واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


آئیے! سوئے کربلا چلیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 05-12-11, 01:26 PM   #1
آئیے! سوئے کربلا چلیں
شعبان نظامی شعبان نظامی آف لائن ہے 05-12-11, 01:26 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

میدان کربلا میں پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ کریں:
قافلہ حسین رضی اللہ عنہ سر زمین کربلا میں
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نینوا کے میدان میں بتاریخ 2 محرم الحرام 61ھ بروز جمعرات اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال سمیت خیمہ زن ہو گئے۔۔حُر نے بھی آپ کے مقابلے میں خیمے نصب کر دیئے۔ حُر کے دل میں اگرچہ اہل بیت نبوت کی عظمت تھی اور یہاں تک کہ اس نے اپنی نمازیں بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی ادا کیں تھیں مگر ابن زیاد کے حکم سے مجبور تھا۔ وہ ابن زیاد کے ظالم و سفاک مزاج سے واقف تھا اور اسے علم تھا کہ اس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نرمی روا رکھی یا ابن زیاد کی حکم عدولی کی کوشش کی تو یہ بات ایک ہزار کے لشکر کے سامنے چھپی نہ رہے گی۔ جب ابن زیاد کو اس کا علم ہو گا تو وہ ہرگز معاف نہیں کرے گا اور سخت سزا دے گا۔ اس خوف کی وجہ سے حُر ابن زیاد کے حکم پر برابر عمل کرتا رہا۔
جس مقام پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال کے ہمراہ خیمہ زن ہوئے اس دشت و بیابان کی اداس اور مغموم فضا کو دیکھ کر آپ نے پوچھا اس مقام کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس جگہ کو "کربلا" کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:"بس یہیں خیمے لگا لو، یہی ہمارے سفر کی آخری منزل ہے۔"
کربلا پہنچتے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فرامین یاد آ رہے تھے جو آپ نے فرمائے تھے۔ بچپن کے زمانے کی یادیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی بشارتیں آپ کی آنکھوں کے سامنے آ گئیں۔آپ کو بچپن کا وہ لمحہ یاد آ گیا جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ ان کے گھر میں اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھیل رہے تھے کہ جبرائیل امین نازل ہوئے اور کہا " اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک آپ کی امت میں ایک جماعت آپ کے اس بیٹے حسین کو آپ کے بعد قتل کر دے گی" اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی جائے شہادت کی تھوڑی سی مٹی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مٹی کو سونگھا اور فرمایا کہ " اس میں رنج و بلا کی بو آتی ہے۔" اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے لگا لیا اور رو دیئے۔ پھر آپ نے فرمایا:
"اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا یہ بیٹا قتل ہو گیا ہے۔"
(الخصائص لکبریٰ،سر الشہادتین)
یہی وہ میدان تھا جس کی نسبت حضرت امام عالی مقام رحمۃ اللہ علیہ کے والد حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
"یہ ان (حسین رضی اللہ عنہ اور اس کے قافلے) کے انٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ ان کے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ان کے خون کا مقام ہے۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گروہ اس میدان میں شہید ہو گا جس پر زمین و آسمان روئیں گے۔"
(الخصائص لکبریٰ ،سر الشہادتین)
چونکہ میدان کربلا اور حضرت امام عالی مقام کی شہادت کے بارے میں بشارتیں پہلے سے دی جا چکی تھیں اس لیے امام عالی مقام نے اس میدان کو اپنے سفر کا منتہی سمجھ کر خیمے لگا دیئے۔

Last edited by شعبان نظامی; 05-12-11 at 01:29 PM..

شعبان نظامی
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 150
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-12-11), ملک اظہر (05-12-11), مرزا عامر (05-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 02:28 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت امام حسینؓ کا اپنے رفقاء سے خطاب :
دس محرم کی رات حضرت امام حسین ؓ نے اپنے تمام رفقاء کو جمع کیا ۔اور ان سے خطاب فرمایا:
اللہ تعالی کی حمد و ثناء اور اس کے رسول مکرم ﷺ پر درود و سلام کے بعد آپ نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں اپنے اصحاب سے فرمایا کہ میں کسی کے ساتھیوں کو اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر نہیں سمجھتا اور نہ کسی کے اہل بیت کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا دیکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تم سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارا کل کا دن دشمنوں سے مقابلہ کا دن ہو گا۔ میں تم سب کو خوشی کے ساتھ اجازت دیتا ہوں کہ رات کی اس تاریکی میں چلے جائو میری طرف سے کوئی ملامت نہ ہو گی۔ایک ایک اونٹ لے لو اور تمہارا ایک ایک آدمی میرے اہل بیت میں سے ایک ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے لے۔ اللہ تعالیٰ تم سب کو جزائے خیر دے، پھر تم اپنے اپنے شہروں اور دیہاتوں میں منتشر ہو جائو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ مصیبت ٹال دے۔ بے شک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں۔ جب مجھے قتل کریں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہ ہو گی۔
آپ کے بھائیوں ، بیٹوں اور بھتیجوں نے عرض کیا :آپ کے بعد ہماری زندگی بے کار ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں ایسا برا دن ہمیں نہ دکھائے کہ آپ موجود نہ ہوں اور ہم ہوں۔
آپ نے بنی عقیل سے فرمایا: اے اولاد عقیل ! تمہارے لیے تمہارے بھائی مسلم کا خون ہی کافی ہے ۔ تم واپس چلے جائو میں تمہیں اس اجازت دیتا ہوں ۔ باحمیت اور غیرت مند بھائوں نے کہا: لوگ کیا کہیں گے کہ ہم نے عشرت دنیا کی خاطر اپنے شیخ ، سردار اور اپنے بہترین ابن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ نہ تیر پھینکا، نہ نیزہ مارا اور نہ تلوار چلائی فقط اس دنیا کی زندگی کے لیے! ہرگز نہیں!! خدا کی قسم ہم ایسا نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنی جانوں ، مالوں اور اپنے اہل و عیال کو آپ پر قربان کر دیں گے، آپ ک ہمراہی میں جنگ کریں گے، جو انجام آپ کا ہو گا وہی ہمارا ہو گا۔ آپ کے بعد زندہ رہنے کا ہوئی جواز نہیں۔
(البدایہ والنہایہ، طبری، ابن اثیر)
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 02:46 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار
جب حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ میدان کربلا میں آئے۔آپ نے یہ رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر حملہ کر دیا:
انا علی بن حسین بن علی
نحن و بیت اللہ اولی بالنبی
تاللہ لا یحکم فینا ابن الدعی
کیف ترون الیوم ستری عن ابی
ترجمہ
میں علی بن حسین بن علی ہوں۔بیت اللہ کی قسم!ہم نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سب زیادہ قرابت دار ہیں۔خدا کی قسم!ابن زیاد ہم پر حکومت نہ کر سکے گا۔ تم دیکھو گے آج میں اپنے باپ کا کیسے دفاع کرتا ہوں۔

لنک:آؤ سوئے کربلا چلیں [فلسفہ شہادت امام حسین سے منتخب حصہ]
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-12-11), محمدخلیل (06-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 02:49 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقوف کربلا
اور شہادت سبط اصغر علیہ السلام
فلسفہ شہادت سے متعلق "سرالشھادتین" شاہ عبدالعزیز محدث دھلوی ؒ کی مشہور زمانہ تصنیف ہے اس کتاب کی فارسی شرح "تحریرالشھادتین" مولانا سلامت اللہ کشفی نے لکھی ہے جو اب نا پید ہے۔ راقم الحروف نے حال ہی میں اس کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔۔ جس کا ایک باب یہاں نقل کرتا ہوں
کربلا مقامِ کرب و بلا
فَانْحَرَفَ الْحُسَیْنُ عَن طَرِیْقِ الْکُوْفَۃِوَنَزَلَ بِکَرْبَلائَ(۱) فِیْ یَوْمَ الثَّانِیْ مِنَ الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ اِحْدیٰ وَ سِتِّیْنَ وَلَمَّا نَزَلَ بِھَا(۲) سَأَلَ عَن اِسْمِھَا فَقِیْلَ ہَذامَوْضِعٌ یُقَالُ لَہُ کَرْبَلائُ فَقَالَ ہذا(۳) مَوْضِعُ کَرْبٍ وَ بَلَائٍ فَنَزَلَ الْقَوْمُ وَحَطُّوا الْاَثْقَالَ وَنَزَلَ الْحُرُّ وَجَیْشُہُ قُبَالَۃَ الْحُسَیْنِ علیہ السلام (۴)بِاَرْضِ کَرْبَلائ۔
پس حسین علیہ السلام کوفہ کی راہ سے واپس ہوئے اور کربلا کواپنی منزل بنایا۔آپ دو محرم اکسٹھ ہجری کو کربلا میں وارد ہوئے اور جب یہاں پہنچے تو پوچھا کہ اس مقام کا نام کیا ہے۔ بتایا گیا کہ اس جگہ کو کربلا کہتے ہیں آپ نے فرمایا یہ مقامِ کرب و بلا ہے اور اسی مقام پر اپنی قوم کے ساتھ اترے اور حر بن یزید ریاحی اور اس کا لشکر کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام کے مقابل اترے۔
مشیت ایزدی کی کارگزاریاں
طبری و غیرہم میں لکھا ہے کہ جب حسین علیہ السلام کربلا پہنچے تو حر بن یزید ریاحی نے از راہِ خیر خواہی و ہمدردی امام حسیں علیہ السلام سے کہا کہ دیکھیے ابن زیاد کا بھیجا ہوا مزید لشکر بھی پہنچا چاہتا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ راتوں رات یہاں سے کوچ کر کے کسی اور جانب نکل جایئے۔چناںچہ امام حسین علیہ السلام نے یہاںسے کوچ کیااور تمام شب قطعِ مسافت میں گزاری جب پو پھٹی تو اپنے آپ کو اسی سرزمین کربلا میں پایا۔
کربلا مقام موعودہ
کہتے ہیں کہ سات راتوں تک اسی طرح ہوتارہا ہر رات آپ کوچ کرتے، تمام رات سفر کرتے ہوئے گزرتی اور جب صبح ہوتی تو اپنے آپ کو اسی میدان کربلا میں پاتے آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ اونٹوں کو مارتے تھے لیکن و ہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرتے۔ چار و ناچار بہ تقاضائے مشیت اسی مقام پر اقامت گزیں ہوئے اور جہاں زمین میں میخ گاڑتے تھے یا کسی درخت سے لکڑی توڑتے تھے توزمین اور درخت سے خون جاری ہوجاتا تھا یہ صورتِ حال دیکھ کر امام عالی مقام نے ارشاد فرمایا :
ہم اس مقام سے نہیں جا سکتے کیوں کہ ہماراموعودہ مقام یہی ہے اور ہمارا مقتل و مشہد اسی زمین پر ہے۔
خواب میں ناناؐ کی زیارت اور دعا
اور طبری میں بھی لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے مقام پر خواب میں دیکھا کہ جناب رسالت مآب ﷺ ملائکہ کی جماعت کے ہم راہ تشریف لائے ہیں اور حسین علیہ السلام کو گلے لگا کرفرماتے ہیں:
اے فرزند! مجھے معلوم ہے کہ دشمن تمہارے قتل کے درپے ہیں۔ یہ لوگ روز محشر میری شفاعت سے محروم رہیں گے اور قریب ہے کہ خدائے تعالیٰ تمہیں درجہ شہادت پر فائز فرمائے۔ بہشتِ بریں تمہارے واسطے آراستہ ہو چکی ہے اور تمہارے ماں باپ تمہارے لیے منتظر بیٹھے ہیں۔
پھر آںحضرت ﷺ نے اپنا دستِ مبارک امام حسین علیہ السلام کے سینۂ اقدس پر رکھا اور دعا فرمائی:
الــلّٰـھُمَّ اَعْـــــطِ الحُسَیْــنَ صَــــبْـرًا وَّ اَجْــــرًا۔
اے اللہ! حسین کو صبر اور اجر عطا فرما۔
امام عالی مقام حسین علیہ السلام جب خواب سے بیدار ہوئے تو آپ نے اپنے اہل بیت کو یہ خواب سنایا۔تمام اہل بیت پر گریہ طاری ہوگیا اور ہر ایک کی زبان پر یہ آیۂ کریمہ جاری ہوگئی۔
اِنَّـــا لِـلّٰـہِ وَ اِنَّااِلَـیْــہِ رَاجِـعُــون۔
زیاد بد نہاد کاخط امام حسین علیہ السلام کے نام
قصہ مختصرجب کوفہ میں ابن زیاد کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے واردِ کربلا ہونے کی خبر ملی تو اس شقی القلب کے ہاتھوں جو جوروستم ایجاد ہوئے اب کچھ ان کا تذکرہ کرتے ہیںــ:
ثُمَّ کَتَبَ اِبْنُ زِیَادٍ(۵) کِتَابًا اِلَی الْحُسَیْن علیہ السلام(۶) یُطَالِبُہُ اِلَی بَیْعَۃِ یَزِیْد فَلَمَّا وَرَدَ الْکِتَابُ عَلَی الْحُسَیْن فَقَرَأَہُ وَاَلْقَاہُ وَقَالَ علیہ السلام(۷) لِلرَّسُولِ مَا لَہُ عِنْدِی جَوَابٌ فَرَجَعَ الرَّسُولُ اِلَی اِبْنِ زِیَادٍ فَاشْتَدَّ غَضَبُہُ وَجَمَعَ النَّاسَ وَجَھَّزَالْعَسَاکِرَ وَجَعَلَ(۸) مُقَدِّمَھَا عُمَرَ بْنَ سَعَدٍ وَکَانَ وَالِیاً عَلَی(۹) الرَّیِّ (۱۰) فَاسْتَعْفٰی مِنْ خُرُوْجِہِ اِلَی قِتَالِ الْحُسَیْن فَقَالَ لَہُ اِبْنُ زِیَادٍ اِمَّا اَنْ تَخْرُجَ وَاِمَّا اَنْ تَتْرُکَ وِلَایَۃَ الرّیِّ (۱۱)وَتَقْعُدَ فِیْ بَیْتِکَ فَاخْتَارَ وِلَایَۃَ الرّیِّ۔
اس کے بعدعبیداﷲ ابن زیاد نے امام عالی مقام کو خط لکھ کر یزید کے لیے بیعت طلب کی جب یہ خط امام حسین علیہ السلام کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے پڑھنے کے بعد ایک طرف ڈال دیا اور قاصد سے فرمایامیرے پاس اس خط کا کوئی جواب نہیں۔ایلچی ابن زیاد کے پاس واپس گیا اور جملہ ماجرا کہہ سنایا۔ ابن زیاد ملعون کا غصہ یہ جواب سن کر بہت بڑھ گیاسو اس نے لوگوں کو جمع کیااور افواج ترتیب دینے لگااور عمر بن سعد کو لشکر کا سردار تجویز کیا۔ عمر بن سعدکو ابن زیاد نے ولایت ’’رے‘‘اور اس کے اضلاع پر حاکم مقرر کیا ہوا تھا اور ولایت ’’رے‘‘کی امارت کی سند تحریر کر کے دی ہوئی تھی۔عمر بن سعد نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ اور ان کے خلاف خروج سے اپنا استعفیٰ پیش کیا تو ابن زیاد نے اس سے کہا کہ یاتو امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ کے لیے خروج کرو یا پھر وہ سند مجھے واپس لوٹادو جو میں نے تمہیں ’’رے‘‘ اور اس کے اضلاع کی امارت کے لیے لکھ کر دی ہے اور اپنے گھر میں بیٹھ رہو۔پس عمر بن سعد نے ’’رے‘‘ کی حکومت کو اختیار کیا۔
ابن سعد کا لالچ:
مختصر یہ کہ جب ابن زیاد کا ایلچی ناکام واپس لوٹاتو ابن زیادغضب ناک ہو گیا اور لوگوں کو جمع کر کے لشکر ترتیب دیااور ابن سعد عاملِ ’’رے‘‘ کو بلا بھیجا کہ مقدمۃ الجیش کے طور پر از پئے قتال سوئے کربلا روانہ ہو اور امام حسین سے جنگ کرے۔ ابن سعد نے اس کام سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کیا اور چاہا کہ اسے امام حسین کے مقابلہ کے لیے نہ جانا پڑے لیکن ابن زیاد نے اسے کہلا بھیجا کہ یا تو حسین کے خلاف خروج کرو یا پھر ’’رے‘‘ اور اس کے اضلاع کی حاکمیت سے ہاتھ دھو لو اور سندِ حاکمیت جو تمہیں میری جانب سے ملی ہے واپس کردو اور گھر میں بیٹھ رہوپس ابن سعد نے دین پر دنیا کو ترجیح دی اور’’ رے‘‘ اور اس کے اضلاع کی حکمرانی کو اختیار کیالیکن امارت سے اپنی معزولی کو گوارا نہ کیا اور ابن زیاد کے حکم کو قبول کر لیا۔
لشکر ابن سعد کی آمد
وَطَلَعَ اِلٰی قِتَالِ الْحُسَیْنِ بِالْعَسَاکِر فَمَا زَالَ اِبْنُ زِیَادٍ یُجَھِّزُ مُقَدِّمًا وَمَعَہُ طَائِفَۃً مِنَ النَّاسِ(۱۲) اِلَی اَنِ اجْتَمَعَ(۱۳) عِنْدَ عُمَر بْنِ سَعَدٍ اِثْنَانِ وَعِشْرُوْنَ اَلْفًا مَا بَیْنَ فَارِسٍ وَرَاجِلٍ فَنَزَلُوْابِشَاطِیئِ(۱۴) الْفُرَاتِ وَحَالُوْا بَیْنَ الْمَائِ وَ بَیْنَ الْحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلَام وَاَصْحَابِہِ وَکَانَ اَکْثرمَنْ خَرَجَ مَعَہُ (۱۵)لِقِتَالِ الْحُسَیْنِ علیہ السلام ہُمُ الَّذِیْنَ (۱۶)کَاتَبُوْا وَ بَایَعُوْا الْحُسَیْنَ علیہ السلام۔(۱۷)
اور ابن سعد اپنی افواج کے ساتھ امام حسین علیہ السلام سے لڑنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ ابن زیاد بد نہاد ایک ایک سردار کے ساتھ تھوڑا تھوڑا لشکرعمر بن سعد کے پاس بھیجتا رہا یہاں تک کہ ابن سعد کے پاس بائیس ہزار سوار اور پیادہ فوج اکٹھی ہو گئی۔ ابن سعد کا یہ لشکر فرات کے کنارے اترا اور امام عالی مقام اور ان کے اہل بیت و اصحاب کے پڑائو اور فرات کے پانی کے مابین حائل ہو گیا۔ عمر بن سعد کے لشکر میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے کوفہ سے امام عالی مقام کو خط لکھ بھیجے تھے اور بیعت کی تھی۔
یعنی ابن سعد نے لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر دین کو دنیا پر فروخت کر دیا، عقبیٰ کی خرابی مول لے لی اور امام حسین علیہ السلام کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ ابن زیاد بد نہاد پے در پے اس کی کمک کے لیے افواج بھیجتا رہا یہاںتک کہ ابن سعد کے پاس بائیس ہزار سواروںاورپیادوں کی نفری جمع ہو گئی۔
قافلۂ حسینی پر پانی کی بندش
ابن سعد کا یہ لشکر جرار ساتویں محرم کو واردِ کربلا ہوا اور لشکرِامام عالی مقام اور کنارۂ فرات کے مابین حائل ہو گیااور امام عالی مقام علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر آب فرات بند کر کے ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔ امام عالی مقام کے غلام، موالی اور اصحاب تو ایک طرف ساقی کوثر، شافع محشرﷺ کے اہل بیت کے خوردو کلان پانی کے ایک ایک قطرہ کے لیے محتاج اور شدت تشنگی سے بے تاب ہو گئے اور ان کے قلب و جگر کباب ہو گئے۔
جناب یزید ہمدانی اور ابن سعد کا مکالمہ
ایسے میں یزید ہمدانی(۱۸) نامی ایک شخص جو کہ امام عالی مقام کے لشکریوں میں سے تھے امام عالی مقام کے پاس حاضر ہوئے اور عرض گذاری کہ اگر اجازت مرحمت فرمائیں تو ابن سعد کے پاس جاکر پانی حاصل کرنے کی اجازت طلب کروں۔ امام عالی مقام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تجھے اختیار ہے۔جب یزید ہمدانی ابن سعد کے پاس پہنچے تو سبقتِ سلام جو کہ اسلامی شعار ہے نہ کی، ابن سعد نے یزید ہمدانیؓ سے مخاطب ہو کر کہا:
اے برادر ہمدانی! ترکِ سلام کس لیے؟ کیا میں مسلمان نہیں ہوں اور خداو رسولﷺ کو نہیں پہچانتا؟
یزید ہمدانی نے جواب دیا:
افسوس ہے تمہارے اسلام پرکہ دعوائے مسلمانی کرتے ہومگر ابن رسولﷺ، اولاد بتول سلام اﷲ علیہا پر خروج کر کے ان کے قتل پر کمربستہ ہو اور ان کے خون کےپیاسے بن گئے ہو اور فرات جس سے کتے اورسور بھی اپنی تشنگی دور کر کے سیراب ہوتے ہیں اس کا پانی تم نے قافلہ حسینی پر بند کر دیا ہے اور حسین ابن علی علیہ السلام ، ان کے بھائی، بیٹے اور اہل بیت کی عفت ماٰب بیبیاں شدت پیاس سے جان بلب ہیں ۔ اس کے باوجود تم کہتے ہو کہ میں مسلمان ہوں اور خدا اور رسول کو پہچانتا ہوں۔
ابن سعد بولا:
اے یزید ہمدانی ! یہ سب جو تونے کہا بالکل درست ہے لیکن کیا کروں کہ میرا دل ’’رے ‘‘اور اس کے اضلاع کی حکومت کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔
یزید ہمدانی واپس ہوئے اور حقیقتِ حال جناب امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔
مچھر کے خون سے متعلق استفسارپر اہل عراق کے متعلق ابن عمرؓ کی رائے
صحیح بخاری اور ترمذی شریف میں مروی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل عراق میں سے ایک شخص حضرت ابن عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مچھر کے خون کی پاکی پلیدی کا مسئلہ دریافت کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ عراقی مچھر کے خون کے بارے میں پوچھتے ہیں حالاں کہ فرزند رسولﷺ کو قتل کر دیا اور ان کے خون کو حلال جاناجب کہ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ آنحضرتﷺ فرمایا کرتے تھے:
’’وہماریحـانـتـای فی الدنیا‘‘
امام عالی مقام ؑ کا لشکر ابن سعد سے خطاب
کہتے ہیں کہ جب لشکر ابن سعد آمادہ جنگ ہواحسین بن علی علیہما السلام اپنے مقام سے برآمد ہوئے اور لشکر ابن سعد کے روبرو کھڑے ہو کر بعد از حمد و ثنایزیدی افواج سے خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا:
اے لوگو! دیکھو میں کون ہوں، میرا نسب بیان کرو، اپنے دلوں سے پوچھ کر بتائو کہ تمہارے لیے میرا خون بہانا اور میری عزت و حرمت کے درپے ہونادرست ہے یا نہیں؟،کیا میں تمہارے نبیﷺ کی سب سے پیاری بیٹی اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی کا فرزند نہیں ہوں؟ کیا سید الشہدأ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ میرے چچا نہیں ہیں؟ کیا رسول اﷲ ﷺ نے میرے اور میرے بھائی حسن علیہ السلام کے حق میں ســیــدا شــبـاب اہـــل الجــنــۃ نہیں فرمایا؟
اورامام حسین علیہ السلام نے اپنے دیگر مناقب و فضائل بیان فرمائے اور دشمنوں پر حجت تمام کی۔
ابن سعد کو امام علیہ السلام کا مراسلہ:
جب عساکرِ ابن سعد نے حسین اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کردیا اور آپ کے خیموں میں پانی جانے کی کوئی صورت پیدا نہ ہونے دی تو امام حسین علیہ السلام نے ابن سعد کو لکھ بھیجا:
تین کاموں میں سے ایک کو قبول کر:
• یاتو مجھے چھوڑ دے کہ میں مکہ معظمہ چلا جائوں۔
• یا اجازت دے کہ میں کسی اور شہر کی طرف رخ کر لوں اور وہاں بیٹھ رہوں۔
• یاپھر مجھے یزید کے پاس بھیج دے۔
ابن سعد کا جواب
ابن سعد نے جواب دیا کہ میں آپ کی جملہ شرائط ابن زیاد کو لکھ بھیجتا ہوں پھر دیکھیے وہاں سے کیا جواب آتا ہے۔
ابن زیاد کی ابن سعد کو تہدید
جب اس نے تمام معاملہ ابن زیاد کو لکھ بھیجا تو اس مایۂ فساد نے ابن سعد کوسخت تہدیدی خط لکھا:
اگر امام حسین علیہ السلام یزید کی بیعت کریں تو بہتر ورنہ انہیں قتل کردو۔ میں نے تمہیں جنگ کے لیے بھیجاہے نہ کہ صلح کے لیے اور خبردار دمِ قتال ان سے کوئی معاملہ رحم و کرم کا نہ کرنا اور اگر تونے اس معاملہ میں ذرہ بھر بھی سستی کی توجان لےکہتیری جگہ کوئی اور آیا ہی چاہتا ہے۔
لشکر ابن سعد صف آرا ہوتا ہے
جوںہی ابن زیاد کا یہ خط ابن سعد کو پہنچا وہ فوراً صف آراہو گیا اور لشکر کو مقابلہ کے لیے تیار کرنے لگا اور امام حسین علیہ السلام سے کہا:
اے حسین ۔ ۔ ۔ ! میں نے بہت چاہا کہ آپ یزید کی بیعت کر لیں اور میں آپ کا خون بہانے سے بچ جائوں لیکن ایسا نہ ہوا۔ اب جنگ کے لیے تیار ہو جایئے۔
مشیت ایزدی
کہتے ہیں جب لشکر ابن سعد نے فرات کے پانی کو اپنی پشت پر رکھ کر خیمہ گاہِ حسین علیہ السلام جو کہ ریگستان میں تھی کی جانب پانی جانے سے روک دیا تو اہل خیام نے پانی کے لیے کنوئوں کی کھدائی شروع کی لیکن ستر ستر ہاتھ کی گہرائی تک کھدائی کے باوجود پانی دستیاب نہ ہو سکا۔
اہل خیام کی پیاس
اہل بیت نبوت ان کے دیگر اصحاب و موالی اور چوپائے پیاس کی شدت سے بے تاب ہو گئے ، کام و دہن کی خشکی اور پیاس کی شدت سے ہر ایک کی طاقت گفتار بھی جاتی رہی ایک دوسرے سے اشاروں میں گفتگو کرتے۔
آب دریا کی بجائے آب شمشیر
جب خواتین اور بچوں کی ناطاقتی حد سے بڑھ گئی تو حسین بن علی علیہ السلام نے عباس بن علی علیہ السلام کوچند افراد کے ساتھ پانی لانے کے لیے بھیجالیکن یزیدیوں نے حضرت عباس(۱۹) کو پانی نہ لینے دیا انہیں شدید زخمی کر دیا اور ان کے ہم راہیوں کو شہید کر دیا زخموں سے چور عباس امام عالی مقام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اب تو بجز آبِ شمشیر کوئی پانی نصیب ہوتا نظر نہیں آتا۔
کربلا آمد کی وجہ اہل کوفہ کے خطوط تھے
بعض راویوں نے روایت کی ہے کہ امام حسین کا خیمہ صحرا میں نصب تھا اور آں جناب علیہ السلام اپنے خیمہ میں تلاوت قرآن میں مشغول تھے ، آپ کی آنکھوں سے اشک جاری تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ آپ اس مقام پر کیسے تشریف لائے؟ آپ نے فرمایا:
اہل کوفہ نے خط لکھ لکھ اور قاصد بھیج بھیج کر ہمیں طلب کیا اور اب ہمارے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں ۔ اور یہ لوگ جنہوں نے میرے قتل کے لیے خروج کیا ہے ان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔
برادرِ اکبر کی نصیحت یاد کر کے امام کا گریہ کرنا
صواعق محرقہ(۲۰)میں منقول ہے کہ جب حسین بن علی علیہ السلام کو یہ سختی اور مصائب درپیش آئے تو وہ اپنے بھائی حسن بن علی علیہ السلام کی وہ نصیحت یاد کرکے روتے تھے جو انہوں نے وقت رحلت امام عالی مقام کو فرمائی تھی:
اے حسین علیہ السلام ! کوفہ کے کمینہ خصلت لوگوں اور ان کے ساتھیوںسے ڈرتے رہنا اور ان کے کہنے پر خروج نہ کرنا کہ یہ تمہارےلیے پریشانی کا باعث بنے گا۔
امام کی اپنے رفقا سے گفتگو
طبری (۲۱)میں منقول ہے کہ امام عالی مقام نے اہل خانہ کو نصیحت فرمائی اور صبر کی تلقین کی خواتین ِخانہ گریہ و زاری کرنے لگیں امام عالی مقام نے خواتین کو گریہ کرنے سے منع فرمایا اور نظر آسمان کی جانب اٹھائی اور فرمایا:
اے خداوندا!تو جانتا ہے کہ انہوں نے مجھ سے بیعت کی اورپھر اپنے عہد کو توڑ ڈالا۔ اے اﷲ!ان لوگوں کے بارے میں تو ہی انصاف فرما پھر اپنے ہم راہیوںکو طلب کر کے سب کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو کچھ تم لوگوں سے ہو سکا تم نے کیا، خدمت بجا لائے ،لیکن تم تعداد میں تھوڑے ہو اور وہ لوگ بہت زیادہ ہیں میں تم سب کو اپنی بیعت سے آزاد کر تا ہوں جو کوئی جس طرف جانا چاہتا ہے چلا جائے ۔میں تو اپنی زندگی کے بارے میں مایوس ہو چکا ہوں ۔
رفقا کی جانب سے اظہار جان نثاری
تمام لوگوں نے عرض کی کہ ہم سے یہ نہ ہو سکے گا کہ آ پ کو اس مصیبت کی گھڑی میں دشمنوںکے ہاتھ میں چھوڑ کر اپنی جان سلامت لے جائیں کل قیامت کو آ پ کے نانا کے حضور کیا عذر پیش کریں گے ہم سب آ پ کے سامنے اپنی جانیں قربان کردیں گے ۔پس اس شعر کے مصداق انہوں نے اپنی کمر ہمت کو باندھ لیا اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو کر شہادت کی طلب و انتظار میں مصروف ہو گئے :
گر دست دھد ہزار جانم
در پای مبارکت فشـانم
دشت کرب و بلا اورمعرکۂ حق وباطل
لشکر ابن سعد مقابلہ پر اترا اورآمادہ ٔ کارزار ہوا پس جو کچھ کہ واقعہ ہوا اس کو سنیے :
فَلَمَّا تَیَقَّنَ اَنَّ الْقَوْمَ مُقَاتِلُوْہُ(۲۲) اَمَرَ اَصْحَابَہُ فَاحْتَفَرُوْا حُفْرَۃً شَبِیْھَۃً بِالْخَنْدَقِ حَوْلَ الْعَسْکَرِ وَجَعَلُوْا لَھَاجِھَۃً وَاحِدَ ۃً یَکُوْنُ الْقِتَالُ مِنْہَا وَرَکِبَ عَسْکَرُ(۲۳)ابْنُ سَعَدٍ وَاَحْدَقُوْا بِالْحُسَیْنِ وَزَحَفُوْا وَاقْتَتَلُوْا۔
پس جب اس بات کا یقین ہو گیا کہ جماعت ابن سعد ہر صورت میں آمادۂ قتال ہے تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا اور(سنگری)لشکرکے گرد ا گرد خندق کے مشابہ ایک کھائی کھدوائی جس کا صرف ایک دروازہ رکھا تاکہ لڑنے کے لئے اس میں سے نکلا جاسکے لشکر ابن سعد نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کا نرغہ کیا اور پیش قدمی کرکے قتال کرنا شروع کیا ۔
یعنی جب امام مظلوم علیہ السلام کو پورا یقین ہو گیا کہ ابن سعد اور اس کے لشکری جنگ کرنے سے باز نہیںآئیں گے تو آ پ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ جنگ کے لئے تیارہوں تاکہ دادِ شجاعت دیتے ہوئے مرتبۂ شہادت پہ فائز ہو جائیں۔
خیمہ بستی کے گرد خندق کی کھدائی
چناںچہ امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھیوںنے لشکر کے گرد خندق کھودی اور اس میںسے ایک راستہ چھوڑاتاکہ جنگ کے لئے نکلا جاسکے اور جوں ہی یہ سامان مکمل ہوا سواران ابن سعد نے خیمہ گاہ حسین علیہ السلام کا گھیراؤ کر لیا اور سرگرم کارزار ہو گئے ۔جب محرم کی دس تاریخ ہوئی اور عاشورہ کی صبح طلوع ہوئی ابن سعد نے لشکر کو آراستہ کیا اور خیمہ گاہ حسین علیہ السلام کے بالمقابل صف آرا ہو کر مبار ز ت طلب ہوا۔
امام علیہ السلام کا لشکر یزید سے خطاب اور اتمام حجت
جناب سید الشہداء علیہ التحیۃ والثناء نماز صبح پڑھنے کے بعد اونٹ پر بیٹھے اور ابن سعد کے لشکر کے روبرو تشریف لے گئے اور ان سے خطاب کیااﷲ کی حمدو ثناء اور نعت سرور عالم ﷺ کے بعد مخالفین سے فرمایا :
’’اے لوگو! دیکھو کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کے گدھے کے سموں کے نشانات کی تعظیم کرتے ہیں اور یہودی حضرت موسی علیہ السلام کے عصا میںسے اگر کوئی نشان پاتے ہیں تو اس کو عزیز رکھتے ہیں اور میں جو تمہارے پیغمبر ﷺ کی لخت جگر بیٹی کا بیٹا ہوں تم میرے قتل پر کمر بستہ ہو اور نہیں جانتے ہو کہ رسول خدا ﷺ نے مجھے اپنا بیٹا کہا ہے اور مجھ سے بہت زیادہ محبت کی اور میری بہت تعریف فرمائی کیا میں نے تم میں سے کسی کا خون بہایا ہے کہ اس کے قصاص میں میری جان کے دشمن بنے ہو یا تمہارا کوئی مال میرے ذمہ ہے جو مجھ سے طلب کرتے ہو یا کوئی دوسرا مطالبہ رکھتے ہو جس کے لئے مجھ پر تم نے عرصہ ٔ حیات تنگ کر رکھا ہے میں مدینہ منورہ میں اپنے نانا کی قبر پر بیٹھا تھا مجھے تم نے وہاں نہ چھوڑا مکہ آیا تم نے قاصد میرے پاس بھیجے ،خطوط لکھے ،اور مجھے بلا بھیجا اب تمہارے پاس پہنچا ہوں توتم نے اپنا عہد توڑ دیا ‘‘
یہ خطاب سن کر سب خاموش ہو گئے کسی نے جواب نہ دیا پھر آ پ نے فرمایا :
’’تم پر خدا کی حجت ہے اور تمہیں مجھ پر کوئی حجت نہیں ہے ‘‘
ایک عبدالشیطان کی گستاخی اور امام کی بدعا سے اس کی ہلاکت
پھر آ پ علیہ السلام اونٹ سے اترے اور گھوڑے پر سوار ہو کر صف آراہوگئے اور اس بات کا انتظار کیا کہ ابتدائے جنگ لشکر ابن سعد کی جانب سے ہو۔کہتے ہیں کہ لشکر ابن سعد میں سے عبداﷲ نامی ایک شخص جو در حقیقت عبدالشیطان تھا، نے اپنے گھوڑے کو مہمیز کیا اور میدان جنگ میں داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام کے اہل و عیال اور بچوں کے خیموںکے گرد آگ روشن کی گئی ہے تاکہ وہاں کوئی نہ پہنچ سکے۔ کہنے لگا:
’’ اے حسین علیہ السلام تمہیں آخرت کی آگ سے پہلے ہی دنیا کی آ گ مبارک ہو‘‘
امام عالی مقام علیہ السلام نے یہ سن کر اس کے حق میں بدعا کی ۔ اسی وقت اس کے گھوڑے کے پاؤں میں لغزش ہوئی اور وہ آگ سے بھری ہوئی خندق میں جا گرا۔ وہ جہنمی اسی آگ میںجل کر جہنم رسید ہوا ۔اس کے بعد لشکر ابن سعد سے دو آدمی اور نکلے اور طالب مبارزت ہوئے امام عالی مقام کی جانب سے دو افراد مقابلہ کے لئے برآ مد ہوئے اور ان دونوں کو جہنم کے تاریک گڑھوں تک پہنچا دیا ۔
رفقائے امام کا ان پر نثار ہونا
کہتے ہیں کہ جب لشکریان سعد نے مبارزت طلب کی توامام مظلوم علیہ السلام نے خود پیش قدمی فرما ئی، جنگ کے لئے سوار ہوئے اور مقابلہ کا ارادہ کیا لیکن سب بھائیوں عزیزوں اور غلاموں نے عرض کی :
اے رسولِ خدا ﷺ کے فرزند! جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ و سلامت موجود ہے ہم آپ علیہ السلام کو جنگ نہ کرنے دیں گے۔
لشکر ابن سعد کی گھبراہٹ اور بزدلی
بالجملہ جب لشکریان ابن سعد نے دیکھا کہ حسین علیہ السلام کے ہم راہی مرنے کے لئے تیار ہیں اور ان کے ساتھ انفرادی مقابلوں کی صورت میں جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی تو ایک کے مقابلہ میں کئی کئی لوگ آ جاتے اور حسینی لشکر کے جری مجاہد پر تیروں کی بارش کر دیتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ لشکر حسین میں سے جو بھی جنگ کے لئے نکلتا وہ زندہ واپس نہ لوٹ سکتا ۔
وَلَمْ یَزَلْ یُقْتَلُ مِنْ اَھْلِ الْحُسَیْنِ علیہ السلام(۲۴) واَصْحَابِہِ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ اِلٰی اَنْ قُتِلَ مِنْہُمْ مَایُنِیْفُ عَلَی خَمْسِیْنَ رَجُلًا۔
اورامام حسین علیہ السلام کے اہل خاندان اور ساتھی ایک کے بعد ایک جام شہادت نوش کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے پچاس سے زیادہ افراد درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔
امام عالی مقام کی پکار
فَعِنْدَ ذَلِکَ صَاحَ الْحُسَیْنُ علیہ السلام اَمَا مِنْ مُغِیْثٍ یُغِیْثُنَا لِوَجْہِ اﷲِ اَمَا مِنْ ذَابٍّ یَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُوْلِ اﷲِ۔
پس امام حسین علیہ السلام پکار اٹھے کہ کیا کوئی فریاد رس ہے جو از راہِ خدا ہماری مدد کو پہنچے ۔ہے کوئی جو حرم رسول اﷲﷺ کو بچا لے ۔
یعنی جب امام حسین علیہ السلام کے اصحاب اور اہل بیت کے غلاموں کی ایک کثیر تعداد قتل ہو گئی اور پچاس سے زیادہ اہل خاندان اور اصحاب حسین علیہ السلام جام شہادت نوش کر چکے تو امام حسین علیہ السلام فریاد کناں ہو ئے اور استغاثہ طلب کیا اور یہ فریاد و استغاثہ صرف اتمام حجت کے لئے تھا تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس حال میں مدعیان اسلام میں سے کون شخص امام عالی مقام علیہ السلام کی مصیبت و ابتلاء میں شریک ہوتا ہے ۔
حر بن یزید کی صدائے لبیک
فَاِذَا بِالْحُرِّ بْنِ یَزِیْدَ الرِّیَاحِیِّ الَّذِیْ تَقَدَّمَ ذِکْرُہُ قَدْ اَقْبَلَ عَلَی فَرَسِہِ اِلَیْہِ وَقَالَ یَا ابْنَ رَسُوْلِ اﷲِ اِنِّی کُنْتُ اَوَّلَ مَنْ خَرَجَ عَلَیْکَ وَاَنَا الْآنْ فِی حِزْبِکَ فَمُرْنِیْ اَنْ اَکُوْنَ مَقْتُولًا فِیْ نُصْرَتِکَ لَعَلِّی اَنَالُ شَفَاعَۃَ جَدِّکَ غَدًا ثُمَّ کَرَّ عَلَی عَسْکَرِ عُمَرَ ابْنِ سَعَدٍ فَلَمْ یَزَلْ یُقَاتِلُھُمْ حَتّٰی قُتِلَ وَ قُتِلَ مَعَہُ اَخُوْہُ وَا بْنُہُ وَمَوْلَاہُ اَیْضًا۔
یہ استغاثہ و فریاد سن کر ناگاہ حر بن یزید ریاحی جس کا ذکرپہلے ہو چکا ہے متوجہ ہو ا اور اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھ کر امام عالی مقام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو ا اور عرض کی :
اے فرزند رسول اﷲﷺ !میں سب سے پہلے آپ سے لڑنے کو نکلا تھا اور اب میں آ پ کے گروہ میں شامل ہو تا ہوں سو مجھ کو اجازت دیجئے کہ آپ کی مددو معاونت میں قتل کر دیا جاؤں شاید اس جانثاری اور وفاداری کے صلے میں مجھے آ پ کے نانا جانﷺ کی شفاعت قیامت کے دن نصیب ہوسکے ۔
یہ کہہ کرلشکر ابن سعد پر ٹوٹ پڑا اور یہاں تک لڑا کہ جام شہادت نوش کر لیا اس کے ساتھ اس کا بھائی بیٹا اور غلام بھی شہید ہوئے ۔
یعنی جوں ہی امام حسین علیہ السلام نے صدائے فریاد بلند کی اور حر بن یزید ریاحی نے جناب سید الشہداء فرزند رسول خدا علیہ السلام کی بے کسی ملاحظہ کی تو بتوفیق سعادت ابدی اپنے گلے سے اطاعت ابن سعد کا طوق اتار ڈالااور یزیدیوںکی رفاقت سے انحراف کرتے ہوئے امام مظلوم علیہ السلام کے حضور پہنچا اور عرض گزار ہوا:
’’ جیسا کہ میں ان اولین لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے آپ سے جنگ کے لئے خروج کیا اسی طرح اب میں آپ کی نصرت کرنے والوں میں سے ہوں حکم دیجئے کہ میں آپ کی نصرت و اعانت میں اپنی جان فدا کردوں اور کل قیامت کے دن آپ کے جد امجد ﷺ کی شفاعت کی دولت اپنے دامن ایمان میں بھر لوں‘‘
حرکی جاں سپاری اور شہادت
حر نے اپنے بھائی، بیٹے اور غلام کی معیت میں لشکر ابن سعد پر ہلہ بول دیا یہ چار شخص میدان جنگ میں اتنی جاں سپاری سے لڑے کہ قوم اشقیاء کے بے شمار ظالموں کو تہ تیغ کر دیا اور شاداں وفرحاں منزل شہادت پر پہنچے۔
فرزندان اہل بیت ایک ایک کر کےامام پاک پر قربان ہوگئے
مختصریہ کہ جب امام عالی مقام علیہ السلام کے اصحاب وغلام ایک ایک کر کے میدان جنگ میں داد شجاعت دیتے ہوئے اپنی جانوں کو فرزند رسول خدا علیہ السلام اور اہل بیت مصطفی کی محبت میں فدا کر چکے اور عزیز واقارب میں سے چند لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا تو جناب سید الشہداء نے فرمایا:
’’ اب میری باری ہے‘‘۔
اور چاہا کہ صف میں سے نکل کر لشکر اعداء کی طرف متوجہ ہوں تو آپ کے بھائی ،بھتیجے اور دوسرے تمام اعزہ واقرباء فریاد کناں ہوئے :
جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی اپنے جسم میں جان رکھتا ہے آپ کو عازم جنگ نہ ہونے دیں گے۔
پھر جب ان تمام نے بھی یکے بعد دیگرے اپنی جانثاری کا ثبوت دیتے ہوئے مرتبہ شہادت حاصل کر لیا تو سید الشہداء علیہ السلام تن تنہا لشکر اشقیاء کے مقابلہ کے لئے پہنچے اورپھر وہ انہونی ہوئی جو چشم عالم نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
فَالْتَحَمَ الْقِتَالُ حَتّٰی قُتِلَ اَصْحَابُ الْحُسَیْنِ علیہ السلام بِاَسْرِھِمْ وَوَلَدُہُ وَاِخْوَتُہُ وَبَنُوْعَمِّہِ وَبَقِیَ وَحْدَہُ فَبَارَزَ بِنَفْسِہِ وَسَیْفُہُ مُصْلَتٌ فِیْ یَدِہِ فَلَمْ(۲۵) یَزَلْ یُقَاتِلُ وَیَقْتُلُ مَنْ بَرَزَ اِلِیْہِ حَتَّی قُتِلَ مِنْہُمُ الْکَثِیْرُ فَاثْخَنَتْہُ الْجِرَاحَاتُ وَالسِّہَامُ تَاتِیْہِ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ۔
پھر خوب معرکہ ہوا یہاں تک کہ امام عالی مقام علیہ السلام کے تمام ہمراہی ،بھائی بیٹے اور چچا زاد ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور آنحضرت علیہ السلام تن تنہا رہ گئے اور بنفس نفیس شمشیر برہنہ ہاتھ میں لے کر مقابلہ اعداء کے لئے نکلے اور نہایت بے جگری سے لڑے اور ہر اس شخص کو واصل جہنم کر دیا جو مقابلہ کے لئے آیا یہاں تک کہ بہت سے اعداء و اشقیاء کو جہنم سپرد کیا (لشکر اعداء نے امام عالی مقام پر تیروں اور تلواروں کی بو چھاڑ کر دی )، ہر جانب سے آپ پر تیر پھینکے جانے لگے اور آپ زخموںسے چور چور ہوگئے۔
ہزاروں کے مقابلہ میں اکیلا حسینؑ
یعنی جب جنگ اپنے عروج کو پہنچی اور بات اصحاب، غلاموں، بیٹوں، بھائیوں اور چچازادوں کی شہادت سے بھی آگے بڑھ گئی تو سید الشہداء تن تنہا تیغ برہنہ ہاتھ میں لئے عازم مقابلۂ اشقیاء ہوئے ۔
رجز امام عالی مقام
میدان میں آپ کی آمد اس شان سے ہوئی کہ اپنی زبان بلاغت ترجمان سے یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
انا ابن علی الخیر من آل ہاشم
کفانی بھذا مفخر حین افخر
وجدی رسول اﷲاکرم من مشی
ونحن سراج اﷲفی الارض یزہر
وفاطمۃ امی سلالۃ احمد
وعمی سیدی ذوالجناحین جعفر
وفینا کتاب اﷲانزل صادقا
وفینا الہدی والوحی والخیر یذکر
میرے بابا مرتضیٰ ہیں آل ہاشم کا وقار
اس قدر کافی ہے مجھ کو افتخار و اعتبار
میرے نانا ہیں محمد مصطفی خیر الورا
جملہ مخلوق زمیں سے بہترین و باوقار
میری اماں فاطمہ زہرا ہیں بنتِ مصطفی
اور چچا جعفرِ طیار فخرِ روزگار
سبط پیغمبر ہوں مجھ کو جان لو پہچان لو
حق نما ہے ذات میری، ہوں چراغ کردگار
اور کتاب اللہ ہمارے درمیاں نازل ہوئی
ہے وہ اک روشن ہدایت اور حق کی یادگار(۲۶)
دشمنان اہل بیت پر کپکپی طاری ہوگئی
یہ اشعار پڑھے اور لشکر اعداء پر شیرِ غراں کی طرح حملہ آور ہوئے اور جوکوئی ناہنجار آپ کے مقابلہ میں آیا آپ کی تیغ دودَم سے اس کا ٹھکانہ جہنم ہوااور لشکر اعداء پر ایک عجیب خوف و کپکپی طاری ہو گئی ۔چنانچہ جب یزیدیوں پر عرصۂ جنگ تنگ ہونے لگا تو انہوں نے دور سے حملے کرنا شروع کئے اور آ پ کو تیروں کی زد پر لے لیا ۔جب اس سے بھی کام نہ چلا تو شمر ذی الجوشن (۲۷)نے ایک حیلہ کیا:
وَاَقْبَلَ الشِّمَرُ ذِی الْجَوْشَنِ السَّکونی فِیْ کَتِیْبَتہٖ فَحَالَ بَیْنَہُ وَبین رَحْلِہِ وَحَرَمِہِ فَصَاحَ الْحُسَیْنُ علیہ السلام(۲۸) وَیَحْکُمُ یَا شِیْعَۃَ الشَّیْطَان اَنَا الَّذِی اُقَاتِلُکُمْ فَمَا لَکُمْ تَتَعَرَّضُوْنَ لِلْحَرَمِ فَاِنَّ النِّسَائَ لَمْ یُقَاتِلْنَکُمْ فَقَالَ الشِّمَرُلِاَصْحَابِہِ کَفُّوْاعَنِ النِّسَائِ وَاقْصُدُوْا(۲۹) الرَّجُلَ فِیْ نَفْسِہِ فَمَالُوْا بِالسَّہَامِ وَالرِّمَاحِ حَتَّی سَقَطَ عَلَی الْاَرْضِ شَہِیْدًا وَجَزَّرَاسَہُ نَصَرُ بْنُ خَرَشَۃَ فَلَمْ یَقْدِرْعَلَی قَطْعِ رَاسِہِ فَنَزَلَ خُوْلِیُّ بْنُ یَزِیْد فَقَطَعَ رَاسَہُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ الشِّمَرُ لِاَصْحَابِہِ وَیْلَکُمْ مَا تَنْتَظِرُوْنَ بِالرَّجُلِ وَقَدْاَثْخَنَتْہُ الْجِرَاحَاتُ فَتَوَالَتْ(۳۰) عَلَیْہِ السِّہَامُ وَالرِّمَاحُ حَتَّی وَصَلَ سَہْمُ شَقِیٍّ مِنَ الْاَشْقِیَآئِ اِلٰی حَنَکِہِ فَسَقَطَ عَنِ الْفَرَسِ وَضَرَبَہُ شِمْرٌ عَلَی وَجْہِہِ فَاَدْرَکَہُ سِنَانُ بْنُ اَنَس النَّخْعِیُّ فَطَعَنَہُ بِرُمْحٍ وَنَزَلَ خُوْلِیُّ بْنُ یَزِیْدَ لِیقْطَعَ رَاسَہُ فَارْتَعَدَتْ یَدَاہُ فَنَزَلَ اَخُوْہُ شِبْلُ بْنُ یَزِیْدَ(۳۱) فَقَطَعَ رَاْسَہُ وَدَفَعَہُ اِلٰی اَخِیْہِ (۳۲)خُوْلِیٍّ۔
اور شمر ذی الجوشن سکونی اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اور امام مظلوم علیہ السلام اوران کے حرم کے خیموں کے درمیان حائل ہو گیا تو امام عالی مقام علیہ السلام نے للکاراکہ اے شیطانی گروہ !تم پر افسوس ہے جب میں تم سے لڑ رہا ہوں تو تمہیں میرے اہل بیت سے کیا کام وہ تو تم سے جنگ نہیں کر رہے یہ سن کر شمر ذی الجوشن نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خواتین کی طرف مت جاؤ اور اسی شخص کو گھیرے میں لے لو سو وہ ظالم امام مظلوم پر تیراور نیزے لے کر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ امام مظلوم علیہ السلام زمین پر گر پڑے اور شہید ہو گئے نصر بن خرشہ(۳۳) نے چاہا کہ آپ کے سر مبارک کو جسم اقدس سے علیحدہ کر لے لیکن ایسا نہکر سکا پھر خولی بن یزید(۳۴)اپنی سواری سے نیچے اترا اور اس نے آپ کا سر مبارک بد ن سے علیحدہ کیا۔ روایت میں ہے کہ شمر ملعون نے اپنے ساتھیوں کو کہاافسوس ہے تم پر اب کس با ت کا انتظار کر رہے ہو اب تو یہ شخص زخموں سے چور چور ہے یہ سنتے ہی انہوں نے امام حسین علیہ السلام پر تیروں اور نیزوں کا تانتا باندھ دیا یہاں تک کہ ایک ظالم کا تیر امام مظلوم علیہ السلام کے حلق سے پار ہو گیا اور آپ علیہ السلام گھوڑے سے گر پڑے اور اسی حالت میں شمر لعین نے آپ کے چہرہ ٔ انور پر تلوار ماری پھر سنان ابن انس نخعی(۳۵)نے نیزہ مارا اور پھر خولی بن یزید آپ کا سر اقدس کاٹنے کے لئے اپنے گھوڑے سے اترا خولی نے آپ کا سر مبارک کاٹنا چاہا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے پھر اس کا بھائی شبل بن یزید(۳۶) آیا اور اس نے سر مبارک کو کاـٹا اور اپنے بھائی خولی کے حوالے کر دیا ۔
شمر بد پیکر کی کمینگی
مختصر یہ کہ جب ابن سعد کے لشکری جناب سید الشہداء علیہ الوف من التحیۃ والثناء کے ساتھ مقابلہ و محاربہ کی تاب نہ لاسکے تو شمر بد پیکرو حیلہ گرآگے بڑھا اور اپنی جماعت کے ساتھ امام عالی مقام علیہ السلام اور ان کے حرم محترم کے درمیان حائل ہو کر چاہا کہ دست تعارض اہل بیت نبوت کی جانب دراز کرے امام مظلوم علیہ السلام نے للکارا:
وَیَحْکُمُ یَا شِیْعَۃَ الشَّیْطَان
خبردار اے گروہ شیطان!یہ کیا نامردی ہے کہ تم سے جنگ تو میں کرتا ہوں اور تم بے گناہ خواتین کی طرف بڑھ رہے ہو۔
امام عالی مقام کی شہادت
جب شمر ذی الجوشن نے یہ للکار سنی تو سرا پردۂ ِ عصمت و طہارت کی طرف سے باز آیا اور اپنے ہم راہیوں کو امام عالی مقام کی جانب متوجہ کرتے ہوئے گھیراؤ کرنے کے لئے کہا پھر شمر کی جماعت نے آپ کو گھیرے میں لے لیا اور ہر جانب سے حملہ آور ہوئے اور اس قدر تیرو ں اور نیزوںکی بارش کی کہ اس یکہ تاز میدان وغانے جام تسلیم ورضا ہاتھ میں لیااور گھوڑے کی پشت پر سے زمین شہادت پر گر پڑے اور اس جہان فانی سے عنان عزیمت پکڑے راہی فردوس اعلی ہوئے۔
نماز اس طرح بھی ادا کی جاتی ہے
کہتے ہیں کہ یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب سورج دائرہ نصف النہار سے مائل بہ زوال ہوا جوکہ نماز ظہر کا شروع وقت ہے گویا آپ نے تکبیر کا آغاز گھوڑے کی پشت پر فرمایا اور رکوع گھوڑے کی پشت سے جدا ہونے پر اور سجدہ زمین شہادت پر گرنے کے بعد ادا فرمایا اور اس صور ت سے آپ نے نماز ظہر دم واپسین ادا کی اوررسالہ (سرالشہادتین) میں سر مبارک کو کاٹنے والے شخص کے بارے میں جواختلاف ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ شقاوت ازل سے ہی خولی بن یزید کی سیاہ پیشانی کا مقدر ہو چکی تھی۔
===============

حواشی و توضیحات
۱۔ تحریر الشہادتین میں"ونزل بکربلاء" کی بجائے "الی کربلا و نزل بھا"
۲۔ تحریر الشہادتین میں"بھا" ساقط ہے۔
۳۔ تحریر الشہادتین میں"ھذا" ساقط ہے۔
۴۔ تحریر الشہادتین میں"علیہ السلام " ساقط ہے۔
۵۔ تحریر الشہادتین میں"ابن زیاد" کی بجائے" عبیداللہ" کے الفاظ ہیں۔
۶۔ تحریر الشہادتین میں"علیہ السلام" ساقط ہے۔
۷۔ تحریر الشہادتین میں"علیہ السلام" کے الفاظ موجود نہیں۔
۸۔ تحریر الشہادتین میں"جعل" کی بجائے "صَیَّرَ" کا لفظ ہے۔
۹۔ تحریر الشہادتین میں"والیا" کی بجائے "وَلَّاہ الری" کے الفاظ ہیں۔
۱۰۔ تحریر الشہادتین میںیہاں "اعمالھا و کتب لہ" کے الفاظ مزید ہیں۔
۱۱۔ تحریر الشہادتین میں" وَاِمَّا اَنْ تَتْرُکَ وِلَایَۃَ الرّیِّ "کی جگہ "و اما ان تعید علینا کتابتا بتولیتک الری"
۱۲۔ تحریر الشہادتین میں"مُقَدِّمًا وَمَعَہُ طَائِفَۃً مِنَ النَّاسِ" کی جگہ "جیوشہ" کے الفاظ ہیں۔
۱۳۔ تحریر الشہادتین میں"اجتمع" کی بجائے "یجتمع" ہے۔
۱۴۔ تحریر الشہادتین میں"فَنَزَلُوْابِشَاطِیئِ" کی جگہ "فترکوا شاطیئ" کے الفاظ ہیں۔
۱۵۔ تحریر الشہادتین میں"مَنْ خَرَجَ مَعَہُ" کی بجائے "الخارجین" کے الفاظ ہیں۔
۱۶۔ تحریر الشہادتین میں"لِقِتَالِ الْحُسَیْنِ علیہ السلام ہُمُ الَّذِیْنَ" کی جگہ "لقتالہ قد "کے الفاظ ہیں۔
۱۷۔ تحریر الشہادتین میں" کَاتَبُوْا وَ بَایَعُوْا الْحُسَیْنَ علیہ السلام" کی جگہ "کاتبوہ و بایعوہ" کے الفاظ ہیں۔
۱۸۔ یزید ہمدانی: امام عالی مقام علیہ السلام کے بہادر اصحاب میں سے ایک۔جب روزِ عاشوراء امام علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر تشنگی کا غلبہ ہوا۔انہوں نے امام عالی مقام علیہ السلام سے اجازت لے کر عمر بن سعد مکالمہ کیا تھا۔لیکن عمر بن سعد کی طرف سے نا مناسب جواب ملنے پر بے نتیجہ واپس آگئے۔اس وقت امام نے دشمن کی سپاہ کے بارے میں فرمایا تھا: ان پر شیطان غلبہ پا چکا ہے اور شیطان کے لشکر کا کام ہی یہی ہے۔انہوں نے کوفہ میں مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بھی بیعت کی تھی اور مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد کوفہ سے پلٹ کر امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو گئے۔
۱۹۔ حضرت عباس:عباس بن عبدالمطلب ، کنیت ابو عبداللہ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا۔ جلیل القدر صحابی ، حضرت عمر فاروقؓ ان کے وسیلہ سے قحط کے دنوں میں بارش کی دعا فرماتے اور باران رحمت نازل ہو جایا کرتی۔
۲۰۔ صواعق محرقہ:امام ابن حجر مکیؒ کی مشہور کتاب۔
۲۱۔ طبری:محمد بن جرير بن يزيد بن کثير بن غالب الآملي کنیت أبو جعفر الطبري ۔ ۳۱۰ ھ میں وفات پائی۔مشہور کتاب ’’تفسیر طبری‘‘کے مؤلف۔
۲۲۔ تحریر الشہادتین میں "مقاتلوہ" کی بجائے "قاتلوہ" کے الفاظ ہیں۔
۲۳۔ تحریر الشہادتین میں "عسکر" کی بجائے "عساکر" ہے۔
۲۴۔ تحریر الشہادتین میں "علیہ السلام" کی جگہ "رضی اللہ تعالیٰ عنہ" کے الفاظ ہیں۔
۲۵۔ تحریر الشہادتین میں "فلم" کی بجائے"لم" ہے۔
۲۶۔ یہ مولانا سلامت اللہ کے فارسی اشعار کا منظوم ترجمہ ہے۔صاحب تحریر الشہادتین کے فارسی اشعار درج ذیل ہیں:
بودہ ام ابن علی از آل ہاشم باوقار
ایں قدر کافی است ما را افتخارو اعتبار
جد من باشد رسول اﷲﷺ بہتر زاں کسے
رفت بر روئے زمیں ہستم چراغ کردگار
مادرم زہراست بنت مصطفی و عم من
ذوالجناحین جعفر طیار فخر روزگار
درمیان ما کتاب اﷲ نازل بودہ است
ذکر حق وحی و ہدایت خیر جملہ یادگار
۲۷۔ شمر ذی الجوشن:اس کا نام شرجیل تھااور کنیت ابو السابغہ۔قبیلہ ہوازن کے سرداروں میں سے تھا۔صفین میں لشکر علی علیہ السلام میں موجود تھا۔اس کے بعد کوفہ میں اقامت اختیار کی۔واقعہ کربلا میں اس کا شمار قاتلانِ امام حسین علیہ السلام میں ہوا۔ابن زیاد نے اسے امام عالی مقام علیہ السلام کے سر مبارک کے ساتھ یزید کی طرف بھیجا۔جب مختار ثقفی نے قیام کیا تو شمر کوفہ سے بھاگ گیا۔مختار نے اپنے ایک ماتحت کوچند آدمیوں کے ساتھ اس کے تعاقب میں روانہ کیا۔لیکن شمر نے مختار کے ماتحت کو قتل کردیا۔اور کلتانیہ کی طرف بھاگ گیا۔مختار نے ابو عمرہ کی سرکردگی میں لشکرروانہ کیا۔شمر اس لشکر سے مقابلہ کے دوران مارا گیا اور اس کی لاش کو کتوں کے آگے ڈال دیا گیا۔
۲۸۔ "علیہ السلام" کے الفاظ نہیں ہیں۔
۲۹۔ "واقصدوا" کی بجائے "فاقصدوا" ہے۔
۳۰۔ "فتوالت" کی بجائے "وتوالت" ہے۔
۳۱۔ "یزید" کی بجائے "زیاد" ہے۔
۳۲۔ "اخیہ" کے الفاظ نہیں ہیں۔
۳۳۔ نصر بن خرشہ:میدان کربلا میں امام پاک کے قاتلین میں سے ایک۔
۳۴۔ خولی بن یزید:خولی بن یزید یہ شبل بن یزید کا بھائی ہے۔ یہ امام عالی مقام علیہ السلام کے سر مبارک کو کربلا سے کوفہ لایا تھا۔
۳۵۔ سنان بن انس نخعی:سنان بن انس نخعی الموصلی یہی وہ بدبخت ہے جس نے امام عالی مقام علیہ السلام کو نیزہ مار کر شہید کیاتھا۔
۳۶۔ شبل بن یزید:خولی بن یزید کا بھائی تھا اور اس نے امام عالی مقام علیہ السلام کا سر تن سے جدا کیا۔مورخ لکھتے ہیں کہ خولی بن یزید نے یہ کوشش کی تھی مگر خوف زدہ ہو گیا۔ پھر شبل نے یہ فعل شنیع انجام دیا اور سرمبارک جدا کر کے خولی کو دیا۔
============
تحریر الشھادتین شرح سرالشھادتین کا ایک باب ، اردو ترجمہ از: شاکرالقادری
لنک:آؤ سوئے کربلا چلیں [فلسفہ شہادت امام حسین سے منتخب حصہ]
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-11, 03:09 PM   #5
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,834
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بس یا حسین ّ
-----------------------------
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-12-11), شعبان نظامی (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 06:25 PM   #6
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,369
شکریہ: 25,518
10,397 مراسلہ میں 38,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شئیرنگ کا شکریہ ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
خالد حسین (11-02-12), شعبان نظامی (06-12-11)
جواب

Tags
color, ہے۔, کوشش, کربلا, گھر, پہلے, واقعات, نام, مطابق, اہل بیت, اللہ, امام،حسین،کربلا،عالی, بھائی, بے, بچپن, بدل, حکم, حسن, خون, دیکھ, دل, سفر, ظالم, علی المرتضٰی, علم, عظمت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر خرم شہزاد خرم خبریں 0 13-11-07 09:06 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger