واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


اسامہ۔ ایک نقطہ نظر...سلطان محمود ضیاء

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-05-11, 08:32 AM   #1
اسامہ۔ ایک نقطہ نظر...سلطان محمود ضیاء
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 18-05-11, 08:32 AM

کٹہرا کے نام سے روزنامہ جنگ میں لکھنے والے جناب خالد مسعود خان 11 مئی ”المیہ“ کے عنوان سے اپنے کالم میں تحریر کرتے ہیں کہ ”اسامہ بن لادن کے خیالات، اقدامات اور طریقہ کار سے بے شمار اختلافات رکھتا ہوں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے نزدیک امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل وہ ہرگز نہیں ہے جو اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے طے کررکھے ہیں اور اپنے خودساختہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ دنیا کے دیگر حکمرانوں کی طرح اسامہ نے وائٹ ہاؤس میں سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا تھا۔ 1980 سے 1989 تک اسامہ بن لادن نے افغان جہاد میں جانی اور مالی طور پر جو بے مثال قربانیاں پیش کی تھیں وہ بھی مسلمانوں کی آزادی اور اسلامی نظام کی خاطر تھیں، وہ سوڈان بھی اسی مقصد کیلئے گئے تھے کہ وہاں کی اسلامی حکومت کا ہاتھ بٹاسکیں اور صومالیہ و دیگر افریقی ممالک میں امریکی تسلط کو ختم کرنے کیلئے کردار ادا کرسکیں۔ سوڈان کے بعد انہوں نے افغانستان میں رہنا اس لئے پسند کیا تھا کہ وہاں طالبان نے اسلامی نظام قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نائن الیون کا واقعہ تو بعد کا ہے، اس سے پہلے 21 اگست 1998 میں ستر سے زائد کروز میزائلوں کے ذریعے افغانستان پر اور خرطوم کی ادویہ ساز فیکٹری، الشفاء پر طیاروں کے ذریعے حملے کیوں کئے گئے؟ جولائی 1998 نیروبی اور دارالسلام بم حملوں سے 11 ستمبر 2001 ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں تک دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کا اسامہ بن لادن نے اقرار نہیں کیا اور نہ ہی آج تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لایا جاسکا ہے کہ یہ حملے اسامہ نے ہی کرائے ہیں، مان لیتے ہیں افغانستان پراسامہ کی وجہ سے حملہ ہوا لیکن کیا سوڈان کی تقسیم بھی آج اسامہ ہی کی وجہ سے ہوئی ہے؟
اسامہ عالم اسلام کو یہ سوچ اور فکر دینا چاہتے تھے کہ غیروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے اندر صلاحیت پیدا کی جائے، عالمی طاقتوں کی بے ساکھیوں پر چلنے کے بجائے اپنے قدموں پر چلنا سیکھا جائے، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی یہودی مالیاتی اداروں کے سودی جال میں پھنسنے کے بجائے اپنے وسائل کو بروئے کار لایا جائے، غلامی کے طوق گلے سے اتارکر اپنی آزادی اور خودمختاری کے جھنڈے بلند کئے جائیں۔ ان کا بنیادی نقطہ نظر عالم اسلام کو سائنسی، سیاسی، معاشی، اقتصادی، نظریاتی، فکری اور دفاعی خودمختاری دلانا تھا اور اسی فکر میں وہ ساری زندگی کوشاں رہا، وہ اسلام دشمن طاقتوں کی ظاہری اور خفیہ تمام سازشوں اور حربوں کو باریکی کے ساتھ سمجھتا تھا اور ان کو سامنے رکھ کر نقشوں اور دلیلوں کے ساتھ مسلمانوں کو سمجھانے کی تگ و دو کررہا تھا۔ نائن الیون کے بعد اسامہ کی حوالگی کا مطالبہ سامنے آیا تو ملا عمر نے پانچ سو جید علماء اور دانشوروں کا کمیشن بٹھایا جنہوں نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ اسامہ کے خیالات، نظریات، پالیسیاں نہ تو اسلامی اصولوں کے خلاف تھیں اور نہ ہی اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف، کیونکہ وہ افغانستان، عراق، کشمیر، حرمین شریفین، فلسطین اور دیگر مسلم مقبوضات کی آزادی اور غیرملکی تسلط اور قبضہ سے چھڑانے کی بات کرتا تھا۔ ترجیحی بنیادوں پر ان کی توجہ قبلہ اول پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، ان کے آخری وڈیو پیغام میں بھی یہ بات شامل ہے کہ ”فلسطین کی سیکورٹی کے بغیر امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی“ اگر اسامہ بن لادن کا یہ ایجنڈا خودساختہ ہے تو پھر خالد مسعود خان اور ان جیسے دیگر دانشور محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، نورالدین زنگی،صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان کے عمل کو کیا نام دیں گے؟ اور اسلام کے فلسفہ جہاد کے متعلق ان کی کیا رائے ہوگی؟

اسامہ ایک نقطہ نظر
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

Last edited by سیفی خان; 18-05-11 at 09:07 AM..

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 197
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-05-11), مرزا عامر (18-05-11)
پرانا 18-05-11, 11:40 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ امر ہو گیا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 18-05-11, 12:17 PM   #3
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلا م علیکم ! اے مرد مسلمان ذرا سوچ
محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، نورالدین زنگی،صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان کے عمل کو کیا نام دیں گے؟ اور اسلام کے فلسفہ جہاد کے متعلق ان کی کیا رائے ہوگی؟ جبکہ قرآن پاک کے تقریبا 10 پارے ہمیں جہاد کا سبق دے رہے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ
سیفی خان! جزاک اللہ خیرا
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

Last edited by skjatala; 18-05-11 at 12:19 PM.
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
skjatala کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (23-05-11)
جواب

Tags
پسند, نظر, مقصد, مسائل, آج, آزادی, امریکہ, اسلامی, بے, تحریر, ثبوت, حل, خلاف, خان, دنیا, زندگی, طالبان, علماء, عنوان, عالم, عالمی, غیرملکی, غلامی, صومالیہ, صلاحیت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:37 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger