
اس بچے اور ماں کو غور سے دیکھیں
اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے باہر تصویر بنواتے وقت ان کے چہرے پر کتنی طمانیت ہے ۔تسکین ہے ۔ کس بات کی ۔ اس پناہ تک پہنچنے کی۔ یا اس پناہ گاہ کے دریافت ہونے کی ۔ یا اسامہ بن لادن کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی ۔
اور بھی بہت سے پاکستانی اس تاریخی مقام پر پہنچ رہے ہیں ۔ تصویر یں بنوا کر یاد گار لمحات کو محفوظ کر رہے ہیں اور شاید سمجھ رہے ہیں کہ وہ تاریخ کے اوراق میں داخل ہو رہے ہیں یہ اسامہ بن لادن سے عقیدت کا اظہار ہر گزنہیں ہے کیونکہ اس کی زندگی میں یہ لوگ کبھی بھی اس بلڈنگ کے پاس نہ آتے ۔ خود نہ آتے یا آنے نہ دیئے جاتے یہ ہماری نفسیات ہے ۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کی اس عجیب و غریب کرشمہ ساز شخصیت کا عروج بھی ایسا ہی پراسرار تھا جیسا زوال ۔ اس کا ظہور بھی غیوب تھا اور غیوب بھی ظہور ۔ اس کی زندگی میں بھی جو ا س کے پرستار تھے اس کے مجاہدانہ عزائم کے مداح تھے ۔ اس کا اس وقت بھی ان سے کوئی رابطہ نہ تھا نہ انہیں یہ علم تھا کہ اسامہ کے بالآخر کیا مقاصد ہیں اگر امریکہ ان تمام مقامات سے نکل بھی جائے گا تو مسلم دنیا میں کس قسم کا معاشرہ قائم کرنا اس کا خواب تھا ۔ افغانستان کے پسماندہ لوگوں کے لئے اسکول ، ہسپتال ، سڑکیں بنانا اس کے پروگرام میں شامل تھا یا نہیں ۔ القاعدہ کی خبریں پیغامات بھی ان تک مغربی خبررساں اداروں کے ذریعے پہنچتے تھے ۔ ہم میں سے کسی نے القاعدہ کا دفتر دیکھا نہ عہدیدار پھر بھی ہم میں سے بہت سوں کو کو اس شخصیت سے اس تنظیم سے ہمدردی تھی ۔ اس لئے کہ کوئی تو ہے جو امریکہ سے ٹکر لے رہا ہے لیکن ہم میں سے کتنے تھے جو واقعی اس تنظیم کے رکن بن کر اس جہاد میں شریک ہونا چاہتے تھے ۔
اقبال نے بھی یہی کہا تھا ۔ وہ ایک مرد تن آساں تھا ۔ تن آسانوں کے کام آیا ۔ ہم ہیروز کے پرستار ہیں جو پسند نہ آئے اس کے لئے مردہ باد۔ اسے غدار ۔ خارج از اسلام کر دیتے ہیں ۔ لیکن خود سانیت کے لئے ۔ انسانی فلاح کیلئے کچھ کرنے کے قائل نہیں ہیں ۔ ہمارے وہ بادشاہ جنہیں ہم مسلم حکمراں کہتے نہیں تھکتے ۔وہ بھی محلات تعمیر کرتے تھے ۔ قلعے بناتے تھے ۔ یا مقبرے کھڑے کرتے تھے ۔ شاندار مسجد یں بنوا دیتے تھے ۔ لیکن عام انسانوں کے لئے ہسپتال ، تعلیمی ادارے ان کی ترجیحات میں نہیں تھا ۔ یہ ساری عمارات اب یاد گار ہیں ۔ سیاحوں کے کام آتی ہیں ۔ یا پھر یادگارتصاویر بنوانے کے لیے ۔
یہی کمپاؤنڈ انسانیت کے کس کام آیا یا آئے گا ۔ابھی تو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت اس کمپاؤنڈ کو گرانا چاہتی ہے ۔ بالکل درست ہے ۔ ورنہ یہ ایک اور قلعہ یا یاد گار بن کر رہ جائے گی ۔ بہتر تو یہ ہے کہ یہاں کوئی بڑا ہسپتال بنا دیا جائے ۔ تاکہ علاقے کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیتیں میسر آ سکیں ۔ یا پھر اسے یونیورسٹی میں تبدیل کر دیں اور یہاں یہ تعلیم دی جائے کہ جنت میں جانے کے اور بھی راستے ہیں ۔ صرف خود کش دھماکا ہی نہیں ۔ دہشت گردی ہی نہیں ۔ انسانوں کو ہلاک کرنا ہی نہیں ۔
یہ بھی پڑھایا جائے کہ اگر امریکہ کا واقعی مقابلہ کرنا ہے ۔ بھارت کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔ تو ہم چین کا راستہ اختیار کریں ۔اپنے آپ کو جدید قدیم علوم میں ۔ ٹیکنالوجی میں ۔ سائنس میں ۔ صنعت و حرفت ۔ ہوا بازی ۔ جہاز رانی ۔ دوا سازی میں آگے لے جائیں ۔ صرف ٹاک شوز میں زیادہ اونچی آواز میں بولنے ۔ پارٹیوں سے اتحاد قائم کرنے ، توڑنے سے امریکا اور بھارت کا مقابلہ نہیں ہو گا ۔ نہ صرف ایٹم بم کی صلاحیت رکھنے ۔ دفاعی طور پر طاقت ور ہونے سے ۔ تہذیب ۔ تمدن ۔ معیشت میں آگے بڑھنا ہو گا ۔ بیٹوں بیٹیوں ۔ پوتوں پوتیوں ، نواسوں نواسیوں کو گلوبل دنیا کے برابر چلنے کی تربیت دینا ہو گی ۔ میٹرک تک مفت اور لازمی تعلیم ۔ جاگیرداریوں کا خاتمہ ۔سرداریوں کو خداحافظ کہنا ہو گا۔ تبھی ایک ایک ووٹ کا مقصد حقیقی معنوں میں استوار ہو گا دوسروں کی لڑائیاں نہ لڑیں ۔ دوسروں کے ہیروز کی پرستش نہ کریں ۔
ماخذ : محمود شام ، چیف ایڈیٹر اے آر وائی نیوز