واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


آسمان چھونے دو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-04-10, 10:44 PM   #1
آسمان چھونے دو
واصف ملک واصف ملک آف لائن ہے 25-04-10, 10:44 PM

آسمان چھونے دو
کالم
Friday, 23 April 2010 20:47

تحریر : یاور حسین

محترم قارئین!

حال ہی میں نوجوانوں میں اُبھرتے ہوئے ممتاز صحافی جناب واصف امین ملک جو اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یورپ اور پاکستان میں اپنا ایک خاص مقام بنا چکے ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب ”جاناں تیرے شہر میں“ کے دونوں ایڈیشن منظرعام پر آ چکے ہیں، خوش قسمتی سے مجھے بھی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، گوکہ یہ ایک یادگار سفرنامہ ہے لیکن اس کو پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ شاید قاری کوئی افسانہ پڑھ رہا ہے۔ اس کتاب کا عنوان یعنی ”جاناں تیرے شہر میں“ ہر کتاب شناس کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ پردیس میں اُن کے تجربے کا ہر واقعہ اور اُس کے کردار ایک مخصوص پیرہن میں آتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی محبت کا جذبہ جو ”مانو“ کے لئے تھا اُسے چھپا کر نہیں رکھا اور بڑی دلیری سے اس کا برملا اظہار کیا ہے۔ یہ کہہ جانا بے جا نہیں ہے کہ واصف امین ملک صحافت کی دنیا اور اردو کے افق پر ایک ایسا روشن ستارہ ہے، جس کی روشنی پوری اردو دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ اُنہوں نے نئی نسل کے لئے جن کا تعلق صحافت سے ہے مشعلِ راہ بن کر یہ ایک مجاہدانہ کام کیا ہے جو قابل ستائش ہے، موجودہ حالات کے پیشِ نظر پاکستان کا وہ نوجوان جو تارکین وطن بننے کا خواہشمند ہے ان کے لئے یہ کتاب ایک نسخہ اکسیر ہے۔ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جناب واصف امین کو جنہوں نے دور حاضر کے نام نہاد مفاد پرست قلم کاروں اور سیاسی لوگوں کی بغیر تھپکی کے انہی کے میدان میں رہ کر یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ آج کا مصنف خواہ وہ پاکستان میں ہو یا بیرون ملک مسائل میں اس طرح گھرا ہوا ہے کہ اسے دو وقت کی روٹی کی فکر نے ہی مار دیا ہے اور واصف ملک نے اُن تمام مسائل سے دوچار ہوتے ہوئے پردیس کی اُن تمام سچائیوں کو خوب بیان کیا ہے۔ جو واقعی ہی قابل داد ہیں۔ ایسے لوگ جو سچے جذبے کے ساتھ اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور اُن کے اندر آسمان چھونے کی خواہش ہر وقت تلملاتی رہتی ہے اور اُسی کی بنیادپر وہ کچھ کر دکھاتے ہیں۔ جیسے کہ واصف صاحب نے کر دکھایا۔ محترم قارئین! کتابیں وہی لکھتا ہے۔ جس کو اللہ نے تخلیقی قوت سے سرفراز کیا ہے۔ جس کو تنقیدی و تحقیقی صلاحیت عطا کی ہے۔ یہ سب کے بس کی بات نہیں ہے، لہٰذا جن کے پاس یہ صلاحیت و قوت ہے وہ کتابیں لکھنے پر مجبور ہیں، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر فنکار اپنے فن کی داد چاہتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ اس سے انکار کرنے کی کس میں جرا ¿ت ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جب کوئی قلمکار اپنی کسی علمی و ادبی تخلیق مسلسل محنت کے بعد صفحہ ¿ قرطاس پر لے آتا ہے تو وہ اُسے اپنے دوستوں کو دکھانے یا سنانے کے لئے بے چین رہتا ہے۔ اُسے اس کے کام کی داد ملتی ہے تو خوش ہوتا ہے خاموشی دیکھتا ہے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے لئے کم اور معاشرے کے لئے زیادہ فکرمند ہوتے ہیں وہ معاشرے کے مسائل اور اُس کی خوبی و خرابی کو نگاہ میں رکھ کر انتہائی خلوص اور دیانتداری سے نیک مقصد کے تحت اپنے تخلیقی عمل میں مصروف رہتے ہیں اور تصنیف و تالیف کا فریضہ سرانجام دیتے رہتے ہیں، واصف امین ملک کا شمار انہی قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں سود و زیاں سے کوئی مطلب نہیں بلکہ وہ اخلاص و قربانی کے جذبے کے سہارے اپنے مقصد کی تکمیل کرتے ہیں اور اُنہی جذبات کے تحت کتاب بھی وجود میں آتی ہے، لہٰذا اس کے زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر سماج کے لوگوں تک پہنچانا مصنف کے نزدیک لازمی ہے تاکہ اُس کی روح کو تسکین مل سکے۔ واصف امین سے میری پہلی ملاقات (نیو کاسل) انگلینڈ میں ایک مذہبی تقریب میں ہوئی۔ انتہائی تپاک اور پیار سے ملے 2007ءمیں یہ اُس وقت روزنامہ اُردو ٹائمز لندن کے بیورو چیف کی حیثیت سے نیو کاسل میں مقیم تھے، میرے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا گیا اور ان کی صحبت کے فیض سے میرے اندر بھی لکھنے کا شوق و جذبہ اور زیادہ اجاگر ہونا شروع ہو گیا اور میں آج انہی کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہو کر منزل کی طرف رواں دواں ہوں۔ واصف ملک ایک بہترین صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ صاف گو قلمکار بھی ہے جس نے اپنی اس کتاب ”جاناں تیرے شہر میں“ میںجن سخت تجربوں کا ذکر کیا ہے اور جس خوبصورت انداز میں پردیس کی غمی اور خوشی کا تذکرہ انہوں نے کیا ہے وہ مکمل افسانوی رنگ ہے۔ پریشانی میں ماں کی یاد اور خوشی میں ”مانو“ کا ذکر قاری کے لئے بڑی دل گداز کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے پروین شاکر کو نسائی جذبات کو زبان دینے والی شاعرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ واصف کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ایک من چلا اور چُلبلا دِل پھینک رائٹر کہنے کو دل چاہتا ہے اُن کو ہم اس ادبی کاوش پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ نیو کاسل انگلینڈ کے میرے اور ان کے تمام دوست اُن کے بہتر مستقبل کے لئے دعاگو ہیں۔ مجھے امید ہے کہ واصف صاحب ہمیشہ اسی سچے جذبے کے ساتھ اپنی قلم کے ذریعے حق سچ کے پیغام کو عام کرتے رہیں گے۔ ہم سب اُن کے لئے دعاگو ہیں۔

 
واصف ملک's Avatar
واصف ملک
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مقام: Lahore
مراسلات: 13
شکریہ: 23
13 مراسلہ میں 50 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 245
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے واصف ملک کا شکریہ ادا کیا
rabab (26-04-10), shafresha (25-04-10), ھارون اعظم (25-04-10), منتظمین (26-04-10), اویسی (26-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (26-04-10), عدنان دانی (26-04-10)
پرانا 25-04-10, 11:28 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ واصف بھائی!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-04-10, 01:59 AM   #3
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,197
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے بھائی ہماری طرف سے شکریہ
قبول کیجئے بٹن دبا کے
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-04-10, 07:45 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب واصف بھائی
اب تو آپ کی کتاب پڑھنی پڑے گی
اور ویسے آپ کا نام دیکھ کر مجھے خیال آ رہا تھا کہ شاید ایک اور واصف علی واصف آ رہا ہے میدان میں

اللہ آپ کی صلاحیتوں میں برکت عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-04-10), ھارون اعظم (26-04-10), منتظمین (26-04-10)
جواب

Tags
پاکستان, پروین شاکر, لندن, چین, مکمل, موجودہ, ماں, محبت, مسائل, آج, اللہ, انداز, اردو, بہترین, خوش, دنیا, شہر, علمی, عنوان, غمی, صفحہ, صلاحیتوں, صاف, صحافی, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تین پٹھانوں کے پولٹری فار م تھے انسپیکشن میں انسپکٹر نے پوچھا The Great قہقہے ہی قہقے 6 29-08-11 11:26 AM
قذافی کے اقتدار نہ چھوڑنے پر عوام مزید مشتعل، وزیرداخلہ اور کئی سفیر ساتھ چھوڑ گئے گلاب خان خبریں 7 24-02-11 09:20 PM
ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا “تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“ بچے The Great قہقہے ہی قہقے 1 28-01-11 02:55 PM
پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:40 AM
دھونی کیجانب سے کپتانی چھوڑنے کی پیشکش ، بھارتی کرکٹ بورڈ کی تردید تفسیر حیدر کرکٹ 0 22-11-08 07:52 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger