھی چیز کو غیر اسلامی قرار دینے کے لئے دلیل ضروری ہے
کیوں کہ یہ اصول مسلم ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ اصل اباحت ہے، جب تک حرمت کی دلیل موجود نہ ہو۔
تو اسی طرح کسی چیز کو غیر اسلامی قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے
1۔ اس اصول کی قرآنی دلیل پیش کیجئے۔
2۔ اگر اصول کو مان بھی لیا جائے تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ کی حرمت کی دلیل لائیے۔
3۔ بیعت شدہ خلفاء الراشدین کے سر پر کونسی ملائی سپریم کونسل تھی؟
4۔ کنگ سپورٹنگ کلرجی یعنی ملائیت کی مدد سے بادشاہت ایک عیسائی و یہودی و ایرانی نظام رہا ہے جس نے اسلام کے شورائی نظام کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اس ملائی نظام کا اسلامی شورائی نظام سے کوئی مقابلہ نہیں۔
5۔ اگر ملاؤں کی سپریم کونسل اتنی ہی ضروری ہے تو پھر لوگ ملاؤں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں لے آئیں۔ اسمبلی پر کونسل بٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:03 AM   #49
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایک سپریم ملائی کونسل کسی طور اسلام سے ثابت نہیں۔ کہ تعلیم حاصل کرنے پر حکومت کرنے اور قانون سازی کا حق مل گیا۔ اگر عوام کو دین تعلیم یافتہ لوگ چاہئیے ہیں تو ان کو ووٹ دے کر اسمبلیوں‌میں لائیں۔ کسی قسم کی کونسل ان بیعت شدہ یعنی ووٹ یافتہ منتخب نمائندگان سے اوپر غیر ضروری ہے۔ صرف ایرانی ملائی کونسل اس کو ضروری سمجھتی ہے اور پاکستان کے نظام سے سخت خوف کھاتی ہے۔

صاحب علم و فضل ہر شعبہ زندگی سے درکار ہوتے ہیں، مذہبی معاملات میں اصحاب علم و فضل کی ضرورت اتنی ہی ہے جتنی کسی نہری نظام کے لئے ایک انجینئر کی۔ لیکن یہ کہنا کہ فرد واحد کی حکومت ہو تو اسلامی ہے یا موجودہ اسمبلیاں لال ، ہری ، نیلی مسجد سے اپنے قوانین کی توثیق کروائیں گے تو ہی اسلامی نظام بنے گا ، کسی طور اسلامی نہیں۔ یہ صرف اور صرف ایک ذاتی فائیدہ پہنچانے والی بات ہے۔
آپ کی باتوں میں مجھے اس کونسل کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں ملی، شاید یہ میرے کم نظری ہے، اگر مزید وضاحت فرما دیں تو ممنون احسان رہوں گا۔
اور موجودہ اسمبلی کے منتخب شدہ نمائندوں کو دینی معاملات میں اتنا مقام دینا کہ انہیں کسی کونسل سے رہنمائی کی ضرورت نہیں میری سمجھ سے بالا ہے۔
کوئی ضروری نہیں کہ آپ لال یا نیلی مسجد سے توثیق کروائیں۔ اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ حکومت خود ایک کمیٹی بنا سکتی ہے
اسلامی نظریاتی کونسل جیسی لیکن اس کی طرح صرف مبصر نہیں بلکہ اس کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں۔

اگر ایسی کونسل کی حرمت پر کوئی دلیل ہو تو ہمارے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-10-09, 10:08 AM   #50
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
1۔ اس اصول کی قرآنی دلیل پیش کیجئے۔
2۔ اگر اصول کو مان بھی لیا جائے تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ کی حرمت کی دلیل لائیے۔
3۔ بیعت شدہ خلفاء الراشدین کے سر پر کونسی ملائی سپریم کونسل تھی؟
4۔ کنگ سپورٹنگ کلرجی یعنی ملائیت کی مدد سے بادشاہت ایک عیسائی و یہودی و ایرانی نظام رہا ہے جس نے اسلام کے شورائی نظام کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اس ملائی نظام کا اسلامی شورائی نظام سے کوئی مقابلہ نہیں۔
5۔ اگر ملاؤں کی سپریم کونسل اتنی ہی ضروری ہے تو پھر لوگ ملاؤں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں لے آئیں۔ اسمبلی پر کونسل بٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟
فاروق بھائی
سلام مسنون
اچھے سوالات ہیں، لیکن ان کے جواب کے لئے وقت چاہییے۔
اس وقت میں مزدوری پر ہوں۔ انشاء اللہ جیسے ی وق میسر آیا کوشش ضرور کروں گا۔۔ البتہ صحیح ہونے کی گارنٹی میں نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ مجھے اپنی علمی کم مائیگی اور تہی دامانی کا پورا احساس ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-10-09, 10:08 AM   #51
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب ،بدر بھائی ؎اسلام کی حقیقی ترجمانی کی ہے آپ نے،،،

Last edited by احمدنواز; 01-10-09 at 10:30 AM.
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-10-09), حیدر (03-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:11 AM   #52
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی نے ایک اچھا موضوع چھیڑا ہے ،،
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-10-09), حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:17 AM   #53
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام اور سیکولرازم کے موازنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیکولرازم انسانیت کی روحانی موت ہے، جبکہ اسلام دائمی اور ابدی حیات کا نام ہے؎موت و حیات کو ایک دوسرے کے مماثل قرار دینا سمجھ سے بالا ہے؎
اللہ ہمیں راہ ہدایت پر ثابت قدمی عطا کرے امین؎
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-10-09), حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:17 AM   #54
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام اور سیکولرازم کے موازنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیکولرازم انسانیت کی روحانی موت ہے، جبکہ اسلام دائمی اور ابدی حیات کا نام ہے؎موت و حیات کو ایک دوسرے کے مماثل قرار دینا سمجھ سے بالا ہے؎
اللہ ہمیں راہ ہدایت پر ثابت قدمی عطا کرے امین؎
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:27 AM   #55
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

احمد نواز بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام مسنون
اچھا لگا آپ یہاں تشریف لائے، یقینا آپ کی آراء سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا،

اور آپ نے موازنہ کر کے جو نتیجہ نکالا ہے اسلام اور سیکولرزم کا مجھے بہت پسند آیا۔
اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
پرانا 01-10-09, 10:54 AM   #56
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادرم راجہ صاحب اور بدر صاحب۔

اتنا اچھا موضوع شروع کرنے اور اس موضوع میں‌ مناسب معلومات سے ساتھ دینے میں‌ آپ کا بہت ہی شکریہ۔

میں اس بحث سے نہ تعلق رکھنے والی کچھ باتیں عرض‌کرنا چاہتا ہوں، کچھ ہماری ذاتی اور کچھ اس بحث کی تاریخ‌پر روشنی ڈالنے والی۔
اس بحث کا کوئی بھی پہلو ہمارا آپ کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ‌ہے۔ ایک طالب علم ہونے کے ناطے مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہے۔ آپ کسی بھی جگہ میری کسی بھی بات کو اپنی طرف نہ لیجئے اگر کہیں یہ شائبہ بھی ہوتا ہے کہ میں کسی قسم کا ذاتی حملہ کررہا ہوں تو براہ مہربانی اس کی طرف توجہ دلائیے، میں اس میں بخوشی ترمیم کروں‌گا۔

یہ ایک اچھا موضوع ہے، میں بالکل نہ چاہوں گا کہ یہ موضوع کسی طور بھی ذاتیات یا بدتمیزی کی نظر ہوجائے۔ اس موضوع پر پاکستان کی تخلیق سے پہلے سے بحث ہورہی ہے۔ اس میں دو طبقہ ہیں۔ ایک علی گڑھی قسم کا طبقہ جس نے تعلیم حاصل کرکے پاکستان کی داغ بیل ڈالنے میں‌ایک بڑا کردار ادا کیا۔ دوسرا طبقہ ان ملاؤں پر مشتمل تھا جو کہ ہندوستان کا انتظامی نظام "اسلامی ، شرعی اور فقہی نظام "‌ کہہ کر چلاتے تھے۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد سے اس ملائی طبقہ کو کسی قسم کی مراعات اور یا قابل قدر درجہ نہ مل سکا۔ اس کے کچھ پہلو یقیناً‌ افسوس ناک ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ :
1۔ ملا کبھی نہیں چاہتے تھے کہ عوام الناس قرآن حکیم کا سمجھ کر مطالعہ کریں، ان کو زور صرف اس امر پر رہا کہ قرآن کی تعلیم ناظرہ سے آگے نہ پہنچے۔
2۔ علی گڑھی کا سارا زور، ایک جدید تعلیمی نظام پر رہا ، اس لئے قرآن حکیم کی تعلیم صرف کچھ آیات یا سوراۃ کو یاد کرنے تک رہی۔ آپ کو پبلک اسکولوں‌میں قرآن کی تعلیم کی کمی بآسانی مل جائے گی۔

ہونا یہ چاہئیے کہ قرآن کی تمام تعلیم جو کہ مدارس میں‌دی جاتی ہے اس کو موجودہ تعلیمی نطام میں ضم کردیا جائے تاکہ ہماری قوم اپنی کتاب کے اصولوں سے واقف ہوسکے۔ آپ اس کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مدرسہ میں اسکولوں والے تمام علوم بھی پڑھائے جائیں۔ قرآن بامعنی مکمل طور پر نصاب میں داخل کیا جائے۔ اس سلسلے میں‌ماہرین کی کمی نہیں ہے۔

جس طرح 100 سال میں علی گڑھی کی جدید تعلیم نے پاکستان کو جنم دیا، اسی طرح‌ قرآن کی بامعنی تعلیم کے اثر و نفوذ کے بعد ایک غیر اسلامی قومی سوچ کو فروغ پانے سے بہت سے کنفیوژن ختم ہو جائیں گے۔

واپس آپ کے موضوع کی طرف:

اعلی ترین قانون ساز جماعت ، اسمبلی ، مجلس شوری ، کا کام ہے قانون سازی۔ ہم اس پر متفق ہیں کہ باہمی مشورہ سے قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔ یہ کام “ پاکستان کی مقننہ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سر انجام دیتے ہیں۔ یہ مسلمانوں‌ کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے۔ اس کے اوپر کسی کونسل کا تعین ایک غیر ضروری اور غیر منطقی عمل ہے۔ ہمارا مذہب باہمی مشورہ کی بنیاد پر ایک شورائی نظام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن اعلی ترین حاکم پر ایک اور اعلی ترین حاکم کسی بھی دور میں نہیں رہے۔

اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی ہو تو اس قانون کو پاکستان کی عدالتوں‌ میں‌ چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ یہ عدلیہ بھی قرآن و سنت کے اصولوں کی پاکستان کے آئین کے تحت پابند ہے۔ سپریم کورٹ پر ایک مزید سپریم کورٹ بٹھانا دوبارا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں ایسا کوئی حکم نہیں دیتا۔

اسی طرح انتظامیہ قرآن و سنت کی روشنی میں کام کرنے کے لئے آئینی طور پر پابند ہے۔ اعلی ترین انتظامیہ پرا ایک اور انتظامیہ بٹھانا ایک غیر منطقی عمل ہے۔

اگر ہمارے ہمسایہ ممالک کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشیت ، ایران کی معیشیت کی نسبت بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے ایران کی غیر منتخب سپریم کونسل جو کہ ہر صدر اور ہر منتخب نمائندے سے اوپر ہے اس امر سے خائف ہے کہ ان کے ملک میں‌ اس جمہوریت نے رواج پالیا تو ان کے ذاتی فائیدہ ختم۔

میری جب بھی کسی سے بحث ہوئی ہے تو بات یا تو سعودی اسلامی نظام یعنی فرد واحد کی حکومت، اور عوام کی دولت پر ایک فرد یا ایک خاندان کے قبٍضہ کو اسلامی نظام قرار دینے کی کوششی کی گئی ہے ------ یا پھر ----- ایرانی طرز کے سپریم کونسل کے نظام کو اسلامی نظام قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فکر کو کہاں سے مالی امداد مل رہی ہے۔

ایک تیسری قوت بھی ہے وہ ہے امریکہ، جو کہ لیاقت علی خان کے دورے کے وقت سے پاکستان میں جمہوری نظام چاہتا ہے اور پاسکتان کی کھلم کھلا امداد کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ گروہ جو درپردہ امداد وصول کرتے ہیں وہ سعودی یا ایرانی اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں کونسا اسلامی نظام چلے گا، اس کا فیصلہ تو پاکستانی عوام ہی کریں گے ۔ ہمارا کام ہے کہ ان نظاموں‌کی شناخت کریں، اس بات کا تضزیہ کریں کے ان میں سے کونسا نظام قرآن سے ہم آہنگ ہے؟

پھر فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 12:04 PM   #57
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمدنواز مراسلہ دیکھیں
راجہ بھائی نے ایک اچھا موضوع چھیڑا ہے ،،
یہ چھیڑنے والی بات بھی خوب کہی ۔
لیکن اس سنجیدہ دھاگے میں کہ نہیں سکتے زیا دہ ۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09)
پرانا 01-10-09, 12:14 PM   #58
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
یہ چھیڑنے والی بات بھی خوب کہی ۔
لیکن اس سنجیدہ دھاگے میں کہ نہیں سکتے زیا دہ ۔۔
ڈاکٹر صاحب۔۔ یہ چھیڑنے والی بات مجھے بھی خوب لگی تھی

اور آپ بھی کچھ تو رائے دیں تا کہ بات کو آگے بڑھایا جا سکتے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
پرانا 02-10-09, 03:36 PM   #59
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
1۔ اس اصول کی قرآنی دلیل پیش کیجئے۔
2۔ اگر اصول کو مان بھی لیا جائے تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ کی حرمت کی دلیل لائیے۔
3۔ بیعت شدہ خلفاء الراشدین کے سر پر کونسی ملائی سپریم کونسل تھی؟
4۔ کنگ سپورٹنگ کلرجی یعنی ملائیت کی مدد سے بادشاہت ایک عیسائی و یہودی و ایرانی نظام رہا ہے جس نے اسلام کے شورائی نظام کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اس ملائی نظام کا اسلامی شورائی نظام سے کوئی مقابلہ نہیں۔
5۔ اگر ملاؤں کی سپریم کونسل اتنی ہی ضروری ہے تو پھر لوگ ملاؤں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں لے آئیں۔ اسمبلی پر کونسل بٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟
اس اصول کی قرآنی دلیل پیش کیجئے۔

اصل موضوع کی طرف جانے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری سمجھوں گا کہ شریعت کے مآخذ کے حوالے سے اہل اسلام ایک سے زائد آراء رکھتے ہیں۔
البتہ قرآن و سنت مطہرہ پر تقریبا سبھی متفق ہیں سوائے چند کے۔ ان چند میں سے بعض تو حدیث کے مطلقا انکاری ہیں اور بعض اگرچہ مطلقا انکار تو نہیں کرتے لیکن وہ مقام بھی نہیں‌دیتے جس کا حق ہے۔

بہر حال قرآن کریم پر سبھی متفق ہیں، اسی لئے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو پہلا مطالبہ قرآنی دلیل ہی کا کیا جاتا ہے۔
قرآن کریم رہتی دنیا تک کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہے اور اگر بالغ نظری سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو ہر مسئلے کا حل یا رہنمائی ضرور مل جائے گی۔ اور مذہبی اور معاشرتی زندگی کے اہم اصول کا علم حاصل ہو گا۔
لیکن یہ سمجھنا کہ ہر اصول واضح الفاظ کے ساتھ قرآن میں ہر کسی کو مل جائے گا مناسب رویہ نہیں۔ کیوں کہ قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس لئے زبان کے اتار چڑھاؤ اور فصاحت و بلاغت کے اصول سے آگاہی، اور دیگر معاون علوم کا علم زیادہ گہرائی اور گیرائی سے قرآن کو سمنجھے اور مسائل کا استنباط کرنے میں مددگا ہو گا۔
اسی مقصد کے لئے اہل علم نے قرآن کریم سے احکام و مسائل مستنبط کرنے کے لئے کچھ طرق بتائے ہیں
1۔۔۔عبارۃ النص 2 ۔۔۔۔اشارۃ النص 3۔۔۔دلالۃ النص 4۔۔اقتضاء النص
ان طرق کو مد نظر رکھ کر اگر مطالعہ کیا جائے خلوص اور للاہیت کے ساتھ تو انشاءا للہ یقینی رہنمائی ملے گی۔
جہاں تک تعلق ہے الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کا تو اس سلسلے میں مفسرین کی آراء ہمیں رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔

آراء مفسرین
آیات کریمۃ جن سے استنباط کیا گیا
(ھو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا)
امام قرطبی اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس میں دس مسائل کا ذکر ہے ۔۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ
استدل من قال إن أصل الاشياء التي ينتفع بھا الاباحۃ بھذه الآيۃ وما كان مثلھا - كقولہ " وسخر لكم ما في السموات وما في الارض جميعا منہ (2) " [ الجاثيۃ: 13 ] الآيۃ - حتى يقوم الدليل على الحظر.
مفہوم: الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کے قائلین‌ اس آیت سے استدلالا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ممانعت کی کوئی دلیل آجائے۔

خَلَقَ لَكُم مَّا فِى الارض جَمِيعاً
امام رازی اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ
والفقہاء رحمھم اللہ استدلوا بہ على أن الاصل في المنافع الاباحۃ .
اس آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ منافع میں اصل اباحت ہے۔

یہی قول امام ابن عادل نے تفسیر اللباب میں اس آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔

كلوا واشربوا من رزق اللہ ولا تعثوا في الارض مفسدين
علامہ عثیمیں نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
ومنھا: أن ما خلق اللہ تعالى من الماكول، والمشروب للانسان فالاصل فيہ الاباحۃ، والحل؛ لأن الامر للاباحۃ؛ فما أخرج اللہ تعالى لنا من الارض، أو أنزل من السماء فالاصل فيہ الحل؛ فمن نازع في حل شيء منہ فعليہ الدليل؛
جو کچھ اللہ نے زمین سے نکالا یا آسمان سے نازل کیا اباحت ہے اور جو اس کی مخالفت کرے اس پر دلیل لانا واجب ہے۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَۃَ اللَّہ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ھيَ لِلَّذِينَ آَمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَوْمَ الْقِيَامَۃِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآَيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
اس آیت کے تحت قاضی بیضاوی اور امام ابو سعود اور کئی مفسرین نے یہی اصول اخذ کیا ہے۔
وفيہ دليل على أن الاصل في المطاعم والملابس وأنواع التجملات الاباحۃ لان الاستفھام في من للانكار

الاصل في الاشياء الاباحۃ إلا إذا أتى ما يدل على تحريم ذلك الشيء فقد قال تعالى في كتابہ الكريم: {وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ} [الانعام: 119]
اشیاء میں اصل اباحت ہے تا آں کہ ان کی ھرمت پر کوئی دلیل آجائے۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ ’’اور تحقیق ہم نے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جو آپ پر حرام ہے ‘‘۔

تو جب حرام بیان کر دیا گیا ہے تو باقی اشیاء میں اصل اباحت ہے جب تک کہ اس کی حرمت کی کوئی وجہ ہو، کوئی علت ہو۔ اور علت اور وجوہات کئی ہو سکتی ہے جیسے کہ ’’کسی چیز کا مضر ہونا‘‘ یا ’’خبائث میں سے ہونا‘‘

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاہے کہ
وعن أبي الدرداء أن رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم قال: "ما أحل اللہ في كتابہ فھو حلال، وما حرم فھو حرام، وما سكت عنہ فھو عفو" .
ابودرداء راوی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جو اپنی کتاب میں‌ حلال ارار دیا وہ ھلال ہے اور جو حرام قرار دیا وہ حرام ہے ۔ اور جس پر سکوت اختیار کیا وہ عفو ہے،یعنی معاف ہے۔

یہ تو مفسرین کی آراء ہیں جو میں نے پیش کر دیں
اگر انسان خود بھی ان آیات پر تفکر کرے تو یہی سمجھ میں‌آتا ہے۔ اور یہ اباحت اصلیۃ اگرچہ کا اصول تخلیق، کھانے پینے اور زینت کی آیات سے مستنبط کیا گیا ہے، لیکن قرآن کریم آفاقی کتاب ہے۔ اور اس کے اصول ہر جگہ قابل عمل ہیں اس لئے جہاں جہاں ان کی ضرورت پیش آجائے استعمال ہوگا۔


فاروق بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ، ایک تو تاخیر سے جواب دیا، اور پھر تفصیلات بھی نہیں لکھ سکا۔ در اصل ایک بار میں نے لکھا آخر میں پہنچا تو بجلی چلی گئی ۔
اب جلدی جلدی لکھ کر بھیج رہا ہوں۔ اب تک کے لئے اتنا ہی باقی باتیں بعد میں

Last edited by راجہ اکرام; 02-10-09 at 05:27 PM.
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (02-10-09), حیدر (03-10-09)
پرانا 02-10-09, 08:30 PM   #60
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,987
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام اکرام بھائ

بہت اچھا موضوع ھے اور بہت اچھا لکھا ھے آپ نے جو بھی اب تک لکھا ھے اس تحریر کا شمار بہترین مین کیا جا سکتا ھے اس پہ اب تک یہاں اتنی بحث ھو چکی ھے لگتا ھے میں نے جو کچھ کہنا تھا وہ بہت سے لوگوں نے کہہ دیا ھے
میری یہاں کسی سے بحث ھوئ تھی مذہب انسان کی سوچ کو محدود کر دیتا ھے
یورپ میں جب تک نام نہاد مذہب کا زور رھا جہالت کا دور دورہ رھا ان لوگوں کا خیال ھے مذہب انسان کو ظلم اور زیادتی کی تعلیم دیتا ھے اسی وجہ سے یہ لوگ جہاد سے بھی نفرت کرتے ھیں ان کے خیال میں اسلام تلوار کے زور پہ پھیلا ایک عورت کا کہنا تھا اسلام کے پیروکار صرف مذہبی تعلیم پہ زور دیتے ھیں اسی وجہ سے دنیا کی ڈور میں سب سے پیچھے ھیں بہت سے لوگ اسی لیے اب کسی مذہب کو نہیں مانتے ان لوگوں کو قائل کرنا بہت مشکل ھے
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
جواب

Tags
قدم, چین, مکمل, موت, مشعل, معاشرہ, ایمان, انسان, امیر, اسلام, توحید, تحریر, جواب, حال, دل, زندگی, سال, سائنس, ظالم, عقل, غریب, صفحہ, صحیح, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger