واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


آسیہ کا مسئلہ دراصل کیا تھا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-10-11, 10:51 PM   #1
آسیہ کا مسئلہ دراصل کیا تھا؟
عرفان مسلم عرفان مسلم آف لائن ہے 01-10-11, 10:51 PM

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
محمدﷺ کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں گر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
الحمدﷲ! ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی نعمت اور مرکزِ محبت حضور اکرم نور مجسمﷺ کی ذات ہے۔ آپﷺ کی محبت و الفت ہمارے ایمان کی اساس ہے۔ ایک مسلمان اپنے متعلق، اپنے والدین کے متعلق حتی کہ اپنے بچوں کے متعلق تو ہر غلط بات برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے آقا ومولیٰ جان کائناتﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ آپﷺ کی ذات بابرکات تو بہت ہی بلند و بالا ذات ہے۔ آپﷺ سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی بے ادبی اور گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔
گزشتہ کچھ ماہ سے وطن عزیز میں ایک واقعہ زیر بحث ہے اور وہ واقعہ آسیہ نامی عیسائی عورت سے متعلق ہے جس نے 14 جون 2009ء بروز اتوار شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخی کی تھی، جس کی مکمل داستان آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ کو اس واقعہ کی مکمل آگاہی حاصل ہوجائے گی۔
آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی چک نمبر 3 گ ب تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کردار پورے گاؤں میں قابل اعتراض مشہور ہے۔ مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سرعام قابل اعتراض گفتگو کرتی ہے۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ ہوئی تھی۔ جس سے اس کے خاوند کے تین بچے موجود ہیں۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے کی امیدواری ہوئی اور زچگی کے دن قریب آئے تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کرنے اس کے گھر آگئی۔ اپنی بہن کے گھر چند دن رہائش کے دوران اس کے خاوند (جوکہ اب آسیہ کا بھی خاوند ہی بن چکا ہے) سے ناجائز تعلقات قائم کرلئے اور حاملہ ہوگئی۔ والدین نے حمل چھپانے کی غرض سے شادی کرنا چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق مسیح کے سوا کسی اور سے شادی کروانے سے انکار کردیا بلکہ بغاوت کرکے زبردستی عاشق کے گھر رہنے لگی اور عاشق اپنی بیوی کے گھر موجود ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر کرنے لگا۔ اس پر بیوی نے سخت احتجاج کیا تو عاشق نے مار پیٹ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اب اصل بیوی، بے گھر اور سالی گھر والی بن کر زندگی گزارنے لگی۔ (ایسی حرکت پر ہی پنجابی میں کہا جاتا ہے ’’اگ لین آئی تے گھر دی مالک بن بیٹھی) عیسائی مذہب میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں، لیکن آسیہ نے اہل دیہہ اور برادری والوں کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے جانے سے انکار کردیا۔ آسیہ اور عاشق کے اس خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے بھی سخت احتجاج کیا اور ان کا معاشرتی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی اور شادی کا سوانگ رچا ڈالا۔ دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے برعکس عاشق نے آسیہ سے نام نہاد شادی کرلی اور دونوں بہنوں کو اکھٹا اپنے گھر آباد کرلیا جوکہ آج بھی دونوں حقیقی بہنیں عاشق کے گھر آباد ہیں۔ آسیہ قدرے پڑھی لکھی اور ’’روشن خیال‘‘ عورت ہے۔ اسی روشن خیالی کی وجہ سے این جی اوز کی آنکھ کا تارا بن گئی اور علاقے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرنے لگی۔ دیہات میں چونکہ عورتیں کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں، آسیہ نے یہ طریقہ بنا رکھا تھا کہ عورتوں کے ساتھ مزدوری کے بہانے چلی جاتی اور اپنے ساتھ کام کرتی، عورتوں کو باتوں باتوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرتی۔
اسی معمول کے مطابق 14-6-2009 کو گاؤں کی عورتیں ادریس نامی زمیندار کے کھیتوں میں فالسہ کے باغ میں فالسہ توڑنے گئیں، آسیہ بھی ان عورتوں میں موجود تھی۔ عورتیں عام طور پر دوپہر کا کھانا ساتھ ہی کھیتوں میں لے جاتی ہیں۔ جب عورتیں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھیں تو آسیہ نے مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے گلاس میں پانی پی لیا۔ انہوں نے اس کے جھوٹے گلاس میں پانی پینے کی بجائے اپنا سالن والا برتن خالی کرکے اس میں پانی پی لیا۔ اس بات کو آسیہ نے اپنی توہین سمجھ کر دونوں بچیوں کے ساتھ توتکار کرکے مذہبی گفتگو شروع کردی۔ دوران گفتگو آسیہ نے نبی اکرمﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ جن کا خلاصہ اس طرح سے ہے۔
’’تمہارے نبی موت سے ایک ماہ قبل سخت بیمار پڑے رہے۔ حتی کہ تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں (نعوذ باﷲ) کیڑے پڑگئے تھے۔ تمہارے نبی نے مال و دولت کے لالچ میں خدیجہ سے شادی کی اور مال و دولت بٹورنے کے بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ قرآن اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود سے بنائی گئی کتاب ہے‘‘
یہ باتیں مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے علاوہ یاسمین دختر اﷲ رکھا اور کھیت میں موجود دیگر کئی عورتوں نے سنیں تو مسلمان عورتوں کا مشتعل ہونا ایک فطری عمل تھا۔ انہوں نے آسیہ کو اپنا منہ بند رکھنے اور اپنے الفاظ واپس لینے کی بابت کہا، آسیہ کے انکار پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ جھگڑے کا شور سن کر کھیت کا مالک ادریس اوراس کی بیوی جو قریبی ڈیرہ پر موجود تھے، موقع پرآگئے۔ معاملہ سنا اور آسیہ نے مذکورہ بیان شدہ الفاظ کا کہنا تسلیم کیا۔ ادریس نے اسے اپنے کھیتوں میں سے چلے جانے کاکہا تو وہ چلی گئی۔ مسلمان عورتوں نے گاؤں پہنچ کر یہ بات اپنے اپنے گھروں میں کی تو گاؤں میں اشتعال پیدا ہوگیا اور گاؤں کے معزز افراد پر مشتمل پنچائیت اکھٹی ہوئی جس میں عیسائی لوگ بھی موجود تھے۔ آسیہ کو بلاکر مذکورہ گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ان الفاظ کا کہنا تسلیم کیا اور معافی بھی مانگی۔ اس پر گاؤں میں مزید اشتعال پیدا ہوگیا۔ اور لوگ آسیہ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے۔ گاؤں کے نمبردار نے گاؤں والوں کو سمجھایا کہ اس نے جو جرم کیا ہے، اس کی سزا موت ہی ہے۔ جو عدالت اسے دے گی، تم اسے قتل کرکے کیوں اپنے ذمے جرم لیتے ہو اور اس طرح قتل کردیئے جانے سے دیگر ممالک میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا بھی اندیشہ ہے۔ مناسب ہے کہ اسے قانون کے حوالے کردیا جائے۔ نمبردار صاحب کے سمجھانے پر گاؤں والوں نے اس کے خلاف قاری محمد سالم کی مدعیت میں تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں برائے اندراج مقدمہ درخواست گزاری تو 19-6-2010 کو پولیس نے مقدمہ نمبر 326/09 بجرم 295/C درج کرکے تفتیش محمد ارشد ڈوگر SI کے سپرد ہوئی۔ جس نے ریڈ کرکے ملزمہ کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا اور اس کا ڈاکٹری معائنہ کرانے کی استدعا کی لیکن ملزمہ نے ڈاکٹری معائنہ کرانے سے انکار کردیا۔ ملزمہ سے کوئی برآمدگی مطلوب نہ ہونے کی بناء پر اسی دن اسے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرکے جوڈیشل جیل شیخوپورہ بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی اطلاع جب RPO شیخوپورہ رینج کو ہوئی تو اس نے اس مقدمہ کی حساسیت کے پیش نظر بروئے چٹھی انگریزی نمبری 18523-26/Leagalمورخہ 24-6-2009 اس کی تفتیش سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ کے سپرد کردی۔ سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ نے مثل مقدمہ طلب کرکے ملاحظہ کی اور فریقین کو مورخہ 29-6-2009 کو اپنے دفتر طلب کیا۔ 29-6-2009 کو مدعی فریق کی جانب سے گواہان FIR سمیت 27 افراد نے جبکہ ملزمہ کی جانب سے 4 افراد نے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ وہاں پر ملزمہ آسیہ کے خاوند عاشق مسیح نے آسیہ کی برحلف صفائی دینے سے انکار کردیا۔ فریقین کے بیانات سنے جوکہ ضمنی نمبر 3 مرتبہ مورخہ 29-6-2009 میں مفصل درج ہیں۔ بیانات سننے کے بعد ضمنی نمبر 3 پہرہ نمبر 12 میں لکھا کہ ’’معاملہ سنگین ہے، ریڈر خود کو حکم کیا کہ ادریس نامی کاشتکار جس کے کھیتوں میں وقوعہ ہوا ہے، اسے بھی طلب کیا جائے اور ملزمہ جیل میں بند ہے۔ اس سے ملاقات کے لئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست لکھی جائے‘‘ مورخہ 4-7-2009 کو محمد ادریس مذکور نے SP انویسٹی گیشن کے روبرو پیش ہوکر اپنا مفصل بیان ریکارڈ کروادیا جوکہ ضمنی نمبر 4 مرتبہ 4-7-2009 میں مفصل درج شدہ ہے۔ محمد ادریس نے بتایا کہ وقوعہ کے بعد گاؤں میں حاجی علی احمد کے ڈیرہ اکھٹا ہوا جہاں لوگوں کی موجودگی میں ملزمہ نے حضور پاکﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے کا اعتراف کیا۔ جبکہ اسی دن ریڈر SP انویسٹی گیشن نے علاقہ مجسٹریٹ صاحب کی خدمت میں ملزمہ سے جیل میں دریافت حالات کرنے کی اجازت طلب کی جو اسی دن اجازت دے دی گئی تو مورخہ 6-7-2009کو SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ معہ عملہ متعلقہ، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچا، ملزمہ آسیہ سے جیل کے اندر ملاقات کرکے دریافت حالات کی اور اپنی مرتبہ ضمنی نمبر 5 پہرہ نمبر 5 میں لکھا کہ ’’مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں مسمات آسیہ بی بی کا حضور پاکﷺ کی شان میں اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے جو مقدمہ ہذا میں صحیح گنہگار پائی گئی ہے‘‘ اپنی تفتیش مکمل کرکے ملزمہ کو گنہگار لکھ کر مثل واپس تھانہ صدر ننکانہ صاحب ارسال کردی۔ جہاں سے مورخہ12-7-2009 کو محمد ایوب I/SHO تھانہ صدر نے حالات تفتیش مقدمہ کی روشنی میں ملزمہ کو گنہگار قرار دے کر مثل چالان مقدمہ مکمل کرکے ہمراہ بیانات گواہان متعلقہ دفتر میں جمع کرادیا۔ جوکہ معمول کے مطابق 14-9-2009 کو چالان عدالت میں پہنچا اور سماعت جناب نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب کے سپرد ہوئی۔ 3-10-2009 جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ پر فرد جرم عائد کرکے مقدمہ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا۔ استغاثہ کی طرف سے جناب میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ جبکہ ملزمہ کی طرف سے وکلاء کا ایک مضبوط پینل جن میں ایس کے چوہدری، سید رشید حسین اور میاں محمد اجمل ایڈووکیٹس شامل ہیں عدالت میں پیش ہوتا رہا۔ پرائیویٹ گواہان ہر تاریخ پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے رہے لیکن کبھی وکلاء کی ہڑتال اور کبھی معزز جج صاحب کی چھٹی کی وجہ سے کئی ماہ تک گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہوسکے۔ بالاخر 1-6-2010 گواہان استغاثہ قاری محمد سالم، مافیہ بی بی، عاصمہ بی بی، محمد افضل نے 15-6-2010 کو محمد رضوان SI نے، 6-7-2010 محمد ارشد سب انسپکٹر (تفتیشی افسر) اور سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ (تفتیشی افسر) نے 1-10-2010 کو محمد ادریس (جس کے فالسہ کے باغ میں وقوعہ ہوا تھا) نے بطور گواہ عدالت میں پیش ہوکر اپنا اپنابیان قلمبند کروایا۔ جبکہ 20-10-2010 کو ملزمہ کا بیان ریکارڈ ہوا۔ کئی ماہ تک مقدمہ زیر سماعت رہا۔ اسی دوران ملزمہ نے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواست ہائے ضمانت پیش کیں جونامنظور ہوئیں۔ سماعت مکمل ہونے پر ملزمہ گناہ گار ثابت ہوگئی تو مورخہ 8-11-2010 کو جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سنادی۔ ملزمہ کے وکیل رائے اجمل ایڈووکیٹ نے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جناب نوید اقبال صاحب نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران مجھے کوئی تعصب نظر نہیں آیا۔ ملزمہ آسیہ کے دفاع میں شہادت کمزور ہونے کی بناء پر میں نے شہادت عدالت میں پیش نہیں کی۔ وکیل موصوف کا یہ بیان مورخہ 26-11-2010 ملکی اخبارات میں شائع ہوا۔ مکمل پولیس ریکارڈ جس میں مدعی، گواہان، ملزمہ اور پولیس کے مفصل بیانات لگے ہوئے ہیں اور مفصل عدالتی فیصلہ جس میں پورے مقدمہ کا خلاصہ اور حالات و واقعات بیان کرنے کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے، کی فوٹو اسٹیٹ کاپی میرے پاس موجود ہے جس کی روشنی میں یہ تحریر تیار کی جارہی ہے۔
اگلے دن معمول کے مطابق یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو میڈیا میں شور برپا ہوگیا جوکہ آج تک جاری ہے۔ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر صاحب اس سلسلہ میں بہت پیچ و تاب کھارہے ہیں۔ 20-11-2010 کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے اپنی بیٹیوں اور بیوی کو ساتھ لے کر جیل کے اندر ملزمہ سے ملاقات کی۔ ملزمہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کی۔ پولیس اور عدلیہ کی کئی ماہ کی انکوائری اور تحقیقات پر بیٹھے بٹھائے قلم پھیر کر ملزمہ کو بے گناہ قرار دے دیا اور اسے جلد ہی بری کردیئے جانے کی نوید سنا کر اور ایک درخواست پر دستخط کروا کر چلے گئے۔ میڈیا پر یہ خبربھی آچکی ہے کہ ملزمہ کو شیخوپورہ جیل سے کہیں اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایف آئی آر
ابتدائی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری نمبر 15682326/9 تھانہ صدر ننکانہ ضلع ننکانہ صاحب تاریخ وقوعہ 14-4-09
1 تاریخ و وقت رپورٹ بحوالہ 23-19-6-09 بوقت 6/15 بجے شام 6 تھانہ سے روانگی کی تاریخ و وقت اسپیشل پورٹ
2 نام و سکونت اطلاع دہندہ و مستغیث درخواست ازان قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی مرسلہ مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ
3 مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) و مال اگر کچھ کھویا گیا ہے جرم 295/C
4 جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے اور سمت بحد رقبہ چک نمبر 3 اٹانوالی بفاصلہ 7 میل جانب شمال از تھانہ
5 کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں کچھ توقف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جائے بلا توقف
دستخط محمد رضوان ASI عہدہ محرر
(ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو)

نوٹ: اطلاع کے نیچے اطلاع دہندہ کا دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط بطور تصدیق ہونے چاہئیں۔ بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ صدر ننکانہ صاحب جناب عالی گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 3 گ ب اٹانوالی تھانہ صدر ننکانہ صاحب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور مسجد صدیق اکبر میں بطور امام مسجد خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مورخہ 14-6-09 کو بروز اتوار ادریس ولد احمد علی قوم آرائیں سکنہ دیہہ کی زمین میں آسیہ زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے، گاؤں کی دیگر عورتوں جن میں عاصمہ بی بی دختر عبدالستار، مافیہ بی بی دختر عبدالستار، یاسمین دختر اﷲ رکھا شامل ہیں، فالسہ توڑ رہی تھیں، آسیہ الزام علیہا نے کہا آپ مسلمانوں کے نبی (معاذ اﷲ) کیا ہیں، وہ وفات سے صرف ایک ماہ قبل چارپائی پر بیمار پڑے رہے اور تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں کیڑے پڑے اور تمہارے (نبیﷺ) نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہ سے محض مال کی خاطر شادی کی اور مال لوٹنے کے بعد انہیں گھر سے نکال دیا۔ مزید قرآن پاک کے متعلق کہا کہ وہ اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ سب باتیں عاصمہ بی بی، مافیہ، یاسمین مذکوران و دیگران نے مجھے اور گاؤں کے لوگوں کو بتائیں۔ آج مورخہ 19-6-09 کو سائل معہ محمد افضل ولد محمد طفیل قوم گجر، مختار احمد ولد مشتاق احمد قوم راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ الزام علیہا کو بلوایا اور 14-6-09کے وقوعہ کے متعلق آسیہ مذکوریہ سے پوچھا تو اس نے اقرار کیا کہ مجھ سے واقعی میں نے نبی کریم اور قرآن پاک کی توہین کی مرتکب ہوئی ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ آسیہ مذکوریہ ملزمہ نے توہین رسالتﷺ اور توہین قرآن کا ارتکاب کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، دعویدار ہوں، آسیہ ملزمہ مذکوریہ کے خلاف توہین رسالتﷺ اور توہین قرآن پاک کرنے پر مقدمہ درج کرکے کارروائی مطابق قانون کی جاوے عرضے دستخظ اردو قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی تحصیل و ضلع ننکانہ (امام مسجد صدیق اکبر چک نمبر 3 اٹاموالی)
کارروائی پولیس: اس وقت میں معہ کانسٹیبل ارشد علی 842/C کانسٹیبل نبیل نواز 909/C بسواری سرکاری گاڑی نمری 7631/SAG جس کا ڈرائیور محمد یٰسین نمبر 468/C برائے گشت پل نہر چندر کوٹ موجود ہوں کہ مسمی قاری محمد سالم مستغیث مذکور نے میرے پیش ہوکر درخواست مضمون بالا میرے پیش کی میں نے سردست جرم 295/C پائی جاکر درخواست ہذا بغرض اندراج مقدمہ بدست کانسٹیبل محمد ارشد 842/C ارسال تھانہ ہے، مقدمہ درج کرکے نمبر مقدمہ سے اطلاع دی جاوے میں معہ ہمراہی ملازمان بغرض تفتیش روانہ موقع کا ہوتا ہوں۔ نیز اسپیشل رپورٹ ہائے جابجا افسران مجاز بھجوائی جاویں دستخط اردو مہدی حسنASI تھانہ صدر ننکانہ صاحب از پل نہر چندر کورٹ بوقت 5:45 بجے شام
از تھانہ: حسب آمدہ درخواسدت مضمون بالا مقدمہ عنوان بالا درج رجسٹر کرکے اصل درخواست معہ نقل FIR بغرض تفتیش بدست آرندہ کانسٹیبل عقب بوجہ معاملہ سنگین نوعیت محمد ارشد ڈوگر SI ارسال ہے، نیز اسپیشل رپورٹ ہائے جابجا افسران مجاز بھجوائی جارہی ہیں دستخط اردو محمد رضوان ASI محرر تھانہ صدر ننکانہ صاحب 19-6-09




اب ہم اخباری تراشوں سے اس کیس کی تمام صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ وقتاً فوقتاً اس کیس کے سلسلہ میں کیا کیا ہوتا رہا



Last edited by عرفان مسلم; 01-10-11 at 11:31 PM..

عرفان مسلم
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1222
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), گلاب خان (02-10-11), یاسر عمران مرزا (03-10-11), مہتاب (03-10-11), ملک اظہر (04-10-11), wajee (03-10-11), اویسی (03-10-11), اجمل (04-10-11), احمد نذیر (03-10-11), حیدر (02-10-11), سحر (03-10-11), شمشاد احمد (02-10-11), عبدالقدوس (01-10-11)
پرانا 01-10-11, 11:03 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ سلمان تاثیر سے ملاقات کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل




ملعونہ آسیہ نے پہلے اپنا جرم قبول کیا مگر سلمان تاثیر کے سپورٹ پر اس نے اپنا بیان بدل دیا



سلمان تاثیر کی انوکھی منطق، توہین رسالت کا واقعہ ہوا ہی نہیں



کرسمس کے موقع پر کیک کاٹتے ہوئے سلمان تاثیر نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں تبدیلی کے مطالبے پر فخر ہے





گورنر پنجاب سلمان تاثیر ملعونہ آسیہ کو چھڑوا کر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے، فتویٰ





بالآخر سلمان تاثیر کو ان ہی کے محافظ نے قتل کردیا





سلمان تاثیر کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے نہ ہلاکت پر افسوس کیا جائے، علمائے اہلسنت





ممتاز قادری کو ریمانڈ کیلئے ضلع کچہری لایا گیا تو وکلاء نے ان پر پھولوں کی برسات کی اور پھولوں کے ہار پہنائے





ممتاز قادری کی حمایت میں ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے اور ریلیاں، خراج تحسین پیش کیا گیا





راولپنڈی کے ممتاز عالم دین مفتی محمد حنیف قریشی صاحب فرماتے ہیں میں نے گورنر سمیت کسی کو بھی قتل کرنے کی ترغیب نہیں دی

ناموس رسالت قانون میں حضورﷺ، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسٰی، حضرت عزیر علیہم السلام سمیت تمام انبیاء کرام کی گستاخی کی سزا ’’موت‘‘ ہے





الحمدﷲ! غلامانِ مصطفیﷺ کی کوششوں سے لاہور ہائی کورٹ نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم سے روک دیا





سلمان تاثیر کی بیٹی کا بیان! سیکولر پاکستان میرے والد کا خواب تھا




امریکی ارکان کانگریسی، یورپی یونین کا مطالبہ




وزیراعظم اور سیکریٹری اطلاعات کے بیانات میں تضاد




وزیراعظم کے بیان کے باوجود قانون توہین رسالت میں ترمیم کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی کو تحلیل کیوں نہیں کیا گیا





Last edited by عرفان مسلم; 01-10-11 at 11:08 PM.
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
ہادی (02-10-11), گوہر (02-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (03-10-11), ملک اظہر (04-10-11), wajee (03-10-11), اویسی (03-10-11), اجمل (04-10-11), احمد نذیر (03-10-11), حیدر (02-10-11), سام (04-10-11), سحر (03-10-11), عبدالقدوس (01-10-11), عبداللہ حیدر (04-10-11)
پرانا 01-10-11, 11:14 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نوٹ :
یہ مضمون کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ 'تحفظ' کے مارچ 2011 کے شمارے سے لیا گیا،
دو الگ مضامین کے اہم نکات کو یکجا کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔
دونوں مضامین الگ الگ مندرجہ ذیل لنک پر پڑھے جا سکتے ہیں:

عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (08-10-11), ہادی (02-10-11), گوہر (02-10-11), گلاب خان (02-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (03-10-11), ملک اظہر (04-10-11), ملک زوالفقار (02-10-11), wajee (03-10-11), آبی ٹوکول (02-10-11), اویسی (03-10-11), ام احمد (04-10-11), اجمل (04-10-11), احمد نذیر (03-10-11), حیدر (02-10-11), سام (04-10-11), عبدالقدوس (01-10-11), عبداللہ آدم (03-10-11)
پرانا 03-10-11, 10:51 AM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب بھائیوں کا پڑھنے اور پسند فرمانے کا شکریہ
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (03-10-11), ملک اظہر (04-10-11), wajee (03-10-11), اویسی (03-10-11), ام احمد (04-10-11), اجمل (04-10-11), احمد نذیر (03-10-11), اسراراحمد چوہدری (09-10-11), حیدر (03-10-11), سام (04-10-11)
پرانا 03-10-11, 07:35 PM   #5
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہترین شیئرنگ ہے ، اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), نبیل خان (04-10-11), ام احمد (04-10-11), سام (04-10-11)
پرانا 03-10-11, 07:39 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں آپکو ایک عورت کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), فیصل ناصر (03-10-11), نورالدین (06-10-11), نبیل خان (04-10-11), محمدخلیل (04-10-11), ام احمد (04-10-11)
پرانا 03-10-11, 07:50 PM   #7
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,053
شکریہ: 4,379
1,824 مراسلہ میں 6,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
میں آپکو ایک عورت کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں
اور میں آپکی ذہانت و فطانت کی داد دیتا ہوں
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (04-10-11), shafresha (06-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (03-10-11), ملک اظہر (04-10-11), مرزا عامر (03-10-11), ام احمد (04-10-11), اجمل (04-10-11), اسراراحمد چوہدری (09-10-11), سام (04-10-11)
پرانا 03-10-11, 07:51 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اور میں آپکی ذہانت و فطانت کی داد دیتا ہوں
بہت مہربانی شکریہ ۔ جزاک اللہ
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), ملک اظہر (04-10-11), ام احمد (04-10-11)
پرانا 04-10-11, 09:41 AM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب بھائیوں اور بہنوں کا پڑھنے اور پسند فرمانے کا شکریہ،
مرزا عامر صاحب کے حوالے سے صرف اتنی عرض ہے کہ،
دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا جائے تو سمجھ بھی آتی ہے،
مرزا عامر صاحب سے درخواست ہے کہ دلائل سے میری گرفت کیجئے،
اگر نہیں تو
کم از کم دلائل کے ساتھ اتنا تو ثابت کیجئے میں نے کہاں کہاں جھوٹ بولا ہے۔
امید ہے مرزا عامر صاحب دلائل و براہین سے بھرپور جواب دیں گے۔
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (04-10-11), shafresha (06-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (04-10-11), مرزا عامر (04-10-11), آبی ٹوکول (04-10-11), ام احمد (04-10-11), اسراراحمد چوہدری (09-10-11)
پرانا 04-10-11, 02:27 PM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عرفان مسلم مراسلہ دیکھیں
سب بھائیوں اور بہنوں کا پڑھنے اور پسند فرمانے کا شکریہ،
مرزا عامر صاحب کے حوالے سے صرف اتنی عرض ہے کہ،
دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا جائے تو سمجھ بھی آتی ہے،
مرزا عامر صاحب سے درخواست ہے کہ دلائل سے میری گرفت کیجئے، اگر نہیں تو
کم از کم دلائل کے ساتھ اتنا تو ثابت کیجئے میں نے کہاں کہاں جھوٹ بولا ہے۔
امید ہے مرزا عامر صاحب دلائل و براہین سے بھرپور جواب دیں گے۔
میں کیوں کسی کی گرفت کرنے لگا۔ پاکستان جیسا ملک کوئی نہیں ۔ اتنا آزاد کہ جب چاہو اور جو چاہو کر گزرو پوچھنے وال کوئی نہیں ۔
آسیہ نے جو کچھ کیا اس کا حال آنکھوں سے نہ آپ نے دیکھا نہ میں نے اور ابھی شاید اس کا کیس چل رہا ہے ۔ اگر اس عورت نے گستاخی رسول کر بھی دی تھی تو اس کا اس کی نجی زندگی سے کیا تعلق۔ آپ نے تو اس کے راز ایسے فاش کیئے کہ جیسے آپ نے اس کا ہر روز کا معمول اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اپنی ڈائری میں لکھا تھا
مجھے تو آپ کی بیان کردہ مندر جہ ذیل حدیث موضوع لگتی ہے
اقتباس:
آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی چک نمبر 3 گ ب تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کردار پورے گاؤں میں قابل اعتراض مشہور ہے۔ مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سرعام قابل اعتراض گفتگو کرتی ہے۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ ہوئی تھی۔ جس سے اس کے خاوند کے تین بچے موجود ہیں۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے کی امیدواری ہوئی اور زچگی کے دن قریب آئے تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کرنے اس کے گھر آگئی۔ اپنی بہن کے گھر چند دن رہائش کے دوران اس کے خاوند (جوکہ اب آسیہ کا بھی خاوند ہی بن چکا ہے) سے ناجائز تعلقات قائم کرلئے اور حاملہ ہوگئی۔ والدین نے حمل چھپانے کی غرض سے شادی کرنا چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق مسیح کے سوا کسی اور سے شادی کروانے سے انکار کردیا بلکہ بغاوت کرکے زبردستی عاشق کے گھر رہنے لگی اور عاشق اپنی بیوی کے گھر موجود ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر کرنے لگا۔ اس پر بیوی نے سخت احتجاج کیا تو عاشق نے مار پیٹ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اب اصل بیوی، بے گھر اور سالی گھر والی بن کر زندگی گزارنے لگی۔ (ایسی حرکت پر ہی پنجابی میں کہا جاتا ہے ’’اگ لین آئی تے گھر دی مالک بن بیٹھی) عیسائی مذہب میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں، لیکن آسیہ نے اہل دیہہ اور برادری والوں کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے جانے سے انکار کردیا۔ آسیہ اور عاشق کے اس خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے بھی سخت احتجاج کیا اور ان کا معاشرتی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی اور شادی کا سوانگ رچا ڈالا۔ دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے برعکس عاشق نے آسیہ سے نام نہاد شادی کرلی اور دونوں بہنوں کو اکھٹا اپنے گھر آباد کرلیا جوکہ آج بھی دونوں حقیقی بہنیں عاشق کے گھر آباد ہیں۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), نورالدین (06-10-11)
پرانا 04-10-11, 02:57 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,834
شکریہ: 7,286
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بکواس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہوسکتا ہے اللہ اور اس کا رسول صلعم معاف کر دیں
پر نام نہاد جاہل علما قتل کر کے ہی دم لینگے۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), فیصل ناصر (25-02-12), کنعان (09-10-11), نورالدین (06-10-11), مرزا عامر (04-10-11)
پرانا 04-10-11, 03:14 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,460
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گستاخ رسول کو تو کعبہ کے غلافوں میں چھپ کر بھی پناہ نہ ملی بلکہ آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کعبہ ہی میں قتل کرنے کا حکم دیا
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (04-10-11), shafresha (06-10-11), ننھا بچہ (04-10-11), ام احمد (04-10-11), احمد نذیر (04-10-11), رضی (06-10-11)
پرانا 04-10-11, 05:37 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب سے پہلے تو میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ مرزا عامر صاحب کے مندرجہ ذیل الفاظ پر غور فرما کر مناسب کاروائی عمل میں لائی جائے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
مجھے تو آپ کی بیان کردہ مندر جہ ذیل حدیث موضوع لگتی ہے
واضح رہے کہ معاذاللہ میں نے اپنے کسی بھی مراسلے میں آسیہ کے واقعہ کو حدیث نہیں کہا، تو مرزا عامر صاحب نے کیسے میرے الفاظ کو میرے پیارے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
میں کیوں کسی کی گرفت کرنے لگا۔ پاکستان جیسا ملک کوئی نہیں ۔ اتنا آزاد کہ جب چاہو اور جو چاہو کر گزرو پوچھنے وال کوئی نہیں ۔
جی جی بالکل،
قانون کو سر عام کالا قانون کہتے پھرو،
پھر اپنے اس قول کا دفاع کرو،
گھر سے نکلنے تک کے لئے قانون کے رکھوالوں کے محتاج ہونے کے باوجود، وہی قانون جس کے وہ رکھوالے ہیں اس کا میڈیا پر مذاق اڑاتے پھرو،
جیل میں سے سزائے موت کے قیدیوں سے ملاقاتی ٹائم اور حدود و قیود کی پرواہ کیے بغیر ملاقاتیں کرو،
یہ سب مزے پاکستان میں ہی تو ہیں،
آپ حکم فرمائیں تو اور مثالیں بھی پیش کردوں گا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
آسیہ نے جو کچھ کیا اس کا حال آنکھوں سے نہ آپ نے دیکھا نہ میں نے اور ابھی شاید اس کا کیس چل رہا ہے ۔ اگر اس عورت نے گستاخی رسول کر بھی دی تھی تو اس کا اس کی نجی زندگی سے کیا تعلق۔ آپ نے تو اس کے راز ایسے فاش کیئے کہ جیسے آپ نے اس کا ہر روز کا معمول اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اپنی ڈائری میں لکھا تھا
جناب آپ تھوڑی سی زحمت فرما کر خود اس گاؤں چلے جائیے فرسٹ ہینڈ انفارمیشن مل جائے گی جناب کو، جو شاید جناب فورم پر بھی نہ شئیر کر پائیں، یا پھر سپریم کورٹ میں کیس دائر کردیجئے ہتکِ عزت کا، آسیہ کی مدعیت میں، وہاں فورم سے تو بہتر ہی فیصلہ ہوگا
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عرفان مسلم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), نبیل خان (04-10-11), مہتاب (04-10-11), ملک اظہر (06-10-11), آبی ٹوکول (04-10-11), اسراراحمد چوہدری (09-10-11)
پرانا 04-10-11, 05:45 PM   #14
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,053
شکریہ: 4,379
1,824 مراسلہ میں 6,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=عرفان مسلم;461032]سب سے پہلے تو میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ مرزا عامر صاحب کے مندرجہ ذیل الفاظ پر غور فرما کر مناسب کاروائی عمل میں لائی جائے۔ واضح رہے کہ معاذاللہ میں نے اپنے کسی بھی مراسلے میں آسیہ کے واقعہ کو حدیث نہیں کہا، تو مرزا عامر صاحب نے کیسے میرے الفاظ کو میرے پیارے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیا۔
اور میں اس مطالبہ میں عرفان مسلم کاحامی ہوں میری نظر میں ایسا رویہ بطور طنز بھی ناجائز ہے ۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
مجھے تو آپ کی بیان کردہ مندر جہ ذیل حدیث موضوع لگتی ہے
اور مرزا صاحب کو یقینا ان الفاظ پر شرم آنی چاہیے ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), مہتاب (04-10-11), مرزا عامر (04-10-11)
پرانا 04-10-11, 05:57 PM   #15
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پہلے آپ حدیث کا مطلب ڈکشنری میں دیکھ لیں کہ حدیث ضروری نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہو۔ جی موجوع حدیث سے میری مراد من گھڑت واقعہ ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-10-11), نورالدین (06-10-11)
جواب

Tags
فوٹو, کورٹ, پولیس, پاکستان, واقعات, قرآن, لوگ, نظر, موت, منتقل, مجید, محبت, مسجد, آج, اکبر, ایمان, الزام, احتجاج, اردو, بچوں, جیل, جرم, دریافت, عورت, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پنجاب کے وزیر نے کہا تھا آسیہ کے پاس جانا گورنر کو مہنگا پڑیگا، فوزیہ وہاب گلاب خان خبریں 1 08-01-11 12:41 PM
گورنرپنجاب نے توہین رسالت قانون کو کالا قانون کہا تھا،اس لئے انہیں قتل کیا، ملک ممتاز حسین قادری گلاب خان خبریں 0 05-01-11 07:00 AM
جس طرف سے آیا تھا اسیلاب،واپس کر دیا عبداللہ آدم شعر و شاعری 0 12-07-10 11:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger