واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دنیا میں اقطاب اور ابدال کے موجود ہونے کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  2 ووٹ 4.50 اوسط ظاہری انداز
پرانا 06-12-11, 12:17 AM  
دنیا میں اقطاب اور ابدال کے موجود ہونے کا بیان
شعبان نظامی شعبان نظامی آف لائن ہے 06-12-11, 12:17 AM
درجہ بندی: (2 votes - 4.50 average)

ایک بات کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں آج کل کے نام نہاد پیران کرام کا ہرگز ہرگز دفاع نہیں کر رہا ۔ میں خود ان سے سخت متنفر ہوں، میں جن اولیاء و صلحاء کے مقام و مرتبہ کا ذکر کروں‌ گا وہ، ایسے لوگ ہیں جو " والذین آمنوا اشد حبا للہ " (“اور وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ تعالی سے شدید محبت کرنے ہیں‘‘۔کے مصداق ہیں۔ جن کے شب و روز " الذین یذکرون اللہ قیاما و قعودا و علی جنوبھم" ”و ہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے پہلو بدلتے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔”کرتے ہوئے گزرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے " رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ"۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

سب سے پہلے اولیاء اللہ کی شان کے حوالے سے حدیث نقل کرتا ہوں:
حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے:
من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیئ احب الی مما افترضت علیہ، وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ، فاذا احببتہ: کنت سمعہ الذی یسمع بہ، وبصرہ الذی یبصربہ، ویدہ التی یبطش بھا، ورجلہ التی یمشی بھا، وان سالنی لاعطینہ، ولانستعاذنی لاعیذنہ، وما ترددت عن شیئ انا فاعلہ ترددی عن النفس المومن یکرہ الموت وانا اکرہ مساءتہ۔ او کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(بخاری، ابن حبان، بیہقی(
ترجمہ: جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو،اور میرا بندہ مسلسل میری نفلی عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کے کان کی سماعت بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ کا نور بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ کی گرفت بن جاتا ہو جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاءوں کی توانائی بن جاتا جس سے وہ چلتا ہےاگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور بر ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور بر ضرور پناہ دیتا ہوں ۔ میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی متردد نہیں ہوتا جیسے بندہءمومن کی جان لینے میں ہوتا ہوں ایسے میں کہ اسے موت پسند نہیں اور مجھے اس کی تکلیف پسند نہیں۔"

میرا خیال ہے کہ کافی سارے مسائل تو اس ایک حدیث مبارکہ نے ہی حل کر دیے ہوں گے۔
اب آگے میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں:

حضرت شریح بن عبید بیان کرتے ہیں‌کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ہاں اہل شام کا ذکر کیا گیا جبکہ وہ عراق میں مقیم تھے، تو اہل عراق نے کہا: اے امیر المومنین ان کو برا بھلا کہیے، تو آپ نے فرمایا: نہیں میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس آدمی ہوں گے۔ جب ان میں سے کوئی آدمی چل بسے گا تو اللہ تعالی ا س کی جگہ دوسرے آدمی لے آئے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے بادل برستے ہیں اور جن کے توسل سے دشمنوں پر فتح و نصرت طلب کی جاتی ہے اور اہل شام سے ان کے ذریعے عذاب کو ٹالا جاتا ہے۔
اور ایک اور روایت میں ہے: میری امت میں ہمیشہ چالیس آدمی ایسے ہوں گے جن کے دل قلب ابراہیمی کی طرح ہوں گے اور ان کے ذریعے اللہ تعالی عذاب کو ہٹائے گا اور انہیں ابدال کہا جائے گا۔
"اسے امام احمد بن حنبل نے المسند (1/122 میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر(10/23 میں روایت کیا ہے"

شعبان نظامی
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1937
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
compaq (06-12-11), iqbal jehangir (20-12-11), کنعان (06-12-11), گوہر (07-12-11), گلز (01-01-12), پاکستانی (30-12-11), قاسمی (13-12-11), نبیل خان (07-12-11), مفتی (07-12-11), ملک اظہر (06-12-11), ملک زوالفقار (08-12-11), محمدمبشرعلی (07-12-11), مرزا عامر (06-12-11), ابوسعد (10-12-11), احمد نذیر (06-12-11), سحر (06-12-11), طارق راحیل (30-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11)
پرانا 15-12-11, 02:51 PM   #46
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ایک سوال کا جواب تو رہ ہی گیا کہ اولیاء و صالحین اور ابدال کی پہچان کیا ہے؟
یہ مسئلہ بعد میں‌ڈسکس کیا جائے گا پہلے ان کے وجود کو تو لوگ تسلیم کر لیں‌پھر ان کی پہچان بھی بتاتے ہیں۔

ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ کیا ابدال صرف شام میں ہی موجود ہیں اور دنیا کے باقی لوگوں کو ان کی ضرورت نہیں تو اس کا جواب بھی درج بالا تھریڈ میں موجود ہے۔اس حدیث مبارکہ میں فرمایا کہ میری امت میں ابدال موجود ہوتے ہیں ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں چالیس آدمی (ابدال)ہمیشہ رہیں گے جن کے دل، قلب ابراھیمی کی مانند ہوں گے ان کے صدقے اللہ تعالی اہل زمین سے عذاب ٹالے گا، انہیں ابدال کہا جائے گا۔

Last edited by شعبان نظامی; 15-12-11 at 02:53 PM.
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (16-12-11), احمد نذیر (17-12-11)
پرانا 15-12-11, 02:58 PM   #47
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادر شعبان،
غالباً آپ میری پوسٹ 44 کا مطالعہ نہیں کر پائے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد آپ کی پوسٹ 45 دراصل آپ کی پرانی پوسٹ کی کاپی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ اپنی پرانی پوسٹ‌میں‌ ترمیم کرنا چاہتے ہوں‌اور کاپی کر بیٹھے ہوں۔ کوئی ناظم موجود ہوں تو میری اس پوسٹ سمیت پوسٹ 45 کو ڈیلیٹ‌کر دیا جائے کیونکہ پوسٹ 45 اور پوسٹ 43 کاپی ہیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-12-11, 12:41 PM   #48
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 9
کمائي: 330
شکریہ: 20
8 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، میں نے مکمل دھاگے کا الحمدللہ مطالعہ کر لیا ہے۔ چونکہ پہلی پوسٹ‌میں‌یہی حدیث‌بہت اہتمام کے ساتھ پیش کی گئی تھی۔ لہٰذا فی الوقت اسی پر توجہ کی ہے۔ پہلے اگر آپ درج ذیل پوائنٹس کے بارے میں‌صراحت فرما دیں‌تو بات چیت میں‌آسانی رہے گی:
1۔ کیا قطب و ابدال کا نظریہ آپ کے نزدیک عقیدے کا مسئلہ ہے یا بس فرعی، ضمنی اور غیر اہم سی چیز ہے؟
سلام علیک !
’’زیب داستاں‘‘ کے لیے اتنا طول ۔۔۔۔۔ چہ معنی دارد ؟
کسی بھی چیز ، شیء کے متعلق تین ہی بنیادی تصورات ہو سکتے ہیں :
1۔۔۔ واجب
2۔۔۔ ممکن
3۔۔۔ ممتنع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے اس بات سے انکار کی جرات کسی میں نہیں ۔۔۔۔۔

آپ عقیدے کو بلا وجہ لے بیٹھے !!!

بات ہو رہی ہے ’’ابدال ‘‘ ’’اقطاب‘‘ وغیرہ کی موجودگی یا غیر موجودگی کی ۔۔۔۔
آپ از راہِ کرم قرآن و حدیث سے ابدال اور اقطاب کے نہ ہونے کا قطعی ثبوت فراہم کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سر تسلیم خم کر دیں گے ۔۔۔۔۔

اگر نہیں تو پھر آپ کو قاعدہ نمبر 2 اختیار کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ یعنی : ’’ممکن الوجود‘‘
اس کا مطلب بھی سمجھاتا چلوں !
ممکن الوجود کا معنی ہے ۔۔۔ ایسا وجود جس کا ہونا ممکن ہے ۔۔۔ یعنی اس میں ہونے اور نہ ہونے کا احتمال برابر ہو ۔۔۔۔
وہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ۔۔۔۔۔

تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابدال اور اقطاب کے ممکن الوجود ہونے کے بعد ان احادیث پر نظر ڈالنے سے جو ہمارے سامنے موجود ہیں ۔۔۔۔

ہم میں سے ہر ایک یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ ! اس نام یا اس ٹائٹل سے کچھ لوگوں کا وجود ثابت ہو رہا ہے ۔۔۔۔

بھیا! لفظ ابدال اور ایسے لوگوں کاگروہ جن کو ابدال کہا جاتا ہے احادیث میں آپ کو کئی جگہ نظر آئے گا۔
تواتر سے امت کے صالحین ان کو مانتے اور ان کے بارے میں بیان کرتے رہے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
بات عقیدے کا مسئلہ ہونے یا نہ ہونے کی بعد میں آئے گی ۔۔۔ پہلے ان کے وجود کو تو تسلیم کر لیں ۔۔۔۔
چاہے کسی بھی صورت میں
باغی آف لائن ہے   Reply With Quote
باغی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-12-11, 12:44 PM   #49
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقطاب کیا ہوتا ہے؟؟
اور ابدال کیا ہوتا ہے؟؟؟
اس کی تعریف کرے گا کوئی؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-12-11, 12:53 PM   #50
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 9
کمائي: 330
شکریہ: 20
8 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اقطاب کیا ہوتا ہے؟؟
اور ابدال کیا ہوتا ہے؟؟؟
اس کی تعریف کرے گا کوئی؟؟
حضرت !
پہلے دھاگے کا مطالعہ تو کر لیں ۔۔ بات سمجھ آ جائے گی ۔۔

ایویں ہی پوسٹ داغ دی ہے ۔۔۔
باغی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-12-11, 01:28 PM   #51
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : باغی مراسلہ دیکھیں
آپ عقیدے کو بلا وجہ لے بیٹھے !!!

بات ہو رہی ہے ’’ابدال ‘‘ ’’اقطاب‘‘ وغیرہ کی موجودگی یا غیر موجودگی کی ۔۔۔۔
آپ از راہِ کرم قرآن و حدیث سے ابدال اور اقطاب کے نہ ہونے کا قطعی ثبوت فراہم کر دیں۔
محترم یہ عقیدے ہی کی بات بنتی ہے۔ کوئی آپ کے طرز استدلال پر یہ فرما دے کہ بات ہو رہی ہے فرشتوں‌کے وجود کی، موجودگی و غیر موجودگی کی، اس کا عقیدے سے کیا تعلق؟ یا اٹھ کر یہ فرمانا شروع کر دے کہ بات تو رسولوں کے وجود کی ہے، اس کا تو تاریخ‌سے تعلق ہے عقیدے سے کیا علاقہ؟
آپ کا استدلال بھی اسی نوعیت کا ہے۔

اگر تو اقطاب و ابدال بس کچھ تاریخی وجود ہوتے، کسی ملک کے بادشاہ و حکمران وغیرہ گزرے ہوتے، یا ویسے دور گزشتہ کے عام افراد ہوتے ، جیسے دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ تو آپ کی بات درست تھی، ان کا عقیدے سے کوئی تعلق نہ بنتا۔ لیکن جہاں‌آپ کو بتایا جا رہا ہو کہ ان کی وجہ سے بارش برستی ہے اور دشمنوں‌پر فتح پانے کے لئے ان کا توسل اختیار کیا جاتا ہے تو یہ تاریخی شخصیات عقائد کے علاقے میں‌داخل ہو جاتی ہیں۔ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات ہمارے عقائد میں‌ تب داخل ہو جاتی ہیں، جب قرآن ہمیں‌ان صحابہ جیسا ایمان لانے کو کہتا ہے۔ یا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کی اتباع کی ہدایت کرتے ہیں۔

لہٰذا اقطاب و ابدال کے بارے میں‌آپ ہی وضاحت فرما دیجئے کہ آیا یہ بس چند لوگ تھے، جو گزر گئے اور ان پر اپنا عقیدہ استوار کرنے کی، ان کا وسیلہ پکڑنے کی ضرورت نہیں، تو سرے سے بحث ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر آپ ہمیں‌سمجھانا چاہتے ہیں‌کہ ان پر اللہ نے نظام کائنات چلانے کا بوجھ ڈال رکھا ہے، بارش انہی کی وجہ سے برستی ہے اور دشمنوں پر غلبہ پانے کے لئے ان کا وسیلہ پکڑیں، تو پھر معاف کیجئے گا کہ آپ اس مسئلے کو عقیدے کا مسئلہ بتا رہے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : باغی مراسلہ دیکھیں
بھیا! لفظ ابدال اور ایسے لوگوں کاگروہ جن کو ابدال کہا جاتا ہے احادیث میں آپ کو کئی جگہ نظر آئے گا۔
تواتر سے امت کے صالحین ان کو مانتے اور ان کے بارے میں بیان کرتے رہے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
بات عقیدے کا مسئلہ ہونے یا نہ ہونے کی بعد میں آئے گی ۔۔۔ پہلے ان کے وجود کو تو تسلیم کر لیں ۔۔۔۔
چاہے کسی بھی صورت میں
ہم ان کا وجود ہی تب تسلیم کر سکتے ہیں‌جب یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے یا نہیں۔ اگر چند تاریخی شخصیات کے وجود کا اثبات مقصود ہے تو کسی گری پڑی تاریخی کتاب میں‌کوئی روایت مل جائے تو کام چل جائے گا، ہمیں کیا لینا دینا۔ اگر کوئی بات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات کے تعلق سے ہوگی، تو ہمیں‌ درست خبر سند کے ساتھ درکار ہوگی۔ اگر اقطاب و ابدال کے وجود کا اثبات کرنا ہے تو ہمیں‌ تو صحیح‌خبر واحد درکار ہے عقیدے کے اثبات کے لئے، لیکن آپ کو اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے بہرحال متواتر خبر درکار ہے۔

لہٰذا یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کیا ثابت کرنے جا رہے ہیں۔ عام خبروں‌کے لئے عام سا ثبوت کافی ہے۔ خاص‌اخبار کے لئے قوی دلائل درکار ہوتے ہیں، امید ہے کہ اس سے تو آپ کو انکار نہیں‌ہوگا۔

ویسے یہ سب بحث کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا کوئی ایک متواتر حدیث کیوں‌نہیں‌پیش کر دیتے کہ جس کی سند میں‌کوئی کمزوری اور علت نہ ہو، یا اتنی اخلاقی جرات پیدا کریں‌اور مان لیں‌کہ ایسی کسی متواتر حدیث‌کا وجود ہی نہیں ہے۔ تاکہ اسی پر بات آگے بڑھ سکے۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-12-11, 02:35 PM   #52
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باغی صاحب آپ شاید میرا مطلب نہیں سمجھے ۔میرا سوال کچھ اس طرح تھا کہ

اقطاب کون ہوتے ہیں ؟؟
اور ابدال کون ہوتے ہیں؟؟
ان کی تعریف کیا ہے ؟؟
سوالات کو واضح کر دیتا ہوں ۔ ان دونوں یعنی اقطاب اور ابدال میں کیا فرق ہے ؟؟
کیا یہ اولیا اللہ ہوتے ہیں یا پھر ان کا درجہ مختلف ہوتا ہے؟؟
یا پھر اولیا اللہ کو مختلف ناموں یعنی اقطاب اور ابدال کے نام سے پکارا جاتا ہے؟؟
باوجود اس کہ کہ حدیث کو احمد بن حنبل میں منکر قرار دیا ہے میں اقطاب اور ابدال کے وجود کا انکار نہیں کر رہا ہوں ۔
کیونکہ ہم نے ان میں سے کسی بھی دیکھا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے وجود کا انکار کر دیا جائے ۔
یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کا وجود ہو لیکن لوگ ان کے بارے میں باتیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہوں ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (17-12-11), شعبان نظامی (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 04:51 PM   #53
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
باغی صاحب آپ شاید میرا مطلب نہیں سمجھے ۔میرا سوال کچھ اس طرح تھا کہ

اقطاب کون ہوتے ہیں ؟؟
اور ابدال کون ہوتے ہیں؟؟
ان کی تعریف کیا ہے ؟؟
سوالات کو واضح کر دیتا ہوں ۔ ان دونوں یعنی اقطاب اور ابدال میں کیا فرق ہے ؟؟
کیا یہ اولیا اللہ ہوتے ہیں یا پھر ان کا درجہ مختلف ہوتا ہے؟؟
یا پھر اولیا اللہ کو مختلف ناموں یعنی اقطاب اور ابدال کے نام سے پکارا جاتا ہے؟؟
باوجود اس کہ کہ حدیث کو احمد بن حنبل میں منکر قرار دیا ہے میں اقطاب اور ابدال کے وجود کا انکار نہیں کر رہا ہوں ۔
کیونکہ ہم نے ان میں سے کسی بھی دیکھا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے وجود کا انکار کر دیا جائے ۔
یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کا وجود ہو لیکن لوگ ان کے بارے میں باتیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہوں ۔
محترم! مختصرا بتائوں تو قطب ابدال اولیاء اللہ ہی ہوتے ہیں۔ قطب و ابدال میں کیا فرق ہے اس معاملے کو ادھار رہنے دیں اور یہ عقیدہ والا مسئلہ حل ہو جائے پھر اس پر گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ

بہرحال بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے:

من عاد لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب
جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔
بخاری فی الصحیح، کتاب : الرقائق، باب، التواضع، ۔۲۳۸۴،۵
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 05:42 PM   #54
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
محترم! مختصرا بتائوں تو قطب ابدال اولیاء اللہ ہی ہوتے ہیں۔ قطب و ابدال میں کیا فرق ہے اس معاملے کو ادھار رہنے دیں اور یہ عقیدہ والا مسئلہ حل ہو جائے پھر اس پر گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ
شاید قطب اور ابدال میں فرق کا معاملہ ادھار ہی رہے گا کیونکہ عقیدے والا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-12-11), کنعان (18-12-11), شعبان نظامی (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 06:43 PM   #55
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قطب اور ابدال بقول نظامی صاحب کے
بارش لاتے ہیں اور عذاب ٹالتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-12-11), شعبان نظامی (18-12-11)
پرانا 17-12-11, 06:44 PM   #56
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
شاید قطب اور ابدال میں فرق کا معاملہ ادھار ہی رہے گا کیونکہ عقیدے والا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
ارے جناب!ہم بھی یہاں ہیں آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرق بھی واضح ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-12-11, 06:47 PM   #57
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
یہ عقیدہ والا مسئلہ حل ہو جائے پھر اس پر گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ
بہرحال بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے:

من عاد لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب
جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔
بخاری فی الصحیح، کتاب : الرقائق، باب، التواضع، ۔۲۳۸۴،۵
جی محترم، یہ عقیدے والا مسئلہ ضرور حل کیجئے۔ ہمارا دین ہمیں‌یہ سکھاتا ہے کہ ہم کسی بھی بات کو بلا دلیل نہ مانیں اور جب دلیل آ جائے تو پھر قیاس و گمان کی پیروی ترک کر کے دلیل کے آگے سرتسلیم خم کر دیں۔ اللہ تعالیٰ‌سے دعا ہے کہ اگر اقطاب و ابدال کے بارے میں آپ کا موقف حق پر ہے تو میرے سینے کو اسے قبول کرنے کے لئے کھول دیں اور اگر آپ حق پر نہیں‌، تو آپ کو اس سے برإءت کی توفیق عطا فرما دیں کہ مومن تو عدل سے کام لینے والا ہوتا ہے۔

آپ نے جو صحیح‌بخاری کی حدیث‌پیش کی ہے، اس کا محل سمجھ نہیں‌آیا۔ اگر تو آپ اولیاء اللہ کی موجودگی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں‌تو اس سے انکار ہی بھلا کس نے کیا ہے۔ لیکن آپ کا دعویٰ خاص ابدال و اقطاب کے بارے میں‌ہے، لہٰذا ازراہ کرم انہی کے بارے میں‌ دلیل عنایت فرما دیجئے۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 18-12-11, 07:02 AM   #58
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : باغی مراسلہ دیکھیں
کسی بھی چیز ، شیء کے متعلق تین ہی بنیادی تصورات ہو سکتے ہیں :
1۔۔۔ واجب
2۔۔۔ ممکن
3۔۔۔ ممتنع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے اس بات سے انکار کی جرات کسی میں نہیں ۔۔۔۔۔

تواتر سے امت کے صالحین ان کو مانتے اور ان کے بارے میں بیان کرتے رہے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
بات عقیدے کا مسئلہ ہونے یا نہ ہونے کی بعد میں آئے گی ۔۔۔ پہلے ان کے وجود کو تو تسلیم کر لیں ۔۔۔۔
چاہے کسی بھی صورت میں
لگتا ہے آپ باغی صاحب کی بات کا مفہوم نہیں سمجھ پائے؟

کیا آپ قطب و ابدال وغیرہ کے بارے میں‌تیسرے آپشن کی طرف جائیں گے یعنی ممتنع الوجود؟؟؟
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-12-11, 08:36 AM   #59
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
میرا خیال ہے آپ لوگ علم اصول حدیث سے واقف نہیں یا جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں!
میں نے جو حدیث درج کی وہ ضعیف تو ہو سکتی ہے مگر موضوع نہیں۔
کس روایت کو دو صحابہ کی گواہی کسی معتبر عدالت میں قبول ہوئی؟؟؟؟

قرآن کے دو عدد گواہوں‌کے اصول پر کونسی روایت پوری اترتی ہے؟ قران کے حکم گواہی کو --- کیوں علم اصول حدیث ---- سے منسوخ‌ کرتے ہیں ؟؟؟؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-12-11), شعبان نظامی (18-12-11)
پرانا 18-12-11, 10:45 AM   #60
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
لگتا ہے آپ باغی صاحب کی بات کا مفہوم نہیں سمجھ پائے؟

کیا آپ قطب و ابدال وغیرہ کے بارے میں‌تیسرے آپشن کی طرف جائیں گے یعنی ممتنع الوجود؟؟؟
بھائی میں‌تو سمجھا یا نہیں سمجھا۔ لیکن آپ ضرور سمجھ گئے ہیں کہ یہ معاملہ عقیدہ کا ہے۔ آپ ہی نے یہ دھاگا لگا یا ہے۔ اور آپ ہی سے مطلوب ہے کہ فی الحال میری سمجھ کو سائیڈ میں‌لگا کر صرف یہ وضاحت فرما دیجئے کہ آپ اس معاملے کو عقیدہ کا معاملہ سمجھتے ہیں یا فرعی،ضمنی، غیر اہم اور بس چند تاریخی شخصیات کے متعلق ایک خبریہ بات سمجھتے ہیں؟

محترم فاروق خاں صاحب، آپ سے گزارش ہے کہ پہلے آپ اپنے قرآنی نظریات کا دفاع کر لیں اور پھر روایات پر توجہ کیجئے گا۔ یہاں‌سے تو آپ باقاعدہ مفرور ہیں۔ اس دھاگے کا موضوع کچھ اور ہے۔ آپ کو اگر اعتراض ہے کہ کوئی روایت بھی قرآن کے گواہوں‌کے اصول پر پوری نہیں‌اترتی تو علیحدہ موضوع میں بات کیجئے، اور پھر بات کو پورا کر کے جائیے گا۔ جہاں‌کہیں‌کوئی اسلامی موضوع چل رہا ہو یا حدیث‌کا ذکر آ جائے وہیں‌آپ جناب اپنے شوشے لے کر حاضر ہو جاتے ہیں، اور جہاں‌‌خیر سے آپ کے نظریات کا تفصیلی جواب دیا جا رہا ہو، وہاں‌آپ ’دوسروں کو سوچنے کا ٹائم‘ دے کر خود پھر کہیں‌اور تشریف لے جاتے ہیں۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (18-12-11), شعبان نظامی (18-12-11), عبداللہ حیدر (23-12-11)
جواب

Tags
پہلے, وضاحت, لوگ, مگر, محبت, مسائل, آتی, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, حل, حدیث, خود, دنیا, شام, طلب, علی, عادی, عبید, عذاب, عراق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger