| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 11 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), shafresha (15-12-10), گلاب خان (02-10-11), نورالدین (30-08-10), ملک بھائی (09-10-09), منتظمین (22-12-09), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (24-01-10), حسنین ایوب (10-10-09), علی....Ali (10-10-09), غیاث (17-12-10) |
|
|
#46 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب
اقتباس:
فاروق صاحب کی اپنی ہی منطق ہے۔۔۔ پہلے نظریہ قائم کرتے ہیں پھر قران و حدیث کو اس پر منطبق کرتے ہیں۔۔۔۔ جو ہو جائے قابل قبول۔۔۔ جو نہ ہو۔۔۔۔ وہ قصے کہانیاں۔ روایات ردی کی ٹوکری۔۔۔ اور ان کا اپنا ناقص اور کم فہم ہیرے جواہرات ہیں۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (03-09-10), ابو عبداللہ (06-02-11) |
|
|
#47 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
|
#48 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
سب سے پہلے تو بھائی ۔۔ یہ قران کے مخالف روایات کی بات ہر دھاگے میں نا شروع کیجئے۔ اس کے لئے دوسرے دھاگے ہیں۔ اس کے باوجود آپ کے سوال کا مختصراً جواب: آپ جانتے ہیں کہ روایت کا مطلب ہے "کہی سنی" یعنی کہانی۔ اور حدیث نبوی کا مطلب ہے۔ رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوا یا ان کا کیا ہوا کوئی کام۔ قولی یا فعلی سنت۔۔۔ موافق القرآن سمجھا نہیں جاتا بھائی ۔ ہوتا ہے۔ بنیادی خیال یا نظریہ کا ثبوت آپ کو قران حکیم سے ملتا ہے۔ جیسے نماز قائم کیجئے۔ آپ کو قرآن سے فرمان الہی ملتا ہے۔ تکبیر دیجئے آپ کو قرآن حکیم سے فرمان الہی ملتا ہے۔ سبحان رب العلی اور سبحان رب الّظیم پڑھئے۔ آپ کو اس کا حکم قرآن حکیم یعنی اللہ تعالی کے فرمان سے ملتا ہے ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ قرآن سے فرمان الہی ثابت کرنے کے لئے ہم کو مزید کیا دلیل چاہئیے۔ اب اگر آپ کے پاس ایک ایسی روایت ہے جو فرمان الہی کے موافق ہے تو اس کے بعد آپ یہ دیکھیں گے کہ یہ روایت ، قولی یا فعلی سنت نبوی ہے یا نہیں ہے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے روایات کو پرکھنے کی پوری ٹکنالوجی موجود ہے۔ اس ٹکنالوجی سے آپ یہ طے کرتے ہی کہ کوئی "کہانی یعنی روایت" د ر حقیقت ۔ رسول اکرم کی کوئی قولی یا فعلی سنت ہے یا نہیں۔ اس چھوٹے سے جواب میں یہ ساری ٹکنالوجی یہاں لکھی نہیں جاسکتی۔ آپ یا تو پہلے ہی سے جانتے ہیں ورنہ پڑھ لیجئے۔ وہ روایات جو خلاف قران ہیں ۔ ان پر آپ روایات کو پرکھنے کی ٹکنالوجی نہیں استعمال کرتے۔ ایسی "کہانیوں" پر عرصہ 1200 سال سے بحث جاری ہے۔ خلفاء راشدین میں کسی نے بھی ان "کہانیوں" کو مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رہ گئی نماز تو، نماز کا متفقہ اور مکمل طریقہ کسی بھی روایات کی کتاب میں نہیں ہے۔ نہ ہی رکعتوںکی متفقہ تعداد اور نہ ہی نماز کے اعمال کی متفقہ ترتیب ۔ نماز صرف اور صرف رسول اکرم کی اس سنت جاریہ سے ادا جاتی ہے جو مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں جاری و ساری ہیں۔ جس کے احکامات قرآن حکیم سے ملتے ہیں۔ بھائی آپ کو کسی نے نماز عملاً سکھائی تھی یا آپ نے نماز کسی "کتاب روایات " سے سیکھی تھی؟ لگے ہاتھوں ۔۔۔ صحیح روایات کی کتب ۔۔۔ سے مکمل اور متفقہ طریقہ نماز بھی پیش کردیجئے تاکہ سب کے کام آئے۔ محض روایات اور سنت رسول کے فرق کے بارے میں آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ اپنا نکتہ نظر بیان کیجئے۔ سوالات نہیں کیجئے۔ اگر آپ کا بنیادی نکتہ نظر یہ ہے کہ "کتب روایات" کی سب روایات "سنت نبوی" ہیں۔ تو بھائی ہم سب کو بتائیے کہ آپ کے پاس کیا وجہ ہے کہ آپ ان کتب پر ایمان رکھتے ہیں۔؟ جو روایات خلاف قران ہیں ان روایات اور موضوعات پر 1200 سال سے بحث ہورہی ہے۔ اس میں سے بیشتر موضوع یہاںموجود ہیں۔ کچھ موضوعات پاک ڈاٹنیٹپر نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاک ڈاٹنیٹان موضوعات پر بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 03-09-10 at 06:37 PM. |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (03-09-10) |
|
|
#49 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حنفی چار رکعت سنت ظہر ، عصر اور عشا میں فرض سے پہلے پڑھتے ہیں جبکہ عام طور پر مالکی ، حمبلی اور شافعی اسے جانتے بھی نہیں ۔ اسی طرح حنفی ناف پر ہاتھ باندھتے ہیں جبکہ شافعی کے نزدیک یہ طریقہ سنت کے بالکل خلاف ہے اور اکثر مالکی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ اسی طرح مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت سنت کا حنفی میں بھی کوئی عام تصور نہیں ہے ۔ جبکہ عرب میں آپ کو یہ عام ملے گا۔ اگر کتابوں میں متفقہ کوئی فرق نہیں ہے تو عملی طور پر اتنا فرق کیوں ہے ۔ اگر فرق اتنا اہم نہیں ہے تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کیوں کھینچی جاتی ہیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا آپ پرائیوٹ میں لنک دے سکتے ہیں ؟ |
|
|
|
|
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قبلہ فاروق صاحب
ایک نا چیز سی گذارش بندہ نے بھی کی تھی۔اپنے مراسلہ نمبر 46 میں۔۔۔۔۔۔ توجہ دیجئے گا۔ |
|
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (04-09-10) |
|
|
#52 |
|
Senior Member
![]() |
شمشاد بھائی سلام،
یہ آپ کا خیال ہے کہ حضرت عیسی کی واپسی کے بارے میں بحثیں نہیں ہوئیں۔ بھائی اس پر مباہلے ہوئے ہیں اور لوگ اپنے بیوی بچے لے کر پہنچے ہیں کہ ای دوسرے کو بد دعائیں دے سکیں۔ یہ عقیدہ صرف عیسائیوں کا ہے کہ عیسی علیہ السلام واپس آئیں گے۔ ۔۔ قران حکیم کی واضح آیات آپ کو پیش کی جاچکی ہیں۔ آپ وہ آیات پیش فرما دیجئے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ واپسی کی خبر دیتی ہوں۔ کوئی تو بنیاد ہو ان عیسائی عقائید کی؟؟ والسلام |
|
|
|
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() |
فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
﴿003:052﴾ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿003:053﴾ اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿003:054﴾ اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ((مکر اور ماکِر کے معنیٰ: "مکر" کہتے ہیں لطیف و خفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو۔ اچھا ہے۔ اور برائی کے لئے ہو تو برا ہے اسی لئے وَ لَا یَحِیۡقُ الۡمَکۡرُ السَّیِّیُٔ (فاطر۔۴۳) میں مکر کے ساتھ سَّیِّیُٔ کی قید لگائی۔ اور یہاں خدا کو خَیْرُالْمٰکِرِیْنَ کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دئیے کہ یہ شخص معاذ اللہ ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے سب کو بد دین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ ادھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی۔)) اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور الله نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی اور الله بہترین خفیہ تدبیر کرنے والو ں میں سے ہے اور چلے (بنی اسرائیل عیسیٰ کے خلاف) چالیں اور چلا اپنی چال اللہ۔ اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ And (the unbelievers) plotted and planned, and Allah too planned, and the best of planners is Allah The unbelievers plotted and God planned, but God is a much better planner تفسیر ابن کثیر پھانسی کون چڑھا؟ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالٰی کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے رضی اللہ عنھم وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پس حضور علیہ السلام نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالٰی آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔ اور تفسیر عثمانی میں ھے حضرت عیسٰی علیہ السلام کا آسمان پر اٹھانا اور دوبارہ دنیا میں نزول: بادشاہ نے لوگوں کو مامور کیا کہ مسیح علیہ السلام کو پکڑیں صلیب (سولی) پر چڑھائیں اور ایسی عبرت ناک سزائیں دیں جسے دیکھ کر دوسرے لوگ ان کا اتباع کرنے سے رک جائیں۔ فبعثَ فِی طلبہ من یا خذہ وَ یَصلبہ وینکلُ بہ (ابن کثیر) خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کر دیں اور پیدائش و بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیمہ کی بےقدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا۔ اور تجھ کو پورے کا پورا صحیح و سالم لے جاؤں گا کہ ذرا بھی تیرا بال بیکا نہ کر سکیں۔ بجائے اس کے کہ وہ لے جائیں، خدا تجھ کو اپنی پناہ میں لے جائے گا۔ وہ صلیب پر چڑھانا چاہتے ہیں خدا تجھ کو آسمان پر چڑھائے گا۔ ان کا ارادہ ہے کہ رسوا کن اور عبرتناک سزائیں دے کر لوگوں کو تیرے اتباع سے روک دیں۔ لیکن خدا ان کے ناپاک ہاتھ تیرے تک نہ پہنچنے دے گا بلکہ اس گندے اور نجس مجمع کے درمیان سے تجھ کو بالکل پاک و صاف اٹھا لے گا۔ اور اس کے بجائے کہ تیری بےعزتی ہو اور لوگ ڈر کر تیرے اتباع سے رک جائیں، تیرا اتباع کرنے والوں اور نام لینے والوں کو قرب قیامت تک منکروں پر غالب و قاہر رکھے گا۔ جب تک تیرا انکار کرنے والے یہود اور اقرار کرنے والے مسلمان یا نصاریٰ دنیا میں رہیں گے ہمیشہ اقرار کرنے والے منکرین پر فائق و غالب رہیں گے۔ بعدہ ایک وقت آئے گا جب تجھ کو اور تیرے موافق و مخالف سب لوگوں کو میرے حکم کی طرف لوٹنا ہے۔ اس وقت میں تمہارے سب جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ کر دوں گا اور سب اختلافات ختم کر دئیے جائیں گے یہ فیصلہ کب ہو گا؟ اس کی جو تفصیل فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا الخ سے بیان کی گئ ہے وہ بتلاتی ہے کہ آخرت سے پیشتر دنیا ہی میں اس کا نمونہ شروع کر دیا جائے گا۔ یعنی اس وقت تمام کافر عذاب شدید کے نیچے ہوں گے کوئی طاقت ان کی مدد اور فریاد کو نہ پہنچ سکے گی۔ اس کے بالمقابل جو ایمان والے رہیں گے ان کو دنیا و آخرت میں پورا پورا اجر دیا جائے گا اور بےانصاف ظالموں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ امت مرحومہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جب یہود نے اپنی ناپاک تدبیریں پختہ کر لیں تو حق تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث کے موافق قیامت کے قریب جب دنیا کفرو ذلالت اور دجل و شیطنت سے بھر جائے گی۔ خدا تعالیٰ خاتم انبیاء بنی اسرائیل (حضرت میسح علیہ السلام) کو خاتم الانبیاء علیٰ لاطلاق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت وفادار جنرل کی حیثیت میں نازل کر کے دنیا کو دکھلا دے گا کہ انبیاء سابقین کو بارگاہ خاتم النبین کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ اور اس کے اتباع یہود کو چن چن کر ماریں گے کوئی یہودی جان نہ بچا سکے گا۔ شجر و حجر تک پکاریں گے کہ ہمارے پیچھے یہ یہودی کھڑا ہے قتل کرو ! حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے۔ نصاریٰ کے باطل عقائد و خیالات کی اصلاح کر کے تمام دنیا کو ایمان کے راستے پر ڈال دیں گے اس وقت تمام جھگڑوں کا فیصلہ ہو کر اور مذہبی اختلافات مٹ مٹا کر ایک خدا کا سچا دین (اسلام) رہ جائے گا اسی وقت کی نسبت فرمایا۔ وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہ قَبۡلَ مَوۡتِہ (نساء۔۱۵۹) جس کی پوری تقریر اور رفع مسیح علیہ السلام کی کیفیت سورہ "نساء" میں آئے گی۔ لفظ موت اور توفی کی تحقیق: بہرحال میرے نزدیک ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ الخ صرف آخرت سے متعلق نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ آگے تفصیل کے موقع پر فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ کا لفظ صاف شہادت دے رہا ہے۔ اور یہ اس کا قرینہ ہے کہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ کے معنی قرب قیامت کے ہیں چنانچہ احادیث صحیحہ میں مصرح ہے کہ قیامت سے پہلے ایک مبارک وقت ضرور آنے والا ہے جب سب اختلافات مٹ مٹا کر ایک دین باقی رہ جائے وللہ الحمد ا ولًا و آخرًا۔ چند امور اس آیت کے متعلق یاد رکھنے چاہئیں ۔ لفظ "توفیٰ" کے متعلق کلیات ابو البقاء میں ہیں التوفی الامانۃ و قبض الروح و علیہ استعامل العامۃ اولا ستیفاء وا خذالحق و عیلہ استعمال البلغاء "توفیٰ" کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا گویا ان کے نزدیک موت پر بھی "توفی" کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کر لی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو خدا تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اسے بطریق اولیٰ "توفیٰ" کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے "توفی" کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح مع البدن کو "توفیٰ" نہیں کہتے۔ نہ کوئی ایسا ضابطہ بتلایا ہے کہ جب "توفی" کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو تو بجز موت کے کوئی معنی نہیں ہو سکیں۔ ہاں چونکہ عمومًا قبض روح کا وقوع بدن سے جدا کر کے ہوتا ہے۔ اس لئے کثرت و عادت کے لحاظ سے اکثر موت کا لفظ اس کے ساتھ لکھ دیتے ہیں ورنہ لفظ کا لغوی مدلول قبض روح مع البدن کو شامل ہے۔ دیکھئے۔ اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۔ (زمر۔۴۲) میں "توفی نفس" (قبض روح) کی دو صورتیں بتلائیں موت اور نیند، اس تقسیم سے نیز "توفیٰ" کو "انفس" پر وارد کر کے اور "حین موتہا" کی قید لگا کر بتلادیا کہ "توفی" اور "موت" دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں ۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں پر "توفی" کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں۔ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ (انعام۔۶۰) اب جس طرح اس نے دو آئتوں میں نوم پر "توفی" کا اطلاق جائز رکھا حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر " آل عمران" اور "مائدہ" کی دو آیتوں میں "توفی" کا لفظ قبض روح مع البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کونسا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت یا نوم میں لفظ "توفی" کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عمومًا اس حقیقت سے نا آشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالیٰ کوئی چیز آدمی سے وصول کر لیتا ہے اسی لئے "توفی" کا استعمال موت اور نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا۔ قرآن کریم نے موت وغیرہ کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اول اس لفظ کا استعمال شروع کیا۔ تو اسی کو حق ہے کہ موت و نوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کرے بہرحال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک "توفی" سے موت مراد نہیں۔ اور ابن عباس سے بھی صحیح ترین روایت یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ۔ زندہ اٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں۔ بلکہ "تلخیص العبیر" میں حافظ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کہا ہے اور "اکمال اکمال المعلم" میں امام مالک سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح علیہ السلام نے دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کر دیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا میرے پھونک مارنے سے باذن اللہ پرند بن کر اوپر اڑا چلا جاتا ہے کیا وہ بشر جس پر خدا نے روح اللہ کا لفظ اطلاق کیا اور "روح القدس" کے نفخہ سے پیدا ہوا، یہ ممکن نہیں کہ خدا کے حکم سے اڑ کر آسمان تک چلا جائے۔ جس کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی اچھے اور مردے زندہ ہو جائیں اگر وہ اس موطن کون و فساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں کی طرح آسمان پر زندہ اور تندرست رہے تو کیا استبعاد ہے۔ قال قتادہ قطارمع الملائکۃ فھو معھم حول العرش و صار انسیًا ملکیًا سماویًا ارضیٍا (بغوی) اس موضوع پر مستقل رسالے اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں مگر میں اہل علم کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ فقید النظیر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری اطال اللہ بقائہ نے رسالہ "عقیدۃ الاسلام" میں جو علمی لعل و جواہر ودیعت کئے ہیں ان سے متمتع ہونے کی ہمت کریں میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئ۔والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (15-12-10), فاروق سرورخان (05-09-10), کنعان (04-09-10), ابو عبداللہ (06-02-11), عادل سہیل (05-09-10) |
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() |
یہ نماز کے احکام ، اللہ تعالی کے فرمان قرآن سے ریفرنسز کا دھاگہ ہے اس میں ان مراسلات کو غلط پوسٹ کیا جارہا ہے۔
سھج کا سہج سہج کر یہ نکات پوسٹ کرنے کا شکریہ، ان نکات سے آپ اندازہ کرسکتے ہیںکہ ابن کثیر کے زمانے میں بھی یہ بحث جاری تھی۔ یہ مفسر صاحب "متوفی" کے معانے پورا ہونے پر زور دے رہے ہیں۔ ذرا ان سے کوئی پوچھے کہ اگر عمر پوری ہوگئی تو پھر بھی ایک بندہ کیوں زند ہ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ قران حکیم ، حضرت عیسی کے متوفی ہونے کا دورانیہ ، قیامت تک طے کرتا ہے۔ لہذا یہ متوفی ہونا صرف موت ہوئی۔ Last edited by فاروق سرورخان; 05-09-10 at 01:30 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (05-09-10) |
|
|
#55 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساھج صاحب آپ نے مراسلہ 53 غلط تھریڈ میں کاپی پیسٹ کیا ہے۔ اس تھریڈ میں نماز کا بیان چل رہا ہے ۔ حضرت عیسٰی والا تھریڈ دوسرا ہے ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-09-10), کنعان (05-09-10) |
|
|
#56 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قبلہ فاروق صاحب
پھر بات مروڑ گئے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں آپ ان حرکتوں سے باز نہیں آتے۔۔۔۔۔۔ جناب میں نے آپ سے اپنے مراسلہ نمبر 46 میں ایک معمولی سی وضاحت طلب کی تھی۔۔۔ اور اپنے مراسلہ نمبر51 پر دوبارہ آپ کی توجہ اس مراسلہ کی جانب مبذول کرائی تھی۔۔۔۔۔ لیکن آنجناب ہے کہ آپنی بات مروڑنے والی عادت کے ہاتھوں مجبور لگتے ہیں۔۔۔۔ ایک بار پھر دہرا دوں آپ نے اپنے مراسلہ نمبر 45 میں ان احادیث کے بارے میں جو آپ کے زعم اور تحقیق کے مطابق خلاف قرآن ہیں اس لئے نا قابل اعتبار ہیں۔ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
میرا سوال صرف اتنا سا تھا کہ جس حیات عیسی اور نزول عیسی کے جس عقیدے کو آپ گذشتہ بارہ سو سال سے متنازعہ قرار دے رہے ہیں۔ جس عقیدے کو آپ خلاف قران قرار دے رہے ہیں۔ جس عقیدے کو آپ عیسائیوں کا عقیدہ قرار دے رہے ہیں۔۔۔۔ اس عقیدہ کی تردید میں گذشتہ بارہ سو سال میں سے صرف بارہ اشخاص کے نام پیش کیجئے۔۔۔۔ جنھوں نے حیات عیسی اور نزول عیسی کو آپ کی طرح خلاف قرآن عیسائیوں کا عقیدہ سمجھا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب من زبردستی حسن ظن قائم کیا ہے کہ اس بارآپ بات نہیں مرڑوڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یقین محکم سا ہے کہ ضرور مروڑیں گے۔۔۔۔ |
||||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (15-12-10), sahj (05-09-10), ھارون اعظم (05-09-10), ابو عبداللہ (06-02-11), عادل سہیل (05-09-10) |
|
|
#57 |
|
Senior Member
![]() |
سھج آپ کے سوال کا جواب پیش کرچکے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#58 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے تو اس کے جواب میں کہیں بھی یہ فہرست نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔ آپ کو آ رہی ہے تو کاپی پیسٹ ہی کر دیں۔۔۔۔۔تجربہ تو کافی ہے اس کا آپ کو۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#59 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی شمشاد احمد صاحب ، جزاک اللہ خیرا ، فاروق خان صاحب حسبء معمول اپنے """ خلاف قران """ فلسفے ہی دہرا سکتے ہیں ، اُنہیں شاید اپنے فلسفوں کی مشغولیت میں اپنی سابقہ مشغولیات یاد نہیں رہتی ہیں عیسی علیہ السلام کے بارے میں """ متوفی """ اور """ رافعک """ کے متعلق ان صاحب سے کافی بات ہو چکی ہے ، آپ مطالعہ فرمانا چاہیں تو """ یہاں """ دیکھیے ، اس نام نہاد قرانی طریقہ نماز والےتھریڈ میں بھی الحمد للہ خانصاحب کی قران فہمی کا پول کافی کھل چکا ہے ، حسب ء عادت خان صاحب ہمارے سوالات کا کوٕئی علمی جواب نہیں دے سکیں اور ان شاء اللہ نہ ہی کبھی دے سکتے ہیں ، ان سوالات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوٕئے ادھر ادھر کی فرماتے رہے ہیں اور ایسا ہی کرتے رہیں گے ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو رمضان کے بعد فاروق صاحب کے ساتھ پھر مزید کچھ گفتگو ہو گی ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-09-10), ابو عبداللہ (06-02-11) |
|
|
#60 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی شمشاد احمد صاحب ، جزاک اللہ خیرا ، فاروق خان صاحب حسبء معمول اپنے """ خلاف قران """ فلسفے ہی دہرا سکتے ہیں ، اُنہیں شاید اپنے فلسفوں کی مشغولیت میں اپنی سابقہ مشغولیات یاد نہیں رہتی ہیں عیسی علیہ السلام کے بارے میں """ متوفی """ اور """ رافعک """ کے متعلق ان صاحب سے کافی بات ہو چکی ہے ، آپ مطالعہ فرمانا چاہیں تو """ یہاں """ دیکھیے ، اس نام نہاد قرانی طریقہ نماز والےتھریڈ میں بھی الحمد للہ خانصاحب کی قران فہمی کا پول کافی کھل چکا ہے ، حسب ء عادت خان صاحب ہمارے سوالات کا کوٕئی علمی جواب نہیں دے سکیں اور ان شاء اللہ نہ ہی کبھی دے سکتے ہیں ، ان سوالات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوٕئے ادھر ادھر کی فرماتے رہے ہیں اور ایسا ہی کرتے رہیں گے ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو رمضان کے بعد فاروق صاحب کے ساتھ پھر مزید کچھ گفتگو ہو گی ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-09-10), ھارون اعظم (05-09-10) |
![]() |
| Tags |
| پاک, قرآن, قران, لوگ, نماز, مکمل, مسجد, مسجد نبوی, مشعل, ایمان, اللہ, اسلام, تعلیم, حکم, حدیث, خون, خلاف, دوست, روزہ, رات, راستہ, سفر, سودا, شناخت, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 8 | 08-08-10 03:46 PM |
| ورڈ پریس۔پی کے کےمتعلق ایک وضاحت درکار ہے؟ | چاچا کمال | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 3 | 24-01-09 12:48 PM |
| ایس۔ایس۔جی اور این۔ایس۔ایس۔جی پاکستانی کمانڈوز | عرفان حیدر | میرا پاکستان | 0 | 06-02-08 03:31 PM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |