واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


اسلام ،عدل اجتماعی کا علمبردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-05-09, 05:52 PM   #1
اسلام ،عدل اجتماعی کا علمبردار
ایس اے نقوی ایس اے نقوی آف لائن ہے 01-05-09, 05:52 PM

یکم مئی کا دن مزدورں کے حقوق کے حوالے سے منایا جا رہا ہے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا ہر حاوی ے سرمائے کی اتنی بڑی جکڑ بندی اس سے پہلےکبھی نہیں تھی انڈسٹریلزم آیا تو مشین کے ذریعے پیداوار میں اضافہ ہوا
ایک شخص دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں اور اربوں کا مالک بنن جاتا ہے جبکہ فیکٹری میں کام کرنے والے سینکڑوں ،ہزاروں،مزدور بنیادی ضروریات کو ترستے ہیں اقبال نے کہا ہے کہ
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

اسی طرح کسان کا استحصال ہو رہا ہے کسان صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کر رہا ہے صبح اٹھ کر فصل پر پانی لگا رہا ہے خون پسینہ ایک کر رہا ہے اور جاگیر دار یا وڑیدہ کسان کی محنت کی کمائی پر عیش کر رہا ہے اسکی اولاد امریکہ میں جا کر پڑھ رہی ہے جس کی محنت ہے اسی بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں اس کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں کہ کہیں انہیں اپنے‌حقوق کا شعور حاصل نہ ہو جائے ان کو غلام ہی رہنے دو اس دور میں یہ استحصال کی بدترین شکلیں ہیں بدقسمتی سے اس قسم کا امیج دیا جاتا ہے کہ معاذ اللہ اسلام بھی سرمایہ دارانہ نظام کو سپورٹ کرتا ہے
حالانکہ یہ انتہائی غلط تصور ہےاسلام اصل میں عدل اجتماعی کا علمبردار ہے تا کہ ہر سطح پر کامل انصاف ہو اور ہر انسان کو اس کے جائز حقوق ملیں کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے
نہ سیاسی اعتبار سے
نہ معاشی اعتبار سے
نہ سماجی اعتبار سے
استحصال کسے کہتے ہیں
یہ لفظ عام طور پر حق تلفی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا
مثلا آج کل روزگار کی کمی ہے کہیں چپڑاسی کی اسامی خالی ہوتی ہے تو ایم اے پاس بھی درخواست دے رہے ہوتے ہیں اس لئے کہ بے روزگاری ہے یا ایک شخص کو اسکی صلاحیت کے مطابق کم سے کم دس پزار تنخواہ ملنی چاہیئے لیکن چونکہ وہ بے روزگار ہے لہذا پانچ ہزار کی بھی ملے گی تو وہ بھی قبول کرے گا یہ استحصال ہے اسکے علاوہ بھی استحصال کی بے شمار شکلیں ہیں اسکی اصل بنیاد انسان کی اپنے اندر کی طغیانی اور بغاوت ہے
ترجمہ:
”مگر انسان کو سرکشی پر آمادہ ہوجانا ہے“
انسان اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کےلئے تیار رہتا ہے
ترجمہ:
” جبکہ اہنے تئیں غنی دیکھتا ہے“
جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی پکڑ نہیں ہے میں کسی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں لیکن فوری طور پر نہ میرے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے نہ کوئی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے عقیدہ تو ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے لیکن وہ تو آخرت کا معاملہ ہے حساب ہوا بھی تو وہاں کوئی بچا ہی لے گا لہذا وہ استحصال کرتا ہے کیونکہ اس کے اندر طبعی طور پر یہ کمزوری موجود ہے
مال کی محبت انسان کی کمزوری ہے وہ سمجھتا ہے کہ مال جیسے بھی ملے حاصل کرنا ہے چاہے دوسروں کی حق تلفی کر کے ملے یہی مال کی محبت انسان کو پستی کی انتہا تک پہنچا دیتی ہے
نبی اکرم(ص) نے فرمایا : اگر کسی شخص کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں پھر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہو گی اسکی شدید خواہش ہو گی کہ تیسری وادی بھی مل جائے
یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے کا استحصال کرتا ہےخون پسینے کی کمائی وہ کرے مکھن ملائی میں کھائوں
اسی سرمایہ داری نظام کے رد عمل میں اشتراکیت کا سیلاب آیاتھا لیکن وہ بھی بہرحال ایک انسانی سوچ کا نیتجہ تھا

اسلام میں محنت کی عظمت پر بہت زور دیا گیا ہے
نبی اکرم(ص)نے فرمایا:”محنت کش کو اللہ اپنا دوست رکھتا ہے“
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہندوانہ پس منظر کی وجہ سے ان لوگوں کو جو ہاتھ کی کمائی کھاتے ہیں نیچ سمجھا جاتا ہے یہ بڑھئی ہے،یہ دھوبی ہے،یہ موچی ہے،یہ وہی جاہلیت ہے جس کو توڑنے کے لئے نبی اکرم (ص) تشریف لائےآپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے کوئی نبی معبوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بھیڑیں نہ چرائی ہوں
آپ(ص) نے فرمایا کہ میں نے خود بھی معمولی اجرت پر یہ کام کیا ہے
حضرت دائود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ زرہیں بنایا کرتے تھے
قرآن مجید میں انکی عظمت کو بیان کیا گیا
ترجمہ:” اور ہم نے دائود کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو،ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کر دیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا“
حضرت دائود پر ایک فضل تو یہ کیا کہ ان پر زبور نازل کی جب وہ زبور سے حمد کے ترانے پڑھتے تھے تو پرندے اور پہاڑ بھی وجد میں آ جاتے تھے
دوسرا فضل یہ تھا یہ اللہ نے ان کے ہاتھ میں فولاد کو نرم کر دیا تھا تاکہ وہ زرہیں تیار کر سکیں
یہ ہے ہاتھ کی کمائی اور محنت کش کی فضیلت جو قرآن میں بیان ہوئی ہے
حاصل کلام یہ ہے کہ محمد رسول اکرم (ص) جو دین حق لے کر آئے وہ ہر قسم کی ناانصافیوں اور استحصال کو ختم کر کے ہر لیول پر عدل و قسط کی ضمانت دیتا ہےلیکن یہ سارا معاملہ دنیا سے متعلق ہے اصل کمائی آخرت کی کمائی ہے
سورۃ کہف میں ہے ”” اے نبی! اس سے کہیئے کہ کیا ہم بتائیں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی محنت اور عمل کے اعتبار سے خسارے میں ہے وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں““
افسوس کہ ہم بھی اسیے لوگوں ،ایسے افراد کو رول ماڈل سمجھتے ہیں فلاں شخص نے کتنی محنت کی ہے اس نے چھابڑی سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا آج دیکھو کتنی فیکتریوں کا مالک ہے ظاہر ہے اس نے دنیا میں کامیابی کےلئے محنت کی ہے اپنی تفریحات کو چھوڑا اپنے آرام کو چھوڑا وہ راتوں کو جاگا ہو گا کیا کچھ نہیں کیا ہو گا اپنے‌حقوق سے دستبردار ہوا،اپنے بیوی بچوں کی حق تلفی کرتا رہا
بظاہر یہ شخص دنیا میں کامیاب نظر آ رہا ہے لیکن یہ سب سے زیادہ ناکام ہے اس لئے کہ اس نے محنت تو بہت کی لیکن اس محنت کا نتیجہ دنیا کے چند ٹکے کے سوا کچھ نہیں ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت اس نے برباد کر ڈالی محنت کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں کچھ لوگ وہ ہیں جب وہ شام کو لوٹتے ہیں تو اپنی اخروی ہلاکت کا سامان لے کر لوٹتے ہیں
کچھ وہ ہیں جو صیحح رخ پر محنت کر رہے ہیں وہ اپنی آخرت کی فلاح اور کامیابی کا پروانہ لے کر لوٹتے ہیں محنت تو ہر شخص کر رہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کا رخ کدھر ہے اور اصل کامیابی کس محنت میں ہے اللہ تعالی ہمیں صیحح رخ پر محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: لکھنے کے دوران کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو اسکے لئے معافی چاہتا ہوں:

Last edited by ایس اے نقوی; 01-05-09 at 06:14 PM..

 
ایس اے نقوی's Avatar
ایس اے نقوی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 674
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-05-09), فاروق سرورخان (29-05-11), پاکستانی (02-05-09), منتظمین (01-05-09), wajee (01-05-09), ام غزل (01-05-09), تانیہ رحمان ستارہ (02-05-09), خرم شہزاد خرم (02-05-09), راجہ اکرام (02-05-09), رضی (22-05-09), سامیہ بٹ (28-05-11), سحر (03-05-09), عبداللہ آدم (29-05-11), عبداللہ حیدر (01-05-09)
پرانا 01-05-09, 06:16 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (01-05-09)
پرانا 01-05-09, 08:32 PM   #3
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم بھائی بہت ہی زبردست تحریر لکھنے پر میری طرف سے 100 پوائنٹس قبول کریں ،


مزدور ہماری قوم کے معمار ہیں ، مگر افسوس ہم نے اپنے ان کہاروں کی کبھی قدر نہیں کی ، جتنی محنت یہ ایک گھر بنانے میں لگاتے ہیں ، اتنی تو ہم اس گھر کو گھر بنانے میں بھی نہیں کرتے ،
جو قومیں اپنے ان کہاروں کی قدر نہیں کرتیں وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتیں ، ہمارے ملک کاالمیہ ہے کہ ہم ہمیشہ عزت کی جگہ پیسے کو دیتے ہیں جہاں پیسہ ہے وزت اور احترام بھی انہی کے غلام ہیں ،
ایک مزدور دن ، رات ایک کرکے صرف اور صرف اپنے بچوں کو عزت کی روٹی ہی دے سکتا ہے جبکہ اس کی محنت سے بنے محلوں میں یا تو آج تک پُرانے وقتوں کی قبریں راج کرہی ہیں یا پھر آج کے دور کا امیر ۔
ہم ایک ہیں یہ کہہ کر ہی ہم مزدور کی ہمت بڑھاتے ہیں مگر جونہی کام پورا ہوجاتا ہے تو اس کی اُجرت بھی ہمیں اس پر ایک احسان کرنا لگتی ہے ،

جانے کب ہوں گے کم
اس دنیا کے غم۔۔۔۔۔۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (01-05-09), رضی (21-05-09)
پرانا 01-05-09, 08:34 PM   #4
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ غزل آپ کا میں مشکور ہوں آپ کا
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (01-05-09)
پرانا 01-05-09, 09:18 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا تحریر ہے کیا الفاظ کی چاسنی مزہ آ گیا پڑھ کر آپ تو بہت عمدہ لکھتے ہو!!!
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (01-05-09), ام غزل (02-05-09)
پرانا 01-05-09, 09:19 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی انتہائی متاثر کن تحریر ہے میں نے تو پہلے ہی پڑھی تھی جب جاری ہے چل رہی تھی
یوم مئی پر بہت بہترین کاوش ہے

اس بات کی بہت اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے کہ سرمایادارانہ نظام کس طرح مزدوروں کا استحصال کرتا ہے

مزدوروں کے حقوق کا مکمل اعادہ اسلامی نظام میں ہی ممکن ہے جو حقوق ساتھ ساتھ صلہ رحمی کا درس بھی دیتا ہے
یہاں تک کے حضور نے فرمایا ہے جو تم خود کھاؤ وہی اپنے ملازمین کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہ اپنے ملازمین کو پہناؤ
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (01-05-09), ام غزل (02-05-09), خرم شہزاد خرم (02-05-09)
پرانا 01-05-09, 09:25 PM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

وقاص جی میں آپ کو مشکور ہوں
اور لکھنا ابھی نہیں جانتا ابھی تو الف ب نہیں آتی
اور کبھی کبھی لکھنا ہوتا ہے آپ کا بہت شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (02-05-09), رضی (21-05-09)
پرانا 01-05-09, 09:33 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,987
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام سید انجم شاہ

میں کافی دنوں سے اس ٹاپک پہ لکھنا چاہ رھی تھی میں نے بھی آج ھی لکھا مگر ویسا نہیں لکھ سکی جیسا میں لکھنا چاہ رھی تھی آپ نے بہت اچھا لکھا ول ڈن
یکم مئ ------ لیبر ڈے
آپ بھی یہ دیکھیں اور اپنا تبصرہ کریں
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09), رضی (21-05-09)
پرانا 01-05-09, 09:45 PM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام ،عدل اجتماعی کا علمبردار

یکم مئی کا دن مزدورں کے حقوق کے حوالے سے منایا جا رہا ہے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا ہر حاوی ہے۔ سرمائے پر عالمی سرمائہ دارانہ قوتوں کی ظالمانہ جکڑ ھے۔ انڈسٹریلزم آیا تو مشین کے ذریعے پیداوار میں اضافہ ہوا
ایک شخص دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں اور اربوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ فیکٹری میں کام کرنے والے سینکڑوں ،ہزاروں،مزدور بنیادی ضروریات کو ترستے ہیں اقبال نے کہا ہے کہ
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

اسی طرح کسان کا استحصال ہو رہا ہے کسان صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کر رہا ہے صبح اٹھ کر فصل کو پانی لگا رہا ہے خون پسینہ ایک کر رہا ہے اور جاگیر دار یا وڈیرا کسان کی محنت کی کمائی پر عیش کر رہا ہے اسکی اولاد امریکہ میں جا کر پڑھ رہی ہے جس کی محنت ہے اسی بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں اس کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں کہ کہیں انہیں اپنے‌حقوق کا شعور حاصل نہ ہو جائے ان کو غلام ہی رہنے دو اس دور میں یہ استحصال کی بدترین شکلیں ہیں بدقسمتی سے اس قسم کا امیج دیا جاتا ہے کہ معاذ اللہ اسلام بھی ایسے ہی سرمایہ دارانہ نظام کو سپورٹ کرتا ہے
حالانکہ یہ انتہائی غلط تصور ہےاسلام اصل میں عدل اجتماعی کا علمبردار ہے تا کہ ہر سطح پر کامل انصاف ہو اور ہر انسان کو اس کے جائز حقوق ملیں کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے
نہ سیاسی اعتبار سے
نہ معاشی اعتبار سے
نہ سماجی اعتبار سے
استحصال کسے کہتے ہیں
یہ لفظ عام طور پر حق تلفی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا
مثلا آج کل روزگار کی کمی ہے کہیں چپڑاسی کی اسامی خالی ہوتی ہے تو ایم اے پاس بھی درخواست دے رہے ہوتے ہیں اس لئے کہ بے روزگاری ہے یا ایک شخص کو اسکی صلاحیت کے مطابق کم از کم دس پزار تنخواہ ملنی چاہیئے لیکن چونکہ وہ بے روزگار ہے لہذا پانچ ہزار کی بھی ملے گی تو وہ بھی قبول کرے گا یہ استحصال ہے اسکے علاوہ بھی استحصال کی بے شمار شکلیں ہیں اسکی اصل بنیاد انسان کی مذھب سے دوری اور لا لچی ذھن ھے جو اسے سر کشی پر مجبور کرتا ھے۔
ترجمہ:
”مگر انسان کو سرکشی پر آمادہ ہوجانا ہے“
انسان اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کےلئے تیار رہتا ہے
ترجمہ:
” جبکہ اہنے تئیں غنی دیکھتا ہے“
جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی پکڑ نہیں ہے میں کسی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں لیکن فوری طور پر نہ میرے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے نہ کوئی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے عقیدہ تو ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے لیکن وہ تو آخرت کا معاملہ ہے حساب ہوا بھی تو وہاں کوئی بچا ہی لے گا لہذا وہ استحصال کرتا ہے کیونکہ اس کے اندر طبعی طور پر یہ کمزوری موجود ہے
مال کی محبت انسان کی کمزوری ہے وہ سمجھتا ہے کہ مال جیسے بھی ملے حاصل کرنا ہے چاہے دوسروں کی حق تلفی کر کے ملے یہی مال کی محبت انسان کو پستی کی انتہا تک پہنچا دیتی ہے
نبی اکرم(ص) نے فرمایا : اگر کسی شخص کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں پھر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہو گی اسکی شدید خواہش ہو گی کہ تیسری وادی بھی مل جائے
یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے کا استحصال کرتا ہے۔
اسی سرمایہ داری نظام کے رد عمل میں اشتراکیت کا سیلاب آیاتھا لیکن وہ اس سے بھی انسانی سوچ اور معاشرے کے مسائل حل نہ ھو سکے۔

اسلام میں محنت کی عظمت پر بہت زور دیا گیا ہے
نبی اکرم(ص)نے فرمایا:”محنت کش کو اللہ اپنا دوست رکھتا ہے“
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہندوانہ سوچ کے پس منظر کی وجہ سے ان لوگوں کو جو ہاتھ کی کمائی کھاتے ہیں نیچ سمجھا جاتا ہے یہ بڑھئی ہے،یہ دھوبی ہے،یہ موچی ہے،یہ وہی جاہلیت ہے جس کو توڑنے کے لئے نبی اکرم (ص) تشریف لائےآپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے کوئی نبی معبوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بھیڑیں نہ چرائی ہوں
آپ(ص) نے فرمایا کہ میں نے خود بھی معمولی اجرت پر یہ کام کیا ہے
حضرت دا ؤد کے بارے میں آتا ہے کہ وہ زرہیں بنایا کرتے تھے
قرآن مجید میں انکی عظمت کو بیان کیا گیا
ترجمہ:” اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو،ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کر دیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا“
حضرت داؤد پر ایک فضل تو یہ کیا کہ ان پر زبور نازل کی جب وہ زبور سے حمد کے ترانے پڑھتے تھے تو پرندے اور پہاڑ بھی وجد میں آ جاتے تھے
دوسرا فضل یہ تھا یہ اللہ نے ان کے ہاتھ میں فولاد کو نرم کر دیا تھا تاکہ وہ زرہیں تیار کر سکیں
یہ ہے ہاتھ کی کمائی اور محنت کش کی فضیلت جو قرآن میں بیان ہوئی ہے
حاصل کلام یہ ہے کہ محمد رسول اکرم (ص) جو دین حق لے کر آئے وہ ہر قسم کی ناانصافیوں اور استحصال کو ختم کر کے ہر لیول پر عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہےلیکن یہ سارا معاملہ دنیا سے متعلق ہے اصل کمائی آخرت کی کمائی ہے
سورۃ کہف میں ہے ”” اے نبی! اس سے کہیئے کہ کیا ہم بتائیں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی محنت اور عمل کے اعتبار سے خسارے میں ہے وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں““
افسوس کہ ہم بھی اسیے لوگوں ،ایسے افراد کو رول ماڈل سمجھتے ہیں فلاں شخص نے کتنی محنت کی ہے اس نے چھابڑی سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا آج دیکھو کتنی فیکٹریوں کا مالک ہے ظاہر ہے اس نے دنیا میں کامیابی کےلئے محنت کی ہے اپنی مشاغل اور تفریح کو چھوڑا اپنے آرام کو چھوڑا اور آخر میں دولت کے لئے دین کو بھی پس پشت ڈال دیا۔
بظاہر یہ شخص دنیا میں کامیاب نظر آ رہا ہے لیکن یہ سب سے زیادہ ناکام ہے اس لئے کہ اس نے محنت تو بہت کی لیکن اس محنت کا نتیجہ دنیا کے چند ٹکے کے سوا کچھ نہیں ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت اس نے برباد کر ڈالی محنت کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں کچھ لوگ وہ ہیں جب وہ شام کو لوٹتے ہیں تو اپنی اخروی ہلاکت کا سامان لے کر لوٹتے ہیں
کچھ وہ ہیں جو صیحح رخ پر محنت کر رہے ہیں وہ اپنی آخرت کی فلاح اور کامیابی کا پروانہ لے کر لوٹتے ہیں محنت تو ہر شخص کر رہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کا رخ کدھر ہے اور اصل کامیابی کس محنت میں ہے اللہ تعالی ہمیں صیحح رخ پر محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )


‌شاہ جی بہت اچھی کوشش ھے جہاں کچھ بہتری آ سکتی تھی اور گنجائش تھی تو آپ کی فرمائش پر کر دی ھے۔ اگر برا لگے تو مت قبول کیجئے گا۔ خدا آپکو مذید علمی ترقی دے۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (02-05-09), ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09), رضی (21-05-09)
پرانا 01-05-09, 10:05 PM   #10
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مسعود جی یقین جانیئے گا کہ مجھے آپ سے بڑی امید وابستہ تھی کہ آپ سب سے بہتر جواب دیں گے اور میری غلطیاں کوتاہیوں بارے بھی آگاہ کریں گے میں آپ کا بہت مشکور ہوں اور ہمیشہ آپ سے تعاون چاہوں گا آپ کا بہت شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 02-05-09, 01:42 AM   #11
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم جی آج میں وقت پر کچھ کہہ نا سکی جس کے لیے پہلے تو معذرت دوسرا آپ نے سب کچھ کہہ دیا باقی کیا بچا کہنے کو ماسواے اس کے کہ جب دل میں خوف خدا ہو اور یہ سمجھ لیں کہ سب کچھ یہی رہ جانا ہے ۔ دو گز کفن تیرا لباس ہو گا ۔ ۔ اللہ پاک نے اگر ہمیں پیسے سے نوازہ ہے تو یہ آزمائش ہے ۔ غریب کا ایک دن منانے سے پاکستانی مزدو کو کیا ملے گا ۔ اصل بات یہ ہے ۔ اگر اسلام کی بات کی جاتی ہے اور ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ تو کیا یہ ایک دن کافی ہے ہمارے مزدرو کے لیے ۔
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09), راجہ اکرام (02-05-09), عبداللہ آدم (29-05-11)
پرانا 02-05-09, 08:48 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم انجم شاہ صاحب
بہت ہی خوبصورت تحریر، بہترین وقت پر پیش کی گئی ہے۔ اللہ آپ کو ہمت دے کہ اسی طرح مزدوروں کے لئے لکھتے رہیں۔
شاید اسی طرح مزدوروں کے لئے تبدیلی کی کرن نمودار ہو۔
لیکن سوچنا یہ ہے کہ کیا ایک دن منانے سے ہم مزدور کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے اور اسے داد دینے کا حق ادا کر سکتے ہیں، یقینا اس کا جواب نفی میں ہو گا۔
بلکہ ہزاروں مزدور اپنے اس عالمی طور پر منائے جانے والے دن میں‌بھی سارا دن مزدوری کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
۔۔


انجم بھائی ایک بار پھر مبارکباد ایک اچھی تحریر لکھنے پر


۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09), رضی (21-05-09), عبداللہ آدم (29-05-11)
پرانا 02-05-09, 10:27 AM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر یکم مئی 2010 کے لیے شیڈول کر دیا گیا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-05-09), ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09), رضی (21-05-09), عبداللہ آدم (29-05-11)
پرانا 02-05-09, 02:39 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 616
کمائي: 11,173
شکریہ: 362
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اصلاحی تحریر قلمبند کی ہے آپ نے
راشد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (02-05-09), ام غزل (02-05-09)
پرانا 02-05-09, 03:02 PM   #15
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین کا شکریہ مگر منتظمین ویسے ایک سال بعد
ہوسکتا ہو تب تک کوئی تبدیلی رونما ہو گئی
آپ کا بہت بہت شکریہ
ستارہ جی ،راشد جی،راجا جی آپ سب احباب کی بھی بہت بہت شکریہ
اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
کرن, پاک, پاکستانی, مکمل, ممکن, مجید, محبت, معذرت, آج, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, بہترین, بھائی, بچوں, تلاش, تحریر, تعلیم, جواب, خدا, دیکھو, دوست, دل, سرمایہ دارانہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خدا کیلئے اور محبتاں سچیاں نے جمود توڑدیا،عادل مراد عبدالقدوس فلمی دنیا 0 15-12-07 08:48 AM
اے اللہ ہمیں ہمیشہ کی طرح سچ لکھنے وبولنے کی ہمت عطافرما،عامرلیاقت عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:23 AM
میڈیا پر پابندیاں ختم اور صحافیوں کو رہا کیا جائے،عالمی تنظیم عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:22 AM
ٰٓایمر جنسی ختم،عدلیہ بحال کی جائے ،لانگ مارچ آج صبح ضرور ہو گا،بے نظیر بھٹو خرم شہزاد خرم خبریں 0 13-11-07 09:09 AM
بورڈاورسلیکٹرزکے رویے پراحتجاج،عبدالرزاق نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا خرم شہزاد خرم کرکٹ 12 23-08-07 04:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger