| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 518
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-10-09), فاروق سرورخان (05-10-09), yousafdummar (04-10-09), حسنین ایوب (08-10-09), راجہ اکرام (05-10-09), سحر (04-10-09), شاہد جمیل حفیظ (09-10-09), عامرشہزاد (04-10-09), عادل سہیل (04-10-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام میں قانون سازی
اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، یہ آیت تو ہم کو بتاتی ہے کہ سارے معاملات میں آخری اور فیصلہ کن چیز اللہ اور اسکے رسول کے احکامات ہیں۔ تو کیا ایک اسلامی نظام میں کسی شخص یا ادارہ کو اس بابت فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ اس باب میں منشائے شریعت کیا ہے اور یہ کہ کیا ہم قانون سازی کے معاملہ میں بالکل ہی ختم کر دئیے گئے ہیں ۔ ہمارا اپنا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ کیا داڑھہ نہ رکھنا قابل سزا جرم ہوگا؟ کیا پردہ نہ کرنے پر تعزیر ہوگی؟ کیا چوری کرنے کی صورت میں ہر صورت میں ہاتھ کاتے جائیں گے؟ کیا اگر مرد و عورت معمولی درجے کی فحش حرکات میں ملوچ پائے جائیں تو انکو رجم کی ہی سزا ملے گی؟ کیا اسلامی احکامات اس قدر ہی سخت اور ناقابل تبدیل ہیں کہ حالات و واقعات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور چاہے جو مرضی ہو جائے ان کو لاگر کرنا لازمی ہوتا ہے؟ کیا ان قوانین کو ہم تبدیل کر سکتے ہیں؟ کیا ان قوانین پر عمل درآمد کو ہم روک سکتے ہیں؟ کیا یہ مُلا ہی ان قوانین کو لاگر کریں گے؟ کیا ان قوانین کی تشریح و توضیح ان ملاؤں کے ہی ہاتھ ہوگی؟ انشا اللہ اگلی پوسٹ میں ۔ ۔ ۔ میں اسلام مئیں قانون سازی اور اس کے اصولوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-10-09), yousafdummar (04-10-09), حسنین ایوب (08-10-09), راجہ اکرام (05-10-09), سحر (04-10-09), عامرشہزاد (04-10-09) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,504
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلامی حکومت کو سب سے پہلے فلاحی حکومت ہونا ضروری ہے ۔
آپ اپنے مضمون میں ان نکات پر بھی اظہار خیال کریں تو بہتر ہوگا ۔ پاکستان اسلامی فلاحی مملکت پاکستان اسلامی فلاحی مملکت |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-10-09), حیدر (05-10-09) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,504
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلامی حکومت کو سب سے پہلے فلاحی حکومت ہونا ضروری ہے ۔
آپ اپنے مضمون میں ان نکات پر بھی اظہار خیال کریں تو بہتر ہوگا ۔ پاکستان اسلامی فلاحی مملکت پاکستان اسلامی فلاحی مملکت |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-10-09), حیدر (05-10-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بدر بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے اور ہر شر اور ہر شریر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ بدر بھائی
ماشاء اللہ اچھا موضوع ہے اللہ قبولیت بخشے۔ ابھی صرف سرسری دیکھا ہے اس لئے کچھ کہہ نہیںسکتا، تفصیل سے پڑھ کر مزید بات ہو گی، اللہ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-10-09), حیدر (05-10-09) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ممکنہ طور پرمیرے مضمون سے ایک غلط فہمی کا احتمال ہو سکتا ہے چناچہ بہتر ہوگا اسکی وضآحت کر دوں
میری اس مضمون کا ما حاصل یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے عام معاملات سب سے پہلے دین کا علم رکھنے والے حضرات یعنی علما کے پاس لے جانے کا حکم ہے۔ لیکن جو معاملات حکومتی اور معاشرتی لحآظ سے اہمیت رکھتے ہوں وہ معاملات مسلمانوں کے اولی الامر کے پاس جائیں گے۔ اولی الا مر ایک ایسا شخص ہے جو نہ صرف دنیاوی معاملات کی سمجھ بوجھ اور فراست رکھتا ہے بلکہ دین پر بھی اسی گرفت مضبوط ہے وہ قرآن و حدیث سے ان مسائل کا استنباط کر سکتا ہے۔ اور مسلمانوں کے معاملات کے آخری فیصلے مشاورت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔ اس میں اولی الامر(حکمران) سے میری مراد صرف علما ہرگز نہیں ہیں کہ جس نے جُبہ و دستار پہنی ہو، کسی مدرسے سے عالم فاضل ہو، درس نظامی یا اسی سلسلہ کی دیگر ڈگریوں کا حمل ہو ۔ ۔ ۔ بلکہ اس سے مراد یہ شخص ہوتا ہے جو نہ صرف دنیاوی معاملات پر عبور رکھتا ہو بلکہ دین کی فہم و فراست بھی رکھتا ہو اور کسی بھی معاملے کی دین کے مطابق تحقیق کر کے اس کا حل نکال سکتا ہو۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ کوئی "ملا" ہے یا "مسٹر۔ دین کا علم ہونا لازمی ہے۔ امید ہے اگرخدانخؤاستہ اس غلطی کا صدور ہو تو میری اس خطا پر مجھے معاف فرما دیں گے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
انتہائی احترام سے سوال:
اس میں اولی الامر(حکمران) سے میری مراد صرف علما ہرگز نہیں ہیں کہ جس نے جُبہ و دستار پہنی ہو، کسی مدرسے سے عالم فاضل ہو، درس نظامی یا اسی سلسلہ کی دیگر ڈگریوں کا حمل ہو ۔ ۔ ۔ بلکہ اس سے مراد یہ شخص ہوتا ہے جو نہ صرف دنیاوی معاملات پر عبور رکھتا ہو بلکہ دین کی فہم و فراست بھی رکھتا ہو اور کسی بھی معاملے کی دین کے مطابق تحقیق کر کے اس کا حل نکال سکتا ہو۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ کوئی "ملا" ہے یا "مسٹر۔ دین کا علم ہونا لازمی ہے۔ 1۔ اولی الامر صیغہ واحد ہے یا جمع؟ 2۔ ایسے لوگوںکے چناؤ کا طریقہ کیا ہوگا جو کہ فراہم کی ہوئی تعریف پر پورے اتریں؟ 3۔ کیا منتخب ہونے کے لئے کوئی مذہبی ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہوگا تاکہ دین کا علم ثابت ہوسکے؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 05-10-09 at 08:15 AM. |
|
|
|
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خیر 1:۔ اولی الامر صیغہ واحد ہے یا جمع؟ میں نے آپکو جو اپنی پرفائل بتائی تھی اس میں کہیں بھی عربی زبان دانی کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس لیے مجھے علم نہیں کہ اولیٰ الامر گرامر میں کہاں بیٹھتا ہے۔ تاہم میری عقل مجھے یہ سمجھاتی ہے کہ اس آیت میں یہ لفظ ہم واحد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور جمع کے لیے بھی۔ واحد کے لیے جب لیا جائے تب اس سے مراد ہو گی حکمران/اللہ کا نائب ۔ لیکن جب جمع کا مطلف لینا چاہیں تب اس سے مراد ہر وہ شخص آئے گا جس پر مسلمانوں کے معاملات کی کسی قسم کی بھی ذمہ داری ڈالی ۔خواہ وہ ذمہ داری ملک کی ہو، آرمی کی ہو، سٹیل مل کی ہو، موبی لنک کمپنی کی ہو، کسی سکول کی ہو۔، کسی برانچ کی ہو۔ اگر اولی الامر اللہ کے حکم کے مطابق کوئی حکم دیتا ہے تو ہم پر اسکی اطاعت فرض ہے ورنہ نہیں۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ہو تو مجھے علم نہیں۔ میں عربی سے اپنی عدم واقفیت کا عتراف پہلے ہی کر چُکا۔ چناؤ کا طریقہ کار اور ٹیسٹ : موجودہ بھی چل سکتا ہے اور وہ بھی جو بطریق اولٰی ہے۔ یعنی شوری میں موجود افراد کسی بہتر شخص کو اللہ کی نیابت کا فریضہ سونپ دیں۔ اس بارے میں کوئی ٹیسٹ تو نہیں البتہ اس سے بھی زیادہ مشکل ٹیسٹ ہوگا جو مندرجہ ذیل ہے۔ 1۔ اچھے کردار کا حآمل ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والا نہ ہو 2: اسلامی تعلیمات کا کما حقہ علم رکھتا ہو 3:اسلامی احکامات پر عمل کرتا ہو 4:کھلے اور بڑے گناہوں سے بچتا ہو 5:وہ حق گو ہو یعنی حق کو کسی کے بھی سامنے کہنے سے نہ ڈرتا ہو 6:وہ امین ہو۔ 7:وہ ایماندار ہو 8:دوربین اور عقلمند ہو 9:کسی قسم کے جرائم میں مبتلا نہ رہا ہو 10:اخلاقی جرائم سرزد نہ ہوئے ہوں 11:کرپشن میں مبتلا نہ رہا ہو 12:جھوٹی گواہی نہ دیتا رہا ہو یا (9-12)ان جرائم کے الزامات نہ ہوں اس پر 13: Bank ruptیا لوگوں کے پیسے نہ کھائے ہوئے ہوں کم از کم تو یہ خصوصیات ہوں اس کے اندر۔ اور میرا خیال ہے ان خصوصیات کے لیے کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی ان خصوصیات کے لیے کسی ٹیسٹ کا سوال بنتا ہے۔ سوال تو فضول تھا لیکن جواب دینا بہتر سمجھا۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-10-09), فاروق سرورخان (05-10-09), مسٹر شیف (05-10-09), حسنین ایوب (08-10-09), راجہ اکرام (05-10-09), شاہد جمیل حفیظ (09-10-09), عبداللہ حیدر (05-10-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ کہ آپ نے اس فضول سے سوال کا اتنا مفصل جواب دیا۔ درحقیقت آپ کا جواب بہت اچھا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہو کہ ہم ایک شخص کے اعمال کا حساب رکھ سکیں۔
ان نکات سے یہ واضح ہے کہ 1۔ ہر شخص کے اعمال کا حساب رکھا جائے 2۔ ہر شخص کی دولت کا حساب رکھا جائے۔ 1۔ ہر شخص کی مثبت شناخت کی جائے، اور اس کے لین دین، قرضہ اور مالی صورتحال کے ساتھ ساتھ اس کے مقدمات کا بھی حساب رکھا جائے۔ ایسا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں "کریڈٹ ہسٹری" رکھ کر کیا جاتا ہے۔ تمام مقدمات، جرائم ، جرمانوں کا ایک عدد حساب رکھا جاتا ہے جو کوئی بھی ایک معمولی رقم خرچ کرکے حاصل کرسکتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کرسکے کہ آیا کہ ایک شخص کو مکان کرائی پر دیا جاسکتا ہے چہ جائیکہ اس کو ملک چلانے کے لئے دیا جاسکے؟ اس فلسفہ کے پیچھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہے کہ 1۔ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی شناخت کی جائے۔ 2۔ اللہ کے نزدیک وہ لوگ بہتر ہیں جن کے اعمال بہتر ہیں۔ 2. ہر شخص کی دولت کا حساب: بنیادی طور پر ہر بالغ آدمی ابتداء میں "کنگلہ" ہوتا ہے۔ وہ دولت یا تو کام یا پھر کاروبار کرکے کماتا ہے یا پھر دولت اس کو ورثہ میں نصیب ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دولت کی گردش کو یقینی بنانے کے لئے ہر اس وقت جب دولت ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی ہے کچھ نہ کچھ ٹیکس لگایا جائے۔ اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ایک شخص جس دولت کا مالک ہے وہ اس نے کس کس ٹیکس دینے کے موقع پر کمائی۔ اس فلسفہ کے پیچھے اللہ تعالی کا یہ قانون ہے کہ ٹیکس یعنی زکواۃ اور صدقات، فصل تیار ہونے پر ادا ہونے چاہئیے۔ جب ہر بار فصل پر کٹوتی کا حکم ہے تو پھر ہر بار دولت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جانے پر کٹوتی کیوں نہ ہو۔ کچھ لوگوںنے جائیداد، کھیت وغیرہ کو ہر قسم کے لگان، زکواۃ یا ٹیکس سے مستثنی قرار دیا ہوا ہے۔ باپ کی طرف سے بیتے بیٹی کو دولت، زراعت، کھیت، جائیداد یا کسی بھی قسم کے مالی فائیدہ کی منتقلی کی صورت میں ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہو چاہے وہ کتنا بھی کم ہو۔ اس سے ناجائز طریقہ سےحاصل کی ہوئی دولت کی نشاندہی ممکن ہوگی اور اس سے دولت کی گردش ریاست میں بڑھے گی جس سے غربت کم ہوگی۔ ان دو اقدام کے بغیر کسی شخص کے بارے میں نہیںکہا جاسکتا کہ وہ نیک ہے یا اس نے وہ تمام کام نہیںکئے جن کا اندراج اوپر آیا ہے یا اس نے دولت کی چوری نہیں کی یا اس نے جھوٹی گواہی نہیں دی۔ جب ہر سال کی آمدن کا حساب ہو، جب ہر سال کے تحفوں میں وصول کی ہوئی دولت کا حساب ہو اور جب ایک شخص کے جرمانوں ، عدالتی فیصلوں، مقدمات، اور قرضون کی لین دین کا حساب ہو تو پھر بہت مشکل ہے کہ ایک خراب کردار اور ایک نیک کردار انسان کی شناخت نہ ہوسکے۔ یہ طریقہ کار تقریباً ہر ترقی یافتہ ملک میں رائج ہیں۔ جن خصوصیات کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ان کو حاصٌ کرنے کا کیا طریقہ ہو ، صرف اس کے بارے میں ممکنہ خیال آرائی کی ہے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 06-10-09 at 07:57 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چلین شکر ہے اس بار ہماری اور آپکی گفتگو کا اختتام "اتفاق رائے" پر ہوا ہے۔ انشا اللہ چند دنوں کے اندر میں مندرجہ بالااسلامی حکومت میں قانون سازی پر کچھ لکھوں گا۔ اس پر آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-10-09), فاروق سرورخان (08-10-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ بدر بھائی۔
یہ دو اہم نکات آپ نوٹ کرلیجئے۔ اب تیسرا نکتیہ دیکھئے۔ ہمارے نظام کی ایک بہت بڑی خرابی ہے وہ یہ کہ تمام تر اختیارات ایک عہدہ (کبھی صدر، اور کبھی وزیر اعظم) کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے اسمبلیاں توڑ دیتا ہے۔ جی؟ 1۔ یہ اصولوں کے خلاف ہے 2۔ اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اصولوں کے خلاف اس طرح کہ 16 کروڑ عوام کے ترجمان نمائیندگان ، کو ایک شخص ویٹو کردیتا ہے۔ کیا، 16 کروڑ لوگوں سے ایک شخص اعلی و ارفع ہے؟ نقصان اس طرح کہ 1۔ ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن نہیں بن پاتا، ہر بار نئے لوگ آکر حکومت کرنا پہلی بار سیکھتے ہیں، اس طرح ایک عوامی مقننہ افرا تفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ 2۔ اقتدار میں آنے والے ڈرتے رہتے ہیں کہ کل ان کی چھٹی کردی جائے گی تو جو کچھ جھپٹنا ہے آج ہی جھپٹ لو۔ 3۔ طرح طرحکی غیر پیداواری سازشیں ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ 4۔ ایوان اقتدار کی بطور انسٹی ٹیوشن تطہیر نہیں ہوپاتی اور نہ ہی ایک طویل المعیاد سوچ ڈیویلپ ہو پاتی ہے، جو کہ حکومت کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کو ہٹانے کا اختیار ایوان اقتدار کو ہو نہ کہ صدر کو اختیار ہو کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو گھر بھیج دے۔ تو تیسری تجویز یہ ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کے مطلق اختیارات ، ایوان نمائندگان کو توڑنے کے ختم کئے جائیں اور تمام تر اختیارات ، عوام کے منتخب نمائندگان کے ہاتھ میںہو۔ اس طرح اچھی سوچ کے لوگوں کو منتخب ایوان میں آنے کا موقع ملے گا۔ جب بھی لوگ مل کر بیٹھتے ہیں نیکی رواج آگے آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے وہ بھی مجمع کے ساتھ نماز پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تو اب تک ہوگئی تین عدد تجاویزات۔ 1۔ ایک مکمل شخصی معلومات کا نظام، دولت، مقدمات، ادھار کا ریکارڈ 2۔ دولت کے انتقال پر ٹیکس، چاہے کتنا ہی معمولی کیوںنہ ہو۔ ہو ضرور۔ 3۔ تمام تر اختیارات ایوان اقتدار کے پاس۔ صدر یا وزیر اعظم سے ایوان بالاء یا ایوان زیریں توڑنے کا اختیار ختم۔ باقی ایک الگ آرٹیکل میں۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انشا اللہ العزیز۔ اللہ ہم کو کسی نتیجہ پر پہنچنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ آمین
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
برادر محترم۔
یہ سوالات و جوابات صرف ہمارے ہی نہیں۔ بلکہ اس وقت ساری قوم کے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کامیابی و ترقی ایک منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے ۔ اس سفر میں جہاں مرکز پر بہتر تبدیلیاں ضروری ہیں ، اسی طرح صوبہ میں ترقی بھی ضروری ہے۔ میں یہ کسی کا دل خوش کرنے کے لئے نہیںکہہ رہا ، یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے ساتھ وہ انصاف نہیں ہوا جس کا یہ صوبہ اور اس کے عوام مستحق ہیں۔ اگر ہم اپنے کسی بھی طبقہ کو ، علاقہ کو یا مخصوص عوام کو پیچھے چھوڑ دیں گے تو یہ ایک ٹکنگ ٹائم بم ہوگا وہ وقت آنے پر پھٹ پڑے گا۔ تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔ تازہ ترین مثال ہند و پاک کی تقسیم ہے جہاں صدیوں کے استحصال کا تاوان لاکھوںعزتوںاور اور لاکھوںجانوں کی شکل میں دینا پڑا۔ بلوچستان ایک کنوارہ علاقہ ہے۔ اس کی افزائش کسی قوم نے نہیںکی۔ ایسے علاقہ معدنیات سے بھرپور اور دولت کی افزودگی کے لئے بہترین ہوتا ہے۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے۔ یہاں پانی بہت تیزی سے بہہ جاتا ہے۔ اس کے لئے چھوٹے بند بنائے جاسکتے ہیں۔ دریائے ہنگول پگھلی ہوئی برف سے نکلتا ہے۔۔ اس پر ایک سے زائید بند باندھے جاسکتے ہیں۔ سونے کے ذخائر اور لوہے کے ذخائیر سے ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے، جن میںسڑکیں بنانا، اسکول بنانا، ذراعت کو ترقی دینا ، معاشی و اقتصادی وسائیل کو ترقی دینا شامل ہے۔ پاکستان کے موجودہ بڑے مسائیل کم از کم دو ہیں۔ ایک تو دولت کی گردش کم ہے اور دوسرے عدل و انصاف کے حصول کی بے پناہ کمی ہے۔ عدل و انصاف کا راستہ تیز تر کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں ان پر ہمارے دوست تجاویزات دیں۔ یہی طوطی کی آواز پھر نقار خانے میںگونجے گی ، اور ایوان اقتدار میں جو لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں وہ عدل و انصاف کی بہتر فراہمی پر توجہ دیں گے۔ اس میں ہمارے تکلیف دہ ادار پولیس کی تطہیر بھی شامل ہے۔ دولت کی اندرونی گردش کے لئے ترقیاتی پرواگرامز شروع کرنے کی بہت ضرورت ہیں۔ اس کے لئے ایسے شہروں کا انتخاب کیا جائے جہاں زراعت کی فراوانی ہے، خاص طور پر بلوچستان میں اور وہاں سڑکوں میں اضافہ کیا جائے۔ جہاں پانی دستیاب ہوسکتا ہے ، یا کھود کر نکالا جاسکتا ہے یا پھر جھیل کی شکل میں جمع کیا جاسکتا ہے ، وہاں صنعت و زراعت کو ترقی دینے کے لئے نئے شہر یا موجودہ شہروں کی تعمیراتی توسیع کا کام کیا جائے ، اس توسیع سے لوگوں کو کام ملے گا اور دولت کی گردش میں اضافہ ہوگا۔ صنعتوں کے لئے آسان قرضہ ، ان علاقوںمیںدئے جائیں جہاں محنتی افراد کی کمی نہیں لیکن تعلیمی پسماندگی ہے۔ یہ طریقہ کوئی ڈھکے چھپے طریقہ نہیں۔ اس ترقی، دولت کی گردش میں اضافہ ، تعلیم کی ترقی، صنعت کی ترقی اور زراعت کی ترقی و بحالی کے لئے کسی بھی اسلامی سزا کی ضرورت نہیں۔ کسی کو دہشت زدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے لئے بہتر تعلیم کی اور بہتر حکومتی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ یہی ایک بہتر نظام یا اسلامی نظام ہوگا۔ ایسی موٹی موٹی تجاویزات میں تفصیل کی کمی ہے لیکن ایسی تفصیل ڈالنا، پاکستان کے بہترین دماغوںکے لئے مشکل نہیں ۔ ایک بار بات سمجھ میں آجائے تو پھر یہ سب بہت آسان ہے۔ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہد جمیل حفیظ (09-10-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اسلام ۔۔ مُلا سے ہے یا پھر مُلا ۔ اسلام سے؟
|
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (09-10-09) |
![]() |
| Tags |
| فورم, پاک, قرآن, قران, نظر, مکہ, مکمل, ممکن, مسائل, معلوم, ایمان, ایران, اللہ, اسلامی, جواب, حکم, حدیث, دریافت, روزہ, زندگی, سپریم, شخص, صلاحیت, صالح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شاعری چی ےءُ چیہ کن اَنت؟ | سیپ | بلوچی فورمز | 11 | 20-01-11 07:18 PM |
| یونی کارن ایک فسانہ یا حقیقت؟ | shafresha | دلچسپ اور عجیب | 18 | 01-09-10 12:33 PM |
| چائنا موبائل کی خصوصیات؟ | عبداللہ حیدر | موبائل ہی موبائل | 26 | 16-07-10 06:00 PM |
| مظلوم کون، عوام یا حکومت؟ | عرفان حیدر | میرا پاکستان | 4 | 07-01-09 02:05 PM |