South Asian News Agency (SANA) ⋅ September 11, 2011 ⋅
ہارون الرشید
آئیے ، ایک بار پھر ابرہام لنکن کے الفاظ دہرائیں ، ہرزمانے میں جو روشن رہیں گے: سب لوگوں کو کچھ دن کے لیے احمق بنایا جا سکتا ہے اور کچھ کو ہمیشہ کے لیے لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ اگر الطاف حسین سچے ہیں تو اللہ انہیں خیر و برکت دے ۔ اگر نہیں تو نتیجہ وہ خود دیکھ لیں گے ۔
اے این پی کے لیے امریکہ کی مالی سرپرستی کوئی انکشاف نہیں ۔ بعض اس سے پہلے بھی دعویٰ کرچکے ۔جنابِ الطاف حسین کو یہ خیال ساڑھے تین برس کے بعد کیوں آیا۔ 2008ء کے منصوبے کا مقصد ہی مرکز او رچاروں صوبوں میں امریکہ نواز جماعتوں کو اقتدار میں لانا تھا۔ اگرچہ منصوبہ ساز ادراک نہ کر پائے۔ قرآن کریم کی آیت یاد آتی ہے : وہ چال چلتے ہیں اور اللہ بھی چال چلتا ہے اورو ہی بہترین تدبیر ساز ہے ۔
آغازِ کار فروری 2007ء سے قبل ہوا جب دبئی کے شیخا فاطمہ محل میں مشرف بے نظیر ملاقات ہوئی ۔ جب برطانوی وزارتِ خارجہ نے امریکی آشیرباد کے ساتھ محترمہ کے ساتھ بات کی ۔ اس سے پہلے کہ نتیجہ نکلتا، پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا اور وہ تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ، جس میں مشرف مسترد ہوئے ۔ محترمہ نے عوامی موڈ کی خاطر چیف جسٹس کی بحالی کا مطالبہ کیا اور قتل کر دی گئیں۔ نواز شریف کو جدہ میں مقید رکھنے کاارادہ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ سعودی عرب کے طاقتور قبائلی سردار گھروں سے نکلے ۔ شاہ عبد اللہ سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کو وطن واپس بھیجا جائے ۔ ان کے لیے وہ جنرل محمد ضیا ء الحق کے وارث تھے ، جو سعودی عرب کے با رسوخ طبقات میں محترم تھے۔ ثانیاً پاکستان کے آزاد صحافیوں نے اسی نکتے پر اصرار کیا۔ ثالثاً سپریم کورٹ سے حکم صادر ہو جانے کے باوجود نواز شریف اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے اغوا کرکے جدہ لے جائے گئے تو ایسا شدید عوامی احتجاج ہوا کہ سعودی حیرت زدہ رہ گئے ۔سعودی سفارت خانے پر ایسا دباؤ تھا کہ نصف صدی کی سرمایہ کاری انہیں ضائع ہوتی نظر آئی۔ سعودی سفیر نے چنانچہ ریاض کو ایک خط میں لکھا کہ خدانخواستہ اگر آج انہیں اغوا کر لیا جائے تو پاکستان میں ان کے لیے فریاد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ شاہ عبد اللہ نے اب پرویز مشرف کو بتایا کہ ن لیگ کو انہیں الیکشن میں شریک کرنا ہو گا ۔ نواز شریف کا احترام ملحوظ رکھنا ہوگا؛البتہ اس معاہدے کے احترام میں، جس کے تحت میاں صاحب نے جلا وطنی اختیار کی تھی ، انہوں نے قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینے سے اب تک گریز کیا ہے ۔
امریکی حکومت صورتِ حال کا ادراک کر سکی ۔ میرا خیال ہے ، اس لیے کہ عالمی طاقتیں سیاست دانوں کی بجائے سفارتی افسروں پر بھروسہ کرتی ہیں ۔ قاف لیگ اس مغالطے کا شکار تھی کہ غیر معمولی ترقیاتی کاموں کے علاوہ میڈیا کو ہموار کر کے ، سازگار ماحول اس نے مہیا کر لیاہے ۔ اے این پی اور ایم کیو ایم نسبتاً چھوٹے کھلاڑی تھے اور حصہ رسدی ملنے کی امید پر آسودہ۔
نواز شریف کھیل کو سمجھ گئے لیکن امریکہ اور عربوں کے دباؤ میں وہ کمزور تھے۔ پارٹی کو مٹھی میں بند رکھنے کی آرزو میں اس کی تنظیم پر آنجناب نے توجہ نہ دی تھی ۔ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت وہ نہ رکھتے تھے ۔ اس کے باوجود دو بار انہوں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ دوسری جماعتوں کے علاوہ جماعتِ اسلامی ، تحریکِ انصاف اور محمو داچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت کئی جماعتیں ان کی ہم نوا تھیں۔ دوسری بار بائیکاٹ میں نواز شریف نسبتاً پرعزم نظر آئے ۔ ان کے ایما پر چوہدری نثار نے عمران خان سے یہ کہا: اگر فیصلہ واپس لیا گیا تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے ۔ نواز شریف اپنے پیمان پر مگر قائم نہ رہ سکے۔ امریکی اپنے منصوبے پر عمل کرنے میں اتنے سنجیدہ تھے کہ رچرڈ باؤچر، نیگرو پانٹے اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کے علاوہ براہِ راست برطانوی وزیر اعظم نے نواز شریف سے بات کی ۔یہی نہیں بلکہ ترکی کے وزیر اعظم عبد اللہ گل سے درخواست کی گئی کہ وہ پاکستان جائیں اور بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کوالیکشن میں شرکت پر آمادہ کریں۔جماعتِ اسلامی ، تحریکِ انصاف، پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے ان کا احترام ملحوظ رکھا مگر بات ماننے سے انکار کر دیا۔
حادثہ یہ ہوا کہ امریکی منصوبے پر انحصار کرتے ہوئے پرویز مشرف نے فوج کی قیادت جنرل کیانی کو سونپ دی ۔ کیانی نے حکم دیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہونے نہ دی جائے ۔ اس ایک فیصلے کے ساتھ کھیل امریکہ اور مشرف کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ بے نظیر کی المناک موت اور ان کی وصیت نے ایسا ماحول پیدا کیا ، جس میں قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ممکن نہ رہا ۔ زرداری کو نون لیگ سے مصالحت کرنا پڑی۔
الطاف حسین نے ذوالفقار مرزا کا نام لینے اور ان کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ حقیقت مگر یہی ہے کہ مرزا صاحب کے بیانات سے پیدا صورتِ حال ہی کو سنبھالنے کی وہ کوشش کر رہے تھے ، جس میں ان کے نائبین ناکام رہے ۔ مرزا صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد کئی دن مکمل خاموشی ایک عظیم غلطی تھی۔ اس صورتِ حال میں میڈیا نے ،جس کے ایک بڑے حصے کو ایم کیو ایم سے دباؤ کی شکایت رہی ، ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا ۔ نہایت ہی ہنر مند لیڈر الطاف حسین نے اب چونکا دینے والی ایک پریس کانفرنس کے ساتھ معاملے کو مخالفین پر الٹ دینے کی کوشش کی ہے ۔ بہت سے غیر متعلق معاملات میں نہایت ہی سنگین اور متنازعہ قسم کی باتیں کہیں تاکہ توجہ کراچی سے ہٹ جائے ، جہاں پوری قوم قیامِ امن کے لیے چیخ رہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے ازخو د نوٹس لے رکھا ہے ۔ جنرل کیانی کے اصرار پر اختیارات حاصل کر لینے کے بعد رینجرز تمام مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور کور کمانڈروں کے یکے بعد دیگرے دو اجلاس منعقد ہوئے ۔ فوج ، عدلیہ ، فعال طبقات اوررائے عامہ کو احساس ہے کہ کراچی میں بدامنی پر قابو نہ پایا گیا تو کراچی ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ ملک کی معیشت ڈوبنے لگے گی ۔
جنابِ الطاف حسین نے کہا : قائد اعظم سیکولر ، لبرل اور ترقی پسند تھے ۔ قائد اعظم نے لیکن عمر بھر کبھی خود کو سیکولر کہا، لبرل اورنہ ترقی پسند ۔انہوں نے کہا، قائد اعظم نے کبھی یہ نعرہ نہ لگایا تھا : پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ۔ جی ہاں ، واقعی نہ لگایا تھا۔ قائد اعظم نے تو کبھی کوئی نعرہ لگایا ہی نہیں ، عام لوگ لگاتے تھے ۔ 12 مئی کے خونی واقعات کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ قتل کے مرتکب حقیقی گروپ والے تھے ۔جماعتِ اسلامی ان کی مالی سرپرست اور منصوبہ ساز تھی۔جماعتِ اسلامی اور حقیقی کو کبھی رتی برابر رعایت نہ دینے والے کو یہ خیال طویل عرصے کے بعد کیوں آیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ : امریکہ اوربرطانیہ پاکستان کوتوڑنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ اس سازش کے شواہد پیش کرنے کی بجائے انہوں نے محض مختلف مغربی اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کا ذکر کیا۔معاف کیجیئے ، یہ تو کوئی شہادت نہیں ۔ یہ تو پاکستان دشمنوں کے منصوبے ہیں، جو اول روز سے ہم سنتے آئے ہیں۔ ظاہرہے کہ کم از کم اسرائیل اور بھارت تو ضرور پاکستان توڑنا چاہتے ہیں۔ اکھنڈ بھارت ہندو رہنماؤں کا خواب ہے ۔ اسرائیل اس لیے کہ عالمِ عرب میں کوئی طاقتور فوج نہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور مسلح افواج سے صیہونیوں کو اندیشہ رہتا ہے یا پھر ترکی سے ۔ ترک افواج کو یورپ اور امریکہ کی مدد سے اس نے معاہدوں میں باندھے رکھا لیکن یہ بندھن اب ٹوٹ رہا ہے ۔
پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر دوبار اس نے حملہ کرنے کی کوشش کی اور ہر بار اسے بتادیا گیا کہ نتیجہ تباہ کن ہوگا۔ایم کیو ایم کے قائد نے اپنے مخالفین کو منافق کہا ۔ اب اس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ پاکستانی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کو انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی خدمات پیش کیں مگر کس لیے ؟ امریکہ اوربرطانیہ کی مبینہ سازش کا سامنا کرنے کے لیے ملک کو امن و امان اور معیشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ؛چنانچہ کراچی میں امن قائم کرنا ہوگا۔ امن کے لیے تمام مسلح گروہوں کا خاتمہ درکار ہے اور بے شک اس میں لیاری گینگ سمیت ،ایم کیو ایم کے مخالفین بھی شامل ہیں ۔
الطاف حسین کا سب سے زیادہ زور میڈیا کی مذمت پر رہا۔ اس کے باوجود کہ ٹی وی اور اخبارات میں ہمیشہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی نہ صرف پوری آزادی انہیں حاصل رہی بلکہ بیشتر مبصرین کی رائے میں اپنے حق سے کہیں زیادہ ۔ دو مثالیں بالکل واضح ہیں۔ پچھلے برس ایم کیو ایم نے لاہورمیں ایک جلسہ عام منعقد کیا ۔ سامعین کی تعداد دس بارہ ہزار ہوگی ۔ تین دن تک یہ جلسہ ٹی وی اور اخبارات پر چھایا رہا ۔ بعد میں عمران خان نے کم از کم چار ایسے جلسے کیے ، جن میں سے کراچی اور فیصل آباد کے اجتماع بہت غیر معمولی تھے ۔ نہ صرف یہ کہ کسی چینل نے کوئی پروگرام نہ کیا بلکہ کسی نیوز بلیٹن میں وہ سب سے بڑی خبربھی نہ بن سکے۔ جنابِ الطاف حسین کی پریس کانفرنس اور بھی زیادہ بڑی مثال ہے ۔ پاکستان کیا ، دنیا کے کسی بھی ملک میں ، کسی بھی واقعے ، کسی بھی بڑے سے بڑے لیڈر کی پریس کانفرنس پر ملک کے تمام نیوز چینل دو گھنٹے پہلے سے اپنی معمول کی نشریات نہ روکتے ۔ ٹیلی ویژن کی پوری تاریخ میں شاید ہی کوئی پریس کانفرنس مسلسل تین گھنٹے نشر ہوئی ہوگی۔ جنابِ الطاف حسین نے بعض اخبار نویسوں کو بے غیرت تک کہا ۔ ایک آخری سوال : ان کے اس اعلان سے کیا مرا دہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو وہ آزادی عطا کر سکتے ہیں۔ مخالفین کہتے ہیں کہ انہوں نے فوج اور سپریم کورٹ کو دھمکی دی ۔ کیا وہ وضاحت فرمائیں گے کہ یہ بہت ہی سنگین الزام ہے ۔آئیے ، ایک بار پھر ابرہام لنکن کے وہ الفاظ دہرائیں ، ہرزمانے میں جو روشن رہیں گے: سب لوگوں کو کچھ دیر کے لیے احمق بنایا جا سکتا ہے اور کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ اگر الطاف حسین سچے ہیں تو اللہ انہیں خیر و برکت دے اور اگر نہیں تو نتیجہ وہ دیکھ لیں گے ۔
Courtesy Jang
SANA (South Asian News Agancy) | آئیے، ابرہام لنکن کے وہ دمکتے الفاظ پھر دہرائیں.