واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ابھی خطرہ بدستور منڈلارہا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-12-10, 05:52 AM   #1
ابھی خطرہ بدستور منڈلارہا ہے
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 29-12-10, 05:52 AM

محمد احمدسبزواری
”کیا پاکستان جیسا غریب ملک چھ اسمبلیاں، چار گورنر، چار وزرائے اعلیٰ، چھ سپیکر (چیئرمین سینٹ سمیت) 250 وزراء اور 787 ممبران کا خرچہ برداشت کرسکتا ہے۔ 50لاکھ بچے اسکول نہیں جاسکتے۔ 8کروڑ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ہر دفعہ ڈھائی تین سال بعد اسمبلیاں توڑ کر الیکشن ہوتے رہے جو خرچہ 5سال میں ہوتا وہ صرف ڈھائی سال میں کرنا پڑے گا۔ ایم این اے، سینیٹرز ، وزراءکو جو پلاٹ پانچ سال میں ملنے ہوتے وہ صرف ڈھائی سال بعد آنے والی ہر نئی اسمبلی کے ممبران کو دئیے جاتے ہیں۔ ہر نیا منتخب ہونے والا وزیر اعظم، وزیراعلیٰ ان ممبران کو اپنے ساتھ چمٹانے کے چکر میں ان پر نوازشات کی بارش کرتا ہے۔“
مندرجہ بالا الفاظ بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے ہیں جو انہوں نے آج سے 33-32 سال قبل کہے تھے۔ اس دوران ایک گورنر، ایک اسپیکر اور ایک وزیر اعلیٰ کا اضافہ ہوگیا۔ باقی حالات حسب سابق بلکہ بدتر اور نئے الیکشن کی ہوائیاں بھی اڑتی رہتی ہیں، مہنگائی ضرور بڑھ گئی ہے غریبوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سال رواں کا بجٹ نصف، سال گزرنے کے باوجود ڈانوں ڈول ہے، اپنے پچھلے کالم میں، میں نے وزیر خزانہ کی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ یہ ختم ہونے کے بجائے اور زیادہ سنگین ہوچکی ہیں۔ وزیر خزانہ نے اپنی وزارت میں اہم تبدیلیاں کی ہیں مگر ان سے حالات سدھرنے کی توقع کرنا خوش فہمی ہوگئی۔ ٹیکسوں کی آمدنی گھٹ رہی ہے۔ جولائی سے دسمبر کے دوسرے ہفتے تک 550 ارب روپے وصول ہوئے جبکہ پہلی ششماہی کا ہدف 652 ارب تھا۔ کیا تین ہفتوں میں جن میں محرم اور 25دسمبر کی چھٹیاں بھی شامل ہیں۔ 102 ارب روپے وصول کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔
البنیاد سیلز ٹیکس کی تجویز نے ایک ایسی کڑوی گولی کی شکل اختیار کرلی ہے جس کو بعض سیاسی پارٹیوں کے ارکان، تاجر نگلنے کیلئے تیار نہیں۔ حکومت اسی وجہ سے سیلز ٹیکس کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ بل کی نا منظوری کی صورت میں حکومت کو عدم اعتماد کے ووٹ کے سامنا کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی میں 19ویں ترمیم کے بل کی منظوری سے بھی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوتی نظر نہیں آرہی، حالانکہ اس کو 258 ووٹ ملے اور صرف ایک ووٹ مخالفت میں آیا جبکہ قومی اسمبلی میں پی پی پی کے صرف 128ممبر ہیں یعنی 130 ارکان کا تعلق دوسری پارٹیوں سے تھا مگر آر جی ٹی ایس ٹی پر اس کو ان 130 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی توقع نہیں۔
وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اگر آر جی ایس ٹی کا نفاذ نہیں ہوتا تو بجٹ میں مزید40ارب کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فلڈ سرچارج سے30ارب اور اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی سے 12ارب روپے سے محروم ہو جائے گا اور بجٹ کا خسارہ بڑھتا رہے گا۔ 12دسمبر تک بجٹ کا خسارہ 355ارب روپے تک پہنچ چکا تھا اگر اس میں سے وہ رقم نکال دی جائے جو صوبوں سے حاصل ہوئی تو بجٹ کا خالص خسارہ 350ارب روپے رہتا ہے۔
جب آمدنی میں تخفیف ہو رہی ہو اور اخراجات میں اضافہ تو لازمی نتیجہ قرض کا سہارا لینا ہوتا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ”حکومت اب تک 1500روپے کے قرضے لے چکی ہے اس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں جون 07 سے اکتوبر2010 تک مہنگائی کی شرح 66 فیصد تھی جبکہ جون03 سے جون2007 تک یہ شرح 36 فیصد تھی اس طرح 07 سے 2010 تک مہنگائی کی شرح دگنی ہو گئی۔ سسٹم میں پیسہ نہیں، نوٹ چھاپ چھاپ کر مالیات کو چلایا جا رہا ہے۔ بنکوں کے نان فارمنگ قرضے بڑھ رہے ہیں۔ مانیٹری پالیسی نے مجموعی عدم توازن کو درست کرنے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن حکومت کی دوسری پالیسیاں اس ضمن میں معاون نہیں رہیں اگر بنک اقدام کر کے انٹریسٹ کی شرح نہ بڑھاتا تو مہنگائی اور زر مبادلہ کے ذخائر کی صورت حال بدتر ہوتی۔ صوبائی حکومتوں کے لئے بنک نے قرض کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ مگر وفاقی حکومت کے قرضے روکنے کی ذمہ داری پارلیمینٹ کی ہے ۔ بنک کو یہ اختیار دینے کا قانون قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے اب سینٹ میں منظوری کے لئے پیش ہے۔ منظوری کے بعد ہماری ذمہ داری ہو گی پھر ہم دیکھیں گے۔ نجی شعبے کو سستے قرض کی دست یابی سے پیداواری صلاحیت میں بہتری آتی اور پیداواری خلا کم ہوتا لیکن امن و امان کی صورتحال اور گزشتہ تین سال میں توانائی کے شعبے کی مشکلات کے پیش نظر اس بات کا امکان نہیں تھا کہ ملک میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہوتا“ ۔
صنعت کاروں نے انٹریسٹ میں اضافے کو سرمایہ کاری کے لئے مضر قرار دیا، افراط زر کی شرح بھی20 فیصد ہو گئی ہے۔ زیادہ تر اضافہ غذائی اشیاء میں ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے غریبوں اور کم آمدنی والے طبقوں کا سارے کا سارا بجٹ غذا پر صرف ہو جاتا ہے اس وقت پیاز 65-60 روپے کلو فروخت ہورہی ہے ایک انڈا8 روپے کا ہے۔ چینی کا کرشنگ سیزن شروع ہو چکا ہے مگر چینی کی قیمت میں کمی کا کوئی رجحان نظر نہیں آتا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں خشک میوہ کھانے سے خون کا دباﺅ بلند نہیں ہوتا، کھانے کا سوال تو بعد میں آتا ہے ان کی قیمتیں سنتے ہی فشار خون بڑھ جاتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بحران سے نمٹنا آسان نہیں، اقتصادی استحکام اور بہتری کے لئے غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے۔ چنانچہ ایک فیصلہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ2ئ1روپے سے بڑھا کر 2روپے فی یونٹ کر دیئے جائیں ۔
بہرحال 31دسمبر تک آر جی ایس ٹی منظور ہونے کا امکان نہیں ، ہو سکتاہے کہ نجی شعبے کی جانب سے اس کی مخالفت کی وجہ وہ سزا یا جرمانہ ہو جو کسی ایسے شخص پر عائد کیا جائے جو ایف بی آر میں جھوٹی یا جعلی دستاویز جمع کرائے، ٹیکس گوشوارے کو مسخ یا تبدیل کرے، غلط معلومات ظاہر کرے، جھوٹی یا جعلی دستاویز جاری یا استعمال کرے اس پر 25ہزار روپے جرمانہ یا100فی صد ٹیکس ادا کرنا یا5سال کی قید بھگتنا ہوں گی، جرمانہ اور سزا دونوں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ان میں آسانی سے نرمی کی جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر جنرل سیلز ٹیکس نہ لگا تو کیاصورت ہو گی۔ اول یہ کہ ہم آئی ایم ایف کے وفد سے جو اگلے ہفتے آنے والا ہے، مزید استثنا کی درخواست کریں اور وہ کچھ اور شرائط لگا کر ہماری درخواست منظور کر لے، دوسری صورت یہ کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی پر نقد اقساط کی ادائیگی روک دے اور صرف منصوبوں کے لئے قرضے دیتا رہے اس صورت میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے لگیں گے، روپے کی شرح گر جائے گی، اور قرضوں کی ان رقوم میں (کوئی اضافہ رقم لئے بغیر) اضافہ ہو جائے گا افراط زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا ۔
آج سے 35/30سال قبل مرحوم ڈاکٹر محبوب الحق نے کہا تھا کہ ملک میں22 خاندانوں کا راج ہے، آج یہ بائیس سو ہو گئے ہیں۔ یہ اپنی تقریروں، تحریروں میں عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ملک کے محب وطن رہنما ہیں۔ یہ غربت، کرپشن، مہنگائی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، مگر ذاتی طور پر نہ تو سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں اور نہ ٹیکس، بلکہ طرح طرح کی سرکاری مراعات حاصل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں یہ اس سنگین موقع پر اپنے مالی اثاثوں کے توسط سے ملک کو موجودہ بحران سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اور آنے والے خطرے کو ٹال سکتے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,194 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 109
Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, پاکستان, وزیر, قید, نظر, مہنگائی, موقع, موجودہ, آبادی, آج, اللہ, ترمیم, خون, خوش, خلاف, خان, درخواست, سال, شخص, صوبوں, صوبائی, صورتحال, صلاحیت, صاف, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جاپان کے منفرد تہوارحنا مستوری کا احوال ام غزل عورت کہانی 1 13-11-11 04:42 PM
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے عبدالقدوس سیاسی تصاویر اور ویڈیوز 0 20-12-10 07:33 AM
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ ھارون اعظم شعر و شاعری 6 07-02-10 02:00 PM
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ اردو ایس ایم ایس Real_Light ایس ایم ایس 6 09-11-09 07:37 PM
قائد اعظم کا تاریخی خطاب دستور ساز اسمبلی Real_Light 14اگست 1 05-08-09 05:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger