07-09-11, 11:12 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل
آخر کب تک اور کس حد تک ، لوگ دہشت گردی، دھماکوں اور بم بلاسٹوں، خودکش حملوں اور شدت پسندوں کے سائے میں سسک سسک کر رہیں گے۔ زمانہ جاہلیت میں تو شرک اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے تھے، لیکن یہ دور تو ایک ترقیاتی دور ہے۔ اس دور میں ایسے بادلوں سے نمٹنا کس کا کام ہے۔ جہاد کی آڑ میں لوگوں کو مارنا کس جہالت کی انتہاء ہے۔ طالبان اور ٹی ٹی پی نے حال ہی بچوں کو اغواء کر لیا ہے۔ یقین کیجیے کہ دل اسقدر پریشان ہے کہ کہیں اگلی باری کس کی ہے۔ اللہ سے تو مدد کے ہم سب ہی طلبگار ہیں لیکن کیا اب ہر عام عوام کا یہ فرض نہیں کہ وہ ان تمام ذرائعوں کا احتساب کریں جو ان منفی قوتوں کا سبب بنتی ہیں؟
|
دونوں ميں كيافرق ہے۔۔۔۔ ويسے يہ سلسلہ اس وقت تك چلتا رہے گا جب تك امريكہ چاہے گا۔۔۔۔۔اب كڑھنے سے نہ امريكي طالبان نے ختم ہونا ہے نہ امريكہ نے۔۔۔۔۔ كوئي عملي اقدام ہے كرنے كو تو بتائيں۔۔۔۔۔ہم آپ كے ساتھ ہيں۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
|
|
|