واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دنیا میں اقطاب اور ابدال کے موجود ہونے کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  2 ووٹ 4.50 اوسط ظاہری انداز
پرانا 06-12-11, 12:17 AM  
دنیا میں اقطاب اور ابدال کے موجود ہونے کا بیان
شعبان نظامی شعبان نظامی آف لائن ہے 06-12-11, 12:17 AM
درجہ بندی: (2 votes - 4.50 average)

ایک بات کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں آج کل کے نام نہاد پیران کرام کا ہرگز ہرگز دفاع نہیں کر رہا ۔ میں خود ان سے سخت متنفر ہوں، میں جن اولیاء و صلحاء کے مقام و مرتبہ کا ذکر کروں‌ گا وہ، ایسے لوگ ہیں جو " والذین آمنوا اشد حبا للہ " (“اور وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ تعالی سے شدید محبت کرنے ہیں‘‘۔کے مصداق ہیں۔ جن کے شب و روز " الذین یذکرون اللہ قیاما و قعودا و علی جنوبھم" ”و ہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے پہلو بدلتے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔”کرتے ہوئے گزرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے " رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ"۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

سب سے پہلے اولیاء اللہ کی شان کے حوالے سے حدیث نقل کرتا ہوں:
حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے:
من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیئ احب الی مما افترضت علیہ، وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ، فاذا احببتہ: کنت سمعہ الذی یسمع بہ، وبصرہ الذی یبصربہ، ویدہ التی یبطش بھا، ورجلہ التی یمشی بھا، وان سالنی لاعطینہ، ولانستعاذنی لاعیذنہ، وما ترددت عن شیئ انا فاعلہ ترددی عن النفس المومن یکرہ الموت وانا اکرہ مساءتہ۔ او کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(بخاری، ابن حبان، بیہقی(
ترجمہ: جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو،اور میرا بندہ مسلسل میری نفلی عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کے کان کی سماعت بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ کا نور بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ کی گرفت بن جاتا ہو جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاءوں کی توانائی بن جاتا جس سے وہ چلتا ہےاگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور بر ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور بر ضرور پناہ دیتا ہوں ۔ میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی متردد نہیں ہوتا جیسے بندہءمومن کی جان لینے میں ہوتا ہوں ایسے میں کہ اسے موت پسند نہیں اور مجھے اس کی تکلیف پسند نہیں۔"

میرا خیال ہے کہ کافی سارے مسائل تو اس ایک حدیث مبارکہ نے ہی حل کر دیے ہوں گے۔
اب آگے میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں:

حضرت شریح بن عبید بیان کرتے ہیں‌کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ہاں اہل شام کا ذکر کیا گیا جبکہ وہ عراق میں مقیم تھے، تو اہل عراق نے کہا: اے امیر المومنین ان کو برا بھلا کہیے، تو آپ نے فرمایا: نہیں میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس آدمی ہوں گے۔ جب ان میں سے کوئی آدمی چل بسے گا تو اللہ تعالی ا س کی جگہ دوسرے آدمی لے آئے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے بادل برستے ہیں اور جن کے توسل سے دشمنوں پر فتح و نصرت طلب کی جاتی ہے اور اہل شام سے ان کے ذریعے عذاب کو ٹالا جاتا ہے۔
اور ایک اور روایت میں ہے: میری امت میں ہمیشہ چالیس آدمی ایسے ہوں گے جن کے دل قلب ابراہیمی کی طرح ہوں گے اور ان کے ذریعے اللہ تعالی عذاب کو ہٹائے گا اور انہیں ابدال کہا جائے گا۔
"اسے امام احمد بن حنبل نے المسند (1/122 میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر(10/23 میں روایت کیا ہے"

شعبان نظامی
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1937
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
compaq (06-12-11), iqbal jehangir (20-12-11), کنعان (06-12-11), گوہر (07-12-11), گلز (01-01-12), پاکستانی (30-12-11), قاسمی (13-12-11), نبیل خان (07-12-11), مفتی (07-12-11), ملک اظہر (06-12-11), ملک زوالفقار (08-12-11), محمدمبشرعلی (07-12-11), مرزا عامر (06-12-11), ابوسعد (10-12-11), احمد نذیر (06-12-11), سحر (06-12-11), طارق راحیل (30-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11)
پرانا 01-01-12, 09:45 AM   #91
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
میں نے یہ کب انکار کیا ہے میں نے تو پہلی ہی پوسٹ میں نظامی صاحب کو مخاطب کرکے تحریر کردیا تھا کہ
بہت نازک جگہ کھڑے ہیں اگرچہ درست ہیں مگر زرا سی لرزش سے معاملہ خراب ہوجائے گا
اور میری حمایت شعبان نظامی کے لیے ہوتے ہوئے بھی نہی تھی ۔

۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
بس اندازہ یہی تھا کہ
قطب و ابدال و غوث جو کچھ بھی شعبان نظامی صاحب ڈھونڈ رہے ہیں وہ سن 61 ہجری میں صاف طور پر دنیا نے دیکھ لیے اس لیے کہہ دیا کہ ان ہستیوں کو امام حسین ع اور ان کے جانثاروں سے ہٹ کر مت سوچئے گا۔
اگر اس سے ہٹ کر سوچیں گئے تو خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی لے ڈوبیں گئے
۔
اس سوال کا جواب میں اسی تھریڈ میں پہلے بھی دیا تھا شاید آپ نے اس پر غور نہیں کیا!!!
میں نے اہل بیت اطہار کے مقام و مرتبہ کا کب انکار کیا اگر آپ کو اس تھریڈ میں ایسا کچھ نظر آتا ہے تو ضرور اشارہ فرمائیے گا!

آپ جس طرف جا رہے ہیں میں آپ کی بات کو سمجھ رہا ہوں لیکن میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہ رہا کیونکہ میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں۔

لہذا اس تھریڈ میں آپ یہ والی بحث نہ چھیڑیں یہاں کچھ اور ہی قسم کے لوگ موجود ہیں ان سے بات کر لینے دیں پھر آپ کے تھریڈ میں آپ کے سوالوں کا جواب دوں گا۔
شکریہ
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
پہلے, وضاحت, لوگ, مگر, محبت, مسائل, آتی, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, حل, حدیث, خود, دنیا, شام, طلب, علی, عادی, عبید, عذاب, عراق


Currently Active Users Viewing This Thread: 3 (0 members and 3 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger