| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | Haya 786 (02-10-09), mama_shalla (30-04-11), پاکستانی لڑکی (30-09-09), ھارون اعظم (19-02-11), منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), wajee (29-09-09), ایس اے نقوی (02-10-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), سحر (08-11-09), عامرشہزاد (30-09-09), عادل سہیل (13-10-09) |
|
|
#46 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
صاحب علم و فضل ہر شعبہ زندگی سے درکار ہوتے ہیں، مذہبی معاملات میں اصحاب علم و فضل کی ضرورت اتنی ہی ہے جتنی کسی نہری نظام کے لئے ایک انجینئر کی۔ لیکن یہ کہنا کہ فرد واحد کی حکومت ہو تو اسلامی ہے یا موجودہ اسمبلیاں لال ، ہری ، نیلی مسجد سے اپنے قوانین کی توثیق کروائیں گے تو ہی اسلامی نظام بنے گا ، کسی طور اسلامی نہیں۔ یہ صرف اور صرف ایک ذاتی فائیدہ پہنچانے والی بات ہے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
|
#47 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیوں کہ یہ اصول مسلم ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ اصل اباحت ہے، جب تک حرمت کی دلیل موجود نہ ہو۔ تو اسی طرح کسی چیز کو غیر اسلامی قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے |
|
|
|
|
|
|
#48 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
2۔ اگر اصول کو مان بھی لیا جائے تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ کی حرمت کی دلیل لائیے۔ 3۔ بیعت شدہ خلفاء الراشدین کے سر پر کونسی ملائی سپریم کونسل تھی؟ 4۔ کنگ سپورٹنگ کلرجی یعنی ملائیت کی مدد سے بادشاہت ایک عیسائی و یہودی و ایرانی نظام رہا ہے جس نے اسلام کے شورائی نظام کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اس ملائی نظام کا اسلامی شورائی نظام سے کوئی مقابلہ نہیں۔ 5۔ اگر ملاؤں کی سپریم کونسل اتنی ہی ضروری ہے تو پھر لوگ ملاؤں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں لے آئیں۔ اسمبلی پر کونسل بٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (01-10-09) |
|
|
#49 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور موجودہ اسمبلی کے منتخب شدہ نمائندوں کو دینی معاملات میں اتنا مقام دینا کہ انہیں کسی کونسل سے رہنمائی کی ضرورت نہیں میری سمجھ سے بالا ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ آپ لال یا نیلی مسجد سے توثیق کروائیں۔ اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ حکومت خود ایک کمیٹی بنا سکتی ہے اسلامی نظریاتی کونسل جیسی لیکن اس کی طرح صرف مبصر نہیں بلکہ اس کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں۔ اگر ایسی کونسل کی حرمت پر کوئی دلیل ہو تو ہمارے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔ |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (01-10-09) |
|
|
#50 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سلام مسنون اچھے سوالات ہیں، لیکن ان کے جواب کے لئے وقت چاہییے۔ اس وقت میں مزدوری پر ہوں۔ انشاء اللہ جیسے ی وق میسر آیا کوشش ضرور کروں گا۔۔ البتہ صحیح ہونے کی گارنٹی میں نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ مجھے اپنی علمی کم مائیگی اور تہی دامانی کا پورا احساس ہے۔ |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (01-10-09) |
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ،بدر بھائی ؎اسلام کی حقیقی ترجمانی کی ہے آپ نے،،،
Last edited by احمدنواز; 01-10-09 at 10:30 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-10-09), حیدر (03-10-09) |
|
|
#52 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی نے ایک اچھا موضوع چھیڑا ہے ،،
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام اور سیکولرازم کے موازنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیکولرازم انسانیت کی روحانی موت ہے، جبکہ اسلام دائمی اور ابدی حیات کا نام ہے؎موت و حیات کو ایک دوسرے کے مماثل قرار دینا سمجھ سے بالا ہے؎
اللہ ہمیں راہ ہدایت پر ثابت قدمی عطا کرے امین؎ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام اور سیکولرازم کے موازنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیکولرازم انسانیت کی روحانی موت ہے، جبکہ اسلام دائمی اور ابدی حیات کا نام ہے؎موت و حیات کو ایک دوسرے کے مماثل قرار دینا سمجھ سے بالا ہے؎
اللہ ہمیں راہ ہدایت پر ثابت قدمی عطا کرے امین؎ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا | حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09) |
|
|
#55 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
احمد نواز بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام مسنون
اچھا لگا آپ یہاں تشریف لائے، یقینا آپ کی آراء سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا، اور آپ نے موازنہ کر کے جو نتیجہ نکالا ہے اسلام اور سیکولرزم کا مجھے بہت پسند آیا۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (03-10-09) |
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() |
برادرم راجہ صاحب اور بدر صاحب۔
اتنا اچھا موضوع شروع کرنے اور اس موضوع میں مناسب معلومات سے ساتھ دینے میں آپ کا بہت ہی شکریہ۔ میں اس بحث سے نہ تعلق رکھنے والی کچھ باتیں عرضکرنا چاہتا ہوں، کچھ ہماری ذاتی اور کچھ اس بحث کی تاریخپر روشنی ڈالنے والی۔ اس بحث کا کوئی بھی پہلو ہمارا آپ کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک طالب علم ہونے کے ناطے مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہے۔ آپ کسی بھی جگہ میری کسی بھی بات کو اپنی طرف نہ لیجئے اگر کہیں یہ شائبہ بھی ہوتا ہے کہ میں کسی قسم کا ذاتی حملہ کررہا ہوں تو براہ مہربانی اس کی طرف توجہ دلائیے، میں اس میں بخوشی ترمیم کروںگا۔ یہ ایک اچھا موضوع ہے، میں بالکل نہ چاہوں گا کہ یہ موضوع کسی طور بھی ذاتیات یا بدتمیزی کی نظر ہوجائے۔ اس موضوع پر پاکستان کی تخلیق سے پہلے سے بحث ہورہی ہے۔ اس میں دو طبقہ ہیں۔ ایک علی گڑھی قسم کا طبقہ جس نے تعلیم حاصل کرکے پاکستان کی داغ بیل ڈالنے میںایک بڑا کردار ادا کیا۔ دوسرا طبقہ ان ملاؤں پر مشتمل تھا جو کہ ہندوستان کا انتظامی نظام "اسلامی ، شرعی اور فقہی نظام " کہہ کر چلاتے تھے۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد سے اس ملائی طبقہ کو کسی قسم کی مراعات اور یا قابل قدر درجہ نہ مل سکا۔ اس کے کچھ پہلو یقیناً افسوس ناک ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ : 1۔ ملا کبھی نہیں چاہتے تھے کہ عوام الناس قرآن حکیم کا سمجھ کر مطالعہ کریں، ان کو زور صرف اس امر پر رہا کہ قرآن کی تعلیم ناظرہ سے آگے نہ پہنچے۔ 2۔ علی گڑھی کا سارا زور، ایک جدید تعلیمی نظام پر رہا ، اس لئے قرآن حکیم کی تعلیم صرف کچھ آیات یا سوراۃ کو یاد کرنے تک رہی۔ آپ کو پبلک اسکولوںمیں قرآن کی تعلیم کی کمی بآسانی مل جائے گی۔ ہونا یہ چاہئیے کہ قرآن کی تمام تعلیم جو کہ مدارس میںدی جاتی ہے اس کو موجودہ تعلیمی نطام میں ضم کردیا جائے تاکہ ہماری قوم اپنی کتاب کے اصولوں سے واقف ہوسکے۔ آپ اس کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مدرسہ میں اسکولوں والے تمام علوم بھی پڑھائے جائیں۔ قرآن بامعنی مکمل طور پر نصاب میں داخل کیا جائے۔ اس سلسلے میںماہرین کی کمی نہیں ہے۔ جس طرح 100 سال میں علی گڑھی کی جدید تعلیم نے پاکستان کو جنم دیا، اسی طرح قرآن کی بامعنی تعلیم کے اثر و نفوذ کے بعد ایک غیر اسلامی قومی سوچ کو فروغ پانے سے بہت سے کنفیوژن ختم ہو جائیں گے۔ واپس آپ کے موضوع کی طرف: اعلی ترین قانون ساز جماعت ، اسمبلی ، مجلس شوری ، کا کام ہے قانون سازی۔ ہم اس پر متفق ہیں کہ باہمی مشورہ سے قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔ یہ کام “ پاکستان کی مقننہ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سر انجام دیتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے۔ اس کے اوپر کسی کونسل کا تعین ایک غیر ضروری اور غیر منطقی عمل ہے۔ ہمارا مذہب باہمی مشورہ کی بنیاد پر ایک شورائی نظام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن اعلی ترین حاکم پر ایک اور اعلی ترین حاکم کسی بھی دور میں نہیں رہے۔ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی ہو تو اس قانون کو پاکستان کی عدالتوں میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ یہ عدلیہ بھی قرآن و سنت کے اصولوں کی پاکستان کے آئین کے تحت پابند ہے۔ سپریم کورٹ پر ایک مزید سپریم کورٹ بٹھانا دوبارا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں ایسا کوئی حکم نہیں دیتا۔ اسی طرح انتظامیہ قرآن و سنت کی روشنی میں کام کرنے کے لئے آئینی طور پر پابند ہے۔ اعلی ترین انتظامیہ پرا ایک اور انتظامیہ بٹھانا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ اگر ہمارے ہمسایہ ممالک کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشیت ، ایران کی معیشیت کی نسبت بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے ایران کی غیر منتخب سپریم کونسل جو کہ ہر صدر اور ہر منتخب نمائندے سے اوپر ہے اس امر سے خائف ہے کہ ان کے ملک میں اس جمہوریت نے رواج پالیا تو ان کے ذاتی فائیدہ ختم۔ میری جب بھی کسی سے بحث ہوئی ہے تو بات یا تو سعودی اسلامی نظام یعنی فرد واحد کی حکومت، اور عوام کی دولت پر ایک فرد یا ایک خاندان کے قبٍضہ کو اسلامی نظام قرار دینے کی کوششی کی گئی ہے ------ یا پھر ----- ایرانی طرز کے سپریم کونسل کے نظام کو اسلامی نظام قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فکر کو کہاں سے مالی امداد مل رہی ہے۔ ایک تیسری قوت بھی ہے وہ ہے امریکہ، جو کہ لیاقت علی خان کے دورے کے وقت سے پاکستان میں جمہوری نظام چاہتا ہے اور پاسکتان کی کھلم کھلا امداد کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ گروہ جو درپردہ امداد وصول کرتے ہیں وہ سعودی یا ایرانی اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں کونسا اسلامی نظام چلے گا، اس کا فیصلہ تو پاکستانی عوام ہی کریں گے ۔ ہمارا کام ہے کہ ان نظاموںکی شناخت کریں، اس بات کا تضزیہ کریں کے ان میں سے کونسا نظام قرآن سے ہم آہنگ ہے؟ پھر فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09) |
|
|
#57 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (01-10-09) |
|
|
#59 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,022
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اصل موضوع کی طرف جانے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری سمجھوں گا کہ شریعت کے مآخذ کے حوالے سے اہل اسلام ایک سے زائد آراء رکھتے ہیں۔ البتہ قرآن و سنت مطہرہ پر تقریبا سبھی متفق ہیں سوائے چند کے۔ ان چند میں سے بعض تو حدیث کے مطلقا انکاری ہیں اور بعض اگرچہ مطلقا انکار تو نہیں کرتے لیکن وہ مقام بھی نہیںدیتے جس کا حق ہے۔ بہر حال قرآن کریم پر سبھی متفق ہیں، اسی لئے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو پہلا مطالبہ قرآنی دلیل ہی کا کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم رہتی دنیا تک کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہے اور اگر بالغ نظری سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو ہر مسئلے کا حل یا رہنمائی ضرور مل جائے گی۔ اور مذہبی اور معاشرتی زندگی کے اہم اصول کا علم حاصل ہو گا۔ لیکن یہ سمجھنا کہ ہر اصول واضح الفاظ کے ساتھ قرآن میں ہر کسی کو مل جائے گا مناسب رویہ نہیں۔ کیوں کہ قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس لئے زبان کے اتار چڑھاؤ اور فصاحت و بلاغت کے اصول سے آگاہی، اور دیگر معاون علوم کا علم زیادہ گہرائی اور گیرائی سے قرآن کو سمنجھے اور مسائل کا استنباط کرنے میں مددگا ہو گا۔ اسی مقصد کے لئے اہل علم نے قرآن کریم سے احکام و مسائل مستنبط کرنے کے لئے کچھ طرق بتائے ہیں 1۔۔۔عبارۃ النص 2 ۔۔۔۔اشارۃ النص 3۔۔۔دلالۃ النص 4۔۔اقتضاء النص ان طرق کو مد نظر رکھ کر اگر مطالعہ کیا جائے خلوص اور للاہیت کے ساتھ تو انشاءا للہ یقینی رہنمائی ملے گی۔ جہاں تک تعلق ہے الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کا تو اس سلسلے میں مفسرین کی آراء ہمیں رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔ آراء مفسرین آیات کریمۃ جن سے استنباط کیا گیا (ھو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا) امام قرطبی اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس میں دس مسائل کا ذکر ہے ۔۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ استدل من قال إن أصل الاشياء التي ينتفع بھا الاباحۃ بھذه الآيۃ وما كان مثلھا - كقولہ " وسخر لكم ما في السموات وما في الارض جميعا منہ (2) " [ الجاثيۃ: 13 ] الآيۃ - حتى يقوم الدليل على الحظر. مفہوم: الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کے قائلین اس آیت سے استدلالا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ممانعت کی کوئی دلیل آجائے۔ خَلَقَ لَكُم مَّا فِى الارض جَمِيعاً امام رازی اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ والفقہاء رحمھم اللہ استدلوا بہ على أن الاصل في المنافع الاباحۃ . اس آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ منافع میں اصل اباحت ہے۔ یہی قول امام ابن عادل نے تفسیر اللباب میں اس آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔ كلوا واشربوا من رزق اللہ ولا تعثوا في الارض مفسدين علامہ عثیمیں نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ومنھا: أن ما خلق اللہ تعالى من الماكول، والمشروب للانسان فالاصل فيہ الاباحۃ، والحل؛ لأن الامر للاباحۃ؛ فما أخرج اللہ تعالى لنا من الارض، أو أنزل من السماء فالاصل فيہ الحل؛ فمن نازع في حل شيء منہ فعليہ الدليل؛ جو کچھ اللہ نے زمین سے نکالا یا آسمان سے نازل کیا اباحت ہے اور جو اس کی مخالفت کرے اس پر دلیل لانا واجب ہے۔ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَۃَ اللَّہ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ھيَ لِلَّذِينَ آَمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَوْمَ الْقِيَامَۃِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآَيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اس آیت کے تحت قاضی بیضاوی اور امام ابو سعود اور کئی مفسرین نے یہی اصول اخذ کیا ہے۔ وفيہ دليل على أن الاصل في المطاعم والملابس وأنواع التجملات الاباحۃ لان الاستفھام في من للانكار الاصل في الاشياء الاباحۃ إلا إذا أتى ما يدل على تحريم ذلك الشيء فقد قال تعالى في كتابہ الكريم: {وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ} [الانعام: 119] اشیاء میں اصل اباحت ہے تا آں کہ ان کی ھرمت پر کوئی دلیل آجائے۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ ’’اور تحقیق ہم نے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جو آپ پر حرام ہے ‘‘۔ تو جب حرام بیان کر دیا گیا ہے تو باقی اشیاء میں اصل اباحت ہے جب تک کہ اس کی حرمت کی کوئی وجہ ہو، کوئی علت ہو۔ اور علت اور وجوہات کئی ہو سکتی ہے جیسے کہ ’’کسی چیز کا مضر ہونا‘‘ یا ’’خبائث میں سے ہونا‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاہے کہ وعن أبي الدرداء أن رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم قال: "ما أحل اللہ في كتابہ فھو حلال، وما حرم فھو حرام، وما سكت عنہ فھو عفو" . ابودرداء راوی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جو اپنی کتاب میں حلال ارار دیا وہ ھلال ہے اور جو حرام قرار دیا وہ حرام ہے ۔ اور جس پر سکوت اختیار کیا وہ عفو ہے،یعنی معاف ہے۔ یہ تو مفسرین کی آراء ہیں جو میں نے پیش کر دیں اگر انسان خود بھی ان آیات پر تفکر کرے تو یہی سمجھ میںآتا ہے۔ اور یہ اباحت اصلیۃ اگرچہ کا اصول تخلیق، کھانے پینے اور زینت کی آیات سے مستنبط کیا گیا ہے، لیکن قرآن کریم آفاقی کتاب ہے۔ اور اس کے اصول ہر جگہ قابل عمل ہیں اس لئے جہاں جہاں ان کی ضرورت پیش آجائے استعمال ہوگا۔ فاروق بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ، ایک تو تاخیر سے جواب دیا، اور پھر تفصیلات بھی نہیں لکھ سکا۔ در اصل ایک بار میں نے لکھا آخر میں پہنچا تو بجلی چلی گئی ۔ اب جلدی جلدی لکھ کر بھیج رہا ہوں۔ اب تک کے لئے اتنا ہی باقی باتیں بعد میں Last edited by راجہ اکرام; 02-10-09 at 05:27 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-10-09), حیدر (03-10-09) |
|
|
#60 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,987
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام اکرام بھائ
بہت اچھا موضوع ھے اور بہت اچھا لکھا ھے آپ نے جو بھی اب تک لکھا ھے اس تحریر کا شمار بہترین مین کیا جا سکتا ھے اس پہ اب تک یہاں اتنی بحث ھو چکی ھے لگتا ھے میں نے جو کچھ کہنا تھا وہ بہت سے لوگوں نے کہہ دیا ھے میری یہاں کسی سے بحث ھوئ تھی مذہب انسان کی سوچ کو محدود کر دیتا ھے یورپ میں جب تک نام نہاد مذہب کا زور رھا جہالت کا دور دورہ رھا ان لوگوں کا خیال ھے مذہب انسان کو ظلم اور زیادتی کی تعلیم دیتا ھے اسی وجہ سے یہ لوگ جہاد سے بھی نفرت کرتے ھیں ان کے خیال میں اسلام تلوار کے زور پہ پھیلا ایک عورت کا کہنا تھا اسلام کے پیروکار صرف مذہبی تعلیم پہ زور دیتے ھیں اسی وجہ سے دنیا کی ڈور میں سب سے پیچھے ھیں بہت سے لوگ اسی لیے اب کسی مذہب کو نہیں مانتے ان لوگوں کو قائل کرنا بہت مشکل ھے |
|
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (03-10-09) |
![]() |
| Tags |
| قدم, چین, مکمل, موت, مشعل, معاشرہ, ایمان, انسان, امیر, اسلام, توحید, تحریر, جواب, حال, دل, زندگی, سال, سائنس, ظالم, عقل, غریب, صفحہ, صحیح, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 04:54 PM |
| مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل | جاویداسد | خبریں | 15 | 22-10-10 12:49 PM |
| عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک | جاویداسد | خبریں | 1 | 08-08-10 09:46 PM |
| آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ | Zullu230 | سیاست | 6 | 29-06-10 12:18 AM |
| جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:19 AM |