واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


افغانستان سے چاکلیٹ صلیبی افواج کی پسپائی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-07-11, 06:57 PM   #1
افغانستان سے چاکلیٹ صلیبی افواج کی پسپائی
saad-oad saad-oad آف لائن ہے 03-07-11, 06:57 PM

”اگلے ماہ (جولائی) سے اس سال کے آخر تک، ہم اپنے 10 ہزار فوجی افغانستان سے نکال لیں گے اور ہم اس کے بعد اگلی گرمیوں کے اختتام تک کل 33 ہزار فوجی واپس بلا چکے ہوں گے، یوں (پچھلے سال) میں نے ویسٹ پوائنٹ میں جس Surge (یلغار) کا اعلان کیا تھا، اس پر مامور فوجیوں کی تعداد کے برابر فوج نکال لی جائے گی۔ اس ابتدائی کمی کے بعد ہمارے فوجی مسلسل واپس آتے رہیں گے، جبکہ افغان سکیورٹی فورسز دفاعی قیادت سنبھالیں گی۔ ہمارا مشن لڑائی (Combat) سے حمایت (Supprot) میں بدل جائے گا۔ 2014ءتک Transition (انخلاءاور دفاعی ذمہ داریوں کی منتقلی) کا عمل مکمل ہو جائے گا اور پھر افغان قوم اپنی سلامتی کی خود ذمہ دار ہو گی“۔
یہ شکست خوردہ نام نہاد امریکی سپر طاقت کے شکست خوردہ صدر بارک اوباما کا وہ اعلان ہے جو انہوں نے 22 جون کو وائٹ ہاﺅس میں کیا۔ اس اعلان میں انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کو دھمکی بھی دی ہے، یہ کہ ”دہشت گردوں کے محفوظ اڈے برداشت نہیں کئے جائیں گے“۔
انہوں نے کہا ہے: ”اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ جب تک میں ریاستہائے متحدہ (امریکہ) کا صدر ہوں، امریکہ ان لوگوں کے لئے محفوظ اڈے کبھی برداشت نہیں کرے گا جو ہمیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں“۔ افغانستان میں بڑی حد تک اپنے مقاصد حاصل کر لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے اوباما نے کہا: ”اب ہماری کوششیں پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کا صفایا کرنے پرمرکوز ہوں گی“۔ پاکستانی قوم اور بالخصوص حکمران اوباما کی اس دھمکی سے کیونکر نمٹتے ہیں، اس کا جواب وقت دے گا۔
اوباما کی ساری تقریر ”میں ہوں اپنی شکست کی آواز“ کی آئینہ دار تھی۔ ساتھ ہی ان کی وزیر خاجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان کی فوجی امداد کم کرنے کے امکان کی سناﺅنی سنا دی ہے۔ اوباما کی منافقت دیکھئے کہ ایک طرف طالبان سے صلح کے مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہاہے۔ دوسری طرف ان پر یہ جھوٹا الزام لگا دیا ہے کہ وہ امریکیوں کو ہلاک کرنے چاہتے ہیں۔ طالبان نے افغانستان پر صلیبی حملے سے پہلے کسی امریکی کو قتل کیا تھا نہ اب وہ پرامن امریکیوں کو قتل کرنے کے روداد ہیں۔ وہ تو ان ظالم امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو تابوتوں میں واپس بھیجتے ہیں جنہوں نے افغانستان پر جارحانہ حملہ کیا اور گزشتہ دس برسوں سے یہاں ظلم و ستم اور خونریزی کا بازار گرم کر رکھا ہے، حالانکہ نائن الیون کی واردات میں جن اٹھارہ انیس ہائی جیکرز کے نام لئے گئے، ان میں ایک بھی افغانی نہ تھا۔
اوباما کا یہ دعویٰ بھی جھوٹ کا شاہکار ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں بڑی حد تک اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ اگر یہ یات ہے تو پھر مزید تین چار سال تک ایک لاکھ کے لگ بھگ صلیبی فوجیں یہاں رکھ کر افغانیوں کا بے تحاشا خون بہائے چلے جانے کا کیا جواز ہے۔ اوباما کا برطانوی یار وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی اپنے 9500 فوجی 2015ءتک نکال لے جانے کا اشارہ دے چکا ہے اور فرانسیسی صدر سرکوزی بھی اپنی 4000 فوج کے افغانستان سے انخلاءکے سلسلے میں امریکہ کی پیروی کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس ضمن میں واشنگٹن پوسٹ کے قلمکاریوجین رابنسن کا تجزیہ دلچسپ ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ”بعض لوگوں نے اوباما کے اعلان کو فتح کا اعلان جانا، دوسروں نے کہا کہ یہ تو اعتراف شکست ہے۔ افغانستان کے متعلق صدر اوباما کی تقریر تضادات سے پرتھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دسیوں ہزاروں امریکی فوجی کم از کم مزید تین سال (افغانستان میں) رہیں گے۔ ان میں سے کچھ لولے لنگڑے ہو جائیں گے یا مارے جائیں گے اور اوباما نے کوئی وجہ نہیں بتائی کہ ان کا یہ حشر کیوں ہو گا“۔
برطانوی جریدے گارڈین میں ارزالہ اشرف نعمت نے لکھا ہے: ”اوباما جسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں ہمارے نزدیک وہ کامیابی نہیں، ان کی ملٹری سرج سے دونوں طرف اموات کی تعداد بڑھی اور شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اور اس کے نتیجہ میں حکومت مخالف فورسز (طالبان) کی بھرتی میں تیزی آئی“۔ لیکن اوباما اپنی شکست کو کامیابی قراردینے پر مصر ہے!
کابل میں سابق برطانوی سفیرشیرارڈکاﺅپر اپنی کتاب Cables from Kabul میں لکھتا ہے: ”کابل میں سفارتکار شاہ کرزئی کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی تھے۔ افغانی صدر نے فیصلہ کیا کہ بعض قیدی جو سزائے موت پانے والے ہیں، سفارتکاروں کے سامنے اس کی نمائش کی جائے۔ جس گراﺅنڈ میں انہیں پھانسی دی جانی تھی، وہاں تالا لگا تھا، چنانچہ بدقسمت قیدیوں کو شہر کا چکر لگوا کر ایک میدان میں لایا گیا جہاں انہیں گولیوں کی باڑھ ماری جا سکے۔ پھر جو کچھ ہمارے سامنے ہوا اس پر میں ہل کے رہ گیا مگر میں اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کچھ نہ بولا، تاہم میرے امریکی ہم منصب نے صدر کرزئی کو اپنا تاثر جس لہجے میں بتایا اس میں کوئی تصنع نہ تھا۔ اس نے صدر سے ادنیٰ تحفظ کے بغیر سنگدلی سے کہا کہ”یہ سزا ہائے اموات افغانستان کے مستقبل کے لئے امید کی کرن ہیں“۔
یہ گولیوں کی باڑھ سے شہید کئے جانے والے یقینا طالبان حریت پسند تھے جن کے قتل کا منظر امریکی آقاﺅں کو دکھا کر حامد کرزئی ان سے داد طلب تھے۔ اس وقت ان کی آنکھوں پر اقتدار سے وابستہ مفادات کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اب لگتا ہے کہ ان کی ایک آنکھ سے مفاداتی پٹی اتر گئی ہے۔ 31مئی 2011ءکو ”رئیس افغانستان“ نے قابض عالمی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ ”افغانستان پر فضائی حملے بند کر دیں یا رخصت ہو جائیں۔ آج اس لمحے سے عوام کے گھروں پر ہوائی حملوں کی اجازت نہیں“۔
”فارن پالیسی“ کی نامہ نگار ایریکا گیسٹن کے مطابق کرزئی نے عالمی فوجوں پر الزام لگایا کہ وہ اتحادیوں کے بجائے قابض افواج کی طرح کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے ”دھمکی“ دی کہ اگر شہری ہلاکتوں پر ان کے مطالبات قابل توجہ نہ سمجھے گئے تو افغانی قوت کے ساتھ جواب دیں گے۔ حامد کرزئی نے کہا: ”افغانستان قابضین سے کس طرح نمٹتا ہے، اس کی تاریخ گواہ ہے“۔
اللہ کی شان ہے امریکی کٹھ پتلی حامد کرزئی کو آخر کار افغانیوں کی حریت پسندی کا سبق یاد آ گیا۔ کاش! وہ 2001ءمیں صلیبیوں کے آلہ کار بننے کے بجائے بش مسلم کش اور اس کے پوڈل (کتورے) ٹونی بلیئر کو تاریخ کا یہ سبق یاد دلاتے تو افغانوں اور ناٹو افواج کا اس قدر خون نہ بہتا۔ ایریکا گیسٹن لکھتی ہے: ”تازہ واقعہ جس نے کرزئی کو بیان دینے پرمجبور کیا وہ صوبہ ہلمند میں 28مئی کو فضائی حملے میں 14 شہریوں کی ہلاکت ہے جن میں 2 عورتیں اور 12بچے تھے۔ اس سے پہلے چند ماہ سے شہری ہلاکتوں کے واقعات پے در پے پیش آئے۔ اس ماہ (مئی) کے شروع میں ایک افغانی پولیس آفیسر اور اس کی 12سالہ بھتیجی ناٹو کے رات کے دھاوے میں مارے گئے۔ مارچ 2011ءمیں صوبہ کنر کے اندر ہیلی کاپٹر حملے میں 9 لڑکے شہید ہو گئے تھے۔ صوبہ تخار میں رات کے دھاووں کے خلاف 2000 سے زائد افغانیوں نے کئی روز تک احتجاج کیا اور مقامی عالمی فوجی اڈے پر ہلا بولنے کی کوشش کی۔ 2001ءمیں جہاں عالمی فوجوں کوخوش آمدید کہا گیا تھا وہاں اب انہیں روسی فوجوں کی طرح قابض اور مجرم قرار دیا جاتا ہے“۔ گزشتہ سال شمالی افغانستان میں ایک ناٹو آئل ٹینکر الٹ گیا تو مقامی لوگ تیل حاصل کرنے کے لئے وہاں جمع ہو گئے۔ اس پر ناٹو کے مقامی جرمن صلیبی کمانڈر نے امریکی بمبار طیارے طلب کر لئے جنہوں نے وحشیانہ بمباری سے ایک سو سے زائد شہری شہید کر دیئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ محاذ افغانستان پر امریکہ کی مکمل شکست نوشتہءدیوار ہے۔ اس لاحاصل جنگ میں ساڑھے تین ہزار امریکیوں سمیت ناٹو کے آٹھ ہزار سے زیادہ فوجی لقمہ اجل بنے اور 30 ہزارسے زائد زخمی اور معذور ہوئے۔ نیز افغانستان عراق جنگوں میں امریکہ کا ایک ٹریلین (10کھرب) ڈالر سے زیادہ نقصان ہوچکا ہے۔ (اس صلیبی جنگ میں پاکستان کی شرکت کا نقصان 67.8 ارب ڈالر ہے جو ہمارے غیر ملکی قرضوں سے کہیں زیادہ ہے۔) احمق صدر بش نے جب یہ صلیبی جنگ چھیڑی تھی تو پاکستان میں بڑے بڑے عسکری و صحافتی بقراط طالبان کے نیست و نابود ہو جانے کی باتیں کرتے تھے اور انہوں نے 1839ءسے 1921ءتک تین اینگلو افغان جنگوں میں برطانوی سامراج کی ہزیمت اور پھر روسیوں کی تازہ شکست کے تاریخی حقائق یکسر بھلا دیئے تھے لیکن افغان جہاد (1978-80ئ) کے ہیرواور آئی ایس آئی کے سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے 2001ءہی میں برملا کہہ دیا تھا کہ امریکی چاکلیٹ فوجی افغانی مجاہدین کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے اور اسے سچ ثابت کردینے پر ہم افغانیوں کے جذبہ جہاد کو سلام پیش کرتے ہیں!



بشکریہ۔۔۔ ہفت روزہ جرار
والسلام ۔۔۔۔۔ سعد اوڈراجپوت
saad oadrajput

saad-oad
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: کراچی
عمر: 24
مراسلات: 15
شکریہ: 1
9 مراسلہ میں 36 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 85
Reply With Quote
saad-oad کا شکریہ ادا کیا گیا
سام (03-07-11)
جواب

Tags
پولیس, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, مکمل, موت, منتقلی, آئینہ, آج, الزام, امریکہ, احتجاج, جواب, خلاف, روزہ, سال, طالبان, ظالم, عسکری, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان اورافغانستان میں غیرقانونی امریکی نیٹ ورک کی تصدیق ہو گئی: نیو یارک ٹائمز جاویداسد خبریں 3 14-01-11 08:50 PM
بھارتی آخری ٹھنڈ ا حملہ پسپا ،پاکستان اکڑ گیا" جاویداسد خبریں 0 06-11-10 09:30 PM
پسپائی (جاوید چوہدری) ابو عمار اپکے کالم 0 15-12-08 11:03 AM
پسپائی ثانیہ عمومی بحث 0 14-12-08 07:27 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger